Page 1 of 16 1234511 ... LastLast
Results 1 to 10 of 155

Thread: شباب حیات

  1. #1
    pakdragon's Avatar
    pakdragon is offline Aam log
    Join Date
    Aug 2015
    Age
    22
    Posts
    28
    Thanks
    0
    Thanked 12 Times in 11 Posts
    Time Online
    38 Minutes 34 Seconds
    Avg. Time Online
    2 Seconds
    Rep Power
    115

    Redarrow شباب حیات

    ہیلو دوستو کیسے ہو امید کرتا ہوں سب ٹھیک ہیں ہی کہانی میری خود کی تخلیق ہے اس کے سارے کردار مرکزی اور صرف سوچ پر مبنی ہیں اک کہانی کے چھ حصے ہیں یہ کہانی ڈر خوف اور سکس کے گرد گومے گی امید کرتا ہوں اپکو پسند اے گی
    ذیادہ وقت ضائع نہ کرتے ہوے کیانی کی ترف اتا ہوں
    دسمبر کی اخری رات تھی ہوا میں خنکی بھری ہوئی ہوئی تھی گاوں سے دور اک سایہ کالے کپڑوں میں ملبوس خاموشی سے قبرستان کی طرف جا رہا تھا اس کی انکھوں میں اج اک عجیب سی چمک تھی جیسے اس کو اپنی زندگی کا مقصد ملنے جا رہا ہے۔دور کہی سے کسی جنگلی جانور کی اواز ماحول کو اور زیادہ خطرناک بنا رہی تھی وہ سایہ خاموشی سےقبرستان میں داخل ہوا اور اک پرانی قبر کے پاس اپنی مخصوص جگہ پر حصار بنا کر بیٹھ گیا اور کسی عمل میں مصروف ہو گیا
    اچانک اک طرف سے ایک طوفان اٹھا اور اک قبر کے کھلنے کی اواز ائی اس میں سے اک بھیانک ڈائن باہر نکلی اس کے جسم سے جگہ جگہ سے خون بہ رہا تھا اس کے بالوں کی جگہ سانپ پھنکار رہے تھے اس کے مموے کسی جوان دوشیزہ کی طرح سامنے کھڑے تھے اس کی پھدی کالے بالوں سے بھری ہوئی تھی اور اس کے آتے ساتھ ہی ماحول میں اک منی کی ناگوار سی بدبو پھیل گئی اس نے اس حصار میں موجود شخص کو گھورااور ساتھ ہی اس کوچیخ کر کہا چلا جا اے ادم ذاد کیوں بے موت مرنا چاہتا ہے لیکن اس کی بات کا اس پر کوئی اثر نا ہوا اور وہ خاموشی سے اپنے کام میں مصروف رہا اس بات کو دیکھ اس ڈائن کو غصہ آ گیا اس بالوں والے سانپ زور زور سے پھنکارنے لگے اس نے کچھ پڑھ کر اپنی پھدی پر ہاتھ پھیرا تو اس کی پھدی سے اک بھیانک سی مخلوق نکل کر اس حصار میں بیٹھے شخص پر حملہ اور ہوئی لیکن جیسے ہی حصار سے ٹکرائی اچانک دھماکے کے ساتھ غائب ہو گئی۔اپنا حملہ ناکام دیکھ کر اس کی انکھوں میں انگارے جلنے لگے اس نے پوری طاقت سے حصار سے اس شخص کو نکالنے کے لیے لپکی مگر جیسے ہی حصار سے ٹکرائی اس کے پورے بدن میں اگ لگ گئی اور اس کی بھیانک چیخوں سے پورا قبرستان دہل اٹھا پوری رات کوئی نہ کوئی مخلوق اسے ستاتی رہی مگر وہ اپنی جگہ سے نہ ہلا آخر وہ وقت آ گیا جس کے لہے اس نے اتنی مشقت برداشت کی تھی
    اچانک اس کے سامنے اک قبر روشن ہوئی اور اس میں اک دروازہ بن گیا اس میں سے جو باہر نکلی اس کو دیکھ اس کے دل نے اس کے ساتھ بغاوت کرنا شروع کر دیا سامنے حسن کی ملکہ اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ کھڑی تھی اس کے پیچھے کچھ اور لڑکیاں بھی تھیں مگر ملکہ حسن کی بات اور تھی اس کے ہونٹ موتیوں جیسے اس کی انکھیں جھیل سی گہری اس کے چہرے کو دیکھ چاند بھی شرما جاے اس کی صراحی جیسی گردن دیکھ کسی کی بھی سانسیں رک سکتی ہیں اس کے نیچے کا عالم دیکھنا کسی انسا ن کے بس کی بات نھی سونے جیسا بدن اس کی چھاتیاں 34 سائز کی گول مٹول ان ابھاروں کو چھو لینے سے ہی زندگی کا مقصد پورا ہو جاے اس کی پتلی بل کھاتی کمر کسی ہرن سے ملتی ہے اس کے ناف کی گہرائی ایسے جیسے زندگی اس میں فنا ہو رہی ہو اس کے نیچھے اس کی بنا بالوں کے بن چدی پھدی ایسے جیسے کسی نے قلم سے خوبصورت لائن لگائی ہو اس کی سڈول ٹانگیں ایسے جیسے سونے کی بنی ہوں غرض دنیا کے حسن کی ملکہ میرے سامنے کہڑی تھی
    اتے ساتھ اس نے اس شخص کو پکارا
    ملکہ: بولو اے انسان کیوں بلایا
    انسان: اس نا چیز کا نام علی ہے اور ملکہ حسن سے ملاقات کا طلبگار ہے
    ملکہ: بولو انسان ہم تمہارے سامنے کھڑے ہیں مانگو کیا مانگتے ہو کیوں کے تم نے تمام مشکلات کا بخوبی مقابلہ کیا اور ہمیں خوش کیا مانگو جو مانگنا ہے
    علی: ملکہ میں شباب حیات کا طلبگار ہوں
    ملکہ نے مسکرا کر کہا ہمیں پتہ تھا تم مرد زاد اس کے لیے ہی مجھے بلا سکتے ہو
    علی: ملکہ اگر اپ جانتی ہیں تو کیوں مجھ ناچیز کا امتحان لے رہی ہیں
    ملکہ نے مسکرا کر اس کو شباب حیات کا پیالہ دیا علی نے اس کو بڑی عقیدت سے پی لیا
    اخری گھونٹ پیتے ہی علی کو اک جھٹکا لگا اور اس کے جسم میں اک عجیب سی ہلچل ہونے لگی ایسا لگا اس کے جسم میں طاقت کا پہاڑ پھٹ رہا ہے اس کے ساتھ ہی ملکہ جانے لگی اور اس نے علی کو اخری بات بولی تم نے زندگی کی سب سے بڑی غلطی کر دی ہے اب تیرے بہت سے دشمن بنے گے مگر مجھے امید ہے تو ثابت قدم رہے گا
    زندگی میں جس دن تم نے کسی مرد کے ساتھ سکس کیا اس دن تیری یہ طاقت ختم ہو جاے گی ان الفاظ کے ساتھ ملکہ غائب ہو گئی اور علی بے حوش ہو کر گر گیا
    انکھ کھولنے پر علی اٹھا اور گھر کی طرف چل پڑا مگر پتہ نہیں کیوں علی کچھ بوجھل بوجھل لگ رہا تھا گھر آ کر علی نے باتھ میں گھس کر نہانا شروع کیا مگر اج علی کے جسم میں نمایاں تبدیلیاں تھیں جو اس کی بھی محسوس ہو رہی تھیں
    Last edited by Story-Maker; 16-07-2017 at 10:23 PM.

  2. #2
    saqi870 is offline Premium Member
    Join Date
    Jan 2012
    Posts
    88
    Thanks
    197
    Thanked 167 Times in 71 Posts
    Time Online
    5 Days 23 Hours 55 Minutes 31 Seconds
    Avg. Time Online
    3 Minutes 57 Seconds
    Rep Power
    15

    Default

    Start kafi acha lag rha hai.agay dekhtay hain kya hota hai.aur please is story ko complete zror karna.q k incomplete story maza kharab kar deti hai.......

  3. #3
    Story-Maker's Avatar
    Story-Maker is offline Super Moderators
    Join Date
    Mar 2016
    Location
    Pakistan
    Age
    24
    Posts
    3,723
    Thanks
    1,686
    Thanked 4,044 Times in 2,094 Posts
    Time Online
    1 Week 4 Days 21 Hours 6 Minutes 50 Seconds
    Avg. Time Online
    25 Minutes 40 Seconds
    Rep Power
    834

    Default

    [SIZE=5]
    اچھا آغاز ہے
    امید کرتا ہوں آپ جلد نئی قسط لے کر دوبارہ حاضر ہوجائیں گے
    اور اپنی لفظی غلطیوں کو دوبارہ نہیں دہرائیں گے[
    /SIZE]

  4. #4
    zeem8187's Avatar
    zeem8187 is offline Premium Member
    Join Date
    Jan 2010
    Location
    London
    Posts
    531
    Thanks
    73
    Thanked 1,299 Times in 452 Posts
    Time Online
    1 Week 17 Hours 16 Minutes 54 Seconds
    Avg. Time Online
    5 Minutes 3 Seconds
    Rep Power
    63

    Default

    آغاز اچھا ہے
    8187

  5. #5
    Panther_Pk is offline Aam log
    Join Date
    Dec 2015
    Posts
    10
    Thanks
    7
    Thanked 15 Times in 6 Posts
    Time Online
    1 Day 9 Hours 18 Minutes 9 Seconds
    Avg. Time Online
    2 Minutes 35 Seconds
    Rep Power
    5

    Default


    Nice start jee...
    Start se to story interesting lag rahi hai. Update aany k bad pata chaly ga k mera khayal kitna thek hai....
    Idea b naya lag raha hai shabab e hayat.

  6. #6
    farhan403's Avatar
    farhan403 is offline sex ka dewan
    Join Date
    Oct 2015
    Location
    attock
    Posts
    352
    Thanks
    283
    Thanked 488 Times in 235 Posts
    Time Online
    4 Days 17 Hours 42 Minutes 29 Seconds
    Avg. Time Online
    8 Minutes 8 Seconds
    Rep Power
    41

    Default

    Start to zaberdast ha ab dakhty hain agay kia hota ha but update plz on time

  7. #7
    teno ki? is offline Premium Member
    Join Date
    Feb 2012
    Posts
    317
    Thanks
    390
    Thanked 530 Times in 231 Posts
    Time Online
    1 Week 3 Days 2 Hours 27 Minutes 20 Seconds
    Avg. Time Online
    6 Minutes 42 Seconds
    Rep Power
    39

    Default

    بھت خوب دوست
    جاندار سٹوری لگ رھی ھے
    اپڈیٹ کا انتظار رھے گا
    شکریہ

  8. #8
    Irfan1397's Avatar
    Irfan1397 is offline super moderator
    Join Date
    Sep 2011
    Location
    Sahiwal
    Posts
    7,500
    Thanks
    26,079
    Thanked 38,234 Times in 7,299 Posts
    Time Online
    1 Month 2 Weeks 2 Hours 52 Minutes 30 Seconds
    Avg. Time Online
    28 Minutes 52 Seconds
    Rep Power
    3126

    Default

    bohat he zaberdast start hai kahani ka. update ka wait rahy ga.

  9. #9
    farhan403's Avatar
    farhan403 is offline sex ka dewan
    Join Date
    Oct 2015
    Location
    attock
    Posts
    352
    Thanks
    283
    Thanked 488 Times in 235 Posts
    Time Online
    4 Days 17 Hours 42 Minutes 29 Seconds
    Avg. Time Online
    8 Minutes 8 Seconds
    Rep Power
    41

    Default

    Yaar kahani ka itna acha aghaz ker k kahan ghaib ho gae ho kahen malaka husan ki gand marne to nahe nikal gae

  10. #10
    pakdragon's Avatar
    pakdragon is offline Aam log
    Join Date
    Aug 2015
    Age
    22
    Posts
    28
    Thanks
    0
    Thanked 12 Times in 11 Posts
    Time Online
    38 Minutes 34 Seconds
    Avg. Time Online
    2 Seconds
    Rep Power
    115

    Redarrow

    علی نے نہا کر جیسے ہی شیشہ دیکھا تو خود کو دیکھ کر دنگ رہ گیا اتنا حسن کے وہ خود اپنے اپ میں کھو گیا علی نے خود کو نہارا اور بیگ اٹھا کر کالج چلا گیا اج کالج میں سب اس کو اتنا بدلا بدلا دیکھ کر حیران تھے ان میں سب سے خاص علی کی انکھیں تھی جو کسی کو بھی اپنا دیوانہ بنا لینے کے لیے کافی تھیں اج لڑکیوں میں علی کافی مشہور تھا ہر کوئی اس کی انکھوں کی بات کر رہا تھا
    صبا سارا دن علی کا نام سن سن کر تھک گئی تھی اس کو پتہ نہیں کیوں علی سے سخت نفرت تھی کالج میں اس کی اتنی تعریف اس کو غصہ دلا رہی تھی حد تب ہوئی جب رمشاء نے بھی علی کی تعریف کی اس وقت وہ اس پر پھٹ پڑی
    صبا: بکواس بند کرو اپنی کیا صبح سے علی علی لگا رکھا ہے ارو خاص طور پر تم رمشاء تم کو اج کیا ہوا اس کی بڑی تعریف کر رہی ہو یاد ہے نہ اس نے پورے کالج میں تمہیں زلیل کیا تھا
    رمشاء: صبا بات وہ نہیں ہے اس کی انکھیں جھیل سی گہری ہو گئی ہیںجب سے وہ کراچی سے ایا ہے بت نکھرا نکھرا سا ہے اک عجیب سی کشش اآ گئی ہے اس میں
    صبا : خاموش اک لفظ بھی نہیں تیری عزت کی وجہ سے میںے اس کو تھپڑ مارا تھا اور اج تم کو اس میں کشش نظر اا رہی ہے
    رمشاء: مجھے بہت افسوس ہو رہا ہے میںے کیسے اس کو زلیل کیا اس نے صرف دوستی کے لیے ہی تو ہاتھ بڑھایا تھا مگر ہم نے اس کو اس کی اوقات گھٹا اور ناجانے کیا کیا کہا مجھے اب افسوس ہو رہا ہے
    صبا : اتنا ہی دکھ ہو رہا ہے تودفع ہو جاو اس کے پاس میرے پاس کیا ہے
    رمشاء: جانے دو یار مینے تو بات کی ہے تم اتنا کیوں بھڑک گئی جاو نہیں کرتی اس کا ذکر اب خوش اس کے ساتھ ہی رمشاء نے اس کے بائیں ممے کو زور سے مسل کر انکھ ماری جس سے صبا سسک کر رہ گیئ اور رمشاء کو مارنے کے لیے اس کے پیچھے دوڈی
    علی اج سب کی باتوں کا محور رہا کالج کی لڑکیاں کیا ٹیچرز بھی اس پر فدا تھیں سارا دن علی کو دیکھنے کے بعد اخر میتھ ٹیچر ریحانہ سے رہا نہ گیا اور اپنی پھدی کی اگ کے ہاتھوں مجبور ہو کر انہوں نے علی کو بولا
    ریحانہ: علی تم دو ماہ سے کالج کیوں نہیں اے
    علی : مس میں اپنے گھر گیا تھا کراچی
    ریحانہ: تمہیں پتہ ہے امتحان میں 3 ماہ باقی ہیں کیسے کرو گے سب پڑھائی میں تم پہلے ہی بہت کمزور ہو
    علی : مس میں کوشش کرو گا سب کور ہو جاے
    ریحانہ: علی تم کالج ٹائم کے بعد میری بات سن کر جانا میں تمہیں کچھ نوٹس دوں گی
    اس کے علاوہ تم اک گھنٹہ میرے گھر ٹیوشن لیا کرو گے
    علی : جی مس ٹھیک ہے
    میڈم ریحانہ کی عمر 29 سال ہے مگر ان کی ابھی شادی نہیں ہوئی ان کے مموں کا سائز 36 ہے اور بہت ڈیپ گلے پھنتی ہیں علی سمجھ گیا اب اسے کیا کرنا ہے
    کرتے کرتے کالج سے چھٹی ہوئی اور وہ میڈم ریحانہ کے ساتھ ان کے گھر چل پڑا سارے رستے ریحانہ علی کو گھورتی رہی اور علی اس سب کے مزے لیتا رہا گھر میں مس اکیلی ہی رہتی تھی ان کی فیملی حیدر آباد میں تھی میڈم نے علی کو اندر بلایا اور بیڈ روم میں لے جا کر بیٹھنے کو بولا اور علی سے پوچھا کیا لو گے علی نے انکار کیا تو بولی اسے اپنا گھر ہی سمجھو شرماو مت یہا کوئی نہیں اتا میں اس گھر میں اکیلی رہتی ہوں تم ارام سے بیٹھو علی سمجھ گیا ان کے دماغ میں کیا چل رہا ہے علی نے کہا مس اپ ٹھنڈا ہی لے آئیں گرم ماحول بھی بہت ہو رہا ہے ریحانہ نے کہا میں سمجھ گئی کیا لانا ہے اور کس طرح ماحول کو ٹھنڈا کرنا ہے علی بولا جب سب کچھ اپنے پھلے سے ہی طے کیا ہوا ہے تو دیر کس بات کی
    ریحانہ بولی پھلے میں فریش ہو لوں علی بولا میں بھی فریش ہونا چاھتا ہوں کیوں نا مل کر ہی ہو لیں علی کی بات سن کر ریحانہ مسکرائی اور بعلی آ جاو مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے علی نے جلدی سے کپڑے اتارے اور باتھ میں گھس گیا اندر کا ماحول کافی خوبصورت تھا ریحانہ کپڑے اتارے علی کا انتظار کر رہی تھی علی نے جاتے ساتھ اس کے ہونٹوں پر حملہ کر دیا اور ہاتھوں سے اس کے نرم نرم مموں کو زور سے مسلنا شروع کر دیا ریحانہ بھی بھرپور ساتھ دےرہی تھی اس کا اس نے شاور کھول دیا اور اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر اس کو خود سے ملا لیا اس کے 36 سائز کے ممے علی کی کشادہ چھاتی میں دبنے لگے پانی دو جسموں کی اگ کو مٹانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا کچھ دیر نہانے کے بعد دونوں ننگے ہی کسنگ کرتے باہر اے اور بیڈ پر لیٹ گیے علی نے دوبارہ پوزیشن سنبھالی اور اک ہاتھ اس کی پھدی پر رکھ کر اس کی گرمی چیک کرنے لگا اور دوسرے ہاتھ سے اس کے مموں کو اور نرم کرنے لگا کچھ دیر بعد علی نے پوزیشن بدل کر 69 میں اا گیا ریحانہ کے سامنے جب علی کا لن ایا تو ریحانہ کو احساس ہوا اس نے غلط بندے کو چھیڑا ہے علی کا لن 9 انچ لمبا اور 3 انچ موٹا ہے جو کسی بھی پھدی کو پھدا بنانے کے لیے کافی ہے
    Last edited by Story-Maker; 25-07-2017 at 12:40 AM.

Page 1 of 16 1234511 ... LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •