Page 25 of 38 FirstFirst ... 1521222324252627282935 ... LastLast
Results 241 to 250 of 372

Thread: عالیہ شریف بدمعاش

  1. #241
    Join Date
    Dec 2016
    Age
    36
    Posts
    353
    Thanks
    166
    Thanked 623 Times in 301 Posts
    Time Online
    6 Days 22 Hours 31 Minutes 26 Seconds
    Avg. Time Online
    25 Minutes 30 Seconds
    Rep Power
    43

    Default

    Quote Originally Posted by hardwood View Post
    Hello Shazi
    I am literally dancing to see your comment here. You are such an inspiration. I would love to see your comment on my updates. I will try to post next update very soon.:im_happy:

    Hardwood


    I am so glad to see you happy Hardwood G
    Take your time to complete a comprehensive update that may touch the hearts of your fans and readers
    all the best
    looking forward
    Shaz
    i

  2. The Following 3 Users Say Thank You to ShaziAlee For This Useful Post:

    anjumshahzad (01-01-2018), hardwood (13-12-2017), suhail502 (17-12-2017)

  3. #242
    Irfan1397's Avatar
    Irfan1397 is offline super moderator
    Join Date
    Sep 2011
    Location
    Sahiwal
    Posts
    7,501
    Thanks
    26,079
    Thanked 38,243 Times in 7,300 Posts
    Time Online
    1 Month 2 Weeks 3 Hours 42 Minutes 2 Seconds
    Avg. Time Online
    28 Minutes 50 Seconds
    Rep Power
    3126

    Default


    بہت دنوں کے بعد اپڈیٹ دی ہے اور زبردست دی ہے اور آخر میں سسپنس بھی ۔ شاید یہ شازی کی مما ہو ، خیر یہ تو اگلی قسط میں ہی پتا چلے گا ۔ اگلی قسط کا انتظار رہے گا ۔



  4. The Following 5 Users Say Thank You to Irfan1397 For This Useful Post:

    abkhan_70 (12-12-2017), anjumshahzad (25-12-2017), hardwood (11-12-2017), prince77 (15-12-2017), suhail502 (17-12-2017)

  5. #243
    sweetncute55's Avatar
    sweetncute55 is offline Intelligent Beauty
    Join Date
    Mar 2017
    Location
    *****abad
    Age
    23
    Posts
    16
    Thanks
    25
    Thanked 27 Times in 12 Posts
    Time Online
    1 Day 6 Hours 2 Minutes 57 Seconds
    Avg. Time Online
    5 Minutes 50 Seconds
    Rep Power
    3

    Default

    بہت بہت اعلی اپڈیٹ دی ہے۔سچ میں مززا آگیا۔۔۔آج کافی دنوں بعد اتنا انجوئے کیا۔۔۔ اگلی اپڈیٹ جلدی دینا پلیز

  6. The Following 4 Users Say Thank You to sweetncute55 For This Useful Post:

    anjumshahzad (25-12-2017), hardwood (11-12-2017), prince77 (15-12-2017), suhail502 (17-12-2017)

  7. #244
    Join Date
    Nov 2017
    Location
    Home
    Posts
    195
    Thanks
    222
    Thanked 692 Times in 167 Posts
    Time Online
    2 Days 9 Hours 14 Minutes 45 Seconds
    Avg. Time Online
    48 Minutes 44 Seconds
    Rep Power
    61

    Default

    Quote Originally Posted by Irfan1397 View Post

    بہت دنوں کے بعد اپڈیٹ دی ہے اور زبردست دی ہے اور آخر میں سسپنس بھی ۔ شاید یہ شازی کی مما ہو ، خیر یہ تو اگلی قسط میں ہی پتا چلے گا ۔ اگلی قسط کا انتظار رہے گا ۔


    Hummm. Keep guessing. Can be Shazi's Mama.

  8. The Following 3 Users Say Thank You to hardwood For This Useful Post:

    anjumshahzad (25-12-2017), Irfan1397 (12-12-2017), suhail502 (17-12-2017)

  9. #245
    Join Date
    Nov 2017
    Location
    Home
    Posts
    195
    Thanks
    222
    Thanked 692 Times in 167 Posts
    Time Online
    2 Days 9 Hours 14 Minutes 45 Seconds
    Avg. Time Online
    48 Minutes 44 Seconds
    Rep Power
    61

    Default

    Quote Originally Posted by sweetncute55 View Post
    بہت بہت اعلی اپڈیٹ دی ہے۔سچ میں مززا آگیا۔۔۔آج کافی دنوں بعد اتنا انجوئے کیا۔۔۔ اگلی اپڈیٹ جلدی دینا پلیز
    Thanks. Will try my best.

  10. The Following 3 Users Say Thank You to hardwood For This Useful Post:

    anjumshahzad (01-01-2018), prince77 (15-12-2017), suhail502 (17-12-2017)

  11. #246
    Join Date
    Dec 2016
    Age
    36
    Posts
    353
    Thanks
    166
    Thanked 623 Times in 301 Posts
    Time Online
    6 Days 22 Hours 31 Minutes 26 Seconds
    Avg. Time Online
    25 Minutes 30 Seconds
    Rep Power
    43

    Default

    Quote Originally Posted by hardwood View Post
    [CENTER]
    خان چاچا نے بیگ سے کنڈم نکالا اور شازی سے کہا کہ اسکے پاس آئے آج وہ سے لن پر ربر چڑھانے کا طریقہ سمجھائے گا۔ اس نے شازی سے کہا کہ وہ لن پر ربر چڑھانے کا طریقہ اچھی طرح سے سیکھ لے کیونکہ اسے یہ مستقبل میں بہت کام آئے گا۔ شازی خان چاچا کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی۔ خان چاچا نے اسے طریقہ بتایا اور شازی اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے خان چاچا کے کھڑے ہوئے لن پر ربر چڑھانا شروع ہو گئی۔

    خان چاچا نے شازی کو چارپائی پر لٹایا اور پیار پیار سے پورا لن شازی کی پھدی کے اندر ڈال دیا اور پھر آہستہ آہستہ شازی کو چودنے لگا۔ آج شازی کو بھی مزہ آ رہا تھا۔ اچانک خان چاچا کی سپیڈ تیز ہوئی تو شازی رونے لگی تو خان چاچا اسے پھر آہستہ آہستہ چودنا شروع ہو گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد دونوں کا ہی پانی نکل گیا۔ دونوں ایک دوسرے سے لپٹے لیٹے ہوئے تھے۔ پھر خان چاچا نے شازی کی گال پر پیار دیا اور پوچھا کہ کل آئو گی نا۔ شازی نے ہاں میں سر ہلا دیا اور خان چاچا خوشی سے نہال ہو گیا۔

    خان چاچا نے لگاتار شازی کی چار راتیں چدائی کی۔ شازی کی نیند پوری نہیں ہو رہی تھی۔ شازی کی آنکھیں سرخ ہونے لگیں اور تھکاوٹ زیادہ ہونے لگی۔ خان چاچا نے شازی سے کہا کہ شازی تم ہفتے میں صرف دو دن میرے پاس آیا کرو اور باقی پانچ دن آرام کیا کرو۔ شازی نے ہاں میں سر ہلا دیا اور اسطرح وہ باقاعدگی کے ساتھ ہفتے میں دو دن چدائی کرنے لگے۔ اس چدائی سے دونوں ہی بہت خوش تھے۔

    اسطرح کرتے کرتے دو مہینے گزر گئے۔ اب شازی کو خود بھی خان چاچا کے پاس جانے کا انتظار ہوتا تھا۔ وہ آنے والی نئی آفت سے بے خبر تھی۔ ایک دن وہ رات کو خان چاچا کے پاس جا رہی تھی۔ اس نے جا کر خان چاچا کے کواٹر کا دروازہ کھولا اور اندر نظر پڑتے ہی شازی کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں
    [/RIGHT]
    Hardwood G
    Fantastic update. I can understand how much time you have been devoting to write this story which is commendable. You have a busy life but still you care about your fans and readers. Hats off to you. Thumbs up
    Shazi

  12. The Following 3 Users Say Thank You to ShaziAlee For This Useful Post:

    anjumshahzad (25-12-2017), hardwood (13-12-2017), prince77 (15-12-2017)

  13. #247
    shubi's Avatar
    shubi is offline Khaas log
    Join Date
    Jun 2017
    Location
    Multan, Punjab, Pakistan
    Posts
    80
    Thanks
    344
    Thanked 44 Times in 32 Posts
    Time Online
    13 Hours 6 Minutes 34 Seconds
    Avg. Time Online
    3 Minutes 43 Seconds
    Rep Power
    10

    Default

    A repo gift for you to this............

  14. The Following 3 Users Say Thank You to shubi For This Useful Post:

    anjumshahzad (01-01-2018), hardwood (12-12-2017), prince77 (15-12-2017)

  15. #248
    Join Date
    Nov 2017
    Location
    Home
    Posts
    195
    Thanks
    222
    Thanked 692 Times in 167 Posts
    Time Online
    2 Days 9 Hours 14 Minutes 45 Seconds
    Avg. Time Online
    48 Minutes 44 Seconds
    Rep Power
    61

    Default

    Quote Originally Posted by ShaziAlee View Post
    Hardwood G
    Fantastic update. I can understand how much time you have been devoting to write this story which is commendable. You have a busy life but still you care about your fans and readers. Hats off to you. Thumbs up
    Shazi
    Thanks for appreciation. Your appreciation means a lot to me.

  16. The Following 3 Users Say Thank You to hardwood For This Useful Post:

    anjumshahzad (25-12-2017), prince77 (15-12-2017), ShaziAlee (13-12-2017)

  17. #249
    Saima Naseem is offline Aam log
    Join Date
    Aug 2017
    Posts
    6
    Thanks
    0
    Thanked 7 Times in 3 Posts
    Time Online
    1 Hour 58 Minutes 50 Seconds
    Avg. Time Online
    41 Seconds
    Rep Power
    2

    Default

    Very nice.

  18. The Following 4 Users Say Thank You to Saima Naseem For This Useful Post:

    anjumshahzad (01-01-2018), hardwood (14-12-2017), prince77 (15-12-2017), ShaziAlee (14-12-2017)

  19. #250
    Join Date
    Nov 2017
    Location
    Home
    Posts
    195
    Thanks
    222
    Thanked 692 Times in 167 Posts
    Time Online
    2 Days 9 Hours 14 Minutes 45 Seconds
    Avg. Time Online
    48 Minutes 44 Seconds
    Rep Power
    61

    Default


    قسط نمبر 17
    صاب جی اور سینوریٹا

    خان چاچا چارپائی پر بیٹھا ہوا تھا۔ اسکے سامنے کرسی پر ایک شخص بیٹھا ہوا سگریٹ کے لمبے لمبے کش لے رہا تھا۔ جونہی شازی نے دروازہ کھولا دونوں مڑ کر شازی کی طرف دیکھنے لگے۔ شازی آنکھیں پھاڑے دونوں کو دیکھ رہی تھی۔ شازی کو اسطرح حیران دیکھ کر اس شخص کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ دوڑ گئی۔

    خان چاچا: آئو آئو شازی
    شازی: یہ کون ہے۔
    خان چاچا: یہ عامر ہے شازی۔ اس سے میں تمہارے لیے اچھی اچھی فلمیں لایا کرتا تھا۔
    شازی: ی ی یہ ی یی یہ یہاں ک کک کیا کر رہا ہے؟
    خان چاچا: شازی میں تمہارا رازدار ہوں۔ میں نے عامر کو تمہارے والدین کو کچھ بتانے سے روکا تھا۔ ميرے کہنے پر اس نے تمہارے والدین کو نہیں بتایا۔ آج یہ سکول میں تمہاری ٹیچر کو سب کچھ بتانا چاہ رہا تھا۔ میں نے اسے بڑی مشکل سے روکا ہے۔ مجھے تمہارا خیال تھا۔ میں نے بڑی مشکل سے اسے راضی کیا کہ تم ایک بہت اچھی لڑکی ہو۔ بتانے سے پہلے ایک دفعہ تم سے مل لے پھر شاید اسے تم پر رحم آ جائے
    شازی: ٹھیک ہے اب ملاقات ہو گئی ہے میں واپس جاتی ہوں۔

    یہ سن کر عامر کرسی سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ اس نے سیگریٹ فرش پر پھینکا اور اسے پائوں کے نیچے زور سے مسل کر دیا۔ وہ غصے سے شازی کی طرف دیکھ رہا تھا۔

    عامر: خان تمہاری میڈم کے تو نخرے ہی نہیں ختم ہو رہے۔ میں ابھی جا کر اسکی ماں کو اس کے کرتوت بتاتا ہوں۔
    خان چاچا نے عامر کا ہاتھ پکڑ لیا۔
    خان چاچا: بچی ہے عامر تم اتنا غصہ کیوں کرتے ہو
    عامر نے خان چاچا کا ہاتھ جھٹک دیا۔
    عامر: خان مجھے بتانا ہی ہوگا۔

    یہ کہہ کر عامر دروازے کی طرف بڑھنے لگا۔ خان چاچا اسے جاتا دیکھ کر شازی سے مخاطب ہوا۔

    خان چاچا: شازی روکو عامر کو۔ اس نے بڑی میڈم کو بتا دیا تو دونوں کے لیے مسئلہ ہو جائے گا۔

    عامر شازی کی طرف دیکھتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔ دروازے کے پاس رک کر اس نے ایک نظر شازی کو دیکھا اور باہر نکنے لگا۔ اچانک اسے شازی کی آواز سنائی دی

    شازی: پ پپ پپل پپلی پلیز ماما کو نہ بتائو

    شازی کی ڈری اور سہمی ہوئی آہستہ سی آواز نکلی۔ عامر کے قدم اپنی جگہ پر رک گئے۔ وہ واپس مڑا اور شازی کو کمر سے ہلکا سا دھکا دے کر دروازے سے اندر کر دیا اور خود دروازے کے درمیان کھڑا ہو گیا۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ سینے پر باندھ لیے۔

    عامر: کیوں نہ بتائوں
    شازی: پلیز ماما کو------
    عامر شازی کی بات کاٹتے ہوئے: لڑکی میری بات غور سے سنو۔ مجھے نخرے بلکل بھی پسند نہیں ہیں۔
    شازی: س سس سور سوری
    عامر: اسطرح کرتے ہیں سوری۔ کسی نے معافی مانگنا نہیں سکھایا؟ چلو میرے پائوں کو ہاتھ لگا کر معافی مانگو۔

    شازی آگے بڑہی اور جھک کر عامر کے پائوں کو ہاتھ لگا کر سیدہی کھڑی ہو گئی۔

    عامر: خان تم نے میڈم کو معافی مانگنا نہیں سکھایا؟ شازی جھک کر میرے پائوں کو ہاتھ لگا کر معافی مانگو اور جب تک معاف نہ کروں میرے پائوں چھوڑنے نہیں ہیں۔

    شازی اس دفعہ اپنی جگہ سے نہ ہلی۔

    عامر:شازی اب اگر میں نے تمہاری ماں کو بتانے کا فیصلہ کر لیا تو پھر میں رکوں گا نہیں۔ اس لیے جلدی کرو اس سے پہلے کہ میں اپنا ارادہ تبدیل کر لوں۔

    شازی نے جھک کر عامر کے پائوں پکڑ لیے۔ شازی کا سر عامر کے گھٹنوں سے ٹکرا رہا تھا اور اسکی گانڈ ہوا میں اونچی تھی۔ عامر نے تھوڑا آگے جھک کر شازی کی گانڈ کے دونوں کوہلے پکڑ لیے۔ وہ اسکے کوہلوں کو آہستہ آہستہ دبا رہا تھا۔

    عامر: چلو شاباش لڑکی۔ اب معافی مانگو
    شازی: پلیز معاف کر دو۔
    عامر: آئیندہ نخرے کرو گی؟
    شازی: نہیں۔
    عامر: چلو پھر اس شرط پر معاف کرتا ہوں۔

    یہ کہہ کر عامر نے شازی کے کوہلوں کو زور سے دبایا۔ شازی کی سسکاری نکل گئی۔ عامر نے اسے چھوڑ دیا اور شازی سیدھی کھڑی ہو گئی۔

    عامر: بڑی مست گانڈ پائی ہے میڈم۔ چدواتے ہوئے تو بہت ہی خوب لگتی ہو گی تم۔ چلو میں نے تمہیں ایک دفعہ چدواتے ہوئے دیکھنا ہے۔

    شازی حیرت سے اسکی طرف دیکھ رہی تھی۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ شخص کیا چاہ رہا ہے۔

    عامر: چلو شاباش اپنے کپڑے اتارو
    شازی مڑ کر خان چاچا کو دیکھنے لگی۔ خان چاچا نےاپنے کندھے اچکائے اور بولا
    خان چاچا: شازی اسکی بات مان لیتے ہیں اسکے بعد اسکا مسئلہ تو حل ہو جائے گا نا۔ چلو ادھر آ کر کپڑے اتارو

    شازی چلتی ہوئی خان چاچا کے پاس چلی گئی۔ اسکی نظریں زمین پر گڑھی ہوئی تھیں۔ عامر چلتا ہوا آیا اور کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گیا۔

    عامر: میرے پاس زیادہ ٹائم نہیں ہے خان
    خان چاچا: شازی جلدی کرو

    شازی نے آہستہ آہستہ کپڑے اتارنے شروع کر دیے۔ تھوڑی دیر کے درمیان شازی دونوں کے درمیان ننگی کھڑی تھی۔ عامر کی نظریں شازی کی گانڈ اور ٹانگوں پر جمی ہوئی تھیں۔ وہ اٹھ کر شازی کے پاس چلا گیا۔ شازی کا قد اسکے کندھوں تک تھا۔ وہ اپنے ہاتھ شازی کی گانڈ پر پھیرنے لگا۔ شازی کا جسم کانپ کر رہ گیا۔ عامر چلتا ہوا شازی کے سامنے آیا اور شازی کا جسم دیکھنے لگا۔ اس نے شازی کے دونوں مموں کی طرف دیکھا۔ شازی کے نپلز کھڑے ہو چکے تھے اور سیدھے سامنے عامر کی طرف تھے۔ یہ دیکھ کر عامر کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔ عامر شازی کی کان میں بولا تمہیں چدتا ہوا دیکھ کر بہت مزا آئے گا میڈم۔ یہ کہہ کر وہ دوبارہ کرسی پر بیٹھ گیا۔

    اتنی دیر میں خان چاچا بھی ننگا ہو چکا تھا۔ وہ چارپائی کو شازی کی چدائی کے لیے تیار کر چکا تھا۔ شازی خاموشی سے جا کر چارپائی پر چدنے کے لیے لیٹ گئی۔ خان چاچا نے کریم سے اسکی پھدی کو چکنا کرنا شروع کر دیا۔

    عامر: خان یہ کیا کر رہے ہو؟
    خان چاچا: پھدی کو چکنا کر رہا ہوں
    عامر: مجھے اسطرح سے پسند نہیں ہے۔ چلو کل ایسا نہیں کرنا۔

    یہ سن کر شازی کے بدن میں ایک ٹھنڈی لہر دوڑ گئی۔ اس لیے نہیں کہ کل خان چاچا اسکی پھدی کو چکنا نہیں کرے گا بلکہ یہ سوچ کر کہ کیا عامر کل پھر ادھر ہو گا؟ خان چاچا شازی کی پھدی کو چھو رہا تھا۔ شازی نے اپنے ذہن سے عامر کے خیال کو جھٹک دیا۔

    خان چاچا شازی کی ٹانگوں کے درمیان آ گیا۔ شازی کی ٹانگیں عادت کے تحت خود با خود کھل گئی تھیں۔ خان چاچا آج تک اسے ایک ہی سٹائل سے چودتا آیا تھا۔ خان چاچا نے لن ہاتھ ميں پکڑا اور آہستہ آہستہ شازی کی پھدی میں ڈالنے لگا۔ شازی نے اپنی آنکھيں بند کر لی تھیں۔ خان چاچا نے شازی کے دونوں مموں پر ہاتھ رکھا اور شازی کو چودنا شروع ہو گیا۔ دونوں کو ایک دوسرے کے جسم کی عادت ہو چکی تھی۔ خان چاچا کا لن زیادہ دیر شازی کی پھدی کی گرمی برداشت نہ کر سکا اور جلد ہی اسکے لن سے پانی نکلنے لگا۔ شازی خان چاچا کی کمر پر ہاتھ رکھ کر دونوں ہاتھوں سے اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔

    عامر نے اٹھ کر تالیاں بجانی شروع کر ديں۔

    عامر: واہ واہ خان۔ تو اپنی میڈم کو چودتا ہے کہ پیار کرتا ہے اس سے
    خان چاچا نے شازی کے اوپر سے ہی مڑ کر عامر کی طرف دیکھا۔
    عامر: اتنی مست اور گرم لڑکی تمہارے ہاتھ لگی ہے خان اور تم اسکے مزے بھی نہیں لیتے پورے پورے۔ چل ہٹ آج میں چود کے بتائوں گا تیری میڈم کو تجھے۔
    خان چاچا شازی کے اوپر سے اٹھنے لگا۔
    شازی: نہیں مجھے اس کے ساتھ کچھ نہیں کرنا۔
    عامر یہ سن کر مسکرا دیا۔
    عامر: مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے۔ ںہیں کرنا تو نہیں کرتے۔
    یہ کہہ کر عامر کرسی سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور شازی کے کپڑے اٹھا لیے۔
    عامر: ميں تمہارے کپڑے لے کر جا رہا ہوں۔ اور یہ جا کر میں ابھی تمہاری ماں کو دیتا ہوں۔
    یہ کہہ کر عامر دروازے کی طرف بڑھنے لگا۔ شازی تو جیسے سن ہی ہو گئی۔
    شازی: ن نن نن نننن ن ننننن نہیں۔ رکو۔۔۔۔ ماما کو نہیں۔

    شازی تقریباً رونے والی ہو گئی تھی۔ عامر واپس آیا اور چارپائی کے پاس کھڑا ہو گیا۔ شازی اٹھ کر بیٹھ گئی تھی۔

    عامر: کیوں رکوں؟ جو کہوں گا کرو گی؟ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ مجھے نخرے پسند نہیں ہیں۔
    شازی: ہاں کروں گی۔ پ پ پپ پلیز م مم ما ما کو نہیں بتانا
    عامر جا کر کرسی پر بیٹھ گیا اور بولا۔
    عامر: چلو اٹھو کھڑی ہو جائو اور ادھر میرے پاس آئو

    شازی چارپائی سے اٹھی اور عامر کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی۔ اسکا بدن ہلکا ہلکا لرز رہا تھا۔

    عامر: میری آنکھوں میں دیکھو
    شازی نے سر اٹھا کر عامر کی آنکھوں میں دیکھا۔
    عامر: پہلی اور آخری دفعہ میری آنکھوں میں دیکھ رہی ہو تم۔ سمجھی
    شازی: ہہ ہہہ ہاں
    عامر: مجھے کیا کہہ کر پکارو گی آئیندہ کچھ پتا ہے؟
    شازی: نن ننہیں
    عامر: تم مجھے اور خان دونوں کو آئیندہ صاب جی کہہ کر پکارو گی۔

    شازی کا منہ حیرت سے کھل گیا۔ اور اسکی حیرانگی اپنی جگہ پر ٹھیک بھی تھی۔ وہ ان دوںوں سے بہت بہتر گھر سے تھی اور وہ کہہ رہا تھا کہ ان دونوں کو صاب جی کہہ کر پکارے۔ یہ سن کر ہی شازی کو زور کا جٹھکا لگا تھا۔ اسکے منہ سے کوئی آواز تک نہ نکلی تھی۔

    عامر تھوڑا سختی سے: لڑکی بات سمجھ آئی میری یا میں چلوں اٹھ کر
    شازی جلدی سے: ٹ ٹٹ ٹھی ٹھیک ہے
    عامر: کیا ٹھیک ہے؟ جائوں میں کیا؟ جو بھی بولنا ہوا اب صاب جی کہہ کر بولنا
    شازی: پلیز نہیں صاب جی

    عامر کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔ وہ شازی کو بلیک میل کرنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔ اسے پتا تھا کہ اگر اسے شازی کے ساتھ مستقل طور پر کچھ کرنا ہے تو اسے اچھی طرح سے قابو کرنا ہوگا تا کہ اس کے پاس دوسری کوئی آپشن نہ بچے۔

    عامر: اور آئیندہ سے تمہارا نام ہوگا سینوریٹا ٹھیک ہے؟
    شازی حیرت سے: ٹھیک ہے صاب جی۔
    عامر: چلو سینوریٹا ادھر دیوار کے ساتھ ہاتھ لگا کر جھک کر کھڑی ہو جائو۔

    عامر نے دیوار کی طرف اشارہ کیا تھا۔ شازی بغیر کچھ بولے دیوار کی طرف جا رہی تھی۔ عامر کے چہرے پر ایک دفعہ پھر مسکراہٹ تھی۔ لڑکی اسکے ہاتھوں میں بے بس ہو چکی تھی۔ عامر اٹھ کر اپنے کپڑے اتارنا شروع ہو گیا۔ کپڑے اتارنے کے بعد وہ شازی کی طرف جانے لگا جو دیوار پر ہاتھ رکھے کھڑی تھی۔ اسکے دونوں ہاتھ دیوار پر ٹکے ہوئے تھے جب کی اسکی گانڈ باہر کو نکلی ہوئی تھی جیسے کہ اسکی گانڈ عامر کو چدائی کے لیے دعوت دے رہی ہو۔
    عامر نے شازی کی رانوں سے پکڑکر تھوڑا اور پیچھے کھینچا جس سے وہ تھوڑا اور جھک گئی۔

    عامر: سینوریٹا اپنی ٹانگیں کھولو تھوڑی سی
    شازی نے عامر کی بات سن کر اپنی ٹانگی تھوڑی سی کھول دیں۔ عامر نے سائیڈ پر آ کہ شازی کا ایک ہاتھ اپنے لن پر رکھا اور بولا
    عامر: سینوریٹا یہ کیا ہے؟
    شازی: لنڈ
    عامر: لنڈ نہیں لوڑا بولو۔ اور پورا بولو کہ صاب جی کا لوڑا ہے۔
    شازی آہستہ آواز میں: صاب جی کا لوڑا
    عامر: سینوریٹا صاب جی کے لوڑے سے شرم آتی ہے کیا۔
    اسکے ساتھ ہی عامر نے شازی کی گانڈ پر چپت لگائی جس کی وجہ سے شازی کے منہ سے ہلکی سی سسکی نکل گئی۔
    شازی: نن نن ننہیں
    عامر: تو پھر اونچا بولو۔ صاب جی سے بولو کہ اپنا لوڑا تمہاری پھدی میں ڈالے
    شازی: صاب جی اپنا لوڑا میری پھدی میں ڈالو

    عامر نے شازی کی گانڈ پر ایک اور چپت لگائی۔ شازی کی گانڈ ہلکی سرخ ہو رہی تھی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی شازی کو عامر کی گانڈ پہ چپت اچھی محسوس ہوئی تھی۔ عامر اپنا لوڑا ہاتھ میں پکڑی شازی کے پیچھے آ گیا۔ اس نے ایک ہاتھ سے شازی کے بال پکڑ لیے۔

    عامر: سینوریٹا صاب جی جب لوڑا ڈالے گا ہلو گی تو نہیں۔ اگر ہلی تو صاب جی کو اچھا نہیں لگے گا۔
    شازی: نہیں صاب جی نہیں ہلوں گی۔ آپ لوڑا ڈالو میری پھدی میں

    شازی نے اپنے دونوں ہاتھ مضبوطی کے ساتھ دیوار پر رکھ لیے اور اپنی پھدی کو عامر کے لوڑے کے لیے تیار کرنے لگی۔ اچانک اسے اپنی پھدی میں کوئی بہت ہی سخت اور موٹی چیز ایک زبردست جٹھکے کے ساتھ اندر جاتی ہوئی محسوس ہوئی۔ شازی کی درد سے ہلکی سی چیخ نکل گئی۔ عامر نے ایک ہی جھٹکے میں اپنا پورا لوڑا شازی کی پھدی میں ڈال دیا تھا۔

    عامر: لوڑا اچھا نہیں لگا کیا اپنے صاب جی کا؟
    شازی: لل للگا ہے صاب جی۔
    شازی ہونٹ بھینچ کر بات کر رہی تھی۔
    عامر: لگا ہے تو اب چیخنے کی آواز بھی نہيں آنی چاہیے اور تمہارے قدم بھی اپنی جگہ سے نہیں اٹھنے چاہییں۔
    شازی: ٹٹ ٹھیک ہے صاب جی

    عامر شازی کے بال پکڑ کر اپنا لوڑا شازی کی پھدی کے اندر باہر کرنے لگا۔ شازی کی پھدی کافی تنگ تھی جس کی وجہ سے عامر کے لوڑے کو بہت مزہ آ رہا تھا۔ عامر نے زور دار جٹھکا لگایا اور شازی کے پائوں زمین سے اٹھ گئے اور وہ اپنے پائوں کی انگلیوں پہ کھڑی ہوئی۔

    عامر: کیا بولا تھا سینوریٹا پائوں زمین سے نہیں اٹھنے چاہییں۔ سمجھ نہیں آتی۔ نیچے ہو اب

    عامر ادھر ہی رک گیا تھا۔ اس کا پورا لوڑا شازی کی پھدی کے اندر تھا۔ شازی نے پائوں نیچے کرنے کے لیے زور لگانا شروع کر دیا۔ عامر نے تھوڑا سا پیچھے ہو کر شازی کو نیچے ہونے کی جگہ دی۔ شازی نیچے ہو گئی تو عامر تھوڑا سا اور پیچھے ہو گیا اور اپنا لن شازی کی پھدی پر ٹکا کر کھڑا ہو گیا۔

    عامر: سینوریٹا چلو اب پیچھے ہو کر صاب جی کا لوڑا اپنی پھدی میں لو۔

    شازی نے دیوار پر ہاتھ رکھے رکھے اپنے آپ کو پیچھے دھکا دیا اور آہستہ آہستہ عامر کا لوڑا اپنی پھدی میں لینے لگی۔ وہ پورا پیچھے ہو کر رک گئی۔ عامر نے اپنا ایک ہات شازی کی گانڈ پر مارا

    عامر: سینوریٹا آگے پیچھے ہو کر خود بھی مزہ لو اور میرے لوڑے کو بھی مزہ دو

    شازی آگے پیچھے ہو کر عامر کا لن اندر باہر کرنے لگی۔ اب دونوں کو ہی مزہ آنا شروع ہو گیا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد عامر نے شازی کی گانڈ کو پکڑا اور خود زور زور سے جٹھکے لگانے لگا۔ وہ اپنے مزے کی انتہا کو پہنچنے لگا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد اسکا جسم اکڑنا شروع ہو گیا اور اسکے لن سے پانی نکلنے لگا۔ عامر کو اس چدائی کا بہت مزہ آیا تھا۔ اسکے منہ سے مزے سے آوازیں نکل رہی تھیں۔ عامر پیچھے ہٹ کر کھڑا ہو گیا۔

    عامر: سینوریٹا۔ جائو ذرا صاب جی کو اپنی پینٹی لا کر دکھائو

    شازی اپنے کپڑوں کی طرف بڑھنے لگی۔ اس نے اپنے کپڑوں میں سے پینٹی اٹھائی اور عامر کی طرف بڑھنے لگی۔

    عامر: چلو سینوریٹا اپنی پینٹی سے میرے لوڑے کو صاف کرو
    شازی: مم ممگ ممگر
    عامر: سینوریٹا۔ صاب کو کوئی اگر مگر پسند نہیں ۔ جلدی کرو

    شازی نے ہاتھ بڑھا کر اپنی پینٹی عامر کے لوڑے پر رکھی اور اپنی پینٹی سے اسکا لوڑا صاف کرنے لگی۔ اسکے بعد عامر نے اسے وہی پینٹی پہننے کو کہا۔ شازی نے وہی پینٹی پہن لی اور پھر کپڑے پہننے لگی۔ جانے سے پہلے عامر نے اسے ایک دفعہ پھر مخاطب کیا۔

    عامر: سینوریٹا جس باڈی واش سے آج نہائی ہو کل وہ ساتھ لے کر آنا۔ اس کمرے میں تو اسطرح نہانے کی کوئی چیز بھی نہیں ہے۔ اور ہاں کل تمہارے صاب جی تمہيں ایک اور نئی چیز سکھائیں گے۔

    شازی بغیر کچھ کہے کواٹر سے نکل گئی۔ وہ گھیلی پینٹی سے تنگ ہو رہی تھی۔ اسکےذہن میں طوفان چل رہے تھے کہ پتا نہیں کل کیا سیکھنے کو ملے گا

  20. The Following 14 Users Say Thank You to hardwood For This Useful Post:

    abba (15-12-2017), abkhan_70 (14-12-2017), anjumshahzad (25-12-2017), God Father (16-12-2017), hananehsan (14-12-2017), Irfan1397 (15-12-2017), jerryplay100 (17-12-2017), Lovelymale (19-12-2017), MAMONAKHAN (23-12-2017), omar69in (17-12-2017), piyaamoon (15-12-2017), prince77 (15-12-2017), ShaziAlee (14-12-2017), suhail502 (14-12-2017)

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •