Page 1 of 15 1234511 ... LastLast
Results 1 to 10 of 144

Thread: سیکس سٹوری 1947

  1. #1
    Maria Joe's Avatar
    Maria Joe is offline Harafa Orat
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    Faisalabad
    Posts
    100
    Thanks
    57
    Thanked 460 Times in 89 Posts
    Time Online
    1 Day 16 Hours 12 Minutes 23 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Minute 5 Seconds
    Rep Power
    18

    Redarrow سیکس سٹوری 1947

    دوستو کہتے ہیں پارٹیشن سے پہلے جب ہندوستان پر انگریزوں کی حکومت تھی بہت سارے علاقوں کے معزز خاندان انگریزوں کو اپنے خاندان کی عورتیں چودنے کے لئے پیش کیا کرتے تھے۔ اور انگریز ان عورتوں کی پھدی اور بنڈ کے بدلے اس خاندان کو مختلف اختیارات اور زمینوں سے نوازا کرتے تھے۔ ان خاندانوں میں ہندو اور مسلمان دونوں شامل تھے۔ یہ کہانی بھی اسی تناظر میں لکھی گئی ہے ۔ کہانی شروع کرنے سے پہلے میں آپکو کچھ باتوں کی معلومات دینا چاہتی ہوں۔







    Nymphomania: یہ ایک بیماری ہے جو زیادہ تر خواتین میں پائی جاتی ہے جس میں عورت حد سے زیادہ سیکس کی شوقین ہوتی ہے اور 1-2 دن سے زیادہ پھدی میں لن لئے بنا نہیں رہ سکتی اور اسکی خواہش ہوتی ہے کہ وہ مختلف مردوں کا لن لے سکے۔ علم نا ہونے کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں ایسے نفسیاتی مریضوں کو گشتی کا لقب دے دیا جاتا ہے۔ جب کہ ترقی یافتہ ممالک میں اس مرض کے لئے سیکس کنٹرول کلاسز لی جاتی ہیں۔ کہتے ہیں معروف گلوکارہ نور جہاں بھی ایسی ہی مرض میں مبتلا تھیں۔ اس کہانی میں بھی ایک کردار اسی مرض کا شکار ہے مگر انگریز ہونے کی وجہ سے وہ جس ک ساتھ چاہے اور جب چاہے سیکس کر سکتا/ سکتی ہے۔







    Dildo: یہ نقلی لن تمام افراد نے گندی فلموں میں دیکھا ہوگا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ نقلی لن ہزاروں سال پہلے بھی استعمال ہوتا تھا۔ اس لئے اس کہانی میں بھی اس کا ذکر ہوگا











    یہ کہانی ہے قصور شہر سے گیارہ کلومیٹر دور گاؤں روہی وال کی۔ روہی وال گاؤں موجودہ انڈیا پاکستان بارڈر سے محض 3 کلومیٹر دور ہے۔ مگر پاکستان بننے سے پہلے یہ محض ایک گاؤں تھا۔ پہلے پہل گاؤں میں مسلم آبادی زیادہ جبکہ ہندو تعداد میں کم تھے۔ جب انگریزوں نے قصور میں اپنا ایسٹ انڈیا دفتر بنایا اور علاقے کو کنٹرول کرنے ک لئے وہاں ایک عدد انگریز مجسٹریٹ بیٹھنے لگا تو انگریزوں نے علاقے میں توازن برقرار رکھنے کے لئے ایسے علاقے جہاں ہندو کم تھے وہاں ہندؤں کو اور جہاں مسلمان کم تھے وہاں مسلمانوں کو ہندؤں کے مقابلے پے کھڑا کرنا شروع کر دیا۔ اور اسی طرح روہی وال میں بھی ہندؤں کا نٹور لال خاندان انگریزوں کا منظور نظر بن گیا اور انگریزوں نے انکو مسلمانوں کے برابر زمینیں دے دیں۔ نٹور لال خاندان انگریزوں کو خوش رکھنے کے لئے انگریز مجسٹریٹ کو شب گزاری کے لئے اپنی عورتیں بھی بھجواتے جو رات بھر چدوا کر واپس آ جاتی۔











    جب ہندو طاقتور ہو گئے تو مسلمانوں اور انکے جھگڑے بھی شروع ہو گئے ۔ اور انہی جھگڑوں میں ہندو خاندان کا دینا رام اور مسلمانوں کے خاندان سے انور اور اسلم قتل ہو گئے۔ مگر اس کے بعد انگریزوں نے دونوں خاندانوں کو مزید جھگڑے سے روکدیا۔ دینا رام کا بیٹا راہول اب انگریزوں کا چمچہ تھا جو اپنی بہن اور بیوی دونو کو انگریزوں کے سامنے پیش کرتا تھا۔ امجد کا25 سالہ بیٹا ساجد یعنی میں اب مسلمان خاندان کا وارث تھا ۔اور میرے گھر میں میری ماں اسلم چچا کی بیوہ اور انکی سولہ سالہ بیٹی بانو رہتے تھے۔ بانو کو بچپن سے ہی مجھ سے منسوب کر دیا گیا تھا اور بانو میری چچا زاد ہونے کے ساتھ ساتھ منگ بھی تھی۔











    پاکستان کو آزاد ہوئے ساڑھے تین مہینے ہو گئے تھے۔ دسمبر کا مہینہ شروع ہو چکا تھا۔ اور سردی اپنے عروج پر پوھنچ چکی تھی۔ ایسے میں انگریز ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ ملکر علاقوں کی تقسیم اور بارڈر بنا رہے تھے۔ قصور شہر پاکستان کے حصّے میں۔ آ رہا تھا مگر روہی وال کی آبادی ساٹھ فیصد مسلمان ہونے کے باوجود راہول نٹور لال انگریزوں سے ساز باز کر رہا تھا کہ چونکہ زمینیں دونو کی برابر ہیں اس لئے ہندؤں کی وفاداری کے طور پر روہی لال ہندوستان میں شامل کر دیا جائے۔



    ان دنوں قصور کی مجسٹریٹ ایک لیڈی روزی ہوا کرتی تھی۔ روزی ایک تیس سالہ کنواری انگریز تھی۔ کہا جاتا تھا کہ روزی بلا کی سیکس شوقین تھی اور نا صرف اپنے ساتھی فرنگیوں سے چدواتی تھی بلکہ جس پر دل آ جاتا اسے بھی اپنی کومل پھدی چودنے کے لئے پیش کر دیتی۔ روزی نے جب پہلی دافع مجھے دیکھا تو ساڑھے چھے فٹ لمبا اور چوڑی چھاتی والا میں اسے پہلی نظر میں ہی پسند آ گیا۔ روزی نے مجھے بھی پیشکش کی۔ مگر میں نے انکار کر دیا۔ روزی نے مختلف طریقوں سے مجھ کو راضی کرنے کی کوشش کی مگر میرے متواتر انکار نے مجھ کو روزی کی چڑ بنا دیا اور روزی نے سوچ لیا تھا کہ ایک نا ایک دن وہ میرا لن لے کر رہے گی۔ اور روزی نے مجھ کو تنگ کرنے کے لئے راہول کو فوقیت دینا شروع کر دی تھی۔







    روہی وال کو ہندوستان یا پاکستان میں شامل کرنے کا اختیار روزی کو دے دیا گیا تھا۔ اور کل روزی نے راہول سے اس سلسلے میں ملاقات بھی کی تھی۔ اور آج روزی نے مجھے ملاقات کے لئے بلایا تھا۔ شروع دسمبر کی اس شام میں اپنے گھوڑے پر فرار جسم پر کھیس لپیٹے قصور کو رواں دواں تھا۔ جس وقت میں قصور پوھنچا رات ہو چکی تھی۔ بنگلے پر پوھنچ کر میں نے اطلاع دی تو مجھے پہلے باہر لان میں بٹھایا گیا اور پھر کچھ دیر میں ایک بندے نے آ کر بتایا کے لیڈی روزی نے مجھے اپنے کمرے میں بلایا ہے کمرے کا۔ سن کر میرا ماتھ ٹھنکا اور میں سمجھ گیا کہ آج پھر مجھے روزی چودنے کا موقع فراہم کرنا چاہتی ہو گی۔ جب میں کمرے میں داخل ہوا تو منظر کچھ کچھ میرے اندازے کے مطابق ہی تھا۔ اندر روزی کے علاوہ راہول کی بہن پوجا جو کہ روزی کی آجکل دوست بھی تھی اور انگریز ملازم الف ننگے بیڈ پر لیتے تھے جب کہ روزی کپڑے پہنے کرسی پر بیٹھی تھی۔ روزی اردو بول لیتی تھی اس لئے مجھے دیکھ کر بولی آؤ بیٹھو۔ میں نے ایک نظر ننگے فرنگی اور پوجا پر ڈالی اور روزی کے ساتھ کرسی پر بیٹھ گیا۔ روزی بولی کے ہم۔ ذرا مصروف ہیں اس لئے سوچا کے تمکو باہر سردی میں انتظار کروانے سے اچھا ہے اندر گرم کمرے میں بٹھایا جائے۔ کمرے میں آتش دان میں لکڑیاں جل رہی تھیں جس سے کمرہ سچ میں گرم تھا مگر میں جانتا تھا وہ مجھے کچھ اور دکھانا چاہتی تھی۔







    یہ بول کر روزی اٹھی اور جسم پر جو چادر لپیٹ رکھی تھی اسے اتارا اور ننگی ہو کر بیڈ پر چڑھ گئی۔ روزی کے سلور بال اسکی گوری کمر پر تھے۔ پتلی کمر ہونے کے باوجود اسکی بونڈ موٹی تھی اور جب وہ چل رہی تھی تو اسکے چوتڑ ہل رہے تھے۔ روزی کے ممے سڈول اور بڑے تھے جو سیدھے تنے ہوے تھے۔ روزی کی نسبت پوجا کی کمر اور بونڈ دونوں پتلے تھے اور ممے بھی چھوٹے تھے۔ پوجا کی عمر تقریباً 22 سال تھی اور اس حساب سے اس کے ممے بھی ٹھیک ٹھاک تھے مگر روزی سے چھوٹے تھے۔ پوجا کا رنگ بھی گندمی تھا۔







    بیڈ پر پوھنچ کر روزی پوجا پر لیٹ گئی اور اس کے ہونٹ چوسنا شروع کر دیے ۔ پوجا نے بھی زبان نکال کر چسوانا شروع کر دی۔ وہ انگریز لڑکا گھوم کر آیا اور اوپر لیٹی روزی کی بونڈ اور پھدی چاٹنا شروع کر دی۔ میں حیرانی سے انکو یہ سب کرتا دیکھ رہا تھا۔ میرا یہ پہلا سیکس منظر تھا اس لئے میرا لن شلوار کے اندر ہی تن کر کھڑا ہو گیا۔ میں نے دیکھا اب پوجا روزی کی زبان چوس رہی تھی اور روزی نے پیچھے سے اپنی بونڈ اوپر اٹھا لی تھی اور وہ فرنگی اب پوجا کی پھدی چاٹ رہا تھا۔ کچھ دیر یہ منظر ایسے ہی چلتا رہا کبھی وہ پوجا کو چاٹ رہا تھا اور کبھی روزی کو۔ اور وہ دونو بھی باری باری ایک دوسرے کی زبان چوس رہی تھیں اور نیچے سے اپنے ممے بھی رگڑ رہی تھی۔ پھر دونو اٹھی اور انگریز لڑکے کو درمیان میں لٹا کر اسکا 5 انچ کا لن باری باری منہ میں لے کر چوسنے لگ گئیں ۔ انکو لن منہ میں لیتا دیکھ کر میں پہلے تو حیران ہوا مگر پھر سوچا انگریز ہیں کچھ بھی کر سکتے ہیں اور لگتا تھا پوجا بھی کافی عرصے سے روزی کے ساتھ یہ سب کر رہی تھی کیوں کی جس رفتار سے وہ لن منہ میں لے کر اوپر نیچے منہ کر کے چوپا لگا رہی تھی اس سے وہ کافی تجربہ کار لگ رہی تھی۔ روزی اور پوجا باری باری لن منہ میں لے رہی تھی۔ جب ایک لن منہ میں لیتی تو دوسری لن کے نیچے گولیاں چاٹنے لگ جاتی اور جب وہ لن کے چوپے لگاتی تو پہلے والی گولیاں چوسنے لگ جاتیں۔ انگریز لڑکے کا لن تھوک سے بھر چکا تھا اور ان دونوں کے لبوں سے بھی تھوک کی رالیں گر رہی تھی اور عجیب ہیجان انگیز سا منظر بن رہا تھا۔ دونو ساتھ ساتھ چوپے لگا رہی تھی اور انہی گندے ہونٹوں سے ایک دوسرے کے ہونٹ بھی چوس رہی تھی۔ ان کے اس طرح چوپے لگانے سے اب انگریز لڑکے کے منہ سے اونچی آواز میں سسکیاں نکل رہی تھیں اور وہ آہ آہ آہ کی آوزیں نکال رہا تھا۔



    جب دونوں نے جی بھر کے لن چوس لیا تو لن چھوڑ کر زور سے ایک دفع ایک دوسرے کے ہونٹ چوسے اور پھر پوجا تکیہ سر کے نیچے رکھ کر لیٹ گئی۔ انگریز لڑکے نے دوسرا تکیہ پوجا کی بونڈ کے نیچے رکھا جس سے اس کی پھدی تھوڑی اوپر ہو گئی اور دونو ہاتھوں سے پوجا کی ٹانگیں مزید کھول دیں ۔ ٹانگیں کھول کر اسنے اپنا لن پوجا کی پھدی پر فٹ کیا اور ایک ہی زور دار گھسے سے سارے کا سارا 5 انچ کا لن پوجا کی پھدی میں اتار دیا۔ پوجا کے منہ سے ایک زور دار چیخ نکلی اور پھر وہ نارمل ہو گئی۔ پوجا کی پھدی پہلے سے کھلی تھی مگر اچانک سے لن سارا اندر جانے سے اس کی چیخ نکل گئی تھی۔ لن اندر ڈالتے ہی انگریز لڑکے نے فل سپیڈ سے چودنا شروع کر دیا۔ روزی بیڈ پر کھڑی ہو گئی اور پوجا کی پھدی مارتے انگریز کے سامنے آ کر اپنی پھدی اس کے منہ سے لگا دی اور اسنے روزی کی پھدی بھی ساتھ ساتھ چاٹنا شروع کر دی۔ کچھ دیر میں ہی پوجا اور روزی دونوں کے منہ سے سسکیاں نکلنا شروع ہو گئی۔ پوجا کی سسکیاں ذرا بلند تھی اور کچھ ہی دیر میں پوجا کا جسم جھٹکا کھا کر ساکت ہو گیا جیسے اس کے جسم سے جان نکل گئی ہو۔ میں نے دیکھا کہ پوجا کی پھدی سے کافی سارا پانی نکلا جس سے لڑکے کا لن لتھڑ گیا تھا۔ لڑکے نے لن باہر نکالا تو روزی نے جلدی سے جھک کر لن پر لگا پوجا کی پھدی کا سارا پانی چاٹ لیا اور پھر پوجا کی پھدی پر لگا ہوا سارا لیس دار پانی بھی چاٹ لیا۔ پھر پوجا نے اٹھ کر روزی کے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ لگا دیے جن پر پوجا کی پھدی کا پانی رالوں کی شکل۔ میں گر رہا تھا۔ ادھر انگریز لڑکے نے بیڈ کے نیچے سے سرسوں کا تیل نکالا اور اچھی طرح اپنے لن پر لگا لیا۔ اسے لن پر تیل لگاتا دیکھ کر روزی نے اس کے ہاتھ سے تیل پکڑا تو پوجا بیڈ پر گھوڑی کی طرح جھک گئی۔ روزی نے انگلی پر تیل لگا کر پوجا کی بونڈ کے سوراخ پر تیل مل دیا پھر ایک انگلی کو کافی سارا تیل لگا کر پوجا کی بونڈ میں داخل کر دی اور اچھی طرح گھما کر اندر بھی تیل لگا دیا۔ جب تیل لگ گیا تو پوجا بیڈ پر لیٹے انگریز لڑکے کے دونوں طرف ٹانگیں کر کے کھڑی ہو گئی۔ روزی نے لن پکڑ کے سیدھا آسمان کی طرف کیا تو پوجا آھستہ سے اس طرح بیٹھی کے اس کی بونڈ لن پر آ گئی۔ روزی نے لن کی ٹوپی کو بونڈ کے سوراخ پر فٹ کیا تو پوجا آھستہ آھستہ نیچے بیٹھ کر لن بونڈ میں لینے لگی۔ پہلے لن کی ٹوپی اندر گئی تو پوجا رک گئی اور کچھ لمحے ٹھہر کر آھستہ آھستہ مزید نیچے ہو کر لن اندر لینے لگی۔ تھوڑی دیر میں لن جڑ تک پوجا کی بونڈ میں گم ہو گیا۔ اور نیچے سے لڑکے نے اوپر اٹھ اٹھ کر لن اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔ ادھر روزی نے بیڈ کے نیچے ہاتھ ڈال کر ایک عجیب سی چیز نکالی جو انڈرویر سے ملتی جلتی تھی مگر اس سے آگے شیشے کا نقلی لن لگا ہوا تھا۔ اس کے سائیڈ الاسٹک کے تھے تو روزی نے اسے انڈرویر کی طرح پہن لیا۔ اب روزی کی پھدی کے آگے لن نظر آ رہا تھا۔ نیچے پوجا نے یہ دیکھ کر ٹانگیں کھول دیں تو روزی نے نیچے بیٹھ کر نقلی لن پوجا کی پھدی میں ڈال دیا اور انگریز لڑکے کی طرح گھسے مارنا شروع کر دیے۔ اب نیچے سے لڑکا زور زور سے اٹھ کر پوجا کی بونڈ مار رہا تھا اور اوپر سے روزی اسکی پھدی مار رہی تھی۔ مگر پوجا مزے سے دونوں لن بونڈ اور پھدی میں لے کر آہ آہ کر رہی تھی۔ تھوڑی دیر دونوں سوراخوں میں چدنے سے پوجا کی پھدی نے ایک بار پھر پانی چھوڑ دیا۔ پوجا کے پانی چھوڑتے ہی تینوں اٹھے اور جگہ تبدیل کر لی۔ اب روزی نیچے سے پوجا کی بونڈ مار رہی تھی اور لڑکا اوپر پھدی میں گھسے مار رہا تھا اس پوزیشن میں بھی وہ تب تک چودتے رہے جب تک پوجا کی پھدی نے ایک بار پھر پانی نا چھوڑ دیا۔







    اس کے بعد پوجا بیڈ کی سائیڈ پر لیٹ کر سانس بحال کرنے لگی تو روزی نے انگریز لڑکے کو بیڈ کی دوسری سائیڈ پر لٹایا اور اسکی طرف منہ کر نقلی لن اتارا اور اس کے لن پر بیٹھ گئی۔ دونوں ٹانگیں گھٹنوں کے بل اسکی سائیڈ پر کی اور ایک بار اٹھ کر لن ہاتھ میں پکڑ کر پھدی پر آھستہ سے نیچے بیٹھ کر لن سارے کا سارا اندر لے لیا۔ جب لن اندر چلا گیا تو روزی نے لن پر اچھلنا شروع کر دیا جس سے لن اندر باہر ہونا شروع ہو گیا۔ ادھر پوجا نے نقلی لن پہن لیا اور روزی کے پیچھے آ کر بیٹھ گئی اور جھک کر روزی کی بونڈ پر تھوک پھینکا اور انگلی سے سوراخ پر اچھی طرح مل دیا۔ نقلی لن پر پوجا کی پھدی کا پانی ابھی تک لگا ہوا تھا اس لئے پوجا نے لن بونڈ کے سوراخ پر رکھ کر دھیرے سے اندر کر دیا۔ اس دفع سسکیاں لینے کی باری روزی کی تھی۔ پوجا اور انگریز لڑکا زور زور سے روزی کی بونڈ اور پھدی چود رہے تھے۔ روزی کبھی کبھار میری طرف دیکھ لیتی جو ہونقوں کی طرح انکو دیکھ رہا تھا۔ میرا لن اب کھڑا کھڑا پھٹنے والا ہو گیا تھا۔ مگر قمیض اوپر ہونے کی وجہ سے نظر نہیں آ رہا تھا۔ ادھر تقریباً پانچ منٹ بونڈ اور پھدی مروانے کے بعد روزی کی پھدی نے پہلی دفع پانی چھوڑ دیا۔ پانی چھوڑنے کے بعد روزی اٹھی اور جھک کر لن پر لگے اپنی پھدی کے پانی کو چوپے لگا کر چاٹنا شروع کر دیا۔ جھکی ہونے سے روزی کی پھدی پیچھے سے نظر آنے لگی جس سے لیس دار پانی رالیں بہا رہا تھا۔ پوجا نے جھک کر روزی کی پھدی سے سارا پانی چاٹ لیا۔ اور ایک بار پھر گھوڑی بنی روزی کی پھدی میں نقلی لن اتار دیا اور چودنا شروع کر دیا۔ کچھ دیر لن چاٹنے اور پھدی مروانے کے بعد روزی اٹھی اور پوجا کو لٹا کر اسکی طرف کمر کر کے نقلی لن بونڈ میں لے کر بیٹھ گئی۔ انگریز لڑکے نے بھی لن آگے سے پھدی میں ڈال کر چودنا شروع کر دیا۔ اس بار بھی تھوڑی دیر کے بعد روزی نے پانی چھوڑ دیا نیچے سے پوجا تو رک گئی مگر انگریز زور زور سے گھسے مارتا رہا۔ تقریباً دو منٹ بعد انگریز نے لن نکالا اور روزی کے منہ میں دے۔ دیا۔ روزی نے لن کی ٹوپی منہ میں لے کر منہ اچھی طرح بند کر لیا۔ انگریز کے منہ سے اونچی سی آواز میں آہ آہ آہ نکلا اور پھر کچھ دیر بعد اس نے لن نکالا تو روزی کی زبان پر لڑکے کی منی جمع تھی۔ روزی نے مڑ کر اپنا منہ نیچے لیٹی پوجا کے منہ پر کیا تو پوجا نے اپنا منہ کھول دیا اور روزی نے ساری منی پوجا کے منہ میں الٹ دی اور جھک کر دونوں نے اپنی زبانوں سے منی کے ساتھ کھیلنا شروع کر دیا اور پھر دونوں آدھی آدھی منی پی گئی۔



    کچھ دیر لیٹنے کے بعد روزی اٹھی اور آھستہ سے کچھ بولی تو پوجا اور انگریز لڑکا اٹھ کر ننگے ہی باہر نکل گئے۔ اور روزی اٹھ کر میرے سامنے والی کرسی پر آ کر بیٹھ گئی اور ٹانگیں کھول کر ٹیبل پر رکھ لی جس سے اسکی پھدی جس پر لیس دار پانی ابھی تک نظر آ رہا تھا نظر آنے لگی۔

    میں نے ایک نظر اسکی پھدی سے رستے لیس دار پانی کو دیکھا اور پھر اس کے چہرے کی طرف دیکھا تو وہ میری طرف ہی دیکھ رہی تھی۔ مجھے دیکھ کر بولی کہ سرکار نے روہی وال کے فیصلے کا اختیار اسے دے دیا ہے. اور وہ کل روہی وال کا دورہ کرے گی اور پھر فیصلہ کرے گی کہ روہی وال پاکستان کا حصّہ بنے گا یا ہندوستان کا۔ اور پھر کچھ مزید گاؤں کی باتیں پوچھنے کے بعد اسنے مجھے کہا کے اب میں جا سکتا ہوں اور کل ملاقات ہو گی۔ یہ کہ کر وہ اٹھی اور اپنا گاؤن پہن لیا اور میرے ساتھ ہی باہر آ گئی۔ باہر رات بوہت ہو چکی تھی اور دھند بھی پڑ چکی تھی۔ باہر لان میں دیکھا تو پوجا اور انگریز لڑکا کپڑے پہن کر کھڑے تھے۔ پوچھنے پر پوجا نے بتایا کہ جس کوچوان نے اسے گھر چھوڑنے جانا تھا وہ دیر ہونے اور دھند کی وجہ سے گھر جا کر سو گیا ہے۔ یہ سن کر روزی سوچ میں پڑ گئی اور پھر میری طرف ایک نظر غور سے دیکھا اور پوجا کی طرف دیکھ کر بولی یہ ساجد بھی تو گھر جا رہا ہے اور تمہارا گھر بھی وہیں ہے تو تم اسی کے ساتھ چلی جاؤ۔ یہ سن کر میں سٹپٹا گیا اور گھبرا کر بولا مگر میرے ساتھ کیسے جا سکتی ہیں یہ؟ یہ سن کر روزی پوجا سے بولی تم چلی جاؤ گی اس کے ساتھ تو وہ سر ہلا کر بولی ہاں کوئی بات نئی۔ تو روزی مجھے کہنے لگی ٹھیک ہے لے جاؤ اسے ویسے بھی وہ اس وقت کیسے جائے گی۔ یہ بول کر روزی اور انگریز دونوں اندر چلے گئے اور میں اور پوجا اکیلے رہ گئے۔ مرتا کیا نا کرتا اب مجھے اسے ساتھ لے کے جانا تھا۔ میں نے گھوڑے کو کھولا اور اس پر سوار ہو گیا۔ پوجا کو میرے پیچھے بیٹھنا تھا۔ اسنے اپنی گرم چادر اتار کر مجھے پکڑا دی۔ میں نے چادر آگے رکھی تو اس نے ہاتھ میری طرف بڑھا کر مدد مانگی۔ میں نے اسکا ہاتھ تھاما تو وہ پاؤں رکھ کر اچھل کر میرے پیچھے بیٹھ گئی۔ اور گردن آگے کر کے اپنی چادر پکڑ لی۔ آگے ہو کر چادر پکڑنے سے ایک لمحے کے لئے اس کے ممے میری کمر سے ٹچ ہوے تو میں جھٹکا کھا کر آگے ہوا جسکو اس نے بھی محسوس کیا اور ہلکا سا مسکرا دی۔ جب اس نے چادر لے لی تو میں نے گھوڑا بھگا دیا۔ باہر شدید ٹھنڈ تھی اور ہم دونو ہلکا ہلکا کپکپا رہے تھے۔ ابھی ہم تھوڑا سا ہی باہر نکلے تھے کہ اچانک پوجا نے اپنے دونوں بازو میری کمر کے گرد لپیٹ کر مجھے پیچھے سے جپھی ڈال لی۔ میں اس اچانک حرکت سے گھبرا گیا اور بولا یہ آپ کیا کر رہی ہیں؟ جس پر پوجا بولی ٹھنڈی ہوا بوہت لگ رہی ہے۔ جپھی ڈالنے سے اس کے ممے میری کمر سے لگ رہے تھے۔ کمر پر نرم نرم ممے لگتے ہی میرا لن ایک بار پھر سے سر اٹھا کر کھڑا ہو گیا۔ ابھی میں کمر پے اس کے مموں کا مزہ لے رہا تھا کے اچانک پوجا نے اپنا سیدھا ہاتھ نیچے لیجا کر میرا لن جو اس وقت تک پوری طرح کھڑا ہو چکا تھا پکڑ لیا۔ میں بدک کر بولا یہ کیا کر رہی ہو تو پوجا بولی ٹھنڈ بوہت ہے تمہیں تھوڑی سی گرمی دے رہی ہوں۔ میں تھوڑا غصے سے بولا چھوڑو مجھے یہ سب غلط ہے میں نہیں کروں گا۔ جس پر پوجا بھی غصے سے بولی خاموشی سے بیٹھے رہو۔ اگر اتنے نیک ہوتے تو اس طرح لن کھڑا نہیں ہوتا تمہارا۔ اگر زیادہ کچھ کیا تو کل لیڈی روزی کو بتا دوں گی تم نے راستے میں میرے ساتھ دست درازی کی کوشش کی تھی۔ اور تم جانتے ہو پھر تمہارا کیا حال ہوگا۔ یہ سنتے ہی میری ساری ہوا نکل گئی۔ اور میری ساری مزاحمت دم توڑ گئی۔ مجھے اس طرح ٹھنڈا پڑتے دیکھ کر پوجا اور بھی چوڑ ہو گئی اور میرے لن پے رکھا اپنا ہاتھ میری شلوار کے اندر لے جا کر میرا لن پکڑ لیا۔ اور بولی واہ ساجد تمہارا تو بوہت ہی بڑا ہے اور ٹٹول ٹٹول کر میرے لن کا اندازہ لگانے لگی۔ یہ میری زندگی کا پہلا موقع تھا کہ کسی نے میرا لن پکڑا تھا۔ اس لئے مجھے بھی بوہت مزاہ آ رہا تھا اور میں بھی سب باتیں بھول کر اس کے ہاتھ کا مزاح لینے لگ گیا۔ پوجا پیچھے سے میری کمر پر اپنے ممے رگڑ رہی تھی اور اپنے انگوٹھے اور انگلی کا رنگ بنا کر میرے لن کی مٹھ مار رہی تھی۔ اور باقی تین انگلیوں سے میرے لن کی ٹوپی کا مساج کر رہی تھی۔ میں بوہت مشکل سے گھوڑے کو سنبھال رہا تھا کیوں کے پوجا کا ہاتھ مجھے عجیب سی لذت سے روشناس کرا رہا تھا۔ مزے کی شدت اتنی زیادہ ہو گئی کے میرے منہ سے سسکی نکل گئی ۔ پوجا نے میری سسکی سنی تو مٹھ مارنا تیز کر دیا اور کچھ ہی دیر میں مجھے لگا میری ٹانگوں سے جان نکل کر لن کی طرف آ رہی ہے۔ پوجا نے جب میرے لن کی رگ پھولتے دیکھی تو اپنے ہاتھ کی مٹھی بنا کر اس کا سوراخ میرے لن کی ٹوپی پے رکھ دیا۔ مزے کی حد پے پوھنچتے ہی میرے لن سے منی کا فوارہ نکلا اور میری منی پوجا کے ہاتھ میں جمع ہونے لگ گئی۔ جب ساری منی نکل گئی تو پوجا نے بند مٹھی ایسے ہی باہر نکال لی اور میں نے دیکھا کہ باہر نکل کر اس نے اپنی ہتھیلی سے ساری منی چاٹ لی ۔ اتنی دیر میں پوجا کا گھر آ گیا ۔دھند کی وجہ سے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اس لئے پوجا کے گھر والوں کو پتا نہیں چل سکتا تھا کہ وہ کس کے ساتھ آئی ہے۔ پوجا جمپ لگا کر اتری اور بولی ویسے ہو تو تم ہمارے دشمن خاندان سے مگر تمہارا لن پوجا کو پسند آ گیا ہے۔ اب روہی وال سے ہم ہجرت کریں یا تم ایک بار تو پوجا تمہارا لن اپنے اندر لے کر ہی رہے گی۔ یہ کہ کر پوجا اپنے گھر چلی گئی اور میں بھی اپنے گھر آ گیا۔ بانو ابھی تک میرے انتظار میں جاگ رہی تھی۔ اسنے دروازہ کھولا اور کھانے کا پوچھا۔ میںنے انکار کر دیا اور اپنے کمرے میں جا کر لیٹ گیا اور آج کے تمام واقیات کو سوچنے لگا۔ اور سوچتے سوچتے ایسے ہی سو گیا
    Last edited by Story-Maker; 18-11-2017 at 01:40 PM.

  2. The Following 20 Users Say Thank You to Maria Joe For This Useful Post:

    abba (09-11-2017), abkhan_70 (09-11-2017), Admin (10-11-2017), Ajia.sidra (10-11-2017), anjumshahzad (24-11-2017), awais750 (10-11-2017), Irfan1397 (09-11-2017), jerryplay100 (10-11-2017), Love is Blind (09-11-2017), Lovelymale (10-11-2017), mayach (10-11-2017), omar69in (13-11-2017), piyaamoon (10-11-2017), salman gi (21-11-2017), sexeymoon (10-11-2017), shahg (14-11-2017), Story-Maker (18-11-2017), suhail502 (09-11-2017), sunnych64 (09-11-2017), sweettyme (09-11-2017)

  3. #2
    Irfan1397's Avatar
    Irfan1397 is offline super moderator
    Join Date
    Sep 2011
    Location
    Sahiwal
    Posts
    7,501
    Thanks
    26,079
    Thanked 38,242 Times in 7,300 Posts
    Time Online
    1 Month 2 Weeks 3 Hours 33 Minutes 7 Seconds
    Avg. Time Online
    28 Minutes 51 Seconds
    Rep Power
    3126

    Default

    nice start .

  4. The Following 3 Users Say Thank You to Irfan1397 For This Useful Post:

    anjumshahzad (24-11-2017), Story-Maker (18-11-2017), suhail502 (10-11-2017)

  5. #3
    muzaffar7633 is offline Premium Member
    Join Date
    Jun 2009
    Posts
    94
    Thanks
    3
    Thanked 92 Times in 59 Posts
    Time Online
    1 Week 2 Days 12 Hours 22 Minutes 53 Seconds
    Avg. Time Online
    6 Minutes 13 Seconds
    Rep Power
    19

    Default

    Nice Start keep it long & update soon

  6. The Following 4 Users Say Thank You to muzaffar7633 For This Useful Post:

    abba (09-11-2017), anjumshahzad (24-11-2017), Story-Maker (18-11-2017), suhail502 (10-11-2017)

  7. #4
    zeem8187's Avatar
    zeem8187 is offline Premium Member
    Join Date
    Jan 2010
    Location
    London
    Posts
    531
    Thanks
    73
    Thanked 1,306 Times in 453 Posts
    Time Online
    1 Week 17 Hours 23 Minutes 50 Seconds
    Avg. Time Online
    5 Minutes 2 Seconds
    Rep Power
    63

    Default

    کہانی اچھی ہے ۔۔۔لیکن اگر ۱۹۴۷ کے واقعات بتانے ہین تو ریپ سین بنتے ہین
    8187

  8. The Following 5 Users Say Thank You to zeem8187 For This Useful Post:

    abba (09-11-2017), abkhan_70 (09-11-2017), anjumshahzad (24-11-2017), Story-Maker (18-11-2017), suhail502 (10-11-2017)

  9. #5
    abba's Avatar
    abba is offline Premium Member
    Join Date
    Apr 2009
    Location
    Islamabad, Pakistan, Pakistan
    Age
    34
    Posts
    938
    Thanks
    15,775
    Thanked 2,448 Times in 795 Posts
    Time Online
    1 Week 1 Day 8 Hours 18 Minutes 31 Seconds
    Avg. Time Online
    5 Minutes 27 Seconds
    Rep Power
    175

    Default

    Bot zabardast shandar alla & hot story
    next ka intazar ry ga thanks g

  10. The Following 4 Users Say Thank You to abba For This Useful Post:

    abkhan_70 (09-11-2017), anjumshahzad (24-11-2017), Story-Maker (18-11-2017), suhail502 (10-11-2017)

  11. #6
    Maria Joe's Avatar
    Maria Joe is offline Harafa Orat
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    Faisalabad
    Posts
    100
    Thanks
    57
    Thanked 460 Times in 89 Posts
    Time Online
    1 Day 16 Hours 12 Minutes 23 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Minute 5 Seconds
    Rep Power
    18

    Default

    Quote Originally Posted by zeem8187 View Post
    کہانی اچھی ہے ۔۔۔لیکن اگر ۱۹۴۷ کے واقعات بتانے ہین تو ریپ سین بنتے ہین
    میں نے کہانی مکمل سوچ رکھی ہے اور اس میں ریپ کی گنجائش مشکل سے ہی نکلے گی. مگر غور ضرور کروں گی.

  12. The Following 7 Users Say Thank You to Maria Joe For This Useful Post:

    abba (10-11-2017), abkhan_70 (09-11-2017), anjumshahzad (24-11-2017), jerryplay100 (10-11-2017), Sexeria (18-11-2017), Story-Maker (18-11-2017), suhail502 (10-11-2017)

  13. #7
    Maria Joe's Avatar
    Maria Joe is offline Harafa Orat
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    Faisalabad
    Posts
    100
    Thanks
    57
    Thanked 460 Times in 89 Posts
    Time Online
    1 Day 16 Hours 12 Minutes 23 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Minute 5 Seconds
    Rep Power
    18

    Default

    Quote Originally Posted by abba View Post
    Bot zabardast shandar alla & hot story
    next ka intazar ry ga thanks g
    پسندیدگی کا شکریہ.

  14. The Following 4 Users Say Thank You to Maria Joe For This Useful Post:

    abba (10-11-2017), anjumshahzad (24-11-2017), Story-Maker (18-11-2017), suhail502 (10-11-2017)

  15. #8
    hananehsan's Avatar
    hananehsan is offline Premium Member
    Join Date
    Apr 2012
    Location
    Gujranwala
    Age
    28
    Posts
    97
    Thanks
    459
    Thanked 254 Times in 84 Posts
    Time Online
    5 Days 12 Hours 20 Minutes 45 Seconds
    Avg. Time Online
    3 Minutes 47 Seconds
    Rep Power
    16

    Default

    واہ جی واہ بہت خوب
    Hani

  16. The Following 5 Users Say Thank You to hananehsan For This Useful Post:

    abba (10-11-2017), abkhan_70 (09-11-2017), anjumshahzad (24-11-2017), Story-Maker (18-11-2017), suhail502 (10-11-2017)

  17. #9
    tabassum707's Avatar
    tabassum707 is offline Premium Member
    Join Date
    Mar 2010
    Age
    32
    Posts
    218
    Thanks
    364
    Thanked 339 Times in 133 Posts
    Time Online
    2 Weeks 4 Days 6 Hours 34 Minutes 9 Seconds
    Avg. Time Online
    11 Minutes 56 Seconds
    Rep Power
    30

    Default

    Aik axha izafa haay sex stories mai. Dear kuch aesa fantastic sa sex scene dalo maza aa jaye

  18. The Following 4 Users Say Thank You to tabassum707 For This Useful Post:

    abba (10-11-2017), anjumshahzad (24-11-2017), Story-Maker (18-11-2017), suhail502 (10-11-2017)

  19. #10
    MCNAH is offline Khaas log
    Join Date
    Apr 2009
    Posts
    108
    Thanks
    477
    Thanked 215 Times in 87 Posts
    Time Online
    5 Days 17 Hours 22 Minutes 40 Seconds
    Avg. Time Online
    3 Minutes 44 Seconds
    Rep Power
    20

    Default

    thanks Maria, good show. Wonderful sex story laye ho. appreciate your style of writing. keep it up

  20. The Following 5 Users Say Thank You to MCNAH For This Useful Post:

    abba (10-11-2017), anjumshahzad (24-11-2017), omar69in (13-11-2017), Story-Maker (18-11-2017), suhail502 (10-11-2017)

Page 1 of 15 1234511 ... LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •