Page 2 of 3 FirstFirst 123 LastLast
Results 11 to 20 of 25

Thread: کچی عمر کی نادانیاں

  1. #11
    Join Date
    Oct 2016
    Location
    Lahore
    Age
    25
    Posts
    490
    Thanks
    1,220
    Thanked 2,817 Times in 474 Posts
    Time Online
    4 Days 10 Hours 35 Minutes 27 Seconds
    Avg. Time Online
    35 Minutes 11 Seconds
    Rep Power
    947

    Default

    مالم جبہ میں ایک عجیب ہی سماں تھا یوں لگتا تھا کے جیسے ہر شے نے ایک سفید چادر اوڑھ لی ہو میمو کی خوشی کا ٹھکانا نہ تھا اور اسکا دل کر رہا تھا کے برف پے بھاگے اور اٹھکیلیاں کرے. ایک دن ریسٹ کے بعد وہ سارے سکیٹنگ کے لیے ایک پہاڑ پے چلے گئے اور سارے سکیٹنگ کرنے لگ گئے لیکن میمو نے پہلے کبھی کی نہیں تھی سو وہ ڈر رہی تھی دائود دور بیٹھا سگرٹ پی رہا تھا اور میمو کو دیکھ رہا تھا. کافی کوشش کے بعد بھی جب میمو کامیاب نہ ہوئی تو دائود وہاں آہ گیا اور بولا چاہو تو مجھے آزما سکتی ہو میمو بولی تمہیں سکیٹنگ کرنا اتی ہے؟ دائود بولا بندہ 3 سال سیاچن پے پوسٹ رہا ہے سب جانتا ہے میمو بولی کے پھر مجھے بھی سکھا دو نہ. دائود نے اسکے برف پی پھسلنے والے بوٹ اچھی طرح کس دے اور بولا کے اپنی ٹانگیں گھٹنوں کے قریب سے مضبوط کرنا ہوتی ہیں اور پاؤں ٹیڑھے کر کے 2 سٹک کی مدد سے برف سے پھسلنا ہوتا ہے. میمو کی طرح دائود نے خود بھی بوٹ پہن لیے اور میمو کا ہاتھ پکڑ کے بولا کے آؤ تمہیں سکھاتا ہوں. پھر اسنے میمو کا ہاتھ پکڑ کے اپنے ساتھ پھسلنا شروع کیا میمو لڑکھڑا رہی تھی اور تھوڑی دیر بعد برف پی گر گی اور ہنسنے لگ گی دائود نے اسے پکڑ کے اٹھایا تو جھٹکے سے کھڑی ہوئی تو دائود بھی گر پڑا اور میمو دائود کو اوپر گر پڑی اور اسکے سینے پی میمو کا سر لگ گیا پھر دونوں ہنسنے لگ گئے اور دائود نے مٹھی میں برف پکڑ کے گولہ بنایا اور میمو کے سر پی دے مارا اور میمو نے بھی ووہی کیا اور گولہ باری سٹارٹ ہو گی برف کی میمو بوہت خوش ہو رہی تھی پھر دوبارہ میمو نے برف پی پھسلنا سٹارٹ کر دیا اور دائود اسے ساتھ ساتھ بتائی جا رہا تھا کے کیسے کرنا ہے میمو گرنے لگی تو دائود نے بچانا چاہا لیکن غلطی سے ہاتھ میمو کے مموں کے اوپر جم گیا اور اسکے سہارے ہی دائود نے میمو کو اٹھایا اور میمو کچھ لمحے حیران ہوئی اپنے مموں پے دائود کا ہاتھ دیکھ کے لیکن یہ سب غیر ارادی تھا تو میمو نارمل ہو گی. پھر دائود نے میمو کو کہا کے آؤ آگے تک جاتے ہیں اور لیکن میمو ڈر رہی تھی تو دائود نے میمو کے پیچھے آ کے بدن کے ساتھ بدن جوڑ کے میمو کو کہا کے وہ پیچھے سے اسکے بازو پکڑ لے اور دائود پھسلنے لگ گیا میمو بوہت خوش ہو رہی تھی کیوں کے دائود کی کافی پریکٹس تھی برف کی. دائود کلورا سخت ہونا سرو ہو گیا اور میمو کپڑے بھاری ہونے کی وجہ سے میمو محسوس نہ کر سکتی تھی .

    پھر وہ دونوں اسی طرح آگےبڑھتے گئے اور ایک پوانٹ پے رک گئے میمو بولی کے تمہیں بھالو بنانا آتا ہے؟ دائود بولا ہاں کیوں نہیں سیکھنا چاہو گی؟میمو بولی ہاں نہ اور پھر بھالو بنانے لگ گے جب بھالو بن گیا تو میمو بولی کے یہ تو بتاؤ یہ بھالو ہے یا بھالی؟ دائود بولا مطلب؟ میمو بولی کے پتا ہی نہیں چل رہا کے کے یہ مرد بھالو ہے یا عورت بھالو؟ دائود یہ سن کے ہنس پڑا اور بولا تم کیا بنانا چاہتی ہو؟ میمو بولی جو بھی تم بنا دو. دائود جواب سن کے کچھ دیر دیکھتا رہا ان دو نشیلی آنکھوں میں پھر آگے بڑھ کے اسنے بھالو کے دو ممے بنا دئیے چھوٹے چھوٹے سے. میمو بولی کے لو ابھی بھی پتانہی چل رہا. دائود بولا تو،ہیں دیکھ کے ہی بنایئں ہیں یہ سن کے میمو نے غیر ارادی طور پی اپنے مموں کی طرف جھانکا اور بولی نہیں میرے اتنے بھی چھوٹے نہیں ہیں. دائود اونچی اونچی ہنس پڑا جواب سن کے تو میمو کو احساس ہوا کے وہ کیا بول چکی ہے اور شرم سے موں لال ہو گیا لیکن دائود ہنسی جا رہا تھا تو میمو بولی اچھا اب بس بھی کرو تو دائود اٹھا اور بھالو کے دو بڑے بڑے ممے بنا دئیے اور بولا اب خوش؟ میمو بولی نہیں میں تو چاہتی تھی کے بھالو مرد بنے اور طنزیہ آنکھوں سے دائود کی طرف دیکھا تو دائود بولا کے پھر بنا دو نہ. میمو نے انگلی جتنا موٹا لن بنایا اور غالو کی للی والی جگہ پی لگا کے بولی یہ میںنے تمہیں دیکھ کے بنایا ہے اور ہنس پڑی. دائود بھی حیران تھا اور بولا بلکل جھوٹ ہے یہ.میمو بولی آزما کے دیکھ لو تو دائود بلکل اسکے سامنے آ گیا اور بولا آزمانے کے لیے تیار ہوں کیا تم تیار ہو اور موں خطرناک حد تک اسکے سامنے لے ایا کے سانسوں کو سانسیں محسوس ہو سکتی تھی. میمو کی دل کی دھڑکن تتر بتر ہو رہی تھی اور وہ بلکل چونکی اس بات پی پھر آگے دائود خود ہی بڑھا اور کمر کے گرد ہاتھ ڈال کے میمو کے سینے کو اپنے سینے سے ملا دیا تو میمو بولی کے تم جو کر رہے ہو اسکا انجام جانتے ہو نہ؟ دائود بولا انجام کی فکر نہیں ہے مریم ہم فوجی لوگ ہیں ہر وقت جان ہتھیلی پی ہوتی ہے ہماری تم بتاؤ تم انجام کے بارے میں با خبر ہو؟ میمو نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ اپنا سر دائود کے سینے سے لگا لیا اور بولی کے انجام کا ڈر ہوتا تو یہاں تمھارے ساتھ نہ ہوتی. دائود کے لیے یہ ایک خوش گوار احساس تھا اور اسنے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہوۓ اسکی آنکھوں کو چوم لیا اور پھر کانوں کو اپنے لبوں سے چھوتے ہوۓ بولا کیا تم میری بنو گی؟ میمو شرما کے آنکھیں نیچے کر کے سر ہلا دیا تو دائود بھی خوش ہو گیا اور اسکے لرزتے ہوۓ لبوں کو اپنے مضبوط لبوں سے چوم لیا اور ایک ہاتھ سے اسکے بال سہلانے لگ گیا. اور پھر میمو نے بھی ساتھ دینا شروع کر دیا اور وہ بھی اسکے لبوں کو چومنے لگ گی اور اور پھر دائود نے اپنی زبان بھی اسکے موں میں ڈال دی اور دونوں زمانے سے بےخبر ایک دوسرے کے جسموں میں پگھلنے لگ گئے اور چومی جا رہے تھے. دائود نے ہمت کی اور ایک ہاتھ گردن سے لاتے ہوۓ میمو کے مموں پی رکھ دی اور اور نپل کے ارد گرد کا علاقہ اپنے ہاتھوں سے سہلانے لگ گیا دھوپ نکلی ہوئی تھی اور موسم اچھا تھا پھر میمو نے بھی اپنا ہاتھ بڑھا کے اسکا لوڑا اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیا دائود مسکرا دیا اور اسکو زمین پی لٹا کے اپنی جیکٹ میمو کے نیچے رکھ دی اور اسکی قمیض اوپر کر کے اسکے پیٹ پے چومنے لگا میمو مزے میں گم اپنا سر ادھر ادھر جھٹک رہی تھی پھر دائود نے ایک ہاتھ میمو کی پھدی پی ٹکایا اور اسکی پھدی کو اپنی ہتھیلی میں لے لیا اور زبان اوپر کی طرف مموں کے پاس لے گیا اور پھر اپنے موں میں اسکا نپل چوس لیا کچھ ٹھنڈ کا اثر تھا اور کچھ بدن کی گرمی کا کے میمو کا نپل اکڑ کے کھڑا ہوا تھا اور دائود کبھی اپنی زبان اسکے مموں کے اوپر پھیری اور پھر پورا مما موں میں لینے کی کوشش کرتا اور کبھی اسکا نپل دانتوں میں جکڑ کے اپنی زبان نپل کے سوراخ پی رگڑتا رہتا اور کبھی دوسرا مما اپنے ہاتھوں میں لے کے اسکا بھی یہی حال کرتا میمو کی پھدی گیلی ہو گی تھی اور میمو نے بھی ہاتھ بڑھا کے دائود کا لوڑا اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور مٹھ لگانا سٹارٹ کر دی دائود سے اب برداشت نہ ہو پا رہا تھا اور اسنے شلوار نیچے کر کے میمو کی پھدی پی اپنا لوڑا رگڑنا سٹارٹ کر دیا وہ لوڑے کی ٹوپی سے میمو کا دانا مسل رہا تھا اور اپنی ایک انگلی اسکی پھدی میں ڈال رہا تھا میمو مر رہی تھی اور لوڑے کو ترس رہی تھی کے کسی طرح پھدی میں جائے اور دائود میمو کے موں سے کہلوانا چاہتا تھا کے لوڑا دو مجھے پھر میمو بول ہی پرو کے دائود اب برداشت نہیں ہو پا رہا پلیز اندر ڈال دو دائود کو بس یہی سننا تھ اور اسنے لوڑا پھدی پی تکیہ اور ٹوپی پی تھوک لگا کے ممیو کے ہونٹ موں میں لے لیے اور جھٹکا مارا اور لوڑا پھدی کو چیرتا ہوا زناٹے سے اسکی پھدی میں کھب گیا میمو کی چیخ دائود کے موں میں ہی پھنس گی اور میمو نے اپنی ٹانگیں بند کرنا چاہی لیکن بے سود رہی اور پھر دائود نے ایک اور جھٹکا مارا اور آدھ لوڑا میمو کی پھدی میں دفن ہو گیا میمو کی پھدی سے ہلکا ہلکا خون نکل رہا تھا کیوں کے جب بھی دائود لوڑا باہر نکلتا اس پی خون لگا ہوتا تھا دائود نے ایک ہاتھ سے میمو کا مما سہلایا اور دوسرے ممے کو موں میں لے کے چوسا تو میمو کا دہہان بتا جسکا فائدہ اٹھاتے ہوۓ دائود نے میمو کی پھدی میں سارا لوڑا جھٹکے کے ساتھ اندر کر دیا اور وہیں ساکن ہو گیا میمو کی آنکھوں سے آنسو نکل اے درد کی شدّت سے اور دائود نے ان حسین نشیلی آنکھوں کے موتیوں کو چوم لیا اور پھر آہستہ آہستہ لوڑا اندر باہر کرتا رہا اور ساتھ ساتھ ممے بھی مسل رہا تھا کچھ دیر بعد میمو نارمل ہوئی تو اس نے بھی سیکس کا مزہ لینا شروع کر دیا اور دائود کی گردن چومنے لگ آگیی اور بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی اور خود اپنی کمر اٹھا اٹھا کے لوڑا اندر لے رہی تھی کچھ دیر اسی طرح چلتا رہا اور پھر دائود نیچے آ گیا اور میمو اسکے لوڑے پی بیٹھ گی اور اپنے ہاتھ دائود کے سینے پی رکھ دئیے اور لوڑے پی اٹھک بیٹھک شروع کر دی وہ سارا لوڑا باہر نکلتی صرف ٹوپی کو اندر رہنے دیتی اور پھدی ٹائٹ کر کے ایک جھٹکے کے ساتھ سارا لوڑا اندر لے لیتی دائود مزے میں پاگل تھا اور اسکی چوتڑوں کو اپنے ہاتھ میں قابو کیا ہوا تھا اور کبھی کبھی ایک انگلی کا سرا میمو کی گانڈ پی لگا دیتا میمو اچھل پڑتی اور چدائی تیز چل پڑی کیوں کے میمو اوپر تھی اور لوڑا بلکل سیدھا اسکی پھدی میں جا رہا تھا تو میمو مزے میں زیادہ تھی اور اسکی چوت سے منی کا لاوا بہ رہا تھا اور وہ چھوٹنے کے قریب تھی یہ محسوس کر کے دائود نے میمو کو نیچے لٹایا اور اپنی گانڈ کا زور لگا کے تیز تیز جھٹکے مارنے لگ گیا اور میمو آہ آہ ائی ای ہممم کی آوازوں کے ساتھ چدائی کا مزہ لے رہی تھی اور کچھ پل بعد ہی میمو بولی کے اسی طرح کرو میں چھوٹنے کے قریب ہوں دائود بولا میں بھی فارغ ہونے والا ہوں میمو بولی اندر ہی ہو جانا دائود بولا کے تمہیں کوئی مسلہ تو نہیں ہو گا؟ میمو بولی نہیں بس خوشی ہو گی اور دائود اور میمو ایک ساتھ ہی چھوٹ گئے اور دائود میمو کے اوپر ڈھے گیا کچھ پل یوں ہی گزرے اور پھر میمو بولی کے تھینک یو یار میںنے کبھی سپنے میں بھی نہیں سوچا تھا کے اتنا مزا اے گا. دائود بولا کے یہ میری زندگی کا ایک حسین واقع ہے اور جب لوڑا باہر نکالا تو اسپے خون بھی لگا ہوا تھا میمو سے سہی چلا نہیں جا رہا تھا .

    دائود اسے اٹھا کے لایا اور رات میں سارے ہلا گلا کرتے رہے آدھی رات کو میمو دائود کے خیمے میں آی تو دائود جاگ رہا تھا بولا آ جاؤ میمو بولی کے چدائی کا سین دماغ سے نہیں نکل رہا پھر دھواں دار چدائی کا دور چلا اور میمو بولی کے آگے کا کیا سوچا ؟؟ دائود بولا کے ہم بھاگ کے شادی کر لیتے ہیں کیوں کے اویس صاحب ہماری شادی نہیں ہونے دیں گے میمو بولی ہاں انکا ارادہ ہے کے میں ایک بزنس مین دوست کے بیٹے سے شادی کر لوں. پھر پلان بنا کے صبح سب کے اٹھنے سے پہلے وہ دونوں بھاگ جایئں گے اس وقت میمو کی عمر کوئی 19 سال ہو گی اور کچی عمر بھی انسان نادان ہوتا ہے اور زیادہ نہیں سوچتا سو اس نے رضا مندی دکھائی اور میمو نے صائمہ کو بتا دیا اپنے پلان کے بڑے میں اور بولا کے کسی کو کچھ نہ بتانا اور صبح سویرے دائود کے ساتھ بھاگ گئی. کچھ دن دائود اپنی خالہ کی طرف رہا پھر کچھ دن کسی دوست کی طرف اویس صاحب کوخبر مل چکی تھی لیکن رسوائی کا ڈر تھا زمانے میں اور اگلے الیکشن میں بھی اسکے اثرات آ جاتے. کچھ دن بعد میمونے اپنے گھر فون کیا تو اویس صاحب نے جان سے مارنے کی دھمکی دی تو میمو بولی کے اپ کے ایسا کرنے سے پہلے ہی مین اور دائود ایک دوسرے کی بانہوں میں مر جائیں گے زہر کھا کے. مدیحہ صاحب ڈر گئی اور بولی نہ میری بچی ایس نہ کر میمو بولی کے پھر مجھے اور دائود کو اپنا لیا جائے دوبارہ. اویس صاحب نے فون رکھ دیا تو مدیحہ بولی کے گر یہ دونوں مر گئے تو سارے سیاسی مخالفین ہمارا مذاق اڑا رہے ہوں گے اور اگلا الیکشن مشکل ہو جائے گا پھر کافی سوچنے کے بعد اویس صاحب نے ان دونوں کو معاف کر دیا اور میمو واپس اپنے گھر میں آ گئی اور دائود بھی ساتھ ہی آ گیا پھر دائود گھر جمائی بن گیا ور میمو کے ساتھ ہی اویس صاحب کے گھر میں ہی انکی بیٹی کو چودتا رہا اور ایک سال بعد انکو اولاد ہو گئی تو اویس صاحب بھی خوش ہو گئے آخر وہ نانا بن گئے تھے جنکا انھیں خوشی بھرا احساس تھا.

    لائف اسی تارہ چلتی رہی اور ١٩٩٩ کا دور آ گیا انکا ایک مسلہ چل رہا تھا جائداد کے سلسلے میں اور قبضہ بھی کیا ہوا تھا لیکن پھر ایسا کرنا ہوا کے ان پے کرپشن کا پرچہ ہو گیا اور گورنمنٹ انکے پیچھے پڑ گئی اور ٹیکس کے معاملے شروع ہو گئے اسکے ابو نے یہی اچھا سمجھا کے کھچ عرصہ کے لیے ملک چھوڑ دیا جائے اور دبئی میں ایک شیخ جسکا حکومت میں کافی ہاتھ تھا اسکے گھر روکا جائے جب تک حالات سہی نہیں ہو جاتے آخر یہی طے پایا اور میمو کا پورا خاندان راتوں رات دبئی کے لیے نکل گیا اور اپنے شیخ دوست کی طرف رہائش اختیار کر لی. شیخ نے کافی اچھا استقبال کیا انکا اور تقین دلایا کے کوئی مشکل نہیں ہو گی جتنی دیر مرضی رہو. میمو کے لیے یہ ایک جذباتی ٹائم تھا کیوں کے وہ ابھی 26 سال کی ہی ہوئی تھی کے اسے اپنا ملک چھوڑنا پڑا اور اسکے لیے یہ بھی پریشانی تھی کے پتا نہیں کتنی دیر یہاں رہنا پڑے کیوں کی مستقبل کا کوئی اتا پتا نہیں تھا. اس شیخ خاندان نے کافی خاطر مدارت کی انکی لیکن ایک بیٹا قاسم تھا جو کے خاص طور پے ہی مہربان تھا انکے خاندان پے اور وجہ تھی میمو. وہ ہر وقت کوشش کرتا کے میمو کے اس پاس ہی رہے کیوں کے گم سم سے پوپٹ بچی اسے بوہت بھاتی تھی . ایک دن اویس صاحب بیگم صاحب کے ساتھ باتیں کر رہے تھے کے پتا نہیں شیخ باقر کب تک ہمیں رکھیں مجھے تو پریشانی کھاے جا رہی ہے کے اگر انہوں نے بھی ہمیں نکال دیا تو کہاں جایئں گے؟ میمو باہر کھڑی یہ باتیں سن رہی تھی اور آئندہ کا منصوبہ بنا رہی تھی. اسے اب اپنے خاندان کے لیے قربانی دینی تھی اسکا پلان تھا کے قاسم کو اپنی مٹھی میں قابو کر لیا جائے کیوں کے قاسم بھی اسکا ہم عمر ہی تھ اور اوپر سے غیر شادی شدہ بھی تھا تیسرا وہ میمو پی نگاہے کرم بھی ڈالا کرتا تھا اور چوتھا اسکی چلتی بھی بوہت تھی اپنے ابو کے آگے.

  2. The Following 4 Users Say Thank You to Sexeria For This Useful Post:

    abba (03-01-2017), abkhan_70 (01-01-2017), Khushi25 (18-01-2017), Lovelymale (03-01-2017)

  3. #12
    Join Date
    Oct 2016
    Location
    Lahore
    Age
    25
    Posts
    490
    Thanks
    1,220
    Thanked 2,817 Times in 474 Posts
    Time Online
    4 Days 10 Hours 35 Minutes 27 Seconds
    Avg. Time Online
    35 Minutes 11 Seconds
    Rep Power
    947

    Default

    ایک دن میمو باغ میں چہل قدمی کر رہی تھی کے قاسم اسکے پاس آ گیا اور بولا آپ اتنی اداس کیوں رہتی ہیں خوش رہا کریں کوئی مسلہ ہے تو مجھے بتانیں اسکو بھی اپنا ہی گھر سمجھیں کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے آپکو. میمو نے گہری نگاہوں سے قاسم کو دیکھا اور بولی آپ کو کیا پتا پراے دیش کا دکھ؟ جب اپنا گھر چھن جائے تو اسکا درد کیا ہوتا ہے آپکو نہیں پتا. قاسم بولا بلکل ٹھیک بات کی آپ نے لیکن عالی جاہ یہ بھی آپ کا ہی گھر ہے اگر سمجھیں تو اور ہلکا سا مسکرا دیا میمو اس مسکراہٹ کو سات پردوں میں بھی پہچان سکتی تھی کیوں کی حوس کی چمک صاف ظاہر تھی قاسم پے. میمو جان کے بولی بولی میں سمجھی نہیں. قاسم نے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کے اسے دبایا اور بولا غور کریں تو پتا چل جائے گا خیال رکھیں اور چلا گیا. میمو کا دماغ سایئں سایئں کر رہا تھا کیوں کے قاسم کو پھنسانا مشکل نہ تھا لیکن کیا اسے کرنا چاہیے تھا ؟ کافی غور کیا اور اسکے دماغ نے ہاں کا اشارہ دے دیا. اگلے کچھ دن ممیو بھی مسکراتی رہی قاسم کو دیکھ کے اور آنکھ مٹکا بھی چلتا رہا. پھر ایک دن باغ میں اپنے بچے کے ساتھ کھیل رہی تھی کے بچے نے گیند ایک سٹور روم میں پھینک دی میمو وہاں لینے گئی تو وہاں کافی اندھیرا تھا جب فل اندر چلی گئی تو اسے ایک مرد نے اپنے ساتھ لگا لیا میمو ابھی کچھ کہ ہی نہ پائی تھی کے قاسم بولا یہ میں ہوں مریم اور میمو کی آنکھوں میں جھانکنے لگا میمو کی سانسیں بھی اتھل پتھل ہو رہی تھی اور پھر قاسم نے اسکے ہاتھ اپنے دل پے رکھے اور بولا آج سے یہ تمہارا ہے جان قاسم! اور آگے بڑھا کے موں میمو کے سامنے لے ایا اور اپنے بھرے بھرے ہونٹوں میں اسنے میمو کے نازک ہونٹ لے ڈالے اور اس ادا سے چوما کے میمو کی جان نکلتی محسوس ہوئی ٹانگوں کے بیچ سے . میمو نے کس توڑی ائر اپنی سانسوں کو بحال کیا قاسم نے آگے بڑھ کے پھر اپنی زبان باہر نکالی اور میمو کے ھونٹوں پی پھیرتا رہا میمو گرم ہو رہی تھی اور اسنے قاسم کی زبان کو اپنے موں میں لے کے چوسنا سٹارٹ کر دیا کبھی اسکی زبان کو اپنے موں میں اندر کرتی کبھی باہر کرتی بلکل جس طرح سیکس میں ہوتا ہے کے لوڑا پھدی کے اندر باہر جاتا ہے. باہر سے اسکے بچے نے آواز دی تو میمو بولی کے میں اتی ہوں ادھر ہی رہنا اور باہر چلی گئی تھوڑی دیر بعد دوبارہ واپس آ گئی تو قصی نے اسے ایک صندوق کے سہارے کھڑا کیا اور پیچھے سے جپھی ڈال دی اور کپڑوں کے اوپر سے ہی لوڑا گانڈ کے ساتھ گھسانے لگا اور اپنے ہاتھ آگے لے جا کے میمو کے بھرپور ممے اپنے دونوں ہاتھوں میں قابو کر لیے اور انکو ہلکا ہلکا مسلنے لگا میمو بھی ساتھ دے رہی تھی اور اپنی ہاتھ کی انگلیاں اسکے بالوں میں پھیر رہی تھی. کچھ دیر بعد قاسم نے اپنے ہاتھ مموں سے ہٹائے اور میمو کی گانڈ پی رکھ دے اور اسکی چوتڑوں کو اپنے ہاتھوں میں بھرنے لگا (میمو کی سمجھ آ گئی تھی کے معاملا گانڈ کا ہے کیوں کے عربی گانڈ کے شوقین ہوتے ہیں ) تھوڑی دیر بعد میمو کو اپنی گانڈ پی کوئی موتی سی چیز چھبتی محسوس ہوئی میمو نے پیچھے سے ہاتھ لے جی کے اسکو دیکھنا چاہا تو ایک لمحے کو تو میمو کی سٹی گم ہو گئی کیوں کے وہ چیز قاسم کا لوڑا تھا اور بمشکل اسکے ہاتھ میں آ رہا تھا اور لوہے کے راڈ کی طرح سخت تھا جیسے ہی میمو نے قاسم کا لوڑا پکڑا قاسم کی سسکاری نکلی اور اسنے بھی میمو کی چوتریں سائیڈ پی کر کے اپنی ایک انگلی اسکی گانڈ پی گھسانا سٹارٹ کر دی اور پھر نیچے بیٹھ کے اسنے میمو کی شلوار کھیچ کے ٹخنوں تک کر دی اور سکن کلر کے انڈرویر کے اوپر سے ہی میمو کی گانڈ چاٹنے لگ گیا میمو مزے میں گم تھی قاسم اپنی زبان کو انڈرویر کے اوپر سے میمو کی گانڈ میں ڈالنے کی کوشش کرتا لیکن کامیاب نہ ہو پا رہا تھا پھر اسنے انڈرویر سائیڈ پی کی انگلی سے اور اپنی زبان سے دھاوا بول دیا میمو کی گانڈ پی.

    میمو کی سانسیں سمبھل نہ پا رہی تھی کیوں کے قاسم بوہت مزے سے اسکی گانڈ کو چوم رہا تھا قاسم اب اپنی زبان کو گانڈ کے اندر ڈال رہا تھا اور صرف تھوڑی سی زبان اندر جا رہی تھی اسنے میمو کو کہا کے تھوڑا آگے کو جھکے اور اپنی 2 انگلیوں سے اسکی گانڈ کے چھید کو سائیڈ سے پکڑ کے تھوڑا کھلا کیا اور زبان اندر ڈال دی اب زبان کوئی ڈیڑھ انچ اندر جا رہی تھی اور میمو کی پھدی خام خواہ ہی پانی چھوڑ رہی تھی حالاں کے قاسم نے اسے چھوا بھی نہیں تھا میمو نے بھی ہاتھ بڑھا کے قاسم کا لوڑا اپنے ہاتھوں مین لے لیا قاسم نے آزار بند کھول دیا اور اسکی شلوار نامہ پاجامہ نیچے گر گیا میمو نے ننگے لوڑے کو اپنے ہاتھوں میں لے کے مٹھ مارنا سٹارٹ کر دی تھوڑی دیر بعد لوڑا گرم ہو کے فل کھڑا ہو گیا میمو نے لمبائی ماپنا چاہی تو سانس روک گئی کیوں کے لوڑا کوئی 10 انچ لمبا ہو گا اور کوئی 3 انچ موٹا ہو گا قاسم نے میمو کا ہاتھ پکڑا اور دھیر ساری تھوک اسکے ہاتھ پے پھینک کے اسکا ہاتھ لوڑے پی رکھ دیا اور کہا اب مٹھ مارو. قاسم نے بھی اپنی ایک انگلی کو تھوک لگائی اور اسکی گانڈ میں داخل کر دی اور آہستہ آہستہ اسکی گانڈ میں آگے پیچھے کرنے لگ گیا میمو کو تھوڑی تکلیف ہو رہی تھی لیکن مزہ بھی آ رہا تھا قاسم نے اب 2 انگلیاں اسکی گانڈ میں ڈال دی اور زبان سے گانڈ اور پھدی کے بیچ والے حصّے کو چاٹنا سٹارٹ کر دیا میمو مزے مین پاگل تھی اور پھدی سے پانی بہ کے اسکی ٹانگوں سے ہوتا ہوا نیچے فرش پی پہنچ رہا تھا. تھوڑی دیر بعد اسنے میمو کے ہاتھ سے لوڑا نکال اور پاس پڑے زیتون کے تیل سے لوڑے کی مالش کی اور پھر پاس پڑے سٹرا کو تیل میں ڈال کے اسمیں تھوڑا تیل چوسا اور پھر ووہی سٹرا میمو کی گانڈ میں ڈال کے فوبک مار کے سارا تیل اسکی گانڈ میں داخل کر دیا اور پھر ٹوپی کو پکڑ کے میمو کی گانڈ کے اوپر رکھا اور ٹوپی کو گانڈ میں ڈال دیا میمو کراہ اٹھی کیوں کے ٹوپی کافی موٹی تھی.کے بعد اسنے باکی باہر والے لوڑے پی پھر سے تیل لگایا تا کرے چکنا ہو جائے اور دوبارہ زور دار جھٹکا مارا اور لوڑا گانڈ کی دیوار میں 3 انچ اندر چلا گیا مریم کی ٹانگیں کانپنے لگ گئی اس جھٹکے سے اور پیچھے موڑ کے قاسم کی طرف دیکھنے لگ گئی جیسے رحم کی بھیک مانگ رہی ہو. قاسم نے ایک ہاتھ میمو کی پھدی پی رکھا اور تیل والے ہاتھ سے اسکی پھدی کا دانا سہلانے لگ گیا اور پیچھے سے آہستہ آہستہ ورا اندر کرنے لگ گیا جب میمو کچھ نارمل ہوئی تو قاسم نے ایک اور جھٹکا مارا اور لوڑا 5 انچ اندر چلا گیا مریم کی گانڈ گینڈا بن چکی تھی اور لوڑا گانڈ میں ایسے پھنسا تھا غریب کی گانڈ میں مہنگائی کی لوڑا. میمو کا موں سرخ ہو چکا تھا اور گانڈ درد کی وجہ سے لال ہو چکی تھی لگ ایسا رہا تھا کے جیسے سارا خون گانڈ کی طرف دھوڑ رہا ہو. میمو بولی بس پلیز اب زیادہ آگے نہ کرنا بوہت شدید درد ہو رہا ہے اور نہیں لے سکتی تمہیں اپنے لوڑے کی خیال نہیں تو کم از کم میری نازک گانڈ پی رحم کھا لو. قاسم بولا یار کچھ نہیں ہوتا آویں جھاکا ہی ہوتا ہے یہ گانڈ بھی اندھا کنواں ہوتی ہے جتنا ڈالی جاؤ اتنا ہی کم اور ہر چیز گم. میمو بولی بس آگے سے کر لو اب پیچھے سے بس کرو. قاسم کو غصّہ چڑھ رہا تھا کیوں کے اسکا آدھ لوڑا ابھی باہر تھا اور میمو چولیں مار رہی تھی. قاسم نے اسکو دھکا دے کے صندوق پی گرایا اور گانڈ کا زور لگا کے دھزن کر کے ایک ہی کاری جھٹکا مارا اور لوڑا گانڈ میں جا کے ایسے گم ہوا جیسے اونٹ کی گانڈ میں زیرہ!! میمو ہاے اوے ہاے وے ربا کراہ رہی تھی اور آگے ہو کے گانڈ سے لوڑا نکلنا چاہ رہی تھی لیکن قاسم بھی قاسم تھا اسنے اس جیسی کئی بچیاں چیری ہوئی تھیں یہ کس کھیت کی مولی تھی؟

    قاسم اب جھٹکوں پی سٹارٹ ہو گیا تھا وہ ٹوپی تک لن باہر نکلتا اور زن کر کے ایک ہی گھسے میں لوڑا جڑ تک اندر کر دیتا لیکن ہر جھٹکے سے پہلے لوڑے پی تیل لگا لیتا تھا. قاسم مزے میں تھا اور وہ ایک ہاتھ کی انگلی میمو کی پھدی میں ڈال رہا تھ اور پیچھے سے جھٹکا مار کے لوڑا اندر باہر کر رہا تھا ہر جھٹکے کے بعد میمو کے مو سے اوئے کی آواز نکلتی اور گانڈ سے تیل کی وجہ سے پچک پچک کی آواز نکلتی کچھ ہی منٹ میں قاسم چھوٹنے والا تھا سو اسنے سپیڈ تیز کر دی اور ہر جھٹکا کاری لگاتا میمو کو بھی پتاچل گیا تھا کے قاسم کی گنگا بہنے والی ہے لہٰذا وہ بھی گانڈ ٹائٹ کر لیتی جب گھسسے مارنے لگتا قاسم جسی ہی چھوٹنے لگا ویسے ہی قاسم نے لوڑا میمو کی گانڈ کے اینڈ تک کر دیا اور گانڈ کی گہرایوں میں لوڑے کی دھار چھوڑ دی میمو اپنے پیٹ مین گرم گرم منی محسوس کر رہی تھی اور اسکا جسم کانپ رہا تھا کیوں کے پورا لوڑا اندر تھا پھر قاسم نے لوڑا باہر نکالا تو میمو کا گانڈ کوئی 3 انچ تک کھلی ہوگی تھی اور یوں لگ رہا تھا جیسے کسی نے ورمے سے دیوار میں چھید کر دیا ہو کیا حسین نظارہ تھا میمو اپنی گانڈ کو بلکل طرح سانس اندر کھینچ کے بند کر رہی تھی جیسے کھوتی پھدی مرواتے ہوۓ کرتی ہے قاسم نے اسکی گانڈ پی ایک پیار سے طمانچہ مارا اور بولا چل جانو نیچے بیٹھ سیدھی ہو جیسے ہی میمو نیچے بیٹھی اسکی گانڈ کے کونوں کھدروں سے قاسم کی منی ایسے باہر آی جیسے سپرے کے بعد کیڑے موری سے باہر آتے ہیں میمو کی گانڈ سے منی نکل کے نیچے چھپڑ بنا رہی تھی ایسا لگ رہا تھا جیسے میمو کی گانڈ نے الٹی کر دی ہو پھر قاسم نے اپنا لوڑا میمو کے موں کے آگے کر کے بولا اسکو صاف کرو جان! میمو ھکا بکا ہو کے دیکھ رہی تھی کے یہ کیا کہ دیا؟ قاسم بولا ایسے لوڑے والا موں کیوں بنا کے دیکھ رہی ہو چوسو نہ. میمو نے ڈرتے ڈرتے لوڑا موں میں لیا اور قاسم نے جھٹکا مار کے لوڑا حلق تک پوھنچا دیا میمو گھپ گھپ کی آوازیں نکال رہی تھی اور سانس لینا محال تھا پھر میمو نے لوڑا سہی طرح چوسا اور ساری منی اور اپنی ٹٹی اچھا طرح صاف کی تو قاسم خوش ہو گیا اور بولا یہ ہوئی نہ بات. پھر اگلے دن قاسم نے اسکی پھدی کو پھڈا بنا دیا اور اسی وجہ سے جب تیسرے بچے کی ولادت ہوئی تو سارے حیران تھے کےبچہ اتنی آسانی سے پھدی سے باہر کیسے گیا؟ سب خوش تھے کے میمو کو درد نہیں سہنا پڑی لیکن صرف میمو ہی جانتی تھی کے اس درد نے سہنے کے پیچھے کونسی درد سہی تھی.

    پھر میمو پاکستان آ گئی اور ایک نیا سفر شروع ہو گیا لیکن میمو کے ذہن سے قاسم سے گانڈ مروانے والا واقعیہ کبھی دماغ سے نہیں نکلا وہ آج بھی تنہا راتوں کو اپنی ٹانگیں فولڈ کر کے اپنے سینے پی لگا لیتی ہے اور اپنی 2 انگلیاں تیل میں تر کر کے اپنی گند میں لیتی رہتی ہے اور انگلیوں کو قاسم کا لوڑا سمجھ کے خوش ہوتی رہتی ہے یہ سفر آج بھی جاری و ساری ہے.

    دوستو کہانی کا اختمام ہوتا ہے لیکن جاتے جاتے ایک بات کہ دوں کے بوہت سی باتیں فرضی ہوں گی لیکن یقین کریں ایسا ہوتا بھی لازمی ہوتا ہو گا . بس ایک باریک نظر چاہیے . دوستو خوش رھیں اور دوسروں کو بھی رکھیں. اردو فنڈا زندہ باد.
    فقط آپکا دوست
    Sexeria

  4. The Following 9 Users Say Thank You to Sexeria For This Useful Post:

    abba (03-01-2017), abkhan_70 (01-01-2017), aloneboy86 (01-01-2017), Khushi25 (18-01-2017), Lovelymale (03-01-2017), mayach (03-01-2017), Minni (01-01-2017), sexeymoon (01-01-2017), teno ki? (01-01-2017)

  5. #13
    aloneboy86 is offline Premium Member
    Join Date
    Oct 2010
    Posts
    85
    Thanks
    435
    Thanked 239 Times in 75 Posts
    Time Online
    2 Days 5 Hours 21 Minutes 50 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Minute 39 Seconds
    Rep Power
    16

    Default

    Hahaha.... cha gy ho g...

  6. The Following 2 Users Say Thank You to aloneboy86 For This Useful Post:

    abba (03-01-2017), Sexeria (01-01-2017)

  7. #14
    lastzaib is offline Premium Member
    Join Date
    Jul 2009
    Posts
    19
    Thanks
    50
    Thanked 33 Times in 16 Posts
    Time Online
    6 Days 17 Minutes 15 Seconds
    Avg. Time Online
    4 Minutes 28 Seconds
    Rep Power
    10

    Default

    Bhai uska husband kahan gaya?

  8. The Following 3 Users Say Thank You to lastzaib For This Useful Post:

    abba (03-01-2017), abkhan_70 (01-01-2017), Sexeria (01-01-2017)

  9. #15
    teno ki? is offline Premium Member
    Join Date
    Feb 2012
    Posts
    206
    Thanks
    287
    Thanked 354 Times in 171 Posts
    Time Online
    1 Week 2 Days 9 Hours 16 Minutes 4 Seconds
    Avg. Time Online
    7 Minutes 7 Seconds
    Rep Power
    28

    Default

    Quote Originally Posted by Sexeria View Post

    ہاہاہا میری چپ ہی ہے جناب یہ محض ایک کہانی ہے
    جی جی
    پتا ھے مجھے
    پلز اپڈیٹ جلدی کر دیں

  10. The Following 2 Users Say Thank You to teno ki? For This Useful Post:

    abba (03-01-2017), abkhan_70 (01-01-2017)

  11. #16
    teno ki? is offline Premium Member
    Join Date
    Feb 2012
    Posts
    206
    Thanks
    287
    Thanked 354 Times in 171 Posts
    Time Online
    1 Week 2 Days 9 Hours 16 Minutes 4 Seconds
    Avg. Time Online
    7 Minutes 7 Seconds
    Rep Power
    28

    Default

    پھلے اپڈیٹ نظر نی آئ تھی

  12. The Following 3 Users Say Thank You to teno ki? For This Useful Post:

    abba (03-01-2017), abkhan_70 (01-01-2017), Sexeria (01-01-2017)

  13. #17
    Anokha ladla is offline Aam log
    Join Date
    Feb 2016
    Posts
    13
    Thanks
    2
    Thanked 39 Times in 10 Posts
    Time Online
    21 Hours 8 Minutes 37 Seconds
    Avg. Time Online
    2 Minutes 53 Seconds
    Rep Power
    4

    Default

    Quote Originally Posted by teno ki? View Post
    پھلے اپڈیٹ نظر نی آئ تھی
    واپس پاکستان آ کرمیمو نے بھی سیاست میں حصہ لینا سروع کر دیا اور اب وہ نئے نئے لوڑے بھی لیتی ہے

  14. The Following User Says Thank You to Anokha ladla For This Useful Post:

    abkhan_70 (01-01-2017)

  15. #18
    Join Date
    Oct 2016
    Location
    Lahore
    Age
    25
    Posts
    490
    Thanks
    1,220
    Thanked 2,817 Times in 474 Posts
    Time Online
    4 Days 10 Hours 35 Minutes 27 Seconds
    Avg. Time Online
    35 Minutes 11 Seconds
    Rep Power
    947

    Default

    Quote Originally Posted by lastzaib View Post
    Bhai uska husband kahan gaya?

    Hahahaha Doat yehi baat tou ham sab bhi sooch rahay hain bhaai uska husband kahan gya??? Gumnaami ki zindgi guzaar raha hai aakhir Siyasatdaanney aiay hi tou nahi apnaa lia hoo ga na bhaai ☺☺

  16. The Following 2 Users Say Thank You to Sexeria For This Useful Post:

    abba (03-01-2017), abkhan_70 (01-01-2017)

  17. #19
    teno ki? is offline Premium Member
    Join Date
    Feb 2012
    Posts
    206
    Thanks
    287
    Thanked 354 Times in 171 Posts
    Time Online
    1 Week 2 Days 9 Hours 16 Minutes 4 Seconds
    Avg. Time Online
    7 Minutes 7 Seconds
    Rep Power
    28

    Default

    yar apdate tu buht shandar di h ap ny
    maza aa gya parh k
    waisy ik bat btain ap
    story me kisi kisi jaga pe memo k.bary me ap ka behave aisa kyn ho jata tha
    k jaisy apko memo pe koi khas ghussa hai
    kahen is ki waja ye tu nhi k ap ko lift e na krwai ho memo ny
    mazeed b lkhye
    ok
    thnx

  18. The Following 2 Users Say Thank You to teno ki? For This Useful Post:

    abba (03-01-2017), Sexeria (03-01-2017)

  19. #20
    Lovelymale's Avatar
    Lovelymale is offline Premium Member
    Join Date
    Aug 2008
    Location
    Islamabad, Pakistan, Pakistan
    Age
    53
    Posts
    1,868
    Thanks
    13,622
    Thanked 6,812 Times in 1,732 Posts
    Time Online
    2 Weeks 1 Day 10 Hours 41 Minutes 38 Seconds
    Avg. Time Online
    11 Minutes 30 Seconds
    Rep Power
    977

    Default

    Aah ji iss kahani ko dekha aur aik hi baar main sari parh li. Boht achi lagi. Haqeeqat se kafi qareeb hai. Aksar baray gharon ke bachay jin ko tawajjoh nahin milti, woh aisi sargarmiyon main mulawwis hojatay hain. Kahani kafi achi lagi.

  20. The Following User Says Thank You to Lovelymale For This Useful Post:

    Sexeria (03-01-2017)

Page 2 of 3 FirstFirst 123 LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •