Results 1 to 10 of 10

Thread: مشرقی بیوی اور مغربی راز

  1. #1
    obablee is offline Khaas log
    Join Date
    Oct 2009
    Location
    Lahore
    Posts
    105
    Thanks
    256
    Thanked 663 Times in 97 Posts
    Time Online
    1 Day 17 Hours 55 Minutes 5 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Minute 5 Seconds
    Rep Power
    36

    Redarrow مشرقی بیوی اور مغربی راز

    دوستوں آپ سب کیسے ہو؟ میری اردو فنڈا پر بہت عرصے بعد واپسی ہوئی ہے اور میں ایک زبردست سی ببلی کے کردار پر ممبنی کہانی لے کر آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ کو پسند آئے گی۔ شکریہ

    میری بیٹی شازی جب پہلی دفعہ اپنا بوائے فرینڈکو گھر لیکر آئی تو مجھے وہ بہت پسند آیا لیکن قباحت یہ تھی کی وہ ایک انگریز لڑکا تھا۔ اس کا نام ڈینی تھااور جب میری بیٹی نے اسے میرا تعارف کروایا تو وہ مجھے دیکھ کر بہت حیران ہوا اور بولا کہ میں بالکل بھی شازی کی ماں نہیں بلکہ اس کی جڑواں بہن لگ رہی ہوں۔ اکثر لوگ مجھے اور میری بیٹی کو دیکھ کر دھوکا کھا جاتے تھے کہ ہم دونوں ماں بیٹیاں ہیں۔ جب میری شادی جاوید کے ساتھ ہوئی تو اس وقت میں صرف 15 برس کی تھی اور ٹھیک ایک سال بعد ہی میں نے اپنی خوبصورت بیٹی کو جنم دیا تھا۔اس وقت میری بیٹی کی عمر 20 اور میری 35 برس ہے۔ خالص پنجابی پس منظر ہونے کی وجہ سے میرا جسم انتہائی مشقت کا عادی ہے اور ہر وقت کام کر کر کے میراجسم موٹاپے سے بچا ہوا۔ ویسے بھی میں ایک سنگل پسلی والی دبلی پتلی عورت ہوں باوجود اس کے کہ میں چار بچوں کو جنم دیا میری جسمانی ساخت میں کچھ زیادہ فرق نہیں پڑا بلکہ میرے شوہر کے بقول میں پہلے سے زیادحسین اور سیکسی ہو گئی ہوں ۔ میری بیٹی شازی اور میری شکل و صورت میں کافی زیادہ مشابہت ہے۔ ہم دونوں کی جسمانی ساخت، رنگت، سیاہ لمبے بال حتی ٰ کہ قد کھاٹ بھی تقریباً ایک جیسا ہے۔ میری سہیلیاں اکثر مجھے کہا کرتی تھیں کہ مجھ پر بڑھاپا کبھی نہیں آئے گا۔
    میرا شوہر جاوید ایک روایتی پاکستانی مرد ہے جس کے نزدیک میاں بیوی کاجسمانی تعلق بس بچوں کی پیدائش تک ہی محدود ہے۔ یعنی میرا شوہر سوائے سادہ سیکس کے علاوہ کچھ نہیں جانتا ۔ زیادہ سے زیادہ چار پانچ منٹ بوس و کنار اور تین چار منٹ ہی مشنری پوزیشن میں دخول کر کے ڈسچارج ہو جاتا ہے۔ اصل سیکس کیا ہوتا ہے اور اسکی لذت کیا ہوتی ہے میں نے اسے پوری طرح کبھی نہیں جانا تھا۔ سیکس کے علاوہ میرا شوہر میری اوربچوں کی دیکھ بھال پوری ذمہ داری سے نبھا رہا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ میں نے کبھی اپنے شوہر کو جنسی تسکین کے حوالے سے مجبور نہیں کیا۔ حالانکہ میرا بہت دل چاہتا ہے کہ میں اپنی جوانی کے مزے لوں اور جی بھر کر جنسی تسکین حاصل کروں ۔ میرا شوہر کافی عرصے سے ملازمت کے سلسلے سے امریکہ میں مقیم ہے اور پچھلے دس برسوں سے میں اور بچے بھی پاکستان سے یہاں امریکہ شفٹ ہو گئے ہیں ۔ شروع میں تو بچے چھوٹے تھے اور ہمیں ان کے کلچرل مسائل کے بارے کبھی نہیں سوچا تھا۔ لیکن جیسے جیسے میرے بچے بلوغت کو پہنچے تو میرے شوہر نے مشرقی اخلاقیات کا پرچار شروع کر دیا۔ خصوصاًمیری بیٹیوں کو مشرقی رسم و رواج کواپنانے کے لیے زور دینا شروع کر دیا۔ لیکن جیسا آپ جانتے ہیں کہ جس ملک اور اسکے ماحول میں وہ رہ رہے تھے انہے اسکا رنگ تو چڑھنا ہی تھا۔ چناچہ لاکھ کوششوں کے باوجود میری بڑی بیٹی اور بیٹے نے بغاوت کا اعلان کردیا۔ مجبوراً مجھے اپنے بچوں کا ساتھ دینا پڑا۔ اور میں نے ہمیشہ اپنے دونوں بڑے بچوں کی تمام باتوں کو اپنے شوہر کو بتانے سے ہمشہ گریز کیا اور ہمیشہ اسے باور کروایا کہ ہمارے بچے مشرقی کلچر کے مطابق زندگی گذارنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ میرے دونوں بڑے بچے گھر سے مشرقی لباس پہن کر نکلتے تھے لیکن باہر جا کر مغربی لباس زیب تن کر لیتے تھے۔ میرے شوہر کو اکثر اوقات شہر سے باہر کئی کئی دنوں کے لیے جانا پڑتا تھا اس لیے جب وہ گھر نہیں ہوتا تھا تو میرے بچے مغربی سٹائل اپنا لیتے تھے۔ اور مجھے ان کی خوشی کیلئے انکا ساتھ دینا پڑتا تھا۔
    شازی!نہیں ۔ ۔۔ تم کسی بھی قسم کی پارٹی میں نہیں جاؤ گی۔
    ابو۔۔ میں اب ایک بالغ لڑکی ہوں ۔ اگلے مہینے میں اپنی گرایجوایشن مکمل کرنے والی ہوں۔ یہ پارٹی ہم سب کلاس فیلوز کے لیے بہت اہم ہے۔ پلیز مجھے جانے کی اجازت دے دیں۔ شازی نے باپ سے فریاد کی ۔
    شازی بیٹا۔ تم ایک مشرقی لڑکی ہو تمیں اس قسم کی مخلوط پاڑٹیوں میں نہیں جاناچاہیے۔ ایسی پاڑٹیوں میں بہت کچھ غلط ہوتا ہے۔ اس لیے میں تمہیں کبھی اجازت نہیں دونگا۔جاوید نے اٹل فیصلہ سنایا۔
    ابوجی! ہماری پارٹی میں صرف لڑکیاں ہی ہونگی ۔ آپ چاہے تو کنفرم کرسکتے ہیں ۔
    میرا شوہر یہ بات سن کر کچھ سوچ میں پڑگیا۔ حققیت میں میں خود چاہتی تھی کہ میری بیٹی پارٹی میں ضرور جائے ۔ کیونکہ یہ پارٹی ایک طرح سے فئیر ویل پارٹی تھی جو کہ ہر سٹودنٹ کے لیے بہت اہم ہوتی ہے۔میں اپنی سٹودنٹ لائف میں بہت کچھ مس کرچکی تھی اور میں نہیں چاہتی تھی کہ میرے بچے بھی بہت کچھ مس کریں۔
    اگر ایسا ہے تو پھر تم پارٹی میں اکیلی نہیں جاؤ گی بلکہ تمہاری ماں تمہارے ساتھ جائے گی۔ میرے شوہر نے کچھ سوچنے کے بعد اپنا فیصلہ بدلنے کے بعد کہا۔
    شازی نے فوراً سے پہلے اس بات کو مان لیا۔ میں نے اپنے شوہر سے کہا کہ میں بچوں کی پارٹی میں جا کر کیا کروں گی بھلا؟ میں نے شازی کو اکیلے بھیجنے پر اصرار کیا پر میرا شوہر نہیں مانا۔
    شازی تم نے مجھے مشکل میں ڈال دیاہے۔ میں تمہاری پارٹی میں کیا کروں گی جا کر۔ میں نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا۔
    میری پیاری امی جان ! آپ چلے تو سہی قسم سے بہت مزا آئے گا۔ شازی نے میرے گال پر بوسا لیتے ہوئے کہا۔
    بلاشبہ میری بیٹی بہت خوش لگ رہی تھی اور میں نہیں چاہتی تھی کہ اس کی خوشی کے لمحات کو اداسی میں بدل دوں ۔ چنانچہ ہم دونوں نے پارٹی میں جانے کے لیے تیاری شروع کر دی ۔ پارٹی شام سات بجے شروع ہونی تھی اورآدھی رات کو ختم ہونا تھی ۔ مجھے دس برس ہو گئے تھے امریکہ کے ماحول میں آئے ہوئے لیکن آج تک میں کسی بھی قسم کی پارٹی میں نہیں گئی تھی۔ شازی نے مجھے بعد میں بتا یا کہ پارٹی مخلوط ہے اور وہاں لڑکے اور لڑکیا ں دونوں ہونگے اور خوب ہلا گلا ہوگا۔ میں یہ سن بہت ناراض ہوئی پر شازی نے میری ناراضگی کو خاطر میں نا لائی۔
    ہم گھر سے اسکارف اور شلوار قمیض میں ہی نکلے گے لیکن بعد میں ہم کپڑے بدل لیں گے اورپارٹی والالباس زیب تن کریں گے۔ شازی نے مجھے اپنا منصوبہ بتایا۔
    پارٹی والا لباس یعنی مغربی لباس؟میں نے پریشان ہوتے ہوئے شازی سے دریافت کیا۔
    کیا اسکے بغیر گزارہ نہیں ہو سکتا؟
    بالکل بھی نہیں ۔ اور ایک بات اور ذہن میں رکھیں پارٹی میں میں آپ کا تعارف بڑی بہن کے طور پر کرواؤں گی ۔ اور آپ کو میرا کوئی سیکسی سا لباس پہنا ہوگا۔ میں اپنے دوستوں کے سامنے شرمندہ نہیں ہونا چاہتی ۔ شازی نے مجھے اپنا حکم سنایا۔
    ارے لڑکی ! کیوں بیوقوفوں جیسی بات کر رہی ہو۔ میں سادہ لباس پہنوں گی۔ بس ۔میں نے انکار میں جواب دیا۔
    میری پیاری امی جان ! پلیز مان جائیں ۔ میں نہیں چاہتی کے میرے دوستوں کو پتا چلے کہ آپ میری والدہ ہو۔شازی نے مسکین سی شکل بنا کر مجھے التجائی لہجے میں کہا۔
    آخرکار مجھے اپنی بیٹی کے آگے ہتھیار ڈالنے ہی پڑے۔ جیساکہ آپ جانتے ہیں کہ میری اور میری بیٹی کی جسمانی ساخت تقریباً ایک جیسی ہے لہذا مجھے اپنی بیٹی کے تمام کپڑے پورے آجاتے ہیں ۔ شازی نے میرے لیے شارٹ پلیڈ منی سکرٹ، سفید بلاؤز، سی تھرو برا، پینٹی اور تھائی ہائی سٹاکنگ کاانتخاب کیا۔ مجھے مجبوراً اسے پارٹی ہاؤس جاکر پہنا پڑا۔ جب میں نے خود کو آئینے مین دیکھا تو میں حیران رہ گئی ۔ میں خود کو بالکل بھی پہچان نہیں سکی۔ میں اپنی عمر سے بہت کم نظر آرہی تھی۔ اور یہ سچ تھا کہ میری اصل عمر کے بارے میں پارٹی میں کوئی بھی نہیں جان سکتا تھا۔ مجھے اس لباس میں تھوڑی سی گھبراہٹ اور جھجک محسوس ہوئی لیکن جب پارٹی میں میں نے بہت سی لڑکیاں بہت سیکسی سیکسی لباس میں دیکھی تو مجھ میں بھی تھوڑی سی ہمت اور اعتماد پیدا ہو گیا۔ میری بیٹی نے میرا تعارف اپنی بڑی بہن اور پرانی سٹوڈنٹ کے طور پر اپنے تمام کلاس فیلوز سے کروایا۔ سب نے مجھے خوش آمدید کہا۔ پارٹی کا انعقاد جس مکان میں کیا گیا تھا یہ ایک پراناتین منزلہ مکان تھاجس میں پہلی منزل پر بڑے کمرے اور دوسری اور تیسری منزل پر چھوٹے کمرے تھے۔ میری بیٹی شازی اپنے دوستوں کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف ہو گئی اور میں کمرے ایک طرف بنے ہوئے بار کی طرف آگئی جہاں میں نے سوفٹ ڈرنک کے لیے کہا۔ میں اپنے تن من میں بہت جوش اور عجیب سا مزا محسوس کر رہی تھی ۔ اسی کے ساتھ ساتھ خود کو غلط بھی سمجھ رہی تھی کہ جیسے میں اپنے شوہر کو دھوکا دے رہی ہوں ۔ حالانکہ میں کچھ غلط نہیں کر رہی تھی۔ اپنی بیٹی کی خوشیوں کے لیے یہ سب کچھ کر رہی تھی۔ میں انہی سوچوں میں گم سم تھی کہ ایک نوجوان خوبصورت لڑکے نے مجھے ڈانس کی آفر کی ۔جسے میں نے تھوڑی سی سوچ بچار کے بعد قبول کر لیا۔ حالانکہ مجھے ڈانس نہیں آتا لیکن میں یہ اس لڑکے پر ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی۔
    ہم نے ڈانس فلو ر کئی بار ڈانس کیا اور مجھے واقعی ہی بہت اچھا لگا۔ میرے دل میں خواہش جاگی کہ کاش میرا شوہر جاوید میرے ساتھ یہ ڈانس کرتا کسی پارٹی میں سب کے سامنے ۔ مجھے ڈانس کی آفر کرنے والے لڑکے کا نام جان تھا۔ کچھ دیر ڈانس کرنے کے بعد جان کا دوست مارک میرے ساتھ ڈانس کرنے لگا۔ڈانس کے دوران ہی ہم نے ایک دوسرے کا تعارف کروایا۔ میں نے اسے بھی شازی کی بڑی بہن اور پرانی سٹوڈنٹ کے طور پر اپنے بارے میں بتایا۔
    اچانک اس کے ہاتھ میری کمرے سے ہوتے ہوئے میرے گول اور سڈول چوتڑوں تک آئے اور اس نے
    انہے تھوڑا سا دبایا۔ میری سڈول اور گول گول چھاتیاں مارک کے چوڑے اور کشادہ سینے میں باربار دھنس جاتی جب جب وہ مجھے اپنی طرف کھینچتا۔ مجھے بہت زیادہ مزا آرہا تھا اور میں مدہوشی کے عالم میں تھی۔ کافی دیر ڈانس کرنے کے بعد ہم دونوں ڈانس فلور سے اتر آئے ۔ ہم دونوں ڈرنکس لیا اور کچھ دیر ریسٹ کے بعد مارک نے مجھے کہا کہ آؤ پارٹی ہاؤس کا چکر لگائیں ۔ میں نے اپنی بیٹی کی تلاش میں نگاہ دوڑائی تو وہ مجھے کہیں نظر نا آئی ۔ میں نے سوچا کہ اپنے دوستوں کے ساتھ پارٹی انجوائے کر رہی ہوگی ۔لہذا مجھے اسے ڈسٹرب نہیں کرنا چاہیے۔ چنانچہ میں مارک کے ساتھ اوپری منزل دیکھنے کے لیے چل پڑی ۔ مارک مجھے دوسری منزل کے ایک کمرے میں لے گیا اورجیسے ہی میں اندر داخل ہوئی تو اس نے پیچھے سے دروازے کو بند کر کے لاک کر دیا۔ میں نے جیسے ہی پیچھے مڑکر دیکھا تو مارک نے مجھے اپنی طرف ایسے کھینچ لیا کہ ہم دونوں کے چہرے ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے۔ مارک نے فوراًہی اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ دیا۔ اور مجھے کچھ بھی بولنے کا موقع نا دیا۔ میں جو کافی عرصے سے حقیقی جنسی لذت اور تسکین سے دور تھی ۔ خود کو مارک کے حوالے کر دیا۔ مارک بہت جوش کے ساتھ مجھے فرنچ کسنگ کررہا تھا۔ میں نے رد عمل کے طور پر مارک کو بھرپور کسنگ شروع کر دی۔ میرے تن بدن میں آگ لگ گئی تھی۔ میری سڈول چھاتیان اور انکے براؤن نپل اکڑگئے ۔ میری چوت جنسی سرور کی وجہ سے گیلی ہو گئی ۔ میرے ذہن میں اپنے شوہر اور بیٹی کا خیال آیا لیکن جنسی لذت اور سرور مجھ پر ہاوی ہو گئی تھی لہذہ میں اس خیال کو ذہن سے نکا ل دیا۔مارک نے آہستگی سے میرے بلاؤز اور برا کو اتار دیا اور میری دونوں چھاتیاں فوراً باہر نکل آئی ۔ مارک نے میری ایک چاتھی کے براؤن نپل کو منہ میں لیکر ایسے چوسنا شروع کیا جیسے وہ ایک شیر خوار بچہ ہو۔ میرے پورے جسم میں آگ سی محسوس ہو رہی تھی۔ میں اپنے ہاتھ اسکی پینٹ کی زیپ تک لے گئی اور اسے کھول دیا۔ اسکی پینٹ اور انڈر وئیر کو جیسے تھوڑا سا نیچے کیا تو اسکا تنا ہوا لن فوراً باہر نکل آئے ۔ میں بغیر کسی شرم کے اسے
    اپنے دائیں ہاتھ میں لے لیا اور اسے اپنے ہاتھ سے سہلانے لگی۔
    مارک نے جب میری دونوں چھاتیوں کو اچھی طرح چوس لیا تو میں گھٹنوں کے بل نیچے بیٹھ گئی اور مارک کے تنے ہوئے لن کو اپنے منہ کے اندار ڈال کر لولی پاپ کی طرح چوسا۔ اسکا لنڈ کافی موٹا اور مناسب لمبائی کا تھا۔ میں اس کے لنڈ کو کبھی باہر اور کبھی اندر لے کر جا رہی تھی خوب مست ہو کر اسے چوس رہی تھی۔ اس
    دوران مارک کبھی کبھی جھک کر میرے براؤن نپلوں کے اپنے ہاتھوں میں لے کر زور سے دباتا تو درد سے میری سسکی نکل جاتی۔ میری شادی شدہ چوت بہت زیادہ گیلی ہو چکی تھی۔
    اچانک مارک نے مجھے نیچے فرش سے اوپراپنی بازوؤں میں اٹھا لیا اور کھڑے کھڑے ہی میری ٹانگوں کو اوپر اپنی منہ کی طرف ایسے کر لیا کہ میر ی چوت بالکل اسکے ہونٹوں کے سامنے آگئی اور میرا پورا جسم نیچے زمین کی طرف لٹک گیااور مارک کا لنڈ بالکل میرے منہ کے سامنے آگیا۔ ہم دونوں کی پوزیشن بالکل 69 والی بن گئی۔ مارک بھرپورجوش کے ساتھ میری چوت کو اپنی زبان کے ساتھ چودنا شروع کر دیا۔ میری چوت زندگی میں پہلی بار کسی مرد کی زبان سے چد رہی تھی۔ جنسی ہیجان خیزی میں میرے منہ سے چوپا لگانے کے ساتھ ساتھ سسکیاں بھی نکل رہی تھی۔ پندرہ منٹ بعد ہم دونوں کو محسوس ہونا شروع ہوا کے بس اب دونوں ہی ڈسچارج ہونے والے ہیں تو ہم دونوں نے چوپے اور چوسنے کے عمل کو مزید تیز کر دیا۔ مارک جیسے ہی ڈسچارج ہوا تو اسکا گرم گرم دودھیا پانی میرے منہ میں بھر گیااور اس نے جوش میں آکر میری چوت کے باہری ہونٹوں کو اپنے دانتوں میں لے کر زور سے کاٹا۔ میری درد ناک چیخ کمرے کے اندر گونج اٹھی اور اسی کے ساتھ میرا جسم کپکپانے لگا اور میں بھی ڈسچارج ہو گئی۔ مارک نے مجھے بیڈ پر لیٹا دیا اور میرے ساتھ ہی مدہوش ہو کر لیٹ گیا۔ بغیر لنڈ کے میری چوت کی یہ اب تک کی سب سے شاندار چودائی تھی۔ میں مسلسل ہواؤں میں اڑی رہی تھی۔میں
    ہر بات کو بھول چکی تھی کہ میں کون ہوں ۔ بس یاد تھا تو یہی کہ میں ابھی ابھی سیکس کے مزے سے لطف اندوز ہوئی ہوں۔ کچھ دیر سستانے کے بعد میں اپنے موبائل کو چیک کیا تو کچھ پریشان ہو گئی کیونکہ موبائل کی سکرین پرمیرے شوہرکی لاتعداد مس کالز تھیں ۔ میں نے مارک سے بہانے سے کہا کہ نیچے چلتے ہیں اور کچھ مشروب پیتے ہیں چل کر۔ مارک نے ہامی بھر لی لیکن کمرے سے نکلنے سے پہلے اسنے مجھے بھرپور پانچ منٹ کا فرنچ کسنگ کی۔ میرے تن من میں پھر آگ سی بھڑک اٹھی ۔ لیکن اس مرتبہ میرے جنسی جوش پر میرے شوہر کا خوف منڈلا نا شروع ہو گیا۔ میں جلد از جلد کسی الگ جگہ پر جا کر اپنے شوہر کو فون کرنا چاہ رہی تھی۔ میں نے اس کا فون اٹینڈ نہیں کیا تھا اور وہ غصے کے ساتھ آگ بگولا ہو رہا ہو گا۔
    جیسے ہی ہم دونوں نیچے ہال میں آئے تو مجھے اپنی بیٹی شازی اپنے دوستوں کے ساتھ گپ شپ کرتی نظر آ گئی۔ میں مارک سے پھر ملنے کا کہہ کر اپنی بیٹی کی طرف آگئی اور اسے بتا یا کہ تمہارے ابو کی ڈھیر ساری مس کالز آئی ہیں۔ اب ہمیں ہرحال میں خاموشی سے یہاں سے نکلنا ہوگا۔ میری بیٹی نے خفکی سے میری طرف دیکھا اور مایوس ہو کر باہر کی طرف چل پڑی۔میرا خود واپس جانے کو بالکل دل نہیں کر رہا تھا۔ ابھی تو مجھے اصل زندگی سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملا تھا۔ میں ابھی مارک سے خود کو چدوانا چاہتی تھی۔ کیونکہ میری صدیوں کی پیاسی چوت تو ابھی بھی کسی جاندار لمبے اور موٹے لنڈ کا بے صبری سے انتظار کررہی تھی۔ میں مارک کے لنڈ سے اپنی چوت کی پیاس ضرور بھجواتی اگر میری شوہر رنگ میں بھنگ نا ڈالتا تو۔ میں نے اپنے شوہر کو ڈرکی وجہ سے کال بیک نہیں کی تھی کہیں وہ پارٹی والی جگہ ہی نا پہنچ گیا ہو ہم دونوں کو لینے۔
    گھر واپسی سے پہلے ہم دونوں اپنی روایتی کپڑوں میں واپس آچکے تھے۔ جیسے ہی ہم دونوں گھر داخل ہوئے تو میرے شوہر نے خوب بستی کی میری اور میری بیٹی کی۔ میرا حسین خواب ٹوٹ چکا تھا اور میں واپس پھر جنت سے دوزخ میں واپس آچکی تھی۔
    (کہانی ابھی جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)
    Last edited by asiminf; 07-07-2016 at 04:18 AM.

  2. The Following 21 Users Say Thank You to obablee For This Useful Post:

    abba (14-07-2016), abkhan_70 (27-06-2016), Admin (08-07-2016), arshedansari (27-06-2016), ashiqod (07-07-2016), Irfan1397 (29-06-2016), janamjee (10-07-2016), jeophirsa (30-06-2016), ksbutt (30-06-2016), Lovelymale (13-07-2016), mbilal_1 (03-07-2016), mentor (30-06-2016), musarat (11-07-2016), piraro (03-04-2018), piyaamoon (19-07-2016), saad1980 (27-06-2016), shani_007 (27-06-2016), shubi (06-04-2018), sweettyme (17-07-2016), Taim00r (07-07-2016), ZEESHAN001 (29-06-2016)

  3. #2
    shani_007's Avatar
    shani_007 is offline Aam log
    Join Date
    Jun 2016
    Location
    Faisalabad
    Posts
    13
    Thanks
    2
    Thanked 5 Times in 3 Posts
    Time Online
    9 Hours 53 Minutes 21 Seconds
    Avg. Time Online
    52 Seconds
    Rep Power
    4

    Default Awla story bro keep it up

    Keep it up bro nice story

  4. The Following 2 Users Say Thank You to shani_007 For This Useful Post:

    abba (14-07-2016), obablee (01-07-2016)

  5. #3
    tanzal12 is offline Premium Member
    Join Date
    Jun 2012
    Age
    48
    Posts
    235
    Thanks
    397
    Thanked 940 Times in 220 Posts
    Time Online
    16 Hours 44 Minutes 3 Seconds
    Avg. Time Online
    27 Seconds
    Rep Power
    115

    Default Eid Mubarak

    Eid Mubarak

  6. The Following 2 Users Say Thank You to tanzal12 For This Useful Post:

    abba (14-07-2016), abkhan_70 (07-07-2016)

  7. #4
    zain xxx's Avatar
    zain xxx is offline Premium Member
    Join Date
    Dec 2009
    Posts
    218
    Thanks
    39
    Thanked 636 Times in 188 Posts
    Time Online
    4 Days 15 Hours 47 Minutes 49 Seconds
    Avg. Time Online
    2 Minutes 55 Seconds
    Rep Power
    81

    Angry

    اوہ ببلی بھائی آپ سے غلطی ہوئی ہے ٹائپنگ میں یہ جتنی جلدی ہو درست کرو
    کیونکہ تم نے غلطی سے رضی **** لکھ دیا ہے خیر جلدی سے ٹھیک کرو اور پہلے اچھی طرح اپنی کہانی پڑھو پھر اپ لوڈ کیا کرو
    Last edited by Admin; 08-07-2016 at 01:12 AM.

  8. The Following 4 Users Say Thank You to zain xxx For This Useful Post:

    abba (14-07-2016), ashiqod (07-07-2016), asiminf (07-07-2016), shubi (06-04-2018)

  9. #5
    Join Date
    Nov 2015
    Location
    *****abad
    Posts
    173
    Thanks
    97
    Thanked 195 Times in 97 Posts
    Time Online
    3 Days 8 Hours 54 Minutes 33 Seconds
    Avg. Time Online
    5 Minutes 30 Seconds
    Rep Power
    21

    Default

    Please up date soon dear. Shandar story ha ap ki

  10. The Following User Says Thank You to Wassi777 For This Useful Post:

    abba (14-07-2016)

  11. #6
    Join Date
    Nov 2015
    Location
    *****abad
    Posts
    173
    Thanks
    97
    Thanked 195 Times in 97 Posts
    Time Online
    3 Days 8 Hours 54 Minutes 33 Seconds
    Avg. Time Online
    5 Minutes 30 Seconds
    Rep Power
    21

    Default

    Kub do gay bhai up-date????

  12. The Following User Says Thank You to Wassi777 For This Useful Post:

    abba (19-07-2016)

  13. #7
    obablee is offline Khaas log
    Join Date
    Oct 2009
    Location
    Lahore
    Posts
    105
    Thanks
    256
    Thanked 663 Times in 97 Posts
    Time Online
    1 Day 17 Hours 55 Minutes 5 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Minute 5 Seconds
    Rep Power
    36

    Default

    پارٹی والی بات کو گزرے ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا تھا۔ لیکن میں آج بھی مارک کی جوان زبان اپنی چوت کے اندر محسوس کرتی ہوں اور جب جب مجھے گزری ہوئی پارٹی کے لمحات یاد آتے ہیں تو میری چوت فوراً گیلی ہو جاتی اور پورے جسم میں کپکپی سی ہونے لگتی ہے۔ اس پارٹی میں مجھے اپنی چوت کو چٹوا کر اور لنڈ کو چوپالگا کر جو مزا ازندگی میں پہلی دفعہ حاصل ہوا تھا میں ویسا ہی مزا اب بار بار حاصل کرنا چاہتی تھی۔ لیکن میرا شوہر ایسی باتوں کو سخت نا پسند کرتا تھا۔ بالکہ اب تو عرصہ ہو گیا تھا ہم دونوں نے میاں بیوی والا سیکس کیے ہوئے بھی۔ ایک بات تو مجھے اچھی طرح سمجھ آچکی تھی کہ اب مجھے مزے اور لذت سے بھرپور جنسی تسکین صرف باہر سے ہی میسر ہو سکتی ہے شوہر تو اب بچوں کی پیدائش کے بعد سیکس کوتو سمجھوں الوداع ہی کہہ چکا ہے۔میری زندگی میں جنسی تسکین کے علاوہ باقی سب کچھ پرفیکٹ تھا اور میں ہرگز اپنی شادی شدہ زندگی کو خراب یا برباد نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اس لیے جب جب میں جنسی تسکین کے حصول کے لیے باہر کی طرف دیکھتی تو اپنے بچوں اور شوہر اور اپنی مکمل زندگی کودیکھ کر کچھ مایوس ہو جاتی اور فوراً اپنے ذہن سے جنسی تسکین کے خیالات کو نکال باہر کرتی ۔
    آج شام کو مارکیٹ سے جب میں گھر کا سودا سلف لے کر پیدل گھر کے راستہ پر واپس آ رہی تھی تو میں نے اپنے پڑوس والے گھر میں کچھ غیر معمولی رش محسوس کیا۔ شاید کسی پارٹی وغیرہ کے انتظامات کیے جا رہے تھے اور کافی ٹین ایجرز لڑکے وہاں موجود تھے۔ یہ گھر سارا جانسن کا تھا جس کا ایک اکلوتا بیٹا تھااور سارا کو پانچ برس پہلے طلاق ہو گئی تھی اور وہ اکیلی ہی اپنے بیٹے کو پال پوس رہی تھی۔ سارا کے ساتھ پڑوسی ہونے کے ناطے میری اچھی ہیلو ہائے تھی۔ تجسس کی وجہ سے میرے قدم خود بخود سارا کے گھر کی طرف اٹھ گئے۔ میں جاننا چاہتی تھی کہ وہاں کیا ہو رہا ہے ۔ باہری گیٹ کے پاس ہی سارا کا بیٹا مجھے کام کرتا ہوا نظر آ گیا۔ میں نے اس سے اسکی والدہ کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ تو شہر سے باہر آفس کے کام سے گئی ہیں۔ یہ سن کر میں واپسی کے لیے جیسے ہی مڑی تو سارا کے بیٹے نے بتایا کہ آج اسکی اٹھارویں سال گرہ کے سلسلے میں پارٹی منعقد ہو رہی ہے۔ جس میں اسکے سابقہ سکول کے اور مجودہ کالج کے کلاس فیلوز شرکت کر رہے ہیں۔ میں نے اسے سالگرہ کی مبارکباد دی۔ اس نے فوراً شکریہ ادا کیا اور میرے دونوں بڑے بیٹے اور بیٹی کو پارٹی میں شرکت کی دعوت دے دی۔ میں نے اس سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ انکے پاپا ایسی پارٹیوں میں جانا پسند نہیں کرتے اور ویسے بھی آج وہ گھر پر ہی ہیں تو میرے بچوں کی شرکت بہت مشکل ہے۔
    میں نے ویسے اس سے پارٹی کی تمام تفصیل لے لی ۔ پارٹی کا سن کر میرے ذہن میں ایک بہت خطرناک خیال مسلسل گردش کر رہا تھا۔ اور میرے پورے جسم میں ہلکی ہلکی کپکپکی اور چوت میں جلن سی محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے کئی بار پارٹی کے خیال کو ذہن سے زبردستی باہر نکالا لیکن کوئی فائدہ نا ہوا۔ میرے ذہن میں جوان جوان ننگے جسم اور فل تنے ہوے جوان جوان سے لنڈ گھوم رہے تھے۔ آج مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ میں خود کو ان جنسی خیالات سے نہیں بچا پاؤں گی۔ میں نے گھر میں سب کا جائزہ لیا اور اور غور سے سوچاشاید آج کوئی موقع مل ہی جائے۔ میں نے جلدی جلدی ڈنر تیار کیا سب بچوں نے کھایا اور اپنے اپنے کمروں میں چلے گے۔ بڑے بیٹے اور بیٹی کا صبح کوئی ٹیسٹ تھا لہذا وہ ٹیسٹ کی تیاری کر رہے تھے جبکہ چھوٹے بیٹی اور بیٹے کو جلد سونے کی عادت تھی۔ میرے شوہر اکثر رات کو نیند کی گولی لے کر سوتے تھے۔ پورے گھر کا مکمل جائزہ لینے کے بعد میں نے آج اپنی زندگی کا پہلا خطرہ مول لینے کا فیصلہ کیا۔ مجھے ابھی گھر میں سب کے سوجانے کا انتظار کرنا تھا۔
    گھر میں میری بیٹیوں اور میری کپڑوں کی الماری الگ تھی اور لڑکو ں اور میرے شوہر کی الماری الگ تھی۔ میری بیٹی کے پاس بہت سے سکیسی سیکسی مغربی لباسوں کاذخیرہ تھاجس کے بارے میں میرے شوہر کو قطعً کوئی علم نہیں تھا۔ میں نے اپنی بیٹی کا ایک خوبصورت لباس کا انتخاب کیا۔ یہ لباس ایک سکن کلر کا رومن گوڈس کا لمبا سا فراک تھا جس میں ایک گولڈن بڑا سا بلٹ تھا جو کہ کمرپر باندھنا تھا۔ اوپر سے لباس کا گلا کافی کھلا تھا۔ حتیٰ کہ گلا اتنا کھلا تھا کہ دونوں چھاتیوں کے درمیان سے ہوتا ہوا نیچے پیٹ کے اوپری حصے تک جسم نظر آرہا تھا۔ جب میں نے اسے پہن کر چیک کیا تو میری چھاتیوں کے سینٹروالے ابھار تقریباً پورے نظر آرہے تھے صرف نپل ہی برا کے اندر تھے۔ یہ لباس مجھ پر بہت جچ رہا تھا ۔ پارٹی میں لڑکیوں کو ماسک پہنے کی اجازت تھی اس لیے تو میں نے پارٹی میں جانے کا منصوبہ بنایا تھا اور آج ہر حال میں اپنی پیاسی چوت کو چدوانا تھا۔ میں نے اپنی بیٹی کی سنہرے بالوں والی ویگ کا انتخاب کیا۔ میں ہر حال میں اپنی شناخت کو چھپانا چا رہی تھی تاکہ بعد میں کچھ مسائل پیدا نا ہوں۔
    میرے سب انتطامات مکمل تھے۔ میں بس ساڑے دس بجے کا انتظار کر رہی تھی۔ اور جیسے ہی ساڑے دس بجے میں نے اپنے سب بچوں کے کمروں میں جھانک کر تسلی کی آیا وہ سو رہے ہیں یا نہیں۔ سب ہی سو رہے تھے۔ میرا شوہر تو ننید کی گولی لے کر سو رہا تھا اور اسکا صبح سے پہلے اٹھنا مشکل تھا۔ خیر میں نے لباس پہنا ، میک اپ کیا ، ویگ اور ماسک پہن کر آئینے میں اپنے سراپے میں آخری نظر ڈالی اور مکمل تسلی کے بعد میں نے اپنا رخ عقبی دروازے کی طرف کیا اور دھیرے دھیرے چلتے ہوئے دروازے کا لاک کھول کر باہر آگئی۔ ساتھ والے گھر سے میوزک اور لوگوں کے شورکی کافی آواز سنائی دے رہی تھی۔ میرے دل زور زور سے ڈھڑکنا شروع ہوگیا۔ کچھ دیر کے لیے اچانک ذہن میں اپنا راز فاش ہونے کا سوچ لیکن ساتھ ہی میں نے اس خیال کو جھٹک دیا۔ کیونکہ اب میں صرف اور صرف اپنی چوت کے ذہن سے سوچ رہی تھی۔ اور میری چوت صرف یہی چاہتی تھی کہ آج اسے بیدردی کے ساتھ چود دیا جائے بار بار۔
    میں نے اپنے اندر ہمت جمع کی اور پڑوس والے گھر کے عقبی دروازے کی طرف آہستہ آہستہ چلنا شروع کر دیا۔ دل کی دھڑکن بہت تیز چل رہی تھی۔ راز فاش ہونے اور میرے پکڑے جانے کا خیال بار بار دل میں آ رہا تھا۔ لیکن میں جنسی لذت کے حصول کے لیے دیوانی ہوچکی تھی۔ میں ڈرنے کے باوجود دھیرے دھیرے اپنی چوت کی چودائی کی طرف قدم بڑھا رہی تھی۔
    میں جیسے ہی عقبی دروازے سے اندر داخل ہوئی تھی وہاں دیوار کے ساتھ تقریباً دولڑکیاں اور تین لڑکے گروپ سیکس میں مصروف تھے۔ وہ اتنے زیادہ سیکس میں مگن تھے کہ کسی کو بھی میری وہاں موجودگی کاعلم نا ہوا۔ لڑکیوں کی زبردست چودائی ہوتی دیکھ کر میں اور دیوانی ہو گئی۔ میرا دل کر رہا تھا کہ میں بھی اس چودائی والے گروپ میں شامل ہو جاؤں۔ پر میں فی الحال صرف ایک لڑکے کو پھنسا کر چدوانا چاہ رہی تھی اور تسلی کرنا چاہ رہی تھی کہ مجھے کوئی پہچانتا ہے یا نہیں۔ میں جیسے ہی ٹی وی لاؤنج میں داخل ہوئی تو وہاں لڑکے اور لڑکیوں کی کثیر تعداد کو بد مست دیکھ کر میں تھوڑی مطمئن ہو گئی۔ کسی نے بھی میری موجودگی کی طرف دیہان نہیں دیا۔ زیادہ تر لوگوں نے ماسک ہی پہنے ہوئے تھے۔ میں بھی اپنی سہیلی کے بیٹے کو پہچان نہیں پا رہی تھی کہ وہ کون ہے اور کس لباس اور ماسک میں خود کو چھپا رکھا ہے۔
    جب میں اپنے اردگرد اطراف کا جائزہ لے رہی تھی تو ایک سپائڈر مین کے لباس والا لڑکا میری طرف با ر بار دیکھ رہا تھا۔ تھوڑی دیر کے لئے میرے ذہن میں راز اور شناخت فاش ہونے کی بات آئی لیکن میں خود کو تھوڑی تسلی دی اور اپنی آواز کو تھوڑا سا بدل کر اس سے مخاطب ہوئی ۔ اور اس سے پوچھا کہ کیا وہ مارک ہے؟ اس نے جواب دیا نہیں۔
    اس نے بتایا وہ مائیکل ہے اور مارک کا کلاس فیلو ہے۔ اس نے مجھے بیئر کی بوتل مجھے پیش کی تو میں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے بوتل کو لے کر پینا شروع کر دیا۔ اس نے مجھے سر سے لیکر پاؤں تک دیکھا اور میری خوب تعریف کی۔ اس نے مجھے میرا نام اور اتاپتہ بھی پوچھا میں نے سب غلط اس کو بتایا۔ تھوڑی ہی دیر میں ہم دونوں نے ایک دوسرے سے بہت سی باتیں کرلی۔ اچانک اس نے مجھ سے میرے بوائے فرینڈ کے بارے میں پوچھا تو میں نے اسے جھوٹ کہا کہ ہمارا بریک اپ ہو گیا تھا کچھ مہینے پہلے۔ اس نے افسوس کرنے کے بعد مجھے اپنے ساتھ ڈانس کرنے کی پیشکش کی۔ میں سمجھ گئی تھی کہ اب منزل قریب ہے۔ کیوں کہ ڈانس کا مطلب یہی تھا کہ اب وہ بہانے بہانے سے میرے پورے جسم کو چیک کرے گا اور موقع دیکھتے ہی کس کرے گااور اس کے بعد ہم کسی الگ جگہ چھپ کر سیکس کریں گے۔ میں ابھی یہ سب سوچ ہی رہی تھی کہ اتنے لوگوں کی موجودگی میں مائیکل نے میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے اور مجھے اپنی باہنوں میں بھر لیا۔ میں سب بھول بھال کر مائیکل کو اسکے کس کا بھرپور جواب دے رہی تھی۔ مائیکل کی زبان میرے پورے منہ کے اندر تھی اور میں اسے بھرپور جوش سے چوس رہی تھی۔ پھرمائیکل نے میرے دونوں ہونٹوں کے خوب جوش میں چوسا کہ میری ساری لپ اسٹک ہونٹوں سے اتر گئی۔ ہم اس بات سے بے خبر فرنچ کسنگ میں مصروف تھے۔ مائیکل میری کمر اور چوتھڑو ں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے سہلا رہا تھا ۔ پندرہ منٹ بعد جب ہم کسنگ سے فارغ ہوئے تو میں نے اپنے اردگرد دیکھا تھا کوئی بھی ہماری طرف متوجہ نہیں تھا۔ مائیکل نے میرے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیا اور مجھے کھینچتے ہوئے عقبی لان کی طرف لے آیا۔ عقبی لان میں دیوار کے ساتھ گروپ سیکس کرنے والے ابھی بھی اپنے کام میں مگن تھے۔ ہم ایک الگ کونے میں آ گئے جہاں مائیکل نے مجھے گھاس پر لٹا دیا اور میرے فراک کے گلے کو ایک طرف کر کے میری دونوں چھاتیوں کو برا کھولے بغیر باہر نکال کر ان کے ساتھ کھیلنا شروع کردیا۔ کبھی وہ میرے نپلوں کو منہ میں لے کر چوستا تو کبھی وہ میرے گول گول ابھاروں کو چومتا ، چاٹتا اور دباتا۔ مجھے اپنے ممے چسوا کر بہت مزا اور سرور آ رہا تھا۔ میری چوت گیلی ہو چکی تھی۔ لیکن ابھی شاید چوت کی چودائی دور تھی۔
    میری گول گول چھاتیوں کے ساتھ بھرپور کھیلنے کے بعد مائیکل اچانک میری ٹانگوں کے درمیاں آگیا اور میری پینٹی کو ایک طرف کرکے اپنی زبان سے میری چوت کو چاٹنا شروع کر دیا۔ جیسے ہی اسکی گرم زبان نے میری چوت چھوا تو مجھے گیارہ ہزاربجلی کے وولٹ کا جھٹکا لگا اور میرے منہ سے سسکیاں نکلنا شروع ہو گئی۔ مائیکل نے جس طرح دل لگا کر مجھے کسنگ کی تھی باالکل اسی طرح وہی میری چوت کو چاٹ رہا تھا۔ کبھی اپنی زبان کومیری چوت کے اندر لے جاتا تو کبھی باہر نکال کر میری چوت کے اوپری دانے پر گول گول گھماتا۔ مائیکل ابھی تک اپنے پورے لباس میں تھا۔ لیکن میرے دونوں ممے برا سے باہر نکلے ہوئے تھے اورچوت بالکل ننگی تھی اور مائیکل اسے چاٹ رہا تھا۔ میری چوت کا پارہ ہائی ہو چکا تھا۔ اور وہ ایک عدد لنڈ کے ذریعے چدنا چاہ رہی تھی۔ میں نے مائیکل سے کہا پلیز اب اپنا لنڈ نکالو باہر اور میری چوت کو چودنے کا پروگرام بناؤ۔
    مائیکل نے جیسے یہ سنا تو فوراً سے پہلے اس نے اپنی زیپ کو نیچے کیا اور اس کا تنا ہوا لمبا جوان لنڈ ایک جھٹکے سے باہر نکل آیا۔ میں نے فوراً اسے اپنے دائیں ہاتھ میں لے کر کچھ دیر سہلایا اور پھر اس کو منہ میں لے کر چوپا لگانا شروع کر دیا۔ ابھی مجھے پانچ منٹ ہی ہوئے تھے چوپا لگاتے ہوئے کہ مائیکل میرے منہ کے اندر ہی ڈسچارج ہو گیا۔ میں نے اسکا سارا گرم سفید پانی پی لیا اور ایک بھی قطرہ زمین پر نا گرنے دیا۔ مائیکل نڈھال ہو کر میرے ساتھ ہی گھاس پر کمر کے بل لیٹ گیا۔ ہم دونوں تقریباً آدھا گھنٹا وہیں لیٹے رہے اور آپس میں باتیں کرتے رہے۔ میری چوت فل بھیگی ہوئی تھی اور بھرپور چدائی کا تقاضا کر رہی تھی۔ میں نے مائیکل کے لنڈ کو دوبارہ پکڑا اور چوپا لگانا شروع کر دیا تا کہ وہ دوبارہ تن کر کھڑا ہوجائے۔اور میں اس سے اپنی چوت کو خوب اچھے سے چدوا سکوں ۔ پانچ منٹ میں ہی مائیکل کا لنڈ لوہے کی راڈ کی طرح تن کرکھڑا ہو گیا۔ میں مزید وقت ضائع کیے بغیر مائیکل سے کہا کہ میری چوت میں اپنا لنڈ ڈالے۔ مائیکل نے میری دونوں ٹانگوں کو وی کی شکل میں اوپر کی طرف کھڑا کر کے اپنے لنڈ کو میری چوت کے سوراخ پر رکھ دیا۔ میرے دونوں پاؤں مائیکل کے کندھو پر آ گئے۔ مائیکل نے اچانک اک جھٹکا مارا اور اسکا پورا لنڈ میری چوت کے اندر داخل ہو گیا۔ اور درد سے میری سسکیاں نکل گئی۔ مائیکل کا لنڈ میرے شوہر کے لنڈ سے کافی لمبا اور موٹا تھا۔ یہ میری زندگی کا دوسرا لنڈ تھا جو میری چوت کی پیاس بجھانے میری چوت کے اندر گیا تھا۔ مائیکل شروع میں کچھ دیر تو آرام سے ایک ردھم میں اپنے لنڈ کو میری چوت کے اندر باہر کر رہا تھا۔ لیکن جیسے ہی اسے مزا آنا شروع ہوا تو اس نے اپنی رفتار بڑھا دی۔ مجھے بھی بہت زیادہ جنسی سرور حاصل ہو رہا تھااس کے ہر جھٹکے پر ۔ میں جوش میں آ کر آہستہ آہست چیخنا شروع کر دیا۔ ۔ مائیکل اور میں ہم دونوں شاید ڈسچارج ہونے والے تھے۔
    صرف ایک دیوار کے فاصلے پر میرے بچے اور شوہر گہری نیند میں سو رہے تھے اور انکے وہم و خیال میں بھی نہیں تھا کہ میں پڑوس میں ایک اجنبی مرد سے اور اپنے بیٹے کی عمر کے لڑکے سے اپنی چودائی کر وا رہی ہوں۔
    مائیکل نے ڈسچارج ہونے سے پہلے ہی اپنے لنڈ کو باہر نکال لیا اور اپنے گرم گرم منی کے فوارے کو میرے چہرے پرچھوڑ دیا۔ میں ابھی فارغ نہیں ہوئی تھی میں نے اپنے ہاتھوں سے خود کو ڈسچارج کروایا۔اور وہی گھاس پر لیٹ گئی۔ مائیکل چند لمحوں بعد اٹھ کر اندر گیا کچھ پینے کے لیے لینے تو میں چپکے سے عقبی دروازہ کھول کر اپنے گھر کے احاطے میں آگئی اور بہت آرام سے دروازہ کھول کے گھر میں داخل ہو گئی۔ سب لوگ ابھی سو رہے تھے۔ میں نے سب سے پہلے اپنے کپرے اتارے اور اس کے بعد تسلی کے لیے سب کمروں میں جھانک کر دیکھا۔ میں مطمئن ہو گئی کہ میرا چودائی مشن کامیاب رہا تھا۔ گو کہ چودائی صرف ایک دفعہ ہوئی تھی لیکن کوئی بات پھر کبھی موقع ملا تو خوب چودائی کرواؤں گی۔ میں نے دل ہی دل میں مائیکل کا شکریہ ادا کیا۔ اور اپنے کمرے میں مطئن شادی شدہ عورت کی طرح شوہر کے ساتھ آ کر لیٹ گئی۔

  14. The Following 4 Users Say Thank You to obablee For This Useful Post:

    abkhan_70 (03-04-2018), Irfan1397 (06-04-2018), piraro (03-04-2018), shubi (06-04-2018)

  15. #8
    piraro is offline Aam log
    Join Date
    Nov 2016
    Location
    Karachi
    Age
    33
    Posts
    20
    Thanks
    86
    Thanked 18 Times in 11 Posts
    Time Online
    1 Day 19 Hours 49 Minutes 34 Seconds
    Avg. Time Online
    4 Minutes 57 Seconds
    Rep Power
    5

    Default

    بہترین کہانی کے ساتھ واپسی ہوئ ہے۔
    مزا آگیا۔ ابھی اپنے سلطان کو ٹھنڈا کرنے کا موڈ ہے لیکن مجبوری ہے کے آفس میں ہوں۔

  16. The Following 2 Users Say Thank You to piraro For This Useful Post:

    abkhan_70 (03-04-2018), shubi (06-04-2018)

  17. #9
    shubi's Avatar
    shubi is offline Khaas log
    Join Date
    Jun 2017
    Location
    Gulgasht, Multan, Punjab, Pakistan
    Age
    31
    Posts
    147
    Thanks
    627
    Thanked 95 Times in 65 Posts
    Time Online
    21 Hours 54 Minutes 10 Seconds
    Avg. Time Online
    4 Minutes 20 Seconds
    Rep Power
    16

    Default

    اس نامکل کہانی کو واپس مکل کرنے کی کوشش میں آپ کے بے حد ممنون و مشکور ہیں۔

  18. #10
    Irfan1397's Avatar
    Irfan1397 is offline super moderator
    Join Date
    Sep 2011
    Location
    Sahiwal
    Posts
    7,532
    Thanks
    26,200
    Thanked 38,346 Times in 7,325 Posts
    Time Online
    1 Month 2 Weeks 19 Hours 38 Minutes 3 Seconds
    Avg. Time Online
    28 Minutes 6 Seconds
    Rep Power
    3129

    Default


    اچھی اپڈیٹ رہی ۔ مزید کا انتظار رہے گا

  19. The Following User Says Thank You to Irfan1397 For This Useful Post:

    shubi (07-04-2018)

Tags for this Thread

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •