Page 2 of 4 FirstFirst 1234 LastLast
Results 11 to 20 of 37

Thread: ساس بنی دماد کی دلہن

  1. #11
    Story-Maker's Avatar
    Story-Maker is offline Super Moderators
    Join Date
    Mar 2016
    Location
    Pakistan
    Age
    24
    Posts
    4,016
    Thanks
    1,817
    Thanked 4,931 Times in 2,460 Posts
    Time Online
    1 Week 6 Days 19 Hours 53 Minutes 27 Seconds
    Avg. Time Online
    25 Minutes 3 Seconds
    Rep Power
    864

    Default

    awesome and hot update

  2. The Following 2 Users Say Thank You to Story-Maker For This Useful Post:

    abkhan_70 (15-05-2018), suhail502 (19-05-2018)

  3. #12
    midas1975 is offline Aam log
    Join Date
    Dec 2016
    Location
    italy
    Posts
    27
    Thanks
    31
    Thanked 42 Times in 16 Posts
    Time Online
    5 Days 18 Hours 3 Minutes 10 Seconds
    Avg. Time Online
    15 Minutes 37 Seconds
    Rep Power
    5

    Default

    زبردست رائٹر صاحب کیا سہاگ رات کو یادگار بنا دیا ہے

  4. The Following 2 Users Say Thank You to midas1975 For This Useful Post:

    lastzaib (16-05-2018), suhail502 (19-05-2018)

  5. #13
    lastzaib is offline Premium Member
    Join Date
    Jul 2009
    Posts
    27
    Thanks
    87
    Thanked 43 Times in 23 Posts
    Time Online
    6 Days 12 Hours 38 Minutes 39 Seconds
    Avg. Time Online
    4 Minutes 2 Seconds
    Rep Power
    12

    Default

    Please keep it up

  6. The Following User Says Thank You to lastzaib For This Useful Post:

    suhail502 (19-05-2018)

  7. #14
    shaani84 is offline Aam log
    Join Date
    Feb 2017
    Posts
    40
    Thanks
    28
    Thanked 47 Times in 26 Posts
    Time Online
    18 Hours 33 Minutes 48 Seconds
    Avg. Time Online
    2 Minutes 23 Seconds
    Rep Power
    7

    Default

    Yar kya baat kar rahay ho? itni shaandaar zabardast aur lun tor kisam ki kahan jaldi khatam hui to awam sarkon per nikal ayegi!!..


    Zabardast.. abhi to Bably aur beti ki ikathi chudai baqi hai.. keep it up shehzaday!!!

  8. The Following User Says Thank You to shaani84 For This Useful Post:

    suhail502 (19-05-2018)

  9. #15
    teno ki? is offline Premium Member
    Join Date
    Feb 2012
    Posts
    339
    Thanks
    504
    Thanked 569 Times in 251 Posts
    Time Online
    1 Week 3 Days 9 Hours 59 Minutes 30 Seconds
    Avg. Time Online
    6 Minutes 32 Seconds
    Rep Power
    42

    Default

    بھت شاندار
    چس آ گئ ببلی کی داستان پڑھ کے

    یار اپڈیٹ جلدی دینا
    اور یہ آخری جو لائن آپ نے لکھی وہ غلط بات ہے

  10. The Following User Says Thank You to teno ki? For This Useful Post:

    suhail502 (19-05-2018)

  11. #16
    shamshadx is offline Premium Member
    Join Date
    Jul 2015
    Posts
    205
    Thanks
    18
    Thanked 164 Times in 95 Posts
    Time Online
    3 Days 23 Hours 3 Minutes
    Avg. Time Online
    5 Minutes 30 Seconds
    Rep Power
    24

    Default

    xtreme hot..plz isko khatam nahi kurna..bhout jaan ha story ma...
    amazing

  12. The Following User Says Thank You to shamshadx For This Useful Post:

    suhail502 (19-05-2018)

  13. #17
    shubi's Avatar
    shubi is offline VIP
    Join Date
    Jun 2017
    Location
    Multan, Punjab, Pakistan
    Age
    31
    Posts
    177
    Thanks
    744
    Thanked 114 Times in 77 Posts
    Time Online
    1 Day 1 Hour 16 Seconds
    Avg. Time Online
    4 Minutes 27 Seconds
    Rep Power
    19

    Default

    So Hot

    So Sexy

  14. The Following User Says Thank You to shubi For This Useful Post:

    suhail502 (19-05-2018)

  15. #18
    shubi's Avatar
    shubi is offline VIP
    Join Date
    Jun 2017
    Location
    Multan, Punjab, Pakistan
    Age
    31
    Posts
    177
    Thanks
    744
    Thanked 114 Times in 77 Posts
    Time Online
    1 Day 1 Hour 16 Seconds
    Avg. Time Online
    4 Minutes 27 Seconds
    Rep Power
    19

    Default

    Wah

    Bohta ALaaaaaaaa


    Shandaar



    Lagy raho
    Smile is the cheapest remedy for every disease.

  16. The Following User Says Thank You to shubi For This Useful Post:

    suhail502 (19-05-2018)

  17. #19
    Lovelymale's Avatar
    Lovelymale is offline Premium Member
    Join Date
    Aug 2008
    Location
    Islamabad, Pakistan, Pakistan
    Age
    54
    Posts
    2,037
    Thanks
    14,315
    Thanked 7,166 Times in 1,832 Posts
    Time Online
    2 Weeks 3 Days 7 Hours 23 Minutes 2 Seconds
    Avg. Time Online
    10 Minutes 42 Seconds
    Rep Power
    1050

    Default

    Waise iss update ka naam to "Saas ki Pyas" hona chahye jo keh aisi bujhi keh bechari sari zindagi main itna nahin chudi thi jitna aik raat main beti ki jaga chud gai. Zabardast update hai. Magar agay ka suspense boht ziada hai keh halat kis karwat bethain gay.

  18. The Following 2 Users Say Thank You to Lovelymale For This Useful Post:

    shubi (17-05-2018), suhail502 (19-05-2018)

  19. #20
    obablee is offline Khaas log
    Join Date
    Oct 2009
    Location
    Lahore
    Posts
    111
    Thanks
    256
    Thanked 715 Times in 103 Posts
    Time Online
    1 Day 18 Hours 29 Minutes 49 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Minute 5 Seconds
    Rep Power
    39

    Default


    رواج کے مطابق ببلی نے ولیمے تقریب کے بعد اپنے میکے واپس جانا تھا اور اگلے دن دلہے نے اسے لینے آنا تھا۔ پر دلہے میاں یعنی عامر کو سہاگ رات پر ببلی کی شاندار چودائی کا اتنا مزہ آیا تھا کہ وہ ببلی کے بغیر آج رات اکیلے نہیں گزارنا چاہتا تھا۔ اس نے اپنے سسر سے درخواست کی کہ وہ بھی اپنی دلہن کے ساتھ آنا چاہتا ہے۔ ببلی کی توجان کوبن آئی۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ عامر ان کے ساتھ جائے۔ ایک تو ببلی کی رات والی چودائی سے بہت زیادہ طبعیت خراب تھی اور دوسرا یہ کہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کے شوہر زرا سا بھی شک ہو کہ اس نے اپنے دماد سے چودائی کروا لی ہے۔
    ببلی کے شوہر نے ریت رواج کا بہانا بنا کر عامر کو ساتھ آنے سے منع کر دیا۔ عامرکا چہرہ اتر سا گیا۔ ببلی کو اس پر بہت ترس آیا ۔ اسکا دل بھی عامر سے دور جانے کو نہیں کر رہا تھا۔ صرف ایک رات میں عامر نے ببلی کو اپنا دیوانا بنا لیا تھا۔ ببلی کو اس سے پہلے اتنی جنسی آسودگی اور پیار اپنے شوہر سے نہیں ملا تھا لہذا یہ ایک فطرتی عمل تھا کہ ببلی کے دل میں عامر کے لیے انس پیدا ہو گیا تھا۔
    گھرپہنچتے ہی ببلی کے شوہر نے اسے الگ کمرے میں لیجا کر رازداری سے رات کے بارے میں پوچھا تو ببلی نے جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئےکہا کہ رات بچت ہو گئی اور اس نے عامر کو اپنے قریب نہیں آنے دیا۔ ببلی نے مزید بتایا کہ اس نے اپنی طبعیت خراب ہونے کا بہانا بنایا تھا۔ ببلی نے اپنے شوہر سے آمنہ کے بارے میں پوچھا تو اس نے غصے دیوار میں مکا مارتے ہوئے کہا کہ پتہ نہیں وہ کہاں دفعہ ہو گئی ہے اسے آسمان کھا گیا یا زمین نگل گئی۔ ببلی نے پریشان ہوتے ہوئے شوہر سے کہا کہ آمنہ کو جلد از جلد ڈھونڈنا ہوگا ورنہ بہت دیر ہو جائے گی۔ میں زیادہ دیر عامر کو قریب آنے سے نہیں روک سکتی۔
    ببلی کا شوہر یہ سن کر بہت زیادہ پریشان ہو گیا تھا۔ گو کہ وہ اپنی بیوی کو زیادہ وقت نہیں دیتا تھا لیکن تھی تو وہ اسکی بیوی اور وہ اپنی عزت کو خود اپنے ہاتھوں سے برباد نہیں کرنا چاہتا تھا۔ باتوں کے دوران ہی ببلی کے شوہر کوکسی کا فون آیا ۔ اس نے ببلی کو بتایا کہ آمنہ کے ٹکھانے کا پتہ چل گیا ہے۔ وہ دوسرے شہر ہے۔ میں اپنے بندے لے کر وہاں جا رہا ہوں۔ ببلی یہ سن کر بہت خوش ہوئی لیکن جیسے ہی اس کے ذہن میں کل رات والی حسین یادیں آئیں تو وہ اداس ہو گئی۔ اس دل میں خواہش جاگی کہ کاش آمنہ ابھی نا ملتی کچھ دن بعد ہی مل جاتی۔ یہ سوچتے ہوئے اس کی آنکھوں سے آنسو دھلک کر اسکے گالوں پر آگائے۔ وہ اپنے رویے پر بہت زیادہ حیران ہوئی۔ کہاں وہ ایک گھریلو، ڈری سہمی سی عام سی روایتی عورت تھی اور کیسے صرف آیک رات نے اس کی شخصیت کو بدل کے رکھ دیا تھا۔
    گھر پر اس کے شوہر نے اپنی پرانی ملازموں کو تبدیل کر دیا تھا تا کہ راز کہیں فاش نا ہو جائے۔ ببلی چونکہ میڈیسن لی ہوئی تھی لہذا وہ اپنے کمرے میں آکر لیٹ گئی۔ وہ عامر کو مسلسل یاد کرتی کرتی سو گئی۔
    ببلی گہری نیند سو رہی تھی کہ اسے محسوس ہوا کہ کوئی اسکی قیمض میں ہاتھ ڈال رہا ہے۔ وہ اچانک ہڑبڑھا کراٹھ گئی۔ اسکا دل زور سے ڈھڑکا رہا تھا۔ جب اس نے اپنی آنکھیں مل کر دیکھیں تو اس کے ساتھ بیڈ پر عامر لیٹا ہوا مسکرا رہا تھا۔ وہ اسے دیکھ کر پہلے تو حیران ہوئی پھر کچھ یاد آنے بعد مسکرا دی۔ عامر باوجود کوشش کے رہ نہیں پایا تھا اور اپنے سسرال اس وقت دھوڑا آیا جب اسے علم ہوا کہ اسکا سسر کسی اہم کام کے سلسلے سے شہر سے باہر جا رہا ہے ۔
    ببلی نے سوچا کہ شاید یہ آخری چانس ہے عامر سے چودائی کروانا کہ لہذا وہ خوش ہو گئی۔ عامر نے ببلی کو اپنی باہنوں میں لے لیا اور اسے اپنے اوپر پیٹ کے بل لیٹا کر اسے زبردست سی کسنگ شروع کردی۔ ببلی اس کی جارحانہ کسنگ سے مدہوش ہو گئی اور اسے نے بھی اپنا ردعمل جارحانہ انداز میں دیا۔ عامر ببلی سے ایسے لپٹا ہوا تھا کہ جیسے صدیوں بعد ملا ہو۔ عامر نے جی بھر کر ببلی کے ہونٹوں کا رس پیا پھر اس کے گالوں کو چوما پھر اسکی صراحی دان گردن کو چومتے چومتے اسکی چھوتیوں تک پہنچ گیا۔ عامر نا صرف چوم رہا تھا بلکہ پیار کے ساتھ ہر جگہ پرہلک ہلکہ کاٹ رہا تھا۔ جسکے نشان ببلی کے جسم پر بنتے جا رہے تھے۔ عامر جب جب کاٹتا ببلی کی ہلکی سی سسکی نکلتی۔ اسے درد کے ساتھ ساتھ مزا بھی آرہا تھا۔
    عامر نے ببلی کی پھولدار پرنٹڈ قمیض اور براکو اتار دیا۔ ببلی کی گول مٹول اور سڈول چھاتیاں اسکے سامنے تھیں۔ اس نے دونوں چھاتیوں کو ایک ایک کر اچھی طرح سہلایا اور پھر ان کو اوپر سے لیکر نیچے تک ساری گولائی کو خوب چوما اور ہلکا ہلکا کاٹا۔ ببلی کے چوکلیٹی رنگ کے نپل جوش سے تن کر کھڑے ہوگئے تھے۔ عامر نے دونوں نپلز کو خوب چوسا اور کاٹا۔ نپلوں پر دانت سے کاٹنے پر ببلی کو زیادہ درد ہوا ۔ ایک دفعہ تھا اسکی شدید چیخ نکل گئی۔ ببلی نے عامر کو فوراً اپنی ممے سے دور دھکیل دیا۔ لیکن عامر ضدی تھا وہ جھٹ سے واپس پہنچ گیا۔ درد سے ببلی کی آنکھوں میں پانی بھر گیا۔ عامر نے ببلی سے سوری کیا اور اب آرام سے چومنے کا وعدہ کیا۔
    عامر سیکس میں کچھ کچھ تشدد پسند انسان تھا۔ عورت کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر اور اسکی سسکیاں سن کر اس کا جنسی ہیجان خیزی عروج پرپہنچ جاتی تھی۔ عامر ببلی کے پستانوں سے کھیلنے کے بعد اب اپنی اصل منزل کی طرف رواں دواں تھا۔ اس نے ببلی کی شلوار کو اتار دیا۔ جیسے ہی اس نے ببلی کی چوت کو چھوا تو ببلی کی درد سے چیخ نکل گئی۔ ببلی کی چوت کل کی لمبی چودائی سے پھول کر بھوسا بنی ہوئی تھی۔ عامر نے بھی ببلی کو سوجی ہوئی چوت پر نگاہ دوڑائی تو وہ بہت مایوس ہوا۔ اسکا دل ایک اور شاندار چودائی کرنے کو کر رہا تھا۔ ببلی نے اس کے اترے ہوئے چہرے کو دیکھا تو اس نے کہا کہ میں تمہارے لنڈ کو چوپا لگا کر ڈسچارج کروا دیتی ہوں۔ عامر نے کچھ دیر سوچنے کے بعد اپنے کپرے اتار دیے اور اپنا لنڈ کو ببلی کی کسٹڈی میں دے دیا۔ ببلی نے کل رات کی سیکھیں ہوئی باتوں کو ذہن میں دہرایا اور لنڈکو ایک ماہر گشتی عورت کی طرح چوپا لگانا شروع کر دیا۔
    کل رات سے پہلے ببلی کو چوپا لگانا نہیں آتا تھا۔ بلکہ وہ لنڈ یا چوت کو ناپاک سمجھتی تھی۔ لیکن عامر نے ببلی کی چوت کو چاٹ چاٹ کر اسے اس بات پر قائل کر لیا تھا کہ ان ناپاک عضووں میں ہی بہت مزہ چھپا ہوا ہے۔ عامر ابھی بھی ببلی کو چوپا لگانے کی مزید تکنیک سمجھا رہا تھا۔ اس نے ببلی سے کہا کہ اپنی زبان کو کچھ دیر کے لیے لنڈ کی ٹوپی کی اوپر گول دائرے میں مس کر کے گھمائے۔ ببلی نے ویسے ہی کیا۔ اس نے مزید کہا کہ ببلی اپنی زبان کو باہر نکال کر برش کی طرح پورے لنڈ پر اوپر سے لیکر نیچے تک زبان کو پھیرے۔ ببلی ہر بات کو اچھی طرح سمجھ رہی تھی اوراس پر عمل کر رہی تھی۔ کچھ دیر بعد عامر نے ببلی سے کہا کہ وہ اس کے لند کے ساتھ لگی گولیوں کو بھی چومے اور منہ میں لیکر چوپا لگائے۔
    گو کہ عامر کو آج چوت کی چودائی کا مزہ نہیں ملنا تھا لیکن وہ ببلی کو نت نئے طریقے بتا کر اپنے لنڈ کا چوپا لگوا رہا تھا اور خاصہ محظوظ ہو رہا تھا۔ شادی سے پہلے اس نے پاکستانی خواتین کے بارے بہت کچھ سنا اور پڑھا تھا۔ کسی حد تک وہ مایوس ہوا تھا کہ پاکستانی خواتین زیادہ تر روایت پسند اور رجعت پسند ہوتی ہیں۔ چونکہ وہ ایک لبرل انسان تھا اور سیکس کا دلدادہ تھا۔ اسکا نظریہ تھا کہ سیکس میں کوئی حد مقرر نہیں ہونی چاہیے۔ ببلی کی بیٹی کی جب اس نے فوٹو دیکھی تو وہ مشرقی حسن کو دیکھ کر بہت متاثر ہوا تھا اور اس نے تہیہ کر لیا تھا کہ وہ نا صرف اس مشرقی حسن کو حاصل کرے گا بلکہ اسے سیکس کے حوالے سے ہر بات سیکھائے گا اور کرنے پر مجبور کرے گا۔
    ببلی چوپا لگاتے ہوئے یہ سوچ رہی تھی کہ اسے جو سیکس کی لت لگ گئی ہے اس کی بیٹی جب واپس آجائے گی تو وہ کیا کرے گی۔ مزے کے ساتھ ساتھ وہ غمزدہ بھی تھی۔ اسے پتہ تھا کہ اس کے پاس بس آج کی رات ہے۔ اس کے بعد شاید اسے زندگی بھر دوبارہ سیکس کا مزہ نصیب نا ہو۔
    تقریباً پونے گھنٹے بعد عامر نے ببلی کو کہا کہ وہ فارغ ہونے والا ہے لہذا وہ چوپے کی رفتار تیز کر دے۔ ببلی نے زور زور سے لنڈ کو اپنے منہ کے اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔ چند لمحوں بعد عامر کا لنڈ ببلی کے منہ کے اندر ڈسچارج ہو گیا۔ آج بھی عامر کی لنڈ سے نکلنے والی منی کی مقداربہت زیادہ تھی اور ببلی کا سارا منہ مکمل بھر گیا۔ ببلی ساری منی کو ایک ہی گھونٹ میں پی گئی۔ آج اسے زیادہ کراہت محسوس نہیں ہوئی تھی۔ بلکہ نمکین لیس دار مادہ اسے اچھا لگا تھا۔
    عامر کا لنڈ ڈسچارج ہونے کے بعد شانت ہو گیا تھا پر ببلی ابھی بھی لنڈ کے دہانے سے نکلنے والے منی کے قطروں کو چوس رہی تھی۔ عامر مدہوش نظروں سے ببلی کو دیکھ رہا تھا اور مسکرا رہا تھا۔ وہ خوش تھا کہ اس نے اپنی رجعت پسند اور شرمیلی بیوی کو صرف ایک رات میں ہی اپنے لنڈ کا دیوانا بنا دیا تھا۔
    ببلی نے جب اپنا کام مکمل کر لیا تو وہ عامر کے اوپر سینے کے بل لیٹ گئی۔ عامر نے اسے اپنی باہنوں کے مضبوط شکنجے میں لے کر اسے ایک زبردست سا کس کیا۔ وہ دونوں کچھ دیر خاموشی سے اسی طرح لیٹے رہے۔ کچھ دیر بعد ببلی کی ران سے ایک چیز ٹچ ہوئی اس نے دیکھا تو عامر کا لنڈ کھڑا ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ ببلی نے لنڈ کے بعد عامر کی طرف دیکھا تو مسکر ا دیا۔ ببلی نے شرماتے ہوئے کہہ کہ دوسری باری کا وقت آگیا۔
    ببلی نے اپنی ایک دفعہ اپنی پوزیشن سنبھالی اور چوپے کے بارے میں سیکھیں ہوئے اپنے تمام اسباق کی عملی مشقیں دہرانا شروع کر دیں۔ ببلی جانتی تھی کہ دوسری باری میں لنڈ کو کھڑا کرنے اور ڈسچارج کروانے میں زیادہ وقت لگے گا۔ لہذا اس نے ہمت اکٹھی کی اور اپنے کام پر لگ گئی۔
    تقریبا ً ایک گھنٹے سے زیادہ کا وقت گذر چکا تھا لیکن عامر ڈسچارج نہیں ہو رہا تھا۔ چوپا لگا لگا کر ببلی نا صرف تھک گئی تھی بلکہ اسے جبڑے درد کر رہے تھے۔ ببلی نے مسکین سی شکل بنا کر عامر کی طرف دیکھا۔ عامر نے کچھ توقف کے بعد ببلی کو کمرے کے بل لیٹنے کو کہا اور خود اس کے پیٹ کے اوپر اس طرح چڑھ گیا کہ ببلی عامر کے دونوں گھٹنوں کے درمیان میں آگئی اور عامر کا لنڈ ببلی کی چھاتیوں کے درمیاں میں آ گیا۔ ببلی کچھ سمجھ نہیں آئی کہ عامر کیا کرنا چاہا رہا تھا۔ عامر نے ببلی کو بتایا کہ وہ اس کی چھاتیوں کو چودنا چاہ رہا ہے۔ ببلی نے حیرانی سے پوچھا کہ چھاتیوں کو کیسے چودتے ہیں۔ چنانچہ عامر نے اپنے تنے ہوئے لنڈ کو ببلی کی دونوں گول اور سڈول چھاتیوں کے درمیان میں رکھا اور اسے کہا کہ وہ اپنی دونوں چھاتیوں کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دے۔ جب ببلی نے عامر کی ہدایت پر عمل کیا تو اس کی دونوں چھاتیوں کے درمیان عامر کر لنڈ پھنس گیا۔ عامر نے لنڈ کو آہستہ آہستہ جھٹکے مارنا شروع کر دیے۔ اسکا لنڈ ببلی کی چھاتیوں کو درمیان سے چیرتا ہوا اوپر نیچے ہو رہا تھا۔ ببلی کو اب پتہ چل گیا تھا کہ چھاتیوں کو کیسے چودا جاتا ہے۔ ببلی کی چھاتیاں مزید تن گئی تھیں اور اسکے چوکلیٹی نپل بھی جوش سے کھڑے ہو گئے تھے۔
    عامر نے اپنی رفتارکو بڑھا دیا تھا۔ اب ببلی کو چھاتیوں کے درمیان درد محسوس ہونا شروع ہو گیا تھا۔ لیکن وہ عامر کو مایوس نہیں کرنا چاہتی تھی۔ جب لنڈ کی پھسلن کم ہو جاتی تو عامر اپنے لنڈ کو ببلی کے منہ میں ڈال دیتا تاکہ اسکا لنڈ ببلی کی تھوک سے چھاتیوں کے درمیان رواں رہے۔ کم از کم آدھے گھنٹے بعد عامر کلائمیکس پر پہنچ گیا اور اس نے ببلی کے چہرے اور اسکی گول چھاتیوں پر اپنی تازہ منی کا چھڑکائو کر دیا۔ ببلی کے گندمی جسم پر عامر کی سفید منی چمک رہی تھی۔
    ببلی نے عامر کے اس نئے انداز کو بھی بہت زیادہ پسند کیا۔ ببلی کی سہلیوں اور رشتہ دار خواتین نے کبھی بھی مخصوص انداز کے علاوہ سیکس کرنے کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔ لیکن ببلی صرف دو دن میں ہی سیکس کے بارے میں بہت کچھ جان کر حیران ہو رہی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ ابھی پتہ نہیں کتنے راز اور اس پر افشا ہونے والے تھے۔
    ببلی کا شوہر دوسرے شہر گیا ہوا تھا لہذا عامر ببلی کے ساتھ اپنے سسرال میں ہی سو گیا۔ سونے سے پہلے عامر نے ببلی کی چھاتیوں کو ایک دفعہ پھر جم کر چودا تھا۔ اگلے دن جب ببلی کا شوہراکیلا واپس آیا تو اس کے چہرے پر چھائی ہوئی مایوسی سے صاف دیکھائی دے رہا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کو نہیں ڈھونڈ پایا تھا۔ ببلی کے شوہر نے جب عامر کو اپنے گھر میں دیکھا تواس کی مایوسی اورغصے میں مزید اضافہ ہو گیا۔ وہ اپنے دماد کو بس تھوڑا سا سلام دعا کرنے کے بعد اپنے کمرے میں آگیا۔ ببلی نے عامر سے کہا کہ شاید اسکے والد صاحب کچھ پریشان ہیں آپ پلیز ناراض مت ہونا۔ عامر نے ببلی کو مسکرا کر کہا کہ میں کسی بات پر ناراض نہیں ہوں۔ تم اپنے والد کے پیچھے جائو اور ان سے وجہ دریافت کرو۔
    چنانچہ ببلی اپنے شوہر کے کمرے میں آگئی۔ اس کے شوہر نے اس ساری تفصیل بتا دی کہ ان کی بیٹی اپنے آشنا کے ساتھ ملک سے باہر فرار ہو گئی ہے۔ ببلی نے یہ سن کر مصنوعی پریشانی کو اپنے چہرے پر تاری کر لیا اور اپنے شوہر سے کہنے لگی کہ اب کیا ہوگا۔ آمنہ کا شوہر تو بہت زیادہ ضدی ہے میں خود کو اس سے کیسے بچا پائوں گی۔ حالانکہ ببلی کے دل میں خوشی کے لڈو پھوٹ رہے تھے۔ اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ابھی عامر کے ساتھ اسکی بہت ساری چودائیاں ہونے والی تھیں۔ ببلی کا شوہر کافی دیر خاموشی سے سوچتا رہا۔ ببلی اپنے شوہر کی خاموشی سے بہت زیادہ پریشان ہو گئی تھی اور سوچ رہی تھی کہ پتہ نہیں اس کا شوہر اب کیا منصوبہ بنا رہا ہے۔

    (کیا ببلی کا اصل شوہر اسے گھر بیٹھا لے گا؟ یا اسے اپنےدماد کے ساتھ جانے دیگا؟ کیا ببلی کی مزید چودائیاں ہو پائیں گی؟ یہ جاننے کےلیے اگلی قسط کا انتظار کریں۔
    نوٹ: دوستوں آپ کی فیڈبیک بہت کم آرہی ہے۔ مجھے بالکل بھی مزہ نہیں آرہا)

  20. The Following 13 Users Say Thank You to obablee For This Useful Post:

    abkhan_70 (18-05-2018), bigonghi (18-05-2018), Lovelymale (19-05-2018), midas1975 (20-05-2018), Mirza09518 (Yesterday), mm.khan (20-05-2018), prince77 (23-05-2018), shubi (19-05-2018), Story-Maker (18-05-2018), suhail502 (19-05-2018), sweetncute55 (18-05-2018), teno ki? (20-05-2018), zainee (23-05-2018)

Page 2 of 4 FirstFirst 1234 LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •