Page 11 of 18 FirstFirst ... 789101112131415 ... LastLast
Results 101 to 110 of 174

Thread: (سرفروش 3 (مشن اسرائیل

  1. #101
    imranmeo's Avatar
    imranmeo is offline Khaas log
    Join Date
    Dec 2015
    Location
    pakistan
    Age
    35
    Posts
    67
    Thanks
    798
    Thanked 74 Times in 40 Posts
    Time Online
    3 Days 16 Hours 15 Minutes 1 Second
    Avg. Time Online
    5 Minutes 35 Seconds
    Rep Power
    10

    Default

    la jawab

  2. The Following 3 Users Say Thank You to imranmeo For This Useful Post:

    abba (09-01-2018), farhan403 (11-01-2018), shubi (08-06-2018)

  3. #102
    farhan403's Avatar
    farhan403 is offline sex ka dewan
    Join Date
    Oct 2015
    Location
    attock
    Posts
    395
    Thanks
    333
    Thanked 568 Times in 264 Posts
    Time Online
    5 Days 5 Hours 49 Minutes 20 Seconds
    Avg. Time Online
    7 Minutes 24 Seconds
    Rep Power
    45

    Default

    Writer g kio update ki umeed raken is vcand py.........

  4. The Following User Says Thank You to farhan403 For This Useful Post:

    shubi (15-01-2018)

  5. #103
    hard.target's Avatar
    hard.target is offline Premium Member
    Join Date
    Dec 2013
    Location
    Pakistan , India , UAE , Korea , Taiwan
    Posts
    284
    Thanks
    294
    Thanked 1,527 Times in 259 Posts
    Time Online
    5 Days 21 Hours 19 Minutes 35 Seconds
    Avg. Time Online
    5 Minutes 5 Seconds
    Rep Power
    993

    Default

    جلد ہی نیو اپڈیٹ ۔۔۔

  6. The Following 2 Users Say Thank You to hard.target For This Useful Post:

    mohidrao (11-06-2018), shubi (08-06-2018)

  7. #104
    teno ki? is offline Premium Member
    Join Date
    Feb 2012
    Posts
    354
    Thanks
    506
    Thanked 584 Times in 261 Posts
    Time Online
    1 Week 3 Days 15 Hours 15 Minutes 12 Seconds
    Avg. Time Online
    6 Minutes 31 Seconds
    Rep Power
    44

    Default

    بہت شدت سے منتظر ہوں

  8. The Following 2 Users Say Thank You to teno ki? For This Useful Post:

    hard.target (17-06-2018), shubi (08-06-2018)

  9. #105
    hard.target's Avatar
    hard.target is offline Premium Member
    Join Date
    Dec 2013
    Location
    Pakistan , India , UAE , Korea , Taiwan
    Posts
    284
    Thanks
    294
    Thanked 1,527 Times in 259 Posts
    Time Online
    5 Days 21 Hours 19 Minutes 35 Seconds
    Avg. Time Online
    5 Minutes 5 Seconds
    Rep Power
    993

    Default

    [right]


    رات کے 9 بجے کا وقت تھا ۔ ڈائننگ ٹیبل سجی ہوئی تھی ۔۔جہاں اسرائیلی فوج کے تمام بڑے افسران جمع تھے ۔۔۔ یہ سب بارڈر کی اسپیشل فورس یمام کے بڑے جنرلز تھے ۔۔اور سامنے ایک مین کرسی پر جنرل ہارزی حالوی بیٹھا خاموشی سے کھانا کھا رہا تھا۔۔ ۔۔ آج اس کا بارڈر کا دورہ اور جنرل سے میٹنگ تھی ۔۔۔جس کے آخر میں وہ اب ڈنر پر بیٹھا ہوا تھا۔۔۔۔۔ کچھ ہی دیر میں کھانا ختم ہوا اور وہ سلیوٹ کی آوازوں میں چلتا ہوا اپنے کمرے کی طرف آنے لگا۔۔۔۔۔بارڈر فورس کا سیکورٹی انچارج جنرل حیفی اس کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔۔۔ کمرے کے دروازے پر الوداعی سلیوٹ اور اند ر کا اشارہ کرتے ہوئے جنرل حیفی رک گیا ۔۔۔۔اور دروازہ بند ہونے کا انتظار کرنے لگا۔۔۔جنرل ہارزی نے اندر داخل ہو کر دروازہ بند کرد یا ۔۔۔۔سامنے ہی اس کی امید کے مطابق منظر تھا۔۔۔۔۔۔ یہ ایک عرب دوشیزہ تھی۔۔۔ دونوں ہاتھ پیچھے باندھ کر منہ پر ٹیپ چپکائی ہوئی تھی۔۔۔۔چہرے کی سرخ اور نقش اس کے مزاج کی گرمی اور تیزی کو ظاہر کررہے تھے ۔اس کے جسم کا نشیب و فراز سینے کی حرکت کے ساتھ واضح ہو رہےتھے۔۔۔جوانی میں قدم رکھنے والی یہ دوشیزہ قریبی گاؤں سے کل رات ہی اغوا کی گئی تھی۔۔۔۔۔جنرل نے دلچسپ نگاہوں سے اسے دیکھا ۔۔۔اور اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے لگا۔۔۔۔ساتھ ہی فریج سے بوتل نکالنے کے بعد سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی ۔۔۔۔اپنے اوپری بدن کو عریاں کرنے کے بعد وہ لڑکی کی طرف بڑھا ۔۔۔۔۔اور اسے گود میں اٹھا کر بیڈکی طرف لایا اور اچھال دیا۔۔۔لڑکی کے بند منہ سے مم ۔اوں کی مدھم آواز نکلی ۔۔۔۔جنرل اب اس کے اوپر آتے ہوئے اس کے منہ سے ٹیپ اتارنے لگا۔۔۔۔۔۔۔ٹیپ اتارتے ہی لڑکی نے ایک تیز سانس کھینچی اور اگلے ہی لمحے اس کے منہ سے بے تحاشہ گالیاں نکلنے لگیں۔۔۔۔جنرل کا بھار ی ہاتھ اس کے منہ پر آن جما ۔۔۔۔ناک اور منہ دونوں بند کئے گئے تھے ۔۔۔۔۔لڑکی کسمسانے لگی ۔۔۔جنرل نے اپنی بھاری آواز میں اسے چپ کرنے کا کہا۔۔۔۔اور ساتھ ہی ٹیبل پر سے شراب کے گلاس کو پکڑکے کے لڑکی پر گرانے لگا۔۔۔۔لڑکی پھر سے تڑپی تھی ۔۔۔۔مگر ہاتھ پاؤں سے بندھے ہونے کی وجہ سے مجبور تھی ۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں شراب نے اس کے اوپر ی بدن کو گیلا کر دیا۔۔۔۔اس کے سینے کے ابھار مزید واضح ہو گئے ۔۔۔جنرل نے اب اس کے چہرے سے ہاتھ ہٹاتے ہوئے لڑکی کے منہ میں بھی شراب انڈیلنی شروع کردی تھی ۔۔۔لڑکی کی ساری مزاحمتیں دم توڑ رہی تھی ۔۔۔۔چہرے کی سرخی بڑھ رہی تھی۔۔۔۔جنرل آدھی بوتل اس کے اوپر ۔اور آدھی اس کے اندر ڈال کرپہنچا کر اب پیچھے ہٹ گیا۔۔۔لڑکی اب بھی مزاحمت پر تھی ۔۔۔۔۔مگر پہلے سے کافی حد تک کم ۔۔۔۔جنرل نے لڑکی کی ٹانگوں پر بندھی ہوئی بیلٹ کھول لی ۔۔۔۔۔اور نچلے بدن کو کپڑوں سے آزاد کرنے لگا۔۔۔۔۔لڑکی کی سفید ریشمی رانیں اب عریاں تھیں۔۔۔۔۔۔لڑکی کی ٹانگوں کو پھیلاتے ہوئے وہ درمیان میں آیا ۔۔۔اور لڑکی کے اوپر بدن پر موجود کپڑے کو بھی ایک جھٹکے سے کھینچ دیا ۔۔۔۔۔چر ر کی آواز کے ساتھ اس کے سینے کے ابھار اٹھے ۔۔۔اور اوپر کی طرف آئے جنرل نے دونوں ہاتھ اس کےابھاروں پر رکھتے ہوئے دباؤ دینے لگا۔۔۔۔۔لڑکی اب بھی کسی قدر ہوش میں تھی۔۔۔اسے محسوس ہو رہا تھا کہ یہ سب کیا ہورہا ہے ۔۔۔مگر نشےسے بند ہوتیں آنکھیں اسے کچھ کرنے نہیں دے رہیں تھیں۔۔۔۔۔جنرل ندیدے پن کی طرح اس کے سینےکے ابھاروں پر تھپڑ مار رہا تھا ۔۔۔۔نپلز کو کھینچ کھینچ کر لمبا کر رہا تھا۔۔۔۔لڑکی کے منہ سے نکلنے والی کراہوں کی اسے کوئی فکر نہیں تھی ۔۔۔۔اب وہ ایک ہاتھ نیچے لے جا کر اپنی پینٹ نیچے کرنے لگا۔۔۔زپ کھول کر اس نے لن کو باہر نکالا ۔۔۔جو تیزی سے لمبا اور موٹا ہوتا جا رہا تھا۔۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں لن تن چکا تھا۔۔۔۔جنرل نے لڑکی پر جھکتے ہوئے لن اس کے پیٹ اور چوت پر رگڑنے لگا۔۔۔اور خود اوپر اس کے چہر ے پر آ گیا۔۔۔ گالوں پر اپنے دانتوں کو گاڑتا ہوا وہ ہونٹوں پر آیا ۔۔۔اور اس بھی کاٹنے کی کوشش کر نے لگا۔۔۔لڑکی کے منہ سے پھر درد بھری آواز نکلی ۔۔۔اس کے ہاتھ اب تک پیچھے ہی بندھے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ جنرل نے اب نیچے آتے ہوئے اس کے سینے پر بھی دانت لگانے شروع کر دیا ۔۔۔۔۔۔دونوں مموں پر باری باری دانت گاڑنے لگا۔۔۔۔کاٹنے لگا۔۔۔۔لڑکی کے منہ سے درد بھری آوازیں تیز ہونے لگی ۔۔۔۔وہ خود کو دائیں بائیں ہو کر بچانے کی کوشش کر تی ۔۔۔۔۔مگر نپل جنرل کے منہ میں دبے ہوتے جس سے وہ پھر ساکت ہو جاتی اور چیخ مار اٹھتی ۔۔۔۔۔۔
    ادھر سیکورٹی چیف حیفی بھی اپنے کمرے میں اکیلا نہیں تھا۔۔۔۔۔آج وہ خود اس اغواء والے گروپ کے ساتھ گیا تھا۔۔۔۔اور ایک ہی گھر سے ماں بیٹی کو اٹھا لایا ۔۔۔۔بیٹی اپنے افسر کے حوالے کر کے وہ خود ماں پر لیٹا ہوا تھا۔۔۔۔اس نے بھی شراب پلا کر ماں کو بے دم کر دیا ۔۔۔اور اب الٹالٹائے پیچھے سے دھکے مارنے میں لگا ہوا تھا۔۔۔۔نیم بند آنکھوں سے آنسو ۔اور منہ سے درد بھری سسکاریاں کمرے میں گونج رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
    جنرل ہارزی نے اس لڑکی کے مموں کو لال سرخ کر دیا تھا۔۔جگہ جگہ اس کی بائٹ کے نشان بنے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔اب اس کے دانت نیچے کا سفر شروع کر رہے تھے ۔۔۔۔اور جگہ جگہ کاٹنے کے بعد چوت پر جارکے ۔۔۔۔۔چوت کو منہ میں دبوچنے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔لڑکی نے پاؤں سمیٹنے کی کوشش کی۔۔۔۔مگر جنرل کے ہاتھ اس کی ٹانگیں جکڑ چکے تھے۔۔۔۔۔۔وہ چوت پر بھی دانت گاڑنے لگا۔۔۔۔لڑکی کے منہ سے اب اور بلند آوازیں نکلی رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔جنرل کی زبان تنگ چوت کے اندر پھسلتی ہوئی جانے لگی۔۔۔۔۔اور ہونٹ چوت کے لبوں کو پکڑنے لگے ۔۔۔۔۔۔۔لڑکی کا جسم تیزی سے مچل رہا تھا۔۔۔۔۔مگر جنرل اپنی دھن میں مگن تھا۔۔۔۔۔۔زبان کو تیز ی سے اندر باہر کرتے ہوئےوہ سر ہلا رہا تھا۔۔۔۔۔ لڑکی کی ٹانگیں اب زور لگانے کے بجائے کپکپا رہی تھی۔۔جنرل نے ٹانگ سے ہاتھ اٹھائے اور اوپر کی طرف لے گیا ۔۔۔جہاں لال سرخ مموں پر رکھ کر دبوچنے لگا۔۔۔۔۔ممے اس کی پکڑ سے بڑے تھے ۔۔۔۔جسے وہ پوری طاقت سے پکڑنے اور دبانے کی کوشش میں تھا۔۔۔
    ادھر اس کی زبان بھی تیزی سے حرکت میں تھی ۔۔۔لڑکی کے منہ سے بے ترتیب آوازیں نکل رہی تھی۔۔۔۔۔۔چہرے پر پسینہ کے آثار آئے ہوئے تھے ۔۔۔۔جنرل نے آخر زبان نکالی ۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔ٹانگوں کے درمیان آ بیٹھا۔۔۔۔سریلی سسکیوں اور آہوں نے اس کے لن کی سختی میں کئی گنا اضافہ کر دیا تھا۔۔۔۔اور وہ ٹوپے کو چوت پر رگڑتے ہوئےگیلا کرنے لگا۔۔۔ساتھ ہی ایک ہلکا سا دھکا دیتا ہوا چوت کے اندر پہنچا ۔۔۔۔۔لڑکی کے منہ سے ایک چیخ نکلی ۔۔۔۔۔جنرل نے اس اٹھی ہوئی ٹانگوں کو اپنی بانہوں میں بھرتے ہوئے قریب کیا ۔۔۔۔۔اور ایک بھرپور دھکے سے لن کو اندد دھکیل دیا ۔۔۔۔رکاوٹ ٹوٹ گئی ۔۔۔لڑکی کے منہ سےا یک اور تیز چیخ نکلی ۔۔۔۔۔جنرل نے لن کو باہر نکالتے ہوئے اس پر خون کی سرخی دیکھی ۔۔۔۔۔اور پھرآگے کو جھکتے ہوئے ایک اور زوردار جھٹکا دے مارا۔۔۔۔لڑکی کے منہ سے ایک دلدوز چیخ نکلی ۔۔۔۔۔۔اس کا جسم تڑپ اٹھا تھا۔۔۔۔جنرل اب اس کی ٹانگوں کو اٹھاتے ہوئے اس کے کندھے سے ملانے لگا۔۔۔۔۔اور اوپر سے پھر بھرپور دھکا دے مارا ۔۔۔۔پورا لن اندر جا کر پھنس چکا تھا۔۔۔۔لڑکی کے منہ سے چیخیں اب بھی جاری تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔جنرل نےلن نکالتے ہوئے دوبارہ پوری قوت سےا ندر پہنچایا۔۔۔۔۔۔لڑکی پھر ہلی ۔۔۔کانپی ۔۔۔۔چیخی ۔۔۔اس کے بعد جنرل نے تیزی سے یہی حرکت دہرانی شروع کردی ۔۔۔۔ٹوپے تک لن باہر نکالتا ۔۔۔۔اور پھر اندر دے مارتا ۔۔۔۔۔۔
    ادھر اس کی ماں بھی حیفی کے نیچے دبی ہوئی تھی۔۔۔۔۔گورے بڑے بڑے ممے اچھلے جا رہے تھے ۔۔۔۔۔۔حیفی اس کی ٹانگیں اوپر لگائے دھکے لگائے جارہا تھا۔۔۔۔۔منہ سے سسکیاں اور آہوں کا بازار گرم تھا۔۔۔۔۔بیڈ سے چوں چوں کی آواز ۔۔۔۔۔اور حیفی کے جسم سے بہتا ہوا پسینہ اسکی انتھک محنت کا ثبوت تھا۔
    جنرل نے لڑکی کی تنگ چوت میں لن کی جگہ بنا لی تھی۔۔۔۔ایک مرتبہ لڑکی کےچھوٹنے کے بعد اس نے ٹانگیں نیچے کر دی ۔۔۔۔۔۔اور بیڈ پر چار تکئے رکھ کر لڑکی کو اس پر الٹا لٹا دیا۔۔۔۔۔۔تکئے پیٹ کے نیچے رکھے تھے ۔۔۔جس نے لڑکی کے چوتڑوں کو اٹھا دیا تھا۔۔۔۔دونوں ہاتھوں سے چوتڑوں کو پھیلاتے ہوئے جنرل اب پیچھے سے سواری کر رہا تھا۔۔۔۔لڑکی کے بندھے ہوئے ہاتھوں کو پکڑ کر وہ تیزی سے دھکے دینے لگا۔۔۔۔۔۔۔گیلی چوت میں پھسلتا ہوا لن اندر جاتا ۔۔۔اور پھر پھنسا ہوا واپس آتا ۔۔۔۔جنرل نے لن باہر نکالا اور اب پیچھے کے ہول کو دیکھتے ہوئے اس پر ٹکا دیا ۔۔۔۔چھید بالکل بند تھا۔۔مگر جنرل کے سخت لن کے ٹوپے نے زور لگایا۔۔۔۔اور اندر جانے کا راستہ بنانے لگا۔۔۔۔۔لڑکی کے منہ سے پھر چیخیں نکلیں ۔۔۔۔۔۔ٹوپے اپنے زور سے اندر جا پھنسا تھا۔۔۔۔۔اندر کی گرمی نے جنرل کو اور پرجوش کر دیا۔۔۔۔اس نے اوپر لیٹتے ہوئے پورے لن کو اندر دھکیلا۔۔۔۔اور پھر کمر اٹھاتے ہوئے دوسرا دھکے مارنے لگا۔۔۔لڑکی بری طرح نشے میں ٹن تھی ۔۔۔۔اس کے منہ سے کراہیں اور وقفے وقفے سے چیخیں نکلتیں۔۔۔۔۔جنرل اب پوری قوت سے دھکے مار رہا تھا۔۔۔۔اس کی منزل قریب تھی۔۔۔اور پھر اسی طرح دھکے دیتا ہوا وہ اندر فارغ ہوا۔۔۔۔
    فارغ ہونے کے بعد وہ سائیڈ پر لیٹ گیا ۔۔۔فریج سے دوسری بوتل نکال کر منہ سے لگا لی ۔۔۔آدھی بوتل پینے کے بعد اس نے بوتل سائیڈ پر رکھی ۔۔۔۔اور لڑکی کے ہاتھ کھولنے لگا۔۔۔لڑکی درد اور نشے میں بےحال تھی ۔۔۔۔۔ہاتھ کھولنے کے بعد اس نے لڑکی کو خود پر سوار کروایا ۔۔۔۔اور لن چوت میں پھنسا کر اچھالنے لگا۔۔۔۔۔سامنے سے اس کے ممے دبوچتے ہوئےوہ کمر اچھالی جا رہا تھا۔۔۔۔۔لڑکی کے منہ سے رال بہے جارہی تھی۔۔۔نشے نے آنکھیں سرخ کر دی تھی ۔۔۔۔کچھ دیر بعد اسے خود پر لٹا کر وہ اسی طرح دھکے مارنے لگا۔۔۔کنواری چو ت نے اس کے لن کو پھر سے جوان کر دیا تھا۔۔۔۔جنرل اس طرح چودتے ہوئے تھکا تو لڑکی کو سینے سے لگائے بیڈ سے اتر آیا ۔۔۔اورصوفے پر لٹاتے ہوئے اس کے اوپر جھک گیا ۔۔۔اور پھر سے تیزی سے دھکے دینے لگا۔۔۔۔۔۔۔اس نے کچھ اور پوزیشنز چینج کیں ۔۔۔۔اور پھر کافی دیر جا کر فارغ ہوا ۔۔۔۔رات آدھی سے زیادہ تھی ۔۔۔لڑکی کے ہاتھ پیچھے باندھتا ہوا بستر پر جا لیٹا ۔۔۔۔صبح یہ لڑکی کسی ویرانے یا کھیت میں مردہ حالت میں ملنی تھی ۔۔۔۔جنرل نے کچھ دیر بعد نیند سے آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
    میں بہتی آنکھوں سے جہاز کی طرف جا رہا تھا۔۔۔سامنے ہی ایک ویسٹرن ائیر ہوسٹس نے مجھے دیکھا ۔۔۔اور ویلکم کرتے ہوئے سیٹ دیکھی ۔۔۔اور اس سائیڈ پر اشارہ کر دیا۔۔۔میں دھندلی آنکھوں سے نیچے دیکھتا ہوا اپنی سیٹ پر آن بیٹھا ۔۔۔۔۔۔۔جہا ز کی سیٹیں فل ہورہی تھی ۔۔۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں ائیر ہوسٹس نے موبائل اور دوسری چیزیں بند کرنے کا کہا ۔۔۔۔۔۔مگر میرے پاس یہ سب کہاں تھا۔۔۔۔بس یادیں تھین ۔۔۔کلدیپ کے ساتھ گزرے ہوئے ایک ایک لمحے کی ۔۔۔۔اور ائیرپورٹ کے باہر گھیرا ڈالے میرےساتھیوں کی۔۔۔۔۔۔۔جن کی نظریں ابھی تک میرے جہاز کو فضاؤں میں ڈھونڈ رہی تھیں۔۔۔عاصم ۔۔چیتا ۔۔۔۔ناصر ۔۔۔شاکر ۔۔اور وسیم ۔۔۔سب ہی تو تھے باہر۔۔۔
    جہاز ہوا میں اڑ چکا تھا۔۔۔ائیر ہوسٹس نے حفاظتی مشق سمجھا دی تو میں نے بیلٹ کھولتے ہوئے پیچھے ٹیک لگا لی ۔۔۔۔۔آنکھیں بند کرتے ہوئے میں ماضی کی طرف سفر کر ہی رہا تھا کہ ایکسکیوز می کی دلکش آواز میرے کان سے ٹکرائی ۔۔۔آنکھ کھلی تو سامنے ہی ائیر ہوسٹس مجھے اپنے ساتھ آنے کا کہہ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔میں نے غائب دماغی سے دائیں بائیں دیکھا ۔۔۔۔اور اٹھ کھڑا ۔۔۔۔۔میرا سفر بزنس کلاس کی طرف تھا ۔۔۔۔میرے آگے چلتی ہوئی ائیر ہوسٹس ایک کیبن کے سامنے رکی ۔۔۔اور مجھے آگے بڑھنے کا اشارہ کرنے لگی۔۔۔۔۔میں حیرت زدہ اندر داخل ہوا ۔۔۔۔جہاں ناقابل یقین منظر میرے سامنے تھا۔۔۔۔میرے استاد ۔۔۔میرے دوست عمران صاحب اپنی مخصوص مسکراہٹ سے میری طرف دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرے ضبط کا بندھن پھر ٹوٹا۔۔۔میں ان کےسینے سے جا لگا۔۔۔۔آنسووں کی جھڑیا ں پھر جاری ہو گئیں ۔۔۔۔۔وہ پیار بھرے انداز میں تھپکی دیتے رہے ۔۔۔۔۔۔اور پھر اپنے ساتھ سیٹ پر بٹھا دیا۔۔۔۔پانی کاگلاس مجھے تھماتے ہوئے سمبھالنے کا کہا۔۔۔۔۔میری اور کلدیپ کی وابستگی سے اچھے سے واقف تھے ۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ بھی کہ کم عمری میں ہی مجھے اپنے گھر سے دور آنا پڑا ۔۔۔۔۔کچھ دیر بعد میری حالت سمبھل گئی ۔۔۔۔عمران صاحب نے مجھے تسلی دی ۔۔۔ اور سامنے اپنے لیپ ٹاپ کو کھولنے لگے ۔۔۔۔یہ سب عاصم کی ہی حرکت ہو گئی ۔۔۔کہ جو ہم ایک فلائٹ میں اکھٹے ہو گئے ۔۔۔۔
    عمران صاحب نے مجھے میری گھر والوں کی ویڈیو دکھا ئی ۔۔۔۔وہ خود ٹائیگر کے ساتھ ہمارے گھر میں تھے ۔۔۔۔۔۔۔میں نے سب کو نم آنکھوں سے دیکھا ۔۔سب خوش تھے ۔۔اور میرے لئے دعائیہ پیغام ریکارڈ کروا رہے تھے ۔۔۔۔۔۔اس کے بعد عمران صاحب سنجیدہ ہوگئے ۔۔۔۔۔میرا مشن اسرائیل میں تھا۔۔۔جہاں یقینی طور پر ذرہ ذرہ میرا دشمن تھا۔۔۔۔۔۔قدم قدم پر میرے لئے موت کے پھندے تھے ۔۔۔اس کے لئے کافی تیاری پہلے ہوچکی تھی ۔۔۔۔عمراں صاحب نے مجھے خصوصی ٹریننگ کروائی تھی۔۔۔ساتھ ساتھ عشنیا کے دئیے ہوئے مشروب نے بھی نئے کمالات جگائےتھے۔ایک گھنٹے تک میری بریفنگ جاری رہی۔۔۔وہاں موجود دوست کے نام اور مدد لینے کا انداز ۔۔مشن کی ایک ایک بات ۔۔۔۔میں سب سمجھ چکا تھا۔۔۔میری یہ فلائٹ ترکی کے لئے تھی ۔۔۔۔جہاں ایک کنیکٹنگ فلائٹ کےساتھ جارڈن جانا تھا۔۔۔۔اور پھر کچھ اسمگلرز اور وار لارڈز کے ساتھ بارڈر پار کرنا تھا۔۔۔عمران صاحب نے مجھے یہ بھی بتا دیا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس میرے بچ جانے سے باخبر ہے ۔۔۔۔اور ہو سکتا ہے کہ میرے استقبال کے لئے پوری طرح سے تیار بھی ہوں ۔۔
    عمراں صاحب میری تیاری سے مطمئن تھے ۔۔۔۔لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے انہوں نے پھر مجھے تسلی دی ۔۔۔حوصلہ افزائی کی ۔۔۔وطن کے لئے سرفروش بننا آسان نہیں تھا۔۔۔اس راہ میں اپنے بچھڑتے رہتے ہیں ۔۔۔۔ان کی شانے پر مخصوص تھپکی میرے لئے اعزاز کی بات تھی ۔۔۔جس کا لمس میرے لئے ہر مشکل حالات میں سکون کا باعث بنتا تھا۔۔۔جہاز کا دبئی میں اسٹے تھا ۔۔۔۔اور یہیں عمراں صاحب نے مجھے سے الگ ہونا تھا۔۔۔۔۔۔ہم پھر گرم جوشی سے ملے ۔۔۔۔ایک آوارہ آنسو پھر آنکھ سے ٹپک پڑا ۔۔۔۔مگر یہ خوشی کا تھا۔۔۔مطمئن ہونے کا تھا۔۔۔ میں اپنی سیٹ کی طرف چل پڑا ۔۔۔۔۔کچھ دیر بعد نیند کی آغوش میں ۔۔۔۔ جب آنکھ کھلی توجہاز کا کیپٹن ترکی میں لینڈنگ کا اعلان کر رہاتھا۔۔۔۔یہاں سے میرے مشن کا آغاز تھا۔۔۔میرے انتقام کا بھی ۔۔۔

    ٭٭٭٭


    قسط نمبر 2 ۔۔۔

    میں اس وقت اسرائیلی بارڈر سے کچھ دور موجود ہوں ۔۔۔۔ کل ہی ترکی سے فلائٹ لے کر لبنان میں داخل ہوا ۔۔۔۔میرا نیا پاسپورٹ یہاں تک کے لئے ہی تھا ۔۔۔۔۔لبنان اسرائیل جنگ کی تباہ کاریاں اب میرے سامنے تھی ۔۔ہر جگہ تباہ و بربادی کے آثار ظاہر تھے۔۔اس کے علاوہ بارڈر پر جھڑپیں اب تک جاری ۔۔۔۔۔۔مجھے عمراں صاحب کے ریفرنس سے ابو حامد نامی ایک شخص سے ملنا تھا ۔۔۔۔۔یہ یہاں کی ایک مشہور فورس کا جنگجو کمانڈر تھا۔۔۔۔۔مجھے ائیر پورٹ سے صرف اس کا نام بتانا پڑا ۔۔۔اور خود ہی مختلف واسطوں سے اس تک پہنچتا چلا گیا ۔۔ائیر پورٹ سے ریسیو کرنے والے نے مجھے ٹیکسی میں ایک ہوٹل پہنچایا ۔۔جہاں سے مینیجر نے مجھے اپنی ذاتی گاڑی پر ایک عالیشان بنگلے مین پہنچا دیا ۔۔۔عمراں صاحب نے خود اطلاع بھجوا دی تھی ۔۔۔ابو حامد بہت پرجوش انداز میں ملا ۔۔۔۔مہمان نوازی کی ساری رسومات پوری کر کے ہم سفر پر روانہ ہو گئے ۔۔سفر وہی تھا ۔۔۔ موت کے تعاقب کا سفر ۔۔جہاں ایک ہاتھ میں زندگی اور دوسری پر موت دکھتی تھی۔۔ابو حامد نے کافی زبردست اقدامات کر رکھے تھے ۔۔۔۔
    بکتر بند گاڑیوں کا ایک قافلہ تھا ۔درمیانی گاڑی میں ابو حامد اور میں ایک گاڑی میں تھے ۔۔۔ہماری منزل اسرائیلی بارڈر کا کوئی مخصوص ایریا تھا ۔۔ اور ہم تیزی سے اس کی طرف رواں دواں تھے ۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں ساری گاڑیاں آگے پیچھے تقسیم ہوتی چلی گئی ۔۔ہماری والی گاڑی بھی ہمیں اتار کر دوسری سمت چلی گئی ۔۔ابو حامد نے مجھے ساتھ لیا اور آگے کا سفر ہو گیا۔ ۔۔اونچے نیچے ٹیلوں میں جھکتے ہوئے ہم بارڈر کے قریب ہوتے جا رہے تھے ۔۔میرے جسم میں سنسنی دوڑنی شروع ہو گئی ۔۔۔بارڈر کی خاموشی بہت ٹہراؤ والی تھی ۔بالکل ایسے جیسے کسی طوفان سے پہلے کوئی سکوت سا ہو تا ہے۔۔۔۔۔
    اس وقت بارڈر سے کچھ دور ہم ایک گڑھے میں بیٹھے رات ہونے کا انتظار کر رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ابو حامد کچھ سخت مزاج تھا ۔۔۔مگر میری ایک ایک چیز کا احساس کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔اس وقت ہم گڑھے میں بیٹھے قہوے سے لطف اندوز ہو رہے تھے ۔۔۔۔میرے لئے ایک بیگ تیار تھا ۔۔جس میں دو سے تین دنوں کے خشک میوہ جات اور پانی کے ساتھ اسلحہ موجو د تھا۔۔۔ابو حامد تھوڑی تھوڑی دیر بعد ریڈیو ٹرانسمیٹر پر حالات پوچھ رہا تھا۔۔۔۔۔ہماری پوری ٹیم بارڈر پر پھیل چکی تھی ۔۔۔۔میرے اندازے کے مطابق ابو حامد کے بارڈر پار بھی رابطہ تھا ۔۔۔جہاں سے اسے بارڈر پر موجود گیپ کی اطلاع مل رہی تھی ۔۔۔قہوے اور خشک میوؤں نے مجھے تازہ دم کر دیا تھا۔۔لہو کی گرمی بڑھ گئی تھی ۔۔۔۔۔۔
    شام کا اندھیرا پھیل چکا تھا۔۔میرا لباس مجھے اندھیرے میں چھپانے ے لئے کافی تھا۔۔ابو عاصم مجھے آگے کی منزل سمجھانے لگا ۔بارڈر سے پار ایک جنگل ہماری پناہ گاہ تھی ۔۔اس کے فورا بعد ایک دیہاتی علاقے میں کچھ لوگ میرے انتظار میں تھے ۔۔میری شباہت ان تک پہنی ہوئی تھی ۔۔اور کوڈ ورڈز میں تعارف بھی۔۔میں تیزی سے باریکیاں نوٹ کرنے لگا۔۔۔۔۔ابو حامد نے میرا بیگ مجھے پہنانے کے بعد تھپکی دے کر باہر آنے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔۔انفرا ریڈ اور نائٹ ویژن ڈرون سے پورا علاقہ نگرانی میں تھا۔۔۔جسے ابو حامد کے لوگ ہی مانیٹر کر رہے تھے۔۔۔۔ہمارے باہر آتے ہی اس نے کوئی اشارہ کیا ۔۔۔۔اور بارڈر کی خاموش فضا ء میں سنگل راؤنڈ فائر ہوا ۔۔۔۔۔یہ ہم سے کچھ دور ایک گروپ تھا ۔۔۔۔ اسی طرح دوسری طرف بھی کچھ گروپ جو فائرنگ کر کے توجہ ادھر ادھر کر رہے تھے ۔۔۔۔۔اور درمیان سے مجھے انٹری کروانی تھی ۔۔۔۔۔۔ابو حامد کے باہر آتے ہی کچھ لڑکے تیزی سے ہمارے آس پاس آگئے ۔۔۔۔۔۔ میں نے بھی اپنی رائفل کا چیمبر چڑھا لیا تھا۔۔۔اورجھکے جھکے آگے بڑھنے لگے ۔۔۔۔۔سرچ لائٹ سے بچتے ہوئے ۔۔۔۔ہمیں ہر ممکن فائر نہیں کرنا تھا۔۔۔۔ ہمارے آس پاس فائرنگ اور گولیوں کی آوازوں کا بھونچال آ گیا تھا۔۔۔۔۔ٹائم بہت ہی کم تھا ۔اس لئے جھکتے ہوئے ہم تیزی سے آگے کوبڑھنے لگے۔۔۔۔زیادہ دیر ہونے کی صورت میں اسرائیلی ائیر سپورٹ پہنچنے کا خدشہ تھا۔۔۔
    مجھے سے آگے ابو حامد تھا۔۔۔اور اس سے ایک اور لڑکا جو اب کرالنگ کرتا ہوا جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔کچھ دیر میں ہم تینوں اسی طرح بارڈر کیطرف پہنچ گئے ۔۔دونوں طرف سے اندھیرے میں شعلے ادھر سے ادھر حرکت کررہے تھے ۔۔۔۔گولیا ں تیزی سے جاری تھیں۔۔۔۔۔ خاردار تاروں کے لئے آگے والے لڑکے نے کٹرنکالا ۔۔۔۔ساتھ ایک بڑی وائر بھی ۔۔۔۔۔۔۔خار دار تاروں کے کٹنے پر الارم بجتا تھا۔۔۔۔مگر اس کے لئے ان کے پاس کوئی سیٹنگ تھی ۔۔بڑی وائر کو علیحدہ سے جوڑ کر سرکٹ بحال رکھا تھا۔۔جبکہ درمیانی حصہ پر کٹر رکھ دیا ۔۔۔ لڑکے نے ایک سیکنڈ میں ہی تاروں کو کاٹتے ہوئے اندر کا سفر شروع کر دیا ۔۔۔۔۔ہم قریب ہی لیٹے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔ابو حامد مجھے اشارے سے اب آگے جانے کا اشارہ کرنے لگا۔۔۔۔۔ہمارے درمیان ریڈیو رابطہ تھا ۔۔۔۔اور اندر اس کے آد می بھی رابطے میں ۔۔۔۔آگے والے لڑکے کو میرے ساتھ ہی رہنا تھا۔۔۔۔۔۔میرے بیگ پر تھپکی دیتے ہوئے ابو حامد نے مجھے بڑھا دیا ۔۔۔میں رائفل ہاتھوں میں لیئے کرالنگ کرتا ہوا آگے بڑھنے لگا۔۔۔۔یہ منٹوں کا سفر تھا ۔۔۔مگر اس وقت برستی گولیوں میں طویل ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔بارڈر پر اس وقت اندھا دھند فائرنگ جاری تھی۔۔۔۔ہماری طرف کی فائرنگ اب کم ہونے لگی تھی ۔۔جیسے وہ لوگ پسپا ہو کر پیچھے ہٹ رہےہوں۔۔ لیکن میں جانتا تھا کہ یہ ہمارے آگے بڑھنے کا سگنل دے رہے ہیں۔ ۔۔۔۔میرے آگے جانے والا لڑکا کٹر پھینک کر رائفل سمبھال چکا تھا۔۔۔اور اب کسی بھی خطرے کا سامنا کرنے کو تیارتھا۔۔۔۔۔میں نے باڑھ کراس کی ۔۔۔اور اس کےقریب جا پہنچا ۔۔۔۔۔یہاں سے آگے ہم دوہی مسافر تھے ۔۔۔۔۔ کرالنگ کرتے ہوئے آگے بڑھنے لگا۔۔۔اس لڑکے کانام عاقب تھا ۔۔۔اورمیرا ہی ہم عمر تھا۔۔۔یہاں سے آگے اسرائیلی فوج کے مورچے تھے ۔۔۔اور ہمیں انہیں سے بچ کر آگے نکلنا تھا۔۔۔مورچوں کے علاوہ گشت کرنے والے فوجی الگ ۔۔۔۔۔جو باڑھ دیکھ کر ہمارے پیچھے پہنچنے والے ہی تھے۔۔۔اس لئے ہم آنکھیں پھاڑے آگے دیکھتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے ۔۔۔یہاں کچھ اٹھا ن تھی ۔۔۔مگر رینگتے ہوئے ہمارا سفر جاری تھا۔۔ ۔عاقب ان راستوں سے اچھے سے واقف تھا۔۔۔۔اسی لئے آگے کرالنگ کرتے ہوئے گائیڈ بنا ہوا تھا۔۔۔۔
    اندھیری رات میں سفر جاری تھا ۔۔۔ابو حامد نے اس بات کا خیال رکھا تھا کہ پورا چاند نہ ہو ۔اور رات تاریک ہی ہو ۔۔۔اور اس کا فائدہ ہمیں پہنچ رہا تھا۔۔۔۔اتنے میں عاقب نے رکتے ہوئے مجھے اشارہ کیا ۔۔۔۔میں سر نیچے کر لیٹ گیا۔۔۔۔کچھ نئی سرچ لائٹیں روشن ہو گئیں تھی ۔۔۔۔اور اب تیزی سے آس پاس منڈلانے لگیں۔۔۔۔۔عاقب نے مجھے ہوشیار ہونے کا اشارہ کیا ۔۔۔اور سائیڈ ہونے لگا۔۔۔۔۔گشت کے سپاہیوں نے باڑھ پر ہونے والی کاروائی دیکھ لی تھی۔۔۔۔۔اور اب ہمارے تعاقب میں آنے لگے تھے۔۔۔۔۔ایک فائدہ یہ ہوا کہ مورچوں پر لگی ہوئی لائٹ آن ہوئیں ۔۔۔اور ہمیں ان کی موجودگی واضح ہو گئی ۔۔۔۔ عاقب نے مجھے تیزی دکھانے کا اشارہ کیا ۔۔اسرائیلی فوجیوں میں افراتفری تھی ۔۔۔ اور یہی وقت ہمارے بڑھنے کا تھا۔۔۔ مورچوں کے برابر سے گزرتے ہوئے اوپر چڑھنے لگے۔۔۔ اتنے میں پیچھے سے گولیوں کا ایک برسٹ آیا ۔۔۔۔۔ہمیں دور سے دیکھ لیا گیا تھا۔۔۔عاقب نے جھکتے ہوئے آگے کو بھاگنا شروع کر دیا ۔۔۔میں بھی اس کے پیچھے لپکا ۔۔میرے کانوں نے اسناپئر کی آواز سنی ۔۔۔۔۔اتنے میں تین اطراف سے سرچ لائٹیں ہماری طرف گھوم گئیں ۔۔میں نے زمین پر لوٹ لگا لی۔۔۔۔عاقب نے ایک کی طرف رائفل کرتے ہوئے دو سے تین سنگل راؤنڈ فائر کئے ۔۔۔ایک لائٹ تیز آواز کے ساتھ چکنا چور ہوئی ۔۔۔۔۔دوسری اور تیسری کو میں نے نشانے پر رکھ لیا ۔۔وہ سب بھی بلند آواز میں پھٹیں۔۔۔۔اس کے ساتھ ہیوی مشین گنز نے ہماری طرف رخ کر لیا ۔۔۔سرخ شعلے تیزی سے ہماری طرف لپکنے لگے ۔۔۔۔۔یہ سب محفوظ مورچوں کے فائر تھے ۔۔۔۔اور جوابی کاروائی کا کوئی فائد ہ نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔عاقب بھی تیزی سے خود کو چھپاتا ہوا اوپر بھاگنے لگا۔۔۔۔۔میری بھی ساری حسیات جاگ چکی تھی ۔۔موت کا رقص شروع تھا۔۔۔۔۔ میں عاقب سے کچھ فاصلے پر تھا۔۔زگ زیگ انداز میں ہم اوپر کی طرف بھاگ رہے تھے۔۔۔ مشین گن کی بوچھاڑ آس پاس ہی پڑ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔کہ اوپر سے ہمیں چیختے ہوئے فوجیوں کے عکس دکھے ۔۔۔جواوپری مورچوں سے نکلتے ہوئے پوزیشن لے رہے تھے ۔۔۔۔عاقب کی رائفل سے ایک برسٹ نکلا۔۔۔۔میں نے یہ دیکھتے ہی بیگ سے جی ایل لانچر نکال لیا۔۔بھاگتے ہوئے یہ زیادہ کارگر ہونا تھا۔۔۔۔ نیچے دو سے تین مورچے میں دیکھ چکا تھا۔۔۔جہاں بھی لوگ نکل رہے تھے ۔۔۔۔۔جی ایل لانچر لوڈ کرتے ہی پہلے مورچے کی طرف نشانہ لے لیا۔۔۔۔۔گولا مخصوص آواز کے ساتھ نکلا ۔۔۔اور مورچے پر جا گرا ۔۔۔۔۔دھماکے کی آواز سے آگ کا ایک شعلہ اوپر کو ابھرا۔۔۔۔کچھ لوگ بھاگتے ہوئے نظر آئے ۔۔۔۔۔کچھ قدم بھاگ کر میں پھر اوٹ میں ہوا اور دوسرے مورچے کی طرف بھی گرنیڈ فائر کیا ۔۔ فائرنگ میرے چاروں طرف لپکی رہی تھی ۔۔۔۔۔اب صرف اوپری لوگ تھے ۔۔۔۔۔ہم پوزیشن تبدیل کرتے ہوئے اوپر آنے لگے ۔۔۔۔گولیاں ہمارے تعاقب میں تھی ۔۔تیزی سے حرکت جاری ۔۔۔کوئی بھی غلطی ہمیشہ کی نیند سلا سکتی تھی ۔۔۔۔اوپر والے فوجیوں نے بھی خود کو محفوظ پوزیشن میں رکھ لیا تھا۔۔ اور اب تاک کر نشانہ بنانے کی کوشش میں تھے ۔۔۔۔۔
    سرچ لائٹ بند ہو گئیں تھیں ۔۔۔۔اب ہم نائٹ ویژن استعمال کر سکتے تھے ۔۔۔۔بیگ کے اوپر ی حصے سے میں ویژن نکال کر پہننے لگا۔۔۔۔عاقب بھی یہی کر رہا تھا۔۔نائٹ ویژن پہننے کے بعد میں نے جی ایل لانچر سمبھال لیا ۔۔ اس کے دھماکے دشمن کو دور رکھنے کے ساتھ ساتھ اس کے اوسان خطا کر رہے تھے ۔فائدہ یہ تھا کہ وہ اب تک ہماری اصل تعداد سے بھی اب تک بے خبر تھے ۔۔۔۔۔ اوپر فائر کرتے ہوئے میں ساتھ ساتھ جی ایل بھی لوڈ کرتا اور فائر کر دیتا ۔۔ ۔۔۔۔۔عاقب اس وقت سب سے بہتر تھا۔۔۔برستی گولیوں کا وہی سب سے زیادہ سامنا کر رہا تھا۔۔۔اور مجھے کور بھی دے رہا تھا۔۔۔۔۔کہ میں جی ایل فائر کرسکوں ۔۔۔ہم اوپر پہنچنے والے تھے ۔۔۔اس ایریا میں لگے ہوئے درخت ہمیں کور دے رہے تھے ۔۔۔۔اور شاید ابوحامد نے اسی لئے اس جگہ سے بارڈر کرواس کروایا تھا۔۔۔۔۔۔ہم اوپر پہنچ کر مزید تیز ہو گئے ۔۔۔۔سامنے کے تینوں مورچے آگ کی بھٹی بن گئے ۔۔۔۔فائر اب بھی آ رہے تھے ۔۔۔مگر ہم محفوظ تھے ۔۔۔۔۔میں نے نیچے نظر ڈالی ۔۔۔دونوں اطراف سے بیسیوں لوگ تیزی سے اوپر چڑھتے آ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔ میں نے عاقب کی طرف نگاہ ڈالی ۔۔۔جو خود بھی دائیں بائیں نظر ڈال رہا تھا۔۔۔اپنے بیگ سے ریموٹ بم نکالتے ہوئے کچھ فاصلے پر اچھالے ۔۔اور پھر۔۔۔اس نے ایک طرف اشارہ کیا ۔۔۔۔یہ راستہ پہاڑی کٹاؤ اور جنگلات سے ہوتا ہوا اندر جنگل تک نکلتا تھا۔۔۔۔۔عاقب نے دائیں بائیں کا دھیان رکھتے ہوئے نیچے اترنا شروع کیا ۔۔۔۔۔۔۔میں اس کے پیچھے ہی تھا۔۔۔ہم اندھیرے کا حصہ بنتے ہوئے غائب ہونے لگے ۔۔۔پیچھے کی طرف روشنی کے گولے فائر ہوئے تھے ۔۔۔جنہوں نے پورے ایریا کو روشن کر دیا ۔۔۔۔اتنے میں ہیلی کاپٹر کی آواز سنائی دی ۔۔۔ائر سپورٹ آ چکی تھی ۔۔ ہیلی کاپٹر کی مخصوص گڑ گڑاہٹ قریب آ رہی تھی۔ ۔۔۔عاقب جلدی سے اوٹ میں ہو کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔۔اور محتاط نگاہوں سے اوپر دیکھنے لگا۔۔۔۔۔۔ہیلی کاپٹر کےساتھ منسلک لائٹ تیزی سے ہمارے قریب آ رہی تھی ۔۔اس ہیلی کاپٹر کے پیچھے کئی لائٹیں اور تھیں ۔۔۔جو یقینا ہیلی کاپٹر ہی تھے ۔۔۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
    دوپہر کی تیز گرمی تھی ۔۔۔یہ بارڈر سے کچھ دور ایک نخلستانی علاقہ تھا۔۔۔۔۔پانچ سو کے قریب بنے ہوئے گھروں پر مشتمل ایک گاؤں ہے ۔۔۔۔۔کھجور کے درخت سے گھرا ہوا یہ علاقہ مسلمانوں کی اکثریت والا تھا۔۔۔۔جہاں ایک اونٹ تیزی سے دوڑتاہوا دور موجود ایک درختوں کے جھنڈ کی طرف جا رہا تھا۔۔۔اوپر بیٹھا ہوا بچہ تیزی سے اونٹ کو دوڑا رہا تھا۔۔۔اس کے منہ سے نکلنے والی مخصوص آواز اونٹ کو اور تیز بھاگنے پر مجبور کر رہی تھی ۔۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں اونٹ جھنڈ کےقریب پہنچا ۔۔۔۔ اور بیٹھنے لگا۔۔۔۔بچے نے بیٹھتے اونٹ سے چھلانگ لگائی ۔۔۔۔اور ریت پر آیا۔۔۔۔سامنے ہی کچے مکان بنے ہوئے تھے ۔۔۔وہ تیزی سے بابا کی آواز نکالتا ہو گھر میں داخل ہوا ۔۔ایک کمرے میں ایک خوبصورت نوجوان سو رہا تھا۔۔۔بچے کی آواز نے اسے اٹھا دیا اور وہ چوکنی نگاہوں سے دروازے کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔ ۔۔بچہ تیزی سے قریب پہنچا ۔۔اور سلام کرتا ہوا اب پھولی ہوئی سانسو ں میں کچھ بتانے میں مصروف تھا۔۔۔۔نوجوان نے اس کی بات سنی ۔۔۔اور تھپکی دیتے ہوئے اسے واپس بھیج دیا۔۔۔۔اب وہ دوسرے کمرے کی طرف آیا ۔۔۔۔اور ایک سائیڈ سے قالین الٹ دیا۔۔۔۔نیچے ایک چوکور دروازہ تھا۔۔۔اسے کھولتے ہوئے نیچے سیڑھیاں اترنے لگا۔۔۔۔۔۔۔نیچے تہہ خانے میں اترنے کے بعد وہ ایک اور الماری کی طرف بڑھا ۔۔۔اور اسے کھولنے کے بعد اندر دروازے سے دوسرے حصے میں پہنچا ۔۔۔یہ دوہرا تہہ خانہ تھا۔۔۔ایک طرف مواصلاتی آلات نصب تھے ۔۔۔۔۔اس حصے میں بیٹری سے لائٹس آن کر وہ ایک ٹرانسمیٹر کی طرف بڑھا ۔۔۔۔۔۔اور ریسیور اٹھاتے ہوئے فریکوئنسی ملانے لگا۔۔۔۔۔ کچھ ہی سیکنڈ میں اسے بھاری آواز سنائی دی ۔۔۔۔ مخصوص آواز میں ایکسٹو کہا گیا تھا۔ ۔۔۔۔نوجوان مؤدب ہو گیا۔۔۔۔اور عمران صاحب کا پوچھنے لگا۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں عمران صاحب کی چہکتی ہوئی آواز آئی تھی ۔۔"ابھی تک عقاب ہی ہو ۔۔۔یا شاہین بننے کا بھی ارادہ ہے ۔۔۔" ۔۔۔نوجوان کی رکی ہوئی سانسیں تیزی سے بحال ہوئی ۔گہری سانس لے کر حال چال پوچھنے لگا۔۔۔یہ ابو عقاب تھا ۔۔۔ فلسطین میں موجود پاکیشیا کا فارن ایجنٹ ۔۔۔ایک طویل عرصے سے فلسطین کی تحریک آزادی کا جیالا ۔۔اسرائیلیوں کو لوہے کے چنے چبوانے والا۔۔۔۔۔۔مگر پھر عمران صاحب سے ملنے کے بعد انہی سے منسلک ہو گیا۔ پاکیشیا کی اسرائیل سے دشمنی کوئی ڈھکی چھپی بات نہ تھی ۔۔ اور پاکیشیا کی خاطر ابو عقاب نے اپنے کام کو چھوڑ کر عمراں صاحب کے ساتھ منسلک ہو گیا۔۔۔پچھلے کچھ عرصے سے باقاعدگی سے رپورٹس بھیج رہا تھا۔
    عمران صاحب آپ کیسے ہیں ۔۔۔بہت عرصے بعد یاد کیا ہے ۔۔۔۔" ۔۔ابو عقاب کے لہجے میں محبت بھرا شکوہ تھا۔۔
    ۔"بس کیا کریں ۔۔۔۔فلسطین کی تحریک خود اتنی زور پکڑ چکی ہے ۔۔۔کہ اسرائیل کا دھیان ہماری طرف کم ہی آتا ہے ۔۔۔۔" ۔۔عمران نے جواب دیا۔
    یہ بھی تو آپ ہی کی مہربانی ہے ۔۔ جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہمیں آپ سے سپور ٹ ملتی ہے ۔۔ ابو عقاب نے جواب دیا ۔"
    ۔۔۔۔اچھا سنو ۔۔ایک نیا پرندہ روانہ ہے ۔۔۔۔۔راجہ نام ہے ۔۔۔۔کل تک وہ شہری حدود میں داخل ہو جائے گا ۔۔وہ اسی جگہ پہنچے گا جہاں پچھلے مشن میں اپنی ٹیم کے ساتھ پہنچا تھا۔۔ ۔۔ ملنے کا پوائنٹ سمجھا دیا ہے ۔۔۔۔بس تم اپنی انٹیلی جنس کو تیز کر دو ۔۔۔اسرائیل کی طرف سے ہونے والی ہر کاروائی ہمارے سامنے ہونی چاہئے ۔۔۔۔مشن کی سب معلومات راجہ کے پاس ہے ۔۔۔" ۔۔
    ۔" عمراں صاحب آپ بے فکر ہو جائیں ۔۔۔۔۔اب وہ ہمارا مہمان ہے ۔۔۔۔اس کی لئے یہاں کا چپہ چپہ حاضر ہے ۔۔۔" ابو عقاب نے پرجوش انداز میں جواب دیا ۔۔
    کچھ دیر میں وہ کال بند کر کے اوپرآ گیا۔۔۔۔۔اس کی نظریں سیدھی سامنے نقشے پر تھیں ۔۔۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں وہ جیپ لے کر نکل چکا تھا۔۔۔۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭

    عاقب نے قریب آتے ہوئے ہیلی کاپٹرز کو دیکھا ۔۔۔۔۔اور مجھے چھپتے ہوئے آگے بڑھنے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔ ہم بارڈر کے جتنا قریب انہیں نشانہ بناتے ۔۔۔ہمارے لئے اتنی ہی زیادہ مشکل ہوتی ۔۔۔۔۔اور منزل بھی اتنی ہی دورہوتی جاتی ۔۔۔۔۔۔اس لئے بہتر تھا کہ آگے کا سفر جاری رکھیں ۔۔۔۔۔۔عاقب نے پھر سے گائیڈ کی ذمہ داری سمبھالی ۔۔۔۔اور پھرتی سے پوزیشن لیتا ہوا آگے بڑھنے لگا۔۔۔۔ہمارے لباس ہمیں چھپا رہے تھے ۔۔۔۔صرف ہیلی کاپٹر کی طرف سے نائٹ ویژن کا خطر ہ تھا۔۔۔۔۔اور اس کا بہترین حل تیزی سے آگے بڑھنا ہی تھا۔۔۔۔۔ ہم تیزی سے جنگلات میں بڑھنے لگے۔۔۔۔۔۔ہیلی کاپٹر کی تیز آواز بڑھنے لگی۔۔۔۔۔۔لائن میں آنے والے ہیلی کاپٹر اب پھیلنے لگے تھے ۔۔ہمارے تعاقب میں آنے والی لائٹس بھی پھیل چکی تھی۔ ۔۔۔عاقب نے بیگ سے ریموٹ لیتے ہوئے ہاتھ میں پکڑ لیا ۔۔۔اور پیچھے نظر ڈالنے لگا۔۔۔۔۔ہیلی کاپٹر اب مورچو ں کے اوپر ہی تھے ۔۔۔۔۔اور ہماری طرف رخ کرنے والے تھے ۔۔۔۔۔عاقب نے ایک بٹن دبا دیا۔۔۔۔تیز دھماکے سے آگ کا ایک گولا اوپر اٹھا ۔۔۔ریموٹ کنٹرول بم اپنی تباہ کن آواز کے ساتھ پھٹا تھا۔۔۔۔ ہیلی کاپٹر تیزی سے ڈگمگایا ۔۔۔۔۔مگر پائلٹ نے سبمھالتے ہوئے اسے اوپر اٹھا لیا۔۔۔۔۔ساتھ ہی ہیلی کاپٹر کی مشین گن کی تڑتڑاہٹ اسی جگہ پڑی ۔۔۔۔جہاں بلاسٹ ہوا۔۔۔۔۔گھوم گھوم کر فائرنگ کرتے ہوئے ہیلی کاپٹر سے رسی نیچے گررہی تھی۔ ۔ اسپیشل فورس نیچے اترنے لگی ۔۔۔۔۔یہ یمام تھی ۔۔۔بارڈر کی اسپیشل فورس ۔۔جو ہر قسم کی پیشہ ورانہ مہارت سے لیس تھی۔۔۔ہیلی کاپٹر نے علاقہ روشن کر رکھا تھا۔ یمام فورس نے اترتے ہی پوزیشن لے لی تھی ۔۔اور اب چاروں طرف تیزی سے فائرنگ کرنے لگے تھے۔ ۔۔۔ ہم نے ایک نظر پیچھے ڈالی اور آگے بڑھنے لگے ۔۔۔۔جنگل آگے سے ہرا بھرا تھا۔۔۔۔۔۔اور گنجان بھی ہوتا جا رہا تھا۔۔۔۔۔ ہمیں یہ پوری رات سفر میں گذارنی تھی۔۔۔۔۔ پیچھے سے فائرنگ کا شور اب بھی جاری تھا۔۔۔۔۔ پیرا ٹروپس اتر کر ہمیں تلاش کر رہے تھے ۔۔۔عاقب نے وقفے وقفے سے باقی بم بھی بلاسٹ کر دئے ۔۔جس سے فورسز مزید دھیان سے پچھلے ایریے کو سرچ کرنے میں لگ گئی۔۔۔۔۔ کچھ دیر سفر کے بعد ہم سستانے کے لئے رکے ۔۔ اترائی کا سفر کسی قدر آسان تھا۔۔مگر بھی ہم کافی تھک چکے تھے ۔۔ بیگ سے پانی نکال کر میں نے کچھ کھجوریں نکالیں ۔۔۔عاقب بھی ساتھ ہی تھا۔۔۔ سرخ چہرہ تمتما رہا تھا۔۔ اب تک بڑی کامیابی سے ہم نظروں میں آئے بغیر یہاں تک پہنچے تھے ۔۔۔۔ہلکا پھلکا ناشتہ کرنے کے بعد ہم پھر بڑھنے لگے ۔۔۔۔ جنگل کے ساتھ گزرنے والے روڈ سے جیپوں کی آوازیں اور لائٹس نمودار ہو گئیں تھیں۔۔۔۔۔اب یہ اس جنگل کو گھیرنے کی کوشش کر رہےتھے ۔۔۔۔ ہم سمبھلتے ہوئے آگے جا رہے تھے ۔۔۔عاقب نے پیچھے ابو حامد کو سگنل بھیج دیا تھا۔۔
    اتنے میں ہیلی کاپٹر پھر فضاؤں میں بلند ہونے لگا۔۔۔۔۔عاقب نے آگے بڑھتے ہوئے بیگ کھول لئے ۔۔۔اور جی ایل لانچر نکال لیا۔۔۔۔اس سچوئشن میں جی ایل لانچر نے کچھ خاص کام نہیں کرنا تھا۔۔۔بس پھر بھی امید تھی کہ اگر ہیلی کاپٹر زیادہ نیچے آئے تو یہ کارآمد ہو سکتے تھے ۔۔۔۔میں نے بھی لانچر ہاتھ میں لیتے ہوئے لوڈ کر چکا تھا۔۔۔ دوسرا سخت مرحلہ شروع تھا۔۔۔۔۔
    ہیلی کاپٹر کی اسپیڈ ہم سے تیز تھی ۔۔۔۔۔ کچھ ہی منٹوں میں ہمارے سر پر تھا۔۔۔ رک جاتے تو رات یہیں گزرنی تھی ۔۔۔۔ اور ابھی جنگل کا آدھا سفر ہی ہو پایا تھا۔۔۔۔۔ہیلی کاپٹر کی لائٹ میرے قریب پہنچی تو میں اوٹ میں ساکت ہو گیا ۔۔۔۔ اس کے باوجوداسے شاید شک سا ہوا ۔۔۔۔میری چھٹی حس نے مجھے اشارہ کیا تھا ۔۔۔میں نے تیزی سے چھلانگ لگائی۔۔۔اور خود کوساتھ والی کھائی میں گرا دیا۔۔۔۔۔۔ گولیوں کی سنسناہٹ آس پاس سے گذری ۔۔اور ٹھیک اسی جگہ پڑی جہاں مین کچھ دیر پہلے موجود تھا۔ ۔۔۔ اوپر عاقب بھی ہوشیار ہو گیا تھا۔۔۔۔ ہیلی کاپٹر کچھ دیر میری پچھلی جگہ پر گولیاں برسانے لگا۔۔۔۔۔
    میں بھاری بیگ کے ساتھ نیچے گرا تھا۔۔۔ اور یہی بیگ مجھے تحفظ بھی دے گیا ۔۔۔میں قلابازی کھاتے ہوئے نیچے پہنچا۔۔۔ اور خود کو سمبھالنے لگا۔۔سمبھلتے ہوئے میں ایک قلابازی اور کھائی اور گن اوپر کی طرف کرتے ہوئے ساکت ہو گیا ۔۔ عاقب میرے قریب ہی تھا۔۔ اس نے رائفل سے برسٹ مارتے ہوئے مجھے کور دینے کی کوشش کی تھی ۔۔۔ہیلی کاپٹر اس کی طرف متوجہ ہوگیا ۔مشکل مرحلہ آ گیا تھا۔۔۔ دور کے بجائے اب قریبی فائرنگ تھی ۔۔جہاں ہماری پوزیشن کے ساتھ ساتھ ہماری تعداد بھی علم میں آچکی تھی۔۔
    ۔۔ میں اب اوپر چڑھنے لگا۔۔۔ اوپر معرکہ شروع تھا ۔۔۔۔ ہیوی مشین گن نے جنگل کے درختوں کو ادھیڑنا شروع کر دیا تھا ۔۔۔۔۔۔ عاقب اسے نظر آگیا تھا۔۔ اور اسے ہی نشانے بنانے کے لئے ہیلی کاپٹرتھوڑا نیچے ہوا ۔۔۔۔اور ساتھ ہی ہیلی کاپٹر سے رسی نیچے گری ۔جس کا مطلب کچھ ہی دیر میں یہاں فوجی اترنے والے تھے۔۔۔۔ میں اوپر آیا تو ہیلی کاپڑ کو کچھ ہی فاصلے پہ پایا ۔۔ میرے لئے سنہری موقع تھا۔۔ گھٹنا زمین پر لگاتے ہوئے جی ایل لانچر کو ہیلی کاپٹر کیطرف رخ کر دیا ۔۔۔امید تھی کہ گرنیڈ اندر جا کر پھٹے گا۔۔۔ اور یہی ہوا ۔۔۔شوں کی آواز کے ساتھ گولا ہیلی کاپٹر میں گرا ۔۔۔۔۔ جو پہلے دھماکے سے بری طرح ڈگمگایا ۔۔۔اور پھر آگ پکڑنے لگا۔۔۔۔ اتنے میں عاقب کا برسٹ اترتے ہوئے فوجیوں پر پڑا ۔۔۔جو رسی پر سفر شروع کرنے والے تھے۔۔۔ میں نے بھی دوسری طرف سے فائر کھول دیا ۔۔۔اور عاقب کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔۔۔۔ گھومتا ہوا ہیلی کاپٹر آگ کی لپیٹ میں گرتا ہوا ایک سائیڈ پر گرنے لگا۔۔۔۔۔ میں بھاگتاہوا عاقب کے قریب پہنچا۔۔۔۔۔ پورا بدن مٹی سے بھر چکا تھا۔ دوسرے ہیلی کاپٹر بھی اسی طرف آنے لگے ۔۔۔اتنے میں ہم نے جنگل میں داخل ہونے والی جیپوں کی لائٹس دیکھیں ۔۔۔ہم تین اطراف سے گھر چکے تھے ۔۔ ایکدوسرے کی طرف دیکھا ۔۔۔ اور تیزی سے جنگل کے اندر بھاگنے لگے ۔۔۔۔اب ہمیں اوپر آنے والے ہیلی کاپٹر سے کہیں زیادہ ان جیپوں سے دور نکلنا تھا۔۔۔۔ ہم اونچے نیچے ٹیلوں کو پھلانگتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے ۔۔۔ ساتھ ساتھ ہی میں نے رائفل میں نیا میگزیں اٹیچ کر دیا ۔۔۔جی ایل لانچر بھی لوڈڈ تھا۔۔۔۔ بھاگتے ہوئے ہم کچھ دورگئے تھے کہ پیچھے سے بھاگتے ہوئے فوجیوں کا شور سنا ۔۔۔ جو جیپ سے اتر کر ہماری طرف بڑھ رہا تھا۔۔۔
    ساتھ ہی ہیلی کاپٹر بھی ہم سے کچھ فاصلے پر ہی اڑتا ہوا آ رہا تھا۔۔۔۔اس کی لائٹ ہم سے کچھ قدم فاصلے پر ہی تھے ۔۔۔اور کسی دم میں آتش فشاں کادہانہ کھلنےوالا تھا۔۔۔۔ عاقب نے بھاگتے ہوئے مجھے قریب آنے کا اشارہ کیا ۔۔۔ اور کہنے لگا ۔۔راجہ صاحب آپ نے اب اسی سمت میں تیزی سے بھاگنا ہے ۔۔ دو سے تین کلو میٹر آپ ایک پگڈنڈی پر پہنچیں گے ۔۔۔اسی کے ساتھ سفر کریں تو آپ شہر تک پہنچ جائیں گے ۔۔ وہاں اپنے ساتھی موجود ہیں ۔۔۔ وہ آپ کو وصول کر لیں گے ۔۔۔۔
    اور تم کیا کرو گے ۔۔۔۔۔میں نے تیز لہجے میں پوچھا ۔۔
    میری فکر نہ کریں ۔۔ میں انہیں روکتا ہوں ۔۔ ہم دونوں بھاگ نہیں پائیں گے ۔۔۔ آپ نکلیں بس ۔۔ عاقب نے پھولی ہوئی سانس میں جواب دیا۔
    میں اسے تھپکی دیتے ہوئے آگے بڑھ گیا ۔۔۔۔ وہ مقامی تھا ، زندہ گرفتا ری بھی دے سکتا تھا۔ مگر میرے لئے یہ ناممکن تھا۔ ۔۔ میں نے اب تیزی سے بھاگنا شروع کر دیا ۔۔مجھے پیچھے سے عاقب کی رائفل کا برسٹ سنائی دیا ۔۔۔ ساتھ ہی جی ایل بھی ۔۔۔ اس نے پوزیشن بدل بدل کر فائرنگ شروع کر دی تھی ۔۔۔ میں نے بیگ میں سے ضروری سامان نکالا ۔۔۔اور بیگ وہیں پھینک دیا ۔۔۔ اب تیزی سے ناک کی سیدھ میں بھاگتا چلا گیا ۔۔۔ پیچھے عاقب کی فائرنگ سنائی دے رہی تھی ۔۔ وہ بڑی کامیابی سے انہیں روک رہا تھا۔۔۔۔ ہیلی کاپٹر بھی وہیں گھوم رہا تھا۔۔۔۔ میں نے اپنی اسپیڈ تیز کرنی شروع کر دی ۔۔۔ میرا اسٹیمنا کافی اچھا ہو گیا تھا۔۔۔ اور اس وقت پیروں میں پنکھے لگ گئے تھے ۔۔۔ میں تیزی سے چھلانگیں مارتا ہوا آگے بڑھتا جا رہا تھا۔۔کنپٹی پر رگ پھڑک رہی تھی ۔۔اور میں پوری قوت سے بھاگتا رہا۔۔۔ عاقب کی فائرنگ اب رک گئیں تھیں ۔۔۔ پتا نہیں وہ کس حال میں تھا۔۔۔
    **********
    بو عقاب کی جیپ وہاں سے نکل کر کچھ دور اپنے گھر پہنچی ۔۔۔۔ جہاں اس کی خوبصورت بیوی اس کی منتظرتھی۔اس کے بیٹے نے واپس آ کر ماں کو بتا دیا تھا۔۔۔عقاب نے اسے کپڑے تیار کر نے کا کہااور خود باتھ روم کی طرف چلا گیا۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں وہ شاور کے نیچے کھڑا آج کی اطلاع پر غور کر رہا تھا۔۔۔پاکیشیا سے عمراں صاحب کی کال تھی ۔۔۔اور کسی نئے ایجنٹ کی آمد کا بتا یا تھا۔۔آنے والا اپنےساتھ مشن کی تفصیلات لا رہا تھا۔۔۔اس کا زہن تیزی سے آنے والے واقعات سوچ رہا تھا۔۔۔۔ راجہ نام کے اس ایجنٹ نے حیفہ میں پہنچنا تھا۔۔۔یہ لبنانی سرحد کی طرف سے آنے والا پہلا بڑا شہر تھا۔۔جہاں اسرائیلی آرمی کی بڑی سخت نگرانی تھی۔۔۔۔۔یہی سوچتے ہوئے عقا ب نے شاور بند کیا ۔۔اور تولیہ لپیٹے باہر آ گیا ۔۔جہاں وفا اس کی منتظر تھی ۔۔۔ خوبصورت بڑی آنکھوں والی وفا اس کے ساتھ تحریک میں شریک تھی ۔۔۔وہیں ان کے درمیان پیار کا رشتہ قائم ہوا ۔۔۔۔چند سال پہلے ہی ان کی شادی ہوئی تھی ۔۔۔
    وفا سمجھ چکی تھی ۔۔۔ کہ ابو عقاب کو سفر پر روانہ ہونا ہے ۔۔۔۔ابو عقاب نے بھی وفا کے چہرے پر فکر مندی دیکھی ۔۔اور قریب آتے ہوئے اسے خود سے لپٹا لیا۔۔ وفا کی آنکھیں نمی سے بھرنے لگی۔۔عقاب نے اس کا چہر ہ اوپر اٹھایا ۔۔اور آنسو دیکھ کر ماتھے پر چومنے لگا۔۔۔وفا کی آنکھیں مزید تیزی سے چھلکی تھی ۔۔۔۔عقاب نے اسے خود سے لپٹائے ہوئے ہلکا سا اٹھایا اور کمرے کا دروازہ بند کر دیا ۔۔۔اور لائٹس مدھم کرتے ہوئے بیڈ پر آ گیا۔۔۔وفا کے بیڈ پر لٹاتے ہوئے وہ اس کے برابر میں آیا ۔۔۔۔اور سرخ ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دئے ۔۔۔۔ہونٹوں پہ ہونٹ رکھتے ہی دونوں کے جسم کی گرمی بڑھنے لگی ۔۔۔۔۔عقاب نے ہونٹ چوستے ہوئے اپنا ایک ہاتھ وفا کے سینے پر رکھ دیا ۔۔سرخ و سپید سینہ۔۔۔جہاں نرم و ملائم ممے اس کے منتظر تھی ۔خوب ابھرے ہوئے ۔۔۔اور گول مٹول سے ۔۔بالکل درمیان میں ایک گلابی نپل۔۔۔۔وفا کے ہونٹوں سے بے اختیار سسکیاں نکلیں ۔۔۔۔اس کے ہاتھ خود بخود عقاب کے سر پر پہنچے ۔۔۔اور سہلانے لگے ۔۔۔۔ ۔عقاب اس کے ہونٹوں کو چوسنے کے ساتھ ساتھ اپنی زبان اس کے منہ میں ڈالنے لگا۔۔۔۔۔جسے وفا چوسنے لگی تھی ۔۔۔عقاب اب اس کے دوسرے ممے کو بھی دبا رہا تھا۔۔۔۔۔ اس کے جسم کی گرمی نیچے بھی پہنچی تھی ۔۔۔جہاں اس کے لن میں سختی پیدا ہونی شروع تھی ۔۔۔۔۔عقاب نے اپنی زبان چسواتے ہوئے وفا کی قمیض کو اوپر کرنا شروع کیا ۔۔۔۔وفا کچھ رکی ۔۔۔اور اوپری جسم برہنہ ہوتے ہی عقاب نے دوبارہ اس کے ہونٹوں سے ہونٹ جوڑ دیئے ۔۔اب اس کے ہاتھوں نے وفا کے نرم مموں کو تھام لیا تھا۔۔۔اور ہلکے ہلکے دباتے ہوئے دودھ اکھٹے کرنے لگا۔۔۔۔عقاب نے اپنی زبان نکالی ۔۔۔اور وفا کے ماتھے کو چومتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھا ۔۔۔۔اور پھر گال کو چوما۔۔۔۔ تھوڑی پر کس کرتے ہوئے وہ نیچے آیا۔۔۔۔اس کے ہاتھ ممے چھوڑ کر اب نیچے جا رہے تھے ۔۔۔۔۔۔ٹراؤز کونیچے دکھیلتے ہوئے وہ کچھ نیچے آیا ۔۔۔اور اپنے ہونٹ اس کے مموں پر رکھ دئے ۔۔۔۔۔نپل کو ہونٹوں میں پکڑے وہ دودھ پینے لگا۔۔۔۔اس کے ہاتھوں نے وفا کے ٹراؤز کو نیچے کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔اور اب اسکی سڈول رانوں پر پھر رہے تھے ۔۔۔۔رانوں پر ہاتھ نیچے تک آ کر اوپر آئے ۔۔۔اور پیچھے کمر کی طرف چلے گئے ۔۔۔۔۔جہاں صحت مندچوتڑ اس کی مضبوط گرفت میں تھے ۔۔۔۔۔۔ نپلز کو چوستے ہوئے عقاب کے ہونٹوں میں تیزی آ نے لگی۔۔۔ساتھ ساتھ وفا کے منہ سے بھی بے اختیار سکیا ن نکلنے لگی ۔۔۔
    عقاب کا بیٹا گھر آنے کے بعد ساتھ اپنے چچا کے ہاں چلا گیا تھا۔۔۔اسی لئے دونوں بے فکری سے ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے تھے ۔۔۔۔وفا کے انگ انگ میں بے قراری بڑھتی جارہی تھی ۔۔۔منہ سے نکلنے والی سسکیاں کمرے میں گونج رہی تھیں۔۔۔اس کے گورے موٹے ممے اس وقت وفا کے منہ میں دبے ہوئے تھے ۔۔۔۔جسے وہ بڑے مزے سے چوس رہا تھا۔۔۔۔اس کا ہاتھ رانوں ۔۔چوتڑ اور سامنے چوت کے حصے پر گھوم رہ تھا۔۔۔۔۔چوت بھی پانی چھوڑے جا رہی تھی۔۔۔۔
    عقاب کے جسم پر لپٹا تولیہ کب کا اتر چکا تھا۔۔۔اس کا موٹا لن وفا کے رانوں کے بوسے لے رہا تھا۔۔۔۔وفا کی سسکیاں بڑھ رہی تھیں ۔۔عقاب نے اوپر آتے ہوئے اپنے ہاتھ وفا کی رانوں کے نیچےسے لاتے ہوئے اس ہلکا سا اٹھایا ۔۔۔ اور سیدھا کر دیا ۔۔وفا چمکتی ہوئی آنکھوں سے اپنے اوپر جھکتے ہوئے عقاب کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ اور پھر نرم ہونٹ اس کے ہونٹ پر آن رکے ۔۔۔۔ ایک دوسرے سے ہم آغوش ہوئے ۔۔۔۔ساتھ ہی اس کے لن کی موٹی کیپ نے چوت کے لبوں کو چیرا ۔۔۔۔۔ وفا کے منہ سے بےاختیار سسکی نکلی ۔۔سس ۔۔آہ ہ ۔۔۔۔۔ ہونٹ کھلے ۔۔۔۔اور آنکھیں بند ہو گئیں ۔۔۔
    عقاب نے وفا کی رانوں کو اور اوپر اٹھا کر اس کے سینے سے لگا دی تھیں ۔۔ساتھ ہی ایک پرجوش دھکے سے اس کا لن چوت کے اندر جا پہنچا۔۔۔۔وفا کے منہ سے پھر ایک سسکی نکلی ۔۔۔۔ آئی ۔۔۔آہ ۔۔۔۔۔ عقاب اب اوپر جھکے منہ کو چوم رہا تھا۔۔۔ساتھ ہی اس کے دھکے ردھم میں شروع تھے ۔۔۔وفا کے منہ سے سسکیاں جاریں تھیں ۔۔۔سس ۔۔آہ ۔۔آہ۔۔۔۔عقاب کی اسپیڈ کے ساتھ ساتھ اس کی آہیں بھی بلند تر ہوتی جارہی تھیں ۔۔ ۔۔ وفا کے جسم ہر دھکے سے سے بیڈ میں دھنس جاتا ۔۔۔عقاب کے طاقتور جھٹکے بیڈ کر لرزائے جا رہے تھے ۔۔۔۔۔وفا کی سسکیوں کو اور بلند کر رہے تھے ۔۔۔۔اس کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی تھی ۔۔مزے کے ساتھ ہلکی سی درد کی لہر تھی ۔۔۔جو ہر بار اسے سہنی پڑ رہی تھی۔۔۔۔عقاب کے جھٹکے بڑھتے بڑھتے کچھ بے ترتیب ہوئے ۔۔ اس نے لن نکالتے ہوئے وفا کو کروٹ دی ۔۔۔اور الٹا لٹاتے ہوئے خود اوپر لیٹ گیا ۔۔۔لن پھر چوتڑوں کے درمیان سے ہوتا ہوا اس کی چوت پر آن رکا۔۔۔اور ایک دھکے سے اندر پہنچا ۔۔۔۔عقاب نے وفا کی رانوں کے گرد اپنی ٹانگیں جوڑی ۔۔۔۔اور پوری قوت سے دھکے دینا لگا۔۔۔۔ساتھ ہی اس کے ہاتھ نیچے کھسکے ۔۔اور وفا کی مموں پر آگئے ۔۔۔دونوں ہاتھ سے مموں کو دباتے ہوئے وہ اس کی گردن چوم رہا تھا۔۔۔۔وفانے چہرے سائیڈ پر کرتے ہوئےعقاب کو دیکھا ۔۔۔۔پیچھے سے اس کا سامنے کا حصہ پوری قوت سے اس کی چوتڑ پر پڑ رہا تھا۔۔۔۔۔ساتھ ہی موٹا لن چوت کی گہرائی کو ناپتا ۔۔۔سسکیاں اب بھی جاری تھیں ۔۔آہیں کچھ اور بلند ہوئی ۔۔۔۔جسم میں ایک کرنٹ سا دوڑا ۔۔۔اور اسی میں وفا کی چوت نے پانی چھوڑ دیا ۔۔تیز سانسوں کے ساتھ عقاب نے کچھ دیر اور دھکے دئے ۔۔اور سائیڈ پر لیٹ گیا۔۔۔ وفا سیدھی ہوتی ہوئی اس پر لیٹ سی گئی۔ ۔۔۔اور چہرے کو چومنا شروع کر دیا۔۔۔محبت بھرے انداز میں وہ چہرے کو گیلا کرتی ہوئی چومے جارہی تھی ۔۔۔بے اختیار ہونٹوں کوچوسے جا رہی تھی۔۔عقاب نے اپنی زبان باہر نکالی ۔۔۔جسے وفا کو ہونٹوں نے تھامتے ہوئے پکڑا ۔۔۔اور چوسنا شروع کر دیا۔۔۔نیچے ایک برق سی عقاب کے لن میں کوندی ۔۔۔اور وہ مزید سختی پکڑنے لگا۔۔۔۔ وفا دونوں پاؤں دائیں بائیں کئے عقاب کے پیٹ پر بیٹھی تھی۔۔۔۔ اور چومتے ہوئے نیچے ہورہی تھی ۔۔۔۔تھوڑی کو چومتے ہوئے وہ گردن پر آگئے ۔۔۔اور پھر عقاب کے چوڑے سینے پر اپنی زبان پھیرنے لگی ۔۔۔ اس کے سینے پر نپلز پر آ کر رکی ۔۔۔اور پھر اسے بھی ہونٹوں سے پکڑ کر کھینچنے لگی ۔۔۔عقاب دونوں ہاتھ اپنے سر کے نیچے رکھے اپنی وفا شعار بیوی کو دیکھ رہا تھا۔۔جو چاہتوں کی بارش برسانے میں مصروف تھی ۔۔۔۔۔اس کے سینے کے دونوں نپلز کو چوسنے کے بعد اب وہ اور نیچے کھسکی تھی ۔۔۔۔ اور پیٹ کو چومتے ہوئے اسکی رانوں پر بیٹھ گئی ۔۔۔عقاب کا لن بے چینی سے اس کے دونوں مموں کے درمیان لہرا رہا تھا۔۔۔ وفا کا اگلا نشانہ وہی تھا۔۔۔۔اور نیچے کو کھسکتے ہوئے اس نے شرارت سے اوپر دیکھا ۔۔۔اور اسے موٹے لن کو تھام لیا ۔۔۔۔نازک ہاتھوں کا لمس پا کر لن نے شان سے ایک اور انگڑائی لی ۔۔۔وفا نے اوپر دیکھتے ہوئے پھر اس کے کی کیپ کو چوما۔۔۔اوردوبارہ نظر عقاب پرڈالی ۔۔جو کچھ بے چین نظر آ رہا تھا۔۔۔اگلے ہی لمحے وفا پوری کیپ کو اپنے ہونٹوں میں لے چکی تھی۔۔۔اندر ہی اندر اس پر زبان پھیر رہی تھی۔۔۔ساتھ ساتھ ہی اسے اور اندر لینے کی کوشش کرنے لگی ۔۔آدھا لن اس کے منہ میں آیا ۔۔تو اس کی بس ہو چکی تھی۔۔۔اب وہ اس ہی چوسے جا رہی تھی۔۔۔اس کے ساتھ ساتھ اس کی اپنی چوت بھی پانی چھوڑنے میں لگی تھی۔۔۔۔
    وفا کے منہ کی نرماہٹ اور گیلاہٹ نے عقاب کو بے چین کر دیا تھا۔۔۔اس نے نیچے بیٹھی وفا کے بازو کو تھام اور اوپر کھینچنے لگا۔۔۔۔ وفا سمجھ گئی تھی ۔۔۔اور اوپر اٹھتے ہوئےعین اس کی لن کے اوپر آگئی ۔۔۔ایک ہاتھ سے لن کو پکڑے وہ اس پر بیٹھنے لگی۔۔۔لن چو ت کے اندر اترتا جا رہا تھا۔۔۔پور ا لن اند ر لینے کے بعد وفا اب آگے کو جھک سی گئی ۔۔۔۔اور عقاب کی آنکھوں میں جھانکا ۔۔۔۔جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔وفا کے موٹے خوبصور ت گول ممے اس کی آنکھوں کے سامنے تھے ۔۔۔عقاب کے چہرے کو چومتے ہوئے وہ سیدھی ہوئی ۔۔اس نے عقاب کے ہاتھ کو پکڑ کر اپنے سینے پر رکھا ۔۔۔۔اور اوپر نیچے ہونے لگی ۔اس کے منہ سے گرم گرم آہیں جاری تھیں۔۔۔۔آہ۔۔سس ۔۔۔آہ ۔۔۔۔۔عقاب اس کے گول مموں کو دبانے لگا۔۔۔۔وفا نے عقاب کے سینے پر ہاتھ رکھے اور اپنی اسپیڈ بڑ ھا دی ۔۔۔۔اس کے ممے اس کے ساتھ ساتھ ہل رہے تھے ۔۔۔۔اور کمر اوپر نیچے ہونے کے ساتھ گولائی میں بھی گھوم رہی تھی ۔۔۔عقاب کچھ دیر تک وفا کو دیکھا رہا ۔جو سسکتے ہوئے اوپر نیچے ہورہی تھی۔۔۔تھکنے کے آثار دکھ رہے تھے ۔۔اس نے وفا کے بازو پکر کر اپنے سینے سے لگا لیا۔۔۔۔نرم و ملائم ممے اس کے سینے پر آن لگے ۔۔۔اور پھر اپنی کمر اٹھا کر پوری قوت سے دھکا دیا ۔۔۔۔وفا کے منہ سے بے اختیار آہ نکلی ۔۔۔۔اس نے عقاب کے چہرے پر بوسے کی کوشش کی ۔۔۔۔ مگر اگلا دھکا اس سے تیز تھا ۔۔۔اس کے بعد عقاب اسے اپنے سینے پر دبائے کمر کو اچھالنے لگا۔۔۔وفا کے منہ سے سسکیاں بلند ہونے لگیں ۔۔سس ۔۔آہ ۔۔۔۔آہ ۔۔۔۔عقاب پوری قوت سے جھٹکے مارنے لگا۔۔۔۔ اس کا بھی ٹائم قریب تھا۔۔ ۔۔ دھکے پوری قوت سے بڑھتے جارہے تھے ۔۔۔۔وفا بھی دوسری باری قریب تھی۔۔۔۔اسی میں عقاب کے لن نے فوارہ چھوڑ دیا۔۔۔اگلے کچھ دھکوں میں وفا بھی ساتھ ہی فارغ ہوگئی ۔۔۔اور اسی پر لیٹ گئی ۔۔۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭

    THE DEVIL WHISPERS YOU CANT WITHSTAND THE STORM

    MY REPLIED , TAKE A SIDE , "I AM THE STORM"

  10. #106
    hard.target's Avatar
    hard.target is offline Premium Member
    Join Date
    Dec 2013
    Location
    Pakistan , India , UAE , Korea , Taiwan
    Posts
    284
    Thanks
    294
    Thanked 1,527 Times in 259 Posts
    Time Online
    5 Days 21 Hours 19 Minutes 35 Seconds
    Avg. Time Online
    5 Minutes 5 Seconds
    Rep Power
    993

    Default

    حصہ دوم گذشتہ اقساط

    میں نے درختوں کا جھنڈ ختم ہوتـگے دیکھا ۔۔۔ جنگل اب کم گھنا ہو تا جا رہا تھا۔۔۔ میں اسی تیزی سے بھاگ رہا تھا۔۔۔ یہاں تک کہ جنگل بھی ختم ہو گیا ۔۔۔ آگے دور سے کسی گاؤں کے آثارنظر آ رہے تھے ۔۔۔میں نے اس کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔۔۔ اور گاؤں کی سائیڈ سے چکر لگاتے ہوئے دوسری طرف پہنچنے لگا۔۔یہ شلومی نامی گاؤں تھا ۔۔جس کے باہر مجھے ایک جیپ ملنی تھی۔۔اور پھر دور درختوں کے جھنڈ میں مجھے ایک جیپ نظر آ گئی ۔۔قریب کھڑا شخص محتاط انداز میں کھڑا تھا۔۔۔اور شاید مسلح بھی تھا۔۔ مجھے دوڑتے ہوئے آ کر وہ چونک کر دیکھنے لگا۔۔۔ میں نے قریب جا کر ابو حامد کا نام لیا ۔۔۔ یہ اسی کا بندہ تھا۔۔ اس نے ابو حامد کا نام سنتے ہی مجھے سلا م کیا ۔۔۔اور عاقب کا پوچھنے لگا ۔۔میں نے بتا یا کہ وہ پیچھے رہ گیا ہے ۔۔۔ یہ سن کر اس نے جیپ سے ٹرانسمیٹر نکال کر ابو حامد کو اطلاع دی ۔۔اور ایک نقشہ دیتے ہوئے جیپ کی چابیاں میری طرف بڑھا دیں۔۔ جیپ کا پچھلا حصہ فیول اور کھانے پینے کی چیزوں پر مشتمل تھا۔۔ساتھ ہی ایک پرس میں کافی بھاری رقم بھی ۔۔۔ جنگل میں بیگ چھوڑتے ہوئے اپنا شناختی کارڈ اور دوسرے کاغذات پاس رکھے لئے تھے ۔۔جو اب یہاں کام آنے والے تھے ۔۔۔میں نے ہلکا پھلکا ناشتہ کیا ۔۔ کچھ دیر دیر سانس بحال کی ۔۔۔اور جیپ کا سفر شروع کر دیا ۔۔میں نے اپنا لباس بھی تبدیل کر لیا ۔۔ اب میں عام شہری جیسا دکھ رہا تھا۔۔۔ کچھ ہی دیر میں یہاں بھی فوجیوں کا ہجوم لگ جانا تھا۔۔ اور مجھے اس علاقے سے نکلنا تھا۔۔۔ شلومی سے میں نے لیمان کا راستہ لیا جو مجھے سیدھا حیفہ تک لے کے جانے والا تھا۔۔ میں ایک گھنٹے تیز ڈرائیو کرتا ہوا لیمان تک پہنچا ۔۔۔۔ ابھی ہائی وے سے شہر میں داخل ہو ہی رہا تھا کہ اوپر ہیلی کاپٹر کا ایک گروپ مجھے اڑتا ہوا لیمان کی طرف جاتا ہوا نظر آیا ۔۔۔ اورشہر میں ہی کہیں لینڈ ہوتا محسوس ہوا ۔۔۔۔ میں نے گاڑی جلدی سے ہائی وی سے نیچے اتاری ۔۔۔اور کچے میں اتار دی ۔۔ یہی بہتر ثابت ہوا ۔۔ میرے پیچھے فوجی گاڑیوں کا ایک کانوائے فل اسپیڈ میں جاتا ہوا نظر آیا ۔۔۔ جو تیزی سے لیمان میں داخل ہوا ۔۔میں سمجھ گیا ۔کہ اب آگے اور پیچھے دونوں اطراف کا راستہ بند ہو چکا ہے ۔۔۔۔پھرتی سے جیپ مزید اندر جا کر چھوڑی اور پیدل ہی باہر آیا ۔۔۔ آگے کا سفرپیدل ہی مناسب تھا ۔۔ ضروری سامان لئے میں پیدل ہی شہر میں داخل ہونے لگا۔۔ جگہ جگہ پر ناکے اورچیک پوائنٹ بنے ہوئے تھے ۔۔۔ ہر آنے جانے والے کی چیکنگ ہو رہی تھی ۔۔ میں تیز نگاہوں سے چاروں طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔ اور لوگوں کے درمیان سے راستہ بناتے ہوئے گلیوں میں سفر کرنے لگا۔۔۔اسلحے کے نام پر ایک مشین پسٹل اور کچھ میگزین تھے ۔۔۔ باقی شناختی کاغذات اورنقشہ تھا ۔۔۔ میرا ذہن تیزی سے سوچ رہا تھا کہ میں کہاں سے مدد تلاش کر سکتا ہوں ۔۔ مجھے ان فوجیوں سے بھرے ہوئے شہر سے نکلنا تھا ۔۔۔ اس انداز میں کہ ان کے سامنے سے نکل سکوں ۔۔
    صبح کے 9 بج چکے تھے ۔۔۔۔ لوگ باہرنکل کر اپنی اپنی جابس پر جا رہے تھے ۔۔۔ اتنے میں مجھے ایک ریسٹورنٹ نظر آ گیا ۔۔۔ میں شکر ادا کرتے ہوئے اس میں داخل ہو گیا ۔۔۔ مینیو میں سے ناشتہ آرڈر دیتے ہوئے سامنے ٹی وی دیکھنے لگا۔۔ جہاں بریکنگ نیوز چل رہی تھی ۔۔ کہ رات لبنان بارڈر پر سخت فائرنگ ہوئی ہے ۔۔۔ دو ہیلی کاپٹر تباہ اور 20 سے زائد اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے ۔۔۔۔ میں نے عاقب کو شاباش دی ۔۔۔دوسرا ہیلی کاپٹر اسی کا کارنامہ تھا۔۔۔ بعد میں عاقب کی گرفتاری اور دوسرے دہشت گرد کی تلاش کا بھی تھا ۔۔۔ خصوصی طور پر جنرل ہارزی حالوی بھی آچکا تھا۔نیوز چینل نے جنرل حالوی سے انٹرویو لیا تھا۔۔۔جس نے بیرونی ہاتھ کے ملوث ہونے کی بات کر کے جلد از جلد دہشت گردوں کو پکڑنے کا اعلان کیا تھا۔۔ اور اب تمام قریبی علاقوں میں سرچ آپریشن جاری تھا۔۔ جیسے جنرل خود لیڈ کر رہا تھا ۔۔۔ میرے ذہن میں ہیلی کاپٹر کا وہ اسکواڈرن آیا جو کچھ دیر پہلے ہی لیمان میں داخل ہوا تھا۔۔۔ مطلب مجھے تلاش کرنے والا بھی لیمان میں ہی موجود تھا۔۔۔ نیچے ایک لائن چل رہی تھی کہ کوئی مشکوک شخص دکھے تو اس نمبر پر رابطہ کیا ٍجائے ۔۔صحیح اطلاع پر بہت بڑا انعام رکھا گیا تھا۔۔۔ میں نے نمبر بھی نوٹ کر لیا ۔۔۔ساتھ ہی اس چینل کا نام بھی ۔پہلی خوشی یہ تھی کہ وہ اب تک دہشت گردوں کی تعداد سے بے خبر تھے ۔۔۔۔۔ اب مجھے ایک موبائل کی ضرورت تھی ۔۔ میں بل ادا کرتے ہوئے باہر آگیا ۔۔۔میرا رخ قریبی چوک کی طرف تھا۔۔۔۔ کچھ ہی دیر میں اپنے جگری یار عاصم کی طرح میں بھی ایک فون اڑا لایا ۔۔یہ بس میں بیٹھنے والا بندہ تھا اور امیدتھی کہ کافی دیر بعد اسے پتا چلنا تھا۔
    واپس ریسٹورنٹ کی طرف جاتے ہوئے میں نے رہائشی علاقے دیکھا اور اس میں مڑ گیا ۔۔۔یہاں بنگلے کافی عالیشان تھے ۔۔اور امیر لوگوں کی آبادی تھی ۔۔میں نے ایک بنگلے پر کرائے کا بورڈ دیکھا ۔۔۔اور بورڈ اتارتا ہوا بنگلے کے اندر کود گیا۔۔۔۔مین سوئچ سے الیکٹریسٹی آن کر کے میں اندر آ گیا ۔۔۔یہ فرنشڈ بنگلہ تھا۔۔میں نے ایک بیڈ روم اپنے سونے کے لئے منتخب کیا ۔۔۔اور اپنے ذہن کو تین گھنٹے کی نیند کا ٹائم دے کر سونے لیٹ گیا۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭
    ابو عقاب کچھ دیر بعد اٹھا ۔۔ وفا اس کے برابر میں لیتی آسودگی کی نیند میں گم تھی ۔۔۔۔نہانے کے دوران اس نے بیگ تیار کر لیا تھا۔۔۔ عقاب نے بیگ اٹھایا ۔۔۔ اور باہر جانے لگا ، پھر کچھ خیال آیا اور ٹی وی آن کر کے نیوز چینل لگا لیا ۔۔۔ جہاں پچھلی رات ہی بارڈر پر ہونے والی گھس پیٹ کی خبر نمایا ں تھی ۔۔ عقاب نے مسکراتے ہوئے زیرلب کہا " خوش آمدید مہمان " ۔۔ اور پھر بیگ اٹھائے ساتھ والے گھر چلا گیا ۔۔ جہاں اس کا چھوٹا بیٹا اپنے چاچا کے گھر کھیلنے میں مگن تھا ۔۔۔ اسے پیار دیتے ہوئے وہ باہر آیا ۔۔ اور جیپ لئے ٹرین اسٹیشن چلا گیا۔۔۔بے فکر ی سے اس نے سرحدی گاؤں سے کچھ دور ایک شہر کی ٹرین کی ٹکٹ لی ۔ ۔۔ اور کچھ دیر بعد ٹرین میں بیٹھا اسی طرف جا رہا تھا۔۔۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭
    میری آنکھ تین گھنٹے سے پہلے ہی کھلی تھی ۔۔ میں چونک کر بیدار ہوا ۔۔ ۔ آس پاس کوئی خطرہ تھا ۔ جس نے مجھے خودکار طریقے سے جگا دیا ۔۔۔ میں تیزی سے اٹھ کر باہر گیلری کی طرف آیا ۔۔ جہاں ایک فوجی کانوائے گشت کر رہا تھا۔۔۔ وقفے وقفے سے اگلی جیپ میں موجود سپاہی سب کو گھر میں رہنے کی تلقین کر رہا تھا۔۔۔اور یہ کہ جلد ہی تلاشی شروع ہونے والی ہے ۔۔اور یہ پورا علاقہ فوج کے گھیرے میں ہے ۔۔۔۔ اسی کے اعلان نے مجھے جگا یا تھا ۔۔۔میں تیزی سے باتھ روم کی طرف گیا ۔۔ اور چہرے پر پانی کے چھینٹے مار کر خود کو فریش کیا ۔۔۔اور پھر کچھ دیر پہلے چرایا ہوا موبائل فون آن کرنے لگا ۔۔۔نیوز چینل میں بتایا جانے والا اعلان اور چینل کا نمبر میرے ذہن میں محفوظ تھا۔۔۔ میں نے مطمئن انداز میں اسے فون کیا ۔۔اگلی کوئی طرف کوئی چینل والا بندہ تھا ۔۔شاید کوئی جرنلسٹ تھا؛۔۔۔۔فون سننے والے سے میں نےایک ذ مہ دار شہری کی طرف سے ایک مشکوک شخص کی موجودگی کی اطلاع دی۔۔۔ ایڈریس کے لئے مطلوبہ پیسے لے اس جگہ سے کچھ دور بلایا ۔۔۔۔ خوف ذدہ ہونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے میری کوشش تھی کہ وہ اکیلا آئے ۔۔۔۔ میں نے اسے اپنی جان کا خطرہ بھی بتایا کہ وہ جلد از جلد پہنچے ۔۔۔۔جرنلسٹ نے اپنا نام ریان بتا یا کہ وہ بس آدھے گھنٹے میں پہنچ رہا ہے ۔۔۔۔
    میں نے موبائل بیڈ پر پھینکا ۔۔۔۔ کمرے سے باہر آ کر میں نے اوپر کا راستہ دیکھا۔۔۔اور سیڑھیا ں چڑھ کر اوپر آگیا ۔۔میری نگاہیں چاروں طرف گھوم رہی تھی ۔۔۔ یہ ایک منظم سوسائٹی تھی ۔۔جہاں قطار سے بنگلے بنے ہوئے تھے ۔۔پچھلا والا بنگلا بھی خالی تھا ۔۔اور اس کی چھت بھی ساتھ ہی ملی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔مین روڈ یہاں سے نظر آ رہا تھا۔۔جہاں فوجی گاڑیوں کے ہجوم اتنے دور سے بھی نظر آرہے تھے ۔۔۔۔میں نے راستے ذہن نشین کئے اور نیچے اتر آیا ۔۔۔اپنی جیب سے نکلے ہوئے سارا سامان میرے سامنے تھا۔ ایک نقشہ ۔پیسے ۔ ایک چھوٹی پسٹل اور اس کے کچھ میگزین ۔۔۔میرے شناختی کارڈ جو مجھے یہاں کا باشندہ ثابت کر رہے تھے ۔۔۔ کچھ دیر بیڈ پر لیٹا آگے کا لائحہ عمل سوچنےلگا۔ مجھے جلد از جلد دارالحکومت پہنچنا تھا ، جہاں سے میرے مشن کا آغاز تھا ۔۔
    ریان کے آنے سے کچھ دیر پہلےمیں پھر چھت پر آ گیا ۔۔موبائل میرے پاس ہی تھا۔۔۔ریان کو میں نے اس گلی کے کونے پر بلایا تھا ۔۔۔ فوجی کانوائے سے ہونے والے اعلان سے یہ علاقہ گونج رہا تھا۔۔۔تھوڑی دیر میں ٹویوٹا کمپنی کی یارس گلی میں داخل ہوئی ۔۔
    نئے ماڈل کی یہ چھوٹی کارجو یقینا ریان ہی کی تھی ۔۔ظاہر کر رہی تھی کی وہ ایک ابھرتا ہوا جرنلسٹ ہے ، جس کی حال ہی میں ترقی ہوئی ہے ۔۔۔۔۔گلی کے کونے میں کار کچھ دیر رکی ۔۔اور پھر آہستگی سے آگے بڑھنے لگی ۔۔۔۔ریان نے اس علاقے میں داخل ہونے کے لئے اپنا جرنلزم کارڈ استعمال کیا ہوا گا۔۔ورنہ اس وقت نہ کوئی باہر جا سکتا تھا اور نہ کوئی آ سکتا تھا ۔۔۔ گلی کے درمیان میں آتے ہی میرے فون پر وائبریشن ہوئی ۔۔۔ریان کا فون آیا ۔۔۔میں نے اس سے گلی کے کونے کے ایک گھر کے سامنے بلایا ۔۔اور کچھ دیر انتظار کر تا رہا ۔۔۔ اس کے پیچھے کوئی گاڑی نہیں تھی ۔۔میں نے اسے سلو موش میں بیک آنے کا کہا اور خود نیچے اترنے لگا ۔۔جلد ہی میں نے دروازہ کھولا اور اسے گاڑی اندر لانے کا کہا ۔۔ ریان بڑی مہارت سے گاڑی گھما کر اندر لے آیا ۔۔ ۔ گاڑی روکتے ہوئے اس نے ہینڈ بریک کھینچے ہی تھے کہ میں پیچھے سے گیٹ بند کر کے پہنچ گیا ۔۔اس کی کنپٹی پر نپی تلی ضرب لگی ۔۔۔اور وہ آدھے گھنٹے کے لئے ہوش سے بیگانہ ہو گیا۔۔۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
    عقاب کو سفر کرتے ہوئے چھ گھنٹے گزر چکے تھے ۔۔۔۔ ۔ وہ کچھ نیند لے کر اٹھ بیٹھا ۔۔۔ حیفہ آنے والا تھا ۔۔۔ یہی اس کی منزل تھی ۔۔۔۔۔ اسٹیشن سے نکلتے ہی اس نے ایک کیب بک کی ۔۔اور رام بام ہاسپٹل چلنے کا کہا ۔۔ یہ ہاسپٹل حیفہ کے مشہور ہسپتالوں میں سے ایک تھا ۔۔۔ عقاب اپنی تیز نگاہوں سے چاروں طرف کا جائزہ بھی لیتا جا رہا تھا۔۔۔ ابھی تک سب سکون ہی تھا ۔۔۔ سرحدی علاقے کی سختی یہاں تک نہیں پہنچی تھی ۔۔کیونکہ یہ علاقہ وہاں سے کافی دور تھا ۔۔۔۔ کیب نے ایک گھنٹے میں اسے ہاسپٹل کے سامنے اتار دیا ۔۔۔۔۔عقاب نے کیب والے کو کرایہ ادا کر کے مین گیٹ کے بجائے ٹیچنگ اسکول کا رخ کیا جہاں نرس اور میڈیکل اسٹوڈنٹس کی کلاسز ہوتی ہیں ۔۔۔ایجوکیشن بلڈنگ میں وہ ہاسٹل کی طرف گیا ۔۔اور تیسرے فلور واقع ایک کمرے کا لاک کھولنے لگا۔۔۔عقاب نے ابھی نوجوانی میں قدم رکھا تھا۔۔۔ اور شہر کے بہت سے تعلیمی اداروں میں اس نے مختلف کورسز میں ایڈمیشن لے رکھے ۔۔۔اس کا فائدہ یہ تھا کہ اسے ہاسٹل کے روم بھی ساتھ ہی دئے گئے تھے ۔۔۔عقاب نے بیگ ہاسٹل میں رکھا ۔۔۔اور اپنا یونیفارم نکال کر پہننے لگا۔۔۔کچھ دیر بعد وہ اپنااسٹوڈنٹ کارڈ لگائے ہاسپٹل کی ایمر جنسی میں پہنچ چکا تھا۔۔۔اس کی نگاہیں کسی کو ڈھونڈ رہیں تھیں ۔۔۔جلد ہی اس کی نظریں ایک سنہرے بالوں والی نرس پہ پڑی ۔۔۔۔ عقاب نے خفیف سا اشار ہ کیا ۔۔۔اور واپس چلا آیا ۔۔اس کا رخ کینٹین کی طرف تھا ۔۔۔دو کافی کا آرڈر دے کر وہ ایک کارنر سیٹ پر جا بیٹھا ۔۔۔جلد ہی وہ خوبصورت نرس بھی اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی ۔۔۔۔ کشادہ بڑی بڑی آنکھوں اور شادابی رنگت والی یہ فاریہ تھی ۔۔۔فلسطین کی تحریک آزادی کی سب سے فعال رکن ۔۔ جسے چھلاوہ کے نام سے جانا جاتا تھا ۔۔اسرائیلی انٹیلی جنس اسے پکڑنے میں اب تک ناکام تھی ۔۔مختلف نام اور چہروں سے مختلف علاقے میں کام کرتی ۔۔اور پھر غائب ہو جاتی ۔آجکل اس ہاسپٹل میں نرس کا کام کر رہی تھی ۔۔اس کی اعلیٰ تعلیم اور بے پناہ حسن اسے کہیں بھی ایڈجسٹ کروا دیتا تھا۔۔۔۔۔ کافی آ چکی تھی ۔۔۔ اور کافی ختم ہونے تک عقاب اسے کوڈ ورڈ میں نئے پرندے کی آمد بتا چکا تھا۔۔۔فاریہ کی آنکھیں چمک رہی تھی ۔۔اور شادابی رنگت کی سرخی پہلے سے بڑھ گئی ۔۔ پھر سے ایکشن میں آنے کا وقت آ گیا تھا۔۔۔عقاب نے اسے پوری تفصیل بتائی ۔۔۔اور پھر واپس ہاسٹل کی طرف آ گیا۔۔کچھ دن اسے اپنی مصروفیا ت اور ضروری سامان اکھٹا کرنا تھا۔۔۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

    شام کا وقت تھا۔۔۔نیلے رنگ کی ٹویوٹا یارس تیزی سے گھر سے نکلی ۔۔۔اور کالونی سے باہر والے رستے کی طرف دوڑنے لگی۔۔۔ جی پی ایس پر مخصوس روٹ سیلیکٹ ہو چکا تھا۔۔۔کالونی کے گیٹ پر ہی ایک فوجی نے اسے رکنے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔یہ ایک عارضی بیرئیر تھا ۔۔جس کے اطراف فوجیوں کی بڑی تعداد چوکس کھڑی تھی ۔۔۔۔۔ ڈرائیونگ سیٹ کا شیشہ نیچے سرکا ۔۔۔اور جرنلسٹ کا کارڈ باہر نکلا ۔۔۔ساتھ ہی ایک شناختی کارڈ بھی جس پر ریان نام لکھا تھا۔۔۔فوجی نے بغور کارڈ اور ڈرائیور کو دیکھا ۔۔۔اور آگے بڑھنے کا اشارہ دے دیا۔۔۔۔
    کار مین روڈ پر نکلی ۔۔۔اور جی پی ایس کو فالو کرنے لگی ۔۔۔۔ کار جلد ہی ایک ملٹری رہائشی ایریے میں داخل ہوئی ۔۔۔سخت حفاظتی اقدامات سے گزر کر اندر کی طرف روانہ ہوئی ۔۔۔کاغذات مکمل تھے ۔۔۔جدید مشین سے گاڑی کی چیکنگ ہوئی تھی ۔۔۔۔باہر جتنی سختی تھی ۔۔اندر اتنے ہی خوبصورت گھر تھے ۔۔۔۔بڑے سے پارک کے برابر سے گذرتے ہوئے کار لیفٹ پر مڑ گئی ۔ ۔۔ اس سائیڈ پر بنے گھر وں کا انداز ہی الگ تھا۔۔۔۔جلد ہی ایک گھر کے سامنے کار رک گئی ۔۔۔نیم پلیٹ پر ریٹائر جنرل موشے کا نام لکھا تھا۔۔۔گاڑی کا ہارن دو بار مخصوص انداز میں بجا ۔۔اور پھر گیٹ کھلتا نظر آیا ۔۔۔ کار اندر کھڑی ہوئی ۔۔اور پھر کار کا دروازہ کھلا ۔۔۔
    ریان کو بے ہوش کر کے میں اندر کوٹھی میں لے گیا تھا۔۔۔میرا ارادہ اس سے معلومات اکھٹا کرنے کا تھا۔۔۔ مگر خوش قسمتی میرا ساتھ دے رہی تھی ۔۔ ۔۔۔ریان نے ہوش میں آکر بہت قیمتی معلومات دی تھین۔۔جس سے فورا ہی لائن آف ایکشن بنتی چلی گئی ۔۔ ریان کے ایک انکل ریٹائر جنرل تھے ۔۔۔ جو اس ملٹری ایریا میں رہتے تھے ۔۔۔ چونکہ وہ اکیلے رہتے تھے ۔۔۔اس لئے ریان اکثر ان کے ہاں جایا کرتا ۔مجھے بس ریان کو آخری سفر پر روانہ کر کے اس کا میک اپ کرنا تھا۔۔جسے میں نے تیزی سے نبٹایا تھا۔۔۔۔
    اور ان سب سے بڑا بونس موجودہ سرحدی فوج کا کمانڈر جنرل حالوی بھی اس گھر کے قریب تھا۔۔۔
    کار کا دروازہ کھولتے ہی میں حرکت میں آ گیا ۔۔۔ ہر چند کہ میں ریان کے میک اپ میں تھا ۔۔مگر یہ اتنا پرفیکٹ نہیں تھا ۔گارڈ قریب سے دیکھ کر مجھے پہچان سکتا تھا۔۔۔۔چاروں طرف سیکورٹی کیمرے دیکھتے ہوئے میں پچھلی طرف بڑھا ۔۔جہاں ایک گارڈ گیٹ بند کر چکا تھا۔۔۔کھڑی ہتھیلی پوری قوت سے اس کی گردن پر پڑی ۔۔۔اور کڑاک کی آواز کے ساتھ وہ نیچے گرنے لگا ۔۔جسے میں سنبھالتے ہوئے کار کے نیچے دھکیلنے لگا۔۔گارڈ کی ایم پی فائیو اب میرے کندھے پر لٹکی تھی ۔۔۔اپنا پسٹل میں پیچھے چھوڑ کر آیا تھا۔۔ورنہ اس ایریا میں داخل ہونا ممکن نہ ہوتا۔۔۔ اب اس گھر میں ریان کا انکل اور ایک شیف تھا۔۔۔۔۔ میں گیراج سے سیدھا لاؤنج میں داخل ہوا ۔۔۔۔۔جس سے ایک راستہ بیڈروم کی طرف اور دوسرا امریکن طرز کے کچن پر ختم ہو رہا تھا ۔۔۔۔میں پہلے کچن کی طرف گیا ۔۔شیف کو بے ہوشی کی نیند سلا کر باندھ آیا ۔۔اور پھر جنرل موشے کی طرف آیا ۔ان سے کچھ دیر بات کی ۔۔اور مشکوک ہونے سے پہلے ہی ان کی کنپٹی پر پٹاخہ پھوٹا ۔۔کچھ ہی دیر میں وہ بھی ہوش سے بیگانے تھے ۔۔میں اس کے بولنے کا انداز اور آواز کا لہجہ محفوظ کر چکا تھا۔۔۔میرے پلان کا ایک حصہ یہاں مکمل ہو گیا تھا۔۔۔۔
    گھر کی تلاشی مکمل ہو چکی تھی ۔۔۔اور میں اپنے کام کی تمام چیزیں لاؤنج میں اکٹھی کر چکا تھا۔۔ ۔۔مجھے اب جنرل موشے کا میک اپ کرنا تھا۔۔بے ہوش جنرل کو کرسی پر ٹکا کر میں اپنے چہرے پر میک اپ میں مصروف ہو گیا۔۔۔ جرنل کی عمر 50 کے آس پاس تھی ۔۔مگر اب بھی کافی فٹ تھا ۔۔۔ کچھ ہی دیر میں لاؤنج میں دو جنرل موشے تھے ۔۔۔عمراں صاحب کی سکھائی ہوئی تربیت اور ہنر میں نے پورا پورا آزمایا تھا۔۔۔۔ پیٹ پر فیٹ کی اضافی تہہ کے لئے پیڈنگ استعمال کی تھی ۔۔۔۔اور پھر جنرل موشے کے ہی کپڑے پہنے میں تیار تھا۔۔۔ رات کے 9 بجے تھے ۔۔ کہ میں جنرل حالوی کے گھر پر دستک دے رہا تھا۔۔۔۔ اندر سے بیٹ مین نے جھانکا اور پھر دروازہ کھول دیا ۔۔۔ مین مناسب قدموں سے چلتا ہوا اندر کی جانب بڑھنے لگا ۔۔مجھے موشے کے چلنے کا انداز نہیں پتا تھا۔۔۔پھر بھی میں آہستگی سے چلتا ہوا اندر داخل ہوا ۔۔۔
    لاؤنج میں داخل ہوتے ہی میں ہڑ بڑا گیا۔۔۔ ۔۔مجھے دیکھتے ہی ایک نو عمر لڑکی چلائی تھی ۔۔۔اور اپنی ماما کو آواز دینے لگی۔۔لڑکی نے جوانی میں قدم ہی رکھا تھا۔۔۔مگر اس کا بھرا بھرا جسم اس کی باغی جوانی کے عروج پر تھا۔۔۔۔ کچھ ہی دیر میں ایک جوان عورت لاؤنج میں داخل ہوئی ۔۔۔مجھے دیکھتے ہی اس کی آنکھوں کی چمک بڑھ گئی ۔۔۔ اس نے اپنی بیٹی کو رینا کہہ کر پکارا ۔۔اور اپنے کمرے میں جانے کا کہا۔۔رینا مجھے دیکھتے ہوئے معنی خیز انداز میں مسکرائی ۔۔۔اور اپنےکمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔
    میں نے اس کے قدموں کو دور ہوتے ہوئے دیکھا ۔۔اور پھر شارا کی طرف متوجہ ہوا۔۔جس کے آنکھوں میں میرے لئے بہت کچھ تھا۔۔
    ریان نے مرنے سے پہلے سب سے بڑی نیکی کی تھی ۔یہ بتا کر کہ۔۔جنرل موشے اور حالوی کی بیوی کا آپس میں معاشقہ تھا ۔۔۔ مجھے اس خبر نے اچھلنے پر مجبور کر دیا تھا۔ ۔۔۔۔ اس کے بعد بھی مین حرکت میں نہ آ تا تو کیا فائدہ ۔
    شارا مجھے لئے ہوئے اپنے بیڈ روم میں داخل ہوئی ۔۔۔اور کمرے کو بند کرتے ہوئے مجھے سے لپٹنے لگی ۔۔۔گال پہ کس کرتے ہوئے اس نے سرگوشی کی ۔۔بالکل صحیح وقت آئے ہو ۔۔۔۔حالوی آج بھی میٹنگ کے سلسلے میں رات باہر ہے ۔۔۔ ساتھ ہی اس کے نرم نرم ہونٹ میرے ہونٹ سے ٹکرائے ۔۔سینے کے کھڑے ہوئے گول ابھار میرے سینے سے ٹکرا رہے تھے ۔۔۔۔۔شارا کا جوش مجھے اکسا رہا تھا۔۔۔ امڈتی ہوئی جوانی دعوت دے رہی تھی ۔۔۔۔ کسا ہوا گداز بدن پکار رہا تھا۔۔۔میں کچھ دیر تک جوابی دفاع کرتا رہا۔۔۔۔۔اور پھر حرکت میں آنے کا سوچا۔۔۔میں نے جھکتے ہوئے شارا کو بانہوں میں اٹھایا ۔۔۔اور بیڈ پر اچھال دیا۔۔۔۔شارا کی آنکھوں کی حیوانی چمک نے مجھے شعلہ بنا دیا تھا۔۔۔ شارا کے بال کھل گئے ۔۔۔۔کہنی کے بل پر لیتے ہوئے اس نے ہلکی سی ٹانگیں کھولیں ۔۔۔جیسے مجھے آنے کا اشارہ دیا ہو ۔۔۔۔
    میں نے قریب دیوار کی طرف نگاہ ڈالی ۔۔۔اور لائٹ آف کرتے ہوئے ڈم لائٹ کھول دی ۔۔نیم اندھیرے میں شارا کی آنکھیں مجھے راستہ دکھا رہی تھی ۔۔میں بیڈ پر پہنچ گیا۔۔۔۔شارا نے مجھے خود پر کھینچ لیا تھا۔۔۔اور ہونٹ سے ہونٹ ملا دیا ۔۔۔۔اب کی بار میں بھی جواب میں کس شروع کی ۔۔۔۔۔میرے اشتعال انگیز بوسوں نے جلد ہی اسے نڈھال کر دیا ۔۔۔ ۔شارا نے پیچھے سر رکھا اور گہرا سانس لینے لگی ۔۔۔میں بوسہ دیتے ہوئے نیچے کو آیا ۔۔۔جہاں اس کا ابھرا ہوا سینہ مجھے دعوت دے رہا تھا۔۔۔خوب گول اور شرٹ میں پھنسے ہوئے ممے تھے ۔۔۔۔۔۔میں نے بٹن کھولنے کی زحمت نہیں کی ۔۔۔اور دونوں ہاتھ رکھ کر ہلکا سا جھٹکا دیا۔۔۔۔کڑاک کی آواز سے ایک ایک بٹن ٹوٹا اور وہ آگے سے کھلتی چلی گئی ۔۔۔۔جہاں سفید برا میں قید گور ے ممے شان سے کھڑے ہوئے تھے ۔۔۔۔شارا کے منہ سے ہلکی کراہ نکلی ۔۔۔ساتھ ہی اس نے میرے سر پر رکھے اپنے ہاتھوں سے بال کو ہلکا سے کھینچا ۔۔۔جیسے سرزنش کر رہی ہو۔۔۔۔میں نے ایک نظر اس کی چمکتی ہوئی آنکھوں میں دیکھا ۔۔۔اور برا پر بھی دونوں ہاتھ رکھ دئے ۔۔۔اس سے پہلے کے وہ کچھ سمجھتی ۔۔۔میرے مضبوط ہاتھوں نے برا کو سامنے سے دوحصوں میں تقسیم کر دیا۔۔۔شارا کے بڑے اور گول ممے ہلکے سے نیچے کو ہوئے ۔۔۔۔۔ میں ایک پر ہاتھ رکھتے ہوئے دوسرے پر اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا۔۔۔سیدھا مما پکڑے میں اپنے منہ میں لینے کی کوشش میں تھا۔۔۔مگر اسے اپنی آزادی عزیز تھی ۔۔۔دوسرے ممے کا نپل میری انگلی اور انگوٹھے کے درمیان گھوم رہا تھا۔۔۔۔۔شارا کے منہ سے ہلکی سی درد بھری سسکاری نکلی ۔۔۔میرے سر پر اس کے ہاتھوں نے بالوں کو اور کھینچا۔۔۔۔میں نے منہ میں دبے ہوئے ممے کو پیاسے بچے کی طرح چوسنا شروع کر دیا۔۔۔۔۔شارا کے لئے یہ انداز اور ایسا حملہ نیا تھا۔۔۔اس کے منہ سے درد اور مزے کی سسکاریان نکلنے لگیں ۔اس کی بے قراری بڑھنے لگی۔۔۔ساتھ ہی اس کی ٹانگیں اور کھل گئیں ۔۔اور مجھے اور آگے بڑھنے کا موقع ملا ۔۔۔میں اس کے پیٹ سے پیٹ ملائے دونوں ممے باری باری چوسنے میں مگن تھا ۔۔۔۔شارا کے ہاتھ میرے سر پر گردش کر رہے تھے ۔۔۔۔۔اور درد بھری سسکاریاں پورے کمرے میں گونج رہی تھیں ۔۔۔۔
    میں نے ایک ہاتھ آزاد کرتے ہوئے اس کے ٹراؤزر کو نیچے دکھیلنے لگا۔۔۔میرا ہاتھ اس کی گداز رانوں اور درمیاں میں ایک پتلی سی لکیر پر گھومنے لگا ۔۔۔۔شارا کی آواز اور لہجہ اور بلند ہوا ۔۔۔ میں کچھ دیر اور مساج کرتا رہا۔۔۔۔اس کی چوت کو پانی بہاتے ہوئے کافی ٹائم ہو گیا تھا۔۔۔۔اور اب وہ میری شرٹ کے بٹن کھولنے میں مصروف تھی ۔۔۔منہ سے سسکیاں اسی طرح جاری تھی۔۔۔۔۔شرٹ کھولنے کے بعد وہ پینٹ کی طرف بڑھنے لگی۔۔۔مگر اس سےپہلے میں نے اسے روک دیا۔۔۔۔اس کی حیرانگی بجا تھی ۔۔۔میں نے اس کے ہاتھ اس کے ممے پر رکھوائے ۔۔۔۔۔اور اپنی پینٹ کو نیچے کھسکا دیا۔۔۔جہاں ہتھیار اپنے پورے جوبن پر تھا۔۔۔کافی وقت بعد اسے اپنی کارگردگی دکھانے کا موقع مل رہا تھا۔۔۔ اب یہ الگ بات کہ کہ شارا اسے جھیل پاتی یا نہیں ۔۔۔۔
    پینٹ اترنے کے ساتھ ہی ہتھیار اپنی پوری لمبائی میں آ چکاتھا ۔۔لمبائی اور موٹائی کے وزن سے لہراتا ہوا ہتھیار شارا کی رانوں کو چھونے لگا۔۔۔۔ہتھیار کی گرمی شارا تک بھی پہنچی تھی ۔۔۔جبھی اس نے ہلکی سی اپنی ٹانگوں کو پھیلایا ۔۔۔میں اس کی ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا ۔۔۔۔اور ہتھیار کے ٹوپے کو چوت کے لبوں پر مسلنے لگا۔۔۔۔ساتھ ہی شارا پر جھک گیا۔۔۔۔۔موٹے ٹوپے کی دستک نے شارا کے ہونٹوں سے رال بہا دی تھی ۔۔۔ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے اس نے عجیب سے انداز سے مجھے دیکھا ۔۔۔میں نے ٹوپے کا دباؤ بڑھا یا ۔۔۔۔پھولے ہوئے ٹوپے نے چوت کے لبوں کو چیرا ۔۔۔اور اندر جا پھنسا ۔۔۔شارا کے منہ سے ایک ہلکی چیخ نکلی ۔۔ساتھ ہی حیرت اس کے چہرے پر نمودار ہوئی ۔۔۔آج والا مہمان کچھ مختلف تھا۔۔جس نے اس کے چوت کے لبوں میں اترنے کے بجائے اسےاپنی آخری حد تک کھلنے پر مجبور کر دیا ۔۔۔۔میں نے ٹوپے کو ہلکا سے دھکا دیتے ہوئے مکمل طور پر اندر پہنچا یا ۔۔شارا ایک درد بھری کراہ کے ساتھ اوپر کو اٹھی ۔۔۔جسم ہلکا سا کانپا ۔۔۔۔میں نے اپنا سرنیچے جھکایا ۔۔۔اور ایک ممے پر اپنے دانتوں کی پکڑ کر لی۔۔۔شارا میرے نیچے سے نکلنے کی کوشش میں تھی ۔۔۔۔۔اس نے دونوں ہاتھ نیچے لے جا کر ہتھیار کو تھامنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔ساتھ ہی حیرت بھرے الفاظ میں کچھ پوچھا۔۔۔۔۔۔میں نے جواب دینے کے بجائے اس کے ہاتھ اوپر کئے۔۔اور۔۔۔۔دباؤ بڑھا دیا۔۔۔شارا کے منہ سے ایک بلند چیخ نکلی ۔۔۔۔۔۔۔ایک طرف اس کی چوت نے درد سہا ۔۔۔دوسری طرف ممے پر گڑے میرے دانت ۔۔۔۔میں نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے ایک اور دھکا دیا ۔۔۔اور آدھا ہتھیار اندر پہنچا دیا ۔۔۔۔شارا کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے ۔۔۔۔اوپر کو اٹھی ہوئی آنکھوں میں بے تحاشہ درد اور حیرت رقصان تھی ۔۔۔۔۔۔میں نے ممے کو ہلکا سا کاٹے ہوئے چھوڑ دیا۔۔۔میرے دانتوں کے نشان نے اسے سرخ کر دیا تھا۔۔۔دانت کے نشان اندر گڑ گئے تھے ۔۔۔۔۔
    شارا کے منہ پر میرا ہاتھ بدستور تھا۔۔۔نیچے اس کی مزاحمت اسی طرح تھی ۔۔۔میں نے پھنسے ہوئے ہتھیار کو کھینچا ۔۔۔اور دوبار دھکیل دیا۔۔۔شارا کے سینے پر گول ممے اوپر کو اٹھے ۔۔۔اس کے ہونٹوں سے پھر دبی دبی کراہ نکلی ۔۔۔۔اسے ابھی تک سمجھ نہیں آیا تھا کہ یہ ہوا کیا ہے ۔۔۔۔۔حیرت ۔۔۔درد ۔۔۔۔اور مزے کی آخری حد پر تھی ۔۔۔ میں نے کچھ دیر ہتھیار کو روکے رکھا ۔۔۔اور پھر ہلکے ہلکے سے ہلنا شروع کر دیا۔۔۔۔۔شارا کا بدن بھی میری حرکت کے ساتھ حرکت میں تھا۔دونوں ہاتھ میرے سینے پر تھے ۔۔۔شاید روک رہے تھے ۔۔۔۔۔منہ سے دبی دبی چیخیں اب تک جاری۔۔۔۔میرے دھکے اس کے جسم کو لرزائے جا رہے تھے ۔۔۔۔اس کی آنکھیں مجھ پر جمی ہوئی تھیں ۔۔جس میں تقریبا سارے ہی جذبات نظر آ رہے تھے ۔۔۔۔
    میں نے اپنی اسپیڈ ہلکی سی تیز کی تھی ۔۔۔۔چوت کے پانی بہانے کی اسپیڈ بھی ویسی ہی تھی ۔۔۔۔مگر ہتھیار نے اس کے گیلے پن کا کوئی اثر نہیں لیا۔۔۔اور اسی طرح پھنستا پھنساتا اندر باہر ہو رہا تھا۔۔۔۔شارا کے ہاتھ بدستور میرے سینے پر تھے ۔۔۔۔میرے تیزی ہوتی ہوئی اسپیڈ اس کے منہ سے نکلنے والی کراہوں کو اور بڑھا رہے تھے ۔۔۔۔۔۔میں نے شارا کی پھیلی ہو ئی ٹانگوں کو سمیٹا ۔۔۔۔اور اس کے سینے سے لگا دیا ۔۔۔اس کے منہ سے ہاتھ ہٹتے ہی آہیں او ر کراہیں کھل کر کمرے میں گونجی ۔۔۔جو یقینا باہر تک گئی تھی ۔۔۔میں نے سینے سے لگی ہوئی اس کی ٹانگوں کو مزید اوپر کرتے ہوئے رکھا ۔۔۔چوتڑ بیڈ سے اٹھ گئے ۔۔۔میں اپنےپاؤں کے بل اس پر سوار تھا۔۔۔پہلے ہی جاندار دھکے نے اسے لرزا دیا تھا۔۔۔۔آہ ہ ہ ۔۔۔۔اوئی ۔۔۔سس سس ۔۔کی آواز بلند ہوئی ۔۔۔مین نے کوئی دھیان نہیں دیا ۔۔اور ایک بھرپور دھکا دوبارہ دے مارا ۔۔۔۔۔۔شارا کے منہ سے پھر ایک چیخ نکلی ۔۔۔۔میرے نیچے دبی ہوئی وہ بس منہ کھولے چلا سکتی تھی ۔۔۔اور وہ کر رہی تھی ۔۔اسے گھر میں کسی اور کو موجودگی کا کوئی احساس نہیں تھا۔۔۔
    درد اور مزے کی آمیزش نے اسے اب تک میرے بارے میں بھی سوچنے نہیں دیا ۔۔۔۔۔ اس کی چوت کئی بار پانی چھوڑ چکی تھی ۔۔۔ اور ایک بار پھر پانی چھوڑ چکی تھی ۔۔۔۔۔میں نے کئی جاندار جھٹکے مارے ۔۔۔۔اور پانچویں بار بھی چوت نے پانی چھوڑ دیا ۔۔۔
    میں نے اس کی ٹانگیں چھوڑیں ۔۔اور سیدھی کی ۔۔۔۔۔۔شارا کی آنکھوں کی حیرت کے جواب میں صرف وحشت تھی ۔۔جسے وہ شاید پڑھ بھی پا رہی تھی ۔۔۔۔میں نے ٹانگیں سیدھی کرتی ہوئی اس کروٹ دی ۔۔۔اور الٹا لٹا دیا۔۔۔۔لیٹتے ہوئے اس نے میرے ہتھیار کی طرف دیکھا ۔۔۔جو نیم تاریکی میں اس مزید ڈرا گیا ۔۔۔۔میں نے الٹی لیٹی شارا کے چوتڑ کو دائیں بائیں ہاتھ رکھا ۔۔۔اور اسے کچھ اٹھا دیا ۔۔۔شارا نے بھی اپنی کمر اٹھا لی ۔۔۔۔آدھی گھوڑی بنی شارا نے پیچھے مڑ کر دیکھنا چاہا ۔۔۔میں اس کے اوپر سوار ہونے لگا تھا۔۔۔۔ہتھیار کے ٹوپے نے چوتڑ کے درمیان سے لبوں کے درمیان جگہ بنائی ۔۔۔اور بھرپور ٹھوکر لگائی ۔۔۔۔میں نے بھی چوتڑ کو پکڑے ہوئے پیچھے کو کھینچا۔۔۔
    ٹوپا پہلی بار کی طرح اندر جا پھنسا ۔۔۔۔۔میں نے ایک قدم آگے بڑھاتے ایک دھکا اور دیا ۔۔۔ہتھیار پھسلتا ہوا اپنی آدھی لمبائی تک اندر جاپہنچا ۔۔۔۔شارا کی سریلی چیخ بلند ہوئی ۔۔۔آہ ہ ہ ۔۔۔۔سس ۔۔۔آہ ہ ہ۔۔۔۔۔میں نے چوتڑ پکڑے ہوئے مزید ایک قدم آگے بڑھ آیا ۔۔۔اور پورے ہتھیار کو اندر اتار دیا۔۔۔شارا اب کی بار آگے کو لپکی ۔۔۔درد کی شدت نے اسے چوتڑ اوپر اچھالنے پر مجبور کیا ۔۔اگلا بدن ایک دم نیچے گرا تھا۔۔۔منہ سے ایک بلند چیخ نکلی ۔۔۔۔پورا ہتھیار اندر بری طرح سے جکڑا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔میں نے ہلاتے ہوئے ہتھیار کو واپس کھینچا۔۔۔اور دوبارہ بھرپور دھکے سے اندر پہنچا یا۔۔۔۔۔شارا کا جسم ہلکے سے کانپا ۔۔۔۔کراہ بلند ہوئی ۔۔آہ ہ ۔۔۔۔سس۔۔۔ اس کے بعد میں دھکوں کی مشین چلا دی ۔۔۔جو پہلے درمیانی اسپیڈ پر تھے ۔۔۔اور اب اپنی اصل اسپیڈ پکڑتے جا رہے تھے ۔۔۔
    شارا کا پورا بدن آگے کو لپکتا ۔۔۔جسے میں چوتڑ سے قابو رکھے ہوئے تھا۔۔۔۔دھکوں کی تیزی نے اسے بیڈ سے چپکا دیاتھا۔۔۔صرف اس کے ابھرے ہوئے چوتڑ تھے ۔۔۔جو میرے طاقتور دھکوں کو سمبھالنے کی کوشش میں بج رہے تھے ۔۔۔۔۔دھکوں کی طاقت نے گورے چوتڑوں کو بھی لال کر دیا تھا۔۔۔۔شارا کے منہ سے سسکیوں اور کراہوں کا نہ رکنے والا ایک طوفان تھا ۔۔۔کبھی تو ایسے لگتا جیسے وہ زور لگا کر چلا رہی ہو ۔۔۔۔۔شارا مزید کئی بار پانی چھوڑ چکی تھی ۔اسکی چوت سے رگڑ کھا کر ہتھیار باہر سے بھی گرم ہو چکا تھا۔۔۔۔۔شارا اب پیچھے مڑتی ہوئی معافی مانگنے پر آمادہ تھی ۔۔۔چہرے پر بے چارگی ۔۔۔اور جسم میں کمزوری لگ رہی تھی۔۔۔میری اسپیڈ جو بڑھتی ہوئی طوفانی ہورہی تھی ۔۔۔۔۔اس کے لئے ناقابل برداشت تھی ۔۔۔میں ایک لمحے کے لئے رکا ۔۔۔۔
    یہی وقت تھا جب مجھے دروازے پر آہٹ محسوس ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


    فاریہ سے ملنے کے بعد عقاب خاموش نہیں بیٹھا تھا۔۔۔وہ اپنے کام سے اچھے سے واقف تھا۔۔اس نے فورا سے پہلے ہی اپنے بندے بلوا کر ذمہ داریاں لگا دی تھی۔۔۔ اسلحے اور گاڑیوں کی بھی بڑی تعداد اس کے آس پاس پہنچ چکی تھی ۔۔۔۔یہاں ہونے والے کوئی بھی حرکت اس کی نگاہوں سے بچ نہیں سکتی تھی ۔۔۔ فاریہ بھی اسی طرح ہوشیا ر تھی ۔۔۔۔۔عقاب بے چینی سے کسی اطلاع کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔۔ رات کا پچھلا پہر تھا ۔۔جب ایمرجنسی میں موجود فون کی گھنٹی بجی ۔یہاں فاریہ کی ڈیوٹی تھی ۔۔۔۔ اس نے فون اٹھا کر کان سے لگا لیا ۔۔۔۔

    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

    دروازے کی آہٹ بہت معمولی سی تھی ۔۔۔مگر میرے حساس کانوں نے مجھےبروقت آگاہ کیا تھا۔۔۔شارا نڈھال ہوتی جا رہی تھی ۔۔۔میں نے اسے آگے دھکیلا۔۔۔ اس نے تشکر کی نظروں سے مجھے دیکھا ۔۔اور سیدھی لیٹ کر آنکھیں بند کر لیں ۔۔اسے اب لمبے آرام کی ضرورت تھی ، اپنی ضائع شدہ توانائی اکھٹا کرنے میں ۔۔۔۔میں نے تولیہ اٹھا کر لپیٹا اور دروازے کی طرف قدم بڑھا دئے ۔۔۔ قدم بے آواز تھے ۔۔۔

    دروازے کا ہینڈل گھماتے ہوئے میں نےہلکا سا کھینچا ۔۔۔ساتھ ہی ایک لطیف سا جسم مجھ سے ٹکرایا ۔۔

    یہ رینا تھی ۔۔ جسے اس کی ماں کی چیخوں نے متوجہ کیا تھا۔۔رینا سمبھل کر الگ ہوئی ۔۔مجھے اس کی طرف سے معذرت کا انتظار تھا۔۔کہ وہ اپنی یہاں موجودگی پر سوری کرے گی ۔معذرت کرے گی ۔۔۔مگر اگلا لمحہ میرے لئے حیرت کا باعث تھا۔۔مجھے بازو سے پکڑ کر وہ باہر کھینچ رہی تھی ۔۔۔میں نے ایک قدم باہر بڑھایا ۔۔۔

    انکل کیا کر دیا ہے آپ نے ۔۔۔ کوئی میڈیسن لی ہےکیا ؟ ۔۔۔ماما کی تو حالت خراب کردی۔۔رینا نے ایک سانس میں کہ دیا ۔۔۔

    میں ششدر کھڑا تھا ۔۔سوچ میں گم تھا۔۔جنرل موشے تو ماں کے ساتھ بیٹی کے ساتھ بھی انوالو تھا۔۔میں نے جلد ی سے انکار میں سر ہلایا ۔۔رینا کو یقین آیا یا نہیں ۔۔اس نے میرے ہاتھ کو تھاما ۔۔اور ۔۔کھینچنے لگی۔۔ ہلکی نیم روشنی میں رینا مجھے لئے اپنے کمرے کی طرف بڑ ھ رہی تھی ۔۔اور میں خاموشی سے اس کے ساتھ کھسکتا جا رہا تھا۔۔۔

    رینا اپنی ماں کی عکس تھی ۔۔۔خوبصورتی میں بھی ۔۔ ۔ اور ہاٹ نیس میں بھی ۔اس کے چوتڑ پیچھے سے خوب اٹھے ہوئے تھے ۔۔۔سڈول رانیں چھوٹی سی نیکر میں خواب واضح تھی۔۔۔اس کے ہاتھ کے ٹچ نے مجھ میں بھی سنسنی جگا دی تھی ۔۔۔۔اس کی ماں تو مجھے جھیلنے میں ناکام رہی تھی۔۔۔اب بیٹی کی باری تھی۔۔

    اپنےکمرے میں لے کر جاتے ہی مجھے پلنگ کی طرف دھکیلتی ہوئی وہ مجھ پر سوار ہونے لگی ۔۔۔ساتھ ہی اس کے ہاتھ اپنی شرٹ کی طرف گئے ۔۔۔شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔آنکھوں میں شرارت اور ہوس کی چمک دکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔شرٹ کھولتے ہوئے وہ مجھے پر جھکی ۔۔۔۔۔اور ماتھے کوچومتی ہوئی ہونٹوں پر آئی ۔۔۔گرم گرم سانسیں اس کی گرمی کا خوب پتا دے رہی تھیں ۔۔۔۔میں نے بھی اس کی کمر پر ہاتھ پھیرا ۔۔۔اور نیچے لانے لگا۔۔۔جہاں اس کے نرم نرم چوتڑ میرے منتظر تھے ۔۔گول گول اور ابھرے ہوئے ۔۔۔۔میں نے اس کی نیکرپر سے ہاتھ پھیرنے کے ساتھ ساتھ اسے بھی نیچے کھینچنا شروع کر دیا ۔۔۔اوپر رینا مجھے چومے جارہی تھی ۔۔۔بوسے دیے جارہی تھی ۔۔۔۔اس کی ماما کی آہوں اور سسکیوں نے اس کے اندر بھی جوالا مکھی جگا دی تھی ۔۔جس کی گرمی مجھ پر براہ راست پڑ رہی تھی۔۔۔۔۔میرا تولیہ بھی کھل گیا تھا۔ اور نیچے بیٹھا ہتھیار بھی سختی پکڑنے لگا۔۔۔۔

    رینا چومتے ہوئے نیچے کو آئی ۔۔۔میرے سینے کو چومنے لگی ۔۔۔نپل پر زبان پھیرتی ہوئی شرارت سے مجھے دیکھنے لگی۔۔۔۔میں خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ مزید نیچے جاتی ۔۔۔میں کروٹ دیتے ہوئے اسے بیڈ پر لٹایا ۔۔۔اور خود اوپر آ گیا ۔۔ ۔16 یا 17 سال کی ہی ہو گی وہ ۔۔۔میرے نیچے دبی ہوئی چھوٹی بچی لگ رہی تھی ۔۔۔۔مجھے موشے پر حیرانگی ہے ۔۔۔شاید اس کے علاوہ کسی اور کو یہاں آنے کی اجازت نہیں جو ماں بیٹی دونوں اسی سے کام چلا رہی تھی ۔۔۔۔۔

    رینا کی برا بھی اتر گئی تھی ۔۔۔۔اس کا سینہ بھرا بھرا تھا۔۔۔۔چھوٹے چھوٹے گول ممے میرے سامنے تھے ۔۔۔جن پر سرخ نپل عجب بہار اٹھا رہے تھے ۔۔۔۔۔میں نے نپل پر زبان پھیرتے ہوئے اسے ہونٹوں میں تھاما۔۔۔۔اور منہ کھولتے ہوئے اندر بھرنے لگا۔۔۔رینا کے منہ سے سریلی سسکی نکلی ۔۔۔اس کے ہاتھ میرے سر پر پہنچ گئے ۔۔۔۔۔نیچے میرا ہتھیار بھی اپنی اٹھان میں تھا۔۔جو اسکی نازک چوت سے رگڑ کھاتا ہوا مساج کر رہا تھا ۔۔۔۔ایک ہاتھ اس کے پیٹ پر پھیرنے کے ساتھ ساتھ میرے۔۔۔۔ہونٹ اسکے نرم مموں پر تھے ۔۔۔۔سسکیاں اس کے منہ سے جاری تھی ۔۔۔ کبھی تو آنکھیں بند کر لیتی ۔۔۔اور کبھی سر اٹھا کر مجھے دیکھتی ۔۔۔نیچے سے اس کی ٹانگیں بھی بے چین ہو کر کھل بند ہو رہی تھیں۔۔۔۔

    میں بار ی باری اس کے دونوں نازک مموں کو چوس رہا تھا۔۔۔۔۔ میرے بالوں پر انگلیاں پھیرتی ہوئی وہ خود پر دبا رہی تھی ۔۔۔اس کا ہاتھ سر سے ہوتا ہوا میری کمر تک آیا ۔۔۔نرم نرم ہاتھوں سے وہ میری کمر کو دبا رہی تھی ۔۔۔۔۔ممے چوستے ہوئے میں تھوڑا نیچے ہوا ۔۔۔۔۔ پیٹ پر ایک کس کر تا ہوا اوپر اٹھ گیا۔۔۔۔اس کے چہرے کے عین اوپر آ کر میں اسے دیکھنے لگا ۔۔وہ بھی میری آنکھوں میں آنکھیں ڈالے لیٹی تھی ۔۔۔اس کے ہاتھ میرے سینے پر گردش کر رہے تھے ۔۔۔۔سینے پر نرم ہاتھ پھیرتی ہوئی وہ پیٹ پر آئی ۔۔۔اور پھر ناف سے نیچے ہاتھ پھیرنے لگی ۔۔۔اس کا ہاتھ میرے ہتھیار سے ٹکرایا تھا۔۔۔۔پہلے ایک ہاتھ سے پکڑنے کی کوشش کرنے والی رینا کا دوسرا ہاتھ بھی نیچے گیا۔۔۔۔دونوں ہاتھوں میں اس ہاتھ کوپکڑے اس کے چہرے پر حیرت ہی حیرت تھی ۔۔۔مجھے اندازہ تھا کہ رینا موشے سے زیادہ فرینک ہے ۔۔اور وہ بھی بیٹی کے چکر میں ماں کو گھاس ڈال رہا تھا۔۔۔۔۔میں نے اس کے کان میں سرگوشیانہ انداز میں کہا ۔۔کہ لاسٹ ویک سرجری کروائی ہے ۔۔۔ کیسا لگ رہا تھا۔۔۔۔(اس کے علاوہ کچھ کہہ بھی نہیں سکتا تھا۔)

    اس کی آنکھوں میں حیرت اور خوشی کا تاثر تھا ۔۔جیسے کوئی من پسند چیز مل گئی ہو ۔۔۔دونوں ہاتھوں میں پکڑنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔مجھے سائیڈ پر لٹاتےہوئے وہ اوپر آئی ۔۔۔اور حیرت سے اس ہتھیار کو دیکھنے لگی۔۔جو اس کی کلائی سے بھی زیادہ موٹا لگ رہا تھا۔۔۔لمبائی میں بھی کم نہیں تھا۔۔۔۔ دونوں ہاتھ ایک دوسرے کے اوپر رکھ کر بھی وہ آدھے تک پہنچ پا رہی تھی ۔۔

    اس نے ایک نظر مجھے دیکھا۔۔۔اور زبان نکالتی ہوئی ٹوپے پر لگانے لگی۔۔۔اس کی نگاہیں مجھ پر ۔۔اور زبان ٹوپے کو گیلا کر رہی تھی ۔۔۔۔۔اس منہ میں لینے کی کوشش کی ۔۔۔پورا منہ کھلا ۔۔۔پھر بھی صرف ٹوپا ہی جا کر پھنس گیا۔۔۔۔رینا نے بے چارگی سے زبان نکال کر چاروں طرف سے چاٹنا شروع کر دیا۔۔۔۔۔پیچھے سے اس نے اپنے چوتڑ اٹھا دئے تھے ۔۔۔پتلی کمرکے نیچے قدرے بھاری چوتڑ بہت خوب لگ رہے تھے ۔۔۔جو پیچھے کو اٹھ کر مجھے صاف دکھ رہے تھے ۔۔۔

    رینا کی اپنی چوت نے پانی بہانا شروع کر دیا تھا۔۔۔ ہتھیار کو چوستے ہوئے ۔۔چومتے ہوئے وہ مجھے دیکھی جارہی تھی ۔۔۔۔اس کے لمبے بال میری رانوں سے ٹچ ہو رہے تھے ۔۔۔میری رانوں پر بیٹھی ہوئی وہ اس وقت ہتھیار کوگیلا کرنے میں مصروف تھی ۔۔۔۔میں نے اپنے سر کے نیچے تکیہ رکھا ۔۔۔اور اس کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔۔بے چین بچے کی طرح وہ قلفی کی طرح چاروں طرف سے چوستی ہوئی نیچے سے اوپر آتی اور پھر واپس نیچے ۔۔۔۔۔۔اور میں اس کے ہاتھوں اور ہونٹوں کی نرمی اور گیلا پن محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔رینا کچھ دیر مزید چوستی رہی ۔۔۔چومتی رہی ۔۔۔۔۔ٹوپا پہلے سے زیادہ پھول چکا تھا۔۔۔۔۔اور ہتھیار مزے سے لہرا رہا تھا۔۔۔رینا تھوڑی مزید اوپر آئی ۔۔۔۔اور میرے سینے پر اپنے ہونٹوں کے نشان ثبت کرنے لگی ۔۔۔۔۔۔ہتھیار میرے پیٹ سے لگا تھا۔۔۔جس کے اوپر رینا خود کو رگڑ رہی تھی ۔۔۔۔میں اس کے وزن کے ساتھ ساتھ اس کی چوت کی گرمی بھی اپنے ہتھیار پر محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔۔میرے سینے پر ہونٹ اور زبان پھیرتی ہوئی وہ نپل پر بھی آئی ۔۔۔اس کی شرارتی نظریں مجھے دیکھتیں ۔۔۔۔اور زبان میرے سینے کے نپل پر پھرنے لگی۔۔۔۔۔ میں نے اس کا بازو پکڑا ۔۔۔اور خود کے اوپر کھینچ لیا۔۔۔۔۔میرے اوپر آنے کے بعد اس نے میرے چہرے کو نشانہ بنایا ۔۔۔۔اور چومتے ہوئے اپنے نقش چھوڑنے لگی ۔۔۔میرے پیٹ پربیٹھی رینا نے ہتھیار اپنے نیچے دبایا ہوا تھا۔۔۔۔۔میں نے رینا کو ہلکا سا اٹھایا ۔۔۔۔اور ہتھیار نیچے سے نکال کر اس کی چوت پر ٹکا دیا ۔۔۔رینا نے جلدی سے اوپر کی طرف کھسکتے ہوئے فاصلہ برابر کیا ۔۔۔اور میرے سینے پر بیٹھ گی ۔۔۔گھٹنے میرے دائیں بائیں ٹکا کر اب وہ نیچے کھسک رہی تھی۔۔۔۔۔ہتھیار اپنی پوری لمبائی کے ساتھ اس کی چوت کے لبوں پر ٹکا تھا۔۔۔میں نے ایک ہاتھ اس کی کمر کے گرد لپیٹتے ہوئے اسے خود سے چپکا یا۔۔۔۔۔۔اور کمر کو اٹھاتے ہوئےہلکا سا زور دیا ۔۔۔۔ٹوپا تیزی سے چوت کے لبوں پر لپکا تھا۔۔۔اور زور دینے لگا۔۔۔رینا اوئی کرتی ہوئی اوپر کو اٹھی ۔۔سس۔۔۔۔آہ ۔۔۔۔۔۔میں نے اسے مزید خود سے چپکا لیا۔۔۔میرا اگلا دھکا زور دار تھا۔۔۔۔جس نے چوت کے لبوں کو چیرتے ہوئے ٹوپے کو اندر پھنسا دیا ۔۔۔۔رینا کے منہ سے سسکاریاں نکلی ۔۔۔۔درد سے بھری ہوئی آہیں ۔۔آہ ہ ہ۔۔۔۔اوہ ہ ۔۔۔۔سس۔۔۔۔میرے چہرے کو تھامے ہوئے اس کے ہاتھ ۔۔۔۔بے چین ہوتی نظریں ۔۔۔میں نے سب دیکھا۔۔۔۔اور پھر ہلکا سا اوپر کو اور دھکیلا ۔۔۔۔رینا ایک بار پھر اوئی اوئی ۔۔سس ۔ آہ ہ ۔۔۔کرتی ہوئی اٹھی ۔۔۔اس کی نگاہوں میں ٹھہرنے کی التجا تھی ۔۔۔رکنے کی صدا تھی ۔۔۔میں تھوڑی دیر کے لئے رک گیا۔۔۔۔ٹوپا اندر پھنسا ہو ا تھا۔۔۔۔۔چوت کے لب اس کے گرد ٹائیٹ اور لوز ہورہے تھے ۔۔۔گھٹنے میرے دائیں بائیں ٹکائے مجھے پر جھکی تھی ۔۔۔اور اب بھی اٹھنے کی کوشش میں ۔۔۔مگر میں اسے خود سے چپکائے لیٹا تھا۔۔۔میرے چہرے کے چہرے پر اسکا چہرہ ۔۔۔۔بال مجھے پر سایہ شگن تھے ۔۔۔۔جن کے درمیاں اس کا چہرہ ۔۔۔سرخی لئے ہوئے ۔۔۔آنکھوں میں درد کی نمی ۔۔۔۔۔میں نے اپنی کمر کو ہلکے ہلکے سے اٹھا نا شروع کیا ۔۔۔ہلکے ہلکے سے دھکے ۔۔۔میرے دھکوں سے رینا بھی ساتھ ہی اوپر کو اٹھتی۔۔۔۔رینا کی مترنم سسکیاں کمرے میں گونجنے لگیں ۔۔افف۔۔۔آئی۔۔۔سس ۔۔۔۔آ ہ ہ ۔۔۔۔۔حقیقت میں اب تک ٹوپا ہی صحیح طریقے سے اندر پہنچا تھا۔۔۔وہی اندر پہنچ کر جگہ بنانے میں مصروف تھا۔۔۔آگے پہنچنے کی کوشش میں تھا۔۔۔میرے ہر دھکے سے رینا بھی ہلکے سے اوپر کو اٹھتی ۔۔۔۔اور ہلکی سی آہ بھرتی ۔۔۔چو ت سے رستا ہوا پانی میں محسوس کر رہا تھا۔۔۔ساتھ ساتھ ٹوپے کو مزید اندر پہنچانے کی کوشش بھی ۔۔۔۔۔۔اور رینا ساتھ ساتھ اوپر اٹھ کر اس ناکام بنانے کی ۔۔۔۔۔
    ہم چند منٹ اسی پوزیشن میں رہے تھے کہ رینا کی چوت نے ہار مان لی۔۔۔۔روتے ہوئے آنسوؤں کی برسات نکلی ۔۔۔۔۔اور ہتھیار کو نہلانے لگی۔۔رینا کے فارغ ہونے کے بعد میں نے ایک دو ہلکے سے دھکے دئے ۔۔۔۔۔اور پھر کروٹ لے لی ۔۔۔۔میرے اوپر بیٹھی رینا نیچے کو آئی ۔۔۔میرے تکئے پر اس کا سر آیا ۔۔۔۔۔اور میں اب اس کے اوپر تھا ۔۔۔۔میرے ارد گرد ٹانگیں لپیٹنے کے بعد ۔۔۔اس نے دونوں ہاتھ میرے سینے پر ٹکا دئے ۔۔۔۔جو روکنے کا اشارہ تھا۔۔۔۔میں نے اوپر جھکتے ہوئے بوسے کی کوشش کی ۔۔۔۔رینا کے میرے سینے پر ٹکے ہاتھ کمزور ہوئے ۔وہ مجھے قریب آنے دے رہی تھی۔۔۔منہ سے بے اختیار ایک تیز سسکاری سی نکلی ۔۔۔آہ ۔۔۔سس ۔۔۔ہا ہ ہ ۔۔۔۔۔۔بوسہ کے ساتھ ہی ۔ٹوپا اسی طرح اندر تھا جو بوسہ دیتے ہوئے مزید اندر ہوا تھا۔اور رینا کو تڑپا گیا تھا۔۔۔۔۔میں نے رینا کی ٹانگیں اس کے سینے سے لگا دیں ۔۔۔اور گھٹنے ٹکاتے ہوئے آگے کو جھکنے لگا۔۔۔۔۔ٹوپا اب مزید اندر کی طرف سفر میں تھا ۔۔۔آدھے کے قریب اندر پہنچاتے ہوئے میں رکا ۔۔۔۔رینا نے سانسیں روک رکھی تھیَ۔۔۔۔۔چہرے کی سپیدی سرخی میں بدل گئی تھی۔۔۔مجھے رکتے دیکھ کر اس نے نیچے نگاہ ڈالی ۔۔۔۔آدھا ہتھیار اب بھی باہر دیکھ کر ایک دم سے نڈھال سی ہوئی ۔۔۔۔بے چارگی سے دیکھتی ہوئی ۔۔۔منہ سے سسکیاں بھرتی ہوئی تکئے پر سر رکھنے لگی۔۔۔۔۔میں نے اس کی رانیں دائیں بائیں پھیلائیں ۔۔۔۔۔اور اپنے ہاتھوں کو اس کے پیٹ پر ۔۔۔پھیرنے لگا ۔۔میری ایک انگلی اس کی ناف میں گھوم رہی تھی۔۔۔۔۔دوسرا ہاتھ اس کے سینے پر تھا۔۔۔۔دونوں بالز کو باری باری تھامتا۔۔۔۔نپلز کو کھینچتا ۔۔۔۔میرا انداز ہلکا سا جارحانہ تھا۔۔۔۔نپلز لال ہونے لگے ۔۔۔۔دونوں بالز بھی سرخی کی طرف۔۔۔۔
    ساتھ ہی میری کمر بھی ہلکے ردھم سے ہل رہی تھی۔۔۔۔ٹوپے نے اندر کی طرف کھدائی شروع کی ہوئی تھی ۔۔۔ہلکا ہلکا زور مارتا ہوا اپنی جگہ بنا رہا تھا۔۔۔آدھے سے زیادہ ہتھیار اندر پہنچ گیا تھا۔۔۔۔رینا کے ہاتھ میرے رانوں پر تھے ۔۔۔ہر دھکے کے ساتھ اس کی انگلیاں میری اسکن پر پیوست ہو جاتیں ۔۔۔۔میری برداشت بھی اب کم ہونے لگی تھی ۔۔۔۔۔اور اسپیڈ تیز ۔۔۔دھکے پہلے سے جاندار ہوئے ۔۔۔۔۔۔آہیں پہلے سے زیادہ بلند ۔۔۔۔سسکیاں چیخوں میں بدلنے لگیں ۔۔۔۔۔میں اپنے پنجوں کے بل آ یا ۔۔۔اور اوپر جھک کر بوسے دینے لگا۔۔۔۔۔ایک ہاتھ اس کے منہ میں ڈالا ۔۔۔جسے اس نے بے اختیار کاٹا تھا۔۔اور پھر جلدی سے چوسنے لگی۔۔میرے دھکے تیز ہونے لگے تھے ۔۔۔۔ٹوپا باہر چوت کے لبوں تک آتا ۔۔۔اور پھر پسٹن کی طرف واپس لپک جاتا ۔۔چوت کی تنگی کے باجود ہتھیار نے اپنی جگہ بنائی تھی ۔۔۔۔اور ۔۔چوت کا پانی چھوڑنا جاری تھی ۔۔۔۔جو جھاگ کی صورت باہر کو رِس رہا تھا۔۔۔۔۔۔پسٹن پمپ ہتھیار تیزی سے اندر باہر ہو رہا تھا۔۔۔۔رینا اپنے دانت میرے ہاتھ میں گاڑے اسے چوس رہی تھی۔۔۔۔وقفے وقفے سے کراہ اٹھتی ۔۔۔۔بے چارگی سے مجھے دیکھتی ۔۔۔۔اور پھر میری انگلیان چوسنے میں لگ جاتی ۔۔۔۔
    میرے دھکوں نے درمیان اسپیڈ سے اب تیزی پکڑی ۔۔۔۔۔بیڈ کی آوازیں بلند ہورہی تھیں ۔۔۔۔سسکیاں اب عروج پر تھیں ۔۔جن کے درمیان ایک ہلکی سی چیخ بھی ۔۔۔۔وہ ساتھ والے کمر ے میں موجود اپنی ماں کی موجودگی سے بے خبر بنی تھی تو مجھے کیا فکر تھی۔۔۔۔۔۔۔دھکے رینا کو بیڈ میں دھنسانے لگے ۔۔۔۔۔چہرہ اب لال سرخ ہو چکا تھا۔۔۔۔۔اس نے میرا ہاتھ اپنے منہ سے نکالا ۔۔۔اور تیز آہ بھرتے ہوئے اپنی کمر کو اٹھایا ۔۔ایک تیز چیخ کے ۔۔۔ساتھ ہی اس کی چوت میں پانی کا ایک سیلاب بہا۔۔۔۔دوسری مرتبہ پھر اس کی چوت نے پانی چھوڑ دیا ۔۔۔۔۔اس کی نگاہیں اور چہرہ دیکھتے ہوئے میں نے ہتھیار باہر نکالا ۔۔۔اور برابر میں لیٹ گیا۔۔۔ٍرینا کی گہر ی سانسیں جاری تھیں ۔اس کی چوت پہلے سے سرخ ہو گئی تھی ۔۔۔۔ساتھ ساتھ میرے سینے پر سر ٹکائے وہ بے دم تھی ۔۔۔۔۔۔کچھ دیر ایسے ہی لیٹی رہی ۔۔۔۔پھر اوپر لیٹی مجھے دیکھنے لگی۔۔۔نگاہوں میں حیرت اور بے بسی کی آمیزش تھی ۔۔۔۔میں اب تک فارغ نہیں ہوا تھا۔۔۔۔چہرے کو چومتی ہوئی وہ مجھے سمبھال رہی تھی ۔۔۔۔۔میں نے ایک ہاتھ اس کی کمر پر رکھا ۔۔۔اور آنکھیں موند لیں ۔۔۔۔میرے ہاتھ اس کی کمر پر سے ہوتے ہوئے چوتڑوں پر گھوم رہے تھے۔۔۔۔گول مٹول سے گوشت سے بھرپور ۔۔۔۔۔میں دباؤ بڑھاتا جا رہا تھا۔۔۔جیسے جیسے رات ختم ہور ہی تھی ۔۔۔۔میرے اندر کا الاؤ بڑھ رہا تھا۔۔۔۔رینا مجھے چومتی ہوئی اب سینے پر آئی تھی ۔۔۔پورے سینے پر اس کے لب پہنچ رہے تھے ۔۔۔مگر میرے سینے کی آگ مزید ہی بھڑک رہی تھی ۔۔۔۔نگاہوں میں عجیب سے سی گرمی نکل رہی تھی ۔۔۔۔رینا کے لئے بھی یہ عجیب تھا۔۔ وہ بار بار چومتی ۔۔زبان پھیرتی ۔۔جیسے مجھے سرد کرنے کی کوشش میں ہو ۔۔۔۔۔
    رینا اب چومتی ہوئی ۔۔۔زبان پھیرتی ہوئی پیٹ کے قریب پہنچی ۔۔۔۔میری ناف میں زبان پھیرنے لگی۔۔۔۔ساتھ ہی نیچے کھسکی ۔۔۔اور ہتھیار کو تھام کر اس پر زبان پھیرنے لگی ۔۔۔جو شاید سب سے زیادہ گرم تھا۔۔۔۔رینا پہلے سے زیادہ گرم جوشی سے اسے چومنے لگی۔۔۔چاٹنے لگی ۔۔۔۔تھوک اکھٹا کر کر اوپر گراتی ۔۔۔ساتھ ساتھ اس کے ہاتھ اس پراوپر سے نیچے حرکت کرتے ۔۔۔۔۔ٹوپے پر ہونٹ لگا کر چوسنے لگی ۔۔۔۔ہاتھوں کی تیزی بڑھ رہی تھی ۔۔۔۔اس کی بھی یہی کوشش تھی کہ جلدی سے فارغ ہوں اور یہ گرمی کا طوفان کم ہو ۔۔۔۔۔۔کچھ دیر اسی کوشش میں مگن رہنے کے بعد رینا سست پڑنے لگی ۔۔۔میری برداشت بھی ختم تھی۔۔۔۔
    رینا بے چارگی سے میرے برابر لیٹ گئی ۔۔۔میں نے کروٹ دیتے ہوئے اسے الٹا لٹا دیا ۔۔۔۔۔پتلی نازک کمر کے نیچے گول سے چوتڑ ۔۔۔جو قدرے سرخ ہو گئے تھے ۔۔۔۔ساتھ ہی کروٹ لیتے ہوئے اسکے اوپر آ گیا۔۔۔۔۔میرا وزن اس کے لئے زیادہ تھا۔۔۔۔۔میں نے اس کے دائیں بائیں اپنے گھٹنے رکھ دیے ۔۔۔۔اور ٹوپے کو چوتڑوں کے درمیان سے چوت پر رکھنے لگا۔۔۔رینا نےجسم ڈھیلا چھوڑتے ہوئےٹانگیں پھیلائیں ۔۔۔۔۔جسے میں نے دوبارہ اپنی ٹانگو ں سے ملایا ۔۔۔۔۔اور ٹوپے کو چوت پر دھکا دیا۔۔۔۔ٹوپا چوت سے سلپ ہوا ۔۔۔میں نے رینا کو چوتڑ اٹھانے کا کہا ۔۔۔۔اور ہتھیار کو نشانے پر رکھ کر بھرپور دھکا دیا۔۔۔ٹوپے اندر اترا ۔۔۔۔۔ساتھ ہی رینا کے منہ سے چیخ بھی ۔۔۔۔۔اگلے جھٹکے میں آدھے سے زیادہ ہتھیار اندر تھا۔۔۔۔۔۔رینا کے منہ سے چیخوں کا طوفان تھا۔۔۔۔گرم گرم سسکیوں کی ایک لائن تھی۔۔۔۔میں نے ٹوپے کو واپس نکالتے ہوئے واپس جھٹکے سے پہنچادیا ۔۔۔اس کے بعد دھکوں کی ایک اسپیڈ شروع تھی ۔۔۔ہتھیار نے چوت میں تباہی مچا دی تھی ۔۔۔۔۔دھکوں کی اسپیڈ تیز سے تیز ہونے لگی ۔۔۔میری کمر اٹھتی ۔۔اور پوری قوت سے رینا کے چوتڑ سے ٹکراتی ۔۔۔۔اور اسے بیڈ میں دھنسا دیتی ۔۔۔۔۔۔اگلے ہی لمحے اگلا جھٹکا واپس اسے مزید اندر دھنسا دیتا۔۔۔۔۔رینا کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے ۔۔۔۔اتنی اسپیڈ میں طاقت ور دھکے سہنا اس کے بس سے باہر ہو رہا تھا۔۔۔۔مگر اس وقت میرے نیچے لگی ہوئی وہ کچھ اور کربھی نہیں سکتی تھی ۔۔۔میری بڑھتی ہوئی اسپیڈ نے میری سانسوں کو بھی تیز کر دیا۔۔۔۔۔ساتھ ہی وہی غراہٹ ۔۔۔جو مجھ سے مخصوص تھی۔۔۔۔۔میری آخری اسپیڈ۔۔۔۔جس کے بعد رینا کے منہ بند نہیں ہوا ۔۔۔۔طوفانی اسپیڈتھی ۔۔۔۔جس نے رینا کو بیڈ میں دھنسائے رکھا تھا۔۔۔۔۔میرے جسم میں بھی گرمی انتہا کو تھی ۔۔۔نچلے حصے میں اکڑاؤ سا آیا ۔۔۔پانی کا ایک قطرہ اندر سفر کرتا ہوا ٹوپے تک آیا اور رکا۔۔۔۔۔اس کے ساتھ ہی گرم گرم لاوے نے ایک مرتبہ پھر رینا کو تڑپا دیا ۔۔۔۔۔۔۔پوری قوت سے اندر ایک فوارہ چھوٹا تھا۔۔۔ساتھ ہی میری اسپیڈ میں ایک دم کم آئی ۔۔۔اور میں اس کے اوپر لیٹ گیا۔۔۔۔۔کافی دیر تک پانی اندر گرتا رہا ۔۔۔میں کروٹ لے کر سیدھا ہو گیا۔۔۔۔۔
    رینا کی حالت زیادہ خراب تھی ۔۔۔ ۔میرے طوفانی دھکوں نے اس کے چودہ طبق روشن کر دئے ۔۔۔۔ساتھ ہی اپنی ماما کی چیخیں بھی یاد آ گئیں ۔۔۔۔اب سیدھی لیٹی ہوئی چادر لے رہی تھی ۔۔۔۔آنسوؤں کے نشان گال پر صاف دیکھے جا رہے تھے ۔۔۔۔۔۔اتنے میں
    باہر سے آنے والی آواز نے مجھے چونکا دیا تھا۔۔۔۔۔صبح کے کوئی پانچ بجے تھے ۔۔۔۔رینا کے منہ سے پاپا کی آواز نکلی تھی۔۔۔۔ رینا کا چہرہ بھی مدھم پڑ گیا تھا۔۔۔میں جلدی سے اسے کپڑے پہننے کا کہہ کر اٹھا ۔۔۔اور تولیہ پہنتے ہوئے باہر آیا ۔۔۔۔ رینا نے حیرانگی سے مجھے دیکھاکہ میں ایسے حلیئے میں باہر جا رہا ہوں ۔۔۔مگر میرا ارادہ کچھ اور ہی تھا ۔۔رینا کی ٹھکائی کرتے ہوئے میرا ذہن آگے کا پلان کر رہا تھا۔۔۔۔اور اسی لمحے کا انتظار تھا۔
    باہر نکل کر بر آمدے میں پہنچا ۔۔۔جنر ل ہارزی حالوی میرے سامنے ہی کھڑا تھا ۔مجھے صاف اس کے چہرے پر خباثت دکھی ۔۔۔۔شارا کو ایک سے دو آواز دے چکا تھا۔۔۔اور اب تیسری دینے والا تھا۔۔۔مجھے دیکھ کر اس کی آنکھوں میں حیرت عود آئی ۔۔۔۔میں اس کا ہم عمر تھا۔۔۔اور اس وقت اس کی بیٹی کے کمرے سے اس حالت میں نکل کر سامنے آیا تھا۔۔۔۔اس کے منہ سے نکلا ۔۔۔"موشے تم ۔۔۔" ۔ رینا کے کمرے میں ۔۔؟

    اس سے پہلے کہ وہ کچھ سوچ پاتا ۔۔۔میں حرکت میں آ گیا تھا۔۔۔مجھے پتا تھا کہ کیا کرنا ہے ۔۔۔

    میں جھپٹتا ہوا اس کے سامنے آیا ۔۔۔ایک جھلک وہا ں دکھا کر میں اس کی سائیڈ پر پہنچا۔۔میری کھڑی ہتھیلی اس کے کھوپڑی کے پچھلی طرف گردن کے جوڑ پرپڑی تھی ۔۔ ہکا بکا کھڑے جنرل حالوی کا سر ایک دم سے اوپر اٹھ گیا۔۔۔اس کے ساتھ ہی میں گھومتا ہوا اس کے سامنے آیا۔۔۔۔میری مٹھی کا بنا ہوا ہک پوری قوت سے اس کے پسلیوں کے درمیان دل کے حصے میں پڑا ۔۔۔۔ حالوی کے دونوں ہاتھ اپنے سینے پر ٹکے اور کٹے ہوئے شہتیر کی طرح پیچھے کو جا گرا ۔۔۔۔مجھے سہار ا دینے کا کوئی شوق نہیں تھا ۔۔۔نفرت بھرے انداز میں اس کی طرف نگاہ ڈالی ۔۔۔حالوی کی نگاہوں میں حیرت کے ساتھ خوف بھی تھا ۔۔وہ سمجھ چکا تھا کہ میں جنرل موشے ہر گز نہیں ۔۔۔اور آج کا دن جس ایجنٹ کو ڈھونڈنے میں لگایا ۔وہی ایجنٹ جو ایک رات پہلے بارڈر پر تباہی مچا کر آیا ۔۔۔۔آج ۔وہ اسی کے گھر میں تھا۔۔

    میں نے تیز آواز میں شارا اور رینا کو آواز د ی ۔۔۔۔۔دو آوازیں دے کر میں حالوی کے برابر میں گھٹنے ٹیک کر بیٹھا ۔۔۔اور سینے پر ہاتھ رکھے پمپ کرنے لگا ۔۔۔رینا اور شارا دونوں ایک ساتھ ہی کمرے سے نکلیں تھیں ۔۔۔دونوں کپڑے پہن چکی تھی ۔۔۔۔اور تیزی سے حالوی کے پاس پہنچی ۔۔۔۔سوالیہ نظریں مجھ پر جمی تھیں ۔۔۔میں نے ہارٹ اٹیک کا کہا ۔۔۔اور تیزی سے سینہ پمپ کرنے لگا۔۔۔

    شارا کی اپنی حالت خراب تھی ۔۔۔وہ بھی اس کے برابر میں گر سی گئی ۔۔۔۔البتہ رینا جلدی سے ایمبولینس کی آواز لگا کر فون کی طرف دوڑی ۔۔۔۔

    میں پمپ کرنے کےساتھ ساتھ بے پناہ طاقت سے اسے دبا بھی رہا تھا۔۔۔۔۔بولنے کے لئے منہ سے آواز نکالنے کی کوشش کرنے والا حالوی بے جان ہو گیا تھا۔۔سر کی پشت پر لگنے والی ضرب نے اس کے اعصابی نظام کو تباہ کر دیا تھا۔۔۔اور دل پر پڑنے والی ضرب اس کے دل کو بند کر چکی تھی ۔۔اب دل چند ہی منٹوں کا مہمان تھا۔۔۔

    رینا جلد ی جلدی فون پر بات کر رہی تھی ۔۔۔۔قریب کے علاقے میں ایمرجنسی نافذ تھی ۔۔۔۔اس نے ایمبولینس والے ہیلی کاپٹر کی بات کی ۔۔۔۔ ۔۔اور فون رکھ دیا ۔۔۔

    میں اٹھ کر شارا کے کمرے کی طرف گیا ۔۔۔اور اپنے کپڑے پہننے لگا۔۔۔۔شارا کا چہرہ زرد تھا ۔آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔۔۔۔۔ مگر رینا کو کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔۔۔اتنے میں باہر سے ایمبولینس کے سائرن کی آواز آئی ۔۔۔۔۔اس سے پہلے کہ نرسز اسٹریچر لے کر اندر کی طرف آتے ۔۔۔میں نے بے جان حالوی کو بازؤؤں میں اٹھایا ۔۔۔اور باہر کی طرف جانے لگا۔۔۔ایمبولینس کے اسٹریچر پر ڈالتے ہوئے میں بھی ساتھ بیٹھ گیا۔۔۔
    میرے برابر میں رینا آ کر بیٹھی ۔۔۔شارا اس کے برابر میں ۔۔۔ایمبو لینس کا درواز ہ بند ہوا ۔۔۔اور وہ تیزی سےروانہ ہوئی ۔حالوی کے چہرے پر آکسیجن ماسک لگ گیا تھا۔۔ٹرینڈ نرسز نے اس کے وائٹل سائن مانیٹر کرنے شروع کر دئے ۔۔۔سائرن کی آواز ہلکی ہلکی اندر بھی آرہی تھی۔۔۔میں سر جھکائے اگلے پلان کے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔۔تین منٹ میں ایمبولینس ایک بڑے کمپاؤنڈ میں رکی ۔۔جہاں ایک ہیلی کاپٹر ہمارا انتظار کر رہا تھا۔۔۔ہم تینوں ہی ہیلی کاپٹر میں ساتھ بیٹھے ۔۔جہاں ۔ایک ڈاکٹر بھی ہمارے ساتھ تھا۔۔۔اس نے آنکھ کی پتلی چیک کی ۔۔۔۔نبض چیک کی ۔۔۔۔۔اور دل میں انجکشن لگانے کی تیار ی کرنے لگا۔۔۔۔اسے پتا چلا گیا تھا کہ مریض آخری سانسوں پر ہے۔۔

    پانچ سے سات منٹ میں ہیلی کاپٹر ایک بڑے سے ہاسپٹل کی چھت پر اترا ۔۔۔یہ سات منٹ جنرل حالوی پر قیامت کے تھے۔۔اس کا دل جسم کو خون پہنچانے میں ناکام رہا تھا۔۔۔چہرہ پیلا پڑ چکا تھا۔۔۔۔اور دل اس کا ساتھ چھوڑ چکا تھا۔۔۔۔چھت پر اسٹریچر لئے ہوئے لوگ پہلے سے ہی انتظار میں تھے ۔۔حالوی کو لئے ہوئے وہ تیزی سے ایمر جنسی کی طرف دوڑے ۔۔۔میں شارا اور رینا کو لئے ہوئے پیچھے چل پڑا ۔۔۔۔ایمر جنسی کے ویٹنگ روم میں ان کو بٹھاتے ہوئے میں باہر آ یا۔۔ ۔۔میرا رخ اب ہاسپٹل کے ایگزٹ کی طرف تھا۔۔میرا کام ختم تھا ۔۔۔۔اتنے میں ہاسپٹل کے اندر چند فوجی گاڑی آ کر رکیں ۔۔۔مین نے فورا اپنا رخ بدلا اورسیدھا ہاسپٹل کی پارکنگ کی طرف بڑھ گیا۔۔۔میری نظریں کسی الگ تھلگ کار کو ڈھونڈ رہی تھی ۔۔۔۔ایک کار مجھے اپنے لئے مناسب نظر آئی ۔۔میں نے دائیں بائیں دیکھا ۔۔۔اور نیچے سے ایک پتھر اٹھا لیا۔۔نشانہ کار کا سائیڈ کا شیشہ تھا ۔۔جو پہلی ہی باری میں ٹوٹا ۔۔۔میں نے دروازے کا لاک اٹھایا ۔۔اور ہینڈل کھینچا ۔۔۔۔اتنے میں مجھے پیچھے سے کسی کی آواز آئی ۔۔ ۔ ہینڈز اپ ۔۔

    ٭٭٭٭٭٭٭
    THE DEVIL WHISPERS YOU CANT WITHSTAND THE STORM

    MY REPLIED , TAKE A SIDE , "I AM THE STORM"

  11. The Following 4 Users Say Thank You to hard.target For This Useful Post:

    Fathr of Fun (19-06-2018), hananehsan (17-06-2018), Irfan1397 (18-06-2018), Raza21144 (23-06-2018)

  12. #107
    hananehsan's Avatar
    hananehsan is offline Premium Member
    Join Date
    Apr 2012
    Location
    Gujranwala
    Age
    28
    Posts
    100
    Thanks
    482
    Thanked 263 Times in 86 Posts
    Time Online
    6 Days 4 Hours 36 Minutes 8 Seconds
    Avg. Time Online
    3 Minutes 55 Seconds
    Rep Power
    18

    Default

    اعلی بہت خوب
    کمال اپڈیٹ
    Hani

  13. #108
    teno ki? is offline Premium Member
    Join Date
    Feb 2012
    Posts
    354
    Thanks
    506
    Thanked 584 Times in 261 Posts
    Time Online
    1 Week 3 Days 15 Hours 15 Minutes 12 Seconds
    Avg. Time Online
    6 Minutes 31 Seconds
    Rep Power
    44

    Default

    ہارڈ ٹارگٹ بھائ کیا حال ہے
    امید ہے سب خیریت ہوگی
    بہت زبردست ایکشن
    سیکس سین بھی کمال تھے

    مگر اتنے زیادہ انتظار کے بعد چھوٹی سی اپڈیٹ کچھ زیادہ ہی چھوٹی لگی
    مگر خوشی ہوئ کہ سٹارٹ تو لیا

    اب امید ہے کہ آپ جلد سے جلد اپڈیٹ دیں گے
    اور سیکس سے زیادہ ایکشن
    یا کم از کم 50+50 ہونا چاہیئے

    اپڈیٹ کا منتظر ہوں

    شکریہ

  14. The Following User Says Thank You to teno ki? For This Useful Post:

    hard.target (18-06-2018)

  15. #109
    Story-Maker's Avatar
    Story-Maker is offline Super Moderators
    Join Date
    Mar 2016
    Location
    Pakistan
    Age
    24
    Posts
    4,077
    Thanks
    1,839
    Thanked 5,046 Times in 2,504 Posts
    Time Online
    2 Weeks 8 Hours 40 Minutes 2 Seconds
    Avg. Time Online
    24 Minutes 26 Seconds
    Rep Power
    870

    Default

    raja bahi

    ye to pechli updates thien...

    waise 1 request thi k agar uf par contest karwaya jaye to aap b hisa lain gaye?

  16. The Following User Says Thank You to Story-Maker For This Useful Post:

    ruldguld123 (19-06-2018)

  17. #110
    hard.target's Avatar
    hard.target is offline Premium Member
    Join Date
    Dec 2013
    Location
    Pakistan , India , UAE , Korea , Taiwan
    Posts
    284
    Thanks
    294
    Thanked 1,527 Times in 259 Posts
    Time Online
    5 Days 21 Hours 19 Minutes 35 Seconds
    Avg. Time Online
    5 Minutes 5 Seconds
    Rep Power
    993

    Default

    اپ ڈیٹ تیار ہے ۔ فائنل ہورہی ہے ، آج شام تک اپ ڈیٹ مل جائے گی ۔
    باقی سرفروش کے بعد ٹائم ملا تو حصہ لیں گے ۔
    THE DEVIL WHISPERS YOU CANT WITHSTAND THE STORM

    MY REPLIED , TAKE A SIDE , "I AM THE STORM"

Page 11 of 18 FirstFirst ... 789101112131415 ... LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •