Results 1 to 6 of 6

Thread: شرمیلی مامی کی چودائی پارٹ ٹو

  1. #1
    obablee is offline Khaas log
    Join Date
    Oct 2009
    Location
    Lahore
    Posts
    98
    Thanks
    255
    Thanked 630 Times in 90 Posts
    Time Online
    1 Day 16 Hours 59 Minutes 53 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Minute 7 Seconds
    Rep Power
    35

    Default شرمیلی مامی کی چودائی پارٹ ٹو

    یہ کہانی عامر اور اسکی مامی کے بارے میں ہے۔ اور یہ کہانی مکمل حقیقت پر ممبنی ہے۔ آپ نے اس کہانی کے پہلے حصے میں پڑھا کہ کیسے عامر نے اپنی مامی کو سیکس کے لیے پھنسایا اور کیسے اسے اپنے دوست کی دوکان پر لیجا کر چودا۔ اس چودائی کے بعد بھی عامر کو بہت سارے موقع ملے جن کا بھرپور فائدا اٹھاتے ہوئے عامر نے اپنی مامی کی خوب چودائی کی۔ عامر اور اسکی مامی ایک بہت بڑے گھر میں مشترکہ خاندانی نظام میں رہ رہے تھے۔ جہاں پرائیویسی نا ہونے کے برابر تھی۔ یعنی گھر کے اندر ہر جگہ ہر وقت کوئی نا کوئی موجود ہوتا ہے۔ تین چار فیملیاں اکٹھا رہنے کی وجہ سے گھر کے افراد کی تعداد بھی کافی زیادہ تھی۔
    مامی کے ساتھ ڈیٹ مارنے کے بعد عامر کودوبارہ موقع نہیں مل پا رہا تھا۔ بس گھر کے اندر آتے جاتے کبھی اس نکر تو کبھی اس نکر ہلکی پھلکی کسنگ اور مموں کو دبانے وغیرہ کا ہی موقع مل پاتا تھا۔ عامر کے دماغ پر ہر وقت مامی کی پیاسی چوت کا نشا چھایا ہوا تھا۔ کافی سوچ بچار کے بعد آخر کار عامر نے ایک شاندار منصوبہ ترتیب دیا۔ عامر نے اپنے منصوبے کے بارے میں اپنی مامی کو آگاہ کیا۔ مامی حددرجے ڈری اور سہمی رہنے والی گھریلو عورت تھی جس نے منصوبے کی تفصیل سنتے ہی اسے فورا رد کر دیا۔ عامر نے مسلسل اسرار اور ضدی پن سے مامی کو اپنے منصوبے پر عمل کرنے کے لیے راضی کر ہی لیا۔
    منصوبے کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ گھر میں جس دن عامر کے علاوہ کوئی اور بالغ مرد اگر نہیں ہوگا تو آدھی رات کے قریب مامی اپنے گردے میں شدید درد کا بہانا بنائے گی۔ گھر میں موجود بزرگ خواتین خودبخود ہی عامر سے کہیں گے کہ وہ اپنی مامی کو ہسپتال لے جائے۔ اسطرح عامر اپنی مامی کو ہسپتال لیجانے کے بجائے اسے کسی سستے ہوٹل میں لے جائے گا جہاں بے فکر ہو کر صبح صادق تک اسکی چودائی کی جائے گی۔
    چنانچہ چند دنوں بعد ہی انہیں ایک شاندار موقع دستیاب ہوگیا۔ ایک دن صبح ہی صبح سب مرد حضرات اور چند خواتین ایک اچانک ہو جاتے والی فوتگی پر دوسرے شہر چلے گئے۔ اور ان کی واپسی اگلے دن متوقع تھی۔ عامر نے اپنی مامی کو رات کی چودائی کے لیے مکمل تیاری کرتے کو کہا۔ عامر نے اپنی مامی سے کہا کہ وہ اپنے بازو ، ٹانگوں اور چوت پر سے بال صاف کر دے۔ عامر آج اپنی مامی کے پورے جسم کو خوب انجوائے کرنا چاہتا تھا۔ عامر نے چپکے سے بازار سے لال رنگ والے جالی دار برازیئر اور پینٹی بھی مامی کو خرید کر لا دی۔ اسکے علاوہ مامی کو اس کے سوٹوں میں سے ایک برائوں سوٹ پہننے کو کہا جس میں مامی کا دودھیا رنگ کا جسم دمک اٹھتا تھا۔
    منصوبے کے مطابق رات کے وقت جب مامی نے جھوٹ موٹ کی درد سے کراہنا شروع کیا تو گھر میں موجود خواتین نے عامر کو کہا کہ وہ اپنی مامی کو ہسپتال لے جائے۔ سب کچھ منصوبے کے تحت ایک دم درست ہو ا۔ عامر اپنی مامی کو شہر میں موجود ایک ہوٹل لے گیا۔ ہوٹل والوں نے عامر سے اسکے شناختی کارڈ لے کر اندراج کیا۔ ہوٹل کے کائونٹر پر موجود لڑکے نے مامی طرف للچائی ہوئی آنکھوں سے دیکھا اور عامر سے پوچھا کہ یہ رنڈی کہاں سے پکڑی۔ یہ سنتے ہی مامی چہرہ شرم سے جھک گیا۔ عامر نے بہت آہستگی سے اسکے لڑکے کے کان میں جاکر کہا کہ لوکل مال ہے ابھی نیا نیا اس دھندے میں آیا ہے۔ ہوٹل والے لڑکے نے کہا اسکا کوئی کونٹیکٹ وغیرہ ہی دے دو۔ ہمارے پاس بہت سے لوگ آتے ہیں اور ایسی ہی صاف ستھری رنڈیوں کے بارے میں پوچھتے ہیں۔
    عامر کو اپنی مامی کے بارے میں رنڈی کے روپ میں ڈسکس کر کے بہت لطف آرہا تھا۔ اس نے لڑکے کو اپنا نمبر دے دیا اور کہا کہ وہ اس پر رابطہ کر سکتا ہے لیکن ایس ایم ایس کے ذریعے ہی بات ہو پائے گی اس رنڈی سے۔ اس نے کنٹکیٹ نمبر رکھ کر کمرے کی چاپی عامر کو تھما دی۔جیسے ہی دونوں کمرے میں داخل ہوئے عامر نے اپنی مامی کو اپنی باہنوں میں بھر لیا اور کالے برکھے کو اتارے بنا ہی مامی کی کسنگ شروع کر دی۔ عامر اس لڑکے سے مامی کے بارے میں بات کرکے ہی گرم ہو گیا تھا۔ ۔ عامر نے مامی کا کالا برکھا اتار پھینکا۔ مامی کو دھکا دے کر بیڈ پر پٹکا۔ اور اسکے اوپر چڑھ کر مامی کے مموں کو قمیض اوپر سے ہی دبانے اور سہلانے لگا۔ کبھی وہ مامی ہونٹوں پر ہلکا سا کاٹتا تو کبھی گردن کے اوپر۔ مامی عامر کی گرمجوشی کو دیکھر ھیران ہو رہی تھی۔ اس کی چھٹی ہس بتا رہی تھی کہ آج اسکی خوب چودائی ہونے والی تھی۔
    عامر نے مامی کے قیمص کو اتارا تو اسکے گول گول دودھیا ممے لال رنگ کے جالی دار بریزیئر میں خوب دمک رہے تھے۔ ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے کسی نے دودھ میں روح افزا ڈال دیا ہو۔ کچھ دیر لال بریزیئر والے مموں کے ساتھ کیھلنے کے بعد عامر نے بریزئیر کو اتار پھینکا۔ مامی کے گول گول بھرویں ممے باہر نکل آئے۔ مامی کے مموں کے برائون نپل جنسی لطف کے احساس سے اکڑے ہوئے تھے۔ عامر نے باری باری انہیں اپنے منہ میں ڈال کر چوسنا شروع کر دیا۔ مامی جو ابھی تک ایک مکمل ربوٹ بنی ہوئی تھی اور کسی بھی قسم کا کوئی رد عمل نہیں دے رہی تھی ممے کو چوسنے پر اسے بھی مزا آنا شروع ہو گیا اور اسکے منہ سے سسکاریاں نکلنا شروع ہو گئ۔ عامر نے آہستہ آہستہ مامی کے نپلوں پر کاٹنا بھی شروع کر دیا۔ جب وہ ایسا کرتا تب تب مامی کو زوردار جھٹکا لگتا۔
    مموں سے کھیلنے کے بعد عامر اپنی مامی کے ٹانگوں کے درمیان آگیا اور اسکی دونوں ٹانگوں کو دونوں طرف پھیلا دیا۔ مامی کی چوت سرخ رنگ کی پنیٹی کے اندر سے گیلے پن کی وجہ سے دمک رہی تھی۔ عامر نے پینٹی کو اتارا اور مامی کی چوت کے باہر والے لبوں پر اپنے ہونٹوں کو رکھ دیا۔ مامی کے جسم ارتعاش پیدا ہوگیا۔ مامی ایک مکمل گھریلو عورت تھی جس کی آج سے پہلے کبھی بھی چوت کو چوسا یا چوما نہیں گیا تھا۔ عامر نے اپنی مامی کی چوت کے گیلے گیلے باہری ہونٹوں کو اپنے منہ کے اندر لے کر چوسنا شروع کر دیا۔ کچھ دیر بعد چوت کے اوپر بنے ہوئے باریک دانے کو اپنی زبان سے سہلانا شروع کر دیا۔ جب جب عامر اس دانے کو سہلاتا مامی کی جان سی نکل جاتی۔ عامر نے اپنی مامی کو اپنی زبان کے ساتھ ہی فارغ کر دیا۔ عامر نے اپنے کپڑے اتارے اور اپنے لنڈ کو مامی کے ہاتھوں میں پکرا دیا۔ مامی شرم اور جھجک کے ساتھ لنڈ کو اپنے ہاتھوں میں لیکر سہلانے لگی۔ پھر عامر نے اپنی مامی سے کہا کو وہ اسکے لنڈ کے چوپے لگائے۔ مامی جھجکتے ہوئے اسکے لنڈ کو اپنے منہ میں ڈال لیا۔ شروع میں مامی انجانوں کی طرح عامر کے لنڈ کو چوپا لگا رہی تھی۔ اسکے دانت عامر کو لنڈ سے ٹکرا رہے تھے۔ لیکن کچھ ہی دیر کے بعد مامی کو سمجھ آگئی کہ کیسے چوپا لگانا ہے۔
    تقریبا پندرہ منٹ بعد عامر نے اپنی مامی کے منہ کے اندر ہی ڈسچارج ہوگیا۔ مامی نے لنڈ کو منہ سے کنالنے کی بہت کوشش کی پر عامر نے مامی کے سر کو پیچھے سے زور سے پکڑلیا اور مجبورا مامی کو عامر کی فریش کریم نگلنا ہی پڑی۔ کچھ دیر ریسٹ کے بعد انہوں نے گھر فون کیا اور کہا کہ اب مامی کی طبیعت بہتر ہے اور اسے ڈرپ لگی ہوئی ہے۔ جیسے ہی ڈرپ ختم ہوگی ہم گھر واپس آجائیں گے۔ فون بند کرنے کے بعد عامر نے ایک دفعہ پھر اپنے لنڈ کو مامی کے منہ میں ڈال دیا اور اسے کہا کہ اسے جلدی جلدی کھڑا کرے تا کہ میں اب تمہاری چوت کی مرمت کر دوں۔ پانچ منٹ کے چوپے کے بعد عامر کا لنڈ ایک دفعہ پھر جوبن پر آچکا تھا۔ عامر نے مامی کو بیڈ پر لیٹایا اور اسکی دونوں تانگوں کو اپنے کندھوں پر رکھا اور اسکی چوت کے منہ پر اپنے لنڈ کی ٹوپی کو رکھ کر ایک زوردار جھتکا مار کر اپنے پورے لنڈ کو مامی کی چوت کے اندر ڈال دیا۔ مامی کی زوردار چیخ پورے کمرے میں گونچ اٹھی۔ عامر نے زودار جھٹکوں کاسلسلہ شروع کر دیا۔ جب جب عامر کا لنڈ اسکی مامی کی چوت کے اندر باہر ہوتا تب تب پیچک پیچک کی آواز سنائی دیتی ۔ مامی کی سسکاریاں بھی پورے کمرے میں گونج رہی تھیں۔ کچھ ہی دیر بعد عامر نے اپنی مامی کی چوت کے اندر ہی خود کو دسچارج کر دیا۔
    مامی پوری طرح پرسکون ہو چکی تھی۔ ایسی چودائی اسکی کبھی نہیں ہوئی تھی۔ مامی مکمل طور پر اپنے بھانجے کی سیکس غلام بن چکی تھی۔ اس کے بعد کچھ دیر اور انہوں نے بھرپور سیکس کیا اور صبح صادق گھر واپس آگئے۔ مامی کے گردوں کی درد ابھی ٹھیک ہو چکی تھی۔ لیکن درد دوبارہ بھی ہوسکتی ۔
    Last edited by Story-Maker; 27-12-2017 at 10:19 AM.

  2. The Following 9 Users Say Thank You to obablee For This Useful Post:

    abba (26-12-2017), abkhan_70 (26-12-2017), anjumshahzad (01-01-2018), jerryplay100 (13-01-2018), mayach (08-01-2018), piyaamoon (27-12-2017), Seemaraja (11-01-2018), shaani84 (26-12-2017), shubi (13-01-2018)

  3. #2
    Story-Maker's Avatar
    Story-Maker is offline Super Moderators
    Join Date
    Mar 2016
    Location
    Pakistan
    Age
    24
    Posts
    3,723
    Thanks
    1,686
    Thanked 4,044 Times in 2,094 Posts
    Time Online
    1 Week 4 Days 21 Hours 6 Minutes 50 Seconds
    Avg. Time Online
    25 Minutes 40 Seconds
    Rep Power
    834

    Default

    pheley se kafi behtar update thi, umeed karta hoon k jald new update miley

  4. The Following 3 Users Say Thank You to Story-Maker For This Useful Post:

    abkhan_70 (27-12-2017), anjumshahzad (01-01-2018), jerryplay100 (13-01-2018)

  5. #3
    shaani84 is offline Aam log
    Join Date
    Feb 2017
    Posts
    28
    Thanks
    28
    Thanked 27 Times in 15 Posts
    Time Online
    16 Hours 10 Minutes 55 Seconds
    Avg. Time Online
    2 Minutes 52 Seconds
    Rep Power
    4

    Default

    Yar achi kahani hai. Afsos ke log parh ker, chuska le kar comments nahi karte

  6. #4
    Seemaraja is offline Aam log
    Join Date
    Jan 2018
    Age
    33
    Posts
    30
    Thanks
    15
    Thanked 27 Times in 23 Posts
    Time Online
    2 Hours 36 Minutes 9 Seconds
    Avg. Time Online
    29 Minutes 30 Seconds
    Rep Power
    5

    Default

    prh kr maza aa gia..

  7. The Following User Says Thank You to Seemaraja For This Useful Post:

    shaani84 (13-01-2018)

  8. #5
    dreamboy69 is offline Aam log
    Join Date
    Jan 2015
    Age
    29
    Posts
    9
    Thanks
    23
    Thanked 15 Times in 6 Posts
    Time Online
    1 Day 9 Hours 30 Minutes 33 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Minute 49 Seconds
    Rep Power
    5

    Default

    Quote Originally Posted by Seemaraja View Post
    prh kr maza aa gia..
    seema sirf parh k hi maza leeti hain yaa phir ......maza krwati bhi hain

  9. #6
    Seemaraja is offline Aam log
    Join Date
    Jan 2018
    Age
    33
    Posts
    30
    Thanks
    15
    Thanked 27 Times in 23 Posts
    Time Online
    2 Hours 36 Minutes 9 Seconds
    Avg. Time Online
    29 Minutes 30 Seconds
    Rep Power
    5

    Default

    maza krwati b hun apne jaan apne hubby ko ;-)dear

Tags for this Thread

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •