Page 7 of 10 FirstFirst ... 345678910 LastLast
Results 61 to 70 of 100

Thread: Khayaloon Ki Dunya...(i n c e s t by Cupid Arrow)

  1. #61
    ranatanee's Avatar
    ranatanee is offline Premium Member
    Join Date
    Mar 2012
    Posts
    146
    Thanks
    2
    Thanked 511 Times in 128 Posts
    Time Online
    3 Days 5 Hours 4 Minutes 23 Seconds
    Avg. Time Online
    2 Minutes 4 Seconds
    Rep Power
    23

    Default

    لاجواب لکھنے کا انداز ہی نرالا ہے، دو تو ہلکی ہلکی چد گئی لیکن کب فل جوبن میں چدے گی اور نہ جانئے ہم فل چدائی کا پڑھ پائے گے یہ آپ ہی بتا سکتے ہے۔ کھانی کی آپڈیٹ کا ششد سے انتظار رہے گا

  2. The Following 5 Users Say Thank You to ranatanee For This Useful Post:

    abba (09-04-2018), abkhan_70 (09-04-2018), Cupid Arrow (09-04-2018), farhan403 (10-04-2018), rawaljan (09-04-2018)

  3. #62
    abba's Avatar
    abba is offline Premium Member
    Join Date
    Apr 2009
    Location
    Islamabad, Pakistan, Pakistan
    Age
    34
    Posts
    943
    Thanks
    16,060
    Thanked 2,454 Times in 798 Posts
    Time Online
    1 Week 1 Day 18 Hours 31 Minutes 38 Seconds
    Avg. Time Online
    5 Minutes 29 Seconds
    Rep Power
    177

    Default

    bot zabrdast shandar alla vvv very hot & nice story
    nexte ka intazar ryvga thank,s g

  4. The Following 3 Users Say Thank You to abba For This Useful Post:

    abkhan_70 (10-04-2018), Cupid Arrow (09-04-2018), farhan403 (10-04-2018)

  5. #63
    rawaljan is offline Aam log
    Join Date
    Jan 2017
    Age
    28
    Posts
    2
    Thanks
    3
    Thanked 3 Times in 2 Posts
    Time Online
    1 Day 18 Hours 50 Minutes 50 Seconds
    Avg. Time Online
    5 Minutes 30 Seconds
    Rep Power
    0

    Default

    Fndz agar ksi k pass kharian ya gujrat ki ksi aunty ya larki no ho to plz send krain

  6. The Following User Says Thank You to rawaljan For This Useful Post:

    abkhan_70 (10-04-2018)

  7. #64
    rana99's Avatar
    rana99 is offline Premium Member
    Join Date
    Apr 2009
    Location
    faisalabad
    Posts
    93
    Thanks
    69
    Thanked 274 Times in 85 Posts
    Time Online
    4 Days 5 Hours 58 Minutes 5 Seconds
    Avg. Time Online
    2 Minutes 39 Seconds
    Rep Power
    141

    Default

    niceeee story

  8. The Following 3 Users Say Thank You to rana99 For This Useful Post:

    abkhan_70 (10-04-2018), Cupid Arrow (10-04-2018), farhan403 (10-04-2018)

  9. #65
    catss is offline Premium Member
    Join Date
    Oct 2016
    Age
    28
    Posts
    5
    Thanks
    1
    Thanked 5 Times in 3 Posts
    Time Online
    1 Day 7 Hours 34 Minutes 37 Seconds
    Avg. Time Online
    3 Minutes 19 Seconds
    Rep Power
    3

    Default

    Quote Originally Posted by abba View Post
    bot zabrdast shandar alla vvv very hot & nice story
    nexte ka intazar ryvga thank,s g

    Thanks shearing

  10. The Following 3 Users Say Thank You to catss For This Useful Post:

    abkhan_70 (10-04-2018), Cupid Arrow (10-04-2018), farhan403 (10-04-2018)

  11. #66
    pagalsallu is offline Aam log
    Join Date
    Mar 2016
    Age
    32
    Posts
    9
    Thanks
    0
    Thanked 8 Times in 6 Posts
    Time Online
    8 Hours 49 Minutes 1 Second
    Avg. Time Online
    40 Seconds
    Rep Power
    4

    Default

    بہترین اپڈیٹ ہے جناب۔ کوشش کریں تھڑا لمبی اپڈیٹ ہو۔

  12. The Following User Says Thank You to pagalsallu For This Useful Post:

    Cupid Arrow (10-04-2018)

  13. #67
    zeeshi100 is offline Premium Member
    Join Date
    Apr 2009
    Posts
    79
    Thanks
    4
    Thanked 168 Times in 56 Posts
    Time Online
    1 Day 18 Hours 38 Minutes 21 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Minute 6 Seconds
    Rep Power
    18

    Default

    اپڈیٹ کر دیں

  14. The Following User Says Thank You to zeeshi100 For This Useful Post:

    Cupid Arrow (11-04-2018)

  15. #68
    Cupid Arrow's Avatar
    Cupid Arrow is offline GoD Of LovE
    Join Date
    Mar 2010
    Posts
    1,051
    Thanks
    6,919
    Thanked 8,923 Times in 1,014 Posts
    Time Online
    2 Weeks 5 Days 8 Hours 19 Minutes 20 Seconds
    Avg. Time Online
    12 Minutes 7 Seconds
    Rep Power
    2024

    Default

    part 7






    صبح امی نے کچن میں، دونوں بہنوں کو آپس میں بات کرتے دیکھا تو خوشی سے پاگل ہو گئی، انہیں تو یقین نہیں آ رہا تھا کے یہ سچ ہے





    امی. .یہ کیسے ہوا ؟ ضرور عاقب نے تم دونوں کو راضی کروایا ہو گا






    ابو ابھی تک روم میں تھے اور میں لیونگ میں ناشتہ لگنے کا ویٹ کر رہا تھا.امی وغیرہ کی آوازیں مجھے سنائی دے رہی تھی.میں نے دِل میں کہا امی آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں





    آپی. .نہیں ہم خود راضی ہوئی ہیں






    امی. .چلو جیسے بھی ہوئی، ہو تو گئی نا، میں بہت خوش ہوں، اب سیلیبریٹ کرنا تو بنتا ہے، زویا جو تم کہو گی، بولو کیا چاہیے؟؟





    باجی چہکتے ہوئے. .واہ زویا آج امی موج میں ہیں مانگو کیا مانگتی ہو






    کچھ پل کو کچن میں خاموشی چھا گئی، پھر آپی کی آواز آئی. .امی ہم سب، جھیل سیف الملوک چلتے ہیں، کچھ دنوں کے لیے ، وہاں پر کیمپنگ کریں گے، میری ایک عرصے سے کیمپنگ کی خواہش ہے اور دیکھیں نہ، ردا بھی جانے والی ہے اور لبنیٰ باجی بھی کبھی بھی جا سکتی ہیں، پتہ نہیں پھر کب ایک ساتھ ایسا موقع ملے





    امی خوش ہوتے ہوۓ بولی. .بہت اچھا آئیڈیا ہے، پر تمہارے ابو ہی فائنل اپروول دیں گے







    باجی بھی بہت ایکسائٹڈ ہو گئی اور بولی. .ویری گڈ آئیڈیا، ہم کبھی وہاں نہیں گے، صرف پکچرز میں ہی دیکھا ہے، اِس سے اچھا وقت اور کوئی نہیں ہو سکتا وہاں جانے کا






    آپی. .امی اب ابو کو منانا آپ کا کام ہے






    یہ ہم سب جانتے تھے کے ابو اپنے کام کو چھوڑ کے اتنے دنوں کے لیے کم ہی نکلتے ہیں، ہاں تب تک جب تک کوئی مجبوری نہ ہو.میں باہر بیٹھا یہ سوچ رہا تھا کے پہلے باجی اور سدرہ کے ساتھ گپ شپ میں زخموں کا احساس شدت سے نہیں ہوتا تھا، پھر آپی نے اپنی بھڑاس نکالنی شروع کر دی، پھر ایک دن پہلے ہی جب سب کچھ سہی ہونے لگا، تو باجی اور آپی بولی سب بھول جاتے ہیں ، میں تن تہنا رہ گیا تھا پھر سے. پھر من میں خیال آیا ، چلو اِس ٹرپ کے بہانے ردا کو جی بھر کے دیکھ ہی لوں گا.ہاں زخم گہرے تھے میرے دِل پر ، پر شاید ان زخموں کا کچھ پل کے لیے تھوڑا مرہم ہی ہو جائے، وہ دور بھی تو جا رہی تھی مجھ سے، پھر سوچتا کے اسے دیکھ کر اور تڑپوں گا، آہ ہا ، کس مشکل میں الجھ گیا تھا میرا دماغ اور اس میں ابھرتی یہ سوچیں






    اتنے میں ابو روم سے باہر آئے مجھے سلام کیا اور ایک صوفے پر بیٹھ گے






    ابو امی کو مخاطب کرتے ہوئے. .ناشتہ لگ گیا ہے یا ابھی دیر ہے





    امی. .بس لگاتے ہیں






    تھوڑی ہی دیر میں ناشتہ لگ گیا، ردا بھی آ چکی تھی.ہم سب ناشتہ کر رہے تھے کے امی بولی. .بچیوں کی خواہش ہے کے، ردا اور لبنیٰ کے چلے جانے سے پہلے ہم کہی گھوم آئیں






    ردا ناشتہ کرتے ہوئے امی آپی اور باجی کو دیکھنے لگی، اسکے چہرے پر ہلکی سی حیرت تھی







    ابو کچھ دیر خاموش ہو گے پھر بولے. .کہاں جانا چاہتی ہیں؟






    امی. .جھیل سیف الملوک کچھ دن کیمپنگ کے لیے





    ابو. .تمہیں پتہ ہے، میں کام چھوڑ کے نہیں جا سکتا






    امی ابو کی منت کرتے ہوئے. .چلے چلیں نہ، بچے خوش ہو جائیں گے





    آپی. .ابو پلیز مان جائیں






    باجی. .ابو ہماری دِل سے خواہش ہے وہاں جانے کی





    میں اور ردا خاموش رہے.ابو کچھ نہیں بولے، اور ناشتہ کر کے آفس چلے گے





    میں یونیورسٹی چلا گیا اور آپی بھی چلی گئی.باقی لوگ گھر پر ہی رہے.دوپہر کو جب واپس گھر آیا تو امی آپی اور باجی بہت خوش لگ رہی تھی.ردا بھی ان کہ ساتھ تھی.یہ لوگ لیونگ میں تھے.ردا لیگز صوفے پر کیے، انہیں ایک طرف سمیٹے ، ایک کونی صوفے کی بیک کی ٹاپ پہ رکھے اور اسی کونی والے ہاتھ کو سَر کی سائیڈ پہ رکھے بیٹھی تھے، وہ انکی طرح خوش نہیں تھی پر نارمل لگ رہی تھی






    امی خوشی سے بولی. .عاقب ابو مان گے ہیں، ابھی انکی کال آئی ہے، انہوں نے ڈرائیور کو بلا بیجھا ہے، تاکے کیمپس ارینج کر سکیں، اور ساتھ میں جو بھی چیزیں ضرورت ہیں





    میں نے اپنے چہرے پہ بناوٹی خوشی لائی. . واہ گڈ بہت مزہ آئے گا





    پھر امی باجی اور آپی آپس میں ٹرپ کو ڈسکس کرنے لگی، ردا خاموش بیٹھی انکی باتیں سن رہی تھی






    پھر ایک دن چھوڑ کر اس سے اگلے دن ہم لوگ صبح کا ناشتہ کر کے کوئی تقریباً دس بجے نکلے.ابو نے دو چمچماتی تیتیس سو سی سی بلیک نیو وی-گو ہائر کی تھی، ایک میں ہم بھائی بہن تھے اور دوسری میں ابو امی اور بیک سیٹ پے ہمارا ملازم تھا ، جسے امی ہیلپ کے لیے ساتھ لے کر جا رہی تھی، کے وہاں آرام سے سب رہ سکیں.کیمپنگ کا اور باقی ضرورت کا سامان ابو کی وی-گو کی بیک پے تھا، اور باقی بیگز ہماری والی وی-گو کی بیک پہ تھے






    ہماری والی وی-گو میں ڈرائیو کر رہا تھا اور دوسری ابو. ابو نے مجھے نکلتے وقت کہا. .احتیاط سے ڈرائیو کرنا





    میں تابیداری سے بولا. .جی ابو جی




    میرے ساتھ والی سیٹ پر آپی تھی، انکی بیک سیٹ پہ باجی اور میری بیک پہ ردا بیٹھی تھی. سفر شروع ہوا، ہمارے شہر سے ناران کا فاصلہ تقریباً سولہ گھنٹے کا تھا، پلان کے مطابق ہم نے ہاف سفر آج مکمل کرنا تھا اور ہاف نیکسٹ ڈے







    جلدی ہی ہم شہر سے باہر ہائی وے پر ہو گے تھے، پہلا ایک گھنٹہ گاڑی میں خاموشی چھائی رہی، پھر اچانک آپی نے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بنا کر بازو ہوا میں لہراۓ اور شور ڈالنے لگی. . میوزک میوزک میوزک






    باجی نے بھی اِس شور میں انکا ساتھ دیا، اور انہوں نے ردا کو بھی کونی ماری، ردا نے شور نہیں ڈالا بس فلیٹ لہجے میں بولی. . میوزک میوزک







    میں نے پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ آپی کو بولا. .میرے شیڈز والے باکس میں میری یو.ایس.بی ہے وہ اٹیچ کر لیں میوزک سسٹم سے






    آپی نے یاہو کہتے ہوئے پاس رکھے باکس کو اوپن کیا اور یو.ایس.بی نکال کر اٹیچ کر دی







    پہلا سونگ لگا، یہ جسم ہے تو کیا، یہ روح کا لباس ہے ، یہ دَرْد ہے تو کیا، یہ عشق کی تلاش ہے، فنا کیا مجھے یہ چاہنے کی آس نے، طرح طرح شکست ہی ہوا، ( پھر کلاسی ساؤنڈ سسٹم نے دھمک اور سنگر کی اٹھتی آواز کو کیا بنا کر پیش کیا واہ واہ ) رضا ہے کیا تیری؟ دِل و جہاں تباہ کیا، سزا بھی کیا تیری، وفا کو بےوفا کیا، تو وار زندگی سے یوں مجھے جدا کیا ، کہاں کہاں پھیروں میں ڈھونڈتا







    میرے جسم میں جیسے آگ سی لگ گئی ان لفظوں سے.میں نے بیک ویو مرر میں دیکھا تو اسکی نظریں بھی مجھے دیکھ رہی تھی، ان نگاہوں میں اتنی گہرائی تھی کے میرا جسم کانپ سا گیا، اس گہرائی میں میں اترا تو اترتا ہی چلا گیا، پر مجھے کچھ نہ مل سکا، پھر کچھ ملنے کی امید سے اور نیچے اترا.ابھی اتر رہا تھا کے ابو کی گاڑی جو کے ہمارے آگے تھی، اس سے ہارن بجا.اور میری نظریں واپس روڈ پے گئی.بےدھانی میں میں ابو کی گاڑی کے بالکل پاس چلا گیا تھا، اور بس ٹکر ہونے والی تھی.اتنے میں آپی چلائی..اوئے گاڑی لگنے لگی ہے






    وہ آگے دیکھ رہی تھی سو مجھے نہ دیکھ پائی کے میں کہاں گم تھا






    میں نے گاڑی کو سمبھالا، اور پھر سے روڈ پے فوکس کیا، اتنے میں امی کی کال آئی آپی کو ( آپی نے میوزک کا والیوم سلو کر دیا ) امی بولی..سْپِیکَر آن کرو





    سْپِیکَر آن ہونے پر ، دوسری طرف سے ابو کی غصے سے بھری آواز آئی. . گدھے دھیان کدھر ہے تمہارا؟ ابھی ایکسڈنٹ ہو جاتا






    میں..سوری ابو







    ابو. .اگر ایسے ہی کرنا ہے تو میں ڈرائیور بلا لوں تمہارے لیے






    میں. .نہیں ابو اب خیال رکھوں گا








    دوسری طرف سے کچھ کہے بغیر ابو چُپ ہو گے، اور امی نے کال کاٹ دی






    آپی نے مجھے چھیڑتے ہوئے کہا. .عاقب تمہاری غلطی نہیں ہے، گانا ہی بہت اعلی لگا ہوا تھا







    انکا اشارہ سدرہ کی طرف تھا








    باجی کی بھی ہلکی سی ہسی کی آواز مجھے سنائی دی





    میں نے پھیکی سی مسکراہٹ سے ان دونوں کے مذاق کا جواب دیا








    تھوڑی دیر بعد ایک انگلش سونگ بج رہا تھا..ٹیکنگ بیک مائی لو







    آپی سونگ کو انجوئے کرتے ہوئے بولی..نائس ٹریک









    یوں میری میوزک کلیکشن اور آپی باجی کی شرارتوں کے سہارے ہمارا آٹھ گھنٹے کا سفر ختم ہوا





    رستے میں ہم ایک بار ہی رکے، وہ بھی ریفریشمینٹ کے لیے کچھ لینے کو







    ابو نے یہاں بھی اور ناران میں بھی اپنے سورسز استمال کر کے پہلے سے ہی وی.وی.آئی.پی ریسٹ ہاؤسز رزرو کروا لئے ہوئے تھے.ہم لوگ اپنے اپنے رومز میں جا کر فریش ہوئے اور پھر ڈنر پے ہی ملاقات کی.ڈنر کے بعد گپ شپ کا سلسلہ چل پڑا، اِس گپ شپ میں، میں ابو اور ردا زیادہ خاموش تھے، باقی لوگ بول رہے تھے







    ابو نے سگریٹ لگایا تو امی بولی. .آپ کو کتنی بار کہا ہے جوان بیٹیوں کے سامنے سگریٹ نہ پیا کریں






    یہ ایک واحد بات تھی، جس پہ امی ابو پہ غصہ کرتی تھی، باقی ابو تو اپنی بھی نہیں سنتے تھے ہاہاہا







    ابو سگریٹ نا بھجاتے ہوئے، امی کی بات پے مسکرا دیئے.ہمیں ابو کی یہ مسکراہٹ کم ہی دیکھنے کو ملتی تھی








    جب کافی ٹائم گزر گیا تو ابو نے کہا. .چلو اٹھو اب سو جاؤ سارے. صبح آگے سفر بھی کرنا ہے.پھر ہم سب اپنے اپنے روم میں چلے گے.میں نے سلیپنگ ڈریس پہنا اور روم کی ونڈو کھول کر ایک سگریٹ پیا اور پھر ونڈو بند کر دی اور بیڈ پے لیٹ گیا، اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے سو گیا







    صبح امی نے اٹھایا اور پھر سب نے فریش ہو کر ناشتہ کیا، اب ہم سب اگلے سفر کے لیے تازہ دم تھے






    پھر سے سفر شروع ہوا، ابو کی گاڑی آگے آگے تھی.گزرے ہوئے دن ہم پہاڑی علاقے میں داخل ہو چکے تھے.ہمارے رائٹ لیفٹ دونوں طرف پہاڑ تھے.ہم نے شیشے تھوڑے تھوڑے نیچے کر لیے اور ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہواؤں کو انجوئے کرنے لگے میوزک کے ساتھ






    پھر ایک سونگ لگا . .تو نے جو نہ کہا وہ میں سنتا رہا





    آپی اپنے روایتی شرارت سے بھرپور لہجے میں بولی. .سدرہ جو نہیں کہتی وہ بھی سن لیتے ہو واہ






    میرے وہم گمان میں انکا یہ حملہ نہیں تھا، سدرہ کا نام یوں وہ لے لیں گی یہ مجھے توقع نہیں تھی.میں نے انکی طرف شکوے بھرے انداز میں دیکھا





    باجی کی ہسی کی آواز پیچھے سے آئی






    ردا بولی. .یہ سدرہ کون ہے؟






    باجی بولی. .اچھا تو آپ بولتی بھی ہیں؟ اور سوال بھی اٹھتے ہیں آپ کے من میں، یہ جان کر خوشی ہوئی






    اور پھر آپی اور باجی ہسنے لگی






    باجی بولی. .یہ زویا بتاۓ گی کے سدرہ کون ہے





    آپی بولی. .سدرہ آپ کے بھیا کی گرل فرینڈ ہے





    پھر ردا چُپ ہو گئی، میں نے بیک ویو مرر میں دیکھا تو وہ اپنے موبائل پے لگی ہوئی تھی، اسکے چہرے کو دیکھ کے یوں لگ رہا تھا کے جیسے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کے میری گرل فرینڈ کیسی ہے؟ کیا ہے؟






    باجی اٹھکیلی سے بھری آواز میں. .ردا تم پوچھو گی نہیں عاقب سے کچھ سدرہ کے بارے میں






    ردا . . نہیں، بھیا کی اپنی لائف ہے میں اس میں کیوں انٹرپٹ کروں






    باجی. .تم نہ کرو ہم تو کریں گی کیوں زویا؟






    آپی. .ہاں ہاں ضرور






    میں ناراض ہوتے ہوئے اور ہلکے سے غصے میں بولا. .پلیز یار کوئی اور ٹاپک ڈسکس کر لو، پلیز







    باجی اور آپی کچھ دیر کے لیے بالکل خاموش ہو گی پھر اچانک ہسنے لگی، اور یوں ہی انکے ہسی مذاق میں سفر گزر گیا.میں بہت اپ سیٹ ہوا تھا انکی وجہ سے.آگے تھوڑی مصیبتیں تھی میری زندگی میں، جو انہوں نے ایک پہاڑ اور کھڑا کر دیا تھا.ویسے ان کا قصور بھی کیا تھا، انہیں کیا پتہ کے میری زندگی کے بیچ کیا چل رہا ہے






    ناران پہنچتے ہی ہم نے فریش ہو کر ڈریسسز چینج کر لیے، یعنی اب ہم نے موسم کے مطابق ڈریس پہنے ہوئے تھے.رات کو ڈنر کے بعد ہم لوگ ناران بازار میں واک کے لیے نکلے، ابو ریسٹ ہاؤس میں ہی رہے، کافی اچھا تھا بازار روشنیاں جگمگ جگمگ کر رہی تھے، اور اس بازار کے بیچ ہم چل رہے تھے. تازہ ٹھنڈی ہوائیں ہمارے چہروں سے ٹکرا رہی تھی. امی اور بہنوں نے جیولری کی شاپ پہ شاپنگ شروع کر دی، اور میں بور ہونے لگا، میں امی کو واپس آنے کا کہہ کے آگے بڑھ گیا.جب تھوڑا سیف فیل کیا تو سگریٹ لگا لیا، آہ ٹھنڈی ہواؤں اور پر فضا جگہ پر سگریٹ پینے کا اپنا ہی مزہ ہے.لمبے لمبے کش لے کر میں نے سگریٹ ختم کیا اور واپس امی وغیرہ کے پاس آ گیا.پھر یوں ہی انھوں نے کچھ اور بھی لوکل چیزوں کی خریداری کی اور پھر ہم لوگ واپس آ گے.میں نے اپنے روم میں آ کر سلیپنگ ڈریس پہنا اور سو گیا، کیوں کے بہت تھک چکا تھا میں









    صبح اٹھ کر میں تیار ہوا اور جینز اور شرٹ کے اوپر اپنی فیورٹ جیکٹ پہنی اور ڈائننگ روم کی طرف بڑھا، سارے وہاں تیار پہلے سے موجود تھے.بس ابو کا انتظار تھا، سب کے چہرے لٹکے ہوئے تھے، سواۓ ردا کے.میں نے امی سے پوچھا. .سب ٹھیک ہے؟







    امی پریشان لہجے میں. .کل اوپر جھیل پہ کوئی پرابلم ہوا ہے اور کچھ دنوں کے لیے اوپر کے لیے نو انٹری ہے.ابو کسی دوست سے بات کر رہے ہیں کے ہمیں اوپر جانے کی اجازت مل جائے





    ابو کے وہ دوست ٹاپ رینک کے آفیسر تھے





    میں بھی تھوڑا پریشان ہو گیا کے ردا کا دِل ہو گا اوپر جانے کو اور آپی باجی بھی اتنے دور کیمپنگ کے لیے آئی ہیں، اب یہاں آ کر اوپر نا گے تو سب کا دِل ٹوٹ جائے گا







    اتنے میں ابو آ گے. . میں کوشش کر رہا ہوں، امید تو ہے اجازت مل جائے گی، دیکھو پھر






    باجی آپی امی کے چہرے تھوڑے آباد سے ہوئے.ابو نے کہا. . میں نے پتہ کیا ہے یہاں قریب ہی ایک سپاٹ ہے بہت اچھا، وہاں چلے چلتے ہیں.اتنے میں پتہ چل جائے گا







    ہم لوگ ناشتہ کر کے پھر اس سپاٹ پر چلے گے کافی اچھا سپاٹ تھا، کافی انجوئے کیا بہنوں نے ردا کو بھی اپنے ساتھ ملا کر.پر ایسا لگ رہا تھا ردا بس انکی خوشی کے لیے انکا ساتھ دے رہی ہے







    شام سے تھوڑا پہلے ہی ہم واپس آ گے، اور پھر ابو کو انکے دوست کی کال آئی کہ، اجازت مل گئی ہے، اب آپ لوگ اوپر جا سکتے ہیں.سب کے چہروں پے خوشی آ گئی








    ہم لوگوں نے تیاری پکڑی اور گاڑیوں میں بیٹھ گے.امی نے ابو سے کہا کے دوسری گاڑی کے لیے ڈرائیور ہائر کر لیں.پر میں نے کہا نہیں میں چلا لوں گا






    پھر ہمارا اوپر کا سفر شروع ہوا، آہستہ آہستہ رستہ دشوار ہوتا جا رہا تھا، ہم نے گاڑیوں کی سپیڈ بالکل سلو رکھی ہوئی تھے.آپی باجی کی ہسی بھی آہستہ آہستہ گم ہوتی جا رہی تھی، ردا کے ایکسپریشنز نارمل تھے.میں نے اپنا پورا فوکس روڈ پہ رکھا ہوا تھا.ایک جگہ سے روڈ اتنی تھوڑی تھی کہ لگ رہا تھا کے گاڑی یہاں سے گزر نہیں پائے گی، پر ابو کی گاڑی آرام سے گزرتے دیکھ میں نے بھی گاڑی آگے بڑھائی اور وہاں سے گزر گیا






    آپی. . اُف یہ کتنا خطرناک رستہ ہے






    میں مسکراتے ہوئے. .آپی میوزک لگاؤ نہ





    آپی..مجھے اپنی جان کی پڑی ہے اِس وقت





    باجی. .سلو سلو گاڑی چلاؤ






    میں. .بند نہ کر دوں گاڑی، اب سے زیادہ سلو کیا چلاؤں






    آپی..عاقب تمہیں مذاق سوجھ رہے ہیں، اُف یہ دیکھوں نہ رستے کو





    میں. .ڈرائیور سے ایسی باتیں نہیں کرتے، وہ ڈسٹریکٹ ہوتا ہے





    آپی..او کے سوری تم دھیان سے چلاؤ






    سارے رستے انکے چہرے اترے رہے






    پھر ہم آخرکار اوپر پہنچ ہی گے







    شام کا وقت تھا، ہم لوگ گاڑیوں سے اُترے، اور جہاں کھڑے تھے وہی کھڑے رہ گے.اتنی خوبصورت جگہ میں نے آج تک نہیں دیکھی تھی، بس میں دیکھتا ہی چلا گیا، مجھے ایک احساس نے ستایا کے میں پہلے یہاں کیوں نہیں آیا.اتنی پیاری جگہ میں نہیں دیکھ سکا







    اتنے میں ابو بولے. .بعد میں انجوئے کرنا عاقب پہلے شرافت ( ہمارا ملازم ) کو سمجھا دو کے اس نے ٹینٹ کہاں اور کیسے لگانے ہیں






    وہاں ہمارے علاوہ بس دو تین مقامی لوگ تھے.بعد میں وہ لوگ بھی دکھائی نہیں دیئے







    میں نے جھیل کے پاس ایک گراسی فلیٹ ایریا سیلیکٹ کیا اور شرافت کو سمجھایا کے ٹینٹ کیسے لگانے ہیں اور کتنے فاصلے پر لگانے ہیں، ایسے کے ہر بندے کی پرائی ویسی ڈسٹرب نہ ہو.شرافت زہنی توڑ پر بہت سیدھا تھا، جب تک اپنی بےعزتی نا کروا لے تب تک کام سہی سے نہیں کرتا تھا، پر تھا بہت اچھا انسان، ہمارا کافی پرانا اور وفادار تھا، عمر 26 سال تھی اسکی، 16 سال کی عمر کا تھا جب ہمارے پاس آیا تھا.ٹینٹ آٹومَیٹِک تھے جو اسنے بڑی مستدی سے لگاے.ٹینٹ ایک دوسرے سے بہت دور دور کر کے لگاے گے تھے.ہر ٹینٹ کا ایک ڈفرنٹ کلر تھا، بہت سٹائلش خوبصورت اور اندر سے کافی کشادہ تھے ٹینٹ





    شرافت نے اپنا ٹینٹ لیا اور ہم لوگوں سے دور ایک ایریا سیلیکٹ کر کے لگا لیا، جہاں سے ہمیں اسکا ٹینٹ نظر نہیں آ رہا تھا.پھر اسنے گاڑیوں سے سامان اتارا اور سب کا متعلقہ سامان سب کے ٹینٹس میں رکھ دیا اور ٹینٹس اندر سے سیٹ کر دیئے.اور میں اس کی نگرانی کرتا رہا کے وہ سب اچھے سے کرے







    بہنیں ادھر ادھر گھوم رہی تھی کے انہیں وہاں ایک بزرگ آدمی مل گیا.اس نے ان سے پوچھا. . بچو یہاں کی پری اور شہزادے کی کہانی سننی ہے





    بہنوں نے حامی بھری اور مجھے آپی نے آواز دی. . عاقب یہاں آؤ







    میں بھی چلتا چلتا انکے پاس آ گیا، وہ تینوں جھیل کے کنارے بیٹھی تھی اور بابا جی بھی انکے پاس نیچے بیٹھے تھے






    آپی نے کہا. .آؤ یہاں بیٹھو بابا جی یہاں کی لوک داستان سنانے لگے ہیں






    میں بھی نیچے بیٹھ گیا اور ہم سب بابا جی کی طرف دیکھنے لگے.جھرریوں سے بھرا چہرا تھا انکا، ہلکی ہلکی داڑھی تھی انکی، سر پے وہاں کی مقامی ٹوپی اور مقامی کپڑے پہن رکھے تھے انہوں نے اور اپنے اوپر چادر لے رکھی تھی






    پھر بابا جی نے کہانی شروع کی کے کیسے شہزادے نے خواب میں پری کو دیکھا اور وہ اپنے ملک سے یہاں پری کے پیچھے آیا اور پھر محبت کی ایک لازاوال داستان رقم ہوئی، ہم اس شام سہانی میں بیٹھے بابا جی کو دیکھے جا رہے تھے اور بابا جی ہمیں وقت کے گزرے اس زمانے میں انگلی پکڑ کر لے جا رہا تھا.بابا جی کہانی سنا کر چُپ ہو گے، تو میں واپس آیا گزرے اس زمانے سے، تُو میری نظر سامنے بیٹھی ردا پر پڑی تو وہ مجھے دیکھے جا رہی تھی.میری نظریں اس سے جب ہمکلام ہونے لگی تو وہ نیچے دیکھنے لگی.میں نے بابا جی کا شکریہ ادا کیا اور انہیں پیسے دیے، جنھیں لے کر وہ ایک جانب چل پڑے.پھر آہستہ آہستہ ہماری نظروں سے اوجھل ہو گے







    رات کو وہاں ایک عجیب سا سماں تھا، ٹھنڈ حد سے زیادہ ہو چکی تھی وہاں، چاند کی چودھویں کی رات تھی ، چاند اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا، اور اسکا ساتھ پتہ نہیں کتنے ان گنت ستارے دے رہے، آسْمان ستاروں سے بھرا پڑا تھا، آسْمان پر خالی جگہ نظر ہی نہیں آ رہی تھی، کوئی ایسی جگہ جہاں کوئی ستارہ نہ ہو، ہلکی نیلی اور پنک رنگ کی روشنی کو اگر ملایا جائے اِس طرح کی روشنی جھیل پر، ٹینٹس پر ، اسکے ارد گرد گرین گراس پر، اور ارد گرد کے تمام پہاڑوں پر پڑ رہی تھی، جھیل کے سامنے جو دو پہاڑ آپس میں بالکل نیچے جا کر مل رہے تھے ان پہاڑوں کے ٹاپ پر برف پڑی ہوئی تھی، اور یہ جتنے بھی نظارے تھے یہ سب جھیل میں عکس کی صورت دکھائی دے رہے تھے، وہ چاند وہ تارے وہ پہاڑ برف وہ عجب سی روشنی سب کے سب







    یہی تو تھی میرے خیالوں کی دنیا جس کا میں شہزادہ تھا. مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے میں آج اپنے گھر آیا ہوں





    سب کھانا کھا کر کب کے اپنے اپنے ٹینٹس میں جا چکے تھے






    میرے قدم اپنے ٹینٹ کے اندر کی جانب بڑھے اور میں نے وہاں سے کافی کا فلاسک ( جو میں نے شرافت سے اپنے لیے پہلے بنوا لیا تھا ) اٹھایا اور ردا کے ٹینٹ کی جانب بڑھا اور پھر اسکے ٹینٹ کے پاس پہنچا.اسکا ٹینٹ ریڈ کلر کا تھا، باہر سے اندر کا کچھ نظر نہیں آ رہا تھا بس اتنا دکھائی دے رہا تھا کے روشنی جل رہی ہے اندر.میں نے پاس کھڑے ہو کر آواز دی. .ردا کیا میں اندر آ سکتا ہوں، کافی لایا ہوں تمہارے لیے






    کچھ پل گزرے تو اس نے ٹینٹ کی زپ اندر سے کھولی، اندر پیلے سے رنگ کا چارجنگ لیمپ آن تھا، جس کی روشنی مدھم سی تھی ہاں مدھم مدھم سی، ردا بلیک کلر کے ٹراوزر میں تھی اوپر بلیک شرٹ اور بلیک نیو اسٹائل کی ٹائیٹ جیکٹ پہن رکھی تھی اسنے ، جیکٹ بیلی تک تھی، یعنی شارٹ جیکٹ تھی اور شرٹ اس سے باہر کو نکلی ہوئی تھی، جیکٹ کی زپ بند تھی، پاؤں میں اس نے پرپل کلر کی سوکس پہن رکھی تھی.(میں نے ٹراوزر شرٹ اور اوپر ایک پتلی پر بہت گرم جیکٹ پہن رکھی تھی).اسنے مجھے سائیڈ پہ ہو کے اندر آنے کا رستہ دیا جب میں اندر آ گیا تو اس نے ٹینٹ کو زپ سے بند کر دیا






    میں نے جوتے باہر ہی اتار دیے تھے






    اسکے پورے ٹینٹ میں زمین پر ایک بہت نرم سا کارپیٹ بیچھا تھا اس پر میڈیم سے سائز کا میٹرس رکھا ہوا تھا، اس میٹرس پر چادر بچھی ہوئی تھی، ایک سرہانہ اور دِل کو بهانے والے رنگ کے کور والی رضائی بھی پڑی تھی. ٹینٹ کی ہائیٹ تقریباً سات فٹ تھی اور چوڑائی اور لمبائی بھی اندازاً اتنی ہی تھی.ایک سائیڈ پر اس کا سامان ترتیب سے رکھا ہوا تھا.ٹینٹ کے اندر مدھم روشنی نے اک عجب سا ماحول بنایا ہوا تھا








    وہ رضائی کو سائیڈ پے کر کے میٹرس پر بیٹھ گئی، میں بھی کارپیٹ پر بیٹھ گیا اور فلاسک اس کو دے دی.اس نے پاس رکھے دو کپس اٹھاے اور ان میں باری باری کافی ڈالی، پہلے ایک میں ڈال کر مجھے دی پھر دوسرے کپ میں ڈال کر خود رکھی.اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد سپ کرنے لگی








    میں کافی کے ساتھ ساتھ متواتر اسے دیکھے جا رہا تھا، پھر وہ لمحہ آیا کے اسنے نظر اٹھا کر مجھے دیکھا، آنکھ سے آنکھ لڑی، اور بس پھر دنیا کو بھول گے ہم، وہ مجھے دیکھے جا رہی تھی اور میں اسے، کھو گے تھے ہم دونوں ایک دوجے کی آنکھوں میں.کافی تو بس ہاتھ میں پکڑے پکڑے ٹھنڈی سی پڑ گئی تھی شاید






    یہ جو ہوتی ہے نہ یہ اختیار کی بات تھوڑی میں ہوتی ہے، یہ تو بس ہونے پہ آتی ہے تو بس ہو جاتی ہے.یہ پوچھ کے کب آتی ہے، بس یہ ہر وقت برستی رہتی ہے جسم و جاں پہ.انسان کہتا ہے مجھے رہائی دے دے، وہ آنکھوں سے کہتی ہے، میں تو خود قید ہوں کہی ، تیرا پنجرا بھی تو میرے آس پاس کہی لگا ہے، تُو بھی تو قید ہے، مرضی نہیں چلتی یہاں بس تماشہ ہے، سب اس پنجرے سے دیکھی جاؤ






    کپ پتہ نہیں میں نے کہاں رکھا، یا نہیں رکھا یہ یاد نہیں مجھے میں گھٹنوں کہ بل آگے ہوتا چلا گیا اور اس کے پاس پہنچ گیا، اس نے آنکھیں بند کر لی، اور میں نے ہونٹ اسکے ہونٹوں پہ رکھ دیئے






    روئی کی ماند جو اس کے ہونٹ تھے وہ میرے ہونٹوں سے جڑے تھے.وہ اپنی ناک سے تیز تیز سانسیں لینے لگی، پھر کچھ پل بعد اس نے اپنے ہونٹوں کو تھوڑا سا کھولا اور میرے ہونٹوں کو اپنی لپٹ میں لے لیا، میری سانسیں اوپر کی اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی تھی. یہ ہونٹ جانے کب سے ایک دوجے کا انتظار کر رہے تھے، کے آج جب ملے تو پھر ٹوٹ کے ملے، ایسے ملے کے اب ایک دوجے کو پھر کبھی جدا نہ ہونے کا یقین دلا رہے ہوں.انکی ملاقات یوں تھی جیسے کہہ رہے ہوں کے اب اگر بچھڑے تو جینا مشکل ہو جائے گا، سانس لینی مشکل ہو جائے گی، یہ ہونٹ کہہ رہے تھے اب ہمیں جدا نہ کرنا اگر کیا تو ہمارا کیا رہے گا پھر اِس دنیا میں، ہم تو بنے ہی ایک دوجے کے لیے ہیں، ہمارا مقام بس یہی ہے، ہم سے ہمارا مقام نہ چھیننا







    پھر جب انہیں جدا کیا تو انکا ماتم دیکھا ہم نے، ہاں ہونٹوں کا






    ردا نے آنکھیں کھولی اور ان خواب آور آنکھوں سے میری آنکھوں میں دیکھا، میں نے اسے میٹرس پر لیٹا دیا.میں نے اسکے دونوں پاؤں سے سوکس اتر دی، اور اسکے دونوں پاؤں ایک دوسرے سے جوڑ کر اپنے دونوں ہاتھوں سے تھوڑے سے اوپر اٹھا لیے، میں گھٹنوں کے بل اسکے میٹرس پر تھا اب، اور وہ میرے سامنے اس میٹرس پر لیٹی تھی







    اسکے پیارے پیارے پاؤں میرے دِل کو کتنے ہی بھلے لگے، وہ پاؤں ریئل میں زمین پر نہیں میرے دِل پر چلنے کے لائق تھے، میں دِل زمین پر رکھتا اور وہ اس پہ قدم رکھتی، ایسے تھے اسکے پاؤں، ایسے تھے کے اگر شیشہ بھی انکے سامنے رکھا جاتا تو شیشہ بول پڑتا کہ ہاں آج میرے لیے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے، پاؤں کی تلیوں پے کہی بھی کوئی لکیر نہیں تھی، میں نے ان پاؤں سے دِل ہی دِل گِلا بھی کیا، کے کیوں آج تک مجھے اس سے دور رکھا جس کے تم ہو، اب ایسا نہیں کرنا ، ورنہ میں خفا ہو جاؤں گا تم سے.پھر میں نے خوب پیار کیا اپنے ہونٹوں سے انھیں.میرے ہونٹ مسکرانے لگے اور مجھے کہنے لگے ہم تُو یوں ہی ماتم کیے جا رہے تھے، تو نے تو ہمیں ایک اور ہی دنیا دیکھا دی









    پھر میں نے ردا کے پاؤں نیچے کیے اور اسے اُلٹا لیٹا دیا.پھر میں نے اسے کمر سے پکڑ کر گھٹنوں کے بل کیا، اب اسکا ماتھا آنکھیں ناک سرہانے پہ ٹِکّی ہوئی تھی، کھلے بال اسکے آگے کی جانب ہوئے تھے، بازو اسکے کونیوں تک سرہانے پے رکھے ہوئے تھے، لیگز اس کی تھائز سے گھٹنوں تک کھڑی تھی باقی گھٹنوں سے پاؤں تک میٹرس پر لیٹی ہوئی پوزیشن میں تھی اسکی لیگز









    میں نے بہت چاہت کے ساتھ اپنے سانسوں کو سمبھالتے ہوئے اسکا ٹراوزر گھٹنوں تک نیچے کر دیا.ردا کی گانڈ میرے سامنے ننگی حالت میں موجود تھی، میری نظریں اسکی گانڈ پر جیسے جم سی گئی تھی، وقت جیسے تھم سا گیا تھا، ایک نظارہ تو ٹینٹ سے باہر کی دنیا کا تھا اور ایک نظارہ ردا کی گانڈ کا تھا، موٹی چوڑی گول مٹول گانڈ تھی، گانڈ کی دڑاڑ سے جو دو دیواریں باہر آ رہی تھی وہ ایک حَسِین کہانی بیان کر رہی تھی، اس گانڈ کو دیکھ کر مکھن کی یاد آ گئی تھی، مکھن کے جیسی سفید اور گلابی گانڈ تھی. حسن پر اگر میں کوئی کتاب لکھوں تو اس کتاب کو میں اِس گانڈ کے نام لکھوں، اسکی گانڈ قیامت تھی قہر تھی، ایک ان سنی داستان تھی، میرے تصور کی میرے تخیل کی میرے مشاہدے کی حدوں سے باہر تھی یہ گانڈ.الفاظ کا ہجوم تھا میرے سامنے، اس ہجوم سے کتنے ہی بدن وجود میں آئے اور میرے سامنے آ کر کھڑے ہو گے، اور مجھ سے معافی مانگنے لگے کے، ہم اِس پہ لکھیں بھی تو کیا لکھیں، یہ آرزو ہے، یہ دِل کا میت ہے ، یہ سر ہے یہ سنگیت ہے ، یہ آگ ہے ، یہ راگ ہے، دھنوں کا مرکز ہے یہ، دھنیں ناچتی ہیں اِس کے آگے، وقت کو یہ بےبسی کے سمندر میں یوں ڈبو دے کے وقت ہار جائے، وقت اپنا دم توڑ دے اس کے سامنے، ہم کیا ہماری اوقات کیا، لطف کی حدیں ٹوٹ جائیں، صبر کے پیمانے چھلک جائیں، نشہ جل کر خاک ہو جائے، اے لفظ، تو میرے یار کو نہیں لکھ پایا، جا تیری اوقات کیا








    میں تھوڑا نیچے کو جھکا اور اپنا منہ اسکی گانڈ میں پھسا دیا، میں اپنی زُبان سے چاٹ رہا تھا اسکی گانڈ کو، اسکی موٹی گانڈ کی دیواروں کو، اسکی گانڈ نرم تھی، اسکی گانڈ کی دیواروں کے ساتھ ساتھ میں اسکے سوراخ کو بھی چاٹ رہا تھا.میرے گال میری ناک میرے ہونٹ اسکی گانڈ میں پھسے ہوئے تھے








    کافی دیر یوں ہی وہاں گم رہنے کے بعد، میں پیچھے کو ہوا، اور ردا کا ٹراوزر پورا اتار دیا اور میں نے ردا کو سائیڈ پہ کیا اور خود میٹرس پر لیٹ گیا




    اسکی آنکھیں نشے سے بھری پڑی تھی.میں نے اسے میرے اوپر میرے لپس پر بیٹھنے کا کہا







    وہ نشیلے لہجے میں بولی، ایسے لہجے میں بولی کے جس میں خماریاں ہی خماریاں بھری تھی. .بھیا آپ کے لپس گندے ہو جائیں گے








    میں نے اسے دیکھتے ہوئے سرور کی آخری حد پہ کھڑے اسے کہا. .پاگل ہو تم ، آؤ جاؤ میرے اوپر







    وہ اٹھی اور میرے لپس پر آ کر بیٹھ گئی، وہ ایسے بیٹھی تھی کے اسکے ہپس میرے ماتھے پر تھے اور واجینا میرے لپس پر، اسکی واجینا میں سے شہید کی طرح کا پانی نکل رہا تھا، اسکی واجینا کے اِس پانی کو واجینا کے ساتھ میں نے خوب لَک کیا.پھر کچھ ہی پل بعد اسنے اپنی پوزیشن چینج کی اب اسکی دونوں لیگز میرے سَر کے دونوں طرف تو تھی ہی، پر اب وہ آگے کو جھک گئی تھی، اسکی واجینا میرے لپس پر تھی پر ہپس اوپر کو اٹھ گے تھے.اسنے اپنے دونوں بازو میری بیلی پر رکھے اور ان پہ اپنا فیس رکھ دیا(اسکا فیس کروٹ لئے ہوے تھا ، یعنی اسکا ایک گال ہی ان بازووں پہ تھا)، اسکے بوبز جو جیکٹ شرٹ اور برا کے اندر تھے، وہ بھی میری بیلی پر تھے.میں اس کی واجینا کو اپنے ہونٹوں اور زُبان سے کس اور لَک کر رہا تھا.وہ اپنی واجینا کو گانڈ سمیت ہلکا ہلکا ہلانے لگی، ہلکی سے سسکیاں لینے لگی








    کتنی ہی دیر ہم یوں ہی لذت کی سیر کرتے رہے کے میں نے اسے پیچھے کیا اور اپنا ٹراوزر اتار کر، دونوں تھائیز جوڑ کر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا.اب میری تھائیز سے نیچے کی لیگز ہپس کے ساتھ جڑی ہوئی تھی.اسکی نگاہ میرے ڈک پر پڑی تو اسکی آنکھوں میں خوف نہیں اپنایت تھی.میں نے اسے اپنے پاس کیچا اور اپنی گود میں بیٹھا لیا، اور اسے میں نے قنچی مارنے کا بولا.یعنی اب اسکا چہرہ میری طرف تھا ، اسکی لیگز میری کمر سے ہوتی ہوئی میری بیک پہ جا کر قنچی والی پوزیشن میں تھی، اسکی بھری بھری نرم تھائیز میری تھائییز پر تھی، اور اسنے اپنے دونوں بازووں کی کونیاں میرے شولڈرز پر رکھی ہوئی تھی.شرٹ اور جیکٹ ابھی بھی اسکے جسم پر تھی، جو کے اسکی کمر سے تھوڑا اوپر ہوئی ہوئی تھی






    میرا ڈک پورے جلال سے اسکی وٹ واجینا سے ٹکرا رہا تھا.ہم دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے، ہمارے سر پر سرور کے بادل چھاۓ ہوئے تھے جو ہم پر برسے جا رہے تھے برسے جا رہے تھے، اور ہم اس میں بھیگے جا رہے تھے.میں نے اسے کہا. . پین بہت ہو گا ، اس کے لیے تیار رہنا







    اسکے چہرے پے ایسا اعتماد تھا جیسے، وہ پرسکون ہو کے اسے مجھ پر یقین ہے.اسکے چہرے پر خوف نہیں بس وہ احساس تھا جس احساس کو جو ایک بار چھو لے تو پھر بس دیوانہ ہو جائے.اسکے کھلے لمبے بال اسکی بیک پہ تھے، وہ کھلے بالوں میں اور بھی حَسِین دیکھتی تھی. میرا ایک بازو میں نے اسکی بیک پے رکھ ہوا تھا اور دوسرے بازو والے ہاتھ سے میں نے ڈک کو پہلے اسکی واجینا پہ رب کیا پھر ہلکا سا جھٹکا لگایا ڈک کی کیپ نے اسکی واجینا میں اپنی جگہ بنائی.اسکے چہرے پہ ہلکی سی تکلیف کے آثار آئے اور پھر وہ نارمل ہو گئی.واجینا اور میرے ڈک کے جوسسز کی وجہ سے میرا ڈک اتنا وٹ تھا کے پہلے جھٹکا ہی کامیاب رہا.میں نے ہمت کی اور ایک ہلکا سا جھٹکا اور لگایا میرا ڈک اور آگے کی طرف چلا گیا.یوں ہی کوشش سے اور کچھ اور جھٹکوں سے ڈک ہاف اندر چلا گیا







    میں نے اسے کہا. .بس اِس سے زیادہ نہیں ڈالتا







    وہ اپنی تکلیف کو بھولتے ہوئے ہلکی سے دَرْد میں ڈوبی آواز میں بولی. .کیوں







    میں. .میں نہیں چاہتا کے تمہیں اور تکلیف دوں








    وہ پیار کی شدت سے بولی. .آپ پریشان نہیں ہوں







    میں آگے کو ہوا اور میں نے اسے نیچے میٹرس پر لٹایا، اس کی لیگز ابھی بھی میری بیک پر تھی اسکے بازو بھی اسی پوزیشن میں تھے، میرا ڈک ابھی بھی، اسکی واجینا میں تھا، بس اسکی تھائیز اب کھڑی والی پوزیشن میں تھی.میرے ڈک کو اسکی واجینا نے بہت ٹائٹ گریپ کیا ہوا تھا، ایک سخت قسِم کا شکنجہ بنی ہوئی تھی اسکی واجینا.میں نے اپنے دونوں ہاتھوں کی فنگرز اسکے بالوں میں ڈالی اور اسکے بالوں کو سہلاتے ہوئے، ایک جھٹکا لگایا، ڈک کچھ اور اندر چلا گیا، ہر جھٹکے پر ایک تکلیف کا معمولی سا احساس اسکے چہرے پر آتا اور پھر محبت کا احساس اس تکلیف کے احساس پر حاوی ہو جاتا.یوں ہی تین سے چار اور سٹروکس سے میرا پورا ڈک اسکی واجینا میں ضم ہو گیا









    میں نے فتح کی خوشخبری اسے سنائی.اسکے چہرے پر ایک خوشی سی ابھر آئی.میں نے آہستہ آہستہ اپنے ڈک کو باہر نکالا تو اس کے منہ سے سیی سیی کی آواز نکل گئی،یوں ہی پھر میں نے ڈک کو اندر کی جانب دھکیلا.اسکے منہ سے اوے ابو جی کی آواز نکلی.ایسے ہی میں آہستہ آہستہ اپنی سپیڈ بلکل معمولی سی بڑھانے لگا.ہماری سانسیں پھر سے تیز ہونے لگی، میری سانسوں نے مجھ سے شکایت کی کے آج کس امتحان میں ڈال دیا تو نے.ہمیں یوں لگا کے مزہ بس آج ہی ہم میں عود آیا ہے، سرور کے بچھو ہمیں پھر سے ڈنگ مارنے لگے






    میرا ڈک اسکی جوسی واجینا کی دیواروں سے ٹکراتا انہیں کھولتا ہوا اندر کو جاتا اور جب باہر کی طرف آ رہا ہوتا تو وہ جوسی دیواریں پھر سے خود بخود بند ہوتی جاتی.ڈک واجینا کے جوس میں ڈوبا ہوا تھا.تھائیز تھائیز سے ٹکرا رہی تھی







    میں اچانک بولا. .میرا سدرہ کے ساتھ اب کچھ نہیں ہے سب ختم








    وہ لذت میں ڈوبی مسکرا پڑی، ایسے جیسے کہہ رہی ہو، جس احساس کو ہم دونوں نے چھو لیا ہے، اب اگر کوئی ہمارے رستے میں آیا تُو جل کر خاک ہو جائے گا







    میں اس منزل کو پہنچنے والا تھا، جسے چھونے کی امید میں زندگی بھر کے لیے کھو بیٹھا تھا








    میں. .ردا میں ڈسچارج ہونے لگا ہوں







    ردا. .بھیا میں بھی ہونے لگی ہوں








    اسنے اپنی لیگز کی گریپ میرے گرد اور مضبوط کر دی اور اپنا سر ہلکا سا اٹھا کر اپنے ہونٹوں کو میرے ہونٹوں پہ رکھا تو ہم کسسنگ کرنے لگے.پھر میرے ڈک نے ردا کی واجینا میں اندر باہر ہوتے ہوئے سپرم نکالنی شروع کی، اور ردا کی واجینا نے میرے ڈک پہ اپنا خوب پانی برسانا شروع کیا






    چھو لیا تھا ہم نے اس منزل کو، جسے چھونے کی آرزو میں ہی جانے کتنے اس منزل کی راہوں میں ہی دم توڑ چکے تھے







    پھر وہ وقت بھی آیا جب وہ دوسرے شہر اپنی پڑھائی کے لئے چلی گئی، اس رات جو ہمارے درمیان ہوا وہ پھر کبھی نہ ہوا ، ہمیں اب اسکی ضرورت بھی نہ رہی تھی کیوں کےدِل کی سرزمین پہ، محبت کا دربار سج چکا تھا، جہاں ہر وقت ایک محفل سی بپاہ رہتی، جس میں بس میں تھا اور وہ، کوئی دوجا نہیں







    محبت میں دوری نہیں ہوتی ، محبت مار دیتی ہے دوری کے احساس کو







    فلحال ختم شد








    دوستو آج تک میں نے جتنی بھی کہانیاں لکھی، انکا اختتام کرنے کے بعد آپ لوگوں نے ہمیشہ ہی مجھے کہا کے کہانی کو آگے بھی لکھو، پر ایک بار کہانی کو ختم کر دینے کے بعد کبھی پھر اسے لکھنے کا دل نہیں کیا.پر آج اس کہانی کو ختم کر دینے کے بعد خود سے دل کر رہا ہے کے اس کو آگے بھی لکھوں.ابھی میرے پاس وقت کی کمی ہے، یہاں تک بھی بہت مشکل سے وقت نکال کر لکھ پایا ہوں.پر دوستو تین سے چار مہینے بعد میں اس کہانی کے تین سے چار پارٹس اور لکھوں گا




    میری ہر کہانی کے دوران آپ لوگوں نے ہمیشہ بےپناہ محبّت دی، اس کیلئے آپ سب کا مشکور ہوں




    دوستو یہ کہانی یہاں تک آپ کو کیسی لگی ضرور بتائیے گا
    تری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے ؟؟؟ تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے
    لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجئے ، اب بھی دلکش ہے ترا حسن مگر کیا کیجئے ؟؟؟


    مسکرا کر خطاب کرتے ہو...عادتیں کیوں خراب کرتے ہو؟




  16. The Following 14 Users Say Thank You to Cupid Arrow For This Useful Post:

    Admin (12-04-2018), baani009 (12-04-2018), curves.lover (13-04-2018), guest01 (12-04-2018), hoty.naughty (12-04-2018), Irfan1397 (11-04-2018), Mirza09518 (12-04-2018), mm.khan (12-04-2018), piraro (13-04-2018), rawaljan (13-04-2018), Story-Maker (19-04-2018), sweetncute55 (11-04-2018), trojan7 (11-04-2018), zeem8187 (18-04-2018)

  17. #69
    catss is offline Premium Member
    Join Date
    Oct 2016
    Age
    28
    Posts
    5
    Thanks
    1
    Thanked 5 Times in 3 Posts
    Time Online
    1 Day 7 Hours 34 Minutes 37 Seconds
    Avg. Time Online
    3 Minutes 19 Seconds
    Rep Power
    3

    Default

    Update kar do bhai abbb tu

  18. The Following User Says Thank You to catss For This Useful Post:

    Cupid Arrow (12-04-2018)

  19. #70
    shahri007 is offline Premium Member
    Join Date
    Oct 2010
    Age
    43
    Posts
    31
    Thanks
    0
    Thanked 30 Times in 16 Posts
    Time Online
    2 Days 2 Hours 28 Minutes 22 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Minute 19 Seconds
    Rep Power
    12

    Default

    story bht hi zyda achi hai bhai ab update kar do ap

  20. The Following User Says Thank You to shahri007 For This Useful Post:

    Cupid Arrow (12-04-2018)

Page 7 of 10 FirstFirst ... 345678910 LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •