Page 1 of 2 12 LastLast
Results 1 to 10 of 18

Thread: لنڈ کا پجاری

  1. #1
    CanPak is offline Aam log
    Join Date
    May 2018
    Age
    32
    Posts
    5
    Thanks
    0
    Thanked 30 Times in 4 Posts
    Time Online
    1 Hour 2 Minutes 25 Seconds
    Avg. Time Online
    4 Minutes 15 Seconds
    Rep Power
    2

    Default لنڈ کا پجاری

    پارٹ 1
    میرا نام احمر ہے، یہ اس وقت کی بات ہے جب میں۱۸ سال کا۔
    تھا۔ والدین کا تعلق صوبہ سرحد سے ہے لیکن میری پیدائش کراچی میں ہوئ والدہ کا انتقال میرے بچپن میں ہی ہوگیا۔ میرا قد کاٹھ اچھا پٹھانوں والا ہے ۔ گورا رنگ اور آنکھیں شربتی ہیں۔ ھمارا گھر کراچی کے متوسط
    علاقے گشن اقبال میں تھا، والد کراچی یونیورسٹی میں ایڈمن سٹاف میں تھے، گھر مِیں صرف میں اور میرے والد ہی تھے،والد نے مجھے بہت خیال سے پالا اور کسی شئے کی کمی نہ ہونے دی۔ ان کی محنت اور توجہ کا نتیجہ تھا کہ میں پڑھائی میں خوب تیز تھا۔ میں نے کراچی ہی کے ایک اچھے کالج سے انٹر کیا، مری کافی اچھی پرسنٹ ایج تھی۔ابھی میں یونیورسٹی میں داخلے کے فارمز بھر رہا تھاکہ میرے والد کے ایک دوست کینیڈا کے شھر ٹورونٹو میں رہتے تھےاور ان دنوں پاکستان آئے ہوئے تھے وہ ہمارے گھر آئے- وہ کئ سال پہلے جب کینیڈا جا رہے تھے تو والد نے انکی کافی مدد کی تھی۔ اب جب وہ ھمارے گھر آئے، اور والد نے میرے امتحان کے نتیجے کا زکر کیا توانکل بہت خوش ہوئے، اور والد سے کہا اگر وہ چاہیں تو وہ مجھے اپنے ساتھ ٹورونٹو لے جائیں گے۔والد بھی بہت خوش ہوئے اور انکل سے کہا کہ اگر انکل میری زمہ داری لیں تو میرے اچھے مستقبل کے لئے وہ مجھے کینیڈا ضرور بھیجیں گے۔ اس طرح انکل کی کوشش سے مجھے ٹورونٹو یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا اور انکی سپانسرشپ کی بدولت سٹوڈنٹ ویزا ملنے میں بھی آسانی ہوئ۔ ٹکٹ اور پہلے سمسٹر کی فیس ابا نے دی۔جب میں پہلی بار ٹورونٹو پہنچا تو میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں، اسقدر خوب شھر میں نے صرف موویز میں ہی دیکھا تھا۔ انکل وہاں اپنی فیملی کے ساتھ رہتے تھے، یہاں آکر مجھے اندازہ ہوا کہ انھوں نے اپنی گنجائش سے بڑھ کر میری مدد کی تھی۔ وہ ایک چھوٹے سے فلیٹ میں فیملی کے ساتھ رہتے تھے، جلد ہی میں نے یونیورسٹی کے کچھ دوستوں کے ساتھ شیرنگ میں ایک اپارٹمینٹ لے لیا ساتھ ہی میں نے جلد از جلد اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ والد صاحب سے پیسے منگوانے کی بجائے میں نے کچھ کام کرنے کی ٹھانی۔ تھوڑے دن کی کوشش کے بعد ایک کافی شاپ پر کام مل گیا۔ ابھی دن کچھ سکون سے گزرنے شروع ہی ہوئے تھے کہ مجھے ایک درد ناک اطلاع ملی۔ والد صاحب دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ انھیں کام کے دوران ہی دورہ پڑا اور وہ ہسپتال جانے سے پہلے ہی وفات پاگئے۔ کرائے کے گھر میں کچھ زیادہ سامان تو تھا نہیں سو جلد ہی گھر کو صاف کرکے دوسروں کو کرائے پر دے دیا گیا۔ اب میرے لئے پاکستان میں یادوں کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔

    انکل کو بھی مڈل ایسٹ میں ایک اچھی جاب آگر ہوئ اور وہ وہاں چلے گئے۔ یوں میں ٹورنٹو میں بلکل اکیلا رہ گیا۔
    میں نے اپنا دکھ بھول کردل صبح شام پڑھائی اور کام میں لگادیا۔ کافی شاپ پر میں روز شام چند گھنٹے اور ویک اینڈ پر سارا دن کام کرتا تھا ۔
    کافی شاپ کوینز اینڈ ینگ کے علاقے میں تھی،اس کی وجہ
    شہرت مجھے بعد میں پتہ چلی۔ اسٹور کا مالک جان ایک چالیس سالہ افریقن امیریکن جان تھا،وہ چھ فٹ پانچ انچ لمبا شخص تھا۔ وہ ایک باڈی بلڈر آدمی تھا۔ وہ اک بہت پرکشس شخصیت کا مالک تھا۔ اسکے بڑے بڑے ہونٹوں پر ہر وقت مسکراہٹ رہتی ۔وہ مجھ سے بہت اچھی طرح پیش آتا تھا۔ سٹور پر شام کو کافی بھیڑ رہتی تھی اور جان میں ملکر کام سنبھالتے تھے۔ سٹور رات ایک بجے تک کھلا رہتا تھا، پھر ہم صفائ وغیرہ کرکے اسٹور روزانہ نو بجے اور ویک اینڈ پر رات ایک بجے بند کرتے تھے۔ اس دوراں میں اور جان اکیلے ہی سارے کام نبٹاتے۔

    ایک اتوارکی رات میں سٹور فرنٹ صاف کرکے واش روم کے فرش پر موپ لگا رہا تھا کہ جان اندر آگیا، کہنے لگا سوری مجھے پیشاب کرنا ہے، مائنڈ نہ کرو تو میں کرلوں، میں نے کہا کیوں نہیں۔ وہ میرے پاس ہی ایک یورینل کے ساتھ کھڑا ہو گیا اسنے اپنے شورٹس کو نیچے کیا اور اپنا لنڈ ھاتھ میں لے کر موتنا شروع کر دیا۔ میں نے زندگی میں پہلی بار کسی دوسرے مرد کا لنڈ دیکھا تھا لیکن مجھے اندازہ تھا کہ جو میری آنکھوں کے سامنے تھا وہ ایک غیر معمولی لمبا اور موٹا لنڈ ہے۔ جیسے درمیان میں ایک تیسری ٹانگ ہو۔ اس لنڈ نے گویا میرے اوپر کوئ جادو کردیا تھا اور میری نظر اس پر ٹک گئ۔ مجھے لگا کہ جیسے میں اس لوڑے میں ان دیکھی کوئ طاقت ہے جسنے مجھے قابو کرلیا ہے اور مجھے اپنا ماتحت سا کر لیا ہے۔ مجھے ایسا لگا کہ اس لوڑے میں اتنی پاور ہے کہ وہ مجھ سے جو چاہے کرواسکتی ہے۔ میں سحر زدہ اس کو دیکھ رہا تھا مجھے اس بات کا کوئ خیال نہ تھا کہ جان بھی میری حالت کو دیکھ سکتا ہے۔ میں تو صرف اس لوڑے کے سحر میں تھا، لوڑا کس کا ہے مجھےکوئ پرواہ نہ تھی۔

    وہ لنڈ تو گویا جان کے ہاتھ میں جیسے ایک بانس کا ٹکڑہ تھا، جس سے سونے کے پانی کی دھار نکل رہی تھی۔ اس روز سے پہلے میں نے کبھی لنڈ کے بارے میں نہیں سوچا تھا میری زندگی میں سیکس کے لے کبھی وقت ہی نہ تھا، میں اپنی پڑھائ اور اچھے مستقبل کے لے ان سب چیزوں سے ہمیشہ دور رہتا تھا اورسیکس قسم کے خیالات کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا تھا۔ لیکن آج وہ لوڑا ایک اٹل حقیقت کی طرح میرے سامنے تھا اور مجھ پر اپنے آپ کا ایک نیا رنگ آشکار ہو رہا تھا۔ میں نے ایک لمحے کو سوچا کہ وہاں سے چلا جاؤں لیکن میرے قدموں نے جیسے میرا ساتھ چھوڑ دیا اور میں لوڑے سے نظر بھی نہ ہٹا سکا ۔ خود میرا لنڈ بھی گرم ہونا شروع ہوگیا۔ آج سے پہلے کبھی کسی کو دیکھ کر میرا لنڈ اتنا بےتاب نہ ہوا تھا ۔

    اسکا لنڈ ختنہ نیہں ہوا تھا اسکی کھال لنڈ کے ٹوپے کے ساتھ ساتھ گولائ میں تھی اس پر اسکا سوراخ ایک بھرپور دھار مار رہا تھا،جان نے اپنا لوڑا ایک ہاتھ سے پکڑا تھا لیکن لوڑا تھا کہ ایک ہاتھ میں سما نہیں رہا تھا اور ہاتھ سے آگے ہوا میں جھول رہا تھا۔ میں جیسے جان کو بھول ہی گیا تھا وہ مجھے دیکھ رہا تھا لیکن اسنے مجھے اپنے لنڈ کے نظارے سے منع نہیں کیا۔ میرا اپنا لنڈ مجھے بڑھتا ہوا محسوس ہونے لگا۔ایسا لگا کہ لنڈ میری جینزپھاڑ کر باہر آجائے گا۔

    کیا تمھیں یہ اچھا لگا؟ میں کچھ جواب نہ دے سکا کیا تم اسے چھونا چاھو گے؟ میں نے بے اختیار سر ہلا دیا، وہ گھوم کر میرے پاس آیا، میں اس وقت فرش پر پنجوں کے بل بیٹھا تھا، وہ جب میری طرف مڑا تو اسکا لنڈ میرے منہ کے بلکل سامنے تھا، اسکی ابھری ہوئ نسیں اسکی شان میں اضافہ کر رہی تھیں

    لوڑا آہستہ آہستہ میری آنکھوں کے سامنے اور لمبا ہونا شروع ہوگیا اور اب اسکی شاندار لمبائ اور چوڑائ میرے سامنے تھی۔ میں نے اپنا ہاتھ بڑھا کر لوڑا چھونے کی کوشش کی تو وہ دو قدم پیچھے ہو گیا۔ وہ بولا، نہیں میرے خوبصورت دوست ہاتھ سے نہیں، ہونٹوں سے چھوئو۔ میں نے اپنے ہونٹ لوڑے کے سرے پر رکھ دیے- میں نے اس کو چومنا شروع کیا اور اس کے امرت پانی سے ہونٹوں کو تر کیا- میرے اندر ایک آگ پبا تھی اور میں پوری طرح لوڑے کے سحر میں تھا۔ میرے ہونٹ خودبخود تھوڑے کھل گیے اور وہ شاندار ٹوپا میرے منہ میں داخل ہوا، مجھے ایسا لگا جیسے میرا منہ اس مقصد ہی کے لیے بنا ہو۔ ابھی صرف ٹوپا ہی میرے منہ کے اندر ہوا تھا لیکن میرا منہ پوری طرح بھر گیا تھا۔ اب میں نے لوڑے کو چوسنا شروع کردیا اس پر اپنی زبان گھمانے لگا میں نے اسکے سوراخ پہ زبان کی نوک رکھ کر ہلائ اب اس میں سے شفاف سا مایہ نکل کر میرے منہ میں آنے لگا میں نے اسکے بڑے بڑے ٹٹے اپنے ہاتھوں میں لئے، اسنے جھانٹوں اور ٹٹوں کو تازہ تازہ شیو کیا ہوا تھا اسکی چکنی جلد پسینے کے ساتھ مل کر نہایت مزیدار زائقہ دے رہی تھی۔ میں ٹٹوں کو آہستہ آہستہ مسلنے لگا۔ جان نے اپنا لوڑا میرے منہ سے نکالا اور اپنے ٹٹے میرے ہونٹوں پر رکھ دئے میں نے پہلے ایک ٹٹہ منہ میں لیا اور اسکو چوسنے لگاپھر دوسرے کو بھی خوب چوسا۔ اب جان نے دوبارہ لوڑا میرے منہ میں دے دیا اس نے کہا لو میرے بچے اب میرا کام پورا کردو۔ میں نے پھر سے لنڈ کا ٹوپا منہ میں لیا اور خوب زور لگا کر چوسنا شروع کیا۔ جان نے میرے سر کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا اور اپنا لوڑا میرے منہ کے اندر گھسانا شروع کیا لیکن میں ٹوپے کے نیچے صرف چند انچ تک ہی منہ میں لے سکا پھر مجھے ایسا لگا جیسے میرا منہ مزید لوڑا اندر نہیں لے سکتا کیوںکہ اسکا ٹوپا میرے حلق سے ٹکرانے لگا اور میرے منہ سے بے تحاشہ تھوک بہنے لگا۔ مجھے ابکا ئیاں آنے لگی اور میں نے ایکدم لوڑا منہ سے نکال دیا۔ جان نے کہا کوئ بات نہیں شروعات میں ایسا ہی ہوتا ہے، چلو پھر شروع ہو جائو۔ میں نے ٹوپا پھر منہ میں لے لیا۔ اب مجھے اپنے کھڑے لنڈ کی حالت بھی محسوس ہونے لگی، ایک ہاتھ سے میں نے اپنا لنڈ کپڑوں سے آزاد کیا اور اسکی مٹھ مارنے لگا۔ ساتھ ہی جان کا لوڑا میرے منہ میں تھرکتا محسوس ہورہا تھا، جان نے کہا لگتا ہے تمھارا منہ خشک ہورہا ہے زرا ادھر آو اور مجھے اٹھا کر کھڑا کیا اور مجھے کس کرنا شروع کیا، اسکی زبان میرے منہ۔میں داخل ہوئ اور میں نے اسے خوب چوسا۔ اسکی زبان میرے منہ کے اندر ہر طرف جارہی تھی جیسے ہر کونے کی۔مالک ہو۔ تھوڑی دیر کسنگ کے بعد اسنے کہا بیٹھو اوراپنا منہ اوپر کرو اور کھول کر رکھو۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ جان نے میرے منہ کے بلکل اوپر آکر میرے منہ میں اپنا لعاب ڈالنا شروع کیا، تھوڑی دیر میں میرا منہ بھر گیا، اسنے کہا میرے بچے اسے پی جائے ، میں نے بلا جھجھک ایسا ہی کیا، جان نے پھر سے لوڑا منہ کے قریب کیا اس مرتبہ لوڑا تھوڑا زیادہ اندر تک گیا اور میں نے چوسنا شروع کردیا۔ اب جان نے مجھے باقی لوڑے کو ہاتھ سے پکڑنے کی اجازت دی اور میں لوڑا چوسنے کے ساتھ اپنے ہاتھوں سے اسکی مٹھ بھی مارنے لگا ۔ کچھ ہی دیر میں جان نے لزت آمیز آہیں بھرنا شروع کر دیں وہ ساتھ ہی کہتا جاتا شاباش میرے بیٹے میرے محبوب، ایسے ہی، اور زور سے۔۔۔میں اب چھوٹنے والا ہوں دیکھوں یہ میری منی تمھارے لئےانعام ہے اگر زرا سی بھی زائع ہوئ تو تمھیں اس لنڈ کا دیدار کبھی نہیں ہوگا۔

    آہ آآآآآہ لو میری منی۔ ساری لے لو۔۔پی جاو میرے امرت کو۔۔ اس کے ساتھ ہی اس کے دودھ کی دھاریں میرے حلق سے ٹکراِئیں ۔ میرا منہ ایک دم منی سے لبا لب بھر گیا میں تیزی سے اسکو پینے لگا، کچھ منی میرے منہ سے نکل کر میرے چہرے سے بہنے لگی میں نے جان کے لوڑے کو اپنے منہ میں ہی جکڑے رکھا اور اس میں سے ساری منی نچوڑتا رہا۔ پھر جان نے اپنا لنڈ میرے منہ سے نکالا، میں نے نہ چاہتے ہوے بھی اس کو آزاد کیا اور اپنے منہ پر بہنے والے منی کے ہر قطرے کو اپنی انگلی سے اٹھا کر چاٹنے لگا، اس دوراں میرا لوڑا بھی ایک طرح سے پھٹ پڑا، مجھے زندگی میں اسقدر اچھے سے احتلام نہ ہوا تھا۔ جان نےکہا بہت ہی خوب میرے دوست۔ تم نے پہلی دفعہ کے حساب سے بہت ہی زبردست لوڑا چوسا ہے- میں نے جان سے پوچھا کہ کیا اسنے کبھی کسی اور مرد یا لڑکے کے ساتھ ایسا کیا ہے؟ تو اسنے کہا ہاں میں تو ہمیشہ ہی سے لونڈے باز ہوں میں نے بہت سے مردوں کے ساتھ یہ سب، اور بہت کچھ کیا ہے لیکں میرا خیال ہے کہ یہ سب تمھارے لئے بہت ہی نیا اور عجیب ہے، تمھیں بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے، میں نے پوچھا کیا میں نے یہ سب صحیح سے نہیں کیا؟ اس نے کہی ایسی بات نہیں، پہلے پہل کے حساب سے تو ٹھیک ہے - لیکن تم شاید اس لوڑے کے پجاری بننے کے لیے ابھی تیار نہیں ہو۔ تمھیں اچھی تربیت کی ضرورت ہے-

    اگر تم دوبارہ ایسا کرنا چاہتے ہو اور سیکھنا چایتے ہو تو تمھیں صحیح معنوں میں میرا غلام بننا پڑے گا، میری ہر بات بلا سوچے سمجھے اور بے جھجک ماننی ہوگی۔میں تمھارے اوپر ہر طرح سے قادر ہوں گا، جو میں چاہوں گا کرنا ہو گا۔ اور جو نہ چاھوں اس سے دور رہنا ہوگا۔ تمھیں میرا 100 فیصد تابع دار بننا ہوگا۔ تم اچھی طرح سوچ لو ھم اس پر پھر بات کریں گے اب جاو ۔۔۔ شاباش

  2. The Following 10 Users Say Thank You to CanPak For This Useful Post:

    abkhan_70 (11-05-2018), Admin (12-05-2018), aloneboy86 (12-05-2018), curves.lover (11-05-2018), Irfan1397 (11-05-2018), Lovelymale (13-05-2018), shubi (17-05-2018), Story-Maker (11-05-2018), sweettyme (11-05-2018), teno ki? (14-05-2018)

  3. #2
    Story-Maker's Avatar
    Story-Maker is offline Super Moderators
    Join Date
    Mar 2016
    Location
    Pakistan
    Age
    24
    Posts
    4,016
    Thanks
    1,817
    Thanked 4,931 Times in 2,460 Posts
    Time Online
    1 Week 6 Days 19 Hours 53 Minutes 27 Seconds
    Avg. Time Online
    25 Minutes 3 Seconds
    Rep Power
    864

    Default



    behtreen aaghaaz hai sir

  4. #3
    Irfan1397's Avatar
    Irfan1397 is offline super moderator
    Join Date
    Sep 2011
    Location
    Sahiwal
    Posts
    7,552
    Thanks
    26,261
    Thanked 38,368 Times in 7,339 Posts
    Time Online
    1 Month 2 Weeks 1 Day 2 Hours 37 Minutes 53 Seconds
    Avg. Time Online
    27 Minutes 53 Seconds
    Rep Power
    3131

    Default

    بہت دلچسپ اور لاجواب آغاز ہے ۔ اگلی قسط کا انتظار رہے گا

  5. #4
    CanPak is offline Aam log
    Join Date
    May 2018
    Age
    32
    Posts
    5
    Thanks
    0
    Thanked 30 Times in 4 Posts
    Time Online
    1 Hour 2 Minutes 25 Seconds
    Avg. Time Online
    4 Minutes 15 Seconds
    Rep Power
    2

    Default لنڈ کا پجاری 2

    میں گھر آکر سارا وقت اسی بارے میں سوچتا رہا۔ ایک طرف میرا سب کچھ اور دوسری طرف جان کا لوڑا۔ میرے لئے یہ سب کچھ بہت پریشان کن تھا۔ اور پھر جان کی غلامی اور تعبیداری والی بات بھی کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ اگلے روز سے چند روز میرے آف ڈیز تھے چھٹیوں کے بعد میرے امتحان تھے اور چند روز مجھے اسٹور نہیں جانا تھا۔ میں نے آرام سے سوچنے کا فیصلہ کرلیا۔ اگلے چند دنوں

    اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے میری نظروں میں کالا لوڑا رہا مجھے لگتا تھا کہ جیسے وہ لوڑا مجھے بلا رہا ہو۔ اس خیال کے ساتھ ہی میرے ہونٹ خودبخود تھوڑے کھل جاتے جیسے لوڑے کو اندر آنے کی دعوت دے رہے ہوں۔ واپس کام پہ جانے کے دن تک میں فیصلہ نہ کر سکا تھا۔ میں جان کا نہیں لیکن اسکے لوڑے کا غلام تھا۔ لیکن اس کے لئے بہرحال جان ہی کا غلام بننا تھا۔ جب میں کام پر پہنچا تو جان نے ہمیشہ کی طرح مجھے ہائے بولا اور کام کی بات کرنے لگا۔ جیسے اسے کچھ یاد ہی نہ ہو۔ رات شاپ بند کرتے وقت بھی اس نے کوئ بات نہ کی ۔ میری بھی سمجھ نہ آیا کہ بات کیسے شروع کروں۔ لیکن گھر آکر جب میں بستر پر لپیٹا تو میرے ذہن میں لوڑے کے سوا کچھ نہ تھا ساری رات بےچینی میں گزری۔

    میں نے اپنے طورپر اس پر ریسرچ کرنی شروع کی۔جب انٹرنیٹ پر سرچ کیا تو مجھے اپنی کیفیت سمجھ آنے لگی۔ مجھے پتہ چلا کہ میں گے ہوں اور میں اکیلا نہیں ہوں بلکہ ہزاروں لاکھوں لوگ ہیں جو مرد ہوکر بھی دوسرے مردوں کو پسند کرتے ہیں۔ اور تو اور ٹورونٹو دنیا بھر میں گے فرینڈلی سٹی کے نام سے مشہور تھا۔ یہاں لاکھوں مرد دوسرے مردوں کے ساتھ قانونی طور پر شادی کرکے یا بغیر شادی کے ساتھ رہتے تھے۔ سالانہ لاکھوں لوگ پرائڈ پریڈ میں حصہ لیتے تھے کھلے عام بوسوکنار کرتے تھے اور اس میں کوئ ڈر یا خوف محسوس نہیں کرتے تھے۔ میں نے بلاآخر ایک فیصلہ کرلیا۔ اگلے روز ہفتہ کا دن تھا۔ کافی شاپ حسب معمول خوب بھی رہی۔ کلوننگ کے وقت جب جان اور میں اکیلے تھے میں نے دکان کا دروازہ اندر سے بند کرکے صفائی شروع کی۔ صفائی جلد ختم کرکے جب باھر نکلنے کا وقت ہوا تو میں نے جان کو روک لیا۔

    میں تیار ہوں۔

    کس لئے؟

    تمہارا ہونے کے لئے۔

    کیا ہونے کے لیئے؟

    ۔غلام

    ہوں۔۔۔لیکں کیا تم اسکا مطلب سمجھے ہو؟

    ہاں۔۔میرے خیال میں سمجھ رہا ہوں۔

    تم کو میری ہر بات ماننی ہو گی۔مانوں گا۔ جب جو کہوں گا کرنا ہو گا۔

    کروں گا مجھے صرف تمھارا لنڈ چاہئے اسکے بدلے میں سب کروں گا۔

    تمھیں میری بچ بننا ہوگا۔

    اب جو بھی میں بخوشی تیار ہوں۔

    ٹھیک ہے اب تم جاو کل اپنا سامان لے کر میرے گھر آجانا۔ میرے غلام کو میرے ساتھ رہنا ہوگا۔ اوکے۔

    اگلے روز شام میں اپنے دو بیگز لے کر جان کے گھر پہنچ گیا۔ جان نے دروازہ کھول کر مجھے اندر بلا لیا۔ سامان رکھ کر میں اسکے سامنے آ کھڑا ہوا۔ تم جب تک میرے ساتھ رہنا چاہوں تمھیں میری ہر بات ماننی ہے

    بلکل۔ میں تیار ہوں۔ تمھارے سامنے تمھاری زندگی ہے مستقبل ہے پھر کیوں

    میں اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہوں۔ اچھا اگر میں کہوں تم اپنی پڑھائی چھوڑ دو؟

    کوئ مسئلہ نہیں

    اگر میں تمھارے نام بدل دوں

    مجھے پرواہ نہیں



    اچھا پھر سنو۔ پہلا اصول۔ جب تم اس گھر میں ہو گے کوئ کپڑے نہیں پہنو گے۔ دوسرا اصول میں تمھارا عاشق نہیں مالک ہوں تم کبھی یہ بات نہیں بھول گے۔ گھر کی صفائ ستھرائ آج سے تم کرو گے اور میری بھی ہر آسائش کا خیال رکھنا تمھاری زمہ داری ہوگا۔ میں تمھیں آہستہ آہستہ اس طرز زندگی کے لئے تربییت دوں گا۔

    چلو اچھا سب سے پہلے ننگے ہو جاو۔ میں نے جلد از جلد تمام کپڑے اتار پھینکے

    یہ لو تمھارا کالر۔۔اس نے میرے ہاتھ میں ایک چمڑے کا پیٹ پکڑا دیا۔ یہ اپنے گلے پر باندھ لو۔گھر پر ہر وقت یہ تمھارے گلے میں ہونا چاہیے۔ پٹے کے ساتھ ایک لوہے کا کنڈہ بھی تھا۔ جس میں ایک زنجیر بندھی تھی۔ پٹنہ گلے پر باندھ کر زنجیر اس نے اپنے ہاتھ میں لے کر آگے چلنا شروع کردیا۔ میں اسکے پیچھے پیچھے چل پڑا۔

    دیکھیں آگے میری زندگی میں کیا لکھا ہے۔
    Last edited by Story-Maker; 12-05-2018 at 05:37 PM.

  6. The Following 9 Users Say Thank You to CanPak For This Useful Post:

    abkhan_70 (11-05-2018), Admin (12-05-2018), aloneboy86 (12-05-2018), Irfan1397 (12-05-2018), Lovelymale (13-05-2018), shubi (17-05-2018), Story-Maker (12-05-2018), sweettyme (11-05-2018), teno ki? (14-05-2018)

  7. #5
    Irfan1397's Avatar
    Irfan1397 is offline super moderator
    Join Date
    Sep 2011
    Location
    Sahiwal
    Posts
    7,552
    Thanks
    26,261
    Thanked 38,368 Times in 7,339 Posts
    Time Online
    1 Month 2 Weeks 1 Day 2 Hours 37 Minutes 53 Seconds
    Avg. Time Online
    27 Minutes 53 Seconds
    Rep Power
    3131

    Default

    good update

  8. The Following User Says Thank You to Irfan1397 For This Useful Post:

    abkhan_70 (12-05-2018)

  9. #6
    Lovelymale's Avatar
    Lovelymale is offline Premium Member
    Join Date
    Aug 2008
    Location
    Islamabad, Pakistan, Pakistan
    Age
    54
    Posts
    2,037
    Thanks
    14,315
    Thanked 7,166 Times in 1,832 Posts
    Time Online
    2 Weeks 3 Days 7 Hours 23 Minutes 2 Seconds
    Avg. Time Online
    10 Minutes 42 Seconds
    Rep Power
    1050

    Default

    Boht zabardast mozoo pe kahani start ki hai, bilkul mukhtalif mozoo. BDSM and slavery in gay sex. Updates time pe ati rahi to maza aye ga story ka.

  10. #7
    teno ki? is offline Premium Member
    Join Date
    Feb 2012
    Posts
    339
    Thanks
    504
    Thanked 569 Times in 251 Posts
    Time Online
    1 Week 3 Days 9 Hours 59 Minutes 30 Seconds
    Avg. Time Online
    6 Minutes 32 Seconds
    Rep Power
    42

    Default

    کمال سٹوری ہے دوست
    جلدی اپڈیٹ کرنا

  11. #8
    CanPak is offline Aam log
    Join Date
    May 2018
    Age
    32
    Posts
    5
    Thanks
    0
    Thanked 30 Times in 4 Posts
    Time Online
    1 Hour 2 Minutes 25 Seconds
    Avg. Time Online
    4 Minutes 15 Seconds
    Rep Power
    2

    Thumbs up

    پسندیدگی کا شکریہ۔ پارٹ 3 حاضر ہے۔

    جان زنجیر ہاتھ میں لئے آگے چلا اور میں اسکے پیچھے۔ ہم ایک نیم اندھیرے کمرے میں داخل ہوئے۔ کمرے میں زیادہ فرنیچر وغیرہ نہ تھا دیوار کے ساتھ کچھ عجیب عجیب سے اوزار ترتیب سے لٹکے ہوئے تھے جیسے ھتھکڑیاں، چھڑیاں پلاسٹک کے بڑے بڑے لنڈ ، بالز سلاخیں وغیرہ۔ بیچ میں ایک کچھ لوہے سے بنا ہوا اسٹریچر سا تھا۔ سائڈ میں ایک بڑا سا کاوچ تھا۔۔ جان نے اپنے کپڑے اتار دیے اور کاوچ پر نیم دراز ہو گیا۔ کہنے لگا۔ جاو میرے لئے فرج سے بئیر باٹلز لے آو۔ میں کچن سے چار باٹلز لے آیا۔ جان نے دو بوٹلز فورن ہی پی لیں۔ باقی آہستہ آہستہ پینے لگ۔ اس نے کہا میں ابھی اکسرسائز کر کے بیٹھا ہوں مجھے صفائی کی ضرورت ہے۔ آج سے یہ تمھاری زمہ داری ہے۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا کہ کس چیز سے صفائی کروں۔ جان مسکرایا اور بولا صرف اپنے منہ اور ہاتھوں سے۔ جب کسی اور چیز سے ضرورت ہوئ تو میں کہ دوں گا ورنہ صفائی کا مطلب چاٹ کر صفائ۔یاد رہے گا؟ میں نے کہا ہمہشہ۔ پھر میں نے اس کے پیروں سے شروع کیا اور ہر انگلی اور تلوے کو خوب چوسا۔ پھر اوپر کی طرف بڑھا۔ جان نے اپنی بغل کی طرف اشارہ کیا۔ یہ بھی کافی گندی ہیں یہاں آو۔ بغل واقعی پسینے میں تر تھی۔ اسکی خوشبو دور سے ہی محسوس ہی رہی تھی۔ میرے لئے یہ حیرت کی بات تھی کہ مجھے یہ خوشبو بہت ہی شہوت آمیز لگی۔اور میں بڑے شوق سے اسکی بغل کو چاٹنے لگا۔ پندرہ منٹ کے بعد اس نے مجھے دوسری طرف اشارہ کیا۔ میں دوسری بغل میں شروع ہوگیا۔
    اسی طرح پندرہ منٹ اور گزر گئے۔ ایسا کرتے ہوئے میرا لوڑا فل ٹائٹ کھڑا ہوا تھا اوراس سے منی ٹاک رہی تھی۔ اب جان نے مجھے پیچھے کیا اور کاوچ پر الٹا لیٹ گیا۔ اس نے مجھے کہا کہ میری گانڈ بھی صاف کرو، میں نے پوچھا کیسے؟۔ جان کاوچ سے اٹھا اور میرے منہ پر زوردار تھپڑ رسید کیا۔ میری آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔ اس نے کہا میں تمھیں ایک دفعہ بتائوں گا۔ اسکے بعد اگر تم میری نا فرمانی کرو گے تو تمھیں سزا ملے گی۔ میں نے کہا سوری آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔ آپ لیٹو۔ وہ پھر سے لیٹ گیا۔ میرے سامنے ساڑھے چھ فٹ کے انسان کی بہت ہی بڑی ٹائٹ قسم کی گرانڈ گانڈ تھی میں نے ہاتھوں سے اسکے بڑے بڑے چوتڑوں کو الگ کیا۔اسکی گرانڈ کا سوراخ پنک کلر کا تھا۔ بالوں کو اچھی طرح سے صاف کیا ہوا تھا اس لئے بہت چکنا اورصاف تھا اس سے پسینے کی نہایت تیز خوشبو آٹھ رہی تھی۔ میں نے سانس روک کر ڈرتے ڈرتے اپنی زبان نکالی اور گانڈ کے سوراخ پر رکھ دی۔ پھر اسے آہستہ آہستہ چاٹنے شروع کیا۔ میرا ابتدائی ڈر کچھ ختم ہوا تو میں نے اپنی زبان سوراخ کے اندر ڈال دی اور اسکو گھما گھما کے اندر باھر کرنے لگا۔ میں نے اپنے دونوں ہاتھ اسکے دونوں چوتڑوں پر رکھے اور اپنی زبان کو جتنا اندر لے جاسکتا تھا لے گیا۔ جان کے منہ سےسسکاریاں نکلنے لگیں۔ واو۔۔میرا اچھا بچہ۔ ایسے ہی کرو۔ کرتے رہو۔ میں نے جان کو دوبارہ اچھے موڈ میں دیکھا تو اور زیادہ جوش سے اسکی گانڈ چاٹنے لگا۔ تھوڑی دیر کے بعد مجھے لگا کہ وہ انتے مزے میں ہے کہ اسے آہستہ آہستہ غنودگی آرہی ہے۔ میں نے اپنی زبان کی اسپیڈ آہستہ کردی لیکن چاٹنے بند نہیں کیا۔ تھوڑی دیر میں جان گہری نیند سو گیا۔ پہلے میں نے سوچا کہ میں رک جائوں لیکن پھر مجھے اسکا کرارا تھپڑ یاد آیا اور میں اپنے کام سے لگا رہا۔ یوں ہی کافی وقت گزر گیا۔ شاید دو گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ۔ میں ایک جگہ بیٹھ کر اسکی گانڈ صاف کرتا رہا ۔
    پھر جان نیند سے بیدار ہوا اور مجھے زنجیر سے اپنے پاس کھینچا۔ بہت اچھے ایسے ہی میری خدمت کرتے رہو۔ اس نے مجھے اپنے پاس لٹایا اور میرے ہونٹوں پر کس کیا۔ میں نے اپنے آپ کو اسکے حوالے کردیا۔ اسکی زبان میرے منہ میں اندر باھر ہونے لگی۔ میں نے اسکی زبان کو چوس۔ مجھے اسکا لوڑا اپنے اور اسکے بیچ دھڑکتا تھرکتا محسوس ہوا۔ میں نے فورا اپنے ہاتھ سے اسکو پکڑ لیا۔ اور سہلانے لگا تھوڑی دیر میں وہ اٹھا اور کہا۔چلو ذرا پہلےواش روم کا چکر لگا لیں۔ میں جان کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔ واش روم میں پہنچ کر پہلے جان کچھ سوچنے لگا پھر بولا۔ تم ادھر ٹب میں بیٹھو۔ پھر وہ خود ٹب کے سائڈ میں کھڑا رہا۔ لوڑے کا منہ میری طرف کرکے اس نے مجھ سے کہا کہ میں اپنا منہ کھولوں اور اسکے رس کو پی جاوں۔ پھر اس نے موتنا شروع کیا۔ چار بیئرز پینے کے بعد اسکا پیشاب تھا کہ کرنے میں ہی نہیں آرہا تھا۔ میرا منہ، پھر میرا سینہ، پیٹ اور لنڈ پیشاب میں تر ہو گئے۔ جب وہ کام پورا کر چکا تو میں نے ساتھ بڑھا کر لوڑا اپنے ساتھ میں پکڑ لیا اور ٹوپا منہ میں لے کر آخری قطرے نچوڑ لئے۔ اب اسکا لوڑا گرم ہو چکا تھا میں نے اسکو چومنا چاٹنا شروع کیا۔ ٹٹوں کو ہاتھ میں لیا اورپھر منہ میں لے کے انکو خوب چوسا۔ میرا لنڈ بھی بے قابو ہو گیا۔ جان نے اپنا لنڈ میرے منہ سے نکالا اور مجھے واپس باھر کاوچ پر لے آیا میں ابھی بھی پیشاب میں تر تھا مجھے لیدر کاوچ پراوندھا لٹا کر جاں نے ایک بوتل سائڈ سے اٹھائ۔ اس میں سے کچھ بے رنگ چپچپا مایع نکالا اور میری گانڈ پر پھیرا پھر گانڈ کے اندر اپنی ایک انگلی داخل کی۔ یہ میرے لئے بہت تکلیف دہ تھا لیکن تھوڑی دیر انگلی اندر باھر ہوئ تو پھر مجھے مزہ آنے لگا۔ اب اس نے ایک اور انگلی گانڈ میں داخل کی۔ پہلے کی طرح شروع میں درد ہوا لیکن پھر دوبارہ مزہ آہا۔ اب میں گانڈ اٹھا اٹھا اور ہلا ہلا کر اسکا ساتھ دینے لگا۔ اسکے بعد جان نے اپنے لوڑے پربھی لیوب لگایا اور تھوڑا اور میری گانڈ پر بھی۔ لوڑے کا سرا میری گانڈ پر رکھ کر اس نے میرے پاس آکر کہا۔ آج سے میرا لوڑا تمھارا اور تمھاری چوت کا مالک ہے۔ پھر اس نے اپنا لوڑا میری چوٹ میں ڈالنا شروع کیا۔ جب ٹوپا اندر ہوا تو میری آنکھیں باھر آگئیں ۔تکلیف سے مجھے سانس لینا مشکل ہونے لگا۔ جان نے پیچھے سے میرے کان کے پاس آ کے کہا ریلیکس۔ اپنی گانڈ کو ڈھیلا چھوڑدو۔ پھر اس نے کہا تم میری زبان چوسنے پر دھیان دو۔ اور ساتھ ہی میرا منہ اپنی طرف گھما کر اپنی زبان میرے منہ میں داخل کردی۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ تھوڑی دیر کے بعد اس نے اپنا لوڑا آہستہ آہستہ آگے پیچھے کرنا شروع کردیا۔ درد کچھ کم ہونے لگا پھر درد کے ساتھ ساتھ تھوڑا مزہ آنے لگا۔۔ پھر صرف مزہ رہ گیا۔ اسکاٹوپے کے علاوہ تقریبا 1/4 لوڑا میرے اندر تھا۔ لیکن میری گانڈ میں اور بلکل جگہ نہ تھی میں نے جان کو کہا کہ میں اس سے زیادہ نہیں لے سکتا۔ اس نے اتنا ہی لنڈ اندر باھر کرنا شروع کردیا۔ میری گانڈ اب ایک چوت بن چکی تھی جان کی چوت۔ بلکہ جان کے لوڑے کی چوت۔ تھوڑی دیر کی چدائ کے بعد جان نے اپنا گاڑھا گاڑھا اور گرم گرم دودھ میری گانڈ میں ہی نکال دیااور میری پیٹھ پر لیٹ گیا۔ اسکا لنڈ میری چوت کی آغوش میں ہی رہا۔

    پھر اس نے اپنا لنڈ نکالا اور کہا شاباش چلو اب صفائی ۔ میں نے فورا اسکے لوڑے کو گانڈ سے نکالا اور منہ میں لے کر چاٹنا شروع کردیا۔ لنڈ پر جان کی منی اور میری چوٹ کا جوس مل کر ایک زبردست ذائقہ پیدا کر رہے تھے۔ میرا لوڑا فورا کھڑا ہونے لگا۔ جان اسے دیکھ کر مسکرایا۔ تم تو واقعی میرے لنڈ کے پجاری ہو

    اسکے بعد جان نے مجھے میرا کمرہ دکھایا۔یہ ایک چھوٹا سا اسٹور روم جیسا تھا جس میں زیادہ سامان نہیں تھا۔ صرف ایک بستر زمین پر لگا تھا اور ایک اوڑھنے کی چادر۔ ایک میز کرسی اور لیمپ۔ جان نے بتایا کہ مجھے ابھی یہاں رہنا ہوگا اور اگر میں اپنی تربیت اچھے سے مکمل کروں گا تو وہ مجھے اس سے بہتر رہائش اور سہولیات دے گا۔ ساتھ ہی اس نے کیا کہ میری پڑھائی جاری رہنی چاہئے اور اگر میرے گریڈ خراب آئے تو مجھے نکال باھر کرے گا۔ پڑھائی کے اخراجات بھی وہ اٹھائے گا مجھے صرف اسکی ہر بات ماننی ہو گی۔ سونے سے پہلے جان نے ایک ڈلڈو میری گانڈ میں فٹ کر کے مجھے حکم دیا کہ اسکو ہروقت گانڈ میں فٹ رہنےدوں۔ اگر ضرورت کے وقت نکالنا بھی ہو تو پھر سے واپس لگا لوں۔ یہ ڈلڈو اسکی کلکشن میں سب سے چھوٹے سائز کا تھا۔شروع میں اس ڈلڈو کے ساتھ کافی عجیب لگا لیکن سارا دن تھکا ہونے کی وجہ سے مجھے جلد ہی نیند آگئ۔

    اگلے دن میں یونیورسٹی جانے کے لئےسویرے اٹھا گیا۔پلاسٹک لنڈ ابھی بھی میری گانڈ میں تھا۔رات کی چدائ میرے ذہن میں آئ اور میں مسکرانے لگا۔ میرے جسم سے بھی بھی پیشاب اور منی کی خوشبو آرہی تھی۔ آٹھ کر میں واش روم میں آیا ہی تھا کہ جان واش روم میں آگیا۔ وہ ننگ دھڑنگ میرے سامنے تھا اور اسکا لوڑا اسکی ٹانگوں کے بیچ نیم کھڑی حالت میں تھا۔ لوڑے پر نظر پڑتے ہی میں ساکت ہو گیا۔ اس لوڑے میں کیا پاور تھی کہ میں سب کچھ بھول کر دوزانوں بیٹھ گیا اور اپنا منہ کھول کر انتظار کرنے لگا۔ جان نے لوڑا میرے منہ میں دیا اور موتنے لگا۔ میں نے جلدی جلدی گھونٹ حلق میں اتار لئے۔ پھر بھی کافی سارا میرے منہ سے نکل کر میرے جسم پر پھیل گیا۔ اب اسکا لوڑا گرم ہو نے لگا اور میں اسکو چوسنے لگا جلد ہی لوڑا اپنے پورے زور میں تھا۔ میں نے اسکے ٹٹے چوس چوس کر صاف کئے۔ ساتھ ہی اسکے جانگھ میں بھی اپنی زبان پھیری۔ رات بھر کے پسینے کی وجہ سے جانگھ سے بھینی بھینی خوشبو آٹھ رہی تھی۔ اس خوشبو نے مجھے پاگل کردیا اور میں نے دیوانہ وار اسے چاٹ چاٹ کر اسکا رس پی لیا۔ دونوں جانگھوں کو صاف کرتے کرتے کافی وقت ہونے لگا تو جان ہنسنے لگا۔ تمھیں تو خزانہ مل گیا ہے کیا؟ چھوڑو اب۔ میرا لوڑا تمھاری نوجوان چوٹ کے لئے بیقرار ہے۔ میں فورا اپنے پنجروں کے بل گھوم گیا۔ اب میری گانڈ اسکے لنڈ کے شام ے تھی۔ گانڈ میں ڈلڈو ابھی تک فٹ تھا۔ جان نے ڈلڈو نکال کر میرے منہ میں دے دیا میں ڈلڈو چوسنےلگا۔ پیچھے سے میرا محبوب لوڑا میری گانڈ پےرگڑ رہا تھا۔ ساری رات ڈلڈو لینے کی وجہ میری گانڈ خوب کھلی ہوئ تھی۔ لوڑا کو اندر آسانی سے راستہ مل گیا۔ اس دفع جان نے کوئ خیال لئے بغیر اپنا لنڈ ایک جھٹکے سے گانڈ میں ڈال دیا۔ گیارہ انچ کا لنڈ، قریب پورا ہی میری گانڈ میں سما گیا۔ جب لنڈ پورا کا پورا اندر ہوا تو۔ مجھے پھر تکلیف ہوی لیکن ذیادہ نہیں۔ مجھے اسکے بڑے بڑے ٹٹے اپنے ٹٹوں سے لگتے محسوس ہوئے۔ لوڑا پورا اندر ہوکے کچھ دیر رکا رہا جیسے میری گانڈ کے لمس کا لطف لے رہاہو۔ پھر لوڑا آہستہ آہستہ اندر باھر ہونے لگا۔ میں لذت کی ایک نئی حد کو چھونے لگا۔ ہر لمحہ میری لنڈ سے محبت اور چدنے کی چاہت دوبالا ہونے لگی۔ میری ٹائٹ گانڈ میں لنڈ کی حرکت سے شڑپ شڑپ کی آوازآ رہی تھی اور اسکے ٹٹے اور رانیں میرے جسم سے لگ کر چٹ چٹ کی زوردار آواز کر رہے تھے۔ جیسے جیسے لوڑے کاردھم بڑھتا گیا آوازیں تیز تر ہوتی گئیں ساتھ ہی میری گانڈ میں لوڑے کی گرمی بڑھتی گئ۔ ایسا لگنے لگا جیسے ایک گرم سلام میری گانڈ کے اندر باھر ہو رہی ہو۔ جان کے منہ سے لذت آمیز سسکاریاں کی آوازیں آنے لگیں آہ میرے لنڈ کے غلام ۔ تیری چوت کی مراد آج پوری ہوگی ۔چودتے چودتے اسنے ایک دم اپنا لوڑاباھر نکالا اور مجھے گھما کر ڈلڈو میرے منہ سے نکالا۔ پھر اپنا لوڑا میرے منہ میں گھسا دیا ساتھ ہی اسکا لوڑا اپنا رس چھوڑنے لگا۔ میرا منہ اس کے رس سے بھر گیا۔ اس مرتبہ ذرا سا بھی باھر نہیں نکلا۔ میں نے منی کو کچھ دیر اپنے منہ میں رکھا اور اسکے ذائقہ سے لطف لیتا رہا۔ اس دوران میں اپنے لنڈ کو بھی مٹھی لگاتا رہا۔ جب میں فارغ ہوگیا تو پھر میں نے اپنے محبوب لنڈ کا جوس اپنے حلقے نیچے اتارا۔ جان اور میں نے پھر ساتھ غسل کیا۔اور باقی کاموں سے فارغ ہو کر ڈلڈو واپس گانڈ میں فٹ کیا اور یونیورسٹی روانہ ہو گیا۔اسطرح چلتے ہو شروع میں عجیب لگا اور ایک طرح سے مزہ بھی آیا۔ کسی کو پتہ نہ چل سکا کہ میری گانڈ میں ایک چھ انچ لمبا لنڈ ہر وقت موجود ہے اور مجھے اپنے آقا کی ہر وقت یاد دلا رہا ہے۔ ٹرین میں کلاس میں اور پھر کام کے دوران لنڈ میری گانڈ میں ہی رہا اور مجھے ہر گز بھولنے نہیں دیا کہ اب میری زندگی کا اصل مقصد کیا ہے۔ ایک کالے لوڑے کی غلامی۔

    Part X

    رات کو کافی شاپ پہ کام ختم ہوتے ہوتے رات دس بج گئے۔ صفائی سے فارغ ہو کر جان نے مجھے پاس بلایا۔اور اپنا لوڑا نکال لیا۔ میں فورا اپنی پوزیشن میں آگیا اور دوزانوں بیٹھ کر لوڑامنہ میں لے لیا۔ اور چوسنے لگا۔ لوڑے سے نکلنے والے رس کو چکھنے لگا۔ جب لوڑا پورے جونن پر آیا تو اس نے مجھے کھڑا ہونے کہا۔ پھر میرے شورش کو نیچے کرکے ڈلڈو باھر نکالا اور میرے منہ میں گھسیڑ دیا۔ مجھے نیچے جھکا کے پیچھے سے اپنا لنڈ میری گانڈ میں ڈالنا اور مجھے چودنا شروع کردیا۔ تھوڑی دیر میں لوڑے کو باھر نکال دیا۔ میرا آسودہ می وقت لذت سے بڑا حال ہو رہا تھا اور مجھے لوڑا ہر حال میں واپس گانڈ میں چاہئے تھا۔ جان نے شورٹس اوپر کیے اور مجھے پیچھے آنے کہا۔ پھر شاپ سے باہر نکل کر لاک کیا اور اپنی موٹر سائیکل اسٹارٹ کی۔ میں اپنی پیاسی گانڈ کے ساتھ اسکے پیچھے بیٹھنے لگا لیکن اس نے مجھے آگے کی جانب بیٹھنے کو کہا۔ جب میں بیٹھنے لگا تو میری شورٹس نیچے کیں۔ اتنی کہ میری گانڈ نظر آنے لگی۔ میں نے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا۔ قریب میں کوئ نہیں تھا لیکن دور سے کچھ لوگ میں دیکھ رہے تھے۔ جان کو کوئ پرواہ نہیں تھی۔ اس نے اپنا کھڑا لنڈ نکالا اور میری گانڈ کے سوراخ پر رکھا۔ پھر میرے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر نیچے دبایا۔ میں آہستہ سے لوڑے پر بیٹھ گیا اور وہ میری گانڈ میں پوسٹ ہو گیا۔ اب میں پوری طرح جان سے چپک کر بیٹھ گیا اور اس نے گاڑی چلانا شروع کی۔ جو لوگ کچھ دور سے ہمیں دیکھ رہے تھے انھوں نے سیٹی بجا کر جان کو شاباش دی۔ اب ہم گھر کو روانہ ہوئے۔ سارے راستے موٹر سایکل کے جھٹکا کے ساتھ میری چدائ بھی ہوتی رہی۔ اف یہ کیسا تجربہ تھا۔ہم لوگ بیچ سڑک پر سب کے سامنے سے گزر رہے تھے اور ایک جیتا جاگتا تھرکتا لوڑا میری گانڈ کی پیاس بھجا رہا تھا۔ ہم اتنا سات لگ کر بیٹھے تھے کہ کسی کو پتہ نہیں چلتا تھا کہ ہم کیا کررہے ہیں ۔ راستے میں ہم عام لوگوں کے علاوہ پولیس کار کے بہت قریب سے بھی گزرے لیکن کسی کو پتہ نہ چلا۔ یا پھر پتہ بھی چلا تو کسی نے کچھ کہا نہیں۔ جب جان کے گھر کے پاس پہنچے اور گاڑی پارک کی تو جان نے میری کمر میں دونوں ہاتھ ڈال کر اسطرح مجھے اٹھایا کہ اسکا لوڑا میرے اندر ہی رہا۔ نیچے اتار کر اس نے مجھے موٹر سائکل پر کہانیوں کے بل جھکا دیا اور آرام سے میری گانڈ لینے لگا۔ دو منٹ کے بعد ہی وہ گھٹنے لگا اور میری گانڈ میں اسکی منی کا سیلاب آگیا۔ منی نکال کے بھی وہ تھوڑی دیر اور میری لیتا ریا۔ مجھے اس وقت زیادہ فکر یہ ہوئ کہ کوئ دیکھ نہ لے۔ پھر میں نے سوچا اس ملک میں بلکل اکیلا ہوں دیکھ بھی لے تو کیا ہوا۔ ہی سوچ کر میں بھی اس سب کا اور زیادہ مزا لینے لگا۔

    پارکنگ سے گھر تک آتے آتے ٹھنڈی ٹھنڈی منی میری گانڈ سے نکل کر میری رانوں اور پنڈلییوں تک آگئ۔ میں نے انگلی سے منی صاف کرکے انگلی منہ میں لےکر چوس لی۔ میری اس حرکت پر جان نے دانت نکالے۔ جہان سے یہ آئ ہے وہاں تمھارے لئے اور بہت ذخیرہ ہے۔ ندیدے نہ بنو۔
    Last edited by Story-Maker; 16-05-2018 at 10:01 PM.

  12. The Following 7 Users Say Thank You to CanPak For This Useful Post:

    abkhan_70 (15-05-2018), Admin (16-05-2018), Irfan1397 (16-05-2018), Lovelymale (17-05-2018), shubi (17-05-2018), Story-Maker (16-05-2018), teno ki? (16-05-2018)

  13. #9
    CanPak is offline Aam log
    Join Date
    May 2018
    Age
    32
    Posts
    5
    Thanks
    0
    Thanked 30 Times in 4 Posts
    Time Online
    1 Hour 2 Minutes 25 Seconds
    Avg. Time Online
    4 Minutes 15 Seconds
    Rep Power
    2

    Default

    Sorry folks I see too many errors and typos while copying from a different software to here but I hope you can ignore the auto corrects and enjoy the story

  14. #10
    teno ki? is offline Premium Member
    Join Date
    Feb 2012
    Posts
    339
    Thanks
    504
    Thanked 569 Times in 251 Posts
    Time Online
    1 Week 3 Days 9 Hours 59 Minutes 30 Seconds
    Avg. Time Online
    6 Minutes 32 Seconds
    Rep Power
    42

    Default

    زبردست لکھ رہے ہو دوست

Page 1 of 2 12 LastLast

Tags for this Thread

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •