Page 1 of 10 12345 ... LastLast
Results 1 to 10 of 100

Thread: Khayaloon Ki Dunya...(i n c e s t by Cupid Arrow)

  1. #1
    Cupid Arrow's Avatar
    Cupid Arrow is offline GoD Of LovE
    Join Date
    Mar 2010
    Posts
    1,051
    Thanks
    6,919
    Thanked 8,919 Times in 1,013 Posts
    Time Online
    2 Weeks 5 Days 8 Hours 19 Minutes 20 Seconds
    Avg. Time Online
    12 Minutes 7 Seconds
    Rep Power
    2024

    Default Khayaloon Ki Dunya...urdu version(i n c e s t by Cupid Arrow)

    Dosto yeh story main nay roman urdu main likhna shuru ki the, 2 parts jab likh liye to, pher socha urdu font mai likhon ta-kay zayda enjoy kiya ja sakay.yeh story main 5 ya 6 parts main kosish karon ga kay khatam kar don.


    part 1...



    میرا نام عاقب ہے، یہ کہانی تب کی ہے ، جب میرے گھر میں امی ابو کے علاوہ ، میں اور میری تین بہنیں تھی.سب سے بڑی بہن کا نام لبنیٰ باجی ہے، جو کے شادی شدہ تھی.انکی شادی کو کچھ ہی مہینے ہوے تھے.انکے ہسبنڈ اپنے امی ابو کے ساتھ امریکا ہوتے تھے.باجی نے بھی امریکا چلے جانا تھا ، پر شاید کچھ مہینے لگ جانے تھے، انھیں امریکا جانے میں.وہ ہم لوگوں کے ساتھ ہی رہ رہی تھی، کیوں کے انکی فیملی یعنی ہسبنڈ ، ساس سسر امریکا ہوتے تھے.انکے ہسبنڈ کا نام عابد ہے




    باجی کی عمر اٹھائس سال تھی، ایم ایس سی کیمسٹری تھی وہ.رنگ سانولا ہے انکا، پر شخصیت پر کشش ہے، قد پانچ فٹ چار انچ ہے.یعنی کے ایک خوبصورت سانولی حسینہ ہیں وہ.باجی موٹی نہیں ہیں بھرا بھرا جسم ہے انکا.دوسرے دوسرے نمبر پر ہیں زویا آپی(وہ کہتی ہیں مجھے آپی بلایا کرو).انکی عمر چوبیس سال تھی.انکا رنگ گورا چٹا ، قد پانچ فٹ سات انچ ہے.انکے حسن پر روشنی میں آگے جا کر ڈالوں گا.ویسے وہ ایم اے کر رہی تھی.اسکے بعد میں آتا ہوں، میری عمر اکیس سال تھی. رنگ کالا سینہ چوڑا، قد پانچ فٹ نو انچ تھا.ایک سمارٹ نوجوان ہوں میں.میری گرل فرینڈ کہتی تھی، میری آنکھوں میں ایک عجیب سی کشش ہے، ایسی کشش، جس نے اسے میری جانب کیچھ لایا.میں یونیورسٹی سے بی.بی.اے کر رہا تھا.آخر میں سب سے چھوٹی بہن آتی ہے، جس کا نام ردا ہے، وہ بلا کی حسین ہے، اس کا رنگ گلابی اور سفید کا حسین ملاپ ہے.اسکی عمر انیس سال تھی، قد پانچ فٹ پانچ انچ تھا.وہ ایف ایس سی میں تھی


    میرے ابو ایک امپورٹڈ اے سی برانڈ کے ڈسٹریبیوٹر ہیں، اور ساتھ زمینوں کی لین دین کا کاروبار بھی کرتے ہیں.پراپرٹی کے کاروبار میں انہوں نے تیس سے چالیس کروڑ تک انویسٹ کیے ہوے ہیں، پیسا ٹھیک ٹھاک کما لیتے ہیں وہ


    ابو نے ہمیں کبھی کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دی.جو منہ سے نکالا وہ دیا، جو خوائش من میں جاگی وہ پوری کی.ابو کی بس ایک خوائش تھی کے ہم بہن بھائی پڑھ جائیں.اس کے لئے وہ مجھ ، زویا آپی اور ردا پر سختی بھی خوب کرتے تھے.لاڈ پیار ہمیں امی سے ہی ملتا تھا

    ردا پڑھائی میں بہت قابل تھی، اسکا ہر وقت ایک ہی کام تھا بس پڑھائی اور پڑھائی.اس سے میری بات کم ہی ہوتی تھی، کیوں کے وہ چار بجے کالج سے آتی تھی ، ایکسٹرا کلاسسز لے کر اور پھر رات دیر تک اپنے روم میں سٹڈی کرتی رہتی تھی




    جس عمر میں لڑکیاں جسٹن بیبر کا پوسٹر اپنی کپبورڈ پہ لگاتی تھی ، اس عمر میں ردا نے آئنسٹائن کی پینٹنگ اپنے روم میں لگائی ہوئی تھی.وہ ڈاکٹر بننا چاہتی تھی، وہ تھی بھی ڈاکٹر میٹریل.ڈاکٹری کی موٹی موٹی کتابیں وہ اپنے دماغ میں آسانی سے ہڑپ کر سکتی تھی.اسکی کوئی ایکسٹرا ایکٹیوٹی نہیں تھی، وہ ایسی تھی کے اسے ابو کی سختی کی بھی ضرورت نہیں تھی.ہاں ابو کی سختی کی کسی کو ضرورت تھی تو وہ ہم دونوں تھے ، یعنی میں اور زویا آپی.ہمارا پڑھائی میں کچھ خاص دل نہیں لگتا تھا.زویا آپی کا اور میرا ایک شوق کامن تھا ، وہ تھا موویز دیکھنا .ہم دونوں اپنے اپنے لیپ ٹاپ پے جب موقع ملے موویز دیکھتے تھے.ہالی ووڈ ہو ، یا لولی ووڈ، یا ہو بالی ووڈ ، ہم کوئی مووی نہیں چھوڑتے تھے.وہ اپنے لیپ ٹاپ پہ موویز ڈاون لوڈ کر کہ دیکھتی تھی اور میں اپنے.ہم اکثر ایک دوسرے کو موویز دیکھنے کے لئے بھی دیتے تھے.ہم دونوں کا سب سے بڑا شوق کامن ہونے کی وجہ سے ہم دونوں میں بہت دوستی تھی.جو بھی پہلے کوئی نیو مووی دیکھ لے، وہ پھر دوسرے کو اس مووی کے بارے میں بتاتا تھا، پھر ہم خوب اس موی پہ ڈسکس کرتے تھے



    زویا آپی اور لبنیٰ باجی کی آپس میں بلکل نہیں بنتی تھی، یہ کہنا مناسب ہو گا کہ شاید وہ ایک دوسرے کی جانی دشمن تھی.اس دشمنی کا سبب عابد بھائی تھے.عابد بھائی ہماری خالہ کہ بیٹے ہیں.زویا آپی انھیں بچپن سے پسند کرتی تھی.پر عابد بھائی لبنیٰ باجی ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے.ہلا کے زویا آپی باجی سے زیادہ پیاری تھی(یہ نہیں کے باجی کم خوبصورت تھی)، پر دل پہ کسی کو اختیار تھوڑی ہوتا ہے.زویا آپی کا ماننا تھا کہ باجی نے ان سے انکی محبّت چھینی ہے ، اور باجی کو یہ غصّہ تھا کہ زویا کیوں ان سے انکی محبّت چھیننے پہ تللی ہوئی ہے.کیوں کے آپی اب بھی عابد بھائی سے پیار کرتی تھی.سو یہ دونوں بہنیں اس بناہ پر ایک دوسرے سے شدید نفرت کرتی تھی




    اب میں تھوڑا گھر کا نقشہ سمجھا دوں آپ کو.ہمارا گھر شہر کہ ایک مہنگے ایریا میں ہے.تقریباً پندرہ کنال پہ بنا ہے ہمارا گھر.(اچھے وقتوں میں دادا جان نے یہ زمینلے لی تھی، جس پہ ابو نے گھر بنا لیا، ورنہ آج کہ وقت اس زمین کی قیمت دیکھی جائے تو ابو کبھی اتنی بڑی رقم گھر کی زمین خریدنے کہ لئے نہ لگاتے).انٹری گیٹ اونچا مضبوط، اس سے اندر داخل ہوں تو پیارا سا ڈرائیو وے، جس کے دونوں طرف فلیٹ گرین گراس بچھی تھی.چار دیواری کے ساتھ ساتھ درخت اور پودے لگے تھے، ڈرائیو وے کشادہ سے پورچ تک رہنمائی کرتا تھا.پورچ کی چھت دو بارعب ستونوں پہ ٹکی تھی.ایک خوبصورت سا بڑا دروازہ خوبصورت سے ڈیزائن والا، اس سے اندر گھر میں داخل ہوا جاتا تھا.داہیں ہاتھ پہ ایک دروازہ تھا ، جس سے ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے تھے.ڈرائنگ روم قیمتی فر نیچر سے آرستہ تھا.ایک بڑی سی ونڈو ڈرائنگ روم میں لگی تھی ، جس کا رخ لان کی طرف تھا ، جس سے چار دیواری تک لان کا ویو کیا جا سکتا تھا.ڈرائنگ روم کے سامنے ڈائننگ روم کا دروازہ تھا.وہاں بھی ڈرائنگ روم کی طرح ایک ونڈو تھی لان کہ سیکنڈ ویو کہ لئے.ڈائننگ بھی ڈرائنگ کی طرح عمدہ سجا ہوا تھا





    ڈائننگ میں ایک دروازہ اور بھی تھا جو گھر کے اندر لیونگ ایریا میں کھلتا تھا.ڈرائنگ اور ڈائننگ کہ بیچ ایک راہداری سی تھی.اس سے گذرتے ہوے ایک دروازہ کراس کر کے لیونگ ایریا میں داخل ہوا جاتا تھا.لیونگ ایریا کافی کھلا تھا.وہاں یو کی شیپ میں ایک دوسرے سے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر صوفے لگے تھے.اگر اس یو کے درمیان میں آ کر بیٹھا جائے تو بلکل سامنے دیوار پر ایک بہت بڑی ٹی وی سکرین لگی تھی.لیونگ کے ساتھ کچن تھا.اور ساتھ میں امی ابو کا روم تھا.لیونگ کی ہی سائیڈ سے اوپر کو سیڑیاں جاتی تھی.اوپر چار رومز تھے.(سیڑیاں اوپر والی منزل کے درمیان میں جا کر ختم ہوتی تھی).اوپر والی منزل کے ایک کونے میں میرا روم تھا، میرے کہ ساتھ دوسرے کونے میں زویا آپی کا روم تھا، باجی کا روم اس منزل کے تیسرے اور اسکے سامنے چوتھے کونے میں ردا کا روم تھا.ہمارے گھر میں گراؤنڈ اور پہلی منزل کی چھتیں بہت اونچی تھی، ہمارے رومز کھلے کھلے تھے.گھر کی بیک پر سرونٹ کوارٹر تھے جس میں ہمارا ڈرائیور اور گھر کے کام کاج کے لئے ایک سرونٹ بھی رہتا تھا



    اب آتے ہیں کہانی کی طرف



    رات کو جب مجھے اندازہ ہو جاتا تھا کے سب سو گے ہوں گے تو میں اپنے روم میں سموکنگ کرتا تھا.روم کی لائٹس آف کر کے ، پردے جو کے کافی اونچائی سے نیچے کو آتے تھے انہیں ہٹا کے ، ( ونڈوز کافی بڑی تھے ہمارے رومز کی.میرے اور زویہ آپی کے روم کی ونڈوز کا رخ لان کی طرف تھا ، اور لبنیٰ باجی اور رداء کے روم کی ونڈوز کا رخ گھر کی لیفٹ اور رائٹ سائڈ پہ تھا ) اسے کھول کے ، اُس کے پاس کھڑے ہو کہ، سموکنگ کرتا تھا ، تاکے سارا دھواں باہر کو جائے



    میری گرل فرینڈ کا نام سدرہ تھا ، سدرہ فیئر رنگ والی تھی.جسم بھی کافی دلکش تھا اسکا.وہ ہمارے ساتھ کو لے کہ بہت سنجیدہ تھی.یوں کہہ لیں کے میں اسکے ساتھ ابھی اتنا انولو نہیں ہوا تھا ، جتنا وہ میرے ساتھ ہو چکی تھی، پر میں شو یہی کرتا تھا کے میں بھی شدید انولو ہوں اسکے ساتھ.ورنہ جتنا مزے وہ دے رہی تھے وہ مزے مجھے اور کون دیتا




    جب سے میرے ڈک نے آنکھیں کھولی تھی، میں تب سے ایک انسسٹ لور تھا.جتنا مزہ مجھے اپنی بہنوں کو سوچ کےآتا تھا،اتنا مزہ مجھے کسی اور لڑکی میں نہیں آتا تھا.ویسے تو مٹھ چلتی تھی، پر دِل سے مٹھ صرف میں اپنی بہنوں کے نام کی مارتا تھا.میری زندگی کی بس ایک ہی خواہش تھی کے میری بہنیں اپنا جسم مجھے سونپ دیں.میں جانتا تھا کے ایسا ممکن نہیں ہے ، پر ، دِل کا کیا کریں صاحب.میرے پاس ایک ڈرائیو تھی، جس میں میں نے انسسٹ موویز کی کلیکشن رکھی ہوئی تھی.میری بہنیں جب گھر میں میرے سامنے اٹھتی بیٹھی تو دماغ ، ھائے ھائے کیا بتاؤں، میرا دماغ کچھ لمحے کے لیے سن ہو جاتا، دِل کرتا پکڑ کے گرا لوں اور سیکس شروع کر دوں انکے ساتھ.پر میں جانتا تھا کے ایسے گندے خیالات صرف میرے دماغ میں ہیں، اِس قسم کی کوشش کہ بعد میں ہوں گا اور ابو کے ریوالور سے نکلی گولی ہو گی.شروع شروع میں مجھے شرم آتی اپنی بہنوں کا سوچ کے، پر جب مزہ حاوی ہوا شرم پہ تو، پھر سب اچھا اچھا لگنے لگا.میرے خیالوں کی ایک دنیا تھی، وہ دنیا میں نے کبھی کسی سے شیئر نہیں کی تھی اور نہ ہی کر سکتا تھا.اس دنیا کا میں شہزادہ تھا اور شہزادیاں میری بہنیں تھی.اس دنیا میں میرے علاوہ صرف میری بہنوں کو آنے کی اِجازَت تھی





    میں سدرہ کے ساتھ سیکس کر چکا تھا، جو کے میری زندگی کا پہلا سیکس تھا، مزہ بہت آیا ، پر اک کمی سی تھی، جو بہت شدت سے محسوس ہوئی





    سدرہ مجھے خوش کرنے کے لیے ہر حد سے گزر جانے کو تیار تھی( سدرہ میری کلاس فیلو بھی تھی).ہم تقریباً ہر رات کو فون سیکس کرتے تھے، کیوں کے طبیعت کی وہ بھی سپر ہاٹ تھی اور میں بھی( کیا کروں پانی کہی تو نکلنا تھا نہ مجھے).حقیقی سیکس کا موقع بہت کم ملتا تھا ہم دونوں کو






    ایک رات میں کچھ زیادہ ہی جذباتی ہو گیا، روم کی لائٹ بند تھی، ونڈو کھلی تھی، میں بیڈ پہ لیٹا سدرہ کے ساتھ فون سیکس کر رہا تھا اور ساتھ سگریٹ پی رہا تھا، میرا خفیہ ایش ٹرے میرے ساتھ سائڈ ٹیبل پہ رکھا ہوا تھا.میرا ڈک ٹراوزر سے باہر تھا، باقی میرا جسم شرٹ اور ٹراوزر سے کور تھا. میں نے کروٹ بدلی ہوئی تھی، کہ اچانک مجھے پیچھے سے لبنیٰ باجی کی آواز آئی، اوے یہ کیا کر رہے ہو.( میں روم کا ڈور لاک کرنا بھول گیا تھا) میں یکدم بیڈ سے اچھل کے فرش پہ کھڑا ہو گیا ، میرا ڈک واپس ٹرؤزر میں جا چکا تھا، کال میں نے کٹ کر دی، پیچھے مڑا تو لبنیٰ باجی حیران پریشان کھڑی مجھے دیکھ رہی تھی، ایسے جیسے انہیں اس منظر پہ یقین نہ آ رہا ہو جو انہوں نے دیکھا ہے.میں نے شرمندہ شرمندہ سے ہوتے ہوئے سگریٹ بجھایا، اور نیچے دیکھنے لگا






    لان کی لائٹس آن رہتی تھی، ان لائٹس کی ہلکی روشنی روم میں بھی آ رہی تھی


    باجی بولی . .یہ سگریٹ کی عادت کب سے لگی ہے تمہیں


    میں . . بس آج ہی فرسٹ ٹائم پی رہا ہوں


    باجی . .جھوٹ مت بولو ، میں کوئی بچی نہیں ہوں


    میں . .نیکسٹ ٹائم نہیں پیوں گا ، سوری



    باجی کچھ نہ بولتے ہوئے، آگے بڑھی اور میرا موبائل چارجر لے کر روم سے چلی گئی(انکا چارجر خراب ہو گیا تھا اِس لیے )





    میرے جسم سے جان سی نکل چکی تھی، میں بیڈ پہ جا گرا، ایک گہری سانس لی اور چھت کی طرف دیکھنے لگا.میں شروع سے ہی چاہتا تھا کے میں اپنی بہنوں کے سامنے ننگا ہو جاؤں، پر یوں جب میرا پردہ فاش ہوا تو میں شرمندہ سا ہو گیا.باجی کیا سوچ رہی ہوں گی میرے بارے میں؟ ؟سارے امیج کی ماں بہن ہو گئی تھی






    کچھ دن گھر پہ باجی کو فیس کرتے ہوئے شرم سی محسوس ہوتی مجھے.ان دنوں میں انہوں نے بھی میرے ساتھ بات چیت نہیں کی.انکے چہرے کی طرف دیکھتا تو وہ بھی مجھے الجھی الجھی سی لگتی.پھر آہستہ آہستہ وہ اور میں نارمل گپ شپ کرنے لگے.ایک رات میں اپنے روم میں سو رہا تھا کہ، ڈور پہ دستک ہوئی، میں نے اٹھ کر ڈور اوپن کیا تو سامنے لبنیٰ باجی کھڑی تھی، وہ بولی. . کچھ بات کرنی ہے





    میں سائڈ پہ ہو گیا اور وہ میرے روم میں داخل ہو گئی، انہوں نے پردے ہٹا دیے، ہلکی ہلکی روشنی پھر سے روم میں آنے لگی



    میں تھوڑا پریشان ہو گیا اور بولا. .خیریت ہے نہ سب


    انکے چہرے پر سنجیدگی تھی وہ بولی. .ہاں سب خیریت ہے



    جیسا کے میں نے بتایا تھا کے ہمارے رومز بہت کھلے کھلے تھے، میرے روم میں داخل ہوں تو سامنے ہی بیڈ لگا تھا.بیڈ کی بیک پہ جو دیوار تھی، اُس پہ ایک بڑی سی خوبصورت پینٹنگ لگی تھی، سائڈ ٹیبلز پر لیمپ رکھے ہوئے تھے.بیڈ کے ساتھ کافی جگہ چھوڑ کر لیفٹ سائڈ پر ونڈو لگی تھی.بیڈ کے پاؤں والی سائڈ پہ کافی جگہ چھور کے دیوار کے ساتھ سنگل سیٹر دو صوفے لگے تھے، ان صوفوں کے بیچ ایک چھوٹا ٹیبل اور اُس پہ ٹیبل لیمپ رکھا ہوا تھا.صوفوں والی دیوار میں ہی ایک سلائیڈنگ ڈور تھا، جو میرے ڈریسنگ روم اور باتھ روم میں جاتا تھا.ان صوفوں پہ اگر بیٹھا جائے تو رائٹ سائڈ پہ روم کی ونڈو اَتی تھی







    میں بیڈ کی بیک سے ٹیک لگا کر لیٹ گیا، باجی سامنے ایک صوفے پر بیٹھ گئی.میں کافی حد تک نیند سے باہر آ چکا تھا.میں انکی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا



    باجی کے چہرے پر سے اب سنجیدگی ہٹ چکی تھی، اب انکے چہرے پر جہجک دکھائی دے رہی تھی، وہ جہجکتے ہوئے بولی. .عاقب آج میں تم سے اپنا ایک راز شیئر کرنے آئی ہوں



    میرا دِل دھک دھک کرنے لگا.میں خاموش نیم دراز حالت میں انکی طرف دیکھتا رہا




    باجی . .عاقب میں بھی سموکنگ کرتی ہوں ، اب پلیز مجھے جج مت کرنا




    میں حیرت میں ڈوبا اٹھ کے بیڈ پہ بیٹھ گیا اور انکی طرف دیکھنے لگا، کافی دیر ہم ایک دوسرے کی طرف دیکھتے رہے، پھر میں بولا . .یہ مذاق ہے نہ ؟ ؟
    وہ بولی. .نہیں یہ سچ ہے






    میں انکی اِس کنفرمیشن کے بعد کچھ دیر کے لیے چُپ ہو گیا.جب کچھ دیر بعد میرے دماغ نے اِس حقیقت کو مان لیا تو میں مسکرانے لگا اور انکی جانب دیکھنے لگا، انکی کی بھی آنکھیں جو تھی وہ مسکرا رہی تھی
    میں نے اُن سے پوچھا. .پر آپ مجھے کیوں بتا رہی ہیں




    وہ بولی . . اِس لیے کے میں تنگ آ گئی ہوں سگریٹ چھپا چھپا کے.پہلے ابو کے چھپا کر پیتی تھی، پھر عابد کے چھپاتی رہی، اب پھر سے ابو کے چھپاتی ہوں.جب تمہارا اُس دن پتہ چلا تو مجھے جیسے سکون مل گیا کے، یار چلو اب مجھے اپنا پاٹنر مل گیا



    میں. .پر آپ اپنا سموکنگ پاٹنر عابد بھائی کو بھی تو بنا سکتی تھی نہ؟



    وہ بولی . . یار یہ رسک میں نہیں لینا چاہتی تھی، پتہ نہیں یہ جان کر وہ کیا سوچنا شروع کر دیتے میرے بارے میں




    میں . . تو پھر مجھ سے کیا سوچ کے شیئر کیا یہ راز؟ میں بھی تو آپ کے بارے میں برا سوچ سکتا تھا



    وہ. .یار ایک تو تم خود سموکنگ کرتے ہو، اوپر سے تم میرے بھائی ہو، ایک بات یاد رکھنا چھوٹے، جتنا انڈر سٹینڈ بھائی بہن ایک دوسرے کو کر سکتے ہیں نہ اتنا کوئی اور آپ کو نہیں کر سکتا





    میں فوراً بولا. .تُو آپ زویا آپی کو بھی انڈر سٹینڈ کریں نہ اور انکے ساتھ دوستی کر لیں



    باجی اچانک غصے میں آتے ہوئے بولی. .اس کمینی کا نام بھی مت لینا، وہ دوستی کے قابل نہیں ہے، سموکنگ کی بات اور ہے اور اسکی بات اور



    میں. .او کے او کے غصہ مت ہوں



    باجی. .اور تم بھی مت رکھو اسکے ساتھ دوستی، پتہ نہیں تمہیں کیا ملتا ہے اُس سے دوستی میں



    میں. .یار باجی ایک عابد بھائی والی بات کے علاوہ کیا برا لگتا ہے آپ کو ان میں



    باجی نفرت سے بولی. .کوئی اور بات کرو میں تو اسے ڈسکس بھی نہیں کرنا چاہتی


    میں . . اچھا باس، تو پھر ہو جائے ایک ایک سگریٹ؟



    باجی مسکرا پڑی. .ہاں یار بہت طلب ہو رہی ہے




    میں نے دِل میں سوچا کاش باجی کہہ دیتی کے اپنا ڈک نکالو ، بہت طلب ہو رہی ہے . . . . . پر ایسی قسمت کہاں تھی میری





    میں نے ڈریسنگ روم کے لاکر سے سگریٹ لائٹر اور ایش ٹرے نکالی، اور انکے ساتھ والے صوفے پہ آ کر بیٹھ گیا، اب وہ میرے لیفٹ سائڈ پہ تھی،ایش ٹرے میں نے ٹیبل پہ رکھا اور سگریٹ کا پیکٹ اور لائٹر انہیں دے دیا.انہوں نے ایک سگریٹ نکال کے پیکٹ مجھے دیا اور لائٹر سے سگریٹ جلایا اور دھواں اندر کھچا




    انکا یہ انداز دیکھ کہ بے اختیار میرے منہ سے نکلا. . پاپی ہے رے تو




    میرے یہ کہنے پر باجی ، جو کے ایک اور بار دھواں کھینچ چکی تھی، ہنس پڑی اور انہیں کانسی لگ پڑی



    کچھ دیر بعد جب وہ نارمل ہوئی تو مسکراتے ہوئے بولی. .بکواس نہ کرو




    میں . . او کے سوری سوری، بس رہا نہیں گیا آپ کا انداز دیکھ کر


    وہ. .اچھا تم بھی پیو نہ


    میں نے بھی سگریٹ جلایا اور ان سے پوچھا. آپ نے اُس دن جب مجھے سگریٹ پیتے دیکھا تھا تو تب ہی کیوں نہیں یہ راز مجھ سے شیئر کیا تھا




    باجی کی آنکھوں میں یکدم شرارت سی ابھری اور وہ بولی. .تب تم کسی اور کارنامے میں بھی جو مصروف تھے



    انکی اِس بات پہ میرا دِل کیا کے میں شرم سے ڈوب مروں. .میں نیچے دیکھ کر سگریٹ کے کش لگانے لگا، اور وہ دوسری طرف منہ کر کے مسکرانے لگی




    میں انکی اِس ہمت پہ تھوڑا حیران بھی ہوا ، کیوں کے میں یہ جواب بالکل بھی ایکسپیکٹ نہیں کر رہا تھا


    انہوں نے لاسٹ کش لیا، سگریٹ ایش ٹرے میں بجھایا اور بولی. .ونڈو کھول دو اور میں ایئرفریشینر دے جاتی ہوں وہ روم میں سپرے کر لینا
    وہ یہ کہتے ہوئے جب روم سے باہر جا رہی تھی تو میں نے ان کی جانب دیکھا، وہ ٹراوزر اور ٹی شرٹ میں کھلے بالوں کے ساتھ بہت ہاٹ لگ رہی تھی




    کچھ دیر بعد وہ آئی اور مجھے فریشینر دے گئی، جسے میں نے روم میں سپرے کیا اور ونڈو بھی کھول دی.کچھ دیر بعد میں نے ونڈو بند کر دی اور پردے آگے کر دیئے، اور بیڈ پہ آ کر لیٹ گیا.اور باجی کی کہی ہوئی بات پہ غور کرنے لگا کے کیا میرے اور باجی کے بیچ کچھ ہو سکتا ہے؟ ؟ انڈیریکٹ انہوں نے تو مجھے کہہ دیا ہے نہ کے بھائی صاحب تم مٹھ مارنے میں جو مصروف تھے.ان کا جسم اور ان کی یہ بات سوچتے سوچتے میرا ڈک کھڑا ہو گیا اور اسی کھڑے ڈک کے ساتھ باجی کی سوچوں میں گم میں سو گیا





    یوں میری اور باجی کی دوستی کا آغاز ہوا.اب ہم سموکنگ پارٹنر تھے.ہر رات بارہ سے ایک کے درمیان، جب ہمیں یقین ہو جاتا کے سب سو گے ہیں تو پھر میرے روم میں ہماری محفل جمتی.ہم ڈفرنٹ ٹوپکس پہ گپ شپ کرتے اور ساتھ میں سموکنگ کرتے.میں ویسے تو باجی سے بات کر رہا ہوتا پر اندر سے میں سوچ رہا ہوتا کے کاش کچھ ایسا ہو جائے کے میرے خواب پورے ہو جائیں
    Last edited by Cupid Arrow; 01-04-2018 at 12:43 PM.
    تری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے ؟؟؟ تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے
    لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجئے ، اب بھی دلکش ہے ترا حسن مگر کیا کیجئے ؟؟؟


    مسکرا کر خطاب کرتے ہو...عادتیں کیوں خراب کرتے ہو؟




  2. The Following 8 Users Say Thank You to Cupid Arrow For This Useful Post:

    abba (07-04-2018), abkhan_70 (01-04-2018), Admin (04-04-2018), ehaq14 (06-04-2018), justaghoost (01-04-2018), Story-Maker (19-04-2018), suhail502 (02-04-2018), sweetncute55 (01-04-2018)

  3. #2
    Cupid Arrow's Avatar
    Cupid Arrow is offline GoD Of LovE
    Join Date
    Mar 2010
    Posts
    1,051
    Thanks
    6,919
    Thanked 8,919 Times in 1,013 Posts
    Time Online
    2 Weeks 5 Days 8 Hours 19 Minutes 20 Seconds
    Avg. Time Online
    12 Minutes 7 Seconds
    Rep Power
    2024

    Default

    part 2


    ایک رات اسی ماحول میں ہم بیٹھے باتیں کر رہے تھے.مجھے کتنے ہی دنوں سے کوئی بہانہ نہیں مل رہا تھا کے باجی کو میں دوسری لائن پر لاؤں.کیوں کے جتنا بھی میں نے باجی کے ٹاپک پہ سوچا تھا مجھے یہ لگتا تھا کے اگر میں ہمت کروں تو باجی سے فرینک ہو سکتا ہوں.چانس پہ بات تھی اور انسسٹ کو لے کر اندر سے میں اتنا ہل چکا تھا کے یہ چانس میں لینے پر تیار تھا، باجی اگر میرے ساتھ وہ کارنامے والی بات کر سکتی تھی تو چانس تھا کے بات کچھ آگے بھی بڑھے



    میں نے ہمت سمیٹتے ہوئے ان سے کہا. .باجی پلیز اس دن جو آپ نے دیکھا تھا وہ بات آپ کسی سے نا کرنا




    پردے ہم نے ہٹاۓ ہوئے تھے اور لان سے ہلکی ہلکی روشی ہمیشہ کی طرح روم میں آ رہی تھی


    وہ مسکراتے ہوئے بولی. .میں نے کس کو بتانا ہے. پر وہ ہے کون جس سے بات کر رہے تھے؟

    میرا حلق خشک ہوا جا رہا تھا. .میری کلاس فیلو ہے

    باجی. .نام کیا ہے اسکا؟

    میں. .سدرہ

    باجی. .کوئی پکچر ہے اسکی؟

    میں نے موبائل میں سے ایک پک سیلیکٹ کی اور انہیں دکھائی


    انہوں نے میرے ہاتھ سے موبائل لیا، کچھ لمحے اسکی پکچر دیکھی اور مجھے موبائل واپس کر دیا


    باجی. .پیاری ہے سدرہ

    میں. .تھینک یو

    وہ. .اب تو میں روز روم میں آ جاتی ہوں تو کیا اس سے بات نہیں کرتے؟

    میں . . آپ کے جانے کے بعد بات کر لیتا ہوں

    وہ . . میں تو عابد کو کبھی ایسے ویٹ نہ کرواؤں


    میں نے انکی آنکھوں میں جہکتے ہوے کہا . . آپ کے لیے عابد بھائی امپورٹنٹ ہیں اور میرے لیے آپ امپورٹنٹ ہیں

    باجی نے مجھے لاڈ سے دیکھتے ہوئے کہا. . مسکے خوب مار لیتے ہو تم


    میں نے سنجیدہ لہجے میں کہا. . نہیں میں سچ کہہ رہا ہوں


    باجی . . اچھا مان لیا بھائی


    کچھ ماحول کا اثر تھا ، کچھ سگریٹ کا ، کچھ باتوں کی روانی تھی ، میں نے جیچکتے سمبھلتے ہوئے کہا . . آپ بھی عابد بھائی کے ساتھ فون پہ؟ ؟

    باجی نے کچھ سمجھ نہ آنے والے انداز میں پوچھا. .فون پہ؟ ؟



    میں. .فون پہ ، جو میں سدرہ کے ساتھ کرتا ہوں


    باجی شرما سی گئی اور بولی . . بہت کمینے ہو تم ، اپنی بہن سے کوئی ایسے سوال کرتا ہے




    مجھے ان کے شرمانے پر ، صرف کچھ حوصلہ نہیں ، بلکے بہت سارا حوصلہ ملا . . پلیز بتا دیں نہ ، دیکھیں میرے بارے میں بھی تو آپ کو کتنا پتہ ہے



    باجی . . ہاں کبھی کبھی

    میں نے دِل میں ہی اپنے آپ کو مبارک باد دی کے چلو کچھ تو حاصل ہوا . . کیا کبھی کبھی ؟ ؟




    وہ شرم سے لال ہوتے . . پہلے تم بتاؤ سدرہ کے ساتھ کیا کبھی کبھی؟ ؟




    میں ان کی اِس بات پے مسکرا پڑا . ہم دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے .




    میں بات بنتے دیکھ کے اب ہلکا ہلکا ٹن ہونے لگا. .میں پہلے اسے فیس پہ کس کرتا ہوں ، پھر وہ مجھے فیس پہ کس کرتی ہے ، پھر لپس پے ایک دوسرے کو کس کرتے ہیں ، ساتھ ساتھ میں اس کے بوبس پریس کرتا ہوں ( میری اور باجی کی آنکھوں میں لسٹ سا آنے لگا ) پھر اس کے بوبس پے کس کرتا ہوں ، پھر میں اپنا ڈک


    باجی اٹھتے ہوئے تھوڑی سی میٹھی آواز میں بولی ( سگریٹ انکے ہاتھ میں جل رہا تھا ) . . او کے میں جا رہی ہوں




    میرا موڈ اوف ہو گیا . . آپ نے بھی تو بتانا تھا نہ





    وہ دیکھنے میں یوں لگ رہی تھی ، جیسے ان کا مائنڈ پریزنٹ نہیں ہے. . بعد میں



    میں آف موڈ کے ساتھ. . آپ نے سگریٹ نہیں بجھایا



    وہ. .اوہ اچھا


    اور وہ سگریٹ بجھا کر چلی گئی


    میرا دِل بجھ سا گیا . انہوں نے میرے ساتھ بہت زیادتی کی تھی. پر میں کیا کر سکتا تھا، کبھی ہم انکی زیادتی کبھی اپنے کھڑے ڈک کو دیکھتے ہیں


    روم کو فریش کر کے میں بیڈ پے آ کر لیٹ گیا . میرا بگڑا ہوا موڈ آہستہ آہستہ یہ سوچ کے سہی ہونے لگا کے چلو بات یہاں تک تو پہنچی.میں سوچا کرتا تھا کے میں کبھی انسسٹ کو انجوئے نہیں کر سکوں گا.پر آج نوبت یہاں تک آ پہنچی تھی کے میں باجی سے اپنی سیکس لائف ڈسکس کر رہا تھا.اب بات یہاں تک آئی تو آگے کی بھی امید جاگی میرے اندر.راستہ مشکل لگ رہا تھا ، پر جو ہر وقت ایک مایوسی چھائی رہتی تھی وہ اب کم کم سی لگ رہی تھی




    اگلی صبح ناشتے پے باجی سے سامنا ہوا، ہم سب گھر والے ناشتہ کر رہے تھے کے باجی بولی . . عاقب آج شام کو میں نے کچھ شاپنگ کرنی ہے تم نے ساتھ چلنا ہے

    ابُو بولے. . بیٹا آپ ڈرائیور کے ساتھ جاتے ہو ہمیشہ ، آج عاقب کے ساتھ کیوں



    لبنیٰ باجی . .ویسے ہی ابُو ، چلیں کچھ مشورہ ہی ہو جاتا ہے شاپنگ میں

    ابُو . . تو پھر زویا کو لے جاؤ ساتھ ، یہ لڑکا کیا مشورہ دے گا

    ( ابُو کو آپی اور باجی والی ناراضگی کا نہیں پتہ تھا ، باقی ہم سب گھر والے جانتے تھے )



    لبنیٰ باجی . . نہیں ابُو میں عاقب کے ساتھ ہی چلی جاؤں گی



    ابُو . . او کے بیٹا جیسے آپ کی مرضی



    میں ناشتہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی تینوں بہنوں کو بھی دیکھ رہا تھا ، اور من ہی من سوچ رہا تھا کے کاش یہ تینوں مجھے مل جائیں ، انکے جسم کو میں کاٹ کھاؤں ، خاص طور پر اِس ردا کو تو میں نوچ ڈالوں

    شام کو میں اور باجی شاپنگ کے لیے نکلے



    میں کار ڈرائیو کر رہا تھا.ہمارے پاس تِین کارز تھی، ایک میری ایک اَبُو کی اور ایک گھر کے کام کاج کے لیے ، اور بہنوں کو کالج یونیورسٹی پک اینڈ ڈراپ کے لیے.اَبُو کو برانڈ نیو کارز کا شوق تھا.1 سال سے زیادہ وہ ان تنوں کارز میں سے کوئی نہ رکھتے تھے ، ہر سال تنوں کارز چینج کرتے تھے.ہمیں تھوڑی ہی دیر گزری تھے کے میں نے باجی سے گِلا کیا. .رات کو آپ نے بہت زیادتی کی میرے ساتھ



    باجی کے چہرے پر سمائل آ گئی. .یار جو تم نے بتایا، اسی طرح ہم بھی کرتے ہیں




    میں . . پھر بھی کیا کرتے ہیں ، کبھی کبھی؟




    باجی . . بہت ضدی ہو تم . اچھا وہ مجھے کس کرتے ہیں لپس پر ، پھر نیک پر ، پھر تھوڑا اور نیچے کس کرتے ہیں ، پھر وہ اوپر آ کے مجھے ہگ کر لیتے ہیں





    اور پھر وہ خاموش ہو گئی.انکی باتیں سن کے مجھے نشہ سا چڑھ چکا تھا.اب وہ باہر کی طرف دیکھ رہی تھی، میں نے ان کا ہاتھ اپنے لیفٹ ہینڈ سے پکڑا اور گیئر کے اوپر رکھ دیا اب ان کا ہاتھ گیئر کے اوپر تھا اور میرا ہاتھ انکے ہاتھ پر.جب جب گیئر میں لگاتا انکا ہاتھ دبنے ہوتا.انہوں نے بھی اپنا ہاتھ نہیں ہٹایا




    جب ہم اپنی منزل پر پہنچے تو ، انہوں نے اپنا ہاتھ ہٹایا اور کچھ دیر کے لیے سیٹ کی بیک پے اپنا سر رکھ لیا اور آنکھیں بند کر لی.پھر تھوڑی دیر بعد وہ کار سے باہر نکلی.میں بھی کار سے باہر نکلا اور ہم مال میں داخل ہوئے.باجی نے شاپنگ خوب کی اور مجھ سے بھی ہیلپ لی سلیکشن میں



    گھر واپس آ کر پھر رات تک ہماری کوئی بات نہیں ہوئی.رات کو جب وہ میرے روم میں آئی تو ہم ہر رات کی طرح بیٹھ کر سموکنگ کرنے لگے




    میں . . آپ سگریٹ کے سموک سے سرکل بنا لیتی ہیں؟



    وہ . . نہیں تو ، تم بنا لیتے ہو


    میں . . جی ، یہ دیکھیں بہت ایزی ہے



    پھر میں نے سموک منہ میں رکھ کے چھوٹے چھوٹے کافی سرکل باہر کو نکالے



    وہ. . واہ یار، اب بتاؤں پاپی کون ہے ؟



    میں . .ہاہاہا


    باجی . . مجھے بھی سکھاؤ ایسا کرنا



    پھر میں نے انہیں سرکل بنانے کا طریقہ بتایا.انہوں نے کافی دیر کوشش کی پر کامیاب نہ ہو سکی




    وہ . . میرا تو منہ تھک گیا ہے یار



    میں . . پاپی بنننے کے لیے پہلے بہت سے پاپ کرنے پڑتے ہیں




    باجی کھلکھلاتے چہرے کے ساتھ اچانک کسی سوچ میں پڑھ گئی اور پھر بولی. . میں ایک بات کرنا چاہتی تھی تم سے



    میں . . جی بولیں



    باجی . . یار میں بعد میں بہت گلٹ فیل کرتی ہوں ، تم سے وہ باتیں کر کے ، ایک تو تم میرے بھائی ہو ، اور عابد کے سوا میں نے کبھی ایسا نہیں کیا



    میں انہیں سمجھاتے ہوئے. .ہم اچھے دوست ہیں ، دوست ایک دوسرے سے سب کچھ شیئر کرتے ہیں ، تو اِس میں پھر گلٹ کہاں سے آ گیا



    وہ . . تو کیا تم یہ باتیں اپنی دوسری دوست کے ساتھ بھی کر سکتے ہو؟



    میں . . کون سے دوست ؟

    باجی . . وہ جسے تم آپی کہتے ہو



    میں . . نہیں باجی کیسی بات کرتی ہیں



    وہ. .اچھا تمہاری بیسٹ فرینڈ کون ہے وہ یا میں ؟



    میں . . پہلے وہ تھیں اب آپ ہیں


    وہ . . میں کیوں؟


    میں . . بیسٹ فرینڈ وہ ہوتا ہے جس سے انسان سب کچھ شیئر کرتا ہے ، جتنا میں نے آپ سے شیئر کیا ہے اتنا اُن نے کبھی نہیں کیا



    باجی کے چہرے پر خوشی جیسے ناچنے سی لگی



    انہوں نے اپنا ہاتھ آگے کر کے میرے گال پے رکھا اور کہا . .تم بھی میرے بیسٹ فرینڈ ہو



    سگریٹ انکی فنگرز کے بیچ ابھی بھی جل رہا تھا



    میری بہنیں گھر پے دن کے وقت زیادہ تر شلوار قمیض ہی پہنتی تھی، قمیض وہ جو گھٹنوں سے تھوڑی اوپر کو ہوتی تھی اور شلوار تھوڑی کھلی کھلی ہوتی تھی. اور رات کو کھانے کے بعد اپنے اپنے رومز میں جا کر سلیپنگ ٹراوزر اور ٹی شرٹ پہن لیتی تھی.ٹراوزر کبھی تھوڑے ٹائیٹ والے ، کبھی تھوڑے کھلے والے ، اور ایسے ہی شرٹس کبھی تھوڑی کھلی اور کبھی تھوڑی سی ٹائیٹ.



    ابھی باجی کا ہاتھ میرے گال پے ہی تھا کے سدرہ کی کال میرے موبائل پے آ گئی.باجی نے اپنا ہاتھ پیچھے ہٹا لیا.ہم دونوں کی نظر موبائل پے جا چکی تھی.میں نے ہاتھ بڑھا کر موبائل کو سائیلنٹ کر دیا



    باجی نے مجھے کہا. .کال اٹینڈ کرو



    میں. . نہیں بعد میں کال کر لوں گا اسے، یہ دوستی ٹائم ہے



    باجی. .کوئی بات نہیں تم اٹینڈ کرو



    انکے اسرار پر میں نے کال اٹینڈ کر لی



    میرے ہیلو کہنے پر سدرہ بولی . .سلام جناب


    میں . . سلام ، کیسی ہو ؟



    سدرہ . . میں ٹھیک تم کیسے ہو ؟



    میں . . میں بھی ٹھیک ، میں نے خود کال کرنی تھی نہ ، تم نے کیوں کر دی



    سدرہ . . مجھ سے انتظار نہیں ہو رہا تھا



    میں . . تم بند کرو فون میں بعد میں کرتا ہوں



    باجی نے مجھے ہاتھ سے اشارہ کیا کے بات کرو


    سدرہ . . پلیز یار آج مجھ سے ویٹ نہیں ہوتا

    میں . . کیوں آج خیریت ہے نہ ؟


    سدرہ . . آج میرا دِل کر رہا ہے کے تم مجھے کھا جاؤ



    میں..نہ میں کوئی بھیڑیا ہوں جو تمہیں کھا جاؤں .

    سدرہ . . کسی بھیڑیا سے کم بھی تو نہیں ہو تم



    باجی نے مجھے سْپِیکَر آن کرنے کا اشارہ کیا.میں نے سْپِیکَر آن کر دیا



    سدرہ . . یہ میرا بھیڑیا چُپ کیوں ہو گیا ہے ؟ ؟



    میں . . یار مجھ میں کیا ایسی بھیڑیا والی بات دیکھی ہے تم نے


    وہ. .یہ میرے جسم سے پوچھو ، جس کا تم نے برا حال کیا ہے


    باجی نے سگریٹ بہجاتے ہوئے ہلکی سی سمائل پاس کی

    میں اپنی عزت کا قیمہ ہوتے دیکھ شرمندہ اور ہاٹ دونوں ہونے لگا. ہاٹ اِس لیے کے باجی یہ سب سن رہی تھی

    میں . . سہی


    سدرہ . . میں بیڈ پے لیٹی ہوں ، میرے اوپر آؤ نہ


    میں نے باجی کی طرف دیکھا تو وہ نیچے دیکھنے لگی . انکی آنکھوں میں اب شرم آ چکی تھی


    میں . . آ گیا اوپر ، اب ؟



    سدرہ ہاٹ ہوتے ہوئے . . اپنے لپس میرے پاس لاؤ

    میں . . لے آیا

    سدرہ . . میں نے تمہارے لپس اپنے لپس میں لے لیے ، ہممم ہممما ، میرے بوبس پے کس کروں نہ



    میں . . ہممما ہمممما ، کر رہا ہوں تمہارے بوبس پے

    ( میں نے لفط بوبس پے زور دیا )

    سدرہ سیکسی سی آوازیں نکلتے ہوئے . . اُف اور کروں کس

    میں . . . ہمممما یہ لو



    سدرہ . . اُف آہ اپنا ڈک باہر نکالو ٹراوزر سے





    اِس سے پہلے کے میں اپنا ڈک باہر نکلتا ،باجی اٹھی اور جھکی نظریں جن میں لسٹ کی پرچھایاں تھی انہیں اٹھا کر مجھے دیکھتے ہوئے ہاتھ سے بائے کا اشارہ کرتے ہوئے روم سے باہر چلی گئی.میری سانسیں اٹکی ہوئی تھی، میں سوچ رہا تھا کے میں ڈک باہر نکالوں گا اور باجی اسے دیکھیں گی.وہ ڈک ، جس پر میں نے اپنی بہنوں کا نام لکھ رکھا تھا.پر ایسا نہیں ہوا اور وہ مجھے چھوڑ کر چلی گئی



    میں وہی بیٹھے ہوئے ہی سدرہ سے فون سیکس کرتا رہا اور پھر فارغ ہو کے اپنے بیڈ پر آ گیا اور اپنی بہنوں کے جسم کے پوشیدہ حصوں کا سوچتے سوچتے سو گیا




    اب جب بھی باجی رات کو روم میں اَتی، ہم گپ شپ اور سموکنگ کرتے اور پھر میں خود ہی سدرہ کو کال ملا لیتا.میں اور سدرہ فون سیکس کرتے اور باجی بیٹھی سنتی رہتی، پر جوں ہی بات ڈک نکالنے پر اَتی وہ اٹھ کر روم سے چلی جاتی




    وقت کی ہوا میں وقت اڑتا جاتا ہے ، سو اڑ رہا تھا یہ وقت ، گزر رہا تھا یہ وقت ، اسے آج تک کوئی روک تھوڑی میں پایا ہے




    ایک دفعہ ابُو کے دوست کی بیٹی کی شادی تھی، ہم سب مہندی کی رات کو تیار ہو کے نیچے لیونگ میں اگھٹے ہو رہے تھے.ہم سب آ گے پر ردا نہیں آئی




    ابُو..یہ ردا کیوں نہیں آ رہی


    امی . آپ کو تو پتہ ہے نہ کے وہ کہی نہیں جاتی ، اس نے انکار کر دیا ہے ، کے میری سٹڈی کا حرج ہوتا ہے


    ابُو. .پر سمیر (ابُو کے دوست) نے خاص کہا تھا کے سب کو لے کر مسٹ آنا ، اب بری بات ہے کے ردا نا جائے



    امی نے آپی سے کہا. .ردا کو کہو کے تیار ہو کے نیچے آئے فوراً


    آپی چلی گئی اور تھوڑی دیر بعد واپس آئی اور بولی. .آئنسٹائن کا بالکل موڈ نہیں تھا،جب ابُو کا بولا تو مانی


    ہم سب صوفون پر بیٹھے ہوئے تھے،آپی کی بات سن کر میں اور امی مسکرا دیئے ، ابُو ٹی وی کی طرف ہی متوجو رہے اور باجی نے تو جیسے اگنور ہی کر دیا زویہ آپی کی بات کو


    آپی اور باجی فل میک اپ میں تھی اور بہت پیاری لگ رہی تھی، خوبصورت سے ڈیزائن کی قمیضیں اور نیچے ٹائیٹ ٹراوزرز پہن رکھے تھے انہوں نے


    تھوڑی دیر گزری اور ردا سیڑیوں سے نیچے اترتے ہوئے دکھائی دی.اس نے میک اپ بالکل نہیں کیا ہوا تھا.اسے میک اپ کی بلکل بھی ضرورت نہیں تھی.اسنے وائٹ قمیض جس پر وائٹ موتیوں کا کام ہوا ہوا تھا، اور نیچے پنک ٹائیٹ شلوار جو کے اینکل سے معمولی سی اوپر تھی، پہن رکھی تھی، قمیض نے بمشکل ہپس اور رانوں کو کور کیا ہوا تھا. پنک دوپٹہ گلے پہ ڈال رکھا تھا.ہیئر سٹائل بہت پیارا سا بنا رکھا تھا، ردا کے ہئیرز کی لینتھ کافی زیادہ تھی ،یعنی ہپس سے تھوڑا اوپر تک.ڈارک برائون بڑی بڑی خوبصورت آنکھیں تھی اسکی، ملایم مناسب سے گال ، پیاری سی ناک، خوبصورت سا ماتھا، پیارے پیارے کان ، لپس گلابی ، لپس کی اوٹر لائن کمال کی تاراشی ہوئی ، گردن ایسی جیسے دودھ کا رنگ بھی شرما جائے ، بوبس تندرست، بہت موٹے بھی نہیں ، نیچے پتلی سی کمر اور اس سے نیچے صحت مند رانیں اور صحت مند ہپس ، ہپس موٹے تھے گول ، باہر کی جانب نکلے ہوئے تھے، نیچے سمارٹ سی لیگز اور بھری بھری پینڈلیاں تھی ، پاؤں خوبصورت خوبصورت، پاؤں کی انگلیاں لمبی لمبی یعنی اتنی بھی لمبی نہیں درمیانی سی.بازو سمارٹ سمارٹ سے اور پیارے سے نازک ہاتھ اور پیاری پیاری انگلیاں.گلابی اور سفید رنگ کا ملاپ تو تھی ہی وہ، یوں لگتا تھا یہ رنگ بننے ہی اسکے لیے ہیں لگتا تھا یہ دنیا بننی ہی اسکے لیے ہے ، لگتا تھا میں اِس دنیا میں آیا ہی اسکے لیے ہوں ، یوں لگتا تھا جیسے پریاں بھی اسکے حسن کو دیکھ کر دنگ تھی.وہ سیڑیوں سے نیچے اتر رہی تھی ، پر یوں لگتا تھا جیسے وہ سیڑیوں سے نیچے لیونگ میں نہیں بلکہ سیدھا میرے دِل میں اتر رہی ہے.دِل کیا، اپنا یہ دِل بچھا دوں اسکے پیروں کے نیچے، اسکے قدم زمین پر نہیں جیسے میرے دِل پے چل رہے تھے ،میرے دِل کی دھڑکن میرے اختیار میں کہاں تھی اب وہ دھک دھک کیے جا رہی تھی ، میں ارد گررد سے بےخبر سا ہو چکا تھا


    ابُو نے ردا کو آتے دیکھا تو بولے . .میرا بچہ بہت پیارا لگ رہا ہے



    ابُو ردا کے پاس آنے پر اُٹھے اور اسے ایک سائڈ سے سینے سے لگا لیا اور بولے. . چلو اٹھو نکلتے ہیں


    ردا سب سے چھوٹی ہونے کی وجہ سے ابُو کی لاڈلی تھی، پر ابُو اپنی سنجیدہ اور سخت طبیعت کی وجہ سے یہ بات کم ہی ظاہر کرتے تھے


    ہم لوگ ڈرائیور کا یوز صرف گھر کے کاموں کے لیے یہ پھر کسی بہن یا امی نے کہی جانا ہو تب ہی کرتے تھے ، فنکشن یا کہی گھومنے جانا ہو تو ہم لوگ ڈرائیور یوز نہیں کرتے تھے.امی ابُو زویہ آپی اور لبنہ باجی ایک کار میں بیٹھ گے ، ردا میری کار میں بیٹھ گئی




    میرے سینسز جو مجھ میں سے کہی جا چکے تھے اب آہستہ آہستہ واپس آنے لگے .اسکے بدن کی خوشبو میں محسوس کر رہا تھا.وہ میرے ساتھ بیٹھی تو مجھے یوں لگا کے میری کار کی یہ سیٹ بنی ہی اسکے لیے ہے ، یعنی بنی ہی میرے ساتھ بیٹھنے کے لیے ہے



    میں اسکے حسن کے سحر سے ابھی نکلا ہے کہاں تھا. .ردا بہت پیاری لگ رہی ہو

    ردا مسکراتے ہوئے. .تھینک یو بھیا، آپ بھی بہت ہینڈسم لگ رہے ہیں.

    میں گرے کلر کے سلم فٹ تھری پیس سوٹ میں تھا

    میں . . تھینک یو ، ویسے تم روز ہی پیاری دیکھتی ہو پر آج ایسے تیار تمہیں پہلی بار دیکھا ہے


    ردا . . جی میں آنا تو نہیں چاہ رہی تھی ، پر ابُو کے غصے سے ڈر لگتا ہے


    ہم یوں ہے باتیں کرتے رہے اور منزل کب آئی پتہ نہیں چلا. . شاید جو آپ کو اچھا لگنے لگتا ہے اس کے ساتھ وقت کا پتہ نہیں چلتا

    شادی والے گھر خوب ہلا گلا تھا پر میں سب سے چوری چوری ردا کو ہی دیکھتا رہا.محفل میں سب سے حَسِین وہی لگ رہی تھی.پھر جب فنکشن ختم ہوا تو ہم لوگ گھر آ گے


    باجی اندازاً سب کے سو جانے کے بعد میرے روم میں آ گئی. ہم سموکنگ کے ساتھ گپیں لگا رہے تھے کے وہ بولی. .آج تم ردا کو کیا منہ کھول کھول کے دیکھ رہے تھے


    میں انکے اِس اچانک سوال پے بھوکھلا گیا . . نہیں تو ایسی کوئی بات نہیں ، آپ کو ایسا کیوں لگا؟

    باجی . . اچھا ، او کے ویسے ہی میں نے نوٹ کیا


    میں کچھ سنبھل گیا تھا. .جی باجی ویسے ہی لگا ہو گا آپ کو

    پھر جو روز ہوتا تھا وہی ہوا ڈک نکلنے سے پہلے ہی وہ چلی گئی.اور میں سدرہ کے ساتھ مٹھ مار کر بیڈ پے آ لیٹا.نیند بڑی مشکل سے آئی ، بس ردا کا چہرہ آنکھوں کے سامنے گھومتا رہا
    تری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے ؟؟؟ تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے
    لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجئے ، اب بھی دلکش ہے ترا حسن مگر کیا کیجئے ؟؟؟


    مسکرا کر خطاب کرتے ہو...عادتیں کیوں خراب کرتے ہو؟




  4. The Following 5 Users Say Thank You to Cupid Arrow For This Useful Post:

    abba (07-04-2018), ehaq14 (06-04-2018), Irfan1397 (01-04-2018), Story-Maker (19-04-2018), sweetncute55 (01-04-2018)

  5. #3
    Cupid Arrow's Avatar
    Cupid Arrow is offline GoD Of LovE
    Join Date
    Mar 2010
    Posts
    1,051
    Thanks
    6,919
    Thanked 8,919 Times in 1,013 Posts
    Time Online
    2 Weeks 5 Days 8 Hours 19 Minutes 20 Seconds
    Avg. Time Online
    12 Minutes 7 Seconds
    Rep Power
    2024

    Default

    part 3



    اب تو میری نظروں کو بس ہر وقت ردا کی تلاش رہتی.پر وہ نظر کب آتی تھی ، بس یا تو صبح کے ناشتے پے یا رات کے کھانے پر.باقی یا تو وہ کالج ہوتی یہ اپنے روم میں سٹڈی کر رہی ہوتی.وہ کہتے ہیں، جب موقع بن نہ رہا ہو تو موقع بنانا پڑتا ہے.دوپہر کو جب میں یونیورسٹی سے واپس آیا تو ابو آفِس تھے اور باقی سب اپنے اپنے رومز میں تھے.میں اپنے روم میں گیا اور فریش ہو کے باہر نکلا اور ردا کے روم کی طرف بڑھا.ردا کے روم کے پاس پہنچ کے میں نےاسکے ڈور پہ دستک دی، کچھ دیر بعد اسنے ڈور اوپن کیا.پتہ نہیں کیوں دِل کی دھڑکن تیز ہو جاتی تھی اسے دیکھ کر


    ردا . . جی بھیا؟


    میں دھڑکتے دِل کے ساتھ. .کچھ نہیں ویسے ہی تم سے بات کرنی تھی



    ردا سائڈ پے ہوئی اور میں اندر داخل ہو گیا،اس نے ڈور بند کر دیا




    جتنی پیاری وہ تھی اتنا ہی اسکا روم پیارا سجا تھا.ہر چیز اپنی جگہ پر تھی.ہر چیز چمک رہی تھی جیسے ابھی ہی صاف کی ہو.روم میں ڈبل ٹیوب لائٹ آن تھی.جس وجہ سے بہت روشنی تھی.وہ کہتے ہیں کچھ لوگ اندھیرے میں روشنی کر دیتے ہیں، ہاں بالکل ویسی ہی تھی وہ ردا.اسکے روم میں جب داخل ہوں تو جو رائٹ سائڈ پے دیوار آتی تھی، اس کے ساتھ ہی پیارا سا بیڈ لگا تھا،بیڈ کی لیفٹ سائڈ پے ڈریسنگ ٹیبل تھا، جس پہ مختلف چیزیں جو لڑکیوں کے مطلقہ تھی، ترتیب سے رکھی ہوئی تھی.ڈریسنگ ٹیبل جس دیوار کے ساتھ رکھا گیا تھا اسی دیوار سے ایک ڈور ڈریسنگ روم اور باتھ روم کو جاتا تھا.بیڈ کے پاؤں والی سائڈ پے کافی جگہ چھور کے دیوار کے ساتھ ایک لمبا سا صوفہ لگا تھا، اسی صوفہ کی بیک پے ایک بڑی سے آئنسٹائن کی پینٹنگ لگی تھی.صوفے کے ساتھ رائٹ سائڈ پے تھوڑے سے فاصلے پر فرش پر کافی لمبا اور گول نمدا بیچھا تھا جس پر کشنز پڑے تھے اورکشنز پر لیپ ٹاپ رکھا ہوا تھا



    میں صوفے پر بیٹھ گیا اور وہ بیڈ پر چوکری مار کر بیٹھ گئی




    میری اور اسکی بات نا ہونے کے برابر تھی، کیوں کے اسکو فرصت ہی نہیں تھی سٹڈی سے کبھی.وہ تھوڑی کنفیوز بھی لگ رہی تھی کے یہ آج میں کہاں سے ٹپک آیا



    وہ. . جی بھیا؟؟



    میں. .یار کوئی خاص بات تو نہیں تھی، ویسے ہی میں سوچ رہا تھا کے ہماری کبھی بات ہی نہیں ہوتی، ایک ہی گھر میں ہوتے ہیں ، پھر بھی



    وہ سمائل دیتے ہوئے. .تھینک یو بھیا،بس اسٹڈی سے فرصت ہی نہیں ملتی.



    میں اب تھوڑا نارمل ہو چکا تھا. .تم بور نہیں ہوتی سٹڈی سے؟


    وہ. .میرا شوق ہے سٹڈی کرنا اِس لیے بور نہیں ہوتی، جیسے آپ موویز دیکھ کر بور نہیں ہوتے.



    میں مسکرا پڑا ، اس کی بات میں لوجک تھا




    میں. .پر جب میں بہت زیادہ موویز دیکھ لوں تب بور ہو جاتا ہوں




    وہ . . میرا گول مجھے بور نہیں ہونے دیتا، جب گول سامنے ہو تب اور زیادہ دِل کرتا ہے سٹڈی کا، اور مجھے اپنے گول سے محبت ہے



    میں . . تمھارا گول کیا ہے؟




    وہ. .ملک کے سب سے اچھے میڈیکل کالج میں ایڈمیشن.



    میں . . وہ تمہیں مل جائے گا، جتنی تم محنت کرتی ہو، اب بھی تمہیں نہ ملے تو کسے ملے



    وہ خوش ہوتے ہوئے. .تھینکس




    میں. .ویسے مجھے تمہاری بہت فکر ریتی ہے، تم سٹڈی کے علاوہ کچھ نہیں کرتی ، کبھی تھوڑی دیر ٹی وی ہی دیکھ لیا کرو، یا کوئی مووی ہی دیکھ لیا کرو، یوں سٹڈی کر کر کے پاگل نہ ہو جاؤ




    وہ ہستے ہوئے (اسکی ہسی بھی کیا تھی، آں دِل کو جیسے ٹھنڈک سی دے رہی تھی) آپ پریشان نہ ہوں میں نہیں ہوتی پاگل



    میں. .نہیں آج تم مجھ سے وعدہ کرو، کے تھوڑا ٹائم ریلکس ہونے کے لیے بھی نکالو گی




    وہ . . نہیں بھیا ایسا ممکن نہیں




    میں ناراضگی کی ایکٹنگ کرتے ہوئے. .پھر آج کے بعد مجھ سے بات مت کرنا




    وہ . . آپ پلیز ناراض تو مت ہوں نہ، آپ ویسے ہی پریشان ہو رہے ہیں، مجھے ہر وقت سٹڈی کرنا اچھا لگتا ہے



    میں. .او کے آج سے میں بات نہیں کروں گا



    وہ کچھ سوچتے ہوئے . . اچھا آپ کیا چاہتے ہیں؟





    میں . . سمپل ، میں تمہیں موویز دیا کروں گا، رات کو سونے سے پہلے، ایک موی مسٹ دیکھ کر سونا ہے




    وہ . . او کے میں کوشش کروں گی



    میں. .مجھے ناراض دیکھنا چاہتی ہو تو پھر کوشش کرنا، اگر نہیں تو پھر روز دیکھنا تو پڑے گا





    وہ ہستے ہوئے. .او کے بھیا جی او کے، روز دیکھوں گی اب خوش ہیں؟



    میں . . بہت خوش، تمہاری یو.ایس.بی کہاں ہے ؟





    وہ..لیپ ٹاپ کے ساتھ لگی ہے





    میں اٹھتے ہوئے . . او کے میں اسے لے کر جا رہا ہوں ، تھوڑی دیر میں واپس دے جاؤں گا موویز ڈال کے




    وہ بھی اٹھ کھڑی ہوئی ، میں نے یو.ایس.بی اتاری اور روم سے نکل گیا






    اپنے روم میں آ کر میں نے دو تِین لمبے لمبے سانس لیے اور سَر کو رائونڈ رائونڈ گھما کر ریلکس کیا.میں اپنے بیڈ پے جا بیٹھا اور بیڈ پے پڑا لیپ ٹاپ اٹھایا اور گود میں رکھ لیا.میں نے موویز سیلیکٹ کی، جو میں سہمجھتا تھا کے ردا پسند کرے گی، یو.ایس.بی میں شفٹ کر کے اٹھا اور اپنے روم سے نکل کر اسکے روم تک پہنچا.موویز جان بوجھ کر میں نے 2 ڈالی تھی، تا کے ان موویز کے بہانے ہماری گپ-شپ ہوتی رہے.دستک دینے پر جب اسنے ڈور اوپن کیا تو میں نے اسکی آنکھوں میں جہنکتے ہوئے کہا. .کل میں پوچھو گا مجھے بتانا پھر مووی کیسی لگی






    آنکھوں کی بھی تو ایک زُبان ہوتی ہے نہ، اگر آپ چاہیں تو ان آنکھوں سے اپنے دِل کی بات دوسرے کو کہہ سکتے ہیں.میری آنکھوں میں اسکے لیے ایک احساس تھا وہ احساس جس کا نام میم سے شروع ہوتا تھا وہ احساس جس کی بنا پر دنیا کا ہر شخص زندہ تھا، وہ احساس تھا جو اگر نا ہوتا تو پھر دنیا میں کرنے کو اور کیا ہوتا.اسکی آنکھوں میں میرے لیے شکریہ مہربانی کے جیسے لفظ تھے، اسے شاید اچھا لگا تھا، میرا اسکی یوں کیئر کرنا







    وہ میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی. او کے، ضرور بتاؤں گی




    میں پیچھے کو ہوا اور جانے لگا تب میرا اور اسکی آنکھوں کا رابطہ ٹوٹنے والا تھا، اچانک میں نے اسکی آنکھوں میں کچھ بدلتا ہوا دیکھا، ایسے جیسے اسکی آنکھیں میری آنکھوں میں کچھ تلاش سی کر رہی ہوں، پھر ایسے لگا جیسے میری آنکھوں کو سمجھ رہی ہوں



    پھر رابطہ ٹوٹ گیا اور میں اپنے روم میں واپس آ کر ڈور بند کر کے بیڈ پے گر گیا







    اسکی آنکھیں کیا چاہ رہی تھی؟کیا تلاش کر رہی تھی؟ کس کی کھوجھ میں تھی اسکی آنکھیں؟ کیا، کچھ کہنا چاہ رہی تھی اسکی آنکھیں؟ کچھ تو تھا ان میں.یہی سوچتے سوچتے انہیں سوالوں کے ساتھ رات ہو گئی اور ہم لوگ کھانے کی ٹیبل پہ جمح ہوئے.میں نے ردا کی طرف زیادہ نہیں دیکھا کیوں کے لبنیٰ باجی پہلے ہی مجھے نوٹ کر چکی تھی، اسلئے میں نے دِل پے پتھر رکھ کر اپنے آپ کو قابو کیا، ورنہ دِل کو چاہتا تھا وہ بیٹھی رہے اور میں دیکھتا رہوں اسے





    كھانا کھا کر میں نے تھوڑی دیر ٹی وی دیکھا تب تک جب تک ردا اوپر نہیں چلی جاتی، میں چور نظروں سے اسے تھوڑا تھوڑا دیکھتا رہا، کے اسکا دیدار ہے، تھوڑا بھی میسر ہے، دِل کو زندہ رکھنے کے لیے بہت ہے


    جب وہ اوپر چلی گئی تو میں بھی تھوڑی دیر بعد اوپر آ گیا.ابھی میں اپنے روم کی طرف بڑھ رہا تھا کے زویا آپی، جو کے کچھ ہی دیر پہلے اوپر آئی
    تھی اپنے روم کے ڈور کے پاس کھڑی تھی




    مجھے دیکھ کر بولی. .عاقب کدھر غائب ہو آج کل ، کوئی ملاقات نہیں





    میں نے دِل میں کہا (ردا کے خیالوں میں)پھر میں ان سے مخاطب ہوا. .میں نے کہاں جانا ہے




    وہ بولی. .آؤ نہ میرے روم میں




    میں انکے روم میں چلا گیا. .انہوں نے ڈور بند کر دیا. .انکا روم بھی کافی اچھا سجا ہوا تھا. .ہر چیز انکے اچھے ذوق کی گواہی دے رہی تھی.وہ بیڈ پے بیٹھ گئی اور میں بھی بیڈ کی دوسری سائڈ پے اوپر ہو کے بیٹھ گیا.وہ میری لیفٹ سائڈ پے تھی.ہم دونوں کے منہ ایک دوسرے کی طرف تھے، ہمارے ہاتھ ہیڈز کے نیچے اور کونیاں بیڈ پے تھی






    زویا آپی. .دوست آج کل کوئی گپ نہیں کوئی شپ نہیں



    میں. .بس آپی ٹائم ہی نہیں ملا اِس لیے




    وہ. .ہاں جی آج کل اپنی باجی کے لیے جو سارا ٹائم ہے تمہارا




    میں . . نہیں ایسا تو نہیں ہے





    وہ. .ایسا ہی ہے، شوپنگ پہ بھی ساتھ ساتھ ہاں






    میں. .وہ تو انہوں نے کہا، ورنہ میں تو نہ جاتا





    وہ. .تم نے مجھے کاکی سمجھا ہے کیا، اور تم بھی کاکا نہ بنو ، مان جاؤ کے اب وہ تمہاری مجھ سے زیادہ اچھی دوست ہے






    میں . . نہیں یار آپی کیسی بات کرتی ہو ، آپ میری اچھی دوست تھی اور ہمیشہ رہیں گی





    زویہ آپی بولی. .وہ تمہاری دوستی کے لائق نہیں ہے، اگر اس سے دوستی ہو رہی ہے تو مت کرو، سانپ پر بھروسہ کر لوں اس پر مت کرنا






    میں. .وہ بری نہیں ہیں، جو ہونا تھا وہ ہو گیا، اب آپ بھی بھول جائیں اور ان سے اچھے سے رہا کریں




    وہ پھانکارتی ہوئی بولی، انکے لہجے میں زہر بھر آیا تھا. .وہ بچ ہے بچ ، تم اسکا کہہ رہے ہو وہ بری نہیں ہے، دفعہ ہو جاؤ، اب تم اسکی سائڈ لوں گے میرے سامنے





    میں نے انہیں نارمل کرنے کی کافی کوشش کی پر وہ تھے کے بگڑ ہی گئی



    وہ. .جاؤ میرے روم سے اور آئندہ مجھے شکل نہ دیکھانا جاؤ اپنی باجی کے پاس





    میں جب کچھ نہ بن سکا تو اٹھا اور اپنے روم میں آ گیا.ان دونوں بہنوں کا کچھ نہیں ہو سکتا تھا، انکی فائٹ میں مجھے آویں ہی باتیں سننی پڑتی تھی.میں نے یہی سوچا کے آئندہ ان کے بیچ نہیں بولوں گا





    رات کو باجی جب روم میں آئی تو ہم نے سموکنگ شروع کی






    میں سیڈ لہجے میں بولا. .باجی آج میں نے شاید آپ کی وجہ سے اپنا ایک دوست کھو دیا





    باجی حیرت سے میری طرف دیکھنے لگی اور بولی. .کون سا دوست؟





    میں . .زویا آپی





    وہ بگڑتے ہوئے لہجے میں. .میری وجہ سے کیوں؟




    میں نے ساری بات انہیں بتائی






    وہ غصے میں. .تمہیں تکلیف کیا ہے آخر، چاہتے کیا ہو ، جب جانتے بھی ہو کے ہم ایک دوسرے سے نارمل نہیں ہو سکتی







    میں بھی تھوڑا غصے میں آ گیا. .مجھے اصل میں ایک پاگل کتے نے کاٹا ہے اِس لیے میں آپ دونوں کی دوستی کروانا چاہتا تھا






    وہ اپنے غصے کو قابو کرتے ہوئے بولی. . دیکھو یار اگر تم یہ چاہتے ہو کے میری تمہاری دوستی رہے تو یہ ٹاپک نیکسٹ مجھ سے ڈسکس مت کرنا، ورنہ تمہارا اور میرا راستہ الگ الگ ہے پھر





    میں بھی نارمل ہوتے ہوئے. .میں نے بھی یہی فیصلہ کیا ہے





    وہ. . گڈ ، اب کوئی اور بات کرو ، موڈ خراب کر دیا سارا






    میں شرارتی لہجے میں . . ابھی ٹھیک کرتا ہوں آپ کا موڈ





    وہ شرماتے ہوئے . . کمینے






    میں نے سدرہ کو کال ملائی. . الیک سالیک کے بعد جب ہم ہاٹ ٹاپک پر آئے تو سدرہ نے کہا. .وحشی درندے مجھے نوچ ڈالوں، میری عزت لوٹ لوں، نکالو اپنا ڈک






    لبنیٰ باجی اٹھنے لگی تو میرے رائٹ ہینڈ میں فون تھا میں نے لیفٹ سے انہیں پیچھے کی طرف دھکیلا اور صوفے کی بیک کے ساتھ دبا لیا.میرا ہاتھ انکے سینے اور گردن کے بیچ کے ایریا پر تھا





    سپیکر آن تھا میں نے دونوں صوفوں کے بیچ جو ٹیبل تھا اس پے موبائل رکھ دیا.باجی میری طرف دیکھنے لگی اور ہلکا ہلکا زور لگانے لگی اٹھنے کے لیے.پر میں نے انہیں اٹھنے نہیں دیا.میں نے رائٹ ہینڈ اندر ڈال کے اپنا ہارڈ ہوا ڈک باہر نکل لیا.باجی کی نظر میرے ڈک پر پڑی تو وہ صوفے کی بیک کے ساتھ جیسے ساکت ہو گئی.میرا ڈک بہت لمبا تھا اتنا لمبا کے جتنا نارمل ڈک نہیں ہوتا ، یوں جان لیں کے ایک ہاتھ جتنا لمبا، موٹی موٹی رگگیں اس پر نکلی ہوئی تھی، موٹا اتنا کے ہاتھ میں پورا پکڑا نہیں جاتا تھا اور کافی خوفناک شکل تھی اسکی.میں نے باجی کی طرف دیکھا تو وہ ڈری ڈری میرے ڈک کی طرف دیکھ رہی تھی.مجھے اک مزہ سا آہ گیا، کے وہ میرے ڈک کو یوں دیکھ رہی ہیں.میں نے اپنا ہاتھ جو ان پر تھا اسے ہٹا دیا.وہ بیٹھی رہی اور دیکھتی رہی اسے.میں نے مٹھ مارنا شروع کر دی اور سدرہ کو فون سیکس دیتا چلا گیا ، پھر وہ پوائنٹ آیا جب میرے ڈک سے سپرم کے اننبار سے نکلے.جب اسپرم نکلنا بند ہوئی تو میں نے صوفے کے ساتھ ٹیک لگا لی. باجی اٹھی اور مجھ سے بات کیے بغیر روم سے چلی گئی







    میں نے کچھ دیر سدرہ سے بات کی اور پھر فون بند کر دیا.مجھے اتنا مزہ آیا تھا کے میں نے ریلکس کرنے کے لیے ویسے ہی آنکھیں بند کی تو وہی پے سو گیا، پھر کہی آدھی رات کو جاگ کے بیڈ پے آیا اور وہاں سویا







    dosto yeh parts ap ko kesay lagay zarur bataye ga...
    تری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے ؟؟؟ تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے
    لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجئے ، اب بھی دلکش ہے ترا حسن مگر کیا کیجئے ؟؟؟


    مسکرا کر خطاب کرتے ہو...عادتیں کیوں خراب کرتے ہو؟




  6. The Following 10 Users Say Thank You to Cupid Arrow For This Useful Post:

    abba (06-04-2018), abkhan_70 (02-04-2018), ambitiousguy (02-04-2018), curves.lover (08-04-2018), ehaq14 (06-04-2018), Irfan1397 (01-04-2018), Mirza09518 (02-04-2018), Story-Maker (19-04-2018), suhail502 (02-04-2018), sweetncute55 (01-04-2018)

  7. #4
    us_man00 is offline Khaas log
    Join Date
    Jul 2016
    Age
    22
    Posts
    75
    Thanks
    0
    Thanked 92 Times in 52 Posts
    Time Online
    1 Day 23 Hours 54 Minutes 8 Seconds
    Avg. Time Online
    4 Minutes 31 Seconds
    Rep Power
    10

    Default

    Boht he shandar or lajawab... Kya kamal lekha ha...

  8. The Following User Says Thank You to us_man00 For This Useful Post:

    Cupid Arrow (01-04-2018)

  9. #5
    imran200516 is offline Premium Member
    Join Date
    Apr 2012
    Location
    saudi Arabia
    Age
    31
    Posts
    96
    Thanks
    47
    Thanked 180 Times in 72 Posts
    Time Online
    3 Days 16 Hours 46 Minutes 41 Seconds
    Avg. Time Online
    2 Minutes 26 Seconds
    Rep Power
    16

    Default

    کیا تھا یہ سکیس فورم کی کوئی کہانی یا پھر خواتین میگزین کی کہانی؟؟؟.مجھے لگتا ہے کہ رائٹر نے تین عورتیں تین کہانیاں کو کاپی کیا ہے

  10. #6
    saamrocky's Avatar
    saamrocky is offline Premium Member
    Join Date
    Feb 2013
    Location
    Pakistan
    Age
    28
    Posts
    95
    Thanks
    129
    Thanked 114 Times in 60 Posts
    Time Online
    4 Days 20 Hours 41 Minutes
    Avg. Time Online
    3 Minutes 42 Seconds
    Rep Power
    16

    Default

    Boht Hi kamal ky bas chaaa gaye ho jani. aur intzar mat karwao sabar nahi ho raha next update ka
    Rocky

  11. The Following User Says Thank You to saamrocky For This Useful Post:

    Cupid Arrow (01-04-2018)

  12. #7
    raza12345's Avatar
    raza12345 is offline Aam log
    Join Date
    May 2010
    Location
    islamabad
    Posts
    1
    Thanks
    0
    Thanked 1 Time in 1 Post
    Time Online
    1 Day 16 Hours 13 Minutes 24 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Minute 3 Seconds
    Rep Power
    0

    Default

    nice story

  13. The Following User Says Thank You to raza12345 For This Useful Post:

    Cupid Arrow (02-04-2018)

  14. #8
    shaani84 is offline Aam log
    Join Date
    Feb 2017
    Posts
    30
    Thanks
    28
    Thanked 30 Times in 17 Posts
    Time Online
    17 Hours 33 Minutes 37 Seconds
    Avg. Time Online
    2 Minutes 25 Seconds
    Rep Power
    6

    Default

    after a very long time, something exciting. Amazing story, amazing writing....

  15. The Following User Says Thank You to shaani84 For This Useful Post:

    Cupid Arrow (02-04-2018)

  16. #9
    pajal20 is offline Premium Member
    Join Date
    Sep 2009
    Posts
    511
    Thanks
    277
    Thanked 1,612 Times in 437 Posts
    Time Online
    2 Days 19 Hours 5 Minutes 31 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Minute 45 Seconds
    Rep Power
    547

    Default

    Dost aap nay aik bohat hi alah, lajawab aur shandar story likhi hai. Paar kar maza aa giya. Keep up the GARAM work...
    Mohabat Mujay Un Jawano Say Hai
    Apni Behan Kay Naray Pay Jo Dalaty Hain HATH.

  17. The Following User Says Thank You to pajal20 For This Useful Post:

    Cupid Arrow (04-04-2018)

  18. #10
    rana arshad is offline Premium Member
    Join Date
    Mar 2016
    Age
    24
    Posts
    87
    Thanks
    1
    Thanked 96 Times in 56 Posts
    Time Online
    3 Days 17 Hours 48 Minutes 57 Seconds
    Avg. Time Online
    7 Minutes 2 Seconds
    Rep Power
    12

    Default

    maza a gya update k aik tu story achi or uper sy udru font ma.maza a gya. agli update ka intezar hy.

  19. The Following User Says Thank You to rana arshad For This Useful Post:

    Cupid Arrow (04-04-2018)

Page 1 of 10 12345 ... LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •