Page 3 of 6 FirstFirst 123456 LastLast
Results 21 to 30 of 54

Thread: شازیہ یونیک

  1. #21
    بھنورہ is offline Aam log
    Join Date
    Aug 2017
    Posts
    3
    Thanks
    3
    Thanked 3 Times in 3 Posts
    Time Online
    11 Hours 9 Minutes 53 Seconds
    Avg. Time Online
    4 Minutes 2 Seconds
    Rep Power
    0

    Default

    یہ کہانی کا درمیان والا حصہ کہاں گیا؟

    ابھی تو بات شازیہ کی چل رہی تھی کہ بیچ میں نیلوفر اور جمشید آگئے؟؟؟ کچھ سمجھ نہیں آیا

  2. The Following User Says Thank You to بھنورہ For This Useful Post:

    anjumshahzad (07-11-2017)

  3. #22
    delmonte's Avatar
    delmonte is offline Aam log
    Join Date
    Apr 2014
    Location
    UK
    Posts
    24
    Thanks
    68
    Thanked 43 Times in 19 Posts
    Time Online
    14 Hours 55 Minutes 24 Seconds
    Avg. Time Online
    39 Seconds
    Rep Power
    7

    Default

    o Bhai, yeah Kia hay, kon si kahani ko kahan fit kar diya.

  4. The Following 3 Users Say Thank You to delmonte For This Useful Post:

    abkhan_70 (06-11-2017), anjumshahzad (07-11-2017), suhail502 (06-11-2017)

  5. #23
    shaani84 is offline Aam log
    Join Date
    Feb 2017
    Posts
    28
    Thanks
    28
    Thanked 27 Times in 15 Posts
    Time Online
    16 Hours 15 Minutes 34 Seconds
    Avg. Time Online
    2 Minutes 50 Seconds
    Rep Power
    4

    Default

    The order is completely out. ruining the story at the moment..

  6. The Following 3 Users Say Thank You to shaani84 For This Useful Post:

    abkhan_70 (07-11-2017), anjumshahzad (30-12-2017), suhail502 (13-11-2017)

  7. #24
    youngheart's Avatar
    youngheart is online now Premium Member
    Join Date
    May 2015
    Posts
    1,815
    Thanks
    3,731
    Thanked 5,810 Times in 1,709 Posts
    Time Online
    1 Month 1 Week 3 Days 14 Hours 1 Minute 4 Seconds
    Avg. Time Online
    58 Minutes 54 Seconds
    Rep Power
    1447

    Default

    کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا
    بھان متی نے کنبہ جوڑا

  8. The Following 4 Users Say Thank You to youngheart For This Useful Post:

    abkhan_70 (07-11-2017), anjumshahzad (30-12-2017), Irfan1397 (07-11-2017), suhail502 (13-11-2017)

  9. #25
    Mind007 is offline Premium Member
    Join Date
    Apr 2016
    Age
    22
    Posts
    57
    Thanks
    24
    Thanked 251 Times in 50 Posts
    Time Online
    18 Hours 40 Minutes 13 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Minute 44 Seconds
    Rep Power
    11

    Default

    اسلام و علیکم ! دوستو
    آخری اپ ڈیٹ تھوڑی مسٹیک کی وجہ سے کسی اور سٹوری کے ساتھ مکس اپ ہو چکی تھی۔ اسے گزشتہ روز ٹھیک کر دیا گیا تھا۔
    اب اس سٹوری کو کوشش یہی ہے کہ مکمل کرنے کے بعد ہی ایک ہی اپ ڈیٹ میں مکمل کر دیا جائے۔
    شکریہ

  10. The Following 2 Users Say Thank You to Mind007 For This Useful Post:

    anjumshahzad (30-12-2017), suhail502 (13-11-2017)

  11. #26
    zeem8187's Avatar
    zeem8187 is offline Premium Member
    Join Date
    Jan 2010
    Location
    London
    Posts
    531
    Thanks
    73
    Thanked 1,306 Times in 453 Posts
    Time Online
    1 Week 17 Hours 23 Minutes 50 Seconds
    Avg. Time Online
    5 Minutes 2 Seconds
    Rep Power
    63

    Default

    جناب دے دو دیر کس بات کی
    8187

  12. The Following 3 Users Say Thank You to zeem8187 For This Useful Post:

    anjumshahzad (30-12-2017), Mind007 (12-11-2017), suhail502 (13-11-2017)

  13. #27
    easy1 is offline Aam log
    Join Date
    Nov 2008
    Posts
    1
    Thanks
    0
    Thanked 1 Time in 1 Post
    Time Online
    2 Days 3 Hours 55 Minutes 49 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Minute 24 Seconds
    Rep Power
    0

    Default

    03436051049

  14. The Following User Says Thank You to easy1 For This Useful Post:

    anjumshahzad (30-12-2017)

  15. #28
    Mind007 is offline Premium Member
    Join Date
    Apr 2016
    Age
    22
    Posts
    57
    Thanks
    24
    Thanked 251 Times in 50 Posts
    Time Online
    18 Hours 40 Minutes 13 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Minute 44 Seconds
    Rep Power
    11

    Default

    کافی روز سے میرا موبائل کو بدلنے کا دل چاہ رہا تھا۔مگر نا تو وقت مل رہا تھا اور نا ہی کوئی موبائل پسند آ رہا تھا۔آخر ایک روز آفس سے واپسی پر میں موبائل مارکیٹ چلا گیا۔ ایک دو دوکانوں پر مختلف کمنیز کے موبائل دیکھے مگر کوئی پسند نہ آیا۔آخر کار ایک روز آفس سے واپسی پر میں موبائل مارکیٹ کی جانب چل پڑا۔ وہاں میں مختلف دوکانوں سے موبائلز چیک کرنے لگا ۔دو تین دوکانوں سے میں نے مختلف کمپنیز کے متعدد ماڈلز چیک کیے مگر کوئی پسند نہ آیا۔ آخری دوکان پر جب میں موبائل چیک کر رہا تھا کہ دوسرا سیلز مین ایک کسٹمر کو ایک موبائل دکھا رہا تھا چاہنہ کی کسی لوکل کمپنی کا۔ وہ دوسرے کسٹمر کو اس کی خصوصیات بتاتے ہوئے بول رہا تھا کہ اس میں بیک وقت تین سم ڈالی جا سکتی ہیں اس کے ساتھ ساتھ اس میں وائس چینجر کی سہلومت بھی موجود ہے جو کہ کسی بھی فون سے زیادہ کلیر انداز میں آواز کو تبدیل کرتا ہے۔اس کی خصوصٰات کو سنتے ہوئے میں نے بھی وہی چائنہ موبائل اٹھایا اور اس کے فنگشنز کو دیکھنے لگا۔ تفصیلا چیک کرنے سے معلوم ہوا کہ وائس چینجر کے ذریعے سے اس سے کسی بزرگ، بچے، بوڑھے، جوان،بڑھیا، جون لڑکی سمیت چھوٹے سے بچے تک کی آواز بڑی عمدہ طریقے سے تبدیل کی جا سکتی ہے۔ بھی میں اسے عادتا دیکھ ہی رہا تھا کہ اچانک میں دماغ میں جھماکا ہوا۔ میرے دماغ میں ایک شاندار خیال کی آمد ہوئی ۔ جی ہاں ! میں اس کے ذریعے سے اپنی بیوی(شازیہ) کے لیے ایک سہیلی کا بدوبست کر سکتا تھا۔ میں خود آواز کو تبدیل کرتے ہوئے اپنی ہی بیوی کے لیے اس کی سہیلی بن کر اپنے مقصد کو پورا کر سکتا تھا۔ تا کہ اس کے دل کا حال جان سکوں۔ اس کے خیالات کو سمجھ سکوں۔ اس کے راز جان سکوں۔ اسے کسی دوسرے مرد کی جانب راغب کر سکوں تا کہ اس کے امتحان کی منزل قریب آ سکے
    میں نے اچھی کمپنی کے موبائلز کو چھوڑ کر اسی چائنہ میڈ موبائل میں دلچسپی لینا شروع کر دی۔ اتنے میں وہ کسٹمر بنا کچھ لیے ہی واپس چلا گیا۔ میں نے دوکاندار سے موبائل کے فنگشنز کو چیک کروانے کا بولا اسی نے فورا ہی سم ڈالکر فون آن کیا اور میرا نمبر ڈائل کر دیا۔ میں نے شاپ سے باہر نکل کر اس کی کال اٹینڈ کی تو وہ دوکاندار ایک لڑکی کی آواز میں مجھ سے بات کر رہا تھا۔ میں حیران رہ گیاکہ فون سے ایک لڑکی کی آواز آ رہی تھی جیسے فون کے دوسری جانب کوئی دوکاندار مرد نہیں حقیقی معنوں میں کوئی خوبصورت دوشیزہ ہی گفتگو کر رہی ہو۔ ذرا سا بھی شک محسوس نہیں ہو پا رہا تھا۔ مجھے اب ہر حال میں یہی سیٹ لینا تھا۔ میں اب باتیں کرتا کرتا دوکان کے اندر آ گیا اور ان موبائلز میں سے بہتریں قسم کا ماڈل جس کی وائس کوالٹی اور دیگر فنگشنز بہتر تھے خرید لیا ۔ واپسی آتے ہوئے راستے سے میں ایک نئی سم بھی لیتا آیا ۔ اب میں اپنے پلان کے مطابق اپنا کام شروع کرنے کے لیے مناسب وقت کی تلاش میں تھا کہ کیسے ،کب اور کس طرح یہ کام شروع کیا جا سکے
    شازیہ نے رات کو میرا نیا موبائل دیکھا لیکن میں نے اسے نہ تو اس کو زیادہ غور سے دیکھنے دیا اور نہ ہی اس کے خٖفیہ فیچرز سے آگاہ کیا۔ یوںموبائل سے متعلق ہماری کوئی خاص گفتگو بھی نہ ہوئی
    جیسا کہ میں نے آغاز ہی میں بتایا تھا کہ شازیہ ایک پڑھی لکھی لڑکی ہے۔ وقت اور فیشن کے مطابق ڈریسنگ کرنا اس کا مشغلہ بھی ہے اس کا لباس جینز، ٹاپس، ٹایٹس، ٹراوزرز،شلوار قمیض پر ہی زیادہ تر مشتمل ہوتا ۔کبھی کبھار کرتے اور شرٹس کے گلے کافی کھلے ہوتے یا پھر کبھی کبھار معقول گلے کا استعمال کرتی لیکن پھر بھی اس کے گلے سے اس کی چھاتی کے درمیان کی لکیر اس کی فٹنگ کے کرتوں میں بھی نظر آتی ہی رہتی ہے۔
    وہ جیسا مرضی کرتا یا شرٹ پہنے لگتی وہ ہاٹ اور سیکسی ہی ہے۔میں نے ذاتی طور پر کبھی اس کے لباس پر اعتراض نہیں کیا تھا۔ بلکہ جب وہ شاپنگ وغیرہ کے لیے جاتی تو اس کے لباس کو دیکھ کر لوگوں کی بھوکی اور ہوس زدہ نظروں سے لطف اندوز ہوتا تھا۔ مجھے خود محسوس ہوا کہ شازیہ بھی لوگوں کی ہوس زدہ نظروں کا برا منانے کی بجائے انجوئے ہی کرتی تھی۔ مجھے امید ہوتی کہ کچھ نا کچھ تو بات چیت کو آگے بڑھائے گی کچھ نہ کچھ تو بات چیت سے آگے بھی ہو گا ۔ کچھ آنکھ مٹکا، کچھ شرمیلی سمائلز، تیکھے انداز ،ترچھی نظریں لیکن کچھ بھی نہ ہوا یا یوں سمجھ لیں کہ کم از کم میرے سامنے کبھی ایسا نہیں ہوا
    دو تین روز کے بعد آفس پہنچتے ہی میں نے نئے نمبر کو آن کیا اور وائس سیٹنگز کو چینج کرتے ہوئے شازیہ کا نمبر ڈائل کیا۔ دو تین بار بیل ہونے پر اس نے فون اٹھا ہی لیا
    شازیہ: ہیلو
    میں: میں عظمی بات کر رہی ہوں۔ آپ کون جی؟
    شازیہ: جی میں شازیہ بات کر رہی ہوں۔آپکو کس سے بات کرنی ہے؟
    میں:میں اپنے دوست کا نمبر ملا رہی تھی لیکن مجھے لگتا ہے کہ کال کسی غلط نمبر پر جا ملی ہے۔ سوری
    شازیہ: ویسے میں کراچی سے بات کر رہی ہوں۔ آپ کہاں رہتی ہیں؟
    میں: میں لاہور رہتی ہوں
    میں نے جان بوجھ کر اپنے شہر کا نام غلط بتایا تا کہ کبھی ملاقات کا تقاضا ممکن ہی نہ ہو سکے۔ شازیہ سے گفتگو کرتے ہوئے میرا دل زور زور سے ڈھڑک رہا تھا کہ کہیں شازیہ کو شک نہ ہو جائے ۔ اور بنا بنایا کھیل بگڑ ہی نا جائے
    میں: سوری یار! میری وجہ سے آپ کا وقت ضائع ہوا۔ میں فون رکھتی ہوں۔
    شازیہ: ارے نہیں نہیں یار۔۔۔۔ میں بس فارغ ہی تھی۔ بس ٹی وی ایک سیریل دیکھ رہی تھی۔
    میں: تو کیا آپ کالج نہیں گئیں؟
    شازیہ : ہنستے ہوئے۔۔۔۔ ارے نہیں یار میں تو کب کا کالج چھوڑ چکی ہوں۔ اب تو میرا بیٹا سکول جانے والا ہے
    میں: اوہ سوری یار۔ تمہاری آواز سے ایسا ہی محسوس ہو رہا ہے کہ تم کالج کی سٹوڈنٹ ہو۔ اور تمہارے میاں جی کیا کرتے ہیں ۔اسوقت وہ کہاں ہیں؟
    شازیہ : ہنستے ہوئے۔۔ ان کا اپنا بزنس ہے۔ اس وقت اپنے آفس ہوں گے۔
    مجھے خوشی ہوئی کہ اب تک شازیہ کو عظمی کی آواز پر کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہوا تھا کہ یہ لڑکی کی ہی آواز ہے یا وائس چینجر سے تبدیل کی ہوئی آواز
    شازیہ: اور آپ بھی شادی شدہ ہیں؟
    عظمی: جی جی! میں بھی شادی شدہ ہوں۔ میرے میاں انجئنیر ہیں۔ دو بچے ہیں ہمارے
    شازیہ:بہت اچھا لگا آپ سے بات کر کے۔۔
    عظمی: اوکے جی آپ اب اپنا سیریل دیکھو۔ بائے پھر
    شازیہ:ایک بات پوچھوں آپ سے؟
    عظمی: جی ضرور پوچھیں
    شازیہ:آپ کہہ رہیں تھیں کہ آپ اپنے دست کا نمبر ملا رہیں تھیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ دوست کوئی لڑکا ہے؟ شازیہ ہنستے ہوئے بولی
    عظمی:ہاہاہاہاہاہا ! بہت پکڑا ہے آپ نے میری بات کو۔ ۔۔۔۔ بالکل وہ ایک لڑکا ہی ہے لیکن کون ہے اس کے متعلق آپ کو بعد میں کبھی بتاوں گی۔ بائے پھر
    شازیہ: ہنستی ہوئی۔۔۔۔۔ اچھا جی بائے
    عظمیٰ یعنی کہ میں بہت خوش تھا کہ شازیہ کے ساتھ پہلی بات چیت بہت اچھی رہی تھی۔ میں پر امید تھا کہ بہت جلد شازیہ کو عظمی کا دوست بنا نے میں کامیاب ہو ہی جاؤں گا۔پھر اسے اپنی لائن پر لانے میں آسانی رہے گی، اس کے دل کا حل جان سکوں گا۔ اس کے رازوں سے آگاہی ممکن ہو سکے گی۔ آج کے دن میں بہت ہی ایکسائٹڈ تھا
    شام کو گھر واپسی کے بعد رات تک تو شازیہ نے عظمی کی مجھ سے کوئی بات نہ کی۔ ظاہری سے بات ہے کہ میں خود یہ بے وقوفی کرنے سے رہا۔ مجھے یہ سوچ کر ہی خوشی ہوئی کہ شازیہ نے عظمی والی بات مجھ سے چھپائی تھی۔اس سے آگے چل کر ان دونوں کے درمیان دوستی ہونے کے چانس کافی روشن تھے۔ اس سے مجھے بھی آسانی ہونی تھی
    شازیہ کچن میں کام کر رہی تھی اور میں بیڈ روم میں لیٹا ٹی وی دیکھ رہا تھا۔اچانک ہی مجھے ایک آئیڈیا آیا۔ میں نے عظمی والی سم کو موبائل سے آن کیا اور شازیہ کو ایک اچھا سا میسج بھیج دیا۔ شازیہ کا کوئی ریپلائی نہ آیا
    میں نے پھر کچھ دیر بعد دوبارہ ٹیکسٹ کیا
    عظمیٰ: ہائے! ہاؤ آر یو مائی نیو فرینڈ۔۔۔۔۔۔ کیا کر رہی ہو؟
    کچھ دیر بعد شازیہ کا ریپلائی ملا
    شازیہ: ہائے۔۔۔ کچن میں ہوں یار۔۔ میاں جی کام سے واپس آئے ہوئے ہیں نا
    میں نے تھوڑا اوپن ہونے کا سوچا
    عظمی: واؤ ! اور آپ کے میاں جی اسوقت کہاں ہیں؟
    شازیہ:بیڈ روم ہیں وہ
    عظمی: تو تمہیں تو اس وقت ان کے ساتھ بیڈ روم میں ہونا چاہیے تھا نا۔ ہا ہا ہا ہا ہا ۔۔۔۔۔ کام سے تھکے ہوئے آئے ہوں گے تھوڑا خوش ہی کر دیتی انہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اہاہاہاہاہاہہا
    شازیہ کا جو جواب آیا اسے پڑھ کر میرا دل زور زور سے ڈھڑکنے لگا
    شازیہ: ارے نہیں یار! ابھی تو کھانا بنانا ہے اسے خوش کرنے کے لیے تو ساری رات پڑی ہے
    عظمی کی طرف سے میں نے اسے ٹیکسٹ کیا
    عظمی: اوکے پھر آپ کر کام ۔۔ ہم پھر چاٹ کریں گے
    شازیہ کی طرف سے آخری میج آیا
    شازیہ: جی جی تب تک آپ بھی اپنے دوست کو تھوڑا خوش کر لو۔ ہاہاہاہاہاہہاہاہاہا
    عظمی: ہنستے ہوئے ۔۔۔ بہت شرارتی لڑکی ہو تم
    مجھے خوشی ہوئی کہ میرا کھیل بالکل ٹھیک جا رہا تھا۔ ایک لڑکی ہوتے ہوئے شازیہ مجھ پر (عظمی) پر خوب اعتماد کر رہی تھی جس کی وجہ سے وہ عظمی سے دوستی کرتی چلی جا رہی تھی۔اور خاص کر ایسا ہی ہوتا چلا آیا ہے کہ ایک عورت دوسری عورت سے ہی کھل کر گفتگو کر سکتی تھی خاص کر اپنی سیکس لائف کے بارے میں ۔۔ یا پھر دوسری اہم باتیں جو وہ کسی مرد سے نہیں کر سکتی لیکن باعتماد دوست اگر عورت ہی ہو تو سب کچھ اگل دیتی ہے دوسری عورت کے سامنے
    شازیہ کے ساتھ بھی ایسا ہو رہا تھا کہ وہ عظمی کی دوستی میں کھنچی چلی جا رہی تھی
    رات کو میں کافی خوش تھا اپنی پہلی کامیابی پر۔ ایک عجیب سا مزہ اور سرشاری چڑھتی جا رہی تھی۔ دل کرتا تھا کہ شازیہ کے ساتھ عظمی بن کر ہی باتیں کرتا رہوں۔رات کو جب ہم بیڈ پر لیٹے تو میں خود نہ روک پایا اور شازیہ کو اپنی بانہوں میں کھینچ لیا۔شازیہ نے بھی مسکراتے ہوئے خود کو میرے سپرد کر دیا۔ شازیہ خود کو میرے سپرد ہی کرتی تھی کہ جو چاہو کر لو ۔ لیکن خود سیکس میں کبھی ایکٹو نہیں ہوتی تھی۔
    کبھی اس کی طرف سے پہل نہیں ہوئی تھی اور ہی کبھی اس نے کھل کر مجھ سے کبھی سیکس کیا تھا۔ سیکس کے دران گندی باتیں ، لنڈ چوسنا وغیرہ تو بہت دور کی بات ہے وہ ہمیشہ شرماتی شرماتی ہی رہتی تھی سیکس میں۔ بہت بار کہنے پر کبھی کبھار میرا لنڈ ہاتھ میں پکڑ کر کبھی سہلا لیا تو خیر۔ لیکن کبھی بھی مجھے اپنی چوت کے حصے پر کس تک نہیں کرنے دی تھی اس نے۔۔۔ پتا نہیں کیوں اس کے اندر ایک جھجک تھی۔ ایک قدرتی شرمیلا پن تھا جو اسے یہ سب کرنے سے روکتا تھا۔ بحرحال جیسی بھی تھی لیکن میں خود کو شانت کر ہی لیتا تھا اس سے سیکس کر کے
    اگلی صبح میں بہت بے چین تھا کہ میں جلدی سے آفس پہنچ جاؤں تا کہ عظمی اور شازیہ آپس میں چیٹنگ کر سکیں۔ ایک کام میں گھر سے نکلنے سے پہلے ہی کر چکا تھا کہ شازیہ کو عظمی کے نمبر سے گڈ مارننگ کا میسج کر دیا تھا۔ تا کہ شازیہ عظمی کو بھول نا سکے اور دوبارہ سے اسے اس کی یاد آ جائے
    جیسے ہی میں آفس پہنچا تو کچھ دیر کے بعد ہی شازیہ کی طرف سے عظمی کے موبائل پر گڈ ماننگ کا میسج آ چکا تھا۔ میں(عظمی) نے اسے کال کی
    شازیہ:ہیلو عظمی کیسی ہو؟
    عظمی: تم پہلے یہ بتاو کہ نہا لیا ہے کہ یا ابھی ویسے ہی گندی ہو؟
    شازیہ: ہنستے ہوئے۔۔۔۔ کیوں میں نے کیوں نہانا تھا بھئی؟
    عظمی:کیوں جناب! میاں جی کے ساتھ چدائی کے بعد نہاتی نہیں ہو کیا
    شازیہ:زور زور سے ہنستے ہوئے۔۔۔۔۔ تم بھی نا کیا باتیں کرتی ہو۔۔۔ اور تمہیں شرم نہیں آتی اس طرح کے گندے لفظ بولتے ہوئے؟
    عظمی:ارے یار ! چدائی کو چدائی نہیں بولیں گے تو اور کیا بولیں گے؟ اور اس میں شرم کیسی؟
    شازیہ:پھر بھی یار۔۔ یاسے لفظ بولتے کیتنا گندا سا لگتا ہے اور پھر بھی یار یہ لفظ تو لڑکے ہی بولتے ہیں نا
    عظمی:جی ہاں! لڑکے ہی بولتے ہیں ایسے لفظ۔ کیونکہ انہیں اس میں مزا آتا ہے تو کیا ہم لڑکوں کو ہی مزہ لینے دیں خود نہ لیں؟
    شازیہ:لیکن یار میں تو نہیں بولتی ایسے لفظ
    عظمی: حیران ہوتے ہوئے۔۔۔ سچ کیا؟ تم اپنے شوہر کیساتھ سیکس کے دوران بھی ایسے لفظ نہیں بولتی؟
    شازیہ:نہیں تو
    عظمی: اففف۔ ۔۔۔ یار پھر تو تم کچھ بھی انجوائے نہیں کر پا رہی ہو گی اپنی سیکس لائف کو
    شازیہ:نہیں یار ایسا تو نہیں۔۔۔۔ سب ٹھیک چل رہا ہے
    عظمیٰ:کیا خاک ایسے ٹھیک چلنا ہے۔جب تک ڈرٹی سیکس نہ کیا جائے مزہ ہی نہیں آتا۔۔۔ اچھا ایک بات پوچھوں؟
    شازیہ: ہاں پوچھو
    عظمی:کیا تم سکنگ کرتی ہو
    شازیہ: اوہہہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔ چھی چھی چھی ۔۔۔۔ تم بھی کسی باتیں کرتی ہو؟ میں بھلا اتنی گندی چیز کو اپنے مونہہ میں کیوں لوں؟
    عظمی: ہنستے ہوئے ۔۔۔ اچھا جب تمہارا شوہر اپنا لنڈ تمہاری چوت میں ڈالتا ہے تب مزہ آتا ہے؟
    شازیہ: ہاں آتا ہے
    عظمی: پھر ایسی چیز جو واقعی مزہ دیتی ہو وہ گندی کیسے ہو گئی۔ وہ تو منہ میں بھی مزہ ہی دے گی نا
    شازیہ: شرماتے ہوئے۔۔۔۔ اچھا اچھا چھوڑو۔۔۔ کیسی گندی باتیں کرتی ہو تم۔ اچھا تم بتاؤ اپنے دوست کے بارے میں ۔۔۔۔ کل بھی پوچھا تھا میں نے مگر تم بات گول کر گئیں تھیں
    عظمی: ہاں ہاں پوچھو ۔۔۔۔ کیا کیا پوچھنا ہے
    شازیہ:کون ہے وہ تمہارا دوست؟
    عظمی : لڑکا ہے بھئی
    شازیہ: اوہ ہ ہ ہ ہ بہت تیز ہو۔۔ شوہر کے ہوتے ہوئے بھی تم نے کسی اور لڑکے کو اپنا دوست بنایا ہوا ہے
    عظمی: ہنستے ہوئے۔۔۔ ہاں تو اس میں برا کیا ہے۔۔ ٹائم پاس ہی تو کرنا ہے۔۔ شوہر جب اپنے کام پر ہوتے ہیں تو دن بھر پتا نہیں کتنی لڑکیوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔۔ تو ہم کیوں خود کو اتنا محدود کر کے رکھیں یار
    شازیہ:اچھا یہ بتاؤ کہ کون ہے وہ لڑکاَ؟ ۔۔۔ کیسا دکھتا ہے؟ ۔۔۔۔ کہاں ملا تھا؟
    عظمی: ینگ ہے۔ کالج کا سٹوڈنٹ ہے۔ ایک شاپنگ مال میں ملا تھا۔ مجھے دیکھ کر میرے پیچھے آیا۔ ایک سمائل دی اور بس پھر۔ میرے پیچھا کرتے کرتے وہ خالی جگہ دیکھ کر میرے پاس آیا۔ نمبر ایکسچینج کیے اور ہو گئی دوستی۔۔۔ اب تو اس واقعے کو 7 ماہ کا عرصہ بیت چکا ہے
    شازیہ:اچھا جی ! بڑی بات ہے جناب کی۔۔۔ ویسے کہاں تک پہنچی آپ لوگوں کی دوستی؟
    عظمی: ہنستے ہوئے۔۔۔۔ بس یار رفتہ رفتہ بیڈ روم تک پہنچ ہی چکی ہے دوستی
    شازیہ:نہیں یار! مذاق مت کرو۔ ٹھیک ٹھیک بتاؤ۔
    عظمی:ارے یار ٹھیک ٹھیک تو کہہ رہی ہوں۔۔۔ اب یہ مت کہنا کہ تمہیں نہیں پتا کہ دوستی میں اس قدر آگے بھی چلے جاتے ہیں
    شازیہ:ہاں ہاں وہ تو مجھے پتا ہے لیکن کیا تم بھی۔۔۔ مطلب کے اس لڑکے کے ساتھ سیکس؟
    شازیہ کی آواز میں تجسس تھا۔ جیسے اسے یہ سب باتیں بہت مزہ دے رہی ہوں۔ اسے کچھ بھی برا نہیں لگ رہا تھا
    شازیہ : لیکن یار یہ سب کچھ ٹھیک تو نہیں ہے نا؟
    عظمی:ارے یار پتا نہیں تم کہاں رہ رہی ہو۔ آجکل ہر لڑکی لڑکے کا کوئی نا کوئی ایسا دوست ہوتا ہے۔ ٹائم پاس کرنے کے لیے۔۔۔ اب تم یہ مت کہہ دینا کہ تمہارا کوئی دوست ہی نہیں
    شازیہ: ہنستے ہوئے۔۔۔۔ مانو یا نہ مانو لیکن قسم لے لو کہ میرا کوئی بھی دوست نہیں ہے
    عظمیٰ:ویسے یار ہو تو نہیں سکتا۔۔۔ ویسے کالج یا یونیورسٹی میں تو ہو گا نا کوئی نا کوئی دوست
    شازیہ چپ کر گئی۔۔۔
    شازیہ: نہیں، ایسی کوئی خاص دوستی نہیں تھی اس زمانے میں بھی
    عظمی:دیکھو یار! میں نے تمہیں دوست سمجھ کر سب کچھ صاف صاف بتایا ہے۔ لیکن شائد تم مجھے دوست ہی نہیں سمجھتی۔ گڈ بائے۔ میں آئندہ آُ کو فون نہیں کروں گی
    یہ کہتے ہوئے میں نے کال ڈراپ کر دی۔ میں شازیہ کا انٹرسٹ چیک کرنا چاہتا تھا جس میں واقعی میں کامیاب ہو چکا تھا۔تھوڑی ہی دیر کے بعد مجھے شازیہ کی جانب سے ایک میسج موصول ہو جس میں ۔۔۔۔ سوری فرینڈ۔۔۔۔ لکھا ہوا تھا
    میں نے ریپلائی کیا " جب تم کو مجھ پر اعتماد نہیں اور نا تم اپنی باتیں مجھ سے ڈسکس کرنا چاہتی ہو تو ہماری دوستی کسی"
    اسی میسج کے بعد شازیہ کی کال آ گئی
    شازیہ: ارے یار اتنی سی بات پر ناراض ہو گئی تم۔ اچھا بابا اب جو بھی پوچھو گی سب بتاؤں گی۔ کیا حکم ہے میرے آقا
    شازیہ نے کچھ ایسے انداز میں کہا کہ عظمی کو بھی ہنسی آ گئی
    عظمی: چلو جلدی سے بتاو کہ یونیورسٹی میں تمہارا کوئی دوست تھا کہ نہیں
    یہ سوال پوچھتے ہی میرا اپنا دل زور زور سے ڈھڑکنے لگا۔کیونکہ اس کا جواب میری بیوی کا ایک بڑا راز افشا کر سکتا تھا۔۔
    شازیہ: آہستہ سے بولی۔۔۔ ہاں تھا ایک دوست میرا بھی
    میرا دل ایک لمحے کے لیے بیٹھ گیا۔ مگر دوسرے ہی لمحے میرے لنڈ میں کرنٹ سا ڈوڑ گیا کہ میری بیوی کا شادی سے قبل بھی کوئی دوست تھا۔ پھر میں بولا
    عظمی: واؤؤؤؤؤؤؤ ! یہ ہوئی نا بات۔۔۔۔ چلو اب جلدی سے بتاو کہ کون تھا وہ، کیسا تھا، کیا کرتا تھا۔ اور اس نے تمہارے ساتھ کیا کیا ؟
    شازیہ:ارے ارے ۔۔ ایک ہی سانس میں سب پوچھ لو گی کیا؟ تھوڑا حوصلہ رکھو بتا رہی ہوں۔ وہ میرا کلاس فیلو تھا۔ بہت ہینڈسم اور خوبصورت۔ مالی لحاظ سے کافی امیر گھرانے کا لگتا تھا۔ میں نے محسوس بھی کیا کہ کافی عرصہ سے وہ میرے پیچھے بھی تھا۔میرے پہ نظریں جمائے رہتا۔ حیلے بہانوں سے مجھ سے بات کرتا رہتا۔مسکر ا مسکرا کہ مجھے دیکھتے رہتا۔ میں بھی کبھی کبھار اس کی مسکراہٹ کے جواب میں ایک چھوٹی سی سمائل پاس کر دیتی۔ لیکن کبھی بات کو آگے نہیں بڑھنے دیا
    عظمی: اچھا ! تو پھر سب کچھ کب ،کہاں اور کیسے ہوا تم لوگوں کے درمیان
    میرا لنڈ اپنے جوبن پہ آ چکا تھا۔ میں دھیرے دھیرے اسے بہلا رہا تھا۔ اس پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔
    شازیہ:کچھ خاص نہیں ہوا یار۔۔۔ بس تھوڑی سی کسنگ ہوئی تھی
    میرے لنڈ کو جھٹکے لگنے لگے۔ یہی سوچ کر کے میری بیوی شادی سے قبل کسنگ کر چکی ہے
    عظمی:سب بتاؤ نا یار۔۔۔ کیسے ہوا تھا یہ سب کچھ؟
    شازیہ: ہنستی ہوئی ۔۔۔ یار ایک بار ہماری کلاس کا ٹرپ گیا تھا بہت ہی خوبصورت سا ایریا ہے۔ سبھی انجوائے کر رہے تھے۔ تم نے نام بھی سنا ہو گا۔ چھانگا مانگا کا جبکل۔۔ واقعی فطرتی حسن کا مالک ہے جنگل۔ اچھا پکنک پوائنٹ بھی ہے۔۔ وہیں پر ہوا
    عظمی: کیسے؟
    شازیہ: وہیں پر ہم سب انجوائے کر رہے تھے۔ میں بیٹھ گئی۔ کچھ ہی دیر میں وہ بھی میرے پاس آ کر بیٹھ گیا اور آہستہ آہستہ ہم باتیں کرنے لگے۔۔۔ کچھ دیر باتیں کرتے کرتے وہ بولا مس شازیہ! چلیں ہم بھی کچھ سیر ویر کرلیں۔۔ میں اٹھی اور ہم آہستہ آہستہ مین کیمپ سے کچھ دور گھنے جنگل میں پہنچ گئے۔ کافی گھنے درخت تھے۔ وہاں جمشید بولا ۔۔۔ اس کا نام جمشید تھا نا
    جمشید: شازیہ ! کتنی پیاری جگہ ہے نا یہ
    میں: ہاں بہت پیاری جگہ ہے لیکن مجھے تو یہاں ڈر لگ رہا ہے
    جمشید:ارے بابا ! ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ میں ہوں نا تمہارے پاس
    میں مسکرا کر بولی: تم ہی سے تو ڈر لگ رہا ہے
    جمشید: ارے یہ بات بھی ٹھیک کہی تم نے۔۔۔ میں کوئی تمہیں کھا جاؤں گا جو تمہیں مجھ سے ڈر لگ رہا ہے
    یہ کہتے ہوئے اس نے دھیرے سے میرا ہاتھ پکڑ لیا
    میں نے ہلکی سی مزاحمت کی ہاتھ چھڑوانے کی۔ مگر نہ میں نے ہاتھ چھڑوایا اور نہ ہی اس نے چھوڑا
    میں آہستہ سے بولی: جمشید ! چھوڑو میرا ہاتھ۔۔ کوئی دیکھ لے گا
    جمشید: تم فکر نہیں کرو۔ کوئی اس طرف نہیں آئے گا
    میرا دل زور زور سے ڈھڑک رہا تھا۔میرا ہاتھ ابھی تک جمشید کے ہاتھ میں ہی تھا اور وہ اسے سہلا رہا تھا
    میں شرما کر اس کی طرف دیکھتی ہوئی بولی ں تم میرے پیچھے پڑے ہوئے ہو۔ یونیورسٹی میں بھی ہمہ وقت میرے اردگرد منڈلاتے ہو اور اب یہاں بھی
    جمشید: اچھا جی۔۔ جناب کو سب پتا ہے پھر بھی اتنی معصوم بنتی ہیں کہ ہماری طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتیں۔۔۔ ویسے بھی تم ہو ہی اتنی پیاری کے دیکھے بنا دل ہی نہیں لگتا
    میں مسکرا کر بولی: یونیورسٹی میں تو مجھ سے بھی خوبصورت بہت لڑکیاں ہیں جناب۔۔ پھر یہ نظر کرم صرف مجھ ہی پر کیوں؟
    جمشید دھیرے دھیرے مجھ پر جھکنے لگا اور بولا۔۔ اس لیے کہ تم میں جو بات ہے وہ کسی اور لڑکی میں نہیں
    یہ کہتے ہوئے جمشید نے دھیرے سے میرے گال کو چوم لیا۔ میرے بدن میں کرنٹ سا ڈوڑ گیا لیکن مجھے اچھا بھی بہت لگا تھا
    میں کسمسائی۔۔۔ میں نے کہا نہیں جمشید یہ مناسب نہیں ہے۔۔ پلیز چلو ابھی یہاں سے۔۔۔
    میں جانے کے لیے مڑی تو جمشید نے ایک ہلکا سا جھٹکا میرے پکڑے ہاتھ کو دیا اور میں سیدھی اس کے کشادہ سینے سے جا لگی۔اگلی ہی لمحے میں اس کی بانہوں میں تھی۔ میرے گرد اس نے اپنے بازو کس لیے تھے۔ اس نے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ دئیے۔ اب میرے نرم و نازک گلابی سے ہونٹ اس کے مردانہ ہونٹوں کی قید میں تھے۔ جمشید نے پہلے تو دھیرے دھیرے میرے ہونٹوں کو چومنا شروع کیا اور پھر انہیں چوسنے لگا۔ مزے سے میری آنکھیں بند ہونے لگیں۔ اس کے ہاتھ دھیرے دھیرے میرے کمر پر سرکتے ہوئے اسے سہلا رہے تھے۔ میرے بدن میں جیسے آگ سی لگی جا رہی تھی۔ میرا منہ تو بالکل خشک ہو چکا تھا
    میں اپنی بیوی (شازیہ) سے اس کی پہلی پہلی کس کی کہانی بہت انہماک سے سن رہا تھا۔ حیرت کی بات یہ کہ یہ سب سنتے ہوئے مجھے غصہ بالکل بھی نہیں آ رہا تھا۔ بلکہ اس کی زبان سے یہ سب سنتے ہوئے مجھے اچھا لگ رہا تھا۔ میرا لنڈ اب پینٹ کی قید سے آزاد تھا۔ میں اسے ہاتھوں سے سہلا رہا تھا۔ میں مزید کریدنا چاہ رہا تھا ۔ میں بولا
    عظمی: اچھا ۔۔۔۔ پھر کیا ہوا آگے
    شازیہ : ہنستے ہوئے۔۔۔۔ شکر ہے آگے کچھ نہیں ہوا۔ اتنے ہی میں کسی کی دور سے آنے کی آواز آنے لگی میں فورا پیچھے ہٹ گئی۔ شرماتے ہوئے میں نے مین کیمپ کی جانب ڈور لگا دی۔ وہ بیچارہ میرے پیچھے پیچھے ڈوڑتا آیا۔ آوازیں دیتا رہا ۔۔ بات تو سنو۔۔۔ رکو تو۔۔۔ میں ایک لمحے کے لیے رکی۔ اسے ٹھینگا دکھایا، زبان چڑھائی اور پھر ڈوڑ لگا دی
    عظمی: ہاہاہا۔۔۔ ارے پھر اس کا مطلب ہے کہ اس دن تم چدتے چدتے بال بال بچی ہو۔ پھر اس نے کب اور کیسے چودا تمہیں؟
    شازیہ:جی نہیں! ایسا کچھ بھی نہیں ہوا اس کے بعد بھی۔ میں اپنے شوہر تک پہنچتےتک بالکل کنواری ہی تھی۔
    عظمی: ارے یار تم بھی پتا نہیں کس زمانے کی لڑکی ہو۔ کیا جمشید نے تمہیں بس ایک ہی بار کس کیا ۔ اس کے بعد نہیں؟
    شازیہ: نہیں تو۔۔ اس کے بعد بھی ہم نے بہت بار کسنگ کئی۔۔۔ متعدد مرتبہ اسے نے آفرز بھی کیں کہ کہیں باہر چلتے ہیں لیکن میں نے اسے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ کسنگ سے زیادہ اسے کچھ بھی نہیں ملے گا ۔ کم از کم شادی تک
    عظمی ہنستے ہوئے: ارے یار اب تو شادی ہو چکی ہے تمہاری۔۔۔ اب تو دے دو اسے اپنی چوت
    شازیہ: ہاہاہہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔ ڈفر ۔۔ میں اپنی نہیں بلکہ ہم دونوں کی شادی کی بات کر رہی تھی کہ مجھ سے شادی کرو گے تو کچھ ملے گا۔ وگرنہ نہیں
    مجھے شازیہ کی زبانی یہ سب سنتے ہوئے بہت خوشی ہوئی کہ میری بھولی سی بیوی بھی کسی کے ساتھ انوالو رہ چکی ہے شادی سے پہلے۔۔۔۔ پھر میں نے اس سے پوچھا
    عظمی: تو اب شادی کے بعد بھی کوئی دوست بنایا یا نہیں؟
    شازیہ:ارے نہیں! آخر شادی کے بعد ضرورت ہی کیا ہے کسی اور دوست کی
    عظمی:ارے تم بھی کمال کرتی ہو۔۔ شادی کے بعد بھی ہم اپنے دوست کے ساتھ وہ سب کچھ بھی کر سکتے ہیں جو کہ ہم اپنے شوہروں کے ساتھ نہیں کر سکتے
    شازیہ: وہ کیسے
    عظمی:اچھا یہ بتاؤ کہ تم نے کبھی پورن موویز دیکھی ہیں؟
    شازیہ: ہاں دیکھی ہیں یونیورسٹی لائف میں
    شازیہ کے اس جواب سے بھی مجھے ایک زودار جھٹکا لگا۔ کیونکہ میرے پوچھنے پر متعدد دفعہ ہی وہ اس بات سے انکاری ہو چکی ہے۔ اس کے مطابق ایسی گندی موویز دیکھنا اسے کسی طور مناسب نہیں لگتا۔ اور نا وہ کبھی دیکھ سکتی ہے۔۔۔۔۔ لیکن وہ تو اوائل جوانی میں ہی بہت دیکھ چکی تھی
    عظمی:اچھا یہ بتاو کہ ان موویز میں جس طرح لڑکیاں اوپن ہو کر مستی اور سیکس کرتی ہیں لڑکوں کے ساتھ ۔۔۔ کیا تم اپنے شوہر کے ساتھ ویسے کر سکتی ہو؟
    شازیہ:نہ بابا نہ۔۔۔ میں ناصر(شازیہ کا شوہر) کے ساتھ ایسا سوچ بھی نہیں سکتی۔۔۔۔ کبھی بھی نہیں
    عظمی:کیوں بھئی! ناصر کے ساتھ ایسا کیوں نہیں کر سکتی؟
    شازیہ: ارے یار موویز میں تو لڑکیاں منہ میں بھی لیتی ہیں اور بھی پتا نہیں کتنے گندے گندے کام کرتی ہیں۔ اگر میں اس کے ساتھ ایسا کروں گی تو وہ پتا نہیں کیا سمجھے گا کہ میں کس قدر گندی لڑکی ہوں۔۔ وغیرہ وغیرہ
    عظمیٰ: ارے یار یہی تو بات ہے جس کی وجہ سے ہمیں ایک بوائے فرینڈ کی ضرورت ہوتی ہے جس کے ساتھ ہم جیسی چاہیں حرکت کر سکتے ہیں ۔ اس میں نا ہماری کوئی بے عزتی ہو سکتی ہے اور نا ہی کچھ ایسا ویسا۔۔۔۔ بلکہ اس طرح سے ہم اپنی زندگی کو انجوائے کر سکتے ہیں
    شازیہ:ہاں یار بات تو تمہاری بھی ٹھیک ہے۔ مگر یار اپنے شوہر کو پتا چل جائے تو کتنی بُری بات ہے۔ اور ویسے بھی میں تو گھر میں ہی رہتی ہون سارا وقت
    عظمیٰ: ہاں یہ بات بھی تمہاری درست ہے۔ تم اپنے دائیں بائیں نظر رکھنا نا کوئی نا کوئی تو مل ہی جائے گا اور اگر نا ملا تو میں اپنا بوائے فرینڈ بھیج دوں کیا تمہیں چودنے کے لیے۔۔۔۔۔
    شازیہ: ہنستے ہوئے بولی۔۔۔۔ نہیں رہنے دو۔ مجھے نہیں چاہیے ایسا بوائےفرینڈ جو کہ رہتا بھی اتنی دور ہو کہ دوبارہ ملے بھی نا۔۔۔ ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا
    میں بھی ہنسنے لگا۔ شازیہ بولی اچھا یار اب ہم تھوڑا کام کر لیتے ہیں بعد میں بات کریں گے۔ میں بھی کال بند کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے بائے بول کر کال کو ڈراپ کر دیا۔ پھر سیدھا باتھروم کی طرف جا کر اپنے لنڈ کا سارا پانی نچوڑا اور واپسی آ کر کام میں مگن ہو گیا
    شام کو میں گھر گیا تو جیسے ہی میں نے شازیہ کو دیکھا تو اس کی کہی ہوئی ساری باتیں میرے ذہن میں ریپیٹ ہونے لگیں۔ میں کبھی اس کے ہونٹوں کو دیکھتا جسے کسی دور میں اس کے بوائے فرینڈ نے اپنے ہونٹوں کی قید میں لیا تھا۔ کبھی میری نظر اس کی کمر پر پڑتی جس پر اس کے ہاتھ لگے تھے کبھی۔۔ جیسے جیسے میں سوچتا جا تا میرا لنڈ قابو سے باہر ہوتا جاتا اتنے میں شازیہ میرے لیے پانی لے آئی اور بولی
    شازیہ: آج خیریت تو ہے ،کن سوچوں میں گم ہیں ۔۔ سب ٹھیک تو ہے نا
    میں فورا بولا ۔۔۔ نہیں کچھ نہیں ہوا۔ سب ٹھیک ہے۔ کام کے لوڈ کی وجہ سے تھکاوٹ کافی ہو چکی ہے
    شازیہ: اچھا میں آپ کے لیے چائے بنا کر لاتی ہوں
    رات کو کھانا کھانے کے بعد شازیہ نے بتایا کہ کل سکول میں فنگشن ہے جس میں بچوں کے ساتھ ساتھ والدین کو بھی بلایا ہے۔ آپ نے یاد سے جانا ہے
    نہیں یار تم چلی جانا۔ میں تو نہی جا سکوں گا
    شازیہ: آپ بھی تو جایا کریں۔ ہر دفعہ سکپ کر دیتے ہیں آخر آپ کا بھی تو بیٹا ہے نا
    میں اس کی بات سن کر ہنسنے لگا۔ اچھا یار تم چلی جانا نا۔ میں بعد میں دیکھوں گا اگر پہنچ سکا تو وقت پر پہنچ جاؤں گا۔
    رات کو بھی میں خود کو شازیہ سے دور نا رکھ سکا۔ جیسے ہی میں نے اسے اپنی جانب کھینچا اور اس کی چھاتی دبانے لگا تو وہ بولی۔۔۔۔۔
    شازیہ: خیریت تو ہے۔۔۔ آجکل تو آپ کا روز موڈ بن جاتا ہے۔ ابھی کل ہی تو کیا تھا نا
    میں شازیہ کے پاجامے کو نیچے کرتے ہوئے بولا ۔۔ بس یار آجکل تم پر پیار بھی تو بہت ہی زیادہ آ رہا ہے۔ اور ایک بار پھر شازیہ کی دھانسو چدائی شروع کر دی۔ شروع میں تو شازیہ نے بالکل بھی تعاون نہیں کیا مگر جیسے جیسے وہ گرم ہوتی گئی اس نے بھی ساتھ دینا شروع کر دیا۔ لیکن محدود رہتے ہوئے
    اگلی صبح شازیہ نہانے کے بعد میک اپ کر رہی تھی اور میں بیڈ پر بیٹھا اسی کی طرف ہی دیکھ رہا تھا۔شازیہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑی اپنا میک اپ فائنل کر رہی تھی۔اس وقت شازیہ کے بدن پر ایک سیاہ رنگ کا برا اور فٹنگ میں لیگی تھی وہ بھی سیاہ رنگ کی۔ ۔۔۔ اس پوز میں سیکسی انداز میں کھڑی وہ بیحد پیاری اور ہاٹ لگ رہی تھی۔ مجھ سے رہا ہی نہیں گیا اور میں چھلانگ مار کر اس کے پیچھے جا کھڑا ہوا۔ کھڑا ہوتے ہیں اپنے دونوں ہاتھوں کو اس کی بغلوں سے گزار کے اس کے دونوں مموں کو برا کے اوپر سے ہی سہلانے لگا۔۔ آہستہ آہستہ دباتے ہوئے اپنے ہونٹوں کو اس کی گردن پر رکھ دیا۔ میرے ہاتھ شازیہ کی برا کے کپوں کے اندر جاتے ہوئے اس کے نپلز کو سہلانے لگے
    Last edited by Story-Maker; 25-11-2017 at 08:12 AM.

  16. The Following 7 Users Say Thank You to Mind007 For This Useful Post:

    abkhan_70 (23-11-2017), anjumshahzad (24-11-2017), faisalusman (10-12-2017), Irfan1397 (23-11-2017), shubi (12-12-2017), Story-Maker (25-11-2017), teno ki? (09-12-2017)

  17. #29
    Irfan1397's Avatar
    Irfan1397 is offline super moderator
    Join Date
    Sep 2011
    Location
    Sahiwal
    Posts
    7,501
    Thanks
    26,080
    Thanked 38,243 Times in 7,300 Posts
    Time Online
    1 Month 2 Weeks 3 Hours 56 Minutes 6 Seconds
    Avg. Time Online
    28 Minutes 49 Seconds
    Rep Power
    3126

    Default

    بہت دلچسپ اور لاجواب اپڈیٹ

  18. The Following User Says Thank You to Irfan1397 For This Useful Post:

    anjumshahzad (24-11-2017)

  19. #30
    Story-Maker's Avatar
    Story-Maker is offline Super Moderators
    Join Date
    Mar 2016
    Location
    Pakistan
    Age
    24
    Posts
    3,734
    Thanks
    1,687
    Thanked 4,120 Times in 2,143 Posts
    Time Online
    1 Week 4 Days 23 Hours 7 Minutes 7 Seconds
    Avg. Time Online
    25 Minutes 40 Seconds
    Rep Power
    835

    Default

    Quote Originally Posted by Irfan1397 View Post
    بہت دلچسپ اور لاجواب اپڈیٹ
    yes

  20. The Following 2 Users Say Thank You to Story-Maker For This Useful Post:

    anjumshahzad (30-12-2017), maj (09-12-2017)

Page 3 of 6 FirstFirst 123456 LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •