Page 1 of 4 1234 LastLast
Results 1 to 10 of 34

Thread: ساس بنی دماد کی دلہن

  1. #1
    obablee is offline Khaas log
    Join Date
    Oct 2009
    Location
    Lahore
    Posts
    111
    Thanks
    256
    Thanked 710 Times in 103 Posts
    Time Online
    1 Day 18 Hours 29 Minutes 49 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Minute 5 Seconds
    Rep Power
    39

    Default ساس بنی دماد کی دلہن

    نوٹ: ببلی کے کردار سے جتنی بھی کہانیاں اب تک پیش کی گئی ہیں ان میں سے کچھ نا کچھ سچ زور ہوتا ہے باقی سب ڈرامائی تشکیل کی وجہ سے شامل کیا جاتا ہے۔ سب کہانیوں میں کردار کا اصل نام بدل کر ببلی رکھا جاتا ہے تا کہ کسی کی پرائیویسی ڈسٹرب نا ہو۔ اس کہانی کا مصنف قاری کے فیڈبیک کا بھوکا ہوتا ہے چاہے وہ مثبت ہو یا منفی۔ لہذا آپ سب سے گذارش ہے کہ مجھے فیڈ بیک ضرور دیں تاکہ میں کہانی کو بروقت شائع کرتا رہوں۔ شکریہ۔

    ساس بنی دلہن
    ببلی کے شوہر کا تعلق ایک جاگیردار گھرانے سے تھا۔ وہ بہت سخت گیر اور ظالم انسان تھا۔ خاندان اور خاندان سے باہر بہت سے لوگوں کے ساتھ اسکی درینہ دشمنی تھی۔ اسکا ایک بھائی بیرون ملک اپنی فیملی کے ساتھ مقیم تھا۔ ببلی کے شوہر نے گذشتہ بیس سالوں سے اپنے سگے بھائی کے ساتھ جائیداد کے تنازعہ پر ہرقسم کی بول چال اور رابطہ ختم کر رکھا تھا۔
    حتیٰ کہ نا وہ اس کے بھائی کی شادی میں شریک ہوا تھا اور نا ہی آج تک اسکے بیوی اور بچوں سے ملا تھا۔ ببلی کا شوہر عورتوں کو بھیڑ بکریوں کی مانند سمجھتا تھا۔ وہ عورت کی بالکل بھی عزت اور احترام نا کرتا تھا۔ حتیٰ کہ آج تک اس نے اپنی بیٹیوں کے سر پرباپ کی شفقت بھرا ہاتھ بھی نہیں رکھا تھا۔
    اب کچھ تعارف ہو جائے اس کہانی کے بنیادی کردار کا۔ ببلی ایک چالیس سالہ شادی شدہ عورت تھی۔ وہ جسمانی لحاظ سے بالکل بھی چالیس سالہ عورت نہیں لگتی تھی۔ اسکی دو بیٹیاں تھیں۔ ایک عامنہ جس کی عمر لگ بھگ بیس سال تھی اور دوسری ابھی دس سال کی تھی۔ عامنہ اور ببلی کی شکل اور جسمانی خدوخال تقریباً ایک جیسے تھے۔ وہ دونوں جڑواں بہنیں لگتی تھیں اور ایک دوسرے کے کپڑے وغیرہ بھی استعمال کر لیا کرتی تھیں۔ عامنہ اپنے باپ کے غصے اور طبیعت کی وجہ سے تھوڑی سی خودسر اور باغی لڑکی بن گئی تھی۔ وہ اپنے باپ کو خاطر میں نا لاتی تھی۔ ببلی ہر وقت بیٹی کے رویے سے پریشان رہتی تھی۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں اسکا شوہرغصے میں اپنی بیٹی کو کوئی نقصان نا پہنچا دے۔
    ایک دن ببلی کا شوہر گھر آیا تو اس نے بتایا کہ اسکا بڑا بھائی جو بیرون ملک رہتا ہے وہ آپسی دشمنی کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا چاہتا ہے۔ اس نے مزید بتایا کہ وہ اپنے بڑے بیٹے کی شادی میری بیٹی عامنہ سے کرکے رشتہ داری کو ایک دفعہ پھر مضبوط بنانا چاہتا ہے۔ اس نے اپنی بیٹی کا رشتہ اپنے بھائی کے بڑے بیٹے کے ساتھ طے کر دیا تھا اور اسے اپنی بیٹی کی فوٹو بھی بھیج دی تھی۔ ببلی کے جیٹھ اور اسکی فیملی کو عامنہ بہت پسند آئی تھی۔
    مسلہ یہ تھا کہ عامنہ کسی اور کو پسند کرتی تھی۔ اس نے اپنی والدہ کے سامنے اپنے کزن کے رشتے کو رد کر دیا تھا۔ آمنہ کے انکار کا جب ببلی کے شوہر کو پتہ چلا تو اس نے اپنی بیٹی پر بہت تشدد کیا۔ اور ببلی سے کہا کہ عامنہ کو سمجھائو اورشادی کے لیے رضامند کرو ورنہ میں اسے گولی مار دوں گا۔ ببلی بہت زیادہ سہم گئی۔ اسے اپنے شوہر کی طبعیت کا پتا تھا وہ جیسا کہتا تھا ویسا ہی کرتا تھا۔
    ببلی نے اپنی بیٹی کو بہت سمجھایا پر وہ اپنی ضد پراڑی رہی اور بار بار گھر سے بھاگ جانے کی دھمکی دیتی رہی۔ ببلی نے اپنی بیٹی کی دھمکی کے بارے میں اپنے شوہر کو کچھ نہیں بتایا اور اسے بار بار یہی تسلی دیتی رہی کہ سب ٹھیک ہے۔ شادی کی تیاریاں شروع کر دی گئی تھی۔ پروگرام کے مطابق ببلی کے شوہر کے بھائی کی فیملی پاکستان آ چکی تھی اور الگ گھر میں رہائش پذیر تھی۔ ببلی کی ابھی ان سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ شادی کی تقریب میں تین دن باقی تھے کہ ببلی کی والدہ وفات پا گئی۔ لہذا ببلی کو فوراً اپنے میکے روانہ ہونا پڑا۔ اس کے شوہر نے سختی سے منع کر دیا کہ کسی کو بھی اس فوتگی کے بارے میں مت بتایا جائے۔
    ببلی کی عدم موجودگی میں شادی کی تیاریاں جاری رہیں۔ جس دن ببلی کی بیٹی کی رخصتی تھی اسی دن اسکی والدہ کا سوئم کا ختم تھا۔ لہذا ببلی نے ختم کے بعد نکاح کے وقت گھر واپس پہنچنا تھا۔ ببلی کی بیٹی کے سسرال والے ان کے گھر دو تین مرتبہ چکر لگے چکے تھے اور سب سے مل چکے تھے۔ ببلی کی ابھی تک ان میں سے کسی سے بھی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ مہمانوں کوبہانا بنا کر یہ بتایا گیا تھا کہ ببلی اپنی بیمار ماں کے علاج کے سلسلے میں گھر پر موجود نہیں ہے۔
    ببلی جب ںکاح سے کچھ دیر پہلے گھرواپس پہنچی اورجب عامنہ کو ملنے اس کے کمرے میں گئی تو وہ وہاں موجود نہیں تھی۔ ببلی کو آمنہ کا ایک رقعہ لکھا ہوا ملا جس میں اس نے تحریر کیا تھا کہ وہ ایک لڑکا جس سے وہ محبت کرتی ہے اس کے ساتھ گھر سے بھاگ کر جا رہی ہے۔ رقعہ پڑھ کر ببلی کے ہاتھ تھر تھر کانپنا شروع ہو گئے۔ بارات آچکی تھی اور دلہن غائب تھی۔ ببلی نے ہمت کر اپنے شوہر کو کمرے میں بلایا اور سب بتا دیا۔ اسکا شوہر غصے سے پاگل ہو گیا اور ببلی کو ہی اچھا خاصا پیٹ ڈالا۔ اس کی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔ وہ فی الحال اس وقت کو ٹالنا چاہتا تھا۔ وہ اپنے بھائی کو دوبارہ ناراض نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ اچانک اس کے ذہن میں ایک شیطانی آئیڈیا آیا۔ اس نے اپنی بیوی ببلی کو غور سے سرسے لیکر پائوں تک دیکھا۔ وہ بھی کافی دفعہ اپنی بیوی اور بیٹی کو پہچاننے میں دھوکہ کھا جاتا تھا کیونکہ دونوں کی شکلوں میں مشاہبت بہت زیادہ تھی اور قد کاٹھ، رنگت اور آواز بھی تقریبا ایک جیسی تھی۔
    اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ وہ فوراً دلہن والے کپڑے پہن لے اور تیار ہو جائے۔ کسی کو بھی کانوں کان خبر نہیں ہونی چاہیے کہ آمنہ گھر سے بھاگ گئی ہے اور دلہن کے لباس میں ببلی ہے۔ ببلی کے سمجھ کچھ نا آیا تو اس نے شوہر سے پوچھا کہ آپ یہ کیا کرنے جا رہے ہیں۔ میں دلہن کیسے بن سکتی ہوں۔ میری جگہ آپ کسی اور عورت کو دلہن بنا دے۔ ببلی کے شوہر نے کھا جانے والی نظروں سے اسکی طرف دیکھا اور غصیلے لہجے میں اسے اپنے منصوبے کہ بارے میں آگاہ کیا۔ یعنی جب تک آمنہ نہیں مل جاتی تب تک ببلی اسکی جگہ دلہن بن کر آمنہ بننے کا ناٹک کرتی رہے گی۔ اور ببلی اپنی ہر ممکن کوشش کر کے دلہے کو اپنے قریب نہیں آنے دے گی۔
    ببلی کی سمجھ میں اپنے شوہر کی بات آگئی تھی۔ اور اسے یہ بھی تسلی ہو گئی تھی کہ اس کا شوہر آمنہ کو ڈھونڈ کر گولی نہیں مارے گا بلکہ اسے زندہ اس کے سسرال لا کر مجھ سے بدل دے گا۔
    منصوبے کے مطابق سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہو گیا تھا اور ببلی اپنی بیٹی کی جگہ رخصت ہو کر اسکے دلہے کے ساتھ بیٹی کے سسرال آ گئی تھی۔ ابھی تک کسی کو بھی ببلی پر شک نہیں ہوا تھا۔ سب لوگ بشمول دلہا اسے آمنہ ہی سمجھ رہے تھے۔ ببلی بہت زیادہ گھبرائی ہوئی تھی۔ وہ ڈر رہی تھی کہ کہیں اسکا جھوت پکڑا ہی نا جائے۔ ببلی دلہن کے لباس اور میک اپ میں بہت زیادہ خوبصورت اور سیکسی لگ رہی تھی۔ دلہا صاحب بار بار چور آنکھوں سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا۔ دلہا کا نام عامر تھا اوروہ بہت دراز قد اور کثرتی جسم کا مالک خوبصورت لڑکا تھا۔ گو کہ عامر کی پرورش مغربی ماحول اور کلچر میں ہوئی تھی لیکن وہ اپنے والدین سے بہت زیادہ محبت کرتا تھا۔ اس لیے اس نے اپنے والد کے کہنے پر اس شادی کے لیے رضامند ہو گیا تھا۔ لیکن بعد میں جب اس نے عامنہ کی فوٹو کو دیکھا تو اسکا مشرقی حسن اسے بہت بھایا۔ وہ بہت خوش تھا۔ وہ بے چینی سے اپنی سہوگ رات کا انتظار کر رہا تھا۔ حالانکہ اس سے پہلے عامر کی بہت سی مغربی گرل فرینڈ رہ چکی تھیں اور سب کے ساتھ اسکا جسمانی تعلق بھی رہا تھا۔ لیکن مشرقی لڑکی کی شرم و حیا آج کل اسے بہت اٹریکٹ کر رہی تھی۔ جب سے اس نے آمنہ کو دیکھا تھا اسکا تجس بہت زیادہ بڑھ چکا تھا۔ وہ اس مشرقی حسن کو جلد از جلد بے نقاب کرنا چاہتا تھا تا کہ اس کے تجسس کو تشنگی مل سکے۔
    ببلی اپنی زندگی میں دوسری دفعہ دلہن بنی تھی۔ بیٹی کی جگہ دلہن بن کر اسے بہت عجیب لگ رہا تھا۔ وہ بہت زیادہ پریشان تھی۔گھر میں ہرطرف لوگ جمع تھے اور اس کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے۔ پتہ نہیں کون کون اسے مخاطب کر رہا تھا مبارکباد دے رہا تھا اور اسے ڈھیروں سلامیوں کی شکل میں پیسے دے رہا تھا۔
    آخر کار ببلی کو دلہن کے کمرے میں پہنچا دیا گیا۔ کمرہ بہت بڑا تھا اور ہر سوں غلاب کے پھول ہی پھول اور اسکی خوشبو دونوں پھیلے ہوئے تھے۔ بیڈ پر خوبصورت مسہری سجائی گئی تھی۔ ببلی پریشانی کے عالم میں پورے کمرے کو دیکھ رہی تھی اور اپنی بیٹی کو کوس رہی تھی۔ کہ اگر وہ انتہائی قدم نا اٹھاتی تو اس وقت وہ یہاں بیٹھی ہوتی اور سب لوگ اپنے اپنے گھر سکون سے بیٹھے ہوتے۔ ببلی سوچ رہی تھی کہ پتا نہیں اسکا شوہر آمنہ کو ڈھونڈ پائے گا یا نہیں۔ وہ دل ہی دل میں دعائیں بھی کر رہی تھی کہ اسکی بیٹی جلد مل جائے اور سب کچھ ٹھیک ہو جائے۔ ببلی اپنی سوچوں میں گم تھی کہ عامرکمرے میں داخل ہوا۔ ببلی فوراً گھونگھٹ نکال کر بیٹھ گئی۔ ببلی کا دل اتنا زور سے ڈھڑک رہا تھا کہ شاید ابھی سینے سے نکل باہر آجائے۔ عامر پاس آکر بیٹھ گیا۔ اس نے دھیرے سے ببلی کا گھونگھٹ اٹھایا۔ اس کی ٹھوڑی سے پکڑ کرچہرے کو تھوڑا اوپر کیا۔ ببلی کی آنکھیں شرم و حیا سے جھکیں ہوئی تھیں۔ عامر کو اپنی دلہن پر بہت زیادہ پیار آیا اور اس نے آگے بڑھ کر ببلی کے رس بھرے ہونٹوں پر اپنے پیار کی پہلی مہر ثبت کر دی۔ ببلی کے پورے جوسم میں سنسنی سی دوڑ گئی۔ اسکا پورا جسم لرز اٹھا۔ عامر اپنی دلہن کا یہ نظار دیکھ کر جھوم اٹھا۔ اس نے اپنی جیب سے ایک سونے کی انگھوٹی نکالی اور ببلی کا ہاتھ پکڑ کر اس کی انگلی میں ڈال دی۔ جیسے ہی اس نے ببلی کا ہاتھ پکڑا ببلی کے پورے جسم میں مزید سنسناہٹ سی دوڑ گئی۔ اسکے پورے جسم میں دوبارہ لرزش شروع ہو گئی۔ عامر نے اسکی پریشانی کو محسوس کر لیا اور اسکے ہاتھوں کو چومتے ہوئے ریلکس ہونے کو کہا۔ ببلی کی گھبراہٹ اور شرم عامر کے جنسی ہیجان کر بڑھا رہی تھی۔ ویسے بھی اس نے ایک نفیس سی ولایتی شراب بھی نوش کی ہوئی تھی۔ شہوانیت اس پر پوری طرح حاوی ہو چکی تھی۔
    ببلی گھبراہٹ میں اپنے داماد سے ابھی تک مخاطب نہیں ہو پائی تھی۔ اسکی زبان اسکا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ گھبراہٹ اور کپکپاہٹ کے باوجود ببلی کی چوت میں گیلا پن محوس ہو رہا تھا اور اسکی چھاتیاں اور اسکے نپل اکڑ گئے تھے۔ گناہ اور انجانے خوف سے اسکی آنکھوں سے آنسوں بہنا شروع ہو چکے تھے۔
    (کیا ببلی اپنے دماد کو اعتماد میں لے سکے گی یا اس سے اپنی سہاگ رات والی چودائی کروا لے گی؟ کیا آمنہ واپس آ جائے گی؟ کیا سب کچھ پہلے جیسا ہو جائے گا؟ ان سب سوالات کے جواب کے لیے اگلی قسط کا نتظار کریں)
    Last edited by Story-Maker; 13-05-2018 at 03:58 PM.

  2. The Following 11 Users Say Thank You to obablee For This Useful Post:

    adiladil (14-05-2018), hot-boy (14-05-2018), Irfan1397 (13-05-2018), Lovelymale (13-05-2018), Mirza09518 (17-05-2018), prince77 (14-05-2018), shubi (17-05-2018), Story-Maker (13-05-2018), suhail502 (15-05-2018), sweettyme (14-05-2018), teno ki? (14-05-2018)

  3. #2
    Story-Maker's Avatar
    Story-Maker is offline Super Moderators
    Join Date
    Mar 2016
    Location
    Pakistan
    Age
    24
    Posts
    4,000
    Thanks
    1,812
    Thanked 4,920 Times in 2,454 Posts
    Time Online
    1 Week 6 Days 18 Hours 22 Minutes 40 Seconds
    Avg. Time Online
    25 Minutes 3 Seconds
    Rep Power
    863

    Default

    good start dear

  4. The Following 2 Users Say Thank You to Story-Maker For This Useful Post:

    shubi (17-05-2018), suhail502 (15-05-2018)

  5. #3
    Lovelymale's Avatar
    Lovelymale is offline Premium Member
    Join Date
    Aug 2008
    Location
    Islamabad, Pakistan, Pakistan
    Age
    54
    Posts
    2,037
    Thanks
    14,314
    Thanked 7,149 Times in 1,832 Posts
    Time Online
    2 Weeks 3 Days 7 Hours 7 Minutes 7 Seconds
    Avg. Time Online
    10 Minutes 42 Seconds
    Rep Power
    1050

    Default

    Boht mukhtalif mozoo chuna hai janab. Aghaaz bhi boht acha hai. Dekhtay hain agli update main kia samnay ata hai. Boht suspense rahay ga.

  6. #4
    shaani84 is offline Aam log
    Join Date
    Feb 2017
    Posts
    40
    Thanks
    28
    Thanked 45 Times in 24 Posts
    Time Online
    18 Hours 20 Minutes 23 Seconds
    Avg. Time Online
    2 Minutes 22 Seconds
    Rep Power
    7

    Default

    Yaar kya baat hai.. yeh hoi na perfect sex story!! creative, unique, bohat zyada chuss

  7. The Following User Says Thank You to shaani84 For This Useful Post:

    suhail502 (15-05-2018)

  8. #5
    teno ki? is offline Premium Member
    Join Date
    Feb 2012
    Posts
    338
    Thanks
    504
    Thanked 568 Times in 250 Posts
    Time Online
    1 Week 3 Days 9 Hours 41 Minutes 21 Seconds
    Avg. Time Online
    6 Minutes 32 Seconds
    Rep Power
    42

    Default

    بہت شاندار شروعات ہیں دوست
    پلیز چھت والا گیئر لگا کے اپڈیٹ کرو

    شکریہ
    بہت شدت سے منتظر رہوں گا

  9. #6
    Woodman's Avatar
    Woodman is offline Premium Member
    Join Date
    May 2012
    Posts
    468
    Thanks
    1,036
    Thanked 2,616 Times in 415 Posts
    Time Online
    1 Week 1 Day 4 Hours 50 Minutes 38 Seconds
    Avg. Time Online
    5 Minutes 21 Seconds
    Rep Power
    301

    Default

    shandar keep it up

  10. #7
    Woodman's Avatar
    Woodman is offline Premium Member
    Join Date
    May 2012
    Posts
    468
    Thanks
    1,036
    Thanked 2,616 Times in 415 Posts
    Time Online
    1 Week 1 Day 4 Hours 50 Minutes 38 Seconds
    Avg. Time Online
    5 Minutes 21 Seconds
    Rep Power
    301

    Default

    dastan bublee ki zubani batao. tu ziada achhi lagay gi

  11. #8
    obablee is offline Khaas log
    Join Date
    Oct 2009
    Location
    Lahore
    Posts
    111
    Thanks
    256
    Thanked 710 Times in 103 Posts
    Time Online
    1 Day 18 Hours 29 Minutes 49 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Minute 5 Seconds
    Rep Power
    39

    Default


    عامرببلی کی گھبراہٹ اور شرمیلے پن سے بہت زیادہ محظوظ ہو رہا تھا۔ وہ مزید انتظار نہیں کرنا چاہتا تھا۔ لہذا اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے ببلی کے کندھوں کو پکڑا اور تھوڑا اپنی طرف کیا۔ ببلی گھبرائی ہوئے اپنے دماد کے چہرے کو دیکھے جا رہی تھی۔ اس کی تمام سوجھ بوجھ جواب دے چکی تھی۔ عامر نے چند لمحے توقف کے بعد ببلی کے نرم ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دئیے اور ان کا جام پینا شروع کر دیا۔ ببلی کو جب موقع کی نزاکت کی سمجھ آئی تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ عامرنے ببلی کے ہونٹوں کو چوسنا شروع کردیا۔ ببلی اپنے دماد کی گرفت میں مچل کر رہی گئی۔ اس نے کئی بار عامر کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی پر وہ ٹس سے مس نا ہوا۔ جب جب ببلی عامر سے خود کو آزاد کروانے کی کوشش کرتی تب تب عامر کی رفتار میں اضافہ ہو جاتا۔ عامر اب دیوانوں کی طرح ببلی کے ہونٹوں کو چوم رہا تھا۔ کبھی وہ اوپر والے ہونٹ کو چوستا تو کبھی نیچے والے کو اور کبھی اپنی زبان کو ببلی کے منہ میں گہرائی تک لے جاتا۔ ببلی کے منہ کا ذائقہ اسٹرابری جیسا تھا۔ اسٹرابری عامر کا پسندیدہ پھل تھا۔
    ببلی بھی آخر عورت تھی۔ ایک ایسی عورت جسے آج تک اپنے شوہر کی طرف سے بھرپور توجہ نہیں ملی تھی۔ سیکس یا جنسی تسکین تو اس کے لیے شجر ممنوع تھا۔ اپنی بیس سالا شادی شدہ زندگی میں اسے صرف تیس یا چالیس دفعہ اپنے شوہر کی قربت نصیب ہوئی تھی۔ جس میں سے دو دفعہ وہ حملہ ہوئی اور اپنی دو خوبصورت بیٹیوں کو جنم دیا تھا۔ ببلی کا شوہر ایک عیاش جاگیردار تھا جس کا بیسیوں پیشہ وار عورتوں کے ساتھ جسمانی تعلق تھا اس کے علاوہ گھر میں کام کرنے والی گھریلو ملازمائیں بھی اسکی عیاش کی بھیڑ چڑتی تھیں۔ یہں وجہ تھی کہ وہ اپنی بیوی ببلی کی طرف دھیان بہت کم دیتا تھا۔ ویسے بھی جاگیرداروں کی بیویاں صرف بچے پیدا کرنے کے لیے ہوتی تھیں۔
    اپنے دماد کی مسلسل پیار بھری کسنگ نے اسے بھی گرم کر دیا تھا۔ ببلی کی چوت مکمل گیلی ہو گئی تھی۔ اس کی چھاتیوں کے نپل اکڑ چکے تھے۔ ببلی نے صدیوں بعدملنے والی جنسی لذت کے آگے ہتھیار ڈال دیے اور خود کو مکمل طور پر اپنے دلہے یعنی دماد کے سپرد کر دیا۔ اسکا دماد مست ہو کر اپنی ساس کو اپنی دلہن سمجھ کر چوما چاٹی کر رہا تھا۔
    لمبی کسنگ کے بعد عامر اٹھا اور اپنی شیروانی اور شلوار کو اتار کر وارڈروب میں رکھ دیا۔ ببلی زندگی میں پہلی بارکی جانے والی کسنگ کے نشے میں دھت بیڈ کے ساتھ ٹیک لگائے انجانی نظروں سے اپنے دماد کو دیکھ رہی تھی۔ ببلی کی ذہن میں اس وقت سوائےشہوانی خیالات کے اور کچھ نا تھا۔ وہ بھول چکی تھی کہ وہ یہاں کس مقصد کے تحت آئی تھی۔
    الف ننگا عامر اپنی دلہن بنی ساس کی طرف آیا۔ ببلی نے جب اپنے ننگے دماد کو دیکھا تو اس نے شرمیلے پن کی وجہ سے اپنے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں سے چھپا لیا۔ عامر کو ببلی کا شرمیلہ پن بہت بھایا۔ اس نے آج تک جتنی بھی خواتین کے ساتھ ہم بستری کی تھی وہ سب لبرل اور بولڈ تھیں۔ اس نے آج تک شرم و حیا کا پیکر لڑکیاں یا عورتٰیں نہیں دیکھیں تھیں۔ لہذاببلی کی شرم و حیا عامر کے شہوانی جذبات کو لو دے رہی تھی۔ اسکا جیسنی ہیجان بلندی کو چھو رہا تھا۔
    عامر نے ببلی بیڈپرلیٹا دیا اور اسکے خوبصورت بلائوز کےاندر چھپے چھاتیوں کے ابھاروں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے سہلانے لگا۔ ببلی نے اپنی آنکھوں کو لطیف احساس کی وجہ سے بند کر لیں۔ عامر نے بلائوز کوکھول دیا۔ بلائوز کے نیچے سکن کلر برا میں ببلی کی گول اور سڈول چھاتیاں مخفی تھیں پر ان کے خدوخال برا کے بریک کپڑے میں سے صاف دیکھائی دے رہے تھے۔ ببلی کی آنکھیں بند تھیں پر اسکے چہرے کے ایکسپریشن بتا رہے تھے کہ وہ اس وقت اپنے دماد کے ہاتھوں کے لمس کومحسوس کرتے ہوئے خوب لطف لے رہی ہے۔
    عامر نے ببلی کا برا بھی اتار دیا۔ جیسے ہی اسکی نطر دو دوھییا رنگ کی گول اور سڈول چھاتیوں اور اسکے اکڑے ہوئے چوکلیٹی رنگ کے نپلوں پر پڑی تووہ مدہوش ہو گیا۔ اس نے آج تک چھوٹی چھوتی چھاتیاں اور ان پر موجودہلکےغلابی رنگ کے چھوٹے چھوٹے نپل ہی دیکھے تھے۔ ان کے مقابلے میں ببلی کے چوکلیٹی رنگ کے نپل اور چھاتیوں کی گولائی اسے بہت پسند آئی ۔ انکا طلسم عامر پر چھا گیا تھا۔ عامر ایک دم پاگل ہو کر دونوں چھاتیوں پر ٹوٹ پرا۔ جیسے ہی اس نے چھاتیوں کو چومنا چاٹنا شروع کیا تو ببلی کا جنسی ہیجان بھی بلند ہو گیا۔ اس کے منہ سے پہلی دفعہ سسکیاں جاری ہوئی۔
    عامر مسلسل آدھا گھنٹا ببلی کی چھاتیوں میں مصروف رہا۔ اسکے بعد اس ایک دفعہ پھر ببلی کو کسنگ شروع کر دی۔ اس دفعہ ببلی نے بھی مدہوشی کے عالم میں اپنے دماد عامر کو خوب رسپونس دیا۔ چنانچہ عامر نے کسنگ کا دورانیہ بڑھا دیا۔ کبھی وہ ببلی کے ہونٹوں اور اسکی زبان کا چوستا تو کبھی ببلی اسکے ہونٹوں اور زبان کو چوستی۔ حالانکہ ببلی زندگی میں پہلی بار کسنگ کر رہی تھی۔ لیکن بہت عمدگی کے ساتھ کسنگ کر رہی تھی۔ حالانکہ وہ کنسگ کا ہنر عامر سےابھی ہی سیکھی تھی۔
    عامر نے ببلی کا لہنگا اتار دیا۔ اس نے سر سے لیکر پائوں تک ببلی کے جسم کو سہلایا اور چوما۔ پھر ببلی کی رانوں پر اپنا دیاں ہاتھ بار بار پھیرا۔
    اچانک عامر نے اپنی ساس کی برائون چوت پر اپنا ہاتھ پھیرا۔ ببلی کو زور کا جھٹکا لگا۔ ببلی کی چوت گیلے پن کی وجہ سے چمک رہی تھی۔ عامر نے اپنے دیائیں ہاتھ کی درمیانی انگل کے ببلی کی چوت کے اندر داخل کیا تو۔ ببلی کی ہلکی سی سسکی نکل گئی۔ آج بہت عرصے بعد ببلی کی چوت کا کسی نے دروازہ کھولا تھا۔ وہ تو اس احساس کو ہی بھول گئی تھی۔
    عامر نے اپنے لنڈ کو ہاتھ میں لیکر سہلایا اور ببلی کے ہاتھ میں پکڑا دیا۔ ببلی نے شرما کر اپنے ہاتھ کو پیچھے کر لیا۔ اس نے آج تک اپنے شوہر کے لنڈ کو ٹچ کر کے نہیں دیکھا تھا ہاتھ میں اسے پکڑنا تو بہت دور کی بات تھی۔
    عامر نے مسکراتے ہوئے ببلی کو ریلکس کیا اور ایک دفعہ پھر اپنا لنڈ ببلی کے ہاتھ میں دے دیا۔ ببلی شرماتے لچاتے ہوئے اپنے دائیں ہاتھ سے کن آنکھیوں سے آہستہ آہستہ عامر کے لنڈ کو سہلا رہی تھی۔ عامر کا لنڈ کافی موٹا اور لمبا تھا۔ ببلی اپنے شوہر کے لنڈ کے سائز کے بارے میں نہیں جانتی تھی۔ کیونکہ اس نے آج تک اپنے شوہر کے لنڈ کو نظر بھرکر دیکھا ہی نہیں تھا اور دوسرا یہ کہ اسکا شوہر سیکس ہمیشہ بتی گل کر کے اندھیرے میں کرتا تھا۔
    عامر نے ببلی سے اپنا لنڈ چومنے کو کہا۔ ببلی کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئی۔ پاکستانی معاشرےمیں لنڈ یا چوت کو ناپاک اعضا تصور کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ببلی عامر ڈیمانڈ پر حیرت زدہ ہو گئی۔ کچھ دیر توقف کے بعد عامر نے ببلی کو سمجھایا کہ یہ سب میاں بیوی کے درمیان جائز ہوتا ہے۔ ایسا کرنے سے بہت مزہ ملتا ہے۔ پر ببلی کچھ نا سمجھ پائی۔ عامر نے ببلی کو سمجھانے کے لیے ببلی کی چوت کو چاٹنے کا پروگرام بنایا۔ وہ فوراً ببلی کی ٹانگوں کے درمیاں آیا اور اسکی دونوں ٹانگوں کو اٹھا کر اپنے کندھوں پر اس طرح رکھا کہ ببلی کی چوت بالکل اس کے منہ کے سامنے آگئی۔ عامر نے اپنی زبان باہر نکالی اور ببلی کی چوت کو چاٹنا شروع کردیا۔ جیسے ہی عامر کی زبان نے ببلی کی چوت کو ٹچ کیا تو ببلی نے ایک لطیف سرور محسوس کیا اور غیر ارادہً انگڑائی لی۔ عامر نے اچانک ہی برق رفتاری سے ببلی کی چوت کو چاٹنا شروع کردیا۔ ببلی مچل کر رہ گئی۔ اس بہت زیادہ مزہ آ رہا تھا۔ ببلی کی چوت کو زندگی میں پہلی بار کسی زبان نے ٹچ کیا تھا۔ ببلی کی سسکیاں بڑھ گئی تھی۔
    سسکیاں سن کر عامر نے بھی اپنی رفتار مزید بڑھا دی۔ چنانچہ پورے کمرہ ببلی کی سسکیوں میں ڈوب گیا۔ ببلی جنسی ہیجان خیز عروج کو پہنچ چکی تھی اور وہ کسی بھی وقت اپنے زندگی کی پہلی آرگنزم کو پہینچنے والی تھی۔
    دس منٹ کی شدید چوت چٹوائی کے بعد ببلی اچانک ڈسچارج ہو گئی۔ اس کی چخیں پورے کمرے میں گونج اٹھیں۔ اسکا پورا جسم پسینے میں بھیگ گیا۔ جنسی لذت کیا ہوتی ہے اسکا ببلی کو آج پتہ چلا تھا۔ عامر ببلی کو سمجھانے میں کامیاب ہو گیاتھا۔ ببلی کوتسلی ہو گئی تھی کہ لنڈ اور چوت کی چٹائی میں بہت مزہ چھپا ہوا ہے۔ چنانچہ ببلی نے پہلی دفعہ اپنی شرم و حیا کو بلائے طاق رکھتے ہوئے عامر کے لنڈ کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور اسے چومنا شروع کر دیا۔ عامر بیڈ پر لیٹ گیا تا کہ ببلی آسانی سے اس کے لنڈ کو چوپا لگا سکے۔ ببلی ابھی چوپا لگانے میں انجان تھی۔ لیکن عامر اسے بتا رہا تھا کہ وہ لنڈ کو کیسے چوپے۔ ببلی عامر کی تمام ہدایات پر ایک اچھی طالبہ کی طرح سمجھ کر عمل کر رہی تھی۔ لنڈ کی ٹوپی بہت بڑی تھی لیکن جیسے تیسے ببلی نے اسے اپنے منہ ڈال لیا۔ پھر عامر کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ببلی نے لنڈ کو اپنے منہ کے اندر گہرائی میں لیجانے کی کوشش کی۔ پہلی دفعہ تو اسےاپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا پر ۔ ایک دو بار کوشش کرنے کےبعد وہ عامر کے لنڈ کو اپنے منہ کے اندر ایڈجسٹ کرنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ شروع میں ببلی کو تھوری سی کراہیت محسوس ہوئی پر جنسی لذت اور سرور ہر بات پر ہاوی ہو چکی تھی۔ پونے گھنٹے کی انتھک کوشش کے بعد آخرکار ببلی عامر کو ڈسچارج کروانے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ عامر نے ببلی کے منہ کے اندر گہرائی میں ہی اپنا گرم پانی چھوڑ دیا تھا۔ عامر کر مادہ منویہ اتنا زیادہ تھا کہ ببلی کا منہ بھر گیا اور تنفس میں رکاوٹ کی وجہ سے اسکی آنکھوں سے پانی باہر نکل آیا تھا۔ ببلی کو عامر کے گرم پانی کو اپنے منہ محسوس کر کے بہت کراہت محسوس ہوئی لیکن پانی کے نمکین ذائقہ اور جنسی سرور نے اسکی سوچ کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ چنانچہ وہ زندگی میں پہلی دفعہ کیس مرد کا مادہ منویہ مزے لے کر پی گئی تھی۔
    وہ دونوں اپنے بیڈ پر سیدھے لیٹ گئے تا کہ تھوڑا سا ریلکس کیا جا سکے۔ کمرے میں لگا ہوا کلاک پونے چار کا ٹائم بتا رہا تھا۔ حالانکہ وہ ابھی تک چودائی نہی کر پائے تھے لیکن پھر بھی پچھلے چند گھنٹوں سے مسلسل فور پلے سیکس میں مصروف ہونے کی وجہ سے انہیں ٹائم کا بالکل بھی پتہ نہیں چلا تھا۔ ببلی کی پہلی سہاگ رات بہت ذیادہ مختصر تھی۔ اسکا شوہر اور وہ صرف آدھا گھنٹا ہی ہم بستری کر پائے تھے۔ ببلی آج بہت حیران تھی کہ کیسے وہ چودائی کیے بنا ابھی تک سیکس کے مزے مسلسل لوٹ رہے تھے اور اتنا وقت گذر چکا تھا۔
    کچھ دیر عامر نے مشن چودائی کو مکمل کرنے کے لیے اپنے لنڈ کو ببلی کے حوالے کیا اور اسے چوپا لگا نا بولا۔ ببلی نے اب بنا کسی ہچکچاہٹ کے عامر کے لنڈ کو ماہر گشتی عورت کی طرح چوپا لگانا شروع کر دیا۔ عامر نے ببلی کو 69 پوزیشن میں کیا اور خود اسکی چوت کو چاٹنا شروع کر دیا۔ 15 منٹ ایک دوسرے کو چوپا چٹائی کے بعد عامر نے ببلی کو مشنری پوزیشن میں بیڈ پر لیٹایا اور خود اپنے کھڑے لند کو لیکر اس کی چوت کے سامنے آگیا۔ ببلی کے دونوں ٹانگوں کو اپنے کندھوں پر رکھا اور اپنے تنے ہوئے موٹے اور لمبنے لنڈ کو ببلی کی چوت کے اندر داخل کر دیا۔ جیسے ہی اسکی ٹوپی ببلی کی چوت میں داخل ہوئی تو ببلی کو زور کا جھٹکا لگا۔ ایسا اسے پہلی دفعہ ہوا تھا۔ اس پہلے جب جب اس کے شوہر نے اسکے اند ر اپنا لنڈ داخل کیا تھا اسے اتنی درد محسوس نہیں ہوئی تھی۔ عامر نے ببلی کی چیخون کو ان سنا کرتے ہوئے اپنے پورے لنڈ کو آہستہ آہستہ ببلی کی چوت کی گہرائی میں آخر تک اتار دیا۔ ببلی کی آنکھوں سے پانی رواں ہو چکا تھا۔ ببلی کی چوت عامر کے موٹے اور لمبے لنڈ کو برداشت نہیں کر پا رہی تھی۔
    عامر ببلی کی چیخوں پکارسن کر شہوانی پن سے پاگل ہو گیا ۔ اور برق رفتاری سے مشنری پوزیشن میں ببلی کو چودنا شروع کر دیا۔ ببلی روتے ہوئے درد سے عامر سے التجا کر رہی تھی کہ وہ اپنا لنڈ باہر نکال لے۔ لیکن عامر نے اسکی ایک نا سنی اور دیوانہ وار اپنے تیز رفتار جھٹکے جاری رکھے۔ ببلی کی چوت زیادہ سٹریچ نا کر پائی جس کی وجہ سے اسکی چوت میں تھوڑا سا خون بہہ کر بیڈ کی شیٹ پر گر گیا تھا۔
    عامر چھوٹنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ البتہ ببلی کی درد آہستہ آہستہ شہوانی لطف میں تبدیل ہوگئی۔ کوئی پونا گھنٹا شدید چودائی کے بعد آخر کار عامر اپنے ساس کی چوت کے اندر چھوٹ گیا۔ وہ ہانپتا ہوا ببلی کے اوپر ہی لیٹ گیا۔ ببلی نے اس کو اپنی باہنوں میں لے لیا۔
    چودائی اتنی شدید تھی کہ وہ دونوں تھکاوٹ میں وہیں ڈھیر ہو گئے۔رات تقریباً بیت چکی تھی اور صبح صادق کا وقت ہونے والا تھا ۔وہ دونوں ابھی تک صرف ایک دفعہ ہی چودائی کرپائے تھے۔ ولیمہ کی تقریب بھی دوپہر میں تھی۔ عامر اپنی سہارگ رات کو بھرپور انجوائے کرنا چاہتا تھا لہذا اس نے ابھی تک سہاگ رات ختم ہونے اندیہ نہیں دیا تھا بلکہ اس نےدوسری شفٹ کے لیے ببلی کی طرف پیار بھری نظروں سے دیکھا۔ ببلی کی حالت خراب تھی۔ جتنا سیکس وہ گذشتہ چند گھنٹوں میں کر چکی تھی اتنا تو اس نے اپنی ساری شادی شدہ زندگی میں بھی نا کیا ہو گا۔ اور ابھی بھی اسکا دماد مزید سیکس کے لیے تیار تھا۔
    دماد کی ہدایت پر ببلی نے ایک دفعہ پھر اسکے لنڈ کا چوپا لگانا شروع کیا۔ اس دفعہ ببلی نے بھرپور مست ہو کر اسکے لنڈ کو چوپا لگایا۔ جب اسکا لنڈ اچھی طرح تن گیا تو پھر اس نے ببلی کو لیٹا دیا اور اسکی چوت کو چکنا کرنے کےلیے اسکی چاٹنا شروع کر دیا۔ ببلی شروع میں جن دو چیزوں کو برا سمجھ رہی تھی اب انہی دونوں چیزوں یعنی لنڈکو چوپا اور چوت کی چٹائی میں اسے سب سے زیادہ لطف آ رہا تھا۔ عامر کو سیکس میں تکسانیت پسند نہیں تھی لیکن ببلی کو مشنری پوزیشن میں چود کر اسے بہت مزہ آیا تھا۔ اور وہ اب بھی اسے اسی سیکس پوزیشن میں چودنا چاہ رہا تھا۔ لہذا اس نے ایک دفعہ پھر ببلی کی چودائی شروع کی۔ ببلی ٹانگیں اوپر اٹھی ہوئی تھیں اور اس کے پائوں چھت کی طرف تھے۔ عامر نے اپنا پورا لنڈ ببلی کی چوت میں داخل کیا اور تیز رفتار جھٹکوں سے اپنے لنڈ کو اندر باہر کرنے لگا۔ ہر جھٹکے پر وہ اپنے لمبے اور موٹے لنڈ کو ٹوپی تک باہر نکالتا اور ایک زوردار جھٹکے سے ببلی کی چوت کی گہرائی تک اتار دیتا۔ ببلی کی درد ناک چیخ کمرے میں گونج اٹھتی۔ گو کہ اس دفعہ ببلی کو درد نسبتاً کم تھا اور لطف زیادہ محسوس ہو رہا تھا۔
    تقریباً پونے گھنٹے سے زیادہ ہو گیا تھا لیکن عامر ابھی تک زوردار جھٹکوں سے ببلی کو چود رہا تھا۔ ببلی ایک ہی پوزیشن میں چودائی کروا کر تھک گئی تھی۔ اس کی ٹانگوں کے درمیان تھکاوٹ سے درد شروع ہو گئی تھی۔ ببلی نے عامر سے کچھ دیر رکنے کو کہا لیکن اس نے ایک نا سنی اور پوری لگن کے ساتھ اپنی ساس کی چودائی میں مگن رہا۔ پچھلی بار کی نسبت اس دفعہ عامر کو ڈسچارج ہونے میں کچھ زیادہ وقت لگ رہا تھا۔ روشن دان سے روشنی کی کرنیں کمرے میں داخل ہو رہی تھیں۔ صبح ہو گئی تھی اور چند لمحوں تک سورج طلوع ہونے والا تھا۔ ببلی چودائی کروانے کے ساتھ ساتھ یہ سوچ رہی تھی کہیں گھر میں سب اٹھ ہی نا گئے ہوں اور کوئی کمرے میں ہمیں جگانے کے لیے نا آجائے۔ ببلی کا جنسی ہیجان خیزی عروج پر پہنچ رہی تھی اور وہ کسی بھی وقت فارغ ہو سکتی تھی۔ وہ مدہوشی میں اپنے دماد کو چودتا ہوا دیکھ رہی تھی۔ ببلی جیسے فارغ ہوئی تو عامر کی رفتار میں بھی اضافہ ہو گیا اور کچھ لمحوں بعد اس نے اپنے مادہ منویہ کو اپنی ساس کی چوت کے اندر ہی ڈسچارج کر دیا۔ عامر ببلی کے الف ننگے جسم کے اوپر ہی لیٹ گیا۔ دونوں بری طرح ہانپ رہے تھے جیسے تیز رفتاری سے بھاگ کر آئے ہوں۔
    ببلی نے اپنے دماد کو ریسٹ کرنے کو کہا۔ کیونکہ چند گھنٹوں بعد ولیمہ کی تقریب تھی۔ اسکی تیاری بھی کرنی تھی۔ عامر نے ببلی کی نشیلی آنکھوں میں دیکھا اور اسے ایک لمبنی فرنچ کس کی اور اس نے مسکرارے ہوئے کہا کہ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے۔ ببلی یہ سن کر پریشان ہو گئی۔ اس چودائی کروا کر مزا آہ رہا تھا لیکن وہ دن چڑھ جانے اور گھر میں سب لوگوں کے جاگ جانے سے پریشان تھی۔ ویسے بھی اسکے گھر سے ان کے لیے ناشتہ بھی کسی نے لیکر آنا تھا۔ بحرحال عامر اپنی ضد پر قائم رہا اور کچھ دیر ریسٹ کرنے کے بعد اس نے اپنی تیسری شفٹ شروع کر دی تھی۔ ببلی سوچ رہی تھی کہ پہلی شفٹ سے زیادہ وقت دوسری شفٹ میں لگا اور اب تیسری میں تو اس سے بھی زیادہ وقت لگے گا۔
    عامر نے ببلی کی چودائی شروع کر دی تھی۔ نو بجے کے قریب ان کے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی۔ عامر کی والدہ دلہے اور لہن کو جگانے آئی تھی اور ناشتے کا کہنے آئی تھی۔ پر ببلی اور عامر خاموش رہے اور چودائی کے عمل کو جاری رکھا۔ گھنٹے کے بعد عامر اپنی تیسری باری کو ختم کرنے میں کامیاب ہوا۔ اس دوران کوئی تین دفعہ ان کے کمرے پر دستک دی گئی۔
    اتنی لمبی چودائی کروانے کے بعد ببلی کا اور اسکی چوت کا برا حشر ہو چکا تھا۔ اسکی چوت سوج کر آٹے کی طرح پھول گئی تھی۔ اس سے ہاتھ تک نہیں لگایا جا رہا تھا۔ ببلی جب واش روم گئی تھی اسے بیشاب کرنے میں بھی کافی دقت ہوئی۔ ببلی کی چھاتیوں پر جگہ جگہ عامر کے دانتوں کے نشان تھے جو اس نے جوش اور پیار میں لگائے تھے۔ ببلی کے دونوں نپل بھی بہت زیادہ درد کر رہے تھے۔
    ببلی جب نہا کر کمرے میں واپس آئی تو اسے چکرآگیا اور نیچے گر گئی۔ ڈاکڑ کو بلوایا گیا۔ ببلی کو بخار ہو گیا تھا۔ ڈاکٹر نے ببلی کو آرام کا مشورہ دیا اور عامرکو علیحدگی میں جا کر کہا کہ وہ ہم بستری میں ہاتھ تھوڑا ہلکا رکھے۔
    ولیمہ کی پوری تقریب میں ببلی کی طبیعت خراب رہی جب تقریب ختم ہوئی تو ببلی کے شوہر نے اسے رواج کے مطابق اپنے ساتھ لیجانے کا کہا۔ عامر نے اپنے والدین سے کہا کہ وہ بھی ساتھ جانا چاہتا ہے۔ ببلی عامر کی بات سن کر پریشان ہو گئی تھی۔ وہ گھر جا کر ریسٹ کرنا چاہتی تھی۔ اس کےپورے جسم اور چوت میں ابھی تک رات کی چودائی کی وجہ سے درد محسوس ہو رہی تھی۔ وہ آج کی رات عامر کی چودائی کو برداشت کرنے سے قاصر تھی۔ عامر اپنی بات اڑا ہوا تھا۔
    (کیا ببلی دوسری رات کی چودائی سے بچ پائے گی؟ کیا ببلی کا شوہر عامر کو اپنے گھر لے جائے گا؟ کیا ببلی اپنے شوہر کے گھر میں اپنے دماد سے چودائی کروا پائے گی؟ ان سوالوں کے جوابات کو جاننے کے لیے اگلی قسط کا انتظار کریں)
    نوٹ: اگر اس کہانی کی فیڈبیک کم ہوئی تھی تو اس کہانی کا اختتام فوری کر دیا جائے گا۔
    Last edited by Story-Maker; 15-05-2018 at 09:29 PM.

  12. The Following 8 Users Say Thank You to obablee For This Useful Post:

    abkhan_70 (15-05-2018), Aliraza255 (16-05-2018), Irfan1397 (15-05-2018), Lovelymale (17-05-2018), shubi (17-05-2018), suhail502 (19-05-2018), sweetncute55 (15-05-2018), teno ki? (16-05-2018)

  13. #9
    Irfan1397's Avatar
    Irfan1397 is offline super moderator
    Join Date
    Sep 2011
    Location
    Sahiwal
    Posts
    7,549
    Thanks
    26,256
    Thanked 38,368 Times in 7,339 Posts
    Time Online
    1 Month 2 Weeks 1 Day 1 Hour 58 Minutes 25 Seconds
    Avg. Time Online
    27 Minutes 54 Seconds
    Rep Power
    3130

    Default

    very hot and sexy update

  14. The Following 2 Users Say Thank You to Irfan1397 For This Useful Post:

    abkhan_70 (15-05-2018), suhail502 (19-05-2018)

  15. #10
    Woodman's Avatar
    Woodman is offline Premium Member
    Join Date
    May 2012
    Posts
    468
    Thanks
    1,036
    Thanked 2,616 Times in 415 Posts
    Time Online
    1 Week 1 Day 4 Hours 50 Minutes 38 Seconds
    Avg. Time Online
    5 Minutes 21 Seconds
    Rep Power
    301

    Default

    khobsurat tahrir likhi hai aap nay

  16. The Following 2 Users Say Thank You to Woodman For This Useful Post:

    abkhan_70 (15-05-2018), suhail502 (19-05-2018)

Page 1 of 4 1234 LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •