Page 10 of 11 FirstFirst ... 67891011 LastLast
Results 91 to 100 of 102

Thread: (سرفروش 3 (مشن اسرائیل

  1. #91
    farhan403's Avatar
    farhan403 is offline sex ka dewan
    Join Date
    Oct 2015
    Location
    attock
    Posts
    353
    Thanks
    283
    Thanked 502 Times in 235 Posts
    Time Online
    4 Days 18 Hours 11 Minutes 52 Seconds
    Avg. Time Online
    8 Minutes 9 Seconds
    Rep Power
    41

    Default

    Yar righter g kahan gum ho gae ho g

  2. The Following User Says Thank You to farhan403 For This Useful Post:

    abba (18-12-2017)

  3. #92
    hard.target's Avatar
    hard.target is offline Premium Member
    Join Date
    Dec 2013
    Location
    Pakistan , India , UAE , Korea , Taiwan
    Posts
    261
    Thanks
    269
    Thanked 1,414 Times in 241 Posts
    Time Online
    5 Days 13 Hours 27 Minutes 57 Seconds
    Avg. Time Online
    5 Minutes 22 Seconds
    Rep Power
    990

    Default

    فاریہ سے ملنے کے بعد عقاب خاموش نہیں بیٹھا تھا۔۔۔وہ اپنے کام سے اچھے سے واقف تھا۔۔اس نے فورا سے پہلے ہی اپنے بندے بلوا کر ذمہ داریاں لگا دی تھی۔۔۔ اسلحے اور گاڑیوں کی بھی بڑی تعداد اس کے آس پاس پہنچ چکی تھی ۔۔۔۔یہاں ہونے والے کوئی بھی حرکت اس کی نگاہوں سے بچ نہیں سکتی تھی ۔۔۔ فاریہ بھی اسی طرح ہوشیا ر تھی ۔۔۔۔۔عقاب بے چینی سے کسی اطلاع کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔۔ رات کا پچھلا پہر تھا ۔۔جب ایمرجنسی میں موجود فون کی گھنٹی بجی ۔یہاں فاریہ کی ڈیوٹی تھی ۔۔۔۔ اس نے فون اٹھا کر کان سے لگا لیا ۔۔۔۔

    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

    دروازے کی آہٹ بہت معمولی سی تھی ۔۔۔مگر میرے حساس کانوں نے مجھےبروقت آگاہ کیا تھا۔۔۔شارا نڈھال ہوتی جا رہی تھی ۔۔۔میں نے اسے آگے دھکیلا۔۔۔ اس نے تشکر کی نظروں سے مجھے دیکھا ۔۔اور سیدھی لیٹ کر آنکھیں بند کر لیں ۔۔اسے اب لمبے آرام کی ضرورت تھی ، اپنی ضائع شدہ توانائی اکھٹا کرنے میں ۔۔۔۔میں نے تولیہ اٹھا کر لپیٹا اور دروازے کی طرف قدم بڑھا دئے ۔۔۔ قدم بے آواز تھے ۔۔۔

    دروازے کا ہینڈل گھماتے ہوئے میں نےہلکا سا کھینچا ۔۔۔ساتھ ہی ایک لطیف سا جسم مجھ سے ٹکرایا ۔۔

    یہ رینا تھی ۔۔ جسے اس کی ماں کی چیخوں نے متوجہ کیا تھا۔۔رینا سمبھل کر الگ ہوئی ۔۔مجھے اس کی طرف سے معذرت کا انتظار تھا۔۔کہ وہ اپنی یہاں موجودگی پر سوری کرے گی ۔معذرت کرے گی ۔۔۔مگر اگلا لمحہ میرے لئے حیرت کا باعث تھا۔۔مجھے بازو سے پکڑ کر وہ باہر کھینچ رہی تھی ۔۔۔میں نے ایک قدم باہر بڑھایا ۔۔۔

    انکل کیا کر دیا ہے آپ نے ۔۔۔ کوئی میڈیسن لی ہےکیا ؟ ۔۔۔ماما کی تو حالت خراب کردی۔۔رینا نے ایک سانس میں کہ دیا ۔۔۔

    میں ششدر کھڑا تھا ۔۔سوچ میں گم تھا۔۔جنرل موشے تو ماں کے ساتھ بیٹی کے ساتھ بھی انوالو تھا۔۔میں نے جلد ی سے انکار میں سر ہلایا ۔۔رینا کو یقین آیا یا نہیں ۔۔اس نے میرے ہاتھ کو تھاما ۔۔اور ۔۔کھینچنے لگی۔۔ ہلکی نیم روشنی میں رینا مجھے لئے اپنے کمرے کی طرف بڑ ھ رہی تھی ۔۔اور میں خاموشی سے اس کے ساتھ کھسکتا جا رہا تھا۔۔۔

    رینا اپنی ماں کی عکس تھی ۔۔۔خوبصورتی میں بھی ۔۔ ۔ اور ہاٹ نیس میں بھی ۔اس کے چوتڑ پیچھے سے خوب اٹھے ہوئے تھے ۔۔۔سڈول رانیں چھوٹی سی نیکر میں خواب واضح تھی۔۔۔اس کے ہاتھ کے ٹچ نے مجھ میں بھی سنسنی جگا دی تھی ۔۔۔۔اس کی ماں تو مجھے جھیلنے میں ناکام رہی تھی۔۔۔اب بیٹی کی باری تھی۔۔

    اپنےکمرے میں لے کر جاتے ہی مجھے پلنگ کی طرف دھکیلتی ہوئی وہ مجھ پر سوار ہونے لگی ۔۔۔ساتھ ہی اس کے ہاتھ اپنی شرٹ کی طرف گئے ۔۔۔شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔آنکھوں میں شرارت اور ہوس کی چمک دکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔شرٹ کھولتے ہوئے وہ مجھے پر جھکی ۔۔۔۔۔اور ماتھے کوچومتی ہوئی ہونٹوں پر آئی ۔۔۔گرم گرم سانسیں اس کی گرمی کا خوب پتا دے رہی تھیں ۔۔۔۔میں نے بھی اس کی کمر پر ہاتھ پھیرا ۔۔۔اور نیچے لانے لگا۔۔۔جہاں اس کے نرم نرم چوتڑ میرے منتظر تھے ۔۔گول گول اور ابھرے ہوئے ۔۔۔۔میں نے اس کی نیکرپر سے ہاتھ پھیرنے کے ساتھ ساتھ اسے بھی نیچے کھینچنا شروع کر دیا ۔۔۔اوپر رینا مجھے چومے جارہی تھی ۔۔۔بوسے دیے جارہی تھی ۔۔۔۔اس کی ماما کی آہوں اور سسکیوں نے اس کے اندر بھی جوالا مکھی جگا دی تھی ۔۔جس کی گرمی مجھ پر براہ راست پڑ رہی تھی۔۔۔۔۔میرا تولیہ بھی کھل گیا تھا۔ اور نیچے بیٹھا ہتھیار بھی سختی پکڑنے لگا۔۔۔۔

    رینا چومتے ہوئے نیچے کو آئی ۔۔۔میرے سینے کو چومنے لگی ۔۔۔نپل پر زبان پھیرتی ہوئی شرارت سے مجھے دیکھنے لگی۔۔۔۔میں خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ مزید نیچے جاتی ۔۔۔میں کروٹ دیتے ہوئے اسے بیڈ پر لٹایا ۔۔۔اور خود اوپر آ گیا ۔۔ ۔16 یا 17 سال کی ہی ہو گی وہ ۔۔۔میرے نیچے دبی ہوئی چھوٹی بچی لگ رہی تھی ۔۔۔۔مجھے موشے پر حیرانگی ہے ۔۔۔شاید اس کے علاوہ کسی اور کو یہاں آنے کی اجازت نہیں جو ماں بیٹی دونوں اسی سے کام چلا رہی تھی ۔۔۔۔۔

    رینا کی برا بھی اتر گئی تھی ۔۔۔۔اس کا سینہ بھرا بھرا تھا۔۔۔۔چھوٹے چھوٹے گول ممے میرے سامنے تھے ۔۔۔جن پر سرخ نپل عجب بہار اٹھا رہے تھے ۔۔۔۔۔میں نے نپل پر زبان پھیرتے ہوئے اسے ہونٹوں میں تھاما۔۔۔۔اور منہ کھولتے ہوئے اندر بھرنے لگا۔۔۔رینا کے منہ سے سریلی سسکی نکلی ۔۔۔اس کے ہاتھ میرے سر پر پہنچ گئے ۔۔۔۔۔نیچے میرا ہتھیار بھی اپنی اٹھان میں تھا۔۔جو اسکی نازک چوت سے رگڑ کھاتا ہوا مساج کر رہا تھا ۔۔۔۔ایک ہاتھ اس کے پیٹ پر پھیرنے کے ساتھ ساتھ میرے۔۔۔۔ہونٹ اسکے نرم مموں پر تھے ۔۔۔۔سسکیاں اس کے منہ سے جاری تھی ۔۔۔ کبھی تو آنکھیں بند کر لیتی ۔۔۔اور کبھی سر اٹھا کر مجھے دیکھتی ۔۔۔نیچے سے اس کی ٹانگیں بھی بے چین ہو کر کھل بند ہو رہی تھیں۔۔۔۔

    میں بار ی باری اس کے دونوں نازک مموں کو چوس رہا تھا۔۔۔۔۔ میرے بالوں پر انگلیاں پھیرتی ہوئی وہ خود پر دبا رہی تھی ۔۔۔اس کا ہاتھ سر سے ہوتا ہوا میری کمر تک آیا ۔۔۔نرم نرم ہاتھوں سے وہ میری کمر کو دبا رہی تھی ۔۔۔۔۔ممے چوستے ہوئے میں تھوڑا نیچے ہوا ۔۔۔۔۔ پیٹ پر ایک کس کر تا ہوا اوپر اٹھ گیا۔۔۔۔اس کے چہرے کے عین اوپر آ کر میں اسے دیکھنے لگا ۔۔وہ بھی میری آنکھوں میں آنکھیں ڈالے لیٹی تھی ۔۔۔اس کے ہاتھ میرے سینے پر گردش کر رہے تھے ۔۔۔۔سینے پر نرم ہاتھ پھیرتی ہوئی وہ پیٹ پر آئی ۔۔۔اور پھر ناف سے نیچے ہاتھ پھیرنے لگی ۔۔۔اس کا ہاتھ میرے ہتھیار سے ٹکرایا تھا۔۔۔۔پہلے ایک ہاتھ سے پکڑنے کی کوشش کرنے والی رینا کا دوسرا ہاتھ بھی نیچے گیا۔۔۔۔دونوں ہاتھوں میں اس ہاتھ کوپکڑے اس کے چہرے پر حیرت ہی حیرت تھی ۔۔۔مجھے اندازہ تھا کہ رینا موشے سے زیادہ فرینک ہے ۔۔اور وہ بھی بیٹی کے چکر میں ماں کو گھاس ڈال رہا تھا۔۔۔۔۔میں نے اس کے کان میں سرگوشیانہ انداز میں کہا ۔۔کہ لاسٹ ویک سرجری کروائی ہے ۔۔۔ کیسا لگ رہا تھا۔۔۔۔(اس کے علاوہ کچھ کہہ بھی نہیں سکتا تھا۔)

    اس کی آنکھوں میں حیرت اور خوشی کا تاثر تھا ۔۔جیسے کوئی من پسند چیز مل گئی ہو ۔۔۔دونوں ہاتھوں میں پکڑنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔مجھے سائیڈ پر لٹاتےہوئے وہ اوپر آئی ۔۔۔اور حیرت سے اس ہتھیار کو دیکھنے لگی۔۔جو اس کی کلائی سے بھی زیادہ موٹا لگ رہا تھا۔۔۔لمبائی میں بھی کم نہیں تھا۔۔۔۔ دونوں ہاتھ ایک دوسرے کے اوپر رکھ کر بھی وہ آدھے تک پہنچ پا رہی تھی ۔۔

    اس نے ایک نظر مجھے دیکھا۔۔۔اور زبان نکالتی ہوئی ٹوپے پر لگانے لگی۔۔۔اس کی نگاہیں مجھ پر ۔۔اور زبان ٹوپے کو گیلا کر رہی تھی ۔۔۔۔۔اس منہ میں لینے کی کوشش کی ۔۔۔پورا منہ کھلا ۔۔۔پھر بھی صرف ٹوپا ہی جا کر پھنس گیا۔۔۔۔رینا نے بے چارگی سے زبان نکال کر چاروں طرف سے چاٹنا شروع کر دیا۔۔۔۔۔پیچھے سے اس نے اپنے چوتڑ اٹھا دئے تھے ۔۔۔پتلی کمرکے نیچے قدرے بھاری چوتڑ بہت خوب لگ رہے تھے ۔۔۔جو پیچھے کو اٹھ کر مجھے صاف دکھ رہے تھے ۔۔۔

    رینا کی اپنی چوت نے پانی بہانا شروع کر دیا تھا۔۔۔ ہتھیار کو چوستے ہوئے ۔۔چومتے ہوئے وہ مجھے دیکھی جارہی تھی ۔۔۔۔اس کے لمبے بال میری رانوں سے ٹچ ہو رہے تھے ۔۔۔میری رانوں پر بیٹھی ہوئی وہ اس وقت ہتھیار کوگیلا کرنے میں مصروف تھی ۔۔۔۔میں نے اپنے سر کے نیچے تکیہ رکھا ۔۔۔اور اس کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔۔بے چین بچے کی طرح وہ قلفی کی طرح چاروں طرف سے چوستی ہوئی نیچے سے اوپر آتی اور پھر واپس نیچے ۔۔۔۔۔۔اور میں اس کے ہاتھوں اور ہونٹوں کی نرمی اور گیلا پن محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔رینا کچھ دیر مزید چوستی رہی ۔۔۔چومتی رہی ۔۔۔۔۔ٹوپا پہلے سے زیادہ پھول چکا تھا۔۔۔۔۔اور ہتھیار مزے سے لہرا رہا تھا۔۔۔رینا تھوڑی مزید اوپر آئی ۔۔۔۔اور میرے سینے پر اپنے ہونٹوں کے نشان ثبت کرنے لگی ۔۔۔۔۔۔ہتھیار میرے پیٹ سے لگا تھا۔۔۔جس کے اوپر رینا خود کو رگڑ رہی تھی ۔۔۔۔میں اس کے وزن کے ساتھ ساتھ اس کی چوت کی گرمی بھی اپنے ہتھیار پر محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔۔میرے سینے پر ہونٹ اور زبان پھیرتی ہوئی وہ نپل پر بھی آئی ۔۔۔اس کی شرارتی نظریں مجھے دیکھتیں ۔۔۔۔اور زبان میرے سینے کے نپل پر پھرنے لگی۔۔۔۔۔ میں نے اس کا بازو پکڑا ۔۔۔اور خود کے اوپر کھینچ لیا۔۔۔۔۔میرے اوپر آنے کے بعد اس نے میرے چہرے کو نشانہ بنایا ۔۔۔۔اور چومتے ہوئے اپنے نقش چھوڑنے لگی ۔۔۔میرے پیٹ پربیٹھی رینا نے ہتھیار اپنے نیچے دبایا ہوا تھا۔۔۔۔۔میں نے رینا کو ہلکا سا اٹھایا ۔۔۔۔اور ہتھیار نیچے سے نکال کر اس کی چوت پر ٹکا دیا ۔۔۔رینا نے جلدی سے اوپر کی طرف کھسکتے ہوئے فاصلہ برابر کیا ۔۔۔اور میرے سینے پر بیٹھ گی ۔۔۔گھٹنے میرے دائیں بائیں ٹکا کر اب وہ نیچے کھسک رہی تھی۔۔۔۔۔ہتھیار اپنی پوری لمبائی کے ساتھ اس کی چوت کے لبوں پر ٹکا تھا۔۔۔میں نے ایک ہاتھ اس کی کمر کے گرد لپیٹتے ہوئے اسے خود سے چپکا یا۔۔۔۔۔۔اور کمر کو اٹھاتے ہوئےہلکا سا زور دیا ۔۔۔۔ٹوپا تیزی سے چوت کے لبوں پر لپکا تھا۔۔۔اور زور دینے لگا۔۔۔رینا اوئی کرتی ہوئی اوپر کو اٹھی ۔۔سس۔۔۔۔آہ ۔۔۔۔۔۔میں نے اسے مزید خود سے چپکا لیا۔۔۔میرا اگلا دھکا زور دار تھا۔۔۔۔جس نے چوت کے لبوں کو چیرتے ہوئے ٹوپے کو اندر پھنسا دیا ۔۔۔۔رینا کے منہ سے سسکاریاں نکلی ۔۔۔۔درد سے بھری ہوئی آہیں ۔۔آہ ہ ہ۔۔۔۔اوہ ہ ۔۔۔۔سس۔۔۔۔میرے چہرے کو تھامے ہوئے اس کے ہاتھ ۔۔۔۔بے چین ہوتی نظریں ۔۔۔میں نے سب دیکھا۔۔۔۔اور پھر ہلکا سا اوپر کو اور دھکیلا ۔۔۔۔رینا ایک بار پھر اوئی اوئی ۔۔سس ۔ آہ ہ ۔۔۔کرتی ہوئی اٹھی ۔۔۔اس کی نگاہوں میں ٹھہرنے کی التجا تھی ۔۔۔رکنے کی صدا تھی ۔۔۔میں تھوڑی دیر کے لئے رک گیا۔۔۔۔ٹوپا اندر پھنسا ہو ا تھا۔۔۔۔۔چوت کے لب اس کے گرد ٹائیٹ اور لوز ہورہے تھے ۔۔۔گھٹنے میرے دائیں بائیں ٹکائے مجھے پر جھکی تھی ۔۔۔اور اب بھی اٹھنے کی کوشش میں ۔۔۔مگر میں اسے خود سے چپکائے لیٹا تھا۔۔۔میرے چہرے کے چہرے پر اسکا چہرہ ۔۔۔۔بال مجھے پر سایہ شگن تھے ۔۔۔۔جن کے درمیاں اس کا چہرہ ۔۔۔سرخی لئے ہوئے ۔۔۔آنکھوں میں درد کی نمی ۔۔۔۔۔میں نے اپنی کمر کو ہلکے ہلکے سے اٹھا نا شروع کیا ۔۔۔ہلکے ہلکے سے دھکے ۔۔۔میرے دھکوں سے رینا بھی ساتھ ہی اوپر کو اٹھتی۔۔۔۔رینا کی مترنم سسکیاں کمرے میں گونجنے لگیں ۔۔افف۔۔۔آئی۔۔۔سس ۔۔۔۔آ ہ ہ ۔۔۔۔۔حقیقت میں اب تک ٹوپا ہی صحیح طریقے سے اندر پہنچا تھا۔۔۔وہی اندر پہنچ کر جگہ بنانے میں مصروف تھا۔۔۔آگے پہنچنے کی کوشش میں تھا۔۔۔میرے ہر دھکے سے رینا بھی ہلکے سے اوپر کو اٹھتی ۔۔۔۔اور ہلکی سی آہ بھرتی ۔۔۔چو ت سے رستا ہوا پانی میں محسوس کر رہا تھا۔۔۔ساتھ ساتھ ٹوپے کو مزید اندر پہنچانے کی کوشش بھی ۔۔۔۔۔۔اور رینا ساتھ ساتھ اوپر اٹھ کر اس ناکام بنانے کی ۔۔۔۔۔
    ہم چند منٹ اسی پوزیشن میں رہے تھے کہ رینا کی چوت نے ہار مان لی۔۔۔۔روتے ہوئے آنسوؤں کی برسات نکلی ۔۔۔۔۔اور ہتھیار کو نہلانے لگی۔۔رینا کے فارغ ہونے کے بعد میں نے ایک دو ہلکے سے دھکے دئے ۔۔۔۔۔اور پھر کروٹ لے لی ۔۔۔۔میرے اوپر بیٹھی رینا نیچے کو آئی ۔۔۔میرے تکئے پر اس کا سر آیا ۔۔۔۔۔اور میں اب اس کے اوپر تھا ۔۔۔۔میرے ارد گرد ٹانگیں لپیٹنے کے بعد ۔۔۔اس نے دونوں ہاتھ میرے سینے پر ٹکا دئے ۔۔۔۔جو روکنے کا اشارہ تھا۔۔۔۔میں نے اوپر جھکتے ہوئے بوسے کی کوشش کی ۔۔۔۔رینا کے میرے سینے پر ٹکے ہاتھ کمزور ہوئے ۔وہ مجھے قریب آنے دے رہی تھی۔۔۔منہ سے بے اختیار ایک تیز سسکاری سی نکلی ۔۔۔آہ ۔۔۔سس ۔۔۔ہا ہ ہ ۔۔۔۔۔۔بوسہ کے ساتھ ہی ۔ٹوپا اسی طرح اندر تھا جو بوسہ دیتے ہوئے مزید اندر ہوا تھا۔اور رینا کو تڑپا گیا تھا۔۔۔۔۔میں نے رینا کی ٹانگیں اس کے سینے سے لگا دیں ۔۔۔اور گھٹنے ٹکاتے ہوئے آگے کو جھکنے لگا۔۔۔۔۔ٹوپا اب مزید اندر کی طرف سفر میں تھا ۔۔۔آدھے کے قریب اندر پہنچاتے ہوئے میں رکا ۔۔۔۔رینا نے سانسیں روک رکھی تھیَ۔۔۔۔۔چہرے کی سپیدی سرخی میں بدل گئی تھی۔۔۔مجھے رکتے دیکھ کر اس نے نیچے نگاہ ڈالی ۔۔۔۔آدھا ہتھیار اب بھی باہر دیکھ کر ایک دم سے نڈھال سی ہوئی ۔۔۔۔بے چارگی سے دیکھتی ہوئی ۔۔۔منہ سے سسکیاں بھرتی ہوئی تکئے پر سر رکھنے لگی۔۔۔۔۔میں نے اس کی رانیں دائیں بائیں پھیلائیں ۔۔۔۔۔اور اپنے ہاتھوں کو اس کے پیٹ پر ۔۔۔پھیرنے لگا ۔۔میری ایک انگلی اس کی ناف میں گھوم رہی تھی۔۔۔۔۔دوسرا ہاتھ اس کے سینے پر تھا۔۔۔۔دونوں بالز کو باری باری تھامتا۔۔۔۔نپلز کو کھینچتا ۔۔۔۔میرا انداز ہلکا سا جارحانہ تھا۔۔۔۔نپلز لال ہونے لگے ۔۔۔۔دونوں بالز بھی سرخی کی طرف۔۔۔۔
    ساتھ ہی میری کمر بھی ہلکے ردھم سے ہل رہی تھی۔۔۔۔ٹوپے نے اندر کی طرف کھدائی شروع کی ہوئی تھی ۔۔۔ہلکا ہلکا زور مارتا ہوا اپنی جگہ بنا رہا تھا۔۔۔آدھے سے زیادہ ہتھیار اندر پہنچ گیا تھا۔۔۔۔رینا کے ہاتھ میرے رانوں پر تھے ۔۔۔ہر دھکے کے ساتھ اس کی انگلیاں میری اسکن پر پیوست ہو جاتیں ۔۔۔۔میری برداشت بھی اب کم ہونے لگی تھی ۔۔۔۔۔اور اسپیڈ تیز ۔۔۔دھکے پہلے سے جاندار ہوئے ۔۔۔۔۔۔آہیں پہلے سے زیادہ بلند ۔۔۔۔سسکیاں چیخوں میں بدلنے لگیں ۔۔۔۔۔میں اپنے پنجوں کے بل آ یا ۔۔۔اور اوپر جھک کر بوسے دینے لگا۔۔۔۔۔ایک ہاتھ اس کے منہ میں ڈالا ۔۔۔جسے اس نے بے اختیار کاٹا تھا۔۔اور پھر جلدی سے چوسنے لگی۔۔میرے دھکے تیز ہونے لگے تھے ۔۔۔۔ٹوپا باہر چوت کے لبوں تک آتا ۔۔۔اور پھر پسٹن کی طرف واپس لپک جاتا ۔۔چوت کی تنگی کے باجود ہتھیار نے اپنی جگہ بنائی تھی ۔۔۔۔اور ۔۔چوت کا پانی چھوڑنا جاری تھی ۔۔۔۔جو جھاگ کی صورت باہر کو رِس رہا تھا۔۔۔۔۔۔پسٹن پمپ ہتھیار تیزی سے اندر باہر ہو رہا تھا۔۔۔۔رینا اپنے دانت میرے ہاتھ میں گاڑے اسے چوس رہی تھی۔۔۔۔وقفے وقفے سے کراہ اٹھتی ۔۔۔۔بے چارگی سے مجھے دیکھتی ۔۔۔۔اور پھر میری انگلیان چوسنے میں لگ جاتی ۔۔۔۔
    میرے دھکوں نے درمیان اسپیڈ سے اب تیزی پکڑی ۔۔۔۔۔بیڈ کی آوازیں بلند ہورہی تھیں ۔۔۔۔سسکیاں اب عروج پر تھیں ۔۔جن کے درمیان ایک ہلکی سی چیخ بھی ۔۔۔۔وہ ساتھ والے کمر ے میں موجود اپنی ماں کی موجودگی سے بے خبر بنی تھی تو مجھے کیا فکر تھی۔۔۔۔۔۔۔دھکے رینا کو بیڈ میں دھنسانے لگے ۔۔۔۔۔چہرہ اب لال سرخ ہو چکا تھا۔۔۔۔۔اس نے میرا ہاتھ اپنے منہ سے نکالا ۔۔۔اور تیز آہ بھرتے ہوئے اپنی کمر کو اٹھایا ۔۔ایک تیز چیخ کے ۔۔۔ساتھ ہی اس کی چوت میں پانی کا ایک سیلاب بہا۔۔۔۔دوسری مرتبہ پھر اس کی چوت نے پانی چھوڑ دیا ۔۔۔۔۔اس کی نگاہیں اور چہرہ دیکھتے ہوئے میں نے ہتھیار باہر نکالا ۔۔۔اور برابر میں لیٹ گیا۔۔۔ٍرینا کی گہر ی سانسیں جاری تھیں ۔اس کی چوت پہلے سے سرخ ہو گئی تھی ۔۔۔۔ساتھ ساتھ میرے سینے پر سر ٹکائے وہ بے دم تھی ۔۔۔۔۔۔کچھ دیر ایسے ہی لیٹی رہی ۔۔۔۔پھر اوپر لیٹی مجھے دیکھنے لگی۔۔۔نگاہوں میں حیرت اور بے بسی کی آمیزش تھی ۔۔۔۔میں اب تک فارغ نہیں ہوا تھا۔۔۔۔چہرے کو چومتی ہوئی وہ مجھے سمبھال رہی تھی ۔۔۔۔۔میں نے ایک ہاتھ اس کی کمر پر رکھا ۔۔۔اور آنکھیں موند لیں ۔۔۔۔میرے ہاتھ اس کی کمر پر سے ہوتے ہوئے چوتڑوں پر گھوم رہے تھے۔۔۔۔گول مٹول سے گوشت سے بھرپور ۔۔۔۔۔میں دباؤ بڑھاتا جا رہا تھا۔۔۔جیسے جیسے رات ختم ہور ہی تھی ۔۔۔۔میرے اندر کا الاؤ بڑھ رہا تھا۔۔۔۔رینا مجھے چومتی ہوئی اب سینے پر آئی تھی ۔۔۔پورے سینے پر اس کے لب پہنچ رہے تھے ۔۔۔مگر میرے سینے کی آگ مزید ہی بھڑک رہی تھی ۔۔۔۔نگاہوں میں عجیب سے سی گرمی نکل رہی تھی ۔۔۔۔رینا کے لئے بھی یہ عجیب تھا۔۔ وہ بار بار چومتی ۔۔زبان پھیرتی ۔۔جیسے مجھے سرد کرنے کی کوشش میں ہو ۔۔۔۔۔
    رینا اب چومتی ہوئی ۔۔۔زبان پھیرتی ہوئی پیٹ کے قریب پہنچی ۔۔۔۔میری ناف میں زبان پھیرنے لگی۔۔۔۔ساتھ ہی نیچے کھسکی ۔۔۔اور ہتھیار کو تھام کر اس پر زبان پھیرنے لگی ۔۔۔جو شاید سب سے زیادہ گرم تھا۔۔۔۔رینا پہلے سے زیادہ گرم جوشی سے اسے چومنے لگی۔۔۔چاٹنے لگی ۔۔۔۔تھوک اکھٹا کر کر اوپر گراتی ۔۔۔ساتھ ساتھ اس کے ہاتھ اس پراوپر سے نیچے حرکت کرتے ۔۔۔۔۔ٹوپے پر ہونٹ لگا کر چوسنے لگی ۔۔۔۔ہاتھوں کی تیزی بڑھ رہی تھی ۔۔۔۔اس کی بھی یہی کوشش تھی کہ جلدی سے فارغ ہوں اور یہ گرمی کا طوفان کم ہو ۔۔۔۔۔۔کچھ دیر اسی کوشش میں مگن رہنے کے بعد رینا سست پڑنے لگی ۔۔۔میری برداشت بھی ختم تھی۔۔۔۔
    رینا بے چارگی سے میرے برابر لیٹ گئی ۔۔۔میں نے کروٹ دیتے ہوئے اسے الٹا لٹا دیا ۔۔۔۔۔پتلی نازک کمر کے نیچے گول سے چوتڑ ۔۔۔جو قدرے سرخ ہو گئے تھے ۔۔۔۔ساتھ ہی کروٹ لیتے ہوئے اسکے اوپر آ گیا۔۔۔۔۔میرا وزن اس کے لئے زیادہ تھا۔۔۔۔۔میں نے اس کے دائیں بائیں اپنے گھٹنے رکھ دیے ۔۔۔۔اور ٹوپے کو چوتڑوں کے درمیان سے چوت پر رکھنے لگا۔۔۔رینا نےجسم ڈھیلا چھوڑتے ہوئےٹانگیں پھیلائیں ۔۔۔۔۔جسے میں نے دوبارہ اپنی ٹانگو ں سے ملایا ۔۔۔۔۔اور ٹوپے کو چوت پر دھکا دیا۔۔۔۔ٹوپا چوت سے سلپ ہوا ۔۔۔میں نے رینا کو چوتڑ اٹھانے کا کہا ۔۔۔۔اور ہتھیار کو نشانے پر رکھ کر بھرپور دھکا دیا۔۔۔ٹوپے اندر اترا ۔۔۔۔۔ساتھ ہی رینا کے منہ سے چیخ بھی ۔۔۔۔۔اگلے جھٹکے میں آدھے سے زیادہ ہتھیار اندر تھا۔۔۔۔۔۔رینا کے منہ سے چیخوں کا طوفان تھا۔۔۔۔گرم گرم سسکیوں کی ایک لائن تھی۔۔۔۔میں نے ٹوپے کو واپس نکالتے ہوئے واپس جھٹکے سے پہنچادیا ۔۔۔اس کے بعد دھکوں کی ایک اسپیڈ شروع تھی ۔۔۔ہتھیار نے چوت میں تباہی مچا دی تھی ۔۔۔۔۔دھکوں کی اسپیڈ تیز سے تیز ہونے لگی ۔۔۔میری کمر اٹھتی ۔۔اور پوری قوت سے رینا کے چوتڑ سے ٹکراتی ۔۔۔۔اور اسے بیڈ میں دھنسا دیتی ۔۔۔۔۔۔اگلے ہی لمحے اگلا جھٹکا واپس اسے مزید اندر دھنسا دیتا۔۔۔۔۔رینا کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے ۔۔۔۔اتنی اسپیڈ میں طاقت ور دھکے سہنا اس کے بس سے باہر ہو رہا تھا۔۔۔۔مگر اس وقت میرے نیچے لگی ہوئی وہ کچھ اور کربھی نہیں سکتی تھی ۔۔۔میری بڑھتی ہوئی اسپیڈ نے میری سانسوں کو بھی تیز کر دیا۔۔۔۔۔ساتھ ہی وہی غراہٹ ۔۔۔جو مجھ سے مخصوص تھی۔۔۔۔۔میری آخری اسپیڈ۔۔۔۔جس کے بعد رینا کے منہ بند نہیں ہوا ۔۔۔۔طوفانی اسپیڈتھی ۔۔۔۔جس نے رینا کو بیڈ میں دھنسائے رکھا تھا۔۔۔۔۔میرے جسم میں بھی گرمی انتہا کو تھی ۔۔۔نچلے حصے میں اکڑاؤ سا آیا ۔۔۔پانی کا ایک قطرہ اندر سفر کرتا ہوا ٹوپے تک آیا اور رکا۔۔۔۔۔اس کے ساتھ ہی گرم گرم لاوے نے ایک مرتبہ پھر رینا کو تڑپا دیا ۔۔۔۔۔۔۔پوری قوت سے اندر ایک فوارہ چھوٹا تھا۔۔۔ساتھ ہی میری اسپیڈ میں ایک دم کم آئی ۔۔۔اور میں اس کے اوپر لیٹ گیا۔۔۔۔۔کافی دیر تک پانی اندر گرتا رہا ۔۔۔میں کروٹ لے کر سیدھا ہو گیا۔۔۔۔۔
    رینا کی حالت زیادہ خراب تھی ۔۔۔ ۔میرے طوفانی دھکوں نے اس کے چودہ طبق روشن کر دئے ۔۔۔۔ساتھ ہی اپنی ماما کی چیخیں بھی یاد آ گئیں ۔۔۔۔اب سیدھی لیٹی ہوئی چادر لے رہی تھی ۔۔۔۔آنسوؤں کے نشان گال پر صاف دیکھے جا رہے تھے ۔۔۔۔۔۔اتنے میں
    باہر سے آنے والی آواز نے مجھے چونکا دیا تھا۔۔۔۔۔صبح کے کوئی پانچ بجے تھے ۔۔۔۔رینا کے منہ سے پاپا کی آواز نکلی تھی۔۔۔۔ رینا کا چہرہ بھی مدھم پڑ گیا تھا۔۔۔میں جلدی سے اسے کپڑے پہننے کا کہہ کر اٹھا ۔۔۔اور تولیہ پہنتے ہوئے باہر آیا ۔۔۔۔ رینا نے حیرانگی سے مجھے دیکھاکہ میں ایسے حلیئے میں باہر جا رہا ہوں ۔۔۔مگر میرا ارادہ کچھ اور ہی تھا ۔۔رینا کی ٹھکائی کرتے ہوئے میرا ذہن آگے کا پلان کر رہا تھا۔۔۔۔اور اسی لمحے کا انتظار تھا۔
    باہر نکل کر بر آمدے میں پہنچا ۔۔۔جنر ل ہارزی حالوی میرے سامنے ہی کھڑا تھا ۔مجھے صاف اس کے چہرے پر خباثت دکھی ۔۔۔۔شارا کو ایک سے دو آواز دے چکا تھا۔۔۔اور اب تیسری دینے والا تھا۔۔۔مجھے دیکھ کر اس کی آنکھوں میں حیرت عود آئی ۔۔۔۔میں اس کا ہم عمر تھا۔۔۔اور اس وقت اس کی بیٹی کے کمرے سے اس حالت میں نکل کر سامنے آیا تھا۔۔۔۔اس کے منہ سے نکلا ۔۔۔"موشے تم ۔۔۔" ۔ رینا کے کمرے میں ۔۔؟

    اس سے پہلے کہ وہ کچھ سوچ پاتا ۔۔۔میں حرکت میں آ گیا تھا۔۔۔مجھے پتا تھا کہ کیا کرنا ہے ۔۔۔

    میں جھپٹتا ہوا اس کے سامنے آیا ۔۔۔ایک جھلک وہا ں دکھا کر میں اس کی سائیڈ پر پہنچا۔۔میری کھڑی ہتھیلی اس کے کھوپڑی کے پچھلی طرف گردن کے جوڑ پرپڑی تھی ۔۔ ہکا بکا کھڑے جنرل حالوی کا سر ایک دم سے اوپر اٹھ گیا۔۔۔اس کے ساتھ ہی میں گھومتا ہوا اس کے سامنے آیا۔۔۔۔میری مٹھی کا بنا ہوا ہک پوری قوت سے اس کے پسلیوں کے درمیان دل کے حصے میں پڑا ۔۔۔۔ حالوی کے دونوں ہاتھ اپنے سینے پر ٹکے اور کٹے ہوئے شہتیر کی طرح پیچھے کو جا گرا ۔۔۔۔مجھے سہار ا دینے کا کوئی شوق نہیں تھا ۔۔۔نفرت بھرے انداز میں اس کی طرف نگاہ ڈالی ۔۔۔حالوی کی نگاہوں میں حیرت کے ساتھ خوف بھی تھا ۔۔وہ سمجھ چکا تھا کہ میں جنرل موشے ہر گز نہیں ۔۔۔اور آج کا دن جس ایجنٹ کو ڈھونڈنے میں لگایا ۔وہی ایجنٹ جو ایک رات پہلے بارڈر پر تباہی مچا کر آیا ۔۔۔۔آج ۔وہ اسی کے گھر میں تھا۔۔

    میں نے تیز آواز میں شارا اور رینا کو آواز د ی ۔۔۔۔۔دو آوازیں دے کر میں حالوی کے برابر میں گھٹنے ٹیک کر بیٹھا ۔۔۔اور سینے پر ہاتھ رکھے پمپ کرنے لگا ۔۔۔رینا اور شارا دونوں ایک ساتھ ہی کمرے سے نکلیں تھیں ۔۔۔دونوں کپڑے پہن چکی تھی ۔۔۔۔اور تیزی سے حالوی کے پاس پہنچی ۔۔۔۔سوالیہ نظریں مجھ پر جمی تھیں ۔۔۔میں نے ہارٹ اٹیک کا کہا ۔۔۔اور تیزی سے سینہ پمپ کرنے لگا۔۔۔

    شارا کی اپنی حالت خراب تھی ۔۔۔وہ بھی اس کے برابر میں گر سی گئی ۔۔۔۔البتہ رینا جلدی سے ایمبولینس کی آواز لگا کر فون کی طرف دوڑی ۔۔۔۔

    میں پمپ کرنے کےساتھ ساتھ بے پناہ طاقت سے اسے دبا بھی رہا تھا۔۔۔۔۔بولنے کے لئے منہ سے آواز نکالنے کی کوشش کرنے والا حالوی بے جان ہو گیا تھا۔۔سر کی پشت پر لگنے والی ضرب نے اس کے اعصابی نظام کو تباہ کر دیا تھا۔۔۔اور دل پر پڑنے والی ضرب اس کے دل کو بند کر چکی تھی ۔۔اب دل چند ہی منٹوں کا مہمان تھا۔۔۔

    رینا جلد ی جلدی فون پر بات کر رہی تھی ۔۔۔۔قریب کے علاقے میں ایمرجنسی نافذ تھی ۔۔۔۔اس نے ایمبولینس والے ہیلی کاپٹر کی بات کی ۔۔۔۔ ۔۔اور فون رکھ دیا ۔۔۔

    میں اٹھ کر شارا کے کمرے کی طرف گیا ۔۔۔اور اپنے کپڑے پہننے لگا۔۔۔۔شارا کا چہرہ زرد تھا ۔آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔۔۔۔۔ مگر رینا کو کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔۔۔اتنے میں باہر سے ایمبولینس کے سائرن کی آواز آئی ۔۔۔۔۔اس سے پہلے کہ نرسز اسٹریچر لے کر اندر کی طرف آتے ۔۔۔میں نے بے جان حالوی کو بازؤؤں میں اٹھایا ۔۔۔اور باہر کی طرف جانے لگا۔۔۔ایمبولینس کے اسٹریچر پر ڈالتے ہوئے میں بھی ساتھ بیٹھ گیا۔۔۔
    میرے برابر میں رینا آ کر بیٹھی ۔۔۔شارا اس کے برابر میں ۔۔۔ایمبو لینس کا درواز ہ بند ہوا ۔۔۔اور وہ تیزی سےروانہ ہوئی ۔حالوی کے چہرے پر آکسیجن ماسک لگ گیا تھا۔۔ٹرینڈ نرسز نے اس کے وائٹل سائن مانیٹر کرنے شروع کر دئے ۔۔۔سائرن کی آواز ہلکی ہلکی اندر بھی آرہی تھی۔۔۔میں سر جھکائے اگلے پلان کے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔۔تین منٹ میں ایمبولینس ایک بڑے کمپاؤنڈ میں رکی ۔۔جہاں ایک ہیلی کاپٹر ہمارا انتظار کر رہا تھا۔۔۔ہم تینوں ہی ہیلی کاپٹر میں ساتھ بیٹھے ۔۔جہاں ۔ایک ڈاکٹر بھی ہمارے ساتھ تھا۔۔۔اس نے آنکھ کی پتلی چیک کی ۔۔۔۔نبض چیک کی ۔۔۔۔۔اور دل میں انجکشن لگانے کی تیار ی کرنے لگا۔۔۔۔اسے پتا چلا گیا تھا کہ مریض آخری سانسوں پر ہے۔۔

    پانچ سے سات منٹ میں ہیلی کاپٹر ایک بڑے سے ہاسپٹل کی چھت پر اترا ۔۔۔یہ سات منٹ جنرل حالوی پر قیامت کے تھے۔۔اس کا دل جسم کو خون پہنچانے میں ناکام رہا تھا۔۔۔چہرہ پیلا پڑ چکا تھا۔۔۔۔اور دل اس کا ساتھ چھوڑ چکا تھا۔۔۔۔چھت پر اسٹریچر لئے ہوئے لوگ پہلے سے ہی انتظار میں تھے ۔۔حالوی کو لئے ہوئے وہ تیزی سے ایمر جنسی کی طرف دوڑے ۔۔۔میں شارا اور رینا کو لئے ہوئے پیچھے چل پڑا ۔۔۔۔ایمر جنسی کے ویٹنگ روم میں ان کو بٹھاتے ہوئے میں باہر آ یا۔۔ ۔۔میرا رخ اب ہاسپٹل کے ایگزٹ کی طرف تھا۔۔میرا کام ختم تھا ۔۔۔۔اتنے میں ہاسپٹل کے اندر چند فوجی گاڑی آ کر رکیں ۔۔۔مین نے فورا اپنا رخ بدلا اورسیدھا ہاسپٹل کی پارکنگ کی طرف بڑھ گیا۔۔۔میری نظریں کسی الگ تھلگ کار کو ڈھونڈ رہی تھی ۔۔۔۔ایک کار مجھے اپنے لئے مناسب نظر آئی ۔۔میں نے دائیں بائیں دیکھا ۔۔۔اور نیچے سے ایک پتھر اٹھا لیا۔۔نشانہ کار کا سائیڈ کا شیشہ تھا ۔۔جو پہلی ہی باری میں ٹوٹا ۔۔۔میں نے دروازے کا لاک اٹھایا ۔۔اور ہینڈل کھینچا ۔۔۔۔اتنے میں مجھے پیچھے سے کسی کی آواز آئی ۔۔ ۔ ہینڈز اپ ۔۔

    ٭٭٭٭٭٭٭٭
    THE DEVIL WHISPERS YOU CANT WITHSTAND THE STORM

    MY REPLIED , TAKE A SIDE , "I AM THE STORM"

  4. The Following 13 Users Say Thank You to hard.target For This Useful Post:

    abba (04-01-2018), abkhan_70 (02-01-2018), farhan403 (05-01-2018), farhan9090 (13-01-2018), Fathr of Fun (06-01-2018), imranmeo (08-01-2018), Irfan1397 (03-01-2018), Lovelymale (02-01-2018), mohidrao (04-01-2018), piyaamoon (03-01-2018), sexeymoon (04-01-2018), Story-Maker (03-01-2018), teno ki? (03-01-2018)

  5. #93
    hard.target's Avatar
    hard.target is offline Premium Member
    Join Date
    Dec 2013
    Location
    Pakistan , India , UAE , Korea , Taiwan
    Posts
    261
    Thanks
    269
    Thanked 1,414 Times in 241 Posts
    Time Online
    5 Days 13 Hours 27 Minutes 57 Seconds
    Avg. Time Online
    5 Minutes 22 Seconds
    Rep Power
    990

    Default

    امید ہے کہ اگلی قسط میں حقیقی مشن کی شروعات ہو گی ۔۔۔ اپ ڈیٹ لیٹ ہونے کی مین وجہ مصروفیت اور ذہن کا الجھاؤ ہے ۔ کوشش ہے کہ جلد از جلد کہانی اپنے اختتام کو پہنچے ۔۔۔
    مجھے سرفروش 2 میں سے ایک دو کرداروں کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے ۔۔۔آپ لوگوں کا کیا مشورہ ہے ۔۔۔ ؟
    THE DEVIL WHISPERS YOU CANT WITHSTAND THE STORM

    MY REPLIED , TAKE A SIDE , "I AM THE STORM"

  6. The Following 8 Users Say Thank You to hard.target For This Useful Post:

    abba (04-01-2018), abkhan_70 (02-01-2018), evilgenius85 (02-01-2018), farhan403 (05-01-2018), Fathr of Fun (06-01-2018), Lovelymale (02-01-2018), suhail502 (03-01-2018), teno ki? (03-01-2018)

  7. #94
    Lovelymale's Avatar
    Lovelymale is offline Premium Member
    Join Date
    Aug 2008
    Location
    Islamabad, Pakistan, Pakistan
    Age
    54
    Posts
    1,987
    Thanks
    14,212
    Thanked 6,990 Times in 1,792 Posts
    Time Online
    2 Weeks 2 Days 19 Hours 28 Minutes 44 Seconds
    Avg. Time Online
    10 Minutes 59 Seconds
    Rep Power
    1045

    Default

    Quote Originally Posted by hard.target View Post
    امید ہے کہ اگلی قسط میں حقیقی مشن کی شروعات ہو گی ۔۔۔ اپ ڈیٹ لیٹ ہونے کی مین وجہ مصروفیت اور ذہن کا الجھاؤ ہے ۔ کوشش ہے کہ جلد از جلد کہانی اپنے اختتام کو پہنچے ۔۔۔
    مجھے سرفروش 2 میں سے ایک دو کرداروں کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے ۔۔۔آپ لوگوں کا کیا مشورہ ہے ۔۔۔ ؟
    Mukhtasir thi magar Boht achi update rahi. Aap jo characters kahani main dalna chahtay hain zaroor dalain kyonkeh writer ke apnay zehn main jo plot hota hai, wohi story ka sab se acha plot hota hai. Magar updates ko itna late na kiya karain.

  8. The Following 4 Users Say Thank You to Lovelymale For This Useful Post:

    abba (04-01-2018), farhan403 (05-01-2018), Irfan1397 (03-01-2018), suhail502 (03-01-2018)

  9. #95
    Story-Maker's Avatar
    Story-Maker is offline Super Moderators
    Join Date
    Mar 2016
    Location
    Pakistan
    Age
    24
    Posts
    3,731
    Thanks
    1,686
    Thanked 4,085 Times in 2,127 Posts
    Time Online
    1 Week 4 Days 22 Hours 12 Minutes 6 Seconds
    Avg. Time Online
    25 Minutes 42 Seconds
    Rep Power
    835

    Default

    laaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaa jawaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaaab

  10. The Following 3 Users Say Thank You to Story-Maker For This Useful Post:

    abba (04-01-2018), farhan403 (05-01-2018), suhail502 (03-01-2018)

  11. #96
    teno ki? is offline Premium Member
    Join Date
    Feb 2012
    Posts
    317
    Thanks
    391
    Thanked 536 Times in 231 Posts
    Time Online
    1 Week 3 Days 2 Hours 44 Minutes 6 Seconds
    Avg. Time Online
    6 Minutes 43 Seconds
    Rep Power
    39

    Default

    جی آپ جو بہتر سمجھتے ہیں ضرور کریں
    کردار آگے پیچھے کرنے سے ہی کہانی تخلیق ہوتی ہے

  12. The Following 2 Users Say Thank You to teno ki? For This Useful Post:

    abba (04-01-2018), suhail502 (03-01-2018)

  13. #97
    teno ki? is offline Premium Member
    Join Date
    Feb 2012
    Posts
    317
    Thanks
    391
    Thanked 536 Times in 231 Posts
    Time Online
    1 Week 3 Days 2 Hours 44 Minutes 6 Seconds
    Avg. Time Online
    6 Minutes 43 Seconds
    Rep Power
    39

    Default

    واہ بہت خوب
    ہارڈ ٹارگٹ بھائ واقعی کمال لکھتے ہین آپ
    بہت مختصر وقت کے لیئے واٹس اپ پہ آپ سے بات ہوئ سوچا تھا گپ شپ ہوگی مگر آپ الوداع ہی کر گئے
    ویسے بھی اک لکھاری کے لیئے گپ شپ بہت مشکل ہوجاتی ہے

    کمال لکھتے ہین آپ
    سیکس ایسا جو زہن پہ سوار نہین ہوتا ایکشن ایسا کہ بندہ خود کو بہت قریب محسوس کرتا ہے
    بہت انتظار ہوتا ہے سرفروش کی اپڈیٹ کا

  14. The Following 3 Users Say Thank You to teno ki? For This Useful Post:

    abba (04-01-2018), abkhan_70 (03-01-2018), suhail502 (03-01-2018)

  15. #98
    Irfan1397's Avatar
    Irfan1397 is offline super moderator
    Join Date
    Sep 2011
    Location
    Sahiwal
    Posts
    7,501
    Thanks
    26,079
    Thanked 38,241 Times in 7,300 Posts
    Time Online
    1 Month 2 Weeks 3 Hours 24 Minutes 52 Seconds
    Avg. Time Online
    28 Minutes 51 Seconds
    Rep Power
    3126

    Default



    بہت عمدہ اور لاجواب اپڈیٹ رہی ۔ اگلی قسط کا انتظار رہے گا۔

  16. The Following 2 Users Say Thank You to Irfan1397 For This Useful Post:

    abba (04-01-2018), abkhan_70 (06-01-2018)

  17. #99
    farhan403's Avatar
    farhan403 is offline sex ka dewan
    Join Date
    Oct 2015
    Location
    attock
    Posts
    353
    Thanks
    283
    Thanked 502 Times in 235 Posts
    Time Online
    4 Days 18 Hours 11 Minutes 52 Seconds
    Avg. Time Online
    8 Minutes 9 Seconds
    Rep Power
    41

    Default

    Quote Originally Posted by hard.target View Post
    امید ہے کہ اگلی قسط میں حقیقی مشن کی شروعات ہو گی ۔۔۔ اپ ڈیٹ لیٹ ہونے کی مین وجہ مصروفیت اور ذہن کا الجھاؤ ہے ۔ کوشش ہے کہ جلد از جلد کہانی اپنے اختتام کو پہنچے ۔۔۔
    مجھے سرفروش 2 میں سے ایک دو کرداروں کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے ۔۔۔آپ لوگوں کا کیا مشورہ ہے ۔۔۔ ؟
    No tension ap jo b crector ly lo per ho ga kamal he aur rahi kahani khatam kerni ki to kio jaldi nahe ha aram sakoon say her chez wazahat say akhtitam py achi lagti ha aur ap ko kia zahni tension hai share kerna pasand karo gay ho sakts ha k hum main say kio ap li help ker sakyaur is update k ly surf eklafz shandaaar.......
    Mujhy ab is update ko samjhne k ly pehly wali do updates dobara parhne pary gi to he is update ko samjh sakhoon ga aur ap sy y request hai k is ki ek update day ker ap mahena maheena ghaib ho jaty ho to plz surf ap ko aur fiza ko hum surf 2weeks ka time day sakty hain k 2 weeks bad ap update lazmi dia kro aur umeed h ap loog mayooos nahe kro gay.
    Thanks and good bye for the next comment.

  18. The Following User Says Thank You to farhan403 For This Useful Post:

    abkhan_70 (05-01-2018)

  19. #100
    Fathr of Fun's Avatar
    Fathr of Fun is offline Aam log
    Join Date
    Dec 2017
    Location
    At Soft Places
    Posts
    6
    Thanks
    16
    Thanked 4 Times in 3 Posts
    Time Online
    11 Hours 42 Minutes 20 Seconds
    Avg. Time Online
    21 Minutes 10 Seconds
    Rep Power
    2

    Default

    Lajawab.
    Shandar.
    A 1.
    Umdaaaa.
    Kamaaal.
    Aur kia kho, no words.
    Ek sehr tari kr deti ap ki story, and jis detail se ap beyan krty wo ap hi ka khassa ha. So nice.
    And waiting for next because ,dil mangy aur.

  20. The Following User Says Thank You to Fathr of Fun For This Useful Post:

    abba (09-01-2018)

Page 10 of 11 FirstFirst ... 67891011 LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •