Page 3 of 15 FirstFirst 123456713 ... LastLast
Results 21 to 30 of 144

Thread: سیکس سٹوری 1947

  1. #21
    ranatanee's Avatar
    ranatanee is offline Premium Member
    Join Date
    Mar 2012
    Posts
    141
    Thanks
    2
    Thanked 502 Times in 126 Posts
    Time Online
    2 Days 22 Hours 41 Minutes 47 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Minute 59 Seconds
    Rep Power
    22

    Default

    کہانی کی شروعات کیا کہنے جناب، آج تک کسی نے ایسا سین نہیں لکھا کہ گھوڑے پر ہی مٹھ لگ گئی، اب کوئی ایسا سین بنے تو گھوڑے پر ہی چود جائے، ایک تو اپنے جھٹکے اور دوسرا گھوڑے کے جھٹکے،
    جھٹکے لگنے سے لنڈ پر ہی جھول جائے۔ ساتھ میں اگر آپڈیٹ جلد ملتی رہے تو کہانی کو ہٹ ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

  2. The Following 6 Users Say Thank You to ranatanee For This Useful Post:

    abba (13-11-2017), abkhan_70 (14-11-2017), anjumshahzad (24-11-2017), jerryplay100 (13-11-2017), maj (12-11-2017), Story-Maker (18-11-2017)

  3. #22
    farhan403's Avatar
    farhan403 is offline sex ka dewan
    Join Date
    Oct 2015
    Location
    attock
    Posts
    353
    Thanks
    283
    Thanked 503 Times in 235 Posts
    Time Online
    4 Days 18 Hours 23 Minutes 13 Seconds
    Avg. Time Online
    8 Minutes 8 Seconds
    Rep Power
    41

    Default

    Kia mast chodakar kahani start ki hai r start he itna aala hato y story agay ja ker mazeed dhamaky kary gi mari tamam moaziz members say request ha k is story ko parhty waqat apni girl frndz ko sath zaroor rakhna warna farigh ho ho ho ker khasi na ho jana

  4. The Following 4 Users Say Thank You to farhan403 For This Useful Post:

    abba (13-11-2017), anjumshahzad (24-11-2017), maj (12-11-2017), omar69in (13-11-2017)

  5. #23
    mayach is offline VVIP
    Join Date
    May 2016
    Location
    *****abad
    Age
    25
    Posts
    216
    Thanks
    633
    Thanked 244 Times in 110 Posts
    Time Online
    1 Day 18 Hours 16 Minutes 42 Seconds
    Avg. Time Online
    4 Minutes 1 Second
    Rep Power
    24

    Default

    thankew write :-) .....apki next update ka shidaat sy intizar rahy ga in tareek srd raato main wo b shehr sy boht dour...

  6. The Following 3 Users Say Thank You to mayach For This Useful Post:

    abba (13-11-2017), abkhan_70 (14-11-2017), anjumshahzad (24-11-2017)

  7. #24
    mayach is offline VVIP
    Join Date
    May 2016
    Location
    *****abad
    Age
    25
    Posts
    216
    Thanks
    633
    Thanked 244 Times in 110 Posts
    Time Online
    1 Day 18 Hours 16 Minutes 42 Seconds
    Avg. Time Online
    4 Minutes 1 Second
    Rep Power
    24

    Default

    hahaha yrr...muth to kahin b lag skti hy..aik grm sexy jawan aurat apny soft soft hands main apka pkr kr rub kry to ap horse chor kr tank per b bethy huye ho tub b muth lag jati hy....

  8. The Following 2 Users Say Thank You to mayach For This Useful Post:

    abba (13-11-2017), anjumshahzad (24-11-2017)

  9. #25
    farhan403's Avatar
    farhan403 is offline sex ka dewan
    Join Date
    Oct 2015
    Location
    attock
    Posts
    353
    Thanks
    283
    Thanked 503 Times in 235 Posts
    Time Online
    4 Days 18 Hours 23 Minutes 13 Seconds
    Avg. Time Online
    8 Minutes 8 Seconds
    Rep Power
    41

    Default

    Quote Originally Posted by ranatanee View Post
    کہانی کی شروعات کیا کہنے جناب، آج تک کسی نے ایسا سین نہیں لکھا کہ گھوڑے پر ہی مٹھ لگ گئی، اب کوئی ایسا سین بنے تو گھوڑے پر ہی چود جائے، ایک تو اپنے جھٹکے اور دوسرا گھوڑے کے جھٹکے،
    جھٹکے لگنے سے لنڈ پر ہی جھول جائے۔ ساتھ میں اگر آپڈیٹ جلد ملتی رہے تو کہانی کو ہٹ ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
    Waah ki idia dia hai

  10. The Following 3 Users Say Thank You to farhan403 For This Useful Post:

    abba (13-11-2017), abkhan_70 (14-11-2017), anjumshahzad (24-11-2017)

  11. #26
    Maria Joe's Avatar
    Maria Joe is offline Harafa Orat
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    Faisalabad
    Posts
    100
    Thanks
    57
    Thanked 460 Times in 89 Posts
    Time Online
    1 Day 16 Hours 12 Minutes 23 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Minute 5 Seconds
    Rep Power
    18

    Default

    Aap sab ka kahani ko pasand karne ka bohat bohat shukria. Koshish hogi kal update post kar dun.

  12. The Following 5 Users Say Thank You to Maria Joe For This Useful Post:

    abkhan_70 (14-11-2017), Irfan1397 (13-11-2017), jerryplay100 (13-11-2017), mayach (13-11-2017), suhail502 (14-11-2017)

  13. #27
    sunnych64 is offline Aam log
    Join Date
    Sep 2015
    Age
    33
    Posts
    7
    Thanks
    2
    Thanked 8 Times in 4 Posts
    Time Online
    2 Days 1 Hour 6 Minutes 1 Second
    Avg. Time Online
    3 Minutes 24 Seconds
    Rep Power
    4

    Default

    امید ہےکہانی شاندار ہوگی اور ادھوری نہیں رہے گی۔ بہت عمدہ۔۔۔اچھا اپڈیٹ آیا۔۔ٹاپک بھی بہت اچھا چنا گیا

  14. The Following 2 Users Say Thank You to sunnych64 For This Useful Post:

    abkhan_70 (14-11-2017), suhail502 (14-11-2017)

  15. #28
    noori 555 is offline Aam log
    Join Date
    Nov 2017
    Posts
    21
    Thanks
    0
    Thanked 33 Times in 15 Posts
    Time Online
    12 Hours 28 Minutes 17 Seconds
    Avg. Time Online
    10 Minutes 53 Seconds
    Rep Power
    4

    Default

    کہانی تو بہت اچھی ہے کہانی کا پلاٹ اور کردار نگاری بھی کمال ہے شاندار

  16. The Following 2 Users Say Thank You to noori 555 For This Useful Post:

    abkhan_70 (14-11-2017), suhail502 (14-11-2017)

  17. #29
    Maria Joe's Avatar
    Maria Joe is offline Harafa Orat
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    Faisalabad
    Posts
    100
    Thanks
    57
    Thanked 460 Times in 89 Posts
    Time Online
    1 Day 16 Hours 12 Minutes 23 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Minute 5 Seconds
    Rep Power
    18

    Redarrow



    اگلے دن میں نے فصلوں کو پانی لگانا تھا۔ اس لئے صبح جلدی اٹھ گیا۔ پوجا کی مٹھ کی وجہ سے مجھے اتنی شدید ٹھنڈ میں نہانا بھی پڑا ۔ صبح کا ناشتہ بانو بناتی تھی اس لئے تھوڑی دیر میں ہی بانو میرے لئے ناشتہ بنا کر میرے کمرے میں لے آئی۔ میں جس کمرے میں سوتا تھا وہ باقی کمروں سے کافی دور بھینسوں والے باڑ کے پاس تھا۔ جب کے باقی گھر والوں کے کمرے ایک ساتھ ہی تھے۔ بانو ناشتہ بنا کر لائی تو میں ناشتہ کرنے لگ گیا۔ بانو کے بارے میں بتاتا چلوں کے وہ مجھ سے تقریباً 9 سال چھوٹی تھی۔ 16 سال کی عمر میں وہ نئی نئی جوان ہو رہی تھی۔ گورا چٹا رنگ اور تھوڑا سا بھرا بھرا جسم تھا اسکا۔ ممے نئے نئے نکلنے شروع ہوئے تھے۔ جسم بھرا ہونے کی وجہ سے بانو کی بنڈ بھی بھری ہوئی اور گول سی تھی۔ مگر بانو کی سب سے خوبصورت چیز اس کی بڑی بڑی سیاہ آنکھیں اور گورے پھولے ہوئے گالوں کے ساتھ بے پناہ معصومیت تھی۔ مطلب دیکھنے میں وہ سچ مچ کی گڑیا لگتی تھی۔

    جیسے ہی میں ناشتے سے فارغ ہوا چادر لپیٹ کر زمینوں پر چلا گیا۔ وہاں جا کر دیکھا تو میرا کاما نورا کام شروع کر چکا تھا۔ زمینوں پر ہم نے ایک ڈیرہ بنا رکھا تھا جہاں کچھ درخت لگا رکھے تھے اور ایک بڑا سا کمرہ بنا رکھا تھا۔ نورے نے وہاں میرے لئے لکڑیاں جلا رکھی تھی۔ میں وہاں جا کر چارپائی پر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر میں کھال کھود کر نورا بھی وہیں آ گیا اور مجھ سے روہی وال کا پوچھنے لگ گیا۔ ایسے ہی باتیں کرتے کرتے دوپہر ہو گئی اور نورا پوچھنے لگا کے وہ روٹی کھا آئے؟ مینے اسے بھیج دیا اور خود اٹھ کر باہر آ گیا۔ باہر سورج نے چہرہ نکال لیا تھا اور ہلکی ہلکی دھوپ بوہت اچھی لگ رہی تھی۔ میں چارپائی بچھا کر دھوپ سینکنے لگ گیا۔ کچھ دیر میں مجھے کچے راستے سے بانو آتی دکھائی دی۔ وہ میرے لئے روٹی لے کر آئی تھی۔ وہ چلتی ہوئی میرے پاس آئی اور ابھی روٹی رکھنے ہی لگی تھی کے کچے راستے سے بوہت سارے گھوڑوں کے بھاگنے کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔ ہم دونوں نے سر اٹھا کے دیکھا تو لیڈی روزی کی بگی اور پیچھے سپاہی آ رہے تھے۔ ہم سے کچھ دور قافلہ رکا اور لیڈی روزی نکل کر میری طرف آ گئی۔ میں نے اٹھ کر اسکا استقبال کیا۔ وہ مجھے سے بڑے تپاک سے ملی اور روزی کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا جو تازہ تازہ نہا کر نیا سوٹ پہن کر آئی تھی۔ میں نے روزی کو بتایا کے یہ میرے چچا کی بیٹی ہے بانو۔ روزی بانو کا تعارف سن کر حیران ہوئی اور مسکرا کر بانو سے ہاتھ ملایا اور اس کا حال چال پوچھا۔ اور بولی مجھے نہیں پتا تھا ساجد کی اتنی پیاری بہن بھی ہے۔ بانو گھبرا کر بولی وہ ہ ہ ہ ہ میں بہن نہیں ہوں جی۔ یہ سن کر روزی نے سوالیہ نگاہوں سے میری طرف دیکھا تو میں نے بتایا کے ہم مسلمانوں میں چچا زاد بہن نہیں ہوتی اور یہ کے بانو میری منگیتر ہے۔ یہ سن کر روزی شرمندہ سی بانو سے بولی آئی ایم سوری بانو مجھے پتا نہیں تھا۔ پھر کچھ دیر بعد بولی بانو اگر تم برا نا مانو تو میں تمہارے منگیتر سے ذرا اکیلے میں بات کر سکتی ہوں۔ بانو بیچاری ویسے ہی اس کی وجہ سے گھبرائی ہوئی تھی صرف اتنا ہی بولی کے جی ٹھیک ہے۔

    پھر میں اور روزی اٹھ کر تھوڑا دور آ گئے جہاں سے ہم انہیں نظر تو آتے تھے مگر ہماری آواز ان تک نہیں پوھنچ سکتی تھی۔ روزی میرے سامنے کھڑی تھی اور میرے پیچھے بانو وغیرہ تھے۔ روزی مجھ سے بولی تمہاری منگیتر بوہت خوبصورت ہے ساجد۔ اب مجھے پتا چلا تم میرے پاس کیوں نہیں آتے تھے۔ جس کی اتنی پیاری اور کم سن منگیتر ہو وہ کسی اور طرف کیوں دیکھے گا۔ میں ایسی باتوں کا اسے کیا جواب دیتا اس لئے چپ کر کے سنتا رہا۔ مجھے خاموش دیکھ کر روزی کام کی طرف آئی اور بولی تو کیا لگتا ہے تمہیں روہی وال پاکستان میں جانا چاہیے یا ہندوستان میں۔ میں جھٹ سے بولا کے یہاں مسلمان زیادہ ہیں اس لئے پاکستان میں جانا چاہیے۔ میری بات سن کر روزی بولی آبادی کا اتنا زیادہ فرق نہیں ہے مگر آج میں نے حساب دیکھا ہے۔ اب روہی وال کی حدود میں ہندؤں کی زمینیں تم مسلمانوں سے زیادہ ہو گئی ہیں۔ میں اسی وقت بولا کے یہ زمینیں انگریزوں نے ہمارے مقابلے پے کھڑا کرنے کے لئے اب دی ہیں مگر ہم یہاں صدیوں سے رہ رہے ہیں اور یہ زمینیں بھی ہم مسلمانوں سے چھین کر دی ہیں۔ روزی بولی جیسے بھی ملی اب اگر دیکھا جائے تو دونوں کا برابر کا حق بنتا ہے۔ اور میں تمہیں۔ یہ بتانے آئی ہوں کے مجھے سمجھ نئی آ رہا کس کے حق میں فیصلہ کروں۔ اگر دیکھا جائے تو ہندو تم لوگوں سے زیادہ ہمارے وفادار رہے ہیں۔ اس لئے ہماری وفاداریاں بھی ان کے ساتھ ہیں۔ روزی کی بات سن کر میں گھبرا گیا اور چلا کر بولا مگر ہم یہاں صدیوں سے رہ رہے ہیں۔ میری بات سن کر روزی خاموش ہو گئی اور میرے عقب میں دیکھنے لگی۔ پھر کچھ دیر میرے عقب میں دیکھنے اور سوچنے کے بعد بولی روہی وال کو پاکستان میں شامل کرنے کے لئے تم کیا کر سکتے ہو؟ میں نا سمجھی کے انداز میں بولا کیا مطلب؟ روزی بولی مطلب تم کس حد تک جا سکتے ہو؟ میں بنا سوچے سمجھے بولا اپنا حق لینے کے لئے میں کسی بھی حد تک جا سکتا ہوں ۔ روزی کچھ دیر عجیب سی نظروں سے مجھے دیکھتی رہی اور پھر دو قدم بڑھا کر بلکل میرے پاس آ گئی اور بولی تو ٹھیک ہے چلو سودا کرتے ہیں؟ میں بولا کیسا سودا؟ وہ بولی تمہیں روہی وال چاہیے تو میں تمہیں روہی وال دیتی ہوں بدلے میں تمہیں وہ دینا ہو گا جو مجھے چاہیے۔ میں سمجھ گیا کے وہ مجھے سے کیا چاہتی ہے۔ اتنا وقت جو میں اسے نظر انداز کرتا رہا تھا وہ اب مجھے اس طرح اپنے بستر پر لے جا کر میرے لن سے اپنی پھدی کی پیاس بھجانا چاہتی ہے۔ میں نے پوچھا اور کیا چاہیے آپکو۔ اور روزی کا جواب سن کر مجھے ایسے لگا جسے ساری دنیا گھوم کر گولہ بن گئی ہو اور وہ گولہ زور سے آ کر میرے سر پر لگا ہو۔ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا جو اس نے مانگا تھا۔ جب میں نے پوچھا کے اسے کیا چاہیے تو روزی بولی بانو۔ بانو چاہیے مجھے اپنے بستر پر ایک رات کے لئے اور اسے لے کر آؤ گے تم۔ میرے ذہن نے کچھ لمحے تو کام ہی نہیں کیا مگر جب حواس بحال ہوئے تو غصّے سے بولا یہ کیا کہ رہی ہیں آپ؟ یہ ہر گز نہیں ہو سکتا۔ میری بات سن کر روزی بھی فیصلہ کن انداز میں بولی تو پھر ٹھیک ہے۔ روہی وال کو بھول جاؤ۔ اور اپنا بوریا بستر سمیٹ کر یہاں سے جانے کی تیاری کرو۔ میں بولا مگر یہ زیادتی ہے۔ اور آپ جانتی ہیں یہ غلط ہے۔ روزی بولی کبھی کبھی غلط اور سہی کو دیکھ کر فیصلہ نہیں کرتے بلکہ صرف فیصلہ کرتے ہیں۔ تم اچھی طرح سوچ لو ابھی میرے پاس ایک ہفتہ ہے فیصلہ کرنے کے لئے۔ اگر تم بانو کو میرے بستر تک لے آؤ تو روہی وال تمہارا۔ ورنہ تم جانتے ہو کیا ہوگا۔ یہ کہ کر روزی میری بغل سے نکلی اور واپس جانے لگی اور پانچ قدم دور جا کر پلٹی اور بولی اور ہاں تم جانتے ہو میں اس کے ساتھ کیا کیا کروں گی اس دن تم نے دیکھ تو لیا ہوگا اس لئے اسے اچھی طرح تیار کر کے لانا۔ اور یہ کہ کر وہ واپس اپنی بگی میں جا کر بیٹھ گئی اور سپاہیوں کے ساتھ واپس چلی گئی۔



    اب ڈیرے پر ایک بار پھر میں اور بانو اکیلے رہ گئے۔ میں واپس آ کر چارپائی پر بیٹھا تو بوہت پریشان تھا۔ روزی نے عجیب سی شرط رکھ دی تھی۔ مجھے خاموشی سے بیٹھا دیکھ کر بانو بولی کیا بات کی انہوں نے آپ بوہت پریشان لگ رہے ہو۔ میں نے چونک کر بانو کو دیکھا اور اس کے معصوم چہرے کو دیکھ کر ایک بار پھر سوچ میں۔ پڑ گیا وہ ابھی بوہت چھوٹی تھی۔ اور پتا نہیں یہ کام کر بھی سکتی تھی یا نہیں۔ میں نے کچھ دیر اسکو دیکھا اور پھر دل ہی دل میں ایک فیصلہ کیا اور بانو اور اپنے بیچ پڑی روٹی اٹھا کر پرے رکھی ایک دم سے بانو کا ہاتھ پکڑ کر بولا بانو مجھے تم سے ایک بوہت ضروری بات کرنی ہے۔ بانو اس طرح ہاتھ پکڑنے پر شرما گئی اور دوسری طرف منہ کر کے بولی کیا کر رہے ہیں کوئی دیکھ لے گا اور اپنا ہاتھ چھڑا لیا۔ میں نے ایک بار پھر بانو کا ہاتھ پکڑا اور بولا بانو میں نے تم سے بوہت سنجیدہ بات کرنی ہے۔سمجھو روہی وال کی قسمت تمہارے اور میرے ہاتھ میں ہے۔ اس لئے میری بات غور سے سنو۔ بانو میرے لہجے کی سنجیدگی سن کر میری طرف سیدھی ہو گئی اور بولی کیا بات ہے کیا ہوا؟

    میں بولا دیکھو بانو میں جانتا ہوں تم اس بات کے لئے ابھی بوہت چھوٹی ہو مگر مجبوری میں مجھے یہ بات کرنی پڑ رہی ہے۔ بانو اس بار تھوڑا پریشانی سے بولی ۔۔۔۔ خیر ایسی کیا بات ہو گئی؟ میں بولا تم جانتی ہو یہ جو ہندو ہیں ان کے پاس اتنی زمینیں کیسے آ گئی اور یہ اتنے طاقتور کیسے ہو گئے؟ بانو کچھ سوچ کر بولی ہاں۔ سب جانتے ہیں انگریزوں نے انہیں یہ زمینیں دی ہیں کیوں کے وہ ان کی بوہت خوشامد کرتے ہیں۔ میں بولا ٹھیک مگر صرف خوشامد سے اتنا سب کچھ نہیں ملتا۔ بانو بولی پھر کیسے؟ میں بولا یہ جو ہندو ہیں نا یہ اپنی عورتوں کو استعمال کرتے ہیں؟ بانو بولی۔ ہیں؟ عورتوں کو؟ مطلب؟ میں بولا دیکھو یہ جو انگریز ہوتے ہیں نا یہ بوہت گندے لوگ ہوتے ہیں۔ یہ شادی سے پہلے وہ سب کچھ کرتے ہیں جو ہم صرف شادی کے بعد ہی کر سکتے ہیں۔ اور جس کے ساتھ دل چاہے کر لیتے ہیں ان کو کوئی شرم حیا نہیں ہوتی۔ میری بات سن کر بانو اپنا ہاتھ چھڑا کر اپنے منہ پر رکھ کر حیرانی سے بولی۔ ہااااا سچی؟ میں بولا ہاں اور ہندو ان کو اس کام کے لئے اپنے گھر کی عورتیں پیش کرتے تھے۔ انگریز ان کے ساتھ جی بھر کر رنگ رلیاں مناتے اور بدلے میں انہیں زمینیں دیتے تھے۔ بانو حیران ہو کر بولی ہائے میں مر گئی اتنے بے شرم ہوتے ہیں یہ۔ میں بولا۔ ہاں اور یہ سب انگریزوں سے ہی سیکھا ہے انہوں نے کیوں کے انگریزوں کی عورتیں بھی یہ سب کچھ اپنی مرضی سے کرتی ہیں۔ اور یہ جو ابھی روزی آئی تھی یہ بھی ویسی ہی عورت ہے۔ بلکہ یہ تو ان سے بھی دو ہاتھ آگے ہے۔ بانو جو میری باتیں حیرانی سے سن رہی تھی بولی وہ کیسے؟ میں نے بتایا کے عام طور پر انگریز عورتیں مردوں اور مرد عورتوں کے ساتھ یہ سب کچھ کرتے ہیں مگر ان میں کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو مرد مردوں کے ساتھ اور عورتیں عورتوں کے ساتھ کرتی ہیں۔ اور کچھ تو دونوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ میری یہ بات سن کر بانو اتنی حیران ہوئی کے مجھے لگا اس کی آنکھیں پھیل کر کانوں سے جا لگیں گی۔ وہ کچھ کہنا چاہتی تھی مگر حیرانی سے اس کے منہ سے الفاظ ہی نہیں نکلے۔ میں بولا یہ جو روزی ہے یہ بھی ویسی ہی ہے دونوں کے ساتھ کرنے والی۔ یہ مجھے بھی بوہت عرصے سے اپنی جناب راغب کر رہی ہے مگر میں انکار کرتا رہا۔ کل جب میں اس سے ملنے گیا تھا تو وہاں یہ اور پوجا ایک انگریز لڑکے کے ساتھ میرے سامنے رنگ رلیاں منا رہے تھے اور میرا ذرا بھی خیال نہیں کیا بلکہ مجھے اپنے سامنے بیٹھا کر زبردستی یہ سب کچھ دکھایا۔ یہ سن کر بانو مزید حیران ہوئی اور کانوں کو ہاتھ لگا کر بولی۔ توبہ توبہ یہ تو بل کل ہی بےشرم ہیں۔

    یہ سب بول کر میں تھوڑا پیچھے ہو گیا اور دکھ سے بولا مگر بانو اب ایک مسلہ ہو گیا ہے۔ بانو بولی مسلہ کیسا مسلہ؟ میں بولا سرکار نے روہی وال کو پاکستان یا ہندوستان میں شامل کرنے کا اختیار روزی کو دے دیا ہے۔ پہلے تو وہ روہی وال کو ہندوستان میں شامل کرنے والی تھی مگر اب اس نے پاکستان میں شامل کرنے کے لئے ایک عجیب سی شرط رکھ دی ہے۔ بانو بولی۔ کیسی شرط؟ میں نے کچھ لمحے سوچا اور پھر بولا پہلے تم مجھے ایک بات بتاؤ۔ کیا تمہیں ماہواری آنا شروع ہو گئی ہے ابھی یا نہیں؟ میری بات سن کر بانو ایک دم سے شرما گئی۔ کوئی اور وقت ہوتا تو شاید اٹھ کر بھاگ جاتی مگر اس موقع پر منہ دوسری طرف کر کے بولی۔ جی آتی ہے۔ ابھی 3 دن پہلے آئی تھی۔ میں نے ایک بار پھر بانو کا ہاتھ پکڑا اور بولا آج جب روزی آئی تھی اور تمہیں دیکھا تھا تو تم اسے پسند آ گئی۔ اور اب اس نے یہ شرط رکھی ہے کے میں اور تم ملکر اس کے ساتھ وہی کام کریں تو وہ روہی وال کو پاکستان میں شامل کر دے گی۔ بانو اپنا نام سن کر اتنا حیران ہوئی کے خاموش ہی ہو گئی پھر کچھ لمحوں بعد بولی پھر آپ نے کیا کہا۔ میں نے کہا ظاہر ہے میں نے انکار کر دیا۔ جس پر اس نے کہا کے ٹھیک ہے پھر وہ روہی وال کو ہندوستان میں شامل کر دے گی اور ہمیں یہاں سے اپنا گھر بار اور زمینیں چھوڑ کر جانا ہوگا اور سوچنے کا کہ گئی ہے کے ایک ہفتہ ہے ہمارے پاس فیصلہ کرنے کے لئے۔ اب تم بتاؤ کیا کریں؟ میری بات سن کر بانو بولی میں کیا بتا سکتی ہوں مجھے کیا معلوم۔ میں بولا دیکھو بانو اگر روزی کی جگہ کوئی انگریز مرد ہوتا تو میں مر جاتا مگر تمہیں اسے ہاتھ بھی نا لگانے دیتا مگر چوں کہ روزی عورت ہے تو سوچا جا سکتا ہے۔اور تم۔ نے جو بھی کرنا ہے میرے ساتھ ہی کرنا ہے اور میں ویسے بھی تمہارا منگیتر ہوں۔ آج نہیں تو کل ہمیں یہ سب کرنا ہی ہے۔ اور اگر روہی وال پاکستان میں شامل ہو گیا تو میں بعد میں تم سے نکاح بھی پڑھوا لونگا۔ مگر فیصلہ تمہارا ہی ہو گا۔ جیسے تم کہو گی ویسے ہی کریں گے۔

    یہ کہ کر میں نے اسے سوچنے کے لئے چھوڑ دیا اور روٹی کھانی شروع کر دی۔ میں روٹی کھا رہا تھا اور وہ خاموشی سے سوچتی رہی۔ جب میں نے کھانا کھا کر برتن سمیٹے تو بانو اچانک سے بولی ٹھیک ہے اگر آپ کو لگتا ہے کے ایسے ہم روہی وال کو ہندوستان میں جانے سے بچا سکتے ہیں تو میں تیار ہوں۔ اور یہ کہہ کر سر نیچے کر لیا۔ میں نے آگے بڑھ کے بانو کی دونوں گالوں پے ہاتھ رکھ کر اسکا چہرہ اٹھایا اور اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بولا شکریہ بانو۔ اور جذبات میں اسے گلے لگا لیا۔ وہ میری باہوں میں کسمسانے لگی تو مینے اسے چھوڑا ۔ وہ میری طرف دیکھ کر بولی مگر یہ سب ہوگا کیسے؟ میں بولا وہ تم مجھ پر چھوڑ دو۔ اور اس سے الگ ہو کر کچھ سوچنے لگا۔ اتنی دیر میں نورا بھی آ گیا۔ میں نے اسے بتایا کے میں ایک کام سے شہر جا رہا ہوں۔ تم کام ختم کر کے گھر چلے جانا۔ یہ بول کر میں بانو کے ساتھ گھر آ گیا اور گھوڑے پر سوار ہو کر شہر گیا۔ وہاں جا کر سب سے پہلے روزی سے ملا۔ اور اسے بتایا کے مجھے اس کی شرط منظور ہے مگر میرے اور بانو کے ساتھ اس کے علاوہ اور کوئی نہیں ہوگا۔ روزی میرا جواب سن کر بوہت خوش ہوئی اور وعدہ کیا کے اس کے علاوہ اور کوئی نہیں ہوگا۔ اس کے بعد میں ایک سکھ حکیم کے پاس گیا اور اس سے دو مختلف دوایاں لیں اور گھر آ گیا۔ جب گھر پوھنچا تو شام ہونے والی تھی۔ میں نے بہانے سے بانو کو اپنے کمرے میں بلایا اور اسے ایک سفوف دے کر بولا کے رات کو جب اماں اور چچی کو کھانے کے بعد دودھ پلائے تو دونوں کے اندر ایک ایک چٹکی یہ سفوف ڈال دے اور جب دونوں سو جائیں تو اپنے لئے بھی ایک دودھ کا گلاس گرم کر کے میرے کمرے میں آ جائے۔ بانو نے سفوف اپنے پلو سے باندھا اور چلی گئی۔ شام کو گھر والوں کے ساتھ میں نے کھانا کھایا اور اپنے کمرے میں آ گیا اور رات کا انتظار کرنے لگا جب بانو نے میرے کمرے میں آنا تھا۔

    گاؤں میں لوگ جلدی سو جاتے ہیں اس لئے رات ڈھلتے ہی بانو نے اماں اور چچی کو دودھ گرم کر کے پلا دیا۔ سفوف کی وجہ سے دونوں جلد ہی سو گئی۔ میں نے بھی ٹھنڈ کی وجہ سے اپنے کمرے میں کوئلے جلا رکھے تھے جس سے کمرہ گرم تھا۔ طاق پر ایک مٹی کے تیل والا لیمپ بھی جلا رکھا تھا۔ میں نے اپنے کمرے میں دیوار کے ساتھ زمین پر 3 گدے بچھا رکھے تھے اور انہی پر رضائی لپیٹے بانو کا انتظار کر رہا تھا۔ کچھ دیر بعد بانو بھی آ گئی۔ اس کے ہاتھ میں دودھ کے 2 گلاس بھی تھے۔ میں نے اٹھ کر پاس رکھی ایک اور دوائی اٹھائی اور بانو کے گلاس میں ڈال کر اسے کہا کے پی لو۔ بانو جو متجسس نظروں سے دیکھ رہی تھی بولی یہ کون سی دوا ہے؟ میں نے بتایا کےاس سے تمہیں حمل نہیں ٹھہرے گا۔ یہ سن کر بانو نے اپنا گلاس پی لیا اور میں نے بھی اپنا گلاس اٹھا کر دودھ ختم کر دیا۔ دودھ ختم کر کے میں واپس اپنی رضائی میں لیٹ گیا اور بانو کی طرف دیکھنے لگا۔ بانو دودھ ختم کر کے وہیں کھڑی میری طرف دیکھ رہی تھی جیسے پوچھ رہی ہو اب کیا کروں۔ میں بولا کے بانو دروازے کو کنڈی لگا کر میرے ساتھ بستر میں آ جاؤ۔ بانو نے دروازے کو کنڈی لگائی اور جھجکتی ہوئی رضائی کے پاس آ گئی۔ میں نے رضائی کھولی اور اس کے لئے جگہ بنائی تو وہ بستر پر بیٹھ گئی مگر جھجک کی وجہ سے لیٹ نہیں رہی تھی۔ میں نے پیار سے اس کی ٹانگیں اٹھا کر سیدھی کیں اور شرارت سے بولا کے لیٹ جاؤ میں تمہیں کھا نہیں جاؤں گا۔ وہ شرما کر سیدھی لیٹ گئی تو میں نے رضائی اوپر کر دی اور خود بھی لیٹ گیا۔ میرے لیٹتے ہی بانو نے شرما کر منہ دوسری طرف کر لیا ۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر بانو کا چہرہ پکڑا اور اپنی طرف موڑ کر بولا بانو میری طرف دیکھو۔ بانو جھجکتی ہوئی میری طرف گھومی اور چہرہ نیچے کر لیا۔ میں نے بانو کی ٹھوڈی پکڑ کر اسکا چہرہ اٹھایا اور اس کی طرف دیکھ کر بولا۔ دیکھو بانو میں جانتا ہوں ہم جو کرنے لگے ہیں وہ غلط ہے مگر ہم یہ بس مجبوری میں کر رہے ہیں۔ لیکن اگر ہمیں یہ سب کرنا ہی ہے تو کیوں نا سچ مچ کے میاں بیوی کی طرح کر کے اس کا بھرپور مزاہ لیں؟ نکاح چلو بعد میں ہو جائے گا مگر میں آج تمہیں اپنی بیوی قبول کرتا ہوں اور تم بھی مجھے اپنا شوہر تسلیم کر لو۔ اور آج کی رات کو ایسے مناؤ جسے نیا نویلا جوڑا اپنی سہاگ رات مناتا ہے۔ اور بانو سے پوچھا بولو تمہیں قبول ہے۔ بانو جو میری باتیں سن کر جذباتی ہو رہی تھی کپکپاتی ہوئی آواز میں بولی جی قبول ہے۔ اسکی رضامندی سن کر میں نے بانو کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے ساتھ چپکا لیا۔ ساتھ چپکانے سے بانو کا سینہ میرے سینے میں پیوست ہو گیا۔ بانو کی تیز سانسوں سے ہلتے اسکے چھوٹے چھوٹے سے ملائم ممے میرے سخت سینے میں کھب گئے۔ اور میرا نیم کھڑا لن بانو کی رانوں پے رگڑ کھانے لگا۔ میں نے اپنا منہ بانو کے کان کے پاس کیا اور آھستہ سے بولا بانو تم مجھے بوہت اچھی لگتی ہو اور میں تم سے بوہت پیار کرتا ہوں۔ یہ سن کر بانو مزید مجھ سے چپک گئی اور اپنا بازو میری کمر سے لپیٹ لیا۔ میری باتوں سے اسکی ابتدائی جھجک تقریباً ختم ہو گئی تھی۔ میں نے اپنا منہ کھولا اور بانو کے کان کی لو اپنے منہ میں لے کر چوس لی۔ بانو کے منہ سے ایک لذت بھری سسکی سی نکلی۔ کان سے ہوتا ہوا میں گردن تک اسے چومتا رہا اور پھر بانو کو سیدھا لٹا کر اس پر چڑھ گیا اور اسکی سفید گردن چومنا اور چاٹنا شروع کر دی۔ بانو کی سانسیں تیز ہو گئی تھی۔ گردن سے ہوتا ہوا میں میں اوپر آیا اور تو دیکھا بانو کی آنکھیں بند تھیں اور شدت جذبات سے بانو کے لب لرز رہے تھے۔ لیمپ کی روشنی سیدھی بانو کے چہرے پر پڑ رہی تھی اور بانو کسی پری سے کم نہیں لگ رہی تھی۔ بانو کے کپکپاتے ہونٹ دیکھ کر مجھ پر شہوت کا شدید حملہ ہوا اور میں نے بے اختیار اپنے ہونٹ بانو کے ہونٹوں سے ملا کر چوسنا شروع کر دیے۔ مجھے ایسے لگ رہا تھا جسے میرے ہونٹ شہد کے چھتے سے لگ گئے ہوں۔ میں نے شدت سے بانو کے ہونٹ چوسنا شروع کر دیے۔ بانو بھی پوری طرح گرم ہو چکی تھی اسلئے اسنے بے اختیار نیچے سے اپنی ٹانگیں کھول لی جس سے میرا لن جو اب تک پوری طرح کھڑا ہو چکا تھا بانو کی پھدی پر سیٹ ہو گیا۔ ایک بار بانو نے سانس لینے کے لئے منہ کھولا تو میں نے اپنی زبان بانو کے منہ میں داخل کر دی اور اپنی زبان سے بانو کی زبان چوسنے لگ گیا۔ بانو کی زبان میرے منہ میں کسی گلاب جامن کی طرح گھلنے لگی۔ مجھے اس قدر سرور مل رہا تھا کے میں بیان نہیں کر سکتا۔ میں نے دونوں ہاتھ اوپر کر کے قمیض کے اوپر سے ہی بانو کے دونوں ممے پکڑ لئے ۔ بانو کے ممے مانو چھوٹے چھوٹے روئی کے گالے تھے جن پر درمیان میں چھوٹے سے نپلز تھے جو شہوت کی وجہ سے اکڑے ہوئے تھے۔ میں نے انگلیوں سے اسکے نیپلز مسلنا شروع کر دیے اور اسکی زبان بھی چوسنا جاری رکھی۔ بانو کے منہ سے نکلنے والی سسکیاں اب بوہت تیز ہو گئی تھی۔ بانو نے اپنے دونوں ہاتھ میرے سر کے پیچھے لے جا کر بالوں سے میرا سر پکڑ لیا تھا اور اپنے منہ کی طرف دبا رہی تھی۔ کچھ دیر زبان چوس کر میں نے اس کے منہ سے زبان نکالی اور اسکے کان کے پاس جا کر سرگوشی سے بولا بانو تم بھی چوسو نا۔ اور ایک بار پھر اپنے ہونٹ بانو کے ہونٹوں سے ملا کر اپنی زبان بانو کی زبان سے ملا دی۔ اب کی بار بانو نے اپنی زبان سے میری زبان کو جکڑ لیا اور چوسنا شروع کر دیا۔ ابھی بانو کو میری زبان چوستے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کے اچانک جانے کہاں سے بانو میں اتنی جان آئی کے اسنے اپنے اوپر لیٹے میرے وجود کو گھما کر دوسری طرف کیا اور جھٹ سے میرے اوپر آ کر زور زور سے نا صرف میرے ہونٹ چوسنا شروع کر دیے بلکے نیچے سے اپنی پھدی بھی میرے لن پر مسلنا شروع کر دی۔ میں اس اچانک حملے سے ابھی سنبھلا نہیں تھا کے بانو نے ایک بار میرا نیچے والا ہونٹ زور سے اپنے دانتوں میں لے کر اتنی طاقت سے کاٹا کے میرے منہ سے چیخ نکلتے نکلتے رکی مگر دوسرے ہی لمحے بانو کا جسم اکڑا اور اسکے منہ سے آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ اوو و و و و و کی آواز نکلی اور اسکی پھدی نے پانی چھوڑ دیا۔ اور وہ مجھ پر ڈھے گئی اور تیز تیز سانسیں لینے لگی۔ کچھ لمحوں کے بعد جب اسکی سانس بحال ہوئی توہ میں اٹھ کر بیٹھ گیا اور میرے اٹھنے سے بانو بھی میری گود میں اٹھتی چلی گئی۔ میں نے بانو کی قمیض پکڑ کر اتارنی چاہی تو بانو نے دونو بازو اٹھا کر میری مدد کی۔ بانو نے نیچے کالے رنگ کا کپڑے کا برا پہنا تھا جو اس کی کمر سے بندھا تھا۔ میں نے اس کی گانٹھ بھی کھول دی۔ اور ساتھ ہی اسکی الاسٹک والی شلوار بھی پکڑ کر اتار دی اور اسے پورا ننگا کر کے لٹا دیا۔ میں نے دیکھا کے بانو کے گورے سفید مموں پر گلابی رنگ کے چھوٹے چھوٹے نیپلز تھے اور نیچوں گلابی رنگ کی ہی پھدی تھی جس کے ہونٹ آپس میں کس کر ملے ہوئے تھے۔ بانو کو ننگا کر کے میں نے لگے ہاتھ اپنی بھی شلوار اتار کر رضائی سے باہر نکال دی۔ قمیض میں نے پہلے ہی نہیں پہنی ہوئی تھی اسلئے اوپر صرف بنیان ہی رہنے دی۔ میں ایک بار پھر بانو کے اوپر آ کر اسکے ہونٹ چوسنے لگ گیا۔ ہونٹ چوس کر میں آھستہ آھستہ گردن سے ہوتا ہوا نیچے آیا اور بانو کا ایک مما منہ میں لے کر چوسا تو بانو کے منہ سے ایک بار پھر سے سسکی نکل گئی۔ ایک مما منہ میں ڈال کر دوسرے کو میں نے ہاتھ سے پکڑا اور اسکا نپل مسلنے لگ گیا۔ بانو نے ایک بار پھر میرا سر پکڑا اور اپنے مموں پر دبانا شروع کر دیا۔ بانو کے ممے مجھے نرم تازہ گڑ کی ملائم سی پیسی کی طرح لگ رہے تھے۔ میں بار بار کبھی ایک مما چوستا اور کبھی دوسرا اور بانو نیچے مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی۔ تڑپتے تڑپتے بانو نیچے سے ہلی اور پھدی اٹھا کر میرے لن سے ٹکرانے لگی۔ میں سمجھ گیا کے اب بانو لن لینے کے لئے بلکل تیار ہے۔ میں نے بانو کے ممے چھوڑے اور اٹھ کر بانو کی دونوں ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا۔ میں نے ایک نظر بانو کی تنگ سی چھوٹی پھدی کو دیکھا اور پھر اپنے 8 انچ لمبے اور موٹے لن کو دیکھا تو سمجھ گیا کے بانو کو بوہت تکلیف اٹھانی پڑے گی۔ مگر مجھے ہر حال میں بانو کی پھدی میں لن ڈالنا تھا اس لئے میں نے دونوں ٹانگیں پکڑ کر کھولیں اور اپنا لن بانو کی پھدی جو اس کے اپنے پانی سے چکنی ہو چکی تھی پر رکھا اور بانو کی طرف دیکھ کر پوچھا۔ ڈال دوں؟ بانو نے ہولے سے سر ہلایا تو میں نے ٹوپی پھدی کے سوراخ پر رکھ کر زور سے دھکا مارا تو پہلی ہی دفع میں لن چکنی پھدی کو چیرتا ہوا اندر داخل ہو گیا۔ لن کا اندر داخل ہونا تھا کے بانو کی پھدی کا پردہ بکارت پھٹ گیا اور تکلیف کی وجہ سے اسکے منہ سے ایک دلخراش چیخ نکلی جو یقیناً دور تک گئی ہو گی مگر اماں اور چچی دوائی پی کر سو رہے تھے اسلئے فکر کی کوئی بات نہیں تھی۔ چیخ مارتے ہی بانو نے دونوں ہاتھوں سے اپنا منہ بند کر لیا اور تکلیف کی وجہ سے اپنا سر ادھر ادھر مار کر برداشت کرنے لگی۔ بانو کی پھدی اندر سے بے انتہا تنگ تھی اور اسکی پھدی سے تھوڑا سا خون نکل کر میرے لن کو لال کر رہا تھا۔ میں نے اپنا لن وہیں روکا اور اور بانو کو درد برداشت کرنے کا وقت دیا۔ میرا لن ابھی ٹوپی سے تھوڑا سا ہی زیادہ اندر گیا تھا۔ جب بانو تھوڑی دیر بعد نارمل ہوئی تو میں نے آھستہ سے ایک اور گھسا مارا تو میرا آدھا لن بانو کی پھدی میں اتر گیا۔ بانو نے بے ساختہ ایک سسکی لی اور بولی نا کریں بوہت جلن ہو رہی ہے۔ میں نے لن بانو کی پھدی جو اندر سے بھٹی کی طرح گرم تھی کو وہیں رہنے دیا اور ایک بار پھر بانو کے ہونٹ اور ممے چوسنے لگ گیا۔ تھوڑی دیر تک اس کے ممے اور ہونٹ چوسنے سے بانو ایک بار پھر سے گرم ہو گئی اور اسکی پھدی کی خشک دیواریں پھر سے گیلی ہو گئیں۔ میں نے بھی آدھا لن باہر نکال کے پھر اندر کیا تو اس بار بانو نارمل رہی۔ میں نے بھی آدھے لن سے بانو کی پھدی کو چودنا شروع کر دیا۔ بانو کی ملائی جیسی پھدی کو چودتے ہوئے مجھے بھی بوہت مزاہ آ رہا تھا۔ کچھ دیر میں بانو بھی گرم ہو کر نیچے سے پھدی اٹھا اٹھا کر میرا ساتھ دینے لگی اور منہ سے عجیب عجیب سی آوازیں نکلنے لگی۔ میں لن ٹوپی تک باہر نکالتا اور پھر دھیرے سے آدھا اندر کر دیتا۔ میرا دل چاہ رہا تھا کے ایک ہی جھٹکے میں سارا لن اندر کروں اور زور سے گھسا ماروں ۔ مگر بوہت مشکل سے خود کو روک رہا تھا کیوں کے بانو کی پھدی اندر سے اتنی نرم تھی جسکا حساب نہیں۔ بانو بھی چدواتے چدواتے اب پورے جوش میں آ گئی تھی۔ اسکی تکلیف ختم ہو گئی تھی اور وہ دونوں ہاتھ میری بنڈ پر رکھ کے دبا رہی تھی۔ کچھ ہی دیر ایسے چودنے کے بعد بانو کا جسم ایک بار پھر سے اکڑا اور اسنے نیچے سے زور زور سے پھدی اٹھا کر چدوانا شروع کر دیا اور اسکی چیخیں بھی بلند ہو گئیں۔ ادھر بانو کی پھدی نے پانی چھوڑا ادھر میں نے ایک زور کا گھسا مارا اور اپنا سارا لن بانو کی پھدی میں اتار دیا۔ حیرت انگیز طور پر بانو پانی چھوڑتے وقت میرا سارا لن آسانی سے اندر لے گئی اور اسکے منہ سے سواے ایک سسکی کے کچھ بھی نا نکلا۔ دوبارہ پانی چھوڑنے سے اسکی پھدی اب کافی حد تک چکنی ہو گئی تھی۔ اس لئے اس بار میں بھی گھسوں کی رفتار تیز کر دی۔ میں پورا لن ٹوپی تک باہر نکالتا اور ایک ہی زور دار گھسے سے سارا 8 انچ لن اندر اتار دیتا۔ جہاں مجھے بانو کی کنواری پھدی چودتے ہوئے بےپناہ مزاح آ رہا تھا وہاں اب میرے ہر گھسے سے بانو کے چہرے پر سکون کی لہر دوڑ رہی تھی۔ ایک ہی پوزیشن میں گھسے مارتا مارتا اب میں تھکنے لگا تھا۔ اس لئے میں نے لن باہر نکالا اور بانو کو الٹا لٹا دیا۔ جب بانو الٹی لیٹ گئی تو میں نے بانو سے کہا کے نیچے سے تھوڑا اوپر اٹھو۔ بانو نے اپنی بنڈ تھوڑی اوپر اٹھائی تو میں نے لن ایک بار پھر بانو کی پھدی میں ڈال دیا۔ ٹانگیں بند ہونے کی وجہ سے بانو کی پھدی اس پوزیشن میں بوہت تنگ ہو گئی تھی اور میرا لن پھنس پھنس کر اندر جا رہا تھا۔ دوسرا لن اندر ڈالنے سے میرے لن کی اوپر والی جگہ بانو کی نرم اور ملائم گوشت بھری ہوئی بنڈ سے ٹکرا رہی تھی۔ بانو کی بونڈ اتنی نرم تھی کے اس سے ٹکرانے کا مجھے الگ مزہ مل رہا تھا اور کمرے میں میرے اور بانو کی بنڈ کے ٹکرانے سے ایک سریلی سی آواز گھونج رہی تھی۔ ادھر پھدی مزید تنگ ہونے سے میرے لن کو سخت رگڑ لگ رہی تھی اور مجھے لگ رہا تھا اب میرا بھی پانی نکلنے والا ہے۔ یہ دیکھ کر میں نے گھسوں کی رفتار فل تیز کر دی۔ تقریباً آخری 10 یا 15 گھسے میں نے اتنی زور سے مارے کے بانو کی پھدی نے بھی پانی چھوڑ دیا اور میرے لن سے بھی منی نکل کر بانو کی پھدی کو بھرنے لگ گئی۔ جب میرے لن سے پانی پوری طرح نکل گیا تو میں سائیڈ پر لیٹ گیا اور ہم دونوں سانسیں بحال کرنے لگے۔ کچھ دیر بعد میں نے بانو کو پکڑ کر اپنی طرف موڑا اور اس سے پوچھا کیسا لگا؟ مجھ سے چدوا کر اب بانو کی شرم بھی ختم ہو چکی تھی اسلئے وہ مجھ سے لپٹ گئی اور ہولے سے بولی بوہت مزہ آیا۔ میں نے بھی اسکو اپنی بانہوں میں بھر لیا اور اسکی گال چوم کر پوچھا زیادہ درد تو نہیں ہوا۔ بانو بولی بس پہلی دفع ہوا تھا پھر نہیں ہوا۔ کچھ دیر ایسے ہی محبت سے ہم دونوں ایک دوسرے کو جپھی ڈال کر لیٹے رہے۔ پھر میرے ذہن میں کچھ آیا اور میں بولا بانو تمہیں ایک بات بتانی ہے۔ بانو مجھ سے لپٹی لپٹی بولی کون سی بات۔ میں بولا یہ جو انگریز ہوتے ہیں نا یہ اس کے علاوہ اور بھی بوہت کچھ کرتے ہیں۔ بانو بولی۔ وہ کیا؟ پھر میں نے اسے بتایا کے کیسے انگریز ایک دوسرے کا لن اور پھدی چوستے ہیں۔ بانو بولی مگر یہ تو گندی جگہ ہوتی ہے۔ میں نے بتایا کے ہاں ہوتی تو گندی ہے مگر کہتے ہیں اس سے اور بھی مزہ آتا ہے۔ اور روزی کے پاس جانے سے پہلے ہمیں اس کام کی مشق بھی کرنی ہوگی۔ یہ سن کر بانو کچھ دیر خاموش رہی اور پھر بولی۔ چلو جہاں یہ سب کیا ہے وہاں وہ بھی کر لیں گے۔ پھر میں نے اپنا مرجھایا ہوا لن بانو کے ہاتھ میں پکڑایا اور بولا انگریز اس کو ایک اور جگہ بھی ڈالتے ہیں۔ بانو حیرت سے بولی اچھا؟ وہ کہاں؟ میں نے بتایا کے انگریز لن لو بنڈ میں بھی ڈالتے ہیں۔ بانو کچھ دیر خاموش رہی۔ اور پھر بولی۔ ہاں۔ جانتی ہوں۔ میں حیرت سے بولا تم کیسے جانتی ہو؟ تو وہ بولی کے۔ اسکی سہیلی ہے نا رضیہ وہ بتا رہی تھی کے ایک دفع دوپہر کے وقت گرمیوں میں وہ اپنے ڈیرے پر اچانک گئی تو اسنے دیکھا کے اسکا بھائی اپنے ایک دوست کے وہاں ڈال رہا تھا۔ وہ یہ دیکھ کر وہاں سے بھاگ آئی اور بعد میں اسنے ہمیں بھی بتایا تھا۔ یہ سن کر مجھے تھوڑی تسلی ہوئی۔

    پھر کچھ دیر بعد بانو اٹھ کر جانے لگی تو میں نے اسے روک لیا۔ اور بولا کے نا جاؤ اور میرے ساتھ ہی سو جاؤ۔ وہ بولی اگر اماں لوگ اٹھ گئے تو؟ تو میں بولا وہ صبح تک نہیں اٹھیں گی۔ صبح ان کے اٹھنے سے پہلے چلی جانا۔ میں نے اپنے کمرے میں پڑا کلاک جس میں الارم بھی تھا اس پر صبح کا الارم سیٹ کیا تو بانو میرے ساتھ ہی لیٹ گئی۔ ہم دونو ہی ننگے ایک دوسرے کو۔ جپھی ڈالے پہلے ایک دوسرے سے پیار بھری باتیں کرتے رہے اور پھر سو گئے۔ صبح الارم چلا تو بانو اپنے کپڑے پہن کر اپنے بستر پر چلی گئی اور میں نے بھی کپڑے پہنے اور پھر سے سو گیا۔

    Last edited by Story-Maker; 18-11-2017 at 02:07 PM.

  18. The Following 10 Users Say Thank You to Maria Joe For This Useful Post:

    abba (14-11-2017), abkhan_70 (14-11-2017), anjumshahzad (24-11-2017), Irfan1397 (15-11-2017), Lovelymale (16-11-2017), piyaamoon (15-11-2017), shahg (14-11-2017), Story-Maker (18-11-2017), suhail502 (14-11-2017), sweetncute55 (14-11-2017)

  19. #30
    Maria Joe's Avatar
    Maria Joe is offline Harafa Orat
    Join Date
    Aug 2011
    Location
    Faisalabad
    Posts
    100
    Thanks
    57
    Thanked 460 Times in 89 Posts
    Time Online
    1 Day 16 Hours 12 Minutes 23 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Minute 5 Seconds
    Rep Power
    18

    Default



    کہانی کیسی لگی کمنٹ کر کے ضرور بتائیے گا. آپ کی آراء کا انتظار رہے گا.
    Last edited by Maria Joe; 14-11-2017 at 09:58 PM.

  20. The Following 11 Users Say Thank You to Maria Joe For This Useful Post:

    abba (14-11-2017), anjumshahzad (24-11-2017), bigonghi (15-11-2017), hananehsan (14-11-2017), lastzaib (14-11-2017), mayach (15-11-2017), Sexeria (18-11-2017), sexeymoon (15-11-2017), shahg (14-11-2017), suhail502 (14-11-2017), sweettyme (14-11-2017)

Page 3 of 15 FirstFirst 123456713 ... LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •