Page 32 of 38 FirstFirst ... 22282930313233343536 ... LastLast
Results 311 to 320 of 374

Thread: عالیہ شریف بدمعاش

  1. #311
    Join Date
    Nov 2017
    Location
    Home
    Posts
    195
    Thanks
    222
    Thanked 692 Times in 167 Posts
    Time Online
    2 Days 9 Hours 14 Minutes 45 Seconds
    Avg. Time Online
    48 Minutes
    Rep Power
    61

    Default


    قسط نمبر 22
    آئی لو رائیڈنگ

    علینہ کا جہاز لینڈ کر چکا تھا۔ علینہ دورانِ سفر سو گئی تھی۔ علینہ کی شلوار میں ہیرو انکل اور اسکے بھائی کے لن کا پانی خشک ہو چکا تھا۔ آنےسے پہلے دو لن اسکی رانوں میں فارغ ہوئے تھے۔ ہیرو انکل کا لن اسکی تھانگ کے اندر فارغ ہوا تھا جبکہ اسکے بھائی کا لن ائیرپورٹ کے واش روم میں اسکی شلوار میں فارغ ہوا تھا۔ جونہی جہاز اڑا تھا علینہ کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی تھی۔

    علینہ نے امیگریشن سے فارغ ہو کر اپنا سامان لیا اور چیک آوٹ کر کے ٹیکسی لینے کے لیے روانہ ہو گئی۔ ٹیکسی میں بیٹھ کر اس نے ڈرائیور کو یونورسٹی کا ایڈریس بتا دیا۔ علینہ کی آنکھوں میں ابھی تک خماری چھائی ہوئی تھی۔ اس نے اپنے لیے یونیورسٹی ڈورمیٹوری میں کمرہ لیا تھا۔ لندن میں لڑی اور لڑکیاں ڈورم میں مِکس ہی رہتے تھے۔ علینہ نے ڈورم میں علیحدہ رہنے کی درخواست کی تھی جو کہ مسترد ہو گئی تھی۔

    وہ دل ہی دل میں دعا کر رہی تھی کہ اسے اچھا روم میٹ مل جائے۔ بہرحال وہاں پہ لوگ یونیورسٹی تو خود چنتے تھے مگر روم میٹ خود نہ چن سکتے تھے۔ علینہ ڈورم کی ریسیپشن پر گئی اور اپنے کمرے کی چابی لے کر کمرے کی طرف جانے لگی۔ اس نے کمرے کا دروازہ کھولا تو کمرہ بڑی نفاست سے سجا ہوا تھا۔ کمرے میں کوئی بھی نہیں تھا۔ شاید اسکا روم میٹ باہر گیا ہوا تھا۔ علینہ نے اپنا سامان رکھا اور تھکن اتارنے کے لیے سو گئی۔

    ڈیوڈ بائیک لور تھا۔ اسکا یونورسٹی میں جرنلزم میں ایڈمیشن ہوا تھا۔ وہ پڑھائی میں اچھا لڑکا تھا۔ اسے یونیورسٹی ڈورم میں کسی دوسرے ملک کی لڑکی کے ساتھ کمرہ ملا تھا۔ اس نے اس لڑکی کا معلوم کروایا تو وہ لاء سٹڈی کرنے کے لیے آ رہی تھی۔ ڈیوڈ کو سیکس کا بہت ہی شوق تھا اور وہ لڑکیاں پھنسانے کی کوششوں میں لگا رہتا تھا۔ وہ ابھی تک کافی بار کامیاب بھی ہو چکا تھا۔ ڈیوڈ وائلڈ سیکس کا دیوانہ تھا اس لیے اسکے ساتھ کوئی لڑکی زیادہ دیر نہ ٹکتی تھی۔

    ڈیوڈ کو جب پتا چلا کہ اسکی روم میٹ لاء کی ہے تو اس نے روم میٹ تبدیل کرنے کی بہت کوشش کی مگر اس کا کمرہ نہ تبدیل کیا گیا۔ داراصل ڈیوڈ چاہتا تھا کہ جو بھی لڑکی ہو وہ اس کے ساتھ زیادہ ٹائم گزار سکے۔ یہ اسی صورت میں ممکن تھا جب وہ لڑکی اسکی کلاس فیلو بھی ہو۔ کمرہ تبدیل کرنے کی کوشش پر ناکامی میں اسے بہت افسوس ہوا تھا۔

    ڈیوڈ نے اپنے روم میٹ کا نام اور ملک پتا کروا لیا تھا۔ ااسکی روم میٹ کا نام علینہ تھا۔ ڈیوڈ انٹرنیٹ پر اسکے ملک کے متعلق پڑھنے لگ گیا تا کہ وہ اس لڑکی کو امپریس کر سکے۔ پھر ڈیوڈ نے اس ملک کے کلچر کے بارے میں پڑھنا شروع کر دیا۔ جب اس نے یہ پڑھا کہ اس ملک کی لڑکیاں دنیا کی خوبصورت ترین لڑکیوں میں ہوتی ہیں تو اس کے منہ میں پانی آ گیا۔ تاہم اسے یہ پڑھ کر دھچکا لگا تھا کہ اس ملک کی لڑکیاں اپنے کلچر کی وجہ سے ہر کسی سے سیکس نہیں کرتی ہیں اور نہ ہی انہیں سیکس کی اجازت ہوتی ہے۔

    دوپہر کا وقت ہو چکا تھا۔ ڈیوڈ باہر گیٹ کے سامنے بینچ پر جا کر بیٹھ گیا۔ وہ آنے والی لڑکی کو پٹانے کی ترکیبیں سوچ رہا تھا۔ کافی وقت گزر گیا نہ ہی اسے اپنی مطلوبہ لڑکی نظر آئی اور نہ ہی اسکے ذہین میں کوئی ترکیب آئی۔ تا ہم وہ ابھی تک بیٹھا ہوا تھا اور گیٹ پر نظریں گاڑ کر سوچوں میں گم تھا۔

    اچانک ایک لڑکی گیٹ سے داخل ہوئی۔ اس نے پنک قمیض اور سفید شلوار پہن رکھی تھی۔ اسکے بال کھلے تھے۔ اچانک اسکا پرس گر گیا اور وہ جھک کر پرس اٹھانے لگی۔ ڈیوڈ کو یاد آیا کہ اس نے نیٹ پر اس ملک کی لڑکیوں کو اسی طرح کے کپڑوں میں دیکھا تھا۔ ڈیوڈ کو لگا کہ شاید وہی اسکی مطلوبہ لڑکی ہے۔ وہ اٹھ کر اس لڑکی کی طرف بڑھنے لگا۔

    ڈیوڈ: ایکس کیوز می؟

    اس لڑکی نے جھکے جھکے ہی سر اٹھا کر اوپر دیکھا۔ اسکی آنکھیں بڑی بڑی تھیں۔ اس نے کانوں میں بالیاں پہن رکھی تھیں۔ اس نے چہرے پر ہلکا ہلکا میک اپ کر رکھا تھا۔ اس کا منہ قدرے پتلا اور ہونٹ چوڑے تھے۔ اس کے چہرے پر سب سے نمایاں چیز اسکی ناک تھی۔ اسکی ناک اس کے منہ کے مقابلے میں تھوڑی موٹی اور اونچی تھی۔ لِپ سٹک میں وہ لڑکی بہت ہی پیاری لگ رہی تھی۔


    اس کے منہ سے اچانک دھیمی اور پتلی سی آواز نکلی۔

    یس۔

    ڈیوڈ کو اسکی شکل اور آواز پسند آئی تھی۔ ڈیوڈ نے اس سے ملک کا نام لے کر پوچھا کہ کیا وہ اس ملک کی ہے تو اس نے حیران ہو کر ہاں میں سر ہلا دیا۔

    ڈیوڈ: تمہارا نام کیا ہے؟
    لڑکی: میرا نام انیلا ہے۔ وہاٹ از یور نیم؟
    ڈیوڈ: آئی ایم ڈیوڈ

    ڈیوڈ نے انیلا سے ہاتھ ملانے کے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا۔ انیلا حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھی۔

    انیلا: سوری لیکن میں جس ملک سے ہوں ادھر لڑکوں سے ہاتھ نہیں ملاتے۔

    یہ سن کر ڈیوڈ نے ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔

    انیلا برہان کی بیٹی تھی۔ وہی برہان جو کہ سلطان صاحب کے ساتھ کام کرتے تھے اور جو اپنی اپنی شادی ہونے کے بعد ایک ساتھ ہنی مون کے لیے گئے تھے۔ برہان نے اسکے تین سال کے بعد ہی سلطان صاحب کے ساتھ کام چھوڑ کر اپنا بزنس شروع کر دیا تھا۔ برہان کا بزنس بھی اچھا چل رہا تھا۔ برہان کی ایک ہی بیٹی تھی جسکا نام اس نے انیلا رکھا تھا۔ برہان کی سلطان صاحب سے پچھلے پندرہ سال سے ملاقات نہ ہوئی تھی۔

    انیلا بچپن سے ہی بڑی مطلبی اور سیلف سینٹرڈ لڑکی تھی۔ اس کی ہر بات کا مرکز اسکی اپنی ذات ہوتی تھی۔ وہ ایک ذہین لڑکی تھی اور ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ اوپن مائینڈڈ بھی تھی۔ اس کی بہت سارے لڑکوں کے ساتھ دوستیاں تھیں۔ وہ ساری ساری رات لڑکوں سے فون پر گپ شپ لگاتی تھی۔ وہ انکے ساتھ فون سیکس بھی کر لیا کرتی تھی۔ لڑکوں کو انیلا کی آہیں پاگل کر دیتی تھیں۔ ایک بار جو اسکی سیکس بھری آہیں سن لیتا تھا دوبارہ اسکے ساتھ فون سیکس کرنے کے لیے مرتا تھا۔ انیلا جب کسی ایک لڑکے کے ساتھ فون سیکس کر لیتی تو دوبارہ اسی لڑکے سے فون سیکس نہ کیا کرتی تھی۔ وہ ہر بار فون سیکس کے لیے نیا لڑکا چنا کرتی تھی۔ اس کے ساتھ فون سیکس کرنے والے لڑکوں کی کمی نہ تھی۔

    انیلا نے اپنا کنوارہ پن بچپن میں ہی گنوا دیا تھا۔ ایک دن وہ انڈین مووی دیکھ رہی تھی۔ اس میں ایک رومانٹک سین دیکھ کر وہ کافی ہاٹ ہورہی تھی۔ اس دن اسکے گھر کوئی نہیں تھا۔ اچانک اسکا ایک کزن آ گیا۔ وہ پہلے ہی انیلا کے پیچھے پاگل تھا اور انیلا نے اسے تھوڑا سا اور پھنسا کر اپنی ہوس پوری کر لی تھی۔ انیلا نے اپنے اس کزن کے ساتھ دوبارہ کبھی سکیس نہ کیا تھا لیکن چار پانچ اور لڑکوں سے چدوا چکی تھی۔

    انیلا کسی چیز کو پانے کے لیے کسی بھی حد سے گزر جایا کرتی تھی۔ وہ کلاس میں ہمیشہ ہی ٹاپ کیا کرتی تھی۔ ایک دفعہ اس کی کلاس میں پوزیشن نہیں بن رہی تھی اور مسئلہ ایک ہی پیپر کا تھا۔ اس نے ٹیچر کے کمرے میں جا کر کچھ رونے والے اور سیکسی جملے بول کر ٹیچر کو قابو کر لیا۔ ٹیچر نے اس سے آفس میں ہی سیکس کیا اور اس کا گریڈ بڑھا دیا تھا۔

    انیلا کو ایڈونچرز کا بھی بہت شوق تھا اور اسکو اتنا ہی شوق ایڈونچرس سیکس کا بھی تھا۔ اسے بائیک چلانے کا بہت شوق تھا۔ اسکو یہ شوق انڈین موویز دیکھ کر ہوا تھا۔ وہ آج تک اپنے ملک میں اپنی یہ خواہش پوری نہ کر سکی تھی۔ اس نے اپنے بابا سے ضد کر کے لندن میں جرنلزم میں ایڈمشن لیا تھا۔ اسکے بابا کو اسکی ضد کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے تھے۔ انیلا یہ سوچ کر آئی تھی کہ لندن میں وہ بائیک ضرور چلائے گی اور اسے وہاں روکنےوالا کوئی نہیں ہو گا۔

    ڈیوڈ کے ہاٹھ پیچھے کھینچتے ہی انیلا ڈورم کی طرف چل پڑی تھی۔ ڈیوڈ بھی اسکے ساتھ ہی چل پڑا۔

    ڈیوڈ: تم کون سے ڈپارٹمنٹ کو جوائن کرو گی؟
    انیلا: جرنلزم
    ڈیوڈٗ: وائو۔ میں بھی جرنلزم میں ہی ہوں۔
    انیلا: یہ تو اچھی بات ہے ڈیوڈ۔
    ڈیوڈ: انیلا تمہاری ہابیز کیا کیا ہیں؟
    انیلا: کچھ خاص نہیں۔ اور تمہاری؟
    ڈیوڈ: آئی ایم اے بائیک لور
    انیلا حیرانگی سے: وہاٹ؟
    ڈیوڈ: بائیک ۔۔۔ رائیڈنگ
    انیلا: آئی نو۔ آئی لو رائیڈنگ ٹو۔
    ڈیوڈ: میرے پاس بائیک ہے۔ یو وانا رائیڈ؟

    انیلا کی تو جیسے خواب پوری ہو رہی تھی۔ وہ فوراً بولی

    ڈیوڈ: یس۔ ميں ذرا سامان رکھ لوں کمرے میں۔

    انیلا کو یقین نہیں ہو رہا تھا کہ اسکے لندن میں لینڈ کرتے ہی اسکی بائیک رائیڈنگ والی خواہش پوری ہو جائے گی۔ ڈیوڈ بھی جرنلزم کا تھا تو اسے امید تھی کہ اسکے ساتھ رائیڈنگ چلتی رہے گی۔ ڈیوڈ نے خود ہی اسے آفر بھی کر دی تھی۔ انیلا اپنا سامان رکھنے کے لیے کمرے کی طرف چل پڑی۔

    دوسری طرف ڈیوڈ کو یقین نہیں ہو رہا تھا کہ جس لڑکی نے اسکے ساتھ ہاتھ نہیں ملایا وہ اسکے ساتھ رائیڈنگ کے لیے تیار ہو گئی ہے۔ انیلا اسے پسند آ گئی تھی اسی لیے اس نے اسے رائیڈنگ کی دعوت دی تھی۔ ڈیوڈ اپنے بائیکس کے بارے میں بہت ٹچی ہوتا تھا۔ وہ اتنی آسانی سے اپنے بائیک کو ہاتھ نہ لگانے دیتا تھا۔ نہ جانے اس لڑکی میں کیا جادو تھا کہ ملتے ہی ڈیوڈ نے اسے رائیڈنگ کی آفر کر دی تھی۔

    ڈیوڈ اپنا بائیک سٹارٹ کر کے گیٹ کے سامنے لے آیا۔ وہ انیلا کا انتظار کر رہا تھا۔ اچانک اسے انیلا ادھر ادھر دیکھتی نظر آئی۔ اس نے انیلا کی طرف دیکھ کر ہاتھ ہلا دیا۔ انیلا اس کی طرف آنا شروع ہو گئی۔ انیلا اس وقت جینز اور ٹی شرٹ میں تھی۔اسکے بال کھلے ہوئے تھے۔ وہ خاموشی سے آ کر ڈیوڈ کے پیچھے بیٹھ گئی۔ ڈیوڈ نے بائیک کو آگے بڑھا دیا۔ انیلا کے دونوں ہاتھ اپنے گٹھنوں پر تھے۔ شہر میں رش تھا۔


    ڈیوڈ نے کچھ سوچ کر بائیک کو کم رش والی سڑک کی طرف بڑھانا شروع کر دیا تھا۔ اسکے اور انیلا کے درمیان کافی فاصلہ تھا۔ اسے یہ فاصلہ پسند نہ آ رہا تھا۔ وہ چاہ رہا تھا کہ انیلا کے ہاتھ اسکے اردگرد آ جائیں مگر وہ اس سے کہہ نہ سکتا تھا۔ اچانک اس کے ذہن میں ایک خیال ابھرا اور اس نے اپنے بائیک کی سپیڈ بڑھا دی۔

    انیلا پہلی دفعہ بائیک پر بیٹھی تھی۔ سپیڈ تیز ہونے کی وجہ سے اسکا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ اسکے بال ہوا میں اڑ رہے تھے۔ اچانک ڈیوڈ نے بائیک کو زور سے بریک لگا دی۔ انیلا کی گانڈ بائیک سے اٹھ گئی۔ وہ آدھی ہوا میں کھڑی تھی۔ اسکے ممے ڈیوڈ کی کمر سے ٹکرا رہے تھے۔ اسکا ایک ہاتھ ڈیوڈ کے پیٹ پر چلا گیا جب کہ دوسرا ہاتھ ڈیوڈ کی ران پر تھا۔


    انیلا کا جسم اپنے ساتھ ٹکراتا ہوا محسوس کر کے ڈیوڈ کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی تھی۔ انیلا کے ہاتھ ڈر کے وجہ سے کانپ رہے تھے۔ ڈیوڈ نے بائیک کو روک دیا۔

    ڈیوڈ: بی بی کیا ڈر لگ رہا ہے؟
    انیلا: نہیں۔ یہ میری فرسٹ رائیڈ ہے۔
    ڈیوڈ: او بی بی۔ مجھے تو رف رائیڈنگ کی عادت ہے۔ کہو تو واپس چلیں۔
    انیلا: نہیں اٹس اوکے
    ڈیوڈ: اچھا قریب ہو کر مجھے پکڑ لو۔ میں نے تمہیں گرا کر جیل نہیں جانا۔

    انیلا یہ سن کر ڈیوڈ کے قریب ہو کر بیٹھ گئی۔

    ڈیوڈ: ہولڈ می ٹائیٹ انیلا

    انیلا اور قریب ہو کر بیٹھ گئی۔ اسکی ٹانگیں کھل گئی تھیں۔ اس نے دونوں ہاتھ آگے کر کے زور سے ڈیوڈ کے پیٹ پر باندھ لیے۔ اسکے ممے ڈیوڈ کی کمر میں دب رہے تھے۔ انیلا کا ایک گال بھی اسکی کمر کے ساتھ لگ رہا تھا۔


    ڈیوڈ کو انیلا کے نرم نرم ممے اپنی کمر پر محسوس کر کے خوشی ہو رہی تھی۔ اس نے بائیک کو ایک دفعہ پھر آگے بڑھا دیا۔ وہ جان بوجھ کر بائیک کی سپیڈ تیز کرتا اور پھر اچانک سے بریک لگا دیتا جس کی وجہ سے انیلا کے ممے اسکی کمر کے ساتھ دب جاتے تھے۔

    اب انیلا بھی اس رائیڈنگ کو انجوائے کرنا شروع ہو گئی تھی۔ وہ کنواری نہ تھی۔ اسے لڑکوں کی پہچان تھی۔ اس نے ڈیوڈ کے اندر اپنے لیے ہوس محسوس کر لی تھی۔ انیلا نے اسے اسکی مطلوبہ چیز دینے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ وہ ڈیوڈ کی طرف سے اگلی چال کا انتظار کرنے لگی۔

    انیلا نے اپنا گال ڈیوڈ کی کمر سے ہٹا لیا۔ وہ اسکے کندھے سے اوپر ہو کر سامنے سڑک پر دیکھ رہی تھی۔ وہ ہلکی سی اٹھی اور ڈیوڈ کے اور قریب ہو گئی۔ اسکے ہاتھ نیچے کو سرک گئے تھے۔ انیلا کے ہاتھ ڈیوڈ کے لن سے تھوڑے ہی اوپر تھے۔ اس نے اپنی ٹھوڑی ڈیوڈ کے کندھے پر ٹکا دی تھی۔


    انیلا لندن میں آتے ہی ڈیوڈ کو اپنی پھدی دینے کے لیے تیار ہو گئی تھی۔ اس نے ڈیوڈ کو گرین سگنل دینا شروع کر دیے تھے۔ انیلا کا ہاتھ کبھی کبھی ڈیوڈ کی پینٹ کے اوپر سے اسکے لن سے ٹکرا رہا تھا۔ ڈیوڈ انیلا کے اشارے سمجھ رہا تھا۔ لیکن جو کچھ اس نے انیلا کے ملک کے کلچر کے بارے میں پڑھا تھا اسے سوچ کر وہ تھوڑا سا محتاط تھا۔ وہ انیلا کے ساتھ اس رائیڈنگ کے کھیل کو آگے بڑھانے کا سوچ رہا تھا۔

    ڈیوڈ: انیلا
    انیلا: ہاں
    ڈیوڈ: میں کچھ کہوں؟

    انیلا کا ہاتھ ڈیوڈ کے لن کے اوپر منڈلا رہا تھا۔

    انیلا: ہاں ہاں بولو نا ڈیوڈ
    ڈیوڈ: تم رائیڈنگ کرو گی۔
    انیلا منہ بناتے ہوئے: ڈیوڈ مجھے تو رائیڈنگ نہیں آتی نا۔ کبھی کی ہی نہیں۔
    ڈیوڈ: میں سکھا دوں گا نا اگر تمہیں برا نہ لگے تو۔
    انیلا: واہ واہ۔ رائیڈنگ میرا شوق ہے۔ میں منع کیوں کروں گی۔ کیسے سکھائو گے تم؟
    ڈیوڈ کچھ نہ بولا۔ اس نے ایک گھر کے سامنے بائیک روک دی۔ گھر کے سامنے چھوٹا سا لان بھی تھا۔
    ڈیوڈ: انیلا اتر کر آگے آ کر بیٹھو۔
    انیلا: آر یو شیور؟
    ڈیوڈ: ٹرسٹ می

    انیلا بائیک سے اتر کر آگے آ کر بیٹھ گئی۔ جب اس نے بائیک کے اوپر آنے کے لیے ایک ٹانگ اوپر کی تھی تو ڈیوڈ نے اسکی گانڈ پر ہاتھ رکھ کر اسے سہارا دیا تھا۔ انیلا کو برا نہ لگا تھا۔ ڈیوڈ انیلا کے آگے بیٹھتے ہی پیچھے سے اسکے ساتھ چپک گیا۔

    انیلا کی کمر اسکی چھاتی سے ٹکرا رہی تھی۔ ڈیوڈ تھوڑا سا آگے ہوا۔ اسکا لن اب انیلا کی گانڈ سے ٹکرا رہا تھا۔ دونوں کے ہاتھ بائیک کے ہینڈل پر تھے۔ ڈیوڈ کے بازو انیلا کے بازئوں سے ٹکرا رہے تھے۔ ڈیوڈ نے اپنے پائوں کو زمین پر رکھ کر اپنے آپکو آگے کیا اور انیلا کی گانڈ کے ساتھ لگ کر بیٹھ گیا۔ وہ انیلا کے جسم کے نشیب و فراز کو محسوس کر رہا تھا۔


    ڈیوڈ: آر یو کم فاٹیبل انیلا۔
    انیلا: یس آئی ایم فائین
    ڈیوڈ: روڈ پر چلیں۔

    انیلا نے ہاں میں سر ہلا دیا۔ انیلا کے ہاتھ ہینڈل پر تھے۔ ڈیوڈ نے اپنے گٹھنے انیلا کے گٹھنوں کے ساتھ جوڑ دیے۔ ڈیوڈ نے بائیک کا کنٹرول سنھبال کر بائیک کو آگے بڑھا دیا۔

    جونہی بائیک روڈ پر گئی ڈیوڈ آہستہ آہستا آگے سرکنا شروع ہو گیا۔ اس نے اپنی چھاتی زور سے انیلا کی کمر کے ساتھ لگا کر اسے آگے کی طرف جھکا دیا۔ انیلا کے بال ہوا میں اڑ رہے تھے۔ اچانک ڈیوڈ نے بائیک کو ہلکی سی بریک لگائی۔ انیلا کی گانڈ ہوا میں اٹھتی چلی گئی۔

    اس دفعہ انیلا کی گانڈ نے جب لینڈ کیا تو وہ ڈیوڈ کے لن پر تھی۔ انیلا کے ہاتھ بائیک کے ہینڈل سے اٹھ گئے تھے۔ اس نے اپنے ہاتھ پیچھے کر کے ڈیوڈ کی رانوں پر رکھ دیے تھے۔


    ڈیوڈ کو انیلا کی نرم گانڈ بہت ہی اچھی محسوس ہو رہی تھی۔ انیلا بھی ڈیوڈ کی ان حرکتوں سے ہاٹ ہو چکی تھی۔ ڈیوڈ نے انیلا کے ہاتھ اپنی ران پر محسوس کیے تو بولا

    ڈیوڈ: آر یو انجوائنگ دی رائئڈ
    انیلا: یس آئی ایم۔ پلیز کانٹی نیو۔

    ڈیوڈ کے چہرے پر مسکراہٹ آ چکی تھی۔ اسے انیلا اپنی ٹائپ کی لگی تھی۔ وہ پہلی ملاقات میں ہی اس کے لن پر ٹکی ہوئی تھی اور اسے کوئی اعتراض نہیں تھا۔

    ڈیوڈ نے اسی طرح اسکی گانڈ کے مزے لینے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ کبھی کبھی آہستہ سے بریک لگا دیتا جس سے انیلا تھوڑی سی اوپر کو اٹھ جاتی تھی لیکن وہ جان بوجھ کر زور سے واپس اسکے لن پر بیٹھتی تھی۔ ڈیوڈ کا لن سخت ہو چکا تھا اور انیلا کی پھدی میں آگ لگ چکی تھی۔ انیلا کو ڈیوڈ کا طریقہء واردات پسند آیا تھا۔

    ڈیوڈ نے ایک سنسان جگہ پر جا کر بائیک روک دی تھی۔ اس نے اپنے ہاتھ انیلا کی کمر کی سائیڈ پر رکھے اور تھوڑا سا آگے ہو کر اسکی گردن پر ہونٹ رکھ دیے۔

    ڈیوڈ: انیلا یو وانٹ ٹو انجوائے مور
    انیلا: یس
    ڈیوڈ: لیکن وہ بہت ایڈونچرس ہو گا
    انیلا: آئی لائیک دی ایڈونچرز
    ڈیوڈ: اچھا بائیک سے نیچے اترو
    انیلا: وہ کیوں؟
    ڈیوڈ: اترو نا بے بی پھر بتاتا ہوں۔

    انیلا بائیک سے اترنے لگی تو ڈیوڈ نے ایک دفعہ پھر اسکی گانڈ کو سہارا دیا۔ انیلا بائیک سے اتر کر ڈیوڈ کو دیکھنے لگی۔ اسکی نظروں میں سوال تھا۔ ڈیوڈ نے اپنے سامنے بائیک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا

    ڈیوڈ: ادھر بیٹھو لیکن میری طرف منہ کر کہ۔

    انیلا بائیک کے فرنٹ پر اسکی طرف منہ کر کے بیٹھ گئی۔

    ڈیوڈٗ: آر یو ریڈی

    انیلا نے ہاں میں سر ہلا دیا۔ ڈیوڈ نے ایک ہاتھ اسکی چھاتی پر رکھا اور اسے بائیک کے ہینڈل پر لٹا دیا۔ انیلا کے مست ممے اسکے سامنے تھے۔ اس نے جھک کر انیلا کے مموں کو کِس کرنا شروع کر دیا۔ انیلا کے منہ سے سیکسی آہ نکل گئی۔ اسکی آہ سن کر وہ زور زور سے اسکے مموں کو کِس کرنے لگا۔ انیلا کو مزہ آنا شروع ہو گیا۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ اسکے سر کے پیچھے رکھ کر اس کے سر کو اپنی طرف کھینچنا شروع کر دیا تھا۔

    انیلا کی آہوں نے ڈیوڈ کو چارج کر دیا۔ اس نے انیلا کی شرٹ اوپر اٹھا کر اسکے پیٹ پر کِس کرنا شروع کر دی۔ آہستہ آہستہ اس نے اسکی شرٹ مموں سے اوپر کر دی۔ پھر اس نے انیلا کے برا کو اوپر کیا اور انیلا کے مست مموں کو ایک نظر دیکھا۔ انیلا کے نپلز سخت ہو چکے تھے۔ یہ دیکھ کر ڈیوڈ کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔ اس نے انیلا کے نپلز کو چوسنا شروع کر دیا۔ انیلا مزے سے سیکسی آوازیں نکالنے لگی۔ اس نے باری باری اسکی دونوں نپلز کو چوسا۔ پھر ڈیوڈ اسکے نپلز کو چوستے چوستے ہی بولا

    ڈیوڈ: انیلا آ وانٹ ٹو رائیڈ یو
    انیلا: آہ ہ ہ دین رائیڈ می بے بی
    ڈیوڈ: آئی وانٹ ٹو رائیڈ یو ان پبلک۔ آن دی روڈ
    انیلا: رائیڈ می تھرو پبلک آن دی روڈ ڈیوڈ
    ڈیوڈ: وِل یو ہیلپ می
    انیلا: یس آئی وِل

    ڈیوڈ نے انیلا کو سیدھا کیا اور اسے ایک زور کا ہگ کیا۔ اس نے باری باری اسکی ٹانگیں اپنی ٹانگوں کے اوپر رکھ دیں اور ایک دفعہ پھر اسکی چھاتی کو کِس کرنے کے لیے جھکا۔


    کسِ کر کے وہ سیدھا ہوا اور بولا۔

    ڈیوڈ: لیٹس سٹارٹ دی رائیڈ

    انیلا اسکی طرف دیکھنے لگی۔ اس نے بائیک سٹارٹ کر کے آگے بڑھا دیا۔ انیلا نے اسے جپھی ڈال لی تھی۔ اس کے ممے اسکی چھاتی میں دب رہے تھے اور اسکی پھدی ڈیوڈ کے لن سے ٹکرا رہی تھی۔

    ڈیوڈ: بے بی ڈو می اے فیور
    انیلا: یس
    ڈیوڈ: میرے لن کو اپنی پھدی میں ڈالو-

    انیلا نے ڈیوڈ کی زپ کھول کر اسکا لن باہر نکال لیا۔ پھر اس نے اپنی پنیٹ نیچے کر کے اپنی پھدی اسکے لن کے سامنے رکھ دی۔

    ڈیوڈ: ہینڈل کے اوپر سر رکھ کر لیٹ جائو انیلا۔ آئی وِل رائیڈ یو مائی سیلف۔

    انیلا ہینڈل کے اوپر سر رکھ کر لیٹ گئی۔ اسکے کندھے ہنیڈل کے نیچے پھنسے ہوئے تھے۔ اب وہ جٹھکے سے آگے نہیں جا سکتی تھی۔ ڈیوڈ نے اسکے پائوں اوپر کر کے بائیک کے بیک سیٹ پر رکھ دیے۔


    ڈیوڈ نے انیلا سے کہا کہ وہ اسکا لن اپنی پھدی پر سیٹ کرے۔ انیلا نے ایک ہاتھ سے ڈیوڈ کا لن اپنی پھدی کے سوراخ پر رکھ دیا۔ ڈیوڈ تھوڑا تھوڑا آگے ہونے لگا۔ انیلا کے منہ سے سیکسی آہیں سن کر اس سے رہا نہیں گیا۔ اس نے بائیک کو ایک زبردست بریک لگا دی۔

    ڈیوڈ کی گانڈ اچانک اٹھی اور آگے کی طرف بڑھی۔ انیلا ہینڈل اور ڈیوڈ کے درمیان پھنسے ہوئے ہونے کی وجہ سے ہل نہ سکی تھی۔ ڈیوڈ کا لن ایک جٹھکے سے انیلا کی پھدی کی گہرائیوں میں گھستا چلا گیا۔ انیلا کا پورا منہ کھل گیا تھا۔ ڈیوڈ پیچھے نہ ہوا تھا۔ اس نے اپنا پورا لن انیلا کی پھدی کے اندر ہی رہنے دیا۔

    ڈیوڈ نے اسی طرح بائیک آگے بڑھا دی۔ اب وہ شہر کی مختلف سڑکوں سے گزر رہا تھا۔ ہو اچانک بائیک کی سپیڈ بڑھاتا اور پھر بریک لگا دیتا جس سے ایک زبرست جٹھکا لگتا اور اس کا لن انیلا کی پھدی کو چیرتا ہوا اندر چلا جاتا۔ وہ اسطرح بائیک کے جٹھکوں کے ساتھ انیلا کو فک کر رہا تھا۔ اچانک انیلا کی آواز آئی۔

    انیلا: آہ ہ ہ ڈ ڈڈ ڈیوڈ آئی وانٹ مور
    ڈیوڈ: ہائو؟
    انیلا: رائیڈ می لائیک یو سٹول می۔


    انیلا: رائیڈ می لائیک یو آر پنشگ می۔ رائیڈ می ہارڈ اینڈ فاسٹ

    ڈیوڈ نے یہ سنا تو اس نے انیلا کو اوپر کر کے بٹھا لیا۔ وہ ایک سنسان روڈ پر آ گیا تھا۔ انیلا اس کا لن پھدی میں لے کر اس کے سامنے بیٹھی تھی۔ انیلا کے دونوں ہاتھ اسکی گردن کے پیچھے تھے۔ ڈیوڈ نے اچانک بائیک کی سپیڈ بڑھا دی۔ اس نے فل ایکسیلٹر دبا دیا۔ بائیک ہوا سے باتیں کرنے لگی۔

    اچانک ڈیوڈ نے بائیک کی دونوں بریکس دبا دیں۔ اچانک بائیک کو ایک زبرست جٹھکا لگا۔ ڈیوڈ تقریباً کھڑا ہو چکا تھا۔ انیلا کی گانڈ بائیک کے ہینڈل سے جا لگی تھی۔ اسے اسے لگ رہا تھا جیسے کسی نے اسکی پھدی کو چیر کر رکھ دیا ہو۔ اس کے منہ سے ایک چیخ نکل گئی تھی۔


    ڈیوڈ نے انیلا کی چیخ کی پروا نہ کی تھی۔ اس نے بار بار انیلا کو اسطرح جٹھکے مارنے شروع کر دیے۔ ہر جٹھکے کے ساتھ انیلا کی چیخ نکل جاتی تھی۔ اسے بہت مزہ آ رہا تھا۔ ڈیوڈ کے لیے اور بردشت کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ انیلا کی پھدی پہلے ہی پانی چھوڑ چکی تھی۔ ڈیوڈ نے ایک آخری دفعہ سپیڈ بڑھائی اور بریک لگا کر بائیک روک دیا۔

    اس نے پائوں زمین پر رکھ کر انیلا کو دونوں بازوئوں میں لے لیا تھا۔ اس کے جسم کو جٹھکا لگا اور پھر وہ انیلا کی پھیدی میں فارغ ہونےلگا۔ اس کو یکے بعد دیگرے اور جٹھکے لگے اور اس نے انیلا کو زور سے بھینچے بھنچے سارا پانی اسکی پھدی میں نکال دیا۔


    ڈیوڈ جو کہ وائلڈ سیکس کا دیوانہ تھا اس نے آج تک ایسا وائلڈ سیکس نہ کیا تھا۔ انیلا کے لیے بھی یہ انوکھا ایڈونچر تھا۔ اسے بہت مزہ آیا تھا۔ اس سے پہلے اسے کبھی بھی چدائی میں اتنا مزہ نہ آیا تھا۔

    پھر انیلا بائیک پر ڈیوڈ کے سامنے بیٹھ گئی۔ ڈیوڈ اس سے بائیک رائیڈ کروا کے واپس ڈورم کی طرف جا رہا تھا۔ انیلا کے خوشی سے دانت باہر نکل رہے تھے اور اسکے بال ہوا میں اڑ رہے تھے۔



    -----
    خان چاچا اور عامر کو کیا سزا ملی؟ کیا جنید کبھی دوبارہ شازی سے مل پائے گا؟
    انیلا اور علینہ کا ٹکرائو کب اور کہاں ہو گا؟ ڈیوڈ اور انیلا کا افیئر کب تک چلے گا؟
    نیلی آنکھوں والی لڑکی کون تھی؟
    ان سب سوالوں کا جواب پڑھنے کے لیے کہانی پڑھتے رہیے۔

  2. The Following 16 Users Say Thank You to hardwood For This Useful Post:

    abba (21-12-2017), abkhan_70 (22-12-2017), Ajia.sidra (26-12-2017), anjumshahzad (25-12-2017), farhan403 (21-12-2017), farhan9090 (23-12-2017), God Father (21-12-2017), Irfan1397 (21-12-2017), jerryplay100 (07-01-2018), Lovelymale (21-12-2017), MAMONAKHAN (23-12-2017), piyaamoon (22-12-2017), suhail502 (21-12-2017), sweetncute55 (21-12-2017), teno ki? (31-12-2017), zeem8187 (22-12-2017)

  3. #312
    Join Date
    Nov 2017
    Location
    Home
    Posts
    195
    Thanks
    222
    Thanked 692 Times in 167 Posts
    Time Online
    2 Days 9 Hours 14 Minutes 45 Seconds
    Avg. Time Online
    48 Minutes
    Rep Power
    61

    Default

    Dear Readers

    With EPISODE 22, I will take leave from UF for a week. I will come back with episode 23 NEXT year. I have some professional engagements. I will not be able to write. I will try to write and post as soon as possible for my readers.

    Thanks for reading and your support.

    Hardwood

  4. The Following 13 Users Say Thank You to hardwood For This Useful Post:

    بھنورہ (22-12-2017), abba (21-12-2017), abkhan_70 (22-12-2017), anjumshahzad (25-12-2017), farhan403 (21-12-2017), God Father (21-12-2017), Irfan1397 (21-12-2017), lastzaib (21-12-2017), MAMONAKHAN (26-12-2017), ShaziAlee (21-12-2017), suhail502 (21-12-2017), sweetncute55 (21-12-2017), zeem8187 (22-12-2017)

  5. #313
    abba's Avatar
    abba is offline Premium Member
    Join Date
    Apr 2009
    Location
    Islamabad, Pakistan, Pakistan
    Age
    34
    Posts
    938
    Thanks
    15,774
    Thanked 2,448 Times in 795 Posts
    Time Online
    1 Week 1 Day 8 Hours 18 Minutes 31 Seconds
    Avg. Time Online
    5 Minutes 27 Seconds
    Rep Power
    175

    Default

    Bot zabardast shandar alla
    vvvvvv very nice & so hot update
    kiya kheny ap k jawab nai ap ka maza aa gya thanks g

  6. The Following 5 Users Say Thank You to abba For This Useful Post:

    anjumshahzad (25-12-2017), farhan403 (21-12-2017), hardwood (23-12-2017), Irfan1397 (21-12-2017), suhail502 (21-12-2017)

  7. #314
    Irfan1397's Avatar
    Irfan1397 is offline super moderator
    Join Date
    Sep 2011
    Location
    Sahiwal
    Posts
    7,501
    Thanks
    26,080
    Thanked 38,243 Times in 7,300 Posts
    Time Online
    1 Month 2 Weeks 3 Hours 56 Minutes 6 Seconds
    Avg. Time Online
    28 Minutes 50 Seconds
    Rep Power
    3126

    Default



    بہت دلچسپ اپڈیٹ رہی ۔ کھلے عام موٹر بائیک پر چدائی ۔ اچھی اپڈیٹ رہی ۔ آپ کی واپسی کا انتظار رہے گا ۔



  8. The Following 6 Users Say Thank You to Irfan1397 For This Useful Post:

    abkhan_70 (22-12-2017), anjumshahzad (25-12-2017), farhan403 (21-12-2017), farhan9090 (22-12-2017), hardwood (23-12-2017), suhail502 (21-12-2017)

  9. #315
    Join Date
    Dec 2016
    Age
    36
    Posts
    374
    Thanks
    171
    Thanked 633 Times in 305 Posts
    Time Online
    1 Week 3 Hours 10 Minutes 26 Seconds
    Avg. Time Online
    26 Minutes 9 Seconds
    Rep Power
    45

    Default

    [QUOTE=hardwood;565785][CENTER][COLOR="#0000CD"][B][SIZE=6]
    قسط نمبر 22
    آئی لو رائیڈنگ[
    -----
    خان چاچا اور عامر کو کیا سزا ملی؟ کیا جنید کبھی دوبارہ شازی سے مل پائے گا؟
    انیلا اور علینہ کا ٹکرائو کب اور کہاں ہو گا؟ ڈیوڈ اور انیلا کا افیئر کب تک چلے گا؟
    نیلی آنکھوں والی لڑکی کون تھی؟
    ان سب سوالوں کا جواب پڑھنے کے لیے کہانی پڑھتے رہیے۔

    Hardwood G
    Leave granted to celebrate Christmas hahahaha. I'll miss you in your absence baby so try to finish your job ASAP. AKHIAN UDEKDIAN DIL WAJAN MARDA.... A JA PERDESIA WASTA E PIYA DA (HAHAHA) I hope I'll be by then. Your latest update is surprisingly strange and more like a picture story hahaha. A Pakistani girl reluctant to shake hands suddenly decides to fuck him the same moment and that too on a bike riding on the streets. Don't you really feel that was little weird. BUT..who cares as long as the readers acknowledge the plot and I had already admitted that you have a better hand on the pulse of your readers.

  10. The Following 4 Users Say Thank You to ShaziAlee For This Useful Post:

    abkhan_70 (22-12-2017), anjumshahzad (25-12-2017), hardwood (23-12-2017), suhail502 (21-12-2017)

  11. #316
    Join Date
    Dec 2016
    Age
    36
    Posts
    374
    Thanks
    171
    Thanked 633 Times in 305 Posts
    Time Online
    1 Week 3 Hours 10 Minutes 26 Seconds
    Avg. Time Online
    26 Minutes 9 Seconds
    Rep Power
    45

    Default

    [QUOTE=hardwood;Dear Readers

    With EPISODE 22, I will take leave from UF for a week. I will come back with episode 23 NEXT year. I have some professional engagements. I will not be able to write. I will try to write and post as soon as possible for my readers.

    Thanks for reading and your support.

    [B]LEAVE GRANTED HARDWOOD G. kia yaad kere gai aap bhi. hahaha. I'll miss you baby. please try to remain in touch on VM. I hope I'll also be free by that time. Love you sweetie!![/B]

  12. The Following 4 Users Say Thank You to ShaziAlee For This Useful Post:

    abkhan_70 (22-12-2017), anjumshahzad (25-12-2017), hardwood (23-12-2017), suhail502 (21-12-2017)

  13. #317
    lastzaib is offline Premium Member
    Join Date
    Jul 2009
    Posts
    26
    Thanks
    81
    Thanked 41 Times in 21 Posts
    Time Online
    6 Days 11 Hours 42 Minutes 53 Seconds
    Avg. Time Online
    4 Minutes 14 Seconds
    Rep Power
    12

    Default

    Take your time dear.

  14. The Following 3 Users Say Thank You to lastzaib For This Useful Post:

    abkhan_70 (22-12-2017), anjumshahzad (25-12-2017), suhail502 (21-12-2017)

  15. #318
    suhail502's Avatar
    suhail502 is offline Premium Member
    Join Date
    Nov 2008
    Location
    Mainchannu
    Age
    31
    Posts
    2,452
    Thanks
    17,585
    Thanked 9,621 Times in 2,285 Posts
    Time Online
    1 Week 4 Days 8 Hours 47 Minutes 51 Seconds
    Avg. Time Online
    7 Minutes 25 Seconds
    Rep Power
    1107

    Default

    روکنگ اپڈیٹ۔ کمال کا سین تحریر کیا ہے۔ کیپ اٹ آپ۔۔

  16. The Following 3 Users Say Thank You to suhail502 For This Useful Post:

    abkhan_70 (22-12-2017), anjumshahzad (25-12-2017), hardwood (23-12-2017)

  17. #319
    farhan403's Avatar
    farhan403 is offline sex ka dewan
    Join Date
    Oct 2015
    Location
    attock
    Posts
    353
    Thanks
    283
    Thanked 503 Times in 235 Posts
    Time Online
    4 Days 18 Hours 23 Minutes 13 Seconds
    Avg. Time Online
    8 Minutes 8 Seconds
    Rep Power
    41

    Default

    Quote Originally Posted by hardwood View Post
    Dear Readers

    With EPISODE 22, I will take leave from UF for a week. I will come back with episode 23 NEXT year. I have some professional engagements. I will not be able to write. I will try to write and post as soon as possible for my readers.

    Thanks for reading and your support.

    Hardwood
    Itne zaberdast update dayne py ap ki choti ki darkhowast mazoor ker de h ap ki is do atisha ne aag laga de ha ek moterbike py riding sex oper tasaveeri jhalkiyaan kia he baat h maa dobala ho gaya ha pehly h 3maah r 9dino say bivi say door hon ab to bardasht b jawab dayne lagi ha itne mast update parh r dakh ker....
    Kia he maza r kia h sama hota ager New year night py ek dhamaka daar update a jati.......
    Ap ki choti manzooor to ho gae ha but ab wapas b zaroor ana.....

  18. The Following 6 Users Say Thank You to farhan403 For This Useful Post:

    abkhan_70 (22-12-2017), anjumshahzad (25-12-2017), farhan9090 (22-12-2017), hardwood (23-12-2017), Irfan1397 (25-12-2017), suhail502 (24-12-2017)

  19. #320
    Join Date
    Nov 2017
    Location
    Home
    Posts
    195
    Thanks
    222
    Thanked 692 Times in 167 Posts
    Time Online
    2 Days 9 Hours 14 Minutes 45 Seconds
    Avg. Time Online
    48 Minutes
    Rep Power
    61

    Default

    [QUOTE=ShaziAlee;565804]
    Quote Originally Posted by hardwood View Post
    [CENTER][COLOR="#0000CD"][B][SIZE=6]
    قسط نمبر 22
    آئی لو رائیڈنگ[
    -----
    خان چاچا اور عامر کو کیا سزا ملی؟ کیا جنید کبھی دوبارہ شازی سے مل پائے گا؟
    انیلا اور علینہ کا ٹکرائو کب اور کہاں ہو گا؟ ڈیوڈ اور انیلا کا افیئر کب تک چلے گا؟
    نیلی آنکھوں والی لڑکی کون تھی؟
    ان سب سوالوں کا جواب پڑھنے کے لیے کہانی پڑھتے رہیے۔

    Hardwood G
    Leave granted to celebrate Christmas hahahaha. I'll miss you in your absence baby so try to finish your job ASAP. AKHIAN UDEKDIAN DIL WAJAN MARDA.... A JA PERDESIA WASTA E PIYA DA (HAHAHA) I hope I'll be by then. Your latest update is surprisingly strange and more like a picture story hahaha. A Pakistani girl reluctant to shake hands suddenly decides to fuck him the same moment and that too on a bike riding on the streets. Don't you really feel that was little weird. BUT..who cares as long as the readers acknowledge the plot and I had already admitted that you have a better hand on the pulse of your readers.
    Shazi G!
    First of all thanks for granting the permission. *WINKS*.

    Secondly I never mentioned the name of country and I request all not to use the name of country.

    Thirdly, I can sense you found it weired. You did not even like the episode. *GANDI* hain ap. You are well aware of the fact that I look for you everywhere. I do not know if I should *LOVE* you or *HATE* you for this, but i know that I worship you.

    Lastly who cares? Don't you know who cares about whom? Should I elaborate?

    Love you.

    Hardwood

  20. The Following 2 Users Say Thank You to hardwood For This Useful Post:

    abba (26-12-2017), anjumshahzad (01-01-2018)

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •