Page 9 of 10 FirstFirst ... 5678910 LastLast
Results 81 to 90 of 100

Thread: Khayaloon Ki Dunya...(i n c e s t by Cupid Arrow)

  1. #81
    fani bhai's Avatar
    fani bhai is offline Aam log
    Join Date
    Jun 2016
    Age
    23
    Posts
    12
    Thanks
    1
    Thanked 11 Times in 7 Posts
    Time Online
    9 Hours 30 Minutes 27 Seconds
    Avg. Time Online
    49 Seconds
    Rep Power
    4

    Default

    shidat se intezar ha cupid g

  2. The Following User Says Thank You to fani bhai For This Useful Post:

    Cupid Arrow (16-04-2018)

  3. #82
    trojan7 is offline Premium Member
    Join Date
    Oct 2012
    Posts
    9
    Thanks
    4
    Thanked 12 Times in 8 Posts
    Time Online
    12 Hours 15 Minutes 55 Seconds
    Avg. Time Online
    22 Seconds
    Rep Power
    7

    Default

    Thanx bro..ho sake to tora lamba karo story ko plot accha hai log to ghatiya se plot pe 400-500 update de dete hai..aapke story to bohat he ache hai

  4. The Following User Says Thank You to trojan7 For This Useful Post:

    Cupid Arrow (17-04-2018)

  5. #83
    hot dani is offline Minister
    Join Date
    Nov 2010
    Location
    Faisalabad
    Posts
    536
    Thanks
    1,071
    Thanked 1,529 Times in 456 Posts
    Time Online
    3 Days 2 Hours 47 Minutes 26 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Minute 57 Seconds
    Rep Power
    109

    Default

    Meri ray men apki stories or behter ho sakti hen agar in men ap haqeeqaton ko zyada mad-e-nazar rakhen.
    Maslan: Lubna k sath itna kuch honay k bawjood kabhi aqib nay therk nahi jharri. Family ki sari behnen chudakar nahi ho sakti. Kisi aik focus rakha kren.
    Zoya ki nangi entry kafi unrealistic thi. Rida ki camp men pehli rat gand licking bhi kafi unrealistic lagi.

    Agar ap inhen thorra realistic kr len to stories or zabardast ho jain gi.

  6. The Following 3 Users Say Thank You to hot dani For This Useful Post:

    abkhan_70 (17-04-2018), Cupid Arrow (17-04-2018), Irfan1397 (17-04-2018)

  7. #84
    Cupid Arrow's Avatar
    Cupid Arrow is offline GoD Of LovE
    Join Date
    Mar 2010
    Posts
    1,051
    Thanks
    6,919
    Thanked 8,923 Times in 1,014 Posts
    Time Online
    2 Weeks 5 Days 8 Hours 19 Minutes 20 Seconds
    Avg. Time Online
    12 Minutes 7 Seconds
    Rep Power
    2024

    Default

    دوستو میرا مشورہ ہے کہ آپ اس کہانی کو فرسٹ پارٹ سے شروع کریں، اور پھر آخر میں لاسٹ پارٹ پڑھیں ، امید ہے آپ کو بہت مزہ آۓ گا.کہانی پڑھ کر ضرور بتائیے گا کے آپ کو یہ کہانی کیسی لگی


    last part



    اسے گۓ دو مہینے ہو گے تھے.آنکھیں بند کروں یا کھولوں وہ ہر پل سوتے جاگتے بھی بس میرے سامنے رہتی تھی


    محبت کیا ہے؟ آرزو کا جنازہ جب خوائشیں اپنے کندھوں پر اٹھا لیں، وہ ہے محبت، ہر وقت سینے میں دَرْد کی آگ لگ جائے وہ ہے محبت، جب روح اپنے ہی جِسَم کی دشمن بن جائے، وہ ہے محبت، جب دن رات کانٹوں پے ننگے پاؤں چلنا پڑے، وہ ہے محبت.روح ہی تُو ہے جو یہ سب ہم سے کرواتی ہے، جسم کی بھلا کیا مجال کے روح کو انکار کر سکے، روح اور جسم جب آمنے سامنے ہو جاتے ہیں اِس محبت میں تُو جسم بس ایک غلام ہے، اِس سے زیادہ کچھ نہیں.روح کہتی ہے تو کچھ کر کے تو دیکھا میرے کہے سے ہٹ کہ


    میں نے یورنیورسٹی میں کلاسز لینا تقریبن چھوڑ دی تھی.صبح گھر سے نکلتا تو لانگ ڈرائیو پے چلا جاتا، کبھی کہی تو کبھی کہی، اور بےتحاشا سگریٹ پیتا، دِل کی دسترس میں اب کچھ بچا ہی نہیں تھا، سب کچھ تُو لے اڑی تھی یہ محبت


    پھر ایک دن آیا جب باجی بھی امریکہ چلی گئی، پر اب کوئی آئے یا جائے میں ان احساسوں سے بہت دور جا چکا تھا.بس اب ایک ہی احساس بچا تھا میری روح کے پاس.امی اور آپی بہت اُداس تھی باجی کے جانے پر.انہوں نے بھیگی آنکھوں کے ساتھ باجی کو رخصت کیا.جاتے وقت باجی نے ایئرپورٹ پر مجھ سے گلے لگ کر میرے کان میں کہا کے مجھ سے کچھ غلطیاں ہوئی ہیں انکے لیے آئی ایم سوری.میرے پاس انکی اِس بات کا کوئی جواب نہیں تھا


    اب میں ہر دیر رات سب کے سونے کے بعد باہر لان میں چلا جاتا، اور وہاں رکھی آرام دے کرسیوں میں سے ایک کرسی پر بیٹھ کر اسکی بیک سے ٹیک لگا کر آسْمان کی طرف دیکھتا رہتا اور کتنے ہی گھنٹے سگریٹ پیتا رہتا.شہر کا آسْمان گرد اور آلُودَگی کی وجہ سے ویران سا پڑا ہوتا، بہت تلاش کرنے کے بعد ہی کچھ تارے مل پاتے اس آسْمان پر، اس کالی چھائی ہوئی رات والے آسْمان پر.پھر اس آسْمان پر اسکا چہرا ابھر آتا، تُو میں اس چہرے کو دیکھتا رہتا،وہ چہرا مجھے دیکھ کر مسکراتا، تو میں بھی مسکرا دیتا.اک رونق سی لگ جاتی اسکے چہرے سے اس آسْمان پر، وہ آلودگی وہ چند تارے وہ کالی رات میں ڈوبا آسْمان، سب مدھم سے پڑ جاتے، بس اس کا چہرا ہوتا وہاں اور کچھ نہیں


    ہر رات کی طرح ایک رات میں اسکے چہرے کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا کے آپی کی سنجیدہ آواز میرے کانوں سے ٹکرائی. .عاقب تمھاری طبیعت ٹھیک ہے نہ


    میں نے انکی آواز سن کر نظریں اور سَر انکی طرف کیا،مسکراہٹ ابھی بھی میرے ہونٹوں پر تھی، کیوں کے نظریں تو ہٹ چکی تھی اسکے چہرے پر سے پر دِل میں تُو اب بھی تھا نہ اسکا چہرا، میں کافی دیر یوں ہی مسکراہٹ کے ساتھ انکی طرف دیکھتا رہا، وہ ہاتھ میں پھول لیے پریشان اور سنجیدہ مجھے دیکھے جا رہی تھی. .جی آپی میری طبیعت بالکل ٹھیک ہے، بلکہ یوں کہہ لیں کے کچھ مہینے نکال کہ جو میری زندگی تھی، اس زندگی میں میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی، جب کے اب سو فیصد ٹھیک ہے


    آپی الجھے ہوے لہجے میں. .عاقب مجھے تمھاری باتیں بالکل سمجھ نہیں آ رہی


    ایک تُو آپی کو میری باتیں سمجھ نہیں آ رہی تھی، اوپر سے انہوں نے میری ریاضت میں خلل ڈَالا تھا، تُو میں بیزار ہو گیا. .تُو آپ سمجھنا کیوں چاہتی ہیں میری باتیں؟


    آپی ہمدردی سے بھرے لہجے میں. .اِس لیے کے میں تمھاری بہن ہوں اور مجھے تمہاری فکر ہے، روز رات اپنے روم کی ونڈو سے تمہیں دیکھی ہوں یوں ہی آسْمان کی طرف دیکھ کر مسکراتے اور سگریٹ پیتے رہتے ہو، کوئی پریشانی ہے تُو مجھ سے شیئر کرو، ہم اچھے دوست بھی تو ہیں


    انکی ہمدردی کی وجہ سے میرے لہجے میں نرمی آئی، کفیت میری اب بھی پہلے جیسی تھی، کیوں کے اب یہی کچھ تھا صبح شام رات. .کچھ نہیں آپی آپ ویسے ہی پریشان ہو رہی ہیں، میں ٹھیک ہوں


    آپی نے میرے سامنے رکھی ایک کرسی پر بیٹھتے ہوئے مجھے اپنے ہاتھ میں پکڑا گلاب کا پھول دیا. .یہ لو یہ تمہارے لیے ہے


    میں نے پھول لے کر سمیل کیا. .نائس، تھینک یو


    آپی. .تم یہ سگریٹ چھوڑ کیوں نہیں دیتے، باجی نے تُو چھوڑ دیئے ہیں


    میں. .چھوڑ دوں کا آپی، ابھی دِل نہیں چاہتا چھوڑنے کا


    آپی. .پرامس کرو، چھوڑ دو گے

    میں. .سوچوں گا اِس بارے میں


    آپی کے چہرے پر ابھی بھی سنجیدگی تھی. . اچھا میں تم سے کچھ شیئر کرنا چاہتی ہوں، ایک دِل پے بوجھ سا ہے، کچھ خیالات ہیں کچھ ماضی کی باتیں ہیں جو اِس بوجھ کا سبب ہیں


    میں انکی باتوں کو نہ سمجھتے ہوئے بولا. .میں سمجھا نہیں


    آپی نے ایک گہری سانس لی اور بولی. .یار جب سے وہ سب میرے باجی اور تمہارے بیچ ختم ہوا ہے ، تب سے اب تک میں نے بہت کوشش کی ہے وہ سب بھلانے کی پر وہ سب ذہن سے نکلتا ہی نہیں، شروع میں تو میں سوچ رہی تھی کے یہ سب بہت آسان ہو گا، پر جتنا آسان جانا تھا اتنا ہے نہیں، وہ گزرے لمحے خیال بن کر مجھے بہت پریشان کرتے ہیں، میں بہت ڈسٹربڈ ہوں یار، تنگ آ چکی ہوں میں، مجھے اپنی کی ہوئی غلطی کا بہت دکھ اور افسوس ہے، سوچا تم سے بات کروں، کیوں کے اِس سب میں تم بھی ایک مین کردار تھے، اور تم سے ڈسکس کر کے شاید میں اِس سب سے باہر آ سکوں


    میں انکی باتیں خاموشی اور توجہ سے سننے کی کوشش کر رہا تھا، کیوں کے اب توجہ کا مرکز کوئی اور تھا. .آپ نے باجی سے اِس بارے میں بات کی؟


    آپی. .ہاں کی وہ کہہ رہی تھی کے میں موو آن ہو چکی ہوں، تم بھی ہو جاؤ، پر انکے یہ کہنے کے باوجود اِس بات نے میری کوئی مدد نہیں کی


    میں نے کچھ پل کو سوچتے ہوئے کہا. .آپی بس آپ کوشش کریں زیادہ سے زیادہ مصروف رہنے کی، اور میں بھی موو آن ہو چکا ہوں، کچھ ٹائم لگے گا آپ بھی ٹھیک ہو جائیں گی


    آپی. .کوشش کرتی ہوں


    یہ کہہ کر آپی اٹھی اور اندر کی جانب بڑھ گئی.میں پھر سے آسْمان کی طرف دیکھنے لگا، اور جہاں سے رابطہ ٹوٹا تھا وہی سے بَحال کیا اس چہرے سے، اور پھر اپنی اس دنیا میں گم ہو گیا ایسے جیسے ابھی کچھ پل پہلے کچھ ہوا ہی نہ ہو


    ایک دن میں شہر میں بےوجہ روڈز پر کار لیے گھوم رہا تھا کے ایک پرفیوم شاپ کے باہر سے گزر ہوا، پتہ نہیں مجھے کیا ہوا میں نے کار اس شاپ کے باہر روکی اور اُس سے اترا اور شاپ میں داخل ہو گیا


    شاپ بہت خوبصورتی سے ڈیزائن کی گئی تھی، مدھم مدھم روشنی سی تھی وہاں جو شوکیسز اور شیلفس میں بڑے ہی قرینے سے ہر ذات ہر برانڈ کے مہنگے رکھے گے پرفیومز پر پڑ رہی تھی


    سیلزمین نے مجھے ادب سے اٹینڈ کیا. .سر میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں؟


    میں کسی خیال میں کھوئے ہوئے. .مجھے کوئی بیسٹ سا لیڈیز پرفیوم چاہیے


    سیلزمین. .سر اگر میں آپ کی رینج جان سکوں تو مجھے آسانی ہو گی


    میں . . ون ہنڈریڈ تھاؤزنڈ


    سیلزمین کے ادب میں مزید اضافہ ہو گیا، پھر اسنے مجھے میری رینج کے مطابق پرفیومز دیکھاۓ، جن میں سے ایک میں نے سیلیکٹ کیا اور اسے پیک کروایا اور کارڈ سے پیمنٹ کرتے ہوئے وہاں سے نکل کر میں نے پرفیوم ردا کے پتے پر پوسٹ کر دیا اور گھر واپس آ گیا


    اسکے بدن کو ان خوشبووں کی ضرورت نہیں تھی پر پتہ نہیں یوں ہی دِل کیا اسے یہ تحفہ دینے کو.چوبیس گھنٹوں کے اندر اسے پرفیوم ریسیو ہو چکا تھا اور مجھے موبائل پر میسیج بھی آ چکا تھا رسیونگ کا.اسکی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا اور نہ ہمیں ضرورت تھی ان رسمی باتوں کی.دِل کی باتیں دِل سن لیتا تھا اب


    ایک دوپہر میں یونیورسٹی سے واپس گھر اپنے روم میں آیا تو مجھے روم کی ڈسٹنگ سہی نہ لگی، میرا پارہ چڑھ گیا، کیوں کے ڈسٹنگ کے معاملے میں مجھے ذرا سی کوتاہی برداشت نہیں تھی.میں نیچے آیا اور کچن کے باہر لگی سرونٹ کوارٹر کی بیل بجائی.( ایک بیل شرافت کہ کوارٹر کی تھی اور دوسری ڈرائیور کے کوارٹر کی ) آپی اور امی نیچے لیونگ میں تھی.تھوڑی دیر بعد شرافت نے باہر والے دروازے کی بیل بجائی( اس دروازے والے کی جو ڈرائنگ روم کے ساتھ تھا، ہمارا یہ دروازہ آٹو لاک تھا جو کے اندر سے ہی کھلتا تھا )


    میں نے جا کر دروازہ کھولا اور وہی شرافت کی کلاس لینا شروع کر دی، میں غصے سے پھٹ پڑا. .جاہل آدمی ، تمہیں جب تک بےعزت نہ کیا جائے، تمہیں عقل نہیں آتی، کس مٹی کے بننے ہو تم، جب تمہیں پتہ ہے مجھے ڈسٹنگ میں مستی پسند نہیں تو پھر کیوں مستی کی، بیوقوف، گھٹیا انسان، الو کا پٹھا، دفعہ ہو اور جا کے اچھے سے ڈسٹنگ کرو



    وہ سَر جھکاۓ اوپر کی طرف چلا گیا اور میں غصے کی ہی حالت میں آ کر آپی امی کے ساتھ بیٹھ گیا اور اپنے آپ کو نارمل کرنے کی کوشش کرنے لگا.امی تھوڑی دیر بعد بولی. .بیٹا تمہیں ایسے نہیں بات کرنی چاہیے تھی شرافت کے ساتھ، تمہیں پتہ ہے وہ شریف سا لڑکا ہے، اسے سے غلطیاں ہو جاتی ہیں


    میرا غصہ اب آہستہ آہستہ ٹھنڈا پڑنے لگا. .جی کچھ زیادہ ہی کہہ گیا میں آج اسے


    امی. .اب جب وہ نیچے آئے تو اسے سوری بولنا


    آپی نے بیچ میں لقمہ دیا. .نہیں امی کیوں سوری بولے، یہ بےعزتی اسکے لیے بہت ضروری تھی، ایسے ہی اِس کا دماغ کھلا رہے گا


    امی. .نہیں تم خاموش رہو، اور عاقب تم ضرور اسے سوری بولنا


    میں..جی امی


    پھر جب وہ اوپر سے ڈسٹنگ کر کے آیا تو میں نے اسے سوری بولا، تو اس نے آگے سے جلے ہوئے لہجے میں کہا. .ہم غریب لوگوں کی عزت تھوڑی میں ہوتی ہے جو آپ سوری کر رہے ہیں


    یہ کہہ کر وہ اپنے کوارٹر چلا گیا


    خیر وقت گزرا اور میں یہ بات بھول گیا


    وقت گزر رہا تھا اسکی محفل میں، دن بیت رہے تھے یوں ہی کے کچھ مہینے گزرے اور ردا چھٹیوں پر گھر آئی، اسے ایک مہینے کی چھٹیاں تھی.اسے دیکھ کے یوں لگا ہی نہیں کے اسے اتنے ٹائم بعد دیکھ رہا ہوں، اس نے بھی مجھے یوں دیکھا جیسے اس نے بھی جدائی نہ کاٹی ہو.امی اور آپی بہت خوش تھی اسے دیکھ کر، اَبُو بھی تھوڑے خوش سے لگے ردا کو گھر دیکھ کر


    ہم دونوں ایک دوسرے کا سامنا یا تو ناشتے پر کرتے یا رات کے کھانے پر، اسکے علاوہ میں یا تو باہر ہوتا یا اپنے روم میں، یا رات کو باہر لان میں


    ایک دن اس نے امی سے خواہش کی کے. .امی مجھے ڈرائیونگ سیکھنی ہے


    امی. .تمہیں کیا ضرورت ہے ڈرائیونگ کی؟


    ردا. .ویسے ہی امی دِل کرتا ہے سیکھنے کا، کبھی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے


    امی کچھ سوچتے ہوئے. .اچھا میں تمہارے اَبُو سے بات کروں گی


    پھر ابو نے کچھ دن کا وقت لیا سوچنے کے لیے اور پھر اجازت دے دی


    ہمارا ڈرائیور ہی ردا کو ڈرائیونگ سیکھانے لگا کیوں کے وہ پروفشنل تھا.روز دوپہر کو وہ جب ایزی ہوتا تو ردا اسکے ساتھ باہر جا کر ڈرائیونگ سیکھتی


    ایک دن بائے چانس میں پورچ میں کھڑا تھا کے ردا کار چلاتے ہوئے پورچ میں داخل ہوئی اسکے ساتھ فرنٹ سیٹ پر ڈرائیور بھی بیٹھا ہوا تھا اور وہ دونوں مسکرا کر باتیں کر رہے تھے.جب ردا نے کار پارْک کر دی تو، ڈرائیور اور وہ کار سے باہر نکلے.ڈرائیور گھر کی بیک پے اپنے کوارٹر کی طرف بڑھا اور ردا گھر کے اندر جانے لگی تو میں نے اسے روک کر کہا. .یوں مت باتیں کیا کرو اسکے ساتھ ، وہ تمہیں جج کرنے میں غلطی بھی کر سکتا ہے


    ڈرائیور جو کوارٹر کی طرف بڑھ رہا تھا اسنے مجھے پیچھے مڑ کر دیکھا، ایسے جیسے اسنے میری بات سن لی ہو.پر مجھے اِس چیز کی پرواہ نہیں تھی


    ردا نے سنجیدہ لہجے میں کہا. .جی سوری بھیا نیکسٹ خیال رکھوں گی


    پھر آیندہ اس نے اِس بات کا خیال رکھا اور اس سے فرینک نہیں ہوئی


    ایک دن امی اَبُو کسی جاننے والے کی شادی پر دوسرے شہر گے ہوئے تھے، میں سنڈے تھا تو گھر پے ہی تھا.بہت پیارا موسم تھا، آسْمان صاف تھا، دھوپ نکلی ہوئی تھی، جس سے ہمارا گھر، درخت پودے پھول گھاس ہر چیز دھوپ کے رنگ میں نہا رہی تھی. ردا ناشتہ کر کے اوپر جا چکی تھی اور میں اور آپی لیونگ میں بیٹھے گپ شپ کر رہے تھے


    میں. .آپی اب آپ کیسا فیل کرتی ہیں؟


    آپی. .اب میں بہت ٹھیک ہوں، تم سے ڈسکس جب کیا تھا اس کے بعد میں بہت جلدی ریکور ہوئی ہوں


    میں. .گڈ


    ابھی ہم باتیں کر رہے تھے کے ردا تیار ہو کر نیچے آئی وہ کچن میں جا رہی تھی کے آپی نے اسے کہا. .ردا تمہارا دِل نہیں کرتا ہمارے ساتھ بیٹھنے کو


    ردا مسکراتے ہوئے. .نہیں آپی ایسی کوئی بات نہیں


    آپی بھی مسکراتے ہوئے. .تو پھر آؤ نہ ہمارے ساتھ بیٹھو


    ردا آپی کی بات سنتے ہوئے ہمارے ساتھ آ کر بیٹھ گئی


    آہ اک خوشبو میرے ناک سے ٹکرائی، اور میری روح تک کو اک مستی میں بہکا کے رکھ گئی، یہ وہی خوشبو تھی جو میں نے ردا کو تحفے میں دی تھی، ہاں پر اسکے بدن کی خوشبو اِس خوشبو سے بہت باکمال تھی.اس نے ییلو کلر کی قیمتی چیک والی ہاف سلیو سے بھی تھوڑی کم والی شرٹ پہن رکھی تھی، اور ساتھ میں بلیک کلر کی ٹائیٹ جینز پہن رکھی تھی، شرٹ اس نے جینز کے اندر کر رکھی تھے بس تھوڑی تھوڑی سی باہر کو نکلی ہوئی تھی شرٹ جینز سے ، بال اسے نے سَر کی بیک پے راؤنڈ شیپ میں اگھٹے کر کے کلپ کیے ہوئے تھے، پاؤں میں اس نے نفیس سے شوز پہنے ہوئے تھے، اسکی بھری بھری تھائز اور ہپس جینز میں سہی ابھرے ہوئے تھے



    وہ اِس گیٹ اپ میں بہت پیاری لگ رہی تھی، ہاں اسکی گردن کا فرنٹ اور بیک، اسکے بازو اور ہاتھ جو شرٹ سے باہر تھے وہ بھی بہت پیارے لگ رہے تھے



    آپی. .بہت اچھی ڈریسنگ کی ہے ردا، بہت سوٹ کر رہی ہے تمہیں، بہت خوبصورت لگ رہی ہو


    ردا. .شکریہ آپی، اچھا میں نے کچھ شاپنگ کرنی ہے، آپ میرے ساتھ چلیں گی


    آپی. .ابھی میرا موڈ نہیں ہے شام کو چلتے ہیں نہ


    ردا. .او کے ڈن


    آپی اور ردا کے درمیان ابھی باتیں ہو رہی تھی کے کال بیل بجی، جو اندر والے یعنی ڈرائنگ روم کے ساتھ والے دروازے سے بجی تھی


    آپی بولی. .عاقب دروازہ کھولو، شرافت ہو گا، ڈسٹنگ کرنے آیا ہو گا


    میں اٹھا اور دروازے کی طرف بڑھا، دروازہ کھولا تو شرافت اور ڈرائیور ایک جھٹکے سے آگے بڑھے اور مجھے دھکا دیتے ہوئے اندر داخل ہو گے، ان دونوں کے ہاتھوں میں تیس بور پسٹل تھے.وہ مجھے دھکا دیتے ہوئے لیونگ تک لے آئے.ان دونوں کے ہاتھوں میں پسٹل اور انہیں مجھے یوں لاتے دیکھ آپی اور ردا صوفوں سے اٹھ کھڑی ہوئی اور ان کے چہروں پے خوف سا آ گیا.ڈرائیور اور شرافت کے چہروں پر وحشت اور ہیبت تھی.مجھے تو جیسے سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کے ان دونوں کو آخر ہو کیا گیا ہے.یہ دونوں خاص کر یہ شرافت تو ہمارا خاص وفادار تھا انہیں ہو کیا گیا ہے.میرا دماغ سن ہو چکا تھا


    ڈرائیور کڑکتی ہوئی آواز میں بولا. .اگر آپ لوگ ہماری بات سنیں گے تو، آپ لوگوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا، ورنہ نقصان کے زیمدار آپ خود ہوں گے، اور اسے دھمکی نہ سمجھا جائے


    ڈرائیور لگ بھگ شرافت کی ہی عمر کا تھا


    میرا دماغ ابھی تک اپنی جگہ پر نہیں آیا تھا. .تم دونوں کو ہو کیا گیا ہے، کیا چاہیے تم دونوں کو، مانگ لیتے ہم سے وہ ، اَبُو اِس حرکت پر تم دونوں کو نہیں چھوڑیں گے


    ڈرائیور نے صوفے پر سے ایک چھوٹا کشن اٹھایا اور اسے میرے کان کے ساتھ تھوڑے فاصلے پر رکھا اور پسٹل کو اس کشن پے رکھ کر ٹریگر دبا دیا، گولی چلنے کی ہلکی سی آواز سنائی دی اور کشن میں ایک ہول ہو گیا.خوف سے آپی کی چیخ نکل گئی اور ردا کے چہرے پر خوف کے ساتھ ساتھ پریشانی شدت سے چھا گئی.میری لیگز سے جیسے جان سی نکل گئی


    ڈرائیور بولا. .صاحب آپ بڑے صاحب کی دھمکی تو ہمیں نہ ہی دیں تُو اچھا ہو گا، اگلی بار مجھے گولی کا رخ بدلنے کا موقع مت دینا


    آپی ڈری ڈری بولی. .تم لوگوں کو جو چاہیے وہ لے جاؤ ، ہم تمہیں نہیں روکتے


    ڈرائیور بولا. .شرافت ان سب سے ان کے موبائل لے لو، اور میڈم آپ بچوں والی باتیں نہ کریں، ہمیں جو چاہیے وہ ہم لیں گے، ہمیں آپ روک کے تو دیکھیں، گولی آپ کے بھائی کے سَر کے آر پار ہو گی


    آپی اور ردا مزید خوف کا شکار ہو گئی.میری ٹانگوں میں ابھی تک جان واپس نہیں آئی تھی.شرافت آگے بڑھا اور صوفوں پے پڑے ہمارے موبائل اٹھا لیے


    ڈرائیور. .آپ تینوں اپنے اَبُو والے کمرے میں چلیں


    ہم تینوں بہن بھائی بوجھل قدموں سے اَبُو کے روم کی طرف بڑھے اور وہ دونوں ہمارے پیچھے چل پڑے، انکے چہروں پر سفاکی کے ڈھیرے تھے، ایسے جیسے وہ گولی مارنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے


    ہم سب جب اَبُو کے روم میں داخل ہوئے تو ڈرائیور نے مجھے کہا. .آپ میرے ساتھ باتھ روم میں چلیں


    میں کچھ نہ سمجھتے ہوئے باتھ روم کی طرف چل پڑا.روم کے اندر ہی ایک دیوار میں ڈریسنگ روم میں داخل ہونے کے لیے جو سلائیڈنگ ڈور( سلائیڈنگ ڈور میں دھندلا شیشہ لگا ہوا تھا، جس سے آر پار نظر نہیں آتا تھا) تھا اسے کھول کہ ہم پہلے ڈریسنگ پھر باتھ روم میں داخل ہوئے



    باتھ روم میں داخل ہو کر ڈرائیور نے مجھے سخت لہجے میں کہا. .اگر کوئی غلطی کی تو آپ کی بہنوں کو گولی مار دوں گا، اور مجھے مت مجبور کرنا اِس کام کے لیے، اب یہی کھڑے رہیں جب تک میں نہ واپس آؤ



    میری کچھ بچی ہوئی ہمت سمیٹ کر میں بولا. .مجھے اپنی بہنوں کے پاس رہنا ہے، تمہیں جو چاہیے، وہ لے جاؤ


    ڈرائیور غصے کی شدت سے باتھ روم کے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے. .ٹھیک ہے میں گولی مار دیتا ہوں آپ کی بہنوں کو


    میں خشک گلے کے ساتھ خوف کی لپٹ میں آ گیا اور بولا. .نہیں رکو


    ڈرائیور کچھ پل کو رکتے ہوئے. .اچھا تو پھر چُپ کر کے یہاں کھڑے رہیں


    یہ کہہ کر وہ باتھ روم کا دروازہ بند کر کے روم میں چلا گیا


    خوف نے میری تمام حسوں کو تقریباً مفلوج سا کر دیا تھا، میں باتھ روم کی دیوار پر دونوں بازووں کو ملا کر اپنا چہرہ ان پر رکھ کر کھڑا ہو گیا، بےبسی کسی خون خوار شیر کی طرح منہ کھولے میرے سامنے کھڑی تھی، اور میں ڈرا سہما وہی کھڑے کا کھڑا رہ گیا


    عجیب و غریب سوچوں نے میرے ذہن میں گھر کرنا شرو ع کر دیا تھا، جانے وہاں روم میں میری بہنیں کس حال میں ہوں گی، میری ردا کس حال میں ہو گی، جانے میری ردا پر کیا بیت رہی ہو گی.میں نے اپنے بازو دیوار سے ہٹاۓ اور میرے بےجان سے ہوے قدم باتھ روم کے دروازے کی طرف بڑھے، میں نے باتھ روم کا دروازہ کھولا اور ڈریسنگ میں داخل ہوا، اور ڈریسنگ کے سلائیڈنگ ڈور کے پاس جا کھڑا ہوا


    ڈرائیور کی کڑکتی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی. .آپ دونوں ہمارے ساتھ تعاون کریں گی تو اچھا ہو گا، ورنہ آپ کے بھائی کو ہم گولی مار دیں گے


    ان کے ارادوں سے یہی لگتا تھا کے وہ گولی مارنے سے نہیں چونکیں گے.میں نے موت کا تصور اپنی زندگی میں کبھی نہیں کیا تھا، اور آج موت کو سامنے دیکھ کر میں سہما جا رہا تھا، میرا جسم ہلکا ہلکا کانپنا شروع ہو گیا


    میں نے کانپتے ہوئے ایک ہاتھ سے سلائیڈنگ ڈور کو بالکل تھوڑا سا کھولا، اور اپنی ایک آنکھ میں نے سلائیڈنگ ڈور کے اس گیپ پر رکھ دی جہاں سے مجھے روم کا منظر صاف نظر آ رہا تھا.میری آنکھ کے سامنے اَبُو امی کا بیڈ تھا، یعنی بیڈ کی پاؤں والی سائڈ میری طرف تھی. ردا اور آپی بیڈ پر سہمی سمٹی بیٹھی ہوئی تھی، انکے پاؤں فرش پر تھے.ڈرائیور کے سامنے ردا تھی اور شرافت کے سامنے آپی


    ڈرائیور تھوڑا نیچے کو جھکا اور اس نے ردا کے ایک گال پر کس کیا.میرے سینے میں جیسے کسی نے بے شمار کیل ٹھونک دیئے.ردا کے ماتھے پر بہت سے بل پڑ گے اور چہرے پر بے بسی اور نفرت بھی ڈر کے ساتھ ساتھ شامل ہو گئی.پھر ڈرائیور نے دوسرے گال پے کس کیا ردا کو، اور ساتھ ہی اس نے اپنے ہونٹ ردا کے ہونٹوں پر رکھ دیئے اور کس کرنے لگا اسے.ردا نے اپنے ہونٹ مضبوطی سے آپس میں ملا لیے



    ڈرائیور اپنی زُبان پھیرنے لگا اسکے ہونٹوں پر اور بولا.بہت میٹھی ہیں میڈم آپ، اور بہت خوشبودار پرفیوم لگائی ہوئی ہے آپ نے، مزہ آ گیا


    جب آفت آتی ہے تو بتا کے تھوڑی میں آتی ہے، انسان تو اپنی دھن میں چل رہا ہوتا ہے اِس زندگی میں، اور آفت اپنا خوفناک منہ کھولے رستے میں آ کھڑی ہوتی ہے، اور پھر نگل جاتی ہے انسان کو، مصیبت جو ہوتی ہے نہ وہ ہتھوڑے کی ماند برستی ہے اور ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہے روح کے، پریشانی کا آتش فشاں جب پھوٹ پڑتا ہے تو غموں کا لاوہ روح کو پگھلا کر رکھ دیتا ہے، دکھ تکلیف کے سمندر میں جب غوطہ زن ہو کے نکلتا ہے تو پھر اس کا ناچ روح کو اتنا بےآبرو کرتا ہے کے آبرو کی تلاش میں روح کو صدیاں بھی کم پڑ جاتی ہیں


    شرافت نے آپی کو گردن پر کس کرنا شروع کر دیا، آپی جیسے پتھر کی بنی بیٹھی تھی بیڈ پے.ڈرائیور نے ردا کی شرٹ کے اوپر والے بٹن پر ہاتھ رکھا اور اسے کھولا، ردا نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنی شرٹ کو بٹنز والی جگہ سے پکڑ لیا.ڈرائیور نے لیفٹ ہاتھ میں پسٹل پکڑا ہوا تھا وہ اس نے ردا کے سَر پر رکھا اور کہا. .میڈم آپ نہیں چاہتی کے آپ کا بھائی زندہ رہے


    یہ سن کر ردا نے آہستہ آہستہ اپنے دونوں ہاتھ نیچے اپنی تھائز پر رکھ دیئے.ڈرائیور نے اپنے رائٹ ہاتھ سے ردا کی شرٹ کے سارے بٹن کھول دیئے


    ڈرائیور. .میڈم اپنی شرٹ اتار دیں


    ردا نے نا چاہتے ہوئے اپنی شرٹ اتار دی، اب وہ بلیک برا اور جینز میں بیڈ پے بیٹھی تھی


    ڈرائیور. .اب کھڑی ہو جائیں


    ردا کھڑی ہو گئی.آپی شلوار قمیض پہنے ہوئے تھی، اور شرافت قمیض کے اوپر سے ہی ان کے بوبز دبا رہا تھا، اور آپی کے چہرے سے یوں لگ رہا تھا کے انکی روح کو کسی نے بہت بے دردی سے پامال کر دیا ہے.ڈرائیور نے اپنا پسٹل بیڈ پر پھینکا اور ردا کو موڑ کر اسکی بیک اپنی طرف کی اور ہاتھ بڑھا کر جینز کے بٹنز کھول دیئے.پھر دونوں ہاتھوں سے اسکی جینز کو گھٹنوں تک نیچے کر دیا.ردا نے نیچے بلیک انڈر وئیر پہن رکھا تھا، جس نے اسکے ہپس کو بیک سے تھوڑا تھوڑا کور کر رکھا تھا


    ڈرائیور نے ردا کا انڈر ویئر ایک جھٹکے میں نیچے کیا اور پھر جیسے سکتے میں چلا گیا


    کچھ پل یوں ہی سکتے میں رہ کر مستی میں جھومتا ہوا بولا. .میڈم بڑی کمال کی گانڈ ہے آپ کی، سہی موٹی چوڑی اور گول گول، ایسی گانڈ تو میں نے فلموں میں بھی نہیں دیکھی


    ردا نے دونوں ہاتھوں میں اپنا چہرہ چھپا لیا ایسے جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کے آنکھیں بند کرتا ہے ویسے ردا نے اپنا چہرا چھپایا کے شاید ایسا کرنے سے یہ سب ٹل جائے، پر یہ سب تو حقیقت تھی ایسی حقیقت جسے سہنا اب ہماری قسمت میں لکھ دیا گیا تھا


    شرافت اپنی شرافت کو بھول چکا تھا، وہ گھٹیا انسان ہاں گھٹیا لفظ بھی آج اسکے لیے کم تھا، اس نے آپی کی بھرپور مزمت کے باوجود انکی قمیض اور شلوار اور برا اتار دی تھی، آپی نے انڈرویئر نہیں پہنا ہوا تھا.آپی اسکے سامنے ننگی ہو چکی تھی.شرافت نے اپنا پسٹل سائیڈٹیبل پے رکھا اور اپنے کپڑے اتار کر آپی کو بیڈ پے لیٹا کر ان پہ چڑھ گیا، شرافت کا ڈک چھوٹا سا تھا اور سخت ہوا ہوا تھا


    شرافت غصے اور نشے میں بولا. .بہت اُڑا لیا تم امیروں نے ہم غریبوں کا مذاق، اب ہماری باری ہے


    ڈرائیور نے اپنا منہ ردا کی گانڈ میں گھسا دیا اور اسکی ننگی گانڈ کو چاٹنے لگا اور پاگلوں کی طرح چاٹنے لگا، اپنے دانت مارنے لگا.وہ اس گانڈ پر دانتوں سے کاٹنے لگا اور ساتھ ساتھ اس گانڈ کے دو حصوں کو..اسکا منہ جب گانڈ کے اندر جاتا تو نرم گانڈ کے وہ دو حصے کھل سے جاتے.ڈرائیور کی زُبان گانڈ کے سوراخ کو بھی چاٹ رہی تھی، اور اسکے چہرے کی بڑھی ہوئی شیو بھی گانڈ پے چُب رہی تھی



    شرافت اپنے چھوٹے سے ڈک کو اپنے ڈک کی کیپ سے نکلتی سپرم کی مدد سے آپی کی خشک واجینا میں ڈالنے میں کامیاب ہو گیا تھا، اس کا ڈک ان کی واجینا میں اندر باہر ہو رہا تھا.آپی چلا رہی تھی. .شرافت پلیز ایسا مت کرو، یہ حیوانیت مت کرو پلیز


    پر شرافت کے سر پر تو جنون سوار تھا جیسے


    ڈرائیور گانڈ چاٹتے ہوئے اٹھا اور اس نے ردا کی برا انڈر ویئر اور جینز کو اتار پھینکا اور اپنے کپڑے بھی اُتَار کر بیڈ پر لیٹ گیا، اسکا ڈک میرے ڈک سے بھی بہت بڑا تھا، بہت ھیبت ناک ڈک تھا اسکا


    ڈرائیور. .میڈم میرے اوپر آ کر بیٹھ جائیں


    ردا نے اپنے چہرے سے دونوں ہاتھ ہٹاۓ اور ایک پل کو ڈرائیور کی طرف دیکھا، ڈرائیور کی لیگز بیڈ کی اس طرف تھی جہاں سے ہم بیڈ سے اترتے ہیں


    ردا پوری ننگی حالت میں اپنا گورا گلابی جسم لیے ڈرائیور کے ڈک پر جا بیٹھی


    ڈرائیور. .واہ ، میں آپ کے جسم کو بس دور دور سے دیکھتا تھا، میں نے تو کبھی یہ سوچا بھی نہیں تھا کے، اِس جسم کو میں یوں فتح بھی کر لوں گا


    ڈر خوف نفرت کا ملاپ ابھی بھی ردا کے چہرے پر تھا


    ردا کی ٹانگیں ڈرائیور کے جسم کے دونوں جانب تھی، یعنی ایک ٹانگ ایک طرف دوسری ٹانگ دوسری طرف


    ڈرائیور. . تھوڑا اوپر ھونا


    ردا گھٹنوں پے جسم کا وزن ڈالتے ہوئے تھوڑا اوپر ہوئی تو ڈرائیور نے اپنے منہ سے بہت سا تھوک نکال کر ردا کی واجینا اور اپنے خوفناک ڈک پر لگایا اور پھر ردا کی واجینا پر اپنا ڈک رگڑا اور ہلکا سا جھٹکا لگا کر ڈک تھوڑا سا واجینا میں ڈَالا


    ڈرائیور. .بہت تنگ پُھدی ہے آپ کی میڈم، میرا لن تو سہی سے اندر گھس ہی نہیں رہا


    ردا نے آنکھیں پھر سے بند کر لی تھی



    ڈرائیور جسکا نام ہاشم تھا اس نے ہلکے ہلکے کچھ جھٹکے اور لگاۓ تو اس کا ڈک آدھے سے زیادہ پھستا پھساتا واجینا میں چلا گیا.ردا کے چہرے پر ڈر خوف نفرت کے ساتھ ساتھ اب تکلیف کے بھی آثار تھے


    ہاشم مزے میں ڈوبا بولا. .اُف آپ کی چدائی میں تو کتنا سکون کتنا نشہ کتنا مزہ ہے، اُف ، آپ کو بھی مزہ آ رہا ہے اِس چدائی میں


    ردا نے کوئی جواب نہ دیا اور آنکھیں بند رکھی


    آپی ابھی بھی چیخ رہی تھی اور منتیں کر رہی تھی شرافت کی، پر وہ پتھر کا دِل بنا ہوا تھا.شرافت نے اپنا ڈک اندر باہر کرتے ہوئے اپنا ایک ہاتھ بڑھایا اور ردا کی گانڈ پر پھیرا اور پھر اس کی گانڈ کی لکیر میں ہاتھ پھیرتے ہوئے اپنی فنگرز اسکی گانڈ کے سوراخ پر پھیری اور کہا. . سچ میں بہت کمال گانڈ ہے ردا میڈم آپکی، میں بھی ہر روز موقع ڈھونڈتا تھا کے آپکی اِس گانڈ کا کپڑوں پر سے ہی پر دیدار ہو جائے ایک بار


    ہاشم نے اب آہستہ آہستہ ردا کی واجینا میں ڈک اندر باہر کرنا شروع کر دیا اور ساتھ میں ہاتھ بڑھا کر آپی کے ننگے سفید پیٹ پر ہاتھ پھیرا اور بولا. .یہ مال بھی بہت اعلی ہے ویسے


    ردا آگے کو جھکی اور اسنے اپنے دونوں ہاتھ ہاشم کے جسم کے دونوں طرف رکھے اور اپنی آنکھیں کھول دی، اسکے چہرےپہ ڈر خوف نہیں تھا اب ہاں پر نفرت اب اور بھی زیادہ شدید تھی.ہاشم نشے میں ڈوبا بولا. .میڈم آپ کی تو چوت گیلی گیلی لگ رہی ہے مجھے، پُھدی کا پانی لگ رہا ہے مجھے یہ، اب لگتا ہے آپ کو بھی مزہ آنے لگا ہے


    شرافت ابھی بھی اپنا ہاتھ ردا کی گانڈ پر بڑی بےشرمی سے پھیر رہا تھا، اور ہاشم اپنا ہاتھ آپی کے پیٹ اور بوبز پر پھیر رہا تھا


    ہاشم کا ڈک اب ردا کی واجینا میں تقریباً پورا ہی اندر باہر ہونے لگا


    ردا ہاشم سے بولی. .عاقب بھیا کو جو ہمارے بیچ ہوا وہ نہیں پتہ چلنا چاہیے، ورنہ وہ مر جائیں گے


    ہاشم سرور میں شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ بولا. .آپ بے فکر ہو جائیں نہیں پتہ چلے گا


    ردا بھی آہستہ آہستہ ہلنے لگی ہاشم کے لن پر، ہاشم نے سَر تھوڑا اوپر کر کے ردا کا ایک بوب منہ میں ڈال لیا اور اسے چوستے ہوئے کہا. . آہ یہ تو شہد سے بھی میٹھا ہے


    میں ڈریسنگ میں کھڑا سلائڈنگ ڈور سے آنکھ لگائے یہ سب دیکھ رہا تھا، جلن اور حسد میرے دِل پے کسی کانٹے کی طرح چُب رہے تھے اور بار بار چُب رہے تھے، کے اتنے میں مجھے محسوس ہوا کے میرا ڈک سخت ہونے لگا ہے، میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے ڈک کو ٹراوزر سے باہر نکالا اور مٹھ مارنے لگا، مجھے اپنے ڈک پے شدید غصہ آ رہا تھا اور میں اپنے ڈک سے کہہ رہا تھا کے بھلا یہ بھی کوئی مقام ہے کھڑا ہونے کا، اور ڈک آگے سے کہہ رہا تھا کے یہ سب میرے اخیتیار میں نہیں ہے.مزہ اور غصہ میرے سَر پر سوار تھا، اور بڑی ہی شدت سے تھا


    ہاشم نے ردا کو اپنے اوپر سے ہٹایا اور گھٹنوں کے بل بیڈ پر کھڑا ہو گیا اور ردا کو کہا. .میڈم میرا لن چوسیں جلدی کریں


    ردا نے بیڈ پے بیٹھے بیٹھے ہی اپنے ایک ہاتھ کی پیاری پیاری نازک گوری گلابی انگلیوں سے ہاشم کا لن پکڑ لیا، لن پوری طرح اسکے نازک ہاتھوں میں نہیں آ رہا تھا.ردا نے اپنا منہ کھولا اور ہاشم کا موٹا خوفناک لن اپنے منہ میں تھوڑا سا ڈال لیا اور اسے چوسنے لگی


    میرے تُو حلق سے تھوک نہیں نگلنے ہو رہی تھی مجھ سے یہ سب دیکھ کر ، ایسا تو ردا نے میرے ساتھ بھی نہیں کیا تھا


    وہ اس کا لن اپنے منہ میں اندر باہر کرنے لگی، ہاشم کے لن پر بہت سارے بال تھے ایسے جیسے اس نے کتنے ہی مہینوں سے نہ شیو کیے ہوں ، ردا کے گلابی نرم ملایم گلاب کی پنکڑیوں جیسے ہونٹ رگڑ کھا رہے تھے اسکے موٹے لن پر اور ردا کا منہ گیلا کر رہا تھا ہاشم کے لن کو، ہاشم نے اچانک ایک جھٹکے سے اپنا لن باہر نکالا اور ردا کے چہرے پر فارغ ہونے لگا، اسکی بے تحاشہ نکلتی سپرم ردا کی آنکھوں پر اس کے ہونٹوں پر اسکے گالوں پر اسکے ماتھے پر پڑ رہی تھی


    ایک مزے اور سرور کا طوفان میرے اندر بھی برپا ہوا اور میں بھی ڈسچارج ہونے لگا


    تھوڑی دیر بعد شرافت بھی آپی کی پھدی میں فارغ ہوا اور پھر ان دونوں نے کپڑے پہنے اور آپی اور ردا کو یہ کہتے ہوئے چلے گے کے جب بڑے صاحب آئے تو انہیں یہ کہنا کے چھوٹے صاحب نے شرافت اور ہاشم سے بدتمیزی کی ہے اور ہمیں تھپڑ مارے ہیں، اِس وجہ سے ہم نوکری چھوڑ کر چلے گے ہیں



    the END
    تری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے ؟؟؟ تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے
    لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجئے ، اب بھی دلکش ہے ترا حسن مگر کیا کیجئے ؟؟؟


    مسکرا کر خطاب کرتے ہو...عادتیں کیوں خراب کرتے ہو؟




  8. The Following 9 Users Say Thank You to Cupid Arrow For This Useful Post:

    abkhan_70 (18-04-2018), Admin (19-04-2018), curves.lover (20-04-2018), guest01 (19-04-2018), Irfan1397 (18-04-2018), shubi (20-04-2018), Story-Maker (19-04-2018), sweetncute55 (18-04-2018), teno ki? (19-04-2018)

  9. #85
    teno ki? is offline Premium Member
    Join Date
    Feb 2012
    Posts
    331
    Thanks
    491
    Thanked 558 Times in 242 Posts
    Time Online
    1 Week 3 Days 7 Hours 32 Minutes 51 Seconds
    Avg. Time Online
    6 Minutes 33 Seconds
    Rep Power
    42

    Default

    یار آ کی گل ہوئ
    سارا مزہ خراب کر دتا

  10. The Following 2 Users Say Thank You to teno ki? For This Useful Post:

    abkhan_70 (19-04-2018), Cupid Arrow (19-04-2018)

  11. #86
    Story-Maker's Avatar
    Story-Maker is offline Super Moderators
    Join Date
    Mar 2016
    Location
    Pakistan
    Age
    24
    Posts
    3,911
    Thanks
    1,776
    Thanked 4,845 Times in 2,413 Posts
    Time Online
    1 Week 6 Days 3 Hours 59 Minutes 26 Seconds
    Avg. Time Online
    24 Minutes 49 Seconds
    Rep Power
    854

    Default

    بھائی
    یہ کہانی کچھ ایسی تھی کہ قسط اول سے آخر تک ایک ہفتے میں مسلسل تھوڑی تھوڑی پڑھتا گیا اور میں خود ایک نئی کہانی لکھتا گیا
    لیکن صد افسوس
    میری پین ڈرائیو کو موت پڑگئی۔
    خیر اب دوسری کہانی شروع کر دی نارمل سی ہے

    آخری قسط لاجواب سے بھی اوپر تھی

  12. The Following 2 Users Say Thank You to Story-Maker For This Useful Post:

    Cupid Arrow (20-04-2018), shubi (20-04-2018)

  13. #87
    shubi's Avatar
    shubi is offline Khaas log
    Join Date
    Jun 2017
    Location
    Gulgasht, Multan, Punjab, Pakistan
    Age
    31
    Posts
    147
    Thanks
    627
    Thanked 97 Times in 66 Posts
    Time Online
    21 Hours 54 Minutes 10 Seconds
    Avg. Time Online
    4 Minutes 18 Seconds
    Rep Power
    16

    Default


    کمال ہے جناب

    بہت خوب

  14. The Following User Says Thank You to shubi For This Useful Post:

    Cupid Arrow (20-04-2018)

  15. #88
    us_man00 is offline Khaas log
    Join Date
    Jul 2016
    Age
    22
    Posts
    75
    Thanks
    0
    Thanked 92 Times in 52 Posts
    Time Online
    2 Days 1 Hour 44 Minutes 12 Seconds
    Avg. Time Online
    4 Minutes 40 Seconds
    Rep Power
    10

    Default

    سارا مزا خراب کر دیا... بہت ہی بکواس اپڈیٹ دی ہے... اس سے اچھا تھا کہ اپڈیٹ نہ دیتے

  16. The Following 2 Users Say Thank You to us_man00 For This Useful Post:

    Cupid Arrow (20-04-2018), teno ki? (20-04-2018)

  17. #89
    Story-Maker's Avatar
    Story-Maker is offline Super Moderators
    Join Date
    Mar 2016
    Location
    Pakistan
    Age
    24
    Posts
    3,911
    Thanks
    1,776
    Thanked 4,845 Times in 2,413 Posts
    Time Online
    1 Week 6 Days 3 Hours 59 Minutes 26 Seconds
    Avg. Time Online
    24 Minutes 49 Seconds
    Rep Power
    854

    Default

    Quote Originally Posted by us_man00 View Post
    سارا مزا خراب کر دیا... بہت ہی بکواس اپڈیٹ دی ہے... اس سے اچھا تھا کہ اپڈیٹ نہ دیتے
    جیسے آپ نے کہا
    میرا بھی دل کیا تھا ایسا ہی کمنٹ یہاں دوں لیکن جب ایک مرتبہ پڑھی
    جب دوسری مرتبہ پڑھی تو سچ میں بہت مزہ آیا
    اگر یہ کہانی حقیقی ہوتی تو میں اس بھائی سے لازمی ملتا
    ہاہاہاہاہا

  18. The Following User Says Thank You to Story-Maker For This Useful Post:

    Cupid Arrow (20-04-2018)

  19. #90
    us_man00 is offline Khaas log
    Join Date
    Jul 2016
    Age
    22
    Posts
    75
    Thanks
    0
    Thanked 92 Times in 52 Posts
    Time Online
    2 Days 1 Hour 44 Minutes 12 Seconds
    Avg. Time Online
    4 Minutes 40 Seconds
    Rep Power
    10

    Default

    Quote Originally Posted by Story-Maker View Post
    جیسے آپ نے کہا
    میرا بھی دل کیا تھا ایسا ہی کمنٹ یہاں دوں لیکن جب ایک مرتبہ پڑھی
    جب دوسری مرتبہ پڑھی تو سچ میں بہت مزہ آیا
    اگر یہ کہانی حقیقی ہوتی تو میں اس بھائی سے لازمی ملتا
    ہاہاہاہاہا
    کہانی انسیٹ تھی اور انسیٹ پہ ہی ختم ہونی چاہیے تھی اور اگر ریپ ہی کروانا تھا تو سین تو اچھے ہوتے

Page 9 of 10 FirstFirst ... 5678910 LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •