Page 2 of 7 FirstFirst 123456 ... LastLast
Results 11 to 20 of 69

Thread: گھر کی مرغی۔ایک چلبلی کہانی

  1. #11
    Join Date
    Jan 2008
    Location
    In Your Heart
    Posts
    3,522
    Thanks
    2,431
    Thanked 10,447 Times in 1,817 Posts
    Time Online
    1 Week 4 Days 7 Hours 44 Minutes 2 Seconds
    Avg. Time Online
    6 Minutes 49 Seconds
    Rep Power
    3185

    Default

    Nice start Prince

  2. The Following 6 Users Say Thank You to Admin For This Useful Post:

    abba (03-03-2016), abkhan_70 (01-03-2016), anjumshahzad (07-06-2017), prince77 (28-02-2016), shaikhuu (05-03-2016), suhail502 (07-03-2016)

  3. #12
    rkfss's Avatar
    rkfss is offline Premium Member
    Join Date
    May 2009
    Posts
    91
    Thanks
    123
    Thanked 349 Times in 89 Posts
    Time Online
    4 Days 9 Hours 19 Minutes 46 Seconds
    Avg. Time Online
    2 Minutes 38 Seconds
    Rep Power
    20

    Default

    Must say that its great start

  4. The Following 3 Users Say Thank You to rkfss For This Useful Post:

    abba (03-03-2016), prince77 (28-02-2016), suhail502 (07-03-2016)

  5. #13
    farhan403's Avatar
    farhan403 is offline sex ka dewan
    Join Date
    Oct 2015
    Location
    attock
    Posts
    401
    Thanks
    333
    Thanked 569 Times in 265 Posts
    Time Online
    5 Days 6 Hours 49 Minutes 5 Seconds
    Avg. Time Online
    7 Minutes 25 Seconds
    Rep Power
    46

    Default

    Nice start but update regular

  6. The Following 5 Users Say Thank You to farhan403 For This Useful Post:

    abba (03-03-2016), prince77 (28-02-2016), ruldguld123 (28-02-2016), shaikhuu (05-03-2016), suhail502 (07-03-2016)

  7. #14
    Join Date
    Nov 2015
    Location
    *****abad
    Posts
    176
    Thanks
    98
    Thanked 196 Times in 98 Posts
    Time Online
    3 Days 10 Hours 4 Minutes 54 Seconds
    Avg. Time Online
    5 Minutes 4 Seconds
    Rep Power
    21

    Default

    Start acha ha but injam kon jany?

  8. The Following 4 Users Say Thank You to Wassi777 For This Useful Post:

    abba (03-03-2016), abkhan_70 (01-03-2016), prince77 (02-03-2016), suhail502 (07-03-2016)

  9. #15
    prince77 is offline UrduFunda Writer
    Join Date
    Jan 2010
    Location
    Faisalabad
    Age
    40
    Posts
    637
    Thanks
    1,736
    Thanked 6,023 Times in 604 Posts
    Time Online
    6 Days 2 Hours 54 Minutes 3 Seconds
    Avg. Time Online
    3 Minutes 41 Seconds
    Rep Power
    1515

    Default

    انجام بھی اچھا ہی ہوگا دوست

  10. The Following 4 Users Say Thank You to prince77 For This Useful Post:

    abkhan_70 (02-03-2016), shaikhuu (05-03-2016), suhail502 (07-03-2016), Wassi777 (02-03-2016)

  11. #16
    rajudandy is offline Premium Member
    Join Date
    Aug 2014
    Posts
    42
    Thanks
    39
    Thanked 86 Times in 36 Posts
    Time Online
    2 Days 27 Minutes 52 Seconds
    Avg. Time Online
    2 Minutes
    Rep Power
    9

    Default

    Prince77, great start.....well done

  12. The Following 2 Users Say Thank You to rajudandy For This Useful Post:

    prince77 (02-03-2016), suhail502 (07-03-2016)

  13. #17
    Lovelymale's Avatar
    Lovelymale is offline Premium Member
    Join Date
    Aug 2008
    Location
    Islamabad, Pakistan, Pakistan
    Age
    55
    Posts
    2,064
    Thanks
    14,471
    Thanked 7,195 Times in 1,850 Posts
    Time Online
    2 Weeks 3 Days 20 Hours 55 Minutes 21 Seconds
    Avg. Time Online
    10 Minutes 46 Seconds
    Rep Power
    1053

    Default

    بہت زبردست آغاز ہی جناب۔ لگتا ہے آئیندہ بڑا مزہ آنے والا ہے۔

  14. The Following 2 Users Say Thank You to Lovelymale For This Useful Post:

    prince77 (02-03-2016), suhail502 (07-03-2016)

  15. #18
    farhaad_ji's Avatar
    farhaad_ji is offline Aam log
    Join Date
    Jan 2016
    Location
    *****abad
    Age
    25
    Posts
    20
    Thanks
    21
    Thanked 61 Times in 11 Posts
    Time Online
    16 Hours 34 Minutes 27 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Minute 4 Seconds
    Rep Power
    6

    Default

    بہت عمدہ آغاز ہے پرنس جی! بس اپ ڈیٹ کے لئے زیادہ نہ تڑپائیے گا۔ تھنکس۔

  16. The Following 3 Users Say Thank You to farhaad_ji For This Useful Post:

    abba (03-03-2016), prince77 (03-03-2016), suhail502 (07-03-2016)

  17. #19
    prince77 is offline UrduFunda Writer
    Join Date
    Jan 2010
    Location
    Faisalabad
    Age
    40
    Posts
    637
    Thanks
    1,736
    Thanked 6,023 Times in 604 Posts
    Time Online
    6 Days 2 Hours 54 Minutes 3 Seconds
    Avg. Time Online
    3 Minutes 41 Seconds
    Rep Power
    1515

    Default

    سسر کی دیوانی
    میں ہمیشہ سوچتی تھی کہ آخر میرا سسر مجھ سے اتنی خار کیوں کھاتا ہے۔وہ ہمیشہ چھوٹی بہو کی تعریف کرتا رہتا تھا ،اور اکثر جب کام سے واپس آتا تھا تو کسی اور کو دے یا نہ دے مگر چھوٹی کو کچھ نہ کچھ روپے ضرور تھما دیتا تھا۔دوسری طرف میں تھی کہ دیکھ دیکھ کر کڑھتی رہتی تھی۔نہ جانے کیوں جب سے اپنے شوہر کو باجی کے ساتھ سیکس کرتے دیکھا تھا مجھے اس گھر کے ہر مرد و عورت پر شک سا ہونے لگا تھا۔اسی سوچ میں مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے سسر صاحب کا بھی کوئی ایسا ویسا تعلق چھوٹی بہو کے ساتھ ضرور ہے۔
    اس سوچ کے زیر اثر اب میں نے غیر محسوس انداز میں ان دونوں کی نگرانی شروع کردی تھی۔اسی دوران مجھ پر یہ راز بھی کھلا کہ میری دیورانی ہمیشہ کھلے گلے کے کرتے پہنتی ہے،جس میں سے اس کی چھاتیوں کا نصف سے بھی زیادہ حصہ دیکھنے والے کی آنکھوں کو خیرہ کرنے کے لئے کافی ہوتا تھا۔بات کچھ کچھ سمجھ آرہی تھی ۔میری دیورانی نے جسم کے نظاروں کو دکھا دکھا کر سسر کو اپنی طرف مائل کیا ہوا تھا۔اب ان دونوں کے مابین جسمانی تعلق بھی تھا کہ یہ نہیں اس کا پتہ لگانا ضروری ہو گیا تھا۔کیوں کہ اگر ایسا تھا تو مجھے بھی سسر صاحب سے فیض یاب ہونے کا پورا حق تھا۔ویسے بھی میں اپنی دیورانی کے مقابلے میں کئی درجے زیادہ سیکسی جسم کی مالک تھی۔
    لیکن اس کوے جیسی شکل والے مرد کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنا بڑا ہی حیران کن تھا،کیوں کہ میری دیورانی میرے مقابلے میں خاصی گوری رنگت کی مالکن تھی۔پھر ایک روز یہ عقدہ مجھ پر کھل ہی ہو گیا۔ہوا یوں کہ ایک فوتیدگی کے سلسلے میں گھر کے سبھی افراد ما سوائے میرے اور میری دیورانی کے دوسرے شہر چلے گئے ۔سسر صاحب بہانہ کر کے رک گئے تھے۔مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کسی چکر میں ہیں۔بس اسی چکر کو معلوم کرنا تھا۔
    یہاں یہ بتاتی چلوں کہ میری دیورانی سسر صاحب کی بہت خدمت گزار تھی ۔اس کی ٹانگیں دبانا،سر دبانا،سر کی مالش کرنا اور کبھی کبھی اس کی پنڈلیوں کی بھی مالش کرنا،الغرض وہ سب کچھ کرتی تھی اسے خوش کرنے کے لئے۔اب یہاں ایسی کون سی وجہ تھی جس کی بنا پر وہ یہ سب کرتی تھی،مجھے ہر صورت معلوم کرنا تھی۔دن کے گیارہ کا وقت ہوگا جب سسر صاحب گھر آگئے۔انہوں نے آتے ہی میری دیورانی کو آواز دی اور چائے بنانے کے لئے کہا۔میں اپنے کمرے میں موجود تھی ،اور میرے کان اور آنکھیں ان کی طرف متوجہ تھیں۔
    میری دیورانی چائے لے کر سسر کے کمرے میں چلی گئی ۔میں انتظار کر رہی تھی کہ کب وہ باہر نکلتی ہے۔جب آدھے گھنٹے سے زیادہ کا وقت ہو گیا تو میں غیر محسوس انداز میں کمرے سے نکلی۔میری توقع کے عین مطابق سسر صاحب کے کمرے کا دروازہ لگاہوا تھا۔میں آہستگی سے چلتی ہوئی دیورانی کے کمرے کی طرف گئی تو وہ وہاں نہیں تھی۔اب مجھے فوراً خیال آیا کہ سسر صاحب کے کمرے کا منظر دیکھا جائے۔ان کا کمرہ باقی کمروں سے نسبتاً بڑا تھا،اور اک کھڑکی بھی موجود تھی۔کھڑکی سے جھانکنے کے لئے ضروری تھا کہ اس کا پٹ کچھ نہ کچھ کھلا ہو۔
    میں ننگے پاؤں تھی تاکہ قدموں کی آواز بھی سنائی نہ دے۔سسر صاحب کے کمرے کا دروازہ بند ہونے کا مطلب تھا کہ میری دیورانی ان کو مزہ دے رہی تھی۔میں کھڑکی کے قریب گئی۔مگر کھڑکی بھی بند تھی ۔انہیں دیکھنا قریب قریب ناممکن ہو چکا تھا۔اچانک میری نظر دروازے میں موجود ایک سوراخ پر پڑی جو اتنا کشادہ تھا کہ آسانی سے اندر کے منظر کا نظارہ کیا جا سکتا تھا۔میں تیزی سے سوراخ کے قریب گئی اور آنکھ سوراخ سے ٹکا دی ۔اند رکے منظر نے نہ صرف یہ کہ میرے چہرے پر مسکراہٹ دوڑادی بلکہ ٹانگوں میں موجود چوت کو بھی فوراً گیلا کردیا۔
    میری دیورانی کی شلوار اتری ہوئی تھی جب کہ قمیض چھاتیوں تک اٹھی ہوئی تھی۔سسر صاحب نے اس کی ٹانگیں کندھوں پر رکھی ہوئی تھیں اور بڑے ہی زور دار انداز میں اس کی چوت مار رہے تھے۔ان کا لن کالے رنگ کا تھا۔کافی موٹا تھا مگر فی الحال لمبائی کا اندازہ نہیں ہو پا رہا تھا۔وہ پوری قوت سے میری دیورانی کی پھدی مار رہے تھے۔دیورانی کی آنکھیں نیم وا تھیں اور لذت کے ساتھ ساتھ کچھ تکلیف کا اثر بھی اس کے چہرے سے دکھائی پڑ رہا تھا۔وہ سسک رہی تھی ۔اس کا وجود بالکل ڈھیلا پڑ چکا تھا۔سسر صاحب اپنی من مانی کر رہے تھے۔پھر اچانک ہی انہوں نے اپنا لن اس کی پھدی سے باہر نکال لیا۔اف!حیرانی سے میری آنکھیں پھٹنے والی ہو گئیں۔میرے شوہر کو بمشکل پانچ انچ تک کا تھا۔مگر سسر صاحب کا بلا مبالغہ آٹھ نو انچ کا دکھائی دے رہا تھا،میری چوت یہ منظر دیکھ کر جلنے لگی۔میں اس طویل و عریض لوڑے کو اپنے وجود کا حصہ بنا دینا چاہتی تھی۔
    سسر صاحب نے اب اپنی چھوٹی بہو کو گھوڑی بنا لیا تھا۔اس انداز میں ان کا دبلا پتلا جسم حیران کن طور پر لچک دکھا رہا تھا۔ان کی کمر کی حرکت اور لن کا میری دیورانی کی پھدی میں اندر اور باہر ہونا،میرے کانوں کو گرما گیا۔میرے گال تپنے لگے تھے۔چوت کا پانی بہہ بہہ کر ٹانگو ں کو گیلا کر رہا تھا۔میری دیورانی نہ جانے کیسے اس لن کو جھیل رہی تھی۔میری گیلی ہونے والی شلوار کہہ رہی تھی کہ میں بھی اندر جا گھسوں اور سسر صاحب کو بولوں کہ جلدی سے اپنی بڑی بہو کی گرم چوت میں اپنا کالا اور لمبا ناگ دھکیل دیں۔مگر فی الحال یہ میرے بس میں نہیں تھا۔اس منظر کو مزید برداشت کرنا بھی میرے لئے مشکل تھا،اس لئے میں فوراً ہی باتھ روم کی طرف بھاگی اور انگلی سے اپنی چوت کی گرمی کو کچھ کم کیا۔اتنی دیر میں میری دیورانی بھی چدوا کر باہر نکل آئی تھی۔اس کے نکلنے کے کچھ دیر بعد میں بھی باتھ روم سے نکلی اور اپنے کمرے کی طرف چل دی۔میں چوت مروانا چاہتی تھی اپنے سسر سے ۔اس کے لمبے اور صحت مند لن نے میری آنکھیں کھول دی تھیں۔میں کیوں ایک پانچ انچ کے لن پر گزارہ کرتی جب کہ گھر ہی میں ایک بڑا اور گرم لن موجود تھا،مجھے اپنے سسر کو اپنی مائل کرنے کے لئے اتنے وقت کی ضرورت نہیں تھی۔
    میں سمجھ چکی تھی کہ میرے ساتھ اس کا رویہ صرف اس لئے برا ہے کیوں کہ میں نے انہیں اپنے بدن کی آنچ سے گرماہٹ پہنچانے کی کوشش نہیں کی۔مجھے یقین تھا کہ میرا ایک ہی قدم مجھے اس کی گود میں بیٹھنے کا موقع دے دے گا۔میرے پاس آج بہت اچھا موقع تھا،کیوں کہ گھر میں کوئی نہیں تھا،سب اگلے روز واپس آنے والے تھے۔میری دیورانی تو پھدی مروا چکی تھی اس لئے امید تھی کہ رات کو وہ دوبارہ سسر کی بانہوں میں نہیں جائے گی۔بس اسی موقع سے مجھے فائدہ اٹھانا تھا۔
    میں نے خود کو تیار کیا کہ آج کی رات میں سسر صاحب کے توانا لوڑے سے مزہ ضرور لوں گی،جو مرد اپنی ایک بہو کی چوت اچھی طرح بجا رہا ہو اسے دوسری بہو کو ننگا کرنے میں کیا عار آئے گی۔مجھے بھروسہ تھا کہ انکار کسی صورت نہ ہوگا۔اب وقت آگیا تھا کہ نہ صرف سسر کے لن کو اپنی چوت کی راہ دکھاتی بلکہ اپنی دیورانی کے مقابلے میں سسر کی نظروں میں زیادہ مقام بناتی۔جب رات کے دس بجے تو میں نے اچھی سی چائے بنائی اور سسر صاحب کے کمرے کی طرف چل دی۔وہ بستر پر لیٹے اخبار پڑھ رہے تھے۔مجھے انہوں نے حیرانگی سے دیکھا۔
    "وہ میںآپ کے لئے چائے لائی تھی۔۔"میں کچھ جھجکتے ہوئے کہا
    "آج کیسے خیال آگیا سسر کی خدمت کرنے کا۔۔"سسر صاحب تیکھی آواز میں بولے۔
    "مجھ سے بھول ہو گئی ابا جان۔۔۔معاف کر دیجئے۔۔۔"میں لجا کر کہا
    "اچھا ۔۔اتنے دنوں سے یاد نہیں تھا کہ اس بوڑھے سسر کی سیوا کرنی چاہئے"
    "جی بس غلطی ہو گئی ۔۔اب کمی نہیں کروں گی۔۔۔"میں نے ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔
    "تم خود ہی دیکھو چھوٹی بہو میرا کتنا خیال رکھتی ہے،،بدلے میں میں بھی کتنا اس کا خیال کرتا ہوں،ایک تم ہو تمہیں احساس ہی نہیں۔۔۔"ان کے لہجے میں ابھی بھی سختی تھی۔
    "میں بھی آج سے وہ سب کروں گی جس کا حکم آپ دو گے۔۔"میں نے دو ٹوک سے انداز میں کہا
    "نہیں تم وہ سب نہیں کر پاؤ گی۔۔مجھے راضی کرنا مزاق تو نہیں"سسر صاحب نے چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے جواب دیا
    "آپ ایک بار حکم تو کریں ،جو بھی ہو میں تعمیل کروں گی۔۔"میں نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔میرے اس لہجے کو محسوس کرتے ہوئے سسر صاحب نے میرا جائزہ لینا شروع کیا۔وہ میرے پورے جسم کا مشاہدہ کررہے تھے اور ہوس ان کی آنکھوں میں دکھائی دینے لگی تھی۔
    "اچھا ایسا کرو ذرا میری ٹانگیں تو دبا دو۔۔اور یہ دروازہ بھی ساتھ کردو۔۔"انہوں نے کہا تو میں نے کمرے کا دروازہ ساتھ کردیا۔وہ سیدھے لیٹے ہوئے تھے میں ان کی قدموں کی طرف آگئی اور ان کی پنڈلیاں دبانے لگی۔انہوں نے آنکھیں موند لیں۔
    تھوڑی دیر تک پنڈلیاں دبانے کے بعد ان کو حکم یہ ہو اکہ اب ان کی ٹانگوں پر چڑھ جاؤں اور ٹانگیں دباؤں۔میں فوراً ہی ان کی ٹانگوں ہر سوار ہو گئی اور ان کی ٹانگیں دبانے لگی۔اب انہوں نے آنکھیں کھول لیں تھی اور میرا بھرپور جائزہ لینے لگے تھے،
    "یہ دوپٹہ اتار دو۔۔مجھے اچھا نہیں لگ رہا۔۔"انہوں نے اگلا حکم جاری کیا۔میں نے نیچے برا نہیں پہنی تھی ،مقصد یہی تھا کہ جسم کا یہ سب سے پر کشش حصہ نمایاں ہو جائے۔میں نے دوپٹہ اتار دیا اب میرے ابھار فخریہ انداز سے اپنی اٹھانوں کی نمائش کرنے لگے تھے۔سسر صاحب کی نگاہیں میرے مموں کو گھور رہی تھی۔میری آنکھوں کی لالی شائد بڑھ گئی تھی اور سسر صاحب کی زمانہ شناس نظروں نے شائد بھانپ لیا تھا کہ ان کی بہو پر مستی چڑھ رہی ہے۔
    دوسری طرف مجھے سسر صاحب کی شلوار میں بھی ابھار نمایاں ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔میں کن انکھیوں سے اسے بھی دیکھ رہی تھی۔
    "تھوڑا آگے آکر دباؤ۔۔"سسر صاحب نے کہا تو اب میں تھوڑا اور آگے کے حصے کی طرف آنے لگی۔یوں سمجھ لیجئے کہ اب ان کے لن کا ابھار میرے قدموں کے درمیان آ رہا تھا۔
    "شاباش !اسی طرح دباؤ۔۔"سسر صاحب نے تعریف کی تو میری آنکھیں چمک گئیں۔مگر اس دوران ان کا لن اب نیم تناؤ میں آچکا تھا۔ابھار کافی واضح ہو چکا تھا۔میرے ہونٹ خشک ہونے لگے تھے۔سسر صاحب کی نظریں میرے چہرے کو بغور تک رہی تھیں۔
    "اچھا اب میں الٹا لیٹتا ہوں ،ذرا میری کمر پر چڑھ جاؤ اب۔۔"سسر صاحب نے مجھے نیچے اترنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا
    اب وہ الٹے ہو کر لیٹ گئے اور میں ان کی کمر پر سوار ہو گئی۔کچھ دیر اسی طرح دباتی رہی تو سسر صاحب نے کہا
    "ایسا کرو میری کمر پر بیٹھ جاؤ اور ہاتھوں سے کندھوں کو بھی کچھ دیر دبا دو۔۔"
    میں ان کی کمر پر اس طرح بیٹھ گئی کہ دونوں ٹانگیں ان کی کمر کے دونوں اطراف ہو گئیں،
    "ہے۔۔چوت کے بال صاف نہیں کرتی ہو کیا۔۔۔"میرے کانوں کے قریب جیسے دھماکہ سا ہوا
    "یہ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ابا جان۔۔۔"میں اداکاری کرتے ہوئے پوچھا
    "تمہاری پھدی کے بال میری کمر پر چبھ رہے ہیں۔۔صفائی نہیں کرتی ہو۔۔"وہ گندی زبان استعمال کر رہے تھے اور میں بے حال ہونے لگی تھی
    "وہ جی پچھلے ہفتے تو کئے تھے،جلدی بڑھ گئے ہیں شائد۔۔"میں نے شرم سے سر جھکاتے ہوئے جواب دیا
    "صفائی رکھا کرو کسی بھی وقت چدائی کا موقع بن سکتا ہے تو چوت کے بال تکلیف دہ محسوس ہوتے ہیں۔۔"وہ بڑے اعتماد سے بول رہے تھے۔میں نے تھوک نگلتے ہوئے جواب دیا
    "جی میں تو ہر ہفتے کر لیتی ہوں ،بس اس دفعہ تھوڑے دن زیادہ ہو گئے ہیں۔۔:
    "آئیندہ خیال رکھنا،تمہاری دیورانی تو چمکا کہ رکھتی ہے اپنی پھدی کو۔۔تم تو اس سے کہیں زیادہ سیکسی ہو ۔۔چمک کے رہا کرو۔۔"سسر صاحب پورے واہیات بن رہے تھے۔
    "چلو اب نیچے اترو تمہیں ایک چیز دکھاؤں۔۔"انہوں نے کہا تو میں ان کی کمر سے نیچے اتر گئی۔جیسے ہی وہ سیدھے ہوئے ان کا بڑا سا لن پوری طرح کھڑا ہوا محسوس ہوا۔انہوں نے شلوار کا ازار بند کھولا اور اپنا لن باہر نکال کر ہاتھ میں پکڑ لیا۔میرے دل کی دھڑکنیں اتنی تیز ہو گئیں کہ کانوں میں سنائی دینے لگیں۔
    ان کا لن بہت بڑا تھا،میرے شوہر کے مقابلے میں کم سے کم دوگنا دکھائی دے رہا تھا۔
    "تم اسی کے لئے آئی تھی نا۔۔۔کیا یہ پورا اپنی چوت میں لے سکو گی میری بہو رانی۔۔"میرا بدن کانپ رہا تھا اور جواب دینا مشکل ہو رہا تھا۔



  18. The Following 32 Users Say Thank You to prince77 For This Useful Post:

    85sexy85 (04-03-2016), abba (03-03-2016), abkhan_70 (04-03-2016), ANGAAR (02-03-2016), anjumshahzad (02-06-2017), arshedansari (03-03-2016), asiminf (03-03-2016), Danish ch (12-03-2016), farhaad_ji (05-03-2016), hasnain (04-03-2016), imran imra (03-03-2016), jerryplay100 (29-12-2017), Kesariya (03-03-2016), Khushi25 (04-03-2016), ksbutt (02-03-2016), Love is Blind (02-03-2016), Lovelymale (04-03-2016), maani_286 (03-03-2016), MAMONAKHAN (08-01-2018), mbilal_1 (19-03-2016), mm.khan (03-03-2016), musarat (03-03-2016), piyaamoon (29-12-2017), Poorking (20-01-2018), shahjehan (02-03-2016), shaikhuu (05-03-2016), shanee3001 (06-03-2016), Star193 (04-04-2016), suhail502 (07-03-2016), sumt_71 (11-03-2016), ZEESHAN001 (03-03-2016), zeeshoo (04-03-2016)

  19. #20
    danial007's Avatar
    danial007 is offline Premium Member
    Join Date
    Dec 2010
    Posts
    72
    Thanks
    658
    Thanked 170 Times in 68 Posts
    Time Online
    2 Days 10 Hours 38 Minutes 4 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Minute 28 Seconds
    Rep Power
    16

    Default

    great story

  20. The Following 5 Users Say Thank You to danial007 For This Useful Post:

    85sexy85 (04-03-2016), abba (03-03-2016), mnamwa (03-03-2016), prince77 (03-03-2016), suhail502 (07-03-2016)

Page 2 of 7 FirstFirst 123456 ... LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •