Page 44 of 59 FirstFirst ... 3440414243444546474854 ... LastLast
Results 431 to 440 of 586

Thread: وطن کا سپاہی۔۔۔۔ پارٹ 2

  1. #431
    fiz.kamran's Avatar
    fiz.kamran is offline UrduFunda Writer
    Join Date
    Jun 2014
    Location
    Multan
    Age
    26
    Posts
    549
    Thanks
    387
    Thanked 5,002 Times in 528 Posts
    Time Online
    3 Days 1 Hour 7 Minutes 1 Second
    Avg. Time Online
    2 Minutes 57 Seconds
    Rep Power
    1956

    Default


    اسمارہ کی بات وقار کے لیے بالکل غیر متوقع تھی۔ وہ ہکا بکا اسمارہ کو دیکھ رہا تھا۔ اسمارہ اب وقار کے بالکل قریب آچکی تھی، وقار کا ایک ہاتھ اسمارہ کے جسم کو چھو رہا تھا اور اسمارہ نے اپنا ایک ہاتھ وقار کی تھائی پر رکھ لیا تھا اور اسکو آہستہ آہستہ سہلا تے ہوئے بولی، ہاں وقار میں خود دیکھنا چاہتی ہوں کہ تم میری بہن کو وہ خوشی دے سکو گے جو ایک وفا دار عورت صرف اپنے شوہر سے ہی چاہتی ہے، کیا تم اسکی جسمانی ضروریات پوری کر سکو گے یا اسے بھی بعد میں میری طرح دوسرے مردوں کے بستر گرم کر کے اپنے جسم کی پیاس بجھانی پڑے گی۔
    وقار ہکلاتے ہوئے بولا مم۔ ۔ ۔ مگ۔۔۔۔۔ مگر۔۔۔۔۔ آ ۔۔۔ آپ۔۔۔۔ آپ تو بہن ہو پ پ۔۔۔۔ پ پ ۔۔۔۔۔ پلوشہ کی۔ اسمارہ جسکی شرٹ کے بٹن پہلے سے کھلے ہوئے تھے اس نے اب مکمل طور پر اپنی شرٹ اتار دی اور بولی تو کیا ہوا اسکی بہن ہوں تو؟؟ وقار بولامیں آ آ۔۔۔ آ پ۔۔۔ک۔۔۔ ک۔۔۔ کے ساتھ ایسا۔۔۔۔ ایسا کیسے کر سک۔ ۔۔۔ سکتا ہوں۔۔۔۔ اسمارہ ایک شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ بولی کیوں نہیں کر سکتے۔۔۔ جس دن تم پہلے دن ہمارے گھر آئے تھے کیا تم بار بار میرے سینے کی طرف نہیں دیکھ رہے تھے؟؟؟ بلکہ تمہاری نظریں تو میرے ہپس پر بھی تھی۔۔۔۔ وقار بولا ہاں وہ تو بس اچانک نظر پڑ گئی مگر میں کچھ کرنے کا تو سوچ بھی نہیں سکتا۔
    اسمارہ اب اپنی دونوں ٹانگیں بیڈ پر رکھ کر وقار کے اور قریب ہوگئی تھی، اسکی ایک ٹانگ بھی وقار کی تھائی کے اوپر ہوچکی تھی اور اسکے 36 سائز کے ممے اب وقار کے بازو سے ٹچ ہو رہے تھے، اسمارہ وقار کے اور قریب ہوئی تو اسمارہ کے ممے وقار کے بازو میں دھنسنے لگے، اسمارہ مسکراتی ہوئی اپنے ہونٹوں کو وقار کے کانوں کے قریب لائی اور بولی، اچانک نظر پڑنے سے جذبات بے قابو نہیں ہوتے وقار۔۔۔۔ اس دن بھی میرے جسم کے نظارے کرتے ہوئے تمہاری پینٹ میں ابھار واضح تھا اور آج بھی میرا جسم دیکھ دیکھ کر کافی دیر سے تمہاری پینٹ میں تمہارا لن کھڑا ہوچکا ہے۔۔
    اس سے پہلے کہ وقار انکار کرتا کہ اسکا لن نہیں کھڑا، اسمارہ کا ایک ہاتھ وقار کی دونوں ٹانگوں کے درمیان پہنچ کر وقار کے لن کے اوپر پہنچ چکا تھا۔ اسمارہ نے بہت آہستگی کے ساتھ اپنا ہاتھ وقار کے لن پر رکھ لیا تھا جو اس وقت پینٹ سے نکلنے کے لیے بے چین تھا۔ اسمارہ نے اسکے لن پر ہاتھ رکھ کر اس پر دباو ڈالا اور وقار کے کانوں کو اپنے ہونٹوں میں لیکر چوستے ہوئے بولی بس کرو وقار اب، تم بھی میرا جسم دیکھ دیکھ کر گرم ہو رہے ہو اور کافی دیر سے مجھے چھونے اور مجھے پیار کرنے کا سوچ رہے ہو، اور مجھے بھی تمہاری مردانگی ہر صورت چیک کرنی ہے۔ لہذا وقت ضائع کیے بغیر آو اور مجھے اپنی بانہوں میں لیکر ایک مضبوط مرد کی طرح پیار کرو۔۔۔ یہ کہتے ہوئے اسمارہ مکمل طور پر وقار کی گود میں آچکی تھی اور اسکا ایک ہاتھ اب بھی وقار کے لن کو سہلا رہا تھا جو پینٹ میں قید تھا اور دوسرا ہاتھ وقار کی گردن کے قریب تھا اور اسمارہ کے ہونٹ اب وقار کے ہونٹوں کے بالکل سامنے تھے۔
    اسمارہ کے منہ سے نکلنے والی گرم سانسیں وقار کو اپنے چہرے پر محسوس ہورہی تھیں جو شہوت سے بھرپور تھیں اور وقار جو حقیقت میں اسمارہ کے بھرے ہوئے جسم کو چودنے کا خواہش مند تھا مگر ہچکچا رہا تھا اب اس نے بھی تہیہ کر لیا تھا کہ وہ آج اسمارہ کو ایسا چودے گا کہ دوبارہ یہ اسکی مردانگی کا ثبوت نہیں مانگے گی۔ وقار نے اپنا ایک ہاتھ اسمارہ کی ننگی کمر پر رکھا جس پر صرف ایک عدد برا موجود تھا اور دوسرا ہاتھ اسمارہ کے سر کے پیچھے رکھ کر اسکے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے جوڑ لیا اور دیوانہ وار انکو چوسنے لگا۔ اسمارہ بھی وقار کا بھرپور ساتھ دینے لگی اور اپنی زبان سے وقار کے ہونٹوں کر ٹکرا کر اندر جانے کا راستہ مانگنے لگی، وقار نے فورا منہ کھول کر اسمارہ کی گرم گرم زبان کو اپنے منہ میں لیکر چوسنا شروع کر دیا۔ وہ کبھی اسکی زبان کو تو کبھی ہونٹوں کو دیوانہ وار چوس رہا تھا۔
    فرنچ کسنگ کرتے کرتے وقار بیڈ پر لیٹ چکا تھا اور اسمارہ کو اپنے اوپر لٹا لیا تھا، دونوں کے ہونٹ ابھی تک ایکدوسرے کے ہونٹوں کو چوسنے میں مصروف تھے جبکہ اسکا ہاتھ اسمارہ کے سر سے رینگتا ہوا اسکی کمر پر موجود برا کی ہُک تک پہنچ چکا تھا اور پہلے سے موجود کمر پر ہاتھ اب نیچے کی طرف رینگتا ہوا اسمارہ کی شلوار میں داخل ہوکر اسکے 32 انچ کے چوتڑو ں کو سہلانے میں مصروف تھا۔ اسمارہ کے رسیلے ہونٹوں کو چوستے چوستے وقار نے اسکے برا کی ہُک کھول دی تھی۔ ہُک کھلنے پر اسمارہ خود ہی وقار کے ہونٹوں سے اپنے ہونٹوں کو علیحدہ کرتی ہوئی تھوڑا سا اوپر اٹھی تو اسکا برا ڈھیلا ہوجانے کی وجہ سے نیچے کی طرف ڈھلک گیا جس سے اسکے ممے جو برا میں قید تھے اب اس قید سے کافی حد تک آزا د ہوکر نیچے لٹکنے لگے تھے۔
    وقار کی نظریں نیچے لٹکتے مموں پر پڑی تو اس نے بے اختیار اپنے دونوں ہاتھ اسمارہ کے مموں پر رکھ لے اور انہیں زور سے دبا دیا۔ اس نے پہلی بار کسی لڑکی کے مموں کو پکڑا تھا۔ اس نے دونوں مموں کر پکڑ کر دبایا اور انہیں آپس میں ملا کر اسمارہ کے سینے پر بننے والی کلیویج پر اپنا منہ رکھ کر وہاں پیار کرنے لگا۔ اسمارہ نے اپنا برا کندھوں سے اتار کر اپنے دونوں بازو برا میں سے نکال لیے اب برا صرف مموں کے اوپر تھا جو وقار کے ہاتھ میں تھے۔ وقار نے اب اسمارہ کے برا کو اتار کر سائیڈ پر رکھا تو اس نے پہلی بار کسی لڑکی کے مموں کو اتنے قریب سے دیکھا تھا، 36 سائز کے گول اور سڈول مموں کو اپنے اتنا قریب دیکھ کر وقار نے اپنا ایک ہاتھ اسمارہ کی گانڈ پر رکھا اور اسے اوپر کی طرف یوں دھکیلا کے اسمارہ کے جھولتے ہوئے ممے وقار کے عین سامنے آگئے۔
    وقار نے اسمارہ کے ایک ممے کو دیکھ کر اپنے ہونٹوں پر زبان پھیری اور فوران ہی وہ مما اپنے منہ میں لیکر اسکو چوسنا شروع کر دیا جبکہ گانڈ پر موجود ہاتھ سے اس نے اسمارہ کی شلوار گانڈ سے نیچے کر دی اور پھر اپنی ایک ٹانگ موڑ کر اوپر لایا اور اسمارہ کی شلوار کے نیفے میں ٹانگ پھنسا کر اسے نیچے کی طرف لے گیا جس سے اسمارہ کی شلوار آن کی آن میں اتر گئی۔ اب اسمارہ کے خوبصورت اور گورے جسم پر صرف ایک سفید رنگ کی خوبصورت پینٹی موجود تھی، وقار ابھی اس پینٹی کر دیکھ تو نہیں سکتا تھا کیونکہ اسکی تمام تر توجہ اسمارہ کے مموں پر تھی۔ اسمارہ کے چھوٹے مگر سخت نپل وقار کے دانتوں کے درمیان تھے جنہیں وہ ہولے ہولے کاٹ رہا تھا، اسمارہ کی خوبصورت گانڈ کو وقار اپنے ایک ہاتھ سے دبا رہا تھا جبکہ اسکے نپلز پر وقار اپنے دانتوں سے پیار کی کاٹیاں کر رہا تھا جس سے اسمارہ کی سسکیاں وقار کے کانوں میں رس گھولنے لگی تھیں۔
    شہوت سے بھرپور یہ سسکیاں وقار نے آج سے پہلے اپنے روم میں موجود سپیکروں سے ہی سنی تھیں جس میں پورن فلموں کی کوئی اداکارہ لنڈ اپنی گانڈ اور چوت میں لیے شہوت بھری سسکیاں لے رہی ہوتی تھی، مگر آج پہلی بار وقار کو ان شہوت بھری سسکیوں کو لائیو سننے کا موقع ملا تھا۔ کچھ ہی دیر میں اسمارہ بیڈ پر لیٹی تھی اور وقار اسکے اوپر لیٹا کبھی اسکے مموں کو پکڑ کر دباتا اور نپلز منہ میں لیکر انکو چوستا تو کبھی اسکی گردن اور سینے پر اپنے ہونٹوں اور دانتوں سے پیار کے نشان ثبت کرنے میں مصروف تھا۔ اسمارہ کی دونوں ٹانگیں وقار کی کمر کے گرد تھیں اور وہ اپنے ہاتھ وقار کی کمر پر پھیر رہی تھی جہاں وہ وقار کی شرٹ اور بنیان اتار چکی تھی۔
    وقار اب آہستہ آہستہ اسمارہ کے مموں کو پیار کرنے کے بعد اسکے پیٹ سے ہوتے ہوئے ناف اور پھر اسکی خوبصورت چوت کے قریب پہنچ چکا تھا۔ وقار نے فلموں میں بہت بار لڑکے کو لڑکی کی چوت چاٹتے ہوئے دیکھا تھا، یہی وجہ تھی کہ اسکی بہت خواہش تھی کہ وہ کسی لڑکی کی گلابی اور گیلی چوت میں اپنی زبان سے مساج کرے۔ اسمارہ کی پینٹی تک پہنچ کر وقار کو اپنے ناک میں اسمارہ کی چوت کی منی سے بھرپور خوشبو محسوس ہونے لگی۔ وقار نے بے اختیار اپنی زبان منہ سے نکالی اور اسکی چوت کو پینٹی کے اوپر سے ہی چاٹنے لگا۔ اسمارہ کی چوت کا گیلا پن اسکی پینٹی کو بھی گیلا کر چکا تھا اور اسکی پینٹی سے ہی وقار کو اسمارہ کی چوت کا ذائقہ چکھنے کو مل چکا تھا۔
    وقار نے اب اسمارہ کی پینٹی کو اتارا تو اسکی چکنی چوت دیکھ کر وقار اپنے ہوش گنوا بیٹھا۔ چکنے لیس دار پانی سے بھری ہوئی چوت اور خوبصورت لب وقار کے لیے کسی پیسٹری سے کم نہیں تھے۔ اس نے بالوں سے پاک نرم و ملائم ریشمی چوت پر اپنی زبان رکھ دی جس سے اسمارہ کے جسم میں ایک سنسنی دوڑ گئی۔ اسکے جسم میں سوئیاں چبھنے لگیں اور وقار کی زبان کی گرمی اسمارہ کی چوت کو گرم سے گرم کرنے میں مصروف تھی۔ اسمارہ نے اپنی دونوں ٹانگیں وقار کی گردن کے گرد لپیٹ رکھی تھیں جبکہ اسکے دونوں ہاتھ وقار کے بالوں میں تھے اور وہ اسکے سر کو پکڑ کر زور زور سے اپنی چوت کی طرف دھکیل رہی تھی، وہ بار بار اپنی گانڈ کو بیڈ سے اوپر اٹھا کر اپنی چوت کو وقار کی زبان کے اور منہ کے مزید قریب کرتی اور اپنی سسکیوں سے وقار کے لوڑے کو سخت سے سخت کر رہی تھی۔


  2. The Following 12 Users Say Thank You to fiz.kamran For This Useful Post:

    abba (04-01-2018), abkhan_70 (30-12-2017), Lanmaarbutt (30-04-2018), Lovelymale (29-12-2017), mm.khan (29-12-2017), panjabikhan (26-01-2018), piraro (29-12-2017), piyaamoon (29-12-2017), salm_613 (16-01-2018), sexeymoon (29-12-2017), Story-Maker (01-01-2018), teno ki? (31-12-2017)

  3. #432
    fiz.kamran's Avatar
    fiz.kamran is offline UrduFunda Writer
    Join Date
    Jun 2014
    Location
    Multan
    Age
    26
    Posts
    549
    Thanks
    387
    Thanked 5,002 Times in 528 Posts
    Time Online
    3 Days 1 Hour 7 Minutes 1 Second
    Avg. Time Online
    2 Minutes 57 Seconds
    Rep Power
    1956

    Default


    ارشد کا لوڑا جو اس وقت اسکے انڈر وئیر کی قید میں تھا وہ اس وقت پلوشہ کے چہرے کے عین سامنے تھا۔ پلوشہ نے ایک لمحے کے لیے اپنی آنکھیں بند کی اور اپنے دونوں ہاتھ ارشد کے انڈر وئیر کے کی سائیڈ پر رکھ کر انڈر وئیر اتارنے کے لیے خود کو تیار کرنے لگی۔۔۔۔ ارشد بہت بے صبری سے پلوشہ کو دیکھ رہا تھا کہ کب وہ ارشد کا لنڈ بالکل ننگا کر ے اور ارشد کو پلوشہ جیسی خوبصورت 22 سالہ چھوئی موئی معصوم لڑکی کو چودنے کا موقع مل سکے۔ ارشد یہ بھول چکا تھا کہ پلوشہ اسکے چھوٹے بھائی کی پسند ہے اور مستقبل میں اسکی ہونے والی بھابھی، اسکے سر پر تو اس وقت منی سوار تھی اور اسے ہر صورت میں پلوشہ کی نازک چوت کو اپنے ہتھیار سے لہو لہان کرنا تھا۔
    پلوشہ نے ایک بار اپنی آنکھیں کھولی اور چہرہ اوپر کر کے ارشد کو دیکھنے لگی، اسکے چہرے پر شرم کے ساتھ ساتھ لنڈ دیکھنے کا اشتیاق بھی واضح دیکھا جا سکتا تھا، اس نے تھوڑا شرماتے مگر مسکراتے ہوئے ارشد کو کہا ارشد بھائی مجھے بہت شرم آرہی ہے آپکا انڈر وئیر اتارتے ہوئے۔ یہ سن کر ارشد بولا اگر ایسی بات ہے تو پھر جو گیم تم ہاری تھی اسکے بدلے اپنا برا اتار دو۔۔۔۔۔ پلوشہ بولی نہ بابا نہ، میں اپنا برا نہیں اتاروں گی، آپکا انڈر وئیر ہی ٹھیک ہے۔ یہ کہ کر اس نے پھر سے اپنی آنکھیں بند کیااور اپنا چہرہ ارشد کے لنڈ کے عین سامنے کر کے اسکے انڈر وئیر کو آہستہ آہستہ نیچے کی طرف لانے لگی اور ارشد کا لنڈ انڈروئیر سے باہر آنے کے لیے پر تولنے لگا۔۔
    پلوشہ ارشد کا قریب قریب آدھا انڈروئیر اتار چکی تھی، ارشد کے لنڈ کی جڑ سے اوپر کا حصہ جس پر چھوٹے چھوٹے بال موجود تھے اب نظر آرہا تھا مگر پلوشہ کی آنکھیں بند تھیں۔ البتہ اسے اتنا اندازہ ہوگیا تھا کہ اب تھوڑا سا بھی انڈروئیر نیچے کیا تو لنڈ باہر آجائے گا۔ اس سے پہلے کہ پلوشہ مزید انڈروئیر نیچے کرتی وقار نے اپنے چوتڑ تھوڑے آگے کی طرف کیا جس سے پلوشہ کے چہرے اور ارشد کے لنڈ کے درمیان محض چند انچ کا فاصلہ رہ گیا تھا۔
    پلوشہ نے ایک لمحے کے لیے اپنے ہاتھوں کو روکا مگر پھر ایک دم سے ہی ارشد کا انڈروئیر نیچے کی طرف ایک ہی جھٹکے سے اسکے گھٹنوں تک اتار دیا۔ انڈروئیر کا اترنا تھا کہ ارشد کا لنڈ کسی سپرنگ کی طرح اچھلتا ہوا انڈویر سے نکلا اور سیدھا پلوشہ کے چہرے پر جا کر لگا۔ لوہے جیسا سخت لنڈ چہرے پر لگتے ہی پلوشہ کی بے اختیار آنکھیں کھل گئیں۔ اسکی نظریں ارشد کے 8 انچ لمبے اور 2 انچ سے کچھ زیادہ موٹے لنڈ پر پڑی تو اسکی آنکھیں مزید پھیل گئیں۔۔ اسنے اپنا چہر لنڈ سے کچھ پیچھے کر لیا تھا مگر وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے ارشد کا لنڈ دیکھ رہی تھی۔
    اسکی آنکھوں میں حیرانی واضح دیکھی جا سکتی تھی، حیرانی کے ساتھ ساتھ ایک انجان سی خوشی بھی اسکے چہرے سے واضح تھی۔ اس نے ایک لمحے کے لیے اپنی نظریں اٹھا کر ارشد کی طرف دیکھا جہاں اسکو واضح طور پر اپنے لیے حوس سے بھرپور آنکھیں نظر آرہی تھیں، مگر اس نے ارشد کی آنکھوں میں حوس کو نظر انداز کرتے ہوئے دوبارے سے لن کو دیکھنا شروع کیا تو ارشد بولا پلوشہ کیسا لگا تمہیں میرا لنڈ؟؟
    پلوشہ نے مسکراتے ہوئے ، شرماتے ہوئے اور حیران ہوتے ہوئے ارشد کی طرف دیکھا اور بولی ارشد بھائی ۔۔۔ یہ تو۔۔۔۔۔۔ یہ ۔۔۔ یہ تو بہت۔۔۔۔۔ ارشد نے کہا کیا بہت؟؟؟ پلوشہ بولی یہ تو بہ۔۔۔ بہت بڑا ہے۔۔۔ ارشد نے کہا تمہیں پسند آیا؟؟؟ پلوشہ نے ارشد کی بات کا کوئی جواب نہ دیا اور اشتیاق کے ساتھ اسکے لنڈ کو دیکھتی رہی، پھر اچانک اس نے اپنا سر اٹھا کر ارشد کی طرف دیکھا اور التجائی نظروں سے تھوڑی شرم سے بولی ارشد بھائی کیا میں اسے۔۔۔ اسے ہاتھ میں پکڑ کر دیکھ سکتی ہوں؟؟؟
    ارشد نے کہا ہاں ہاں کیوں نہیں، پکڑ لو اپنے ہاتھ میں۔ ۔۔۔۔ پلوشہ نے ہاتھ آگے بڑھایا اور اسکے لنڈ کو پکڑ کر زور سے پہلے دبایا اور بولی یہ تو بہت زیادہ سخت ہے جیسے کوئی لوہے کا ڈنڈا ہوتا ہے۔۔۔ پھر اپنے دوسرے ہاتھ سے ارشد کے لنڈ کا سائز ماپنے لگی۔۔۔ پھر حیران ہوتے ہوئے بولی یہ واقعی بہت بڑا ہے۔۔۔ ارشد بھائی وقار کا تو اتنا بڑا نہیں، آپکا زیادہ بڑا ہے۔۔۔ ارشد نے حیران ہوتے ہوئے پلوشہ کی طرف دیکھا اور بولا تم نے وقار کا دیکھا ہوا ہے؟؟؟؟
    پلوشہ ایک دم شرمندہ ہوگئی اور چہرہ نیچے کر کے آہستہ سے بولی جی، ایک بار دیکھا تھا۔۔۔ پلوشہ کا ایک ہاتھ ابھی تک ارشد کے لنڈ پر تھا۔ ارشد نے کہا کب اور کہاں دیکھا تم نے؟؟ پلوشہ کانپتی ہوئی آواز سے بولی کچھ دن پہلے وہ ہمارے گھر آیا تھا، آپی گھر پر نہیں تھیں۔ تو اس نے مجھے جپھی ڈال لی اور میرے ہونٹوں کو چوسنے لگا، پھر اس نے میرے ممے دبائے اور بس پھر اس نے مجھے اپنا لن بھی دکھایا تھا۔۔۔ ارشد نے کہا صرف دکھایا تھا یا تم نے اسکا لن اپنے اندر بھی لیا تھا؟؟؟ پلوشہ ایک دم بولی نہیں نہیں۔۔۔ ایسا کچھ نہیں ہوا۔۔۔ بس اس نے دکھایا تھا مجھے اور میں نے ہاتھ میں پکڑ کر دیکھا تھا، اسلیے مجھے اندازہ ہوگیا ہے کہ آپکا اس سے بڑا ہے۔
    یہ کہ کر پلوشہ نے اسکا لنڈ چھوڑ دیا اور کھڑی ہوگئی۔ اور بولی چلیں اب آپ اپنا انڈر وئیر پہن لیں میں بھی کپڑے پہن لوں پھر باہر۔۔۔۔۔ ابھی پلوشہ کی بات مکمل نہیں ہوئی تھی کہ اچانک ایک زور دار دھماکہ ہوا اور ساتھ ہی لائیٹ چلی گئی۔ پلوشہ نے ایک چیخ ماری اور فوری واپس مڑ کر ارشد کے سینے سے لگ گئی۔ یہ کوئی بم دھماکہ نہیں بلکے آسمانی بجلی کی گونج تھی، باہر ایک دم سے بارش شروع ہوگئی تھی اور اسکے ساتھ ہی لائیٹ چلی گئی تھی۔
    پلوشہ ایک دم سے ارشد کی بانہوں میں آئی تو اسکے 38 سائز کے بڑے بڑے گول تنے ہوئے ممے ارشد کے سینے میں کھب گئے، ارشد توپہلے ہی پلوشہ کے گورے روئی کے گالوں جیسے بدن کو چھونا چاہتا تھا۔ اس نے بھی فوران ہی پلوشہ کو اپنی بانہوں میں بھر لیا۔۔۔ پلوشہ کی سانسیں تیز تیز چل رہی تھیں جسکی وجہ سے اسکا سینہ، یعنی کے اسکے ممے تیزی سے اوپر نیچے ہورہے تھے اور ارشد کو مزہ دے رہے تھے۔ ارشد نے پیار سے پلوشہ کو پوچھا ارے کیا ہوا میری جان؟؟؟ پلوشہ بولی ارشد بھائی مجھے بجلی سے بہت ڈر لگتا ہے۔۔۔
    ارشد نے کہا کوئی بات نہیں، میں ہوں نہ تمہارے ساتھ، ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ یہ کہ کر اس نے پلوشہ کی کمر پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا۔ کمرے میں یو پی ایس پر ایک چھوٹا انرجی سیور جل رہا تھا جسکی روشنی قدرے کم تھی مگر پھر بھی اتنی ضرورت تھی کہ ارشد پلوشہ کے حسین جسم سے اپنی آنکھوں کو خیرہ کر رہا تھا۔ پلوشہ کا سر ارشد کے سینے پر تھا، اس نے ارشد کے سینے سے سر اٹھا کر اوپر کی طرف کیا اور ارشد کی طرف دیکھتے ہوئے بولی ارشد بھائی مجھے وہ۔۔۔۔۔۔ ارشد نے پیار سے پلوشہ کے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور بولا کیا ہوا جان؟؟ پلوشہ بولی بھائی مجھے اپنے پیٹ پر آپکا وہ چبھ رہا ہے۔۔
    ارشد نے مسکراتے ہوئے انجان بنتے ہوئے کہا کیا چبھ رہا ہے؟؟؟ پلوشہ تھوڑا ہچکچاتے ہوئے بولی وہ ۔۔۔ آپکا۔۔۔۔ لن۔۔۔۔۔ ارشد نے پلوشہ کی کمر کے گرد موجود ہاتھ کی گرفت اور سخت کرتے ہوئے کہا اصل میں وہ کھڑا ہے اور سخت ہے تو چبھنا تو ہے، تم ایسا کرو اسے پیٹ سے ہٹا کر نیچے اپنی ٹانگوں کے درمیان سے گزار کر پیچھے کی طرف نکال لو تاکہ تمہیں چبھے نا وہ۔ یہ سن کر پلوشہ نے بغیر کچھ کہے اپنا ایک ہاتھ اپنے اور ارشد کے پیٹ کے درمیان موجود تنے لوئے لنڈ کو پکڑ ا اور اسے نیچے کی طرف کرتے ہوئے اپنی دونوں ٹانگو ں کو تھوڑا سا کھولا اور درمیان میں لنڈ لے کر اپنی ٹانگوں کو دوبارہ بند کر لیا۔
    اب ارشد کے لنڈ کو پلوشہ کی پھدی کی گرمی محسوس ہورہی تھی اور پلوشہ پھر سے ارشد کی کمر کے گرد اپنی بانہیں لپیٹے اپنے ممے اسکے سینے میں گھسا کر کھڑی تھی۔ اسکا جسم ہولے ہولے کانپ رہا تھا، اب معلوم نہیں کہ اسکا جسم شہوت کی شدت سے کانپ رہا تھا یا پھر بجلی کی گونج کے ڈر کی وجہ سے اسکا جسم کانپ رہا تھا۔ ارشد نے اپنا ایک ہاتھ ہولے ہولے پلوشہ کی بل کھاتی کمر پر پھیرتے ہوئے اسکے چوتڑوں تک لے گیا اور دوسرا ہاتھ بھی اسکی کمر پر پھیرنے لگا۔ اب اس نے پلوشہ کے کان میں آہستہ سے کہا اب تو نہیں چبھ رہا تمہیں میرا لنڈ؟؟
    پلوشہ نے اسکے سینے پر سر رکھے رکھے ہی جواب دیا نہیں اب ٹھیک ہے۔ اسی دوران ارشد کا ہاتھ پلوشہ کی گانڈ تک پہنچ چکا تھا۔ اس نے ایک ہاتھ سے پلوشہ کے ایک چوتڑ کو پکڑ لیا اور اسکو ہولے ہولے دبانے لگا اور بولا اچھا پلوشہ یہ بتاو جب تم نے وقار کا لن دیکھا تو کیا منہ میں بھی لیا تھا؟؟ پلوشہ نے سر اٹھا کر ارشد کو دیکھا اور شرماتے ہوئے بولی نہیں میں نے صرف ہاتھ میں پکڑ کر دیکھا تھا۔ یہ سن کر ارشد نے اپنے چوتڑوں کو آہستہ آہستہ آگے پیچے کرنا شروع کیا جس سے اسکا لنڈ پلوشہ کی دونوں ٹانگوں کے درمیان آگے پیچھے ہونے لگا اور ہلکی ہلکی رگڑ اسکی چوت پر بھی لگانے لگا۔
    ارشد نے کہا اچھا یہ بتاو اس نے تمہیں بھی ننگا دیکھا تھا؟ پلوشہ شرماتے ہوئے بولی۔۔۔ نہیں اسنے کہا تو تھا کہ میں اپنے کپڑے اتار کر اسکو اپنا جسم دکھاوں مگر میں نے کپڑے نہیں اتارے۔ البتہ اس نے۔۔۔۔۔۔۔ پلوشہ بات ادھوری چھوڑ کر رکی تو ارشد نے پلوشہ کے چوتڑوں کو ہولے سے دباتے ہوئے کہا البتہ کیا؟؟؟ پلوشہ بولی مجھے شرم آتی ہے بتاتے ہوئے۔ ارشد نے ایک ہلکا سا قہقہ لگایا اور بولا ارے بتاو نا تم نے اپنا جسم اسے نہیں دکھایا مگر آگے کیا ہوا؟؟
    پلوشہ نے شرماتے ہوئے کہااس نے میری قمیص کے گلے سے اپنا ہاتھ اندر ڈالا۔۔۔۔۔ اور۔۔۔ میرا ایک مما باہر نکال کر اسکو کچھ دیر چوسا تھا۔ یہ سنا تو ارشد نے ایک بار شہوت بھریے انداز میں پلوشہ کے ماتھے پر اپنے ہونٹ رکھ کر انکو چوم لیا اور چوتڑوں پر موجود ہاتھ سے پلوشہ کے چوتڑوں کو زور سے دبا دیا۔ پلوشہ کی ایک سسکی نکلی جس میں تکلیف واضح تھی اور وہ بولی ارشد بھائی یہ کیا کر رہے ہیں آپ۔ یہاں سے ہاتھ ہٹا لیں ۔۔۔ ارشد نے بغیر ہاتھ ہٹائے اور بغیر پلوشہ کی بات کا جواب دیے اسکے چوتڑ کو اب ہولے ہولے دبانا جاری رکھا اور بولا جب اس نے تمارا مما چوسا تو تمہیں مزہ آیا؟؟
    پلوشہ بولی نہیں پہلے پہلے تو بہت شرم بھی آئی اور عجیب سا بھی لگا مگر جب اس نے کچھ دیر تک چوسنا جاری رکھا تو پھر تھوڑا تھوڑا مزہ بھی آیا تھا۔ یہ سن کر ارشد نے پلوشہ کی کمر پر موجود ہاتھ اٹھایا اور اسے پلوشہ کے ایک ممے پر رکھ کر اسکو ہلکا سا دباتے ہوئے بولا کیا یہ والا مما چوسا تھا اس نے۔۔؟؟ پلوشہ بولی نہیں دوسرے والا۔۔۔ ارشد نے اب اپنا ہاتھ دوسرے ممے پر رکھ کر اسے دبایا اور بولا یہ والا؟؟ پلوشہ تھوڑا کانپتی آواز سے بولی۔۔۔ ج۔۔۔۔ جی۔۔۔ یہی۔۔۔۔ یہی والا۔۔۔
    ارشد نے پلوشہ کا مما ہلکے سے دبایا اور بولا پھر تو میں بھی چوس سکتا ہوں تمہارا یہ بڑا سا گو ل گول مما۔ پلوشہ نے کہا نہیں ارشد بھائی آپ نہیں۔۔۔ ارشد نے کہا ارے کیوں میں کیوں نہیں؟؟ پلوشہ نے کہا نہیں بس آپ نہیں۔ آپ نے اگر کچھ کرنا ہی ہے تو آپ میرے ہونٹ چوس لیں مگر مما نہیں۔ ارشد نے دل ہی دل میں سوچا چلو ہونٹوں سے ہی شروع کر لیتے ہیں، آخری منزل تو تمہاری چوت ہی ہوگی۔ یہ سوچ کر ارشد تھوڑا سا جھکا اور پلوشہ کے رسیلے اور گلابی ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ کر انہیں پیار سے چوم لیا۔
    پلوشہ نے بھی اپنی آنکھیں بند کر کے منہ اوپر کر لیا اور پنجو پر کھڑی ہوگئی تاکہ ہونٹوں کا ہونٹوں سے ملاپ صحیح سے ہوسکے۔ ارشد نے آہستہ آہستہ پلوشہ کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے چوسنا شروع کیا ، اسکے دونوں ہاتھ اب پلوشہ کے گول چوتڑوں کر دبانے میں مصروف تھے جبکہ وہ اپنے لوڑے کو بھی آہستہ آہستہ پلوشہ کی دونوں ٹانگوں کے درمیان آگے پیچھے کرنے میں مصروف تھا۔ پلوشہ کچھ دیر مزے سے ارشد کے ہونٹوں سے ہونٹ ملا کر اسے اپنا رس پلاتی رہی مگر پھر اس نے اپنے ہونٹ ارشد کے ہونٹوں سے علیحدہ کیے اور بولی ارشد بھائی مجھے نیچے کچھ کچھ ہورہا ہے۔۔۔ ارشد نے پوچھا کہاں پر؟ تو پلوشہ نے اپنی چوت کی طرف اشارہ کیا کہ یہاں۔۔
    ارشد اب نیچے بیٹھا اور اس نے پلوشہ کی پینٹی کے قریب اپنا چہرہ کر لیا۔ وہ اپنا ناک پلوشہ کی نیلے رنگ کی پینٹی کے قریب لے گیا اور اسکی چوت کی خوشبو سونگھنے لگا۔ پلوشہ کی چوت سے نکلنے والا پانی ارشد کی شہوت میں اضافہ کر رہا تھا، اس نے اپنی ایک انگلی پلوشہ کی پینٹی پر رکھ کر اسکی چوت پر پھیری اور بولا یہ تمہاری پینٹی تو گیلی بھی ہورہی ہے۔ یہ کہ کر اس نے اپنی انگلی اپنے منہ میں ڈال کر چوس لیا اور پلوشہ کی چوت کے پانی کا ٹیسٹ کرنے لگا۔ پھر ارشد بولا یہ گیلی کیوں ہورہی ہے؟؟
    پلوشہ نے معصومیت سے شرمندگی سے سر جھکا کر کہا وہ اپ اپنا لنڈ پھیر رہے تھے تو اس لیے گیلی ہوگئی۔ ارشد زیرِ لب مسکرایا اور بولا صرف گیلی ہوئی ہے یا کچھ اور بھی ہوا ہے؟ پلوشہ نے کہا تھوڑی تھوڑی خارش بھی ہورہی ہے اندر۔۔۔ ارشد نے ایک لمبی ہونہ نہ نہ نہ کی۔۔۔۔ اور بولا اچھا اسکا تو پھر علاج کرنا پڑے گا کوئی۔ یہ کہ کر پلوشہ کو گھماتے ہوئے ارشد نے پوچھا صرف آگے ہی خارش ہورہی یا پھر پیچھے بھی کوئی مسئلہ ہے؟ پلوشہ کو گھما کر ارشد کی نظریں اسکے چوتڑوں پر پڑی تو اسکی اوپر کی سانسیں اوپر اور نیچے کی سانسیں نیچے رہ گئیں۔ ایسے گول اور سڈول بے داغ چوتڑ اس نے آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ چوتڑوں کی گولائیاں ارشد کے لنڈ کو اپنی طرف کھینچ رہی تھی اور اسے اپنے لنڈ میں پریشر بڑھتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔
    ارشد کی بات کے جواب نے پلوشہ نے کہا نہیں پیچھے تو کچھ نہیں ہورا بس کچھ گرمی سی لگ رہی ہے۔ یہ سن کر ارشد نے پلوشہ کے چوتڑوں کی گولائیں کو دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر زور سے دبایا اور بولا اچھا اپنی پینٹی اتارو تو دیکھتے ہیں پیچھے کیا مسئلہ ہے۔ پلوشہ چونکی اور بولی نہیں مجھے شرم آتی ہے۔۔ ارشد بولا ارے میں بھی تو ننگا ہی ہوں بالکل۔۔ تم پینٹی اتارو تو سہی دیکھیں تو آخر اتنی گرمی کیوں ہورہی ہے پیچھے۔
    پلوشہ نے کہا اچھا آپ کہتے ہیں تو اتار دیتی ہوں مگر پلیز اسمارہ آپی کو مت بتائیے گا کہ میں نے آپکے سامنے پینٹی اتاری تھی۔۔۔ ارشد نے کہا نہیں بتاتا میری جان۔۔۔ پلوشہ بولی اور وقار کو بھی نہیں بتانا ورنہ اسکو برا بھی لگے گا اور وہ مجھے کہے گا کہ میں اسکے سامنے بھی پینٹی اتاروں۔۔ ارشد نے کہا ہاں فکر نہ کرو اسے بھی نہیں بتاوں گا۔ یہ سن کر پلوشہ نیچے جھکی اور آہستہ آہستہ اپنی پینٹی اتارنے لگی۔ پلوشہ کے چوتڑ تو پہلے ہی ارشد کی نظروں کے سامنے تھے اب جو پینٹی اتری تو پلوشہ کے چوتڑوں کے درمیان موجود گہری لائین بھی واضح ہوگئی اور اسکا گول مگر تنگ گانڈ کا سوراخ بھی واضح ارشد کے سامنے آگیا۔
    پینٹی گھٹنوں تک اتار کر پلوشہ سیدھی ہونے لگی تو ارشد بولا ارے نہیں سیدھی مت ہو ابھی بلکہ تھوڑا اور جھک جاو تاکہ میں اچھی طرح سے تمہارے پچھلے سوراخ کو دیکھ سکوں کہ یہاں اتنی گرمی کیوں ہے۔۔ یہ سن کر پلوشہ اپنے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر مزید جھک گئی۔ ارشد کا لن اور منہ دونوں رال ٹپکا رہے تھے پلوشہ کی گانڈ کو دیکھ کر۔ گانڈ پر نظریں جماتے ہوئے ارشد نے کہا کہ تمہارا سوراخ کافی خشک ہورہا ہے شاید اسی وجہ سے گرمی لگ رہی ہے اسکو تھوڑا گیلا کرنا پڑے گا۔ پلوشہ نے گردن گھما کر پیچھے کی طرف دیکھا اور اسکو کیسے گیلا کریں گے؟ ارشد نے کہا بس تم دیکھتی جاو، یہ کہ کر ارشد نے اپنی زبان نکالی اور پلوشہ کے چوتڑوں کی گولائیوں کو پکڑ کر کھول دیا اور اسکی گانڈ کے سوراخ پر اپنی زبان رکھ کر اسکو چاٹنا شروع کر دیا۔
    گانڈ پر پلوشہ کو ارشد کی گیلی گیلی زبانکا لمس محسوس ہوا تو اسکے منہ سے ایک لمبی مگر شہوت سے بھرپور سسکی نکلی آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔۔ اف ف ف ف ف ف ۔۔۔۔ مزہ آگیا ارشد بھائی۔۔۔ آپکی زبان نے تو سکون پہنچا دیا ۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ۔۔۔ ام م م م م م م ۔۔۔۔ ارشد نے جھلا کر اسکی گانڈ سے زبان ہٹائی اور بولا اب تو مجھے بھائی کہنا چھوڑ دو۔۔۔ یہ سن کر پلوشہ نے ہلکا سا قہقہ لگایا اور بولی نہیں آپکو میں ارشد بھائی ہی کہوں گی نا آپ وقار کے بڑے بھائی جو ہیں۔ یہ سن کر ارشد نے کہا اچھا میری ماں تم بھائی ہی کہ لو۔ یہ کہ کر اس نے پھر سے پلوشہ کی گانڈ کو چاٹنا شروع کر دیا اور پلوشہ کی سسکیاں ارشد کے کانوں میں رس گھولنے لگیں۔
    پلوشہ کی گانڈ کو چاٹنے کے ساتھ ساتھ ارشد کا ایک ہاتھ آگے جا کر پلوشہ کی چوت کا مساج بھی کر رہا تھا جسکی وجہ سے پلوشہ کی سسکیوں میں اضافہ ہوچکا تھا۔ پلوشہ کی چوت میں ہونے والی خارش کم ہونے کی بجائے مسلسل بڑھتی ہی جا رہی تھی، تبھی وہ گانڈ چٹواتے ہوئے اچانک مڑی اور اور اس نے ارشد کا چہرہ پکڑ کر اپنی چوت پر رکھ دیا اور بولی اسکو بھی چاٹو پلیز۔۔۔۔ یہاں بہت خارش ہورہی ہے۔۔۔ ارشد نے ایک مرتبہ اپنا چہرہ اوپر اٹھا کر دیکھا تو پلوشہ کے چہرے پر اسے کرب کے آثار نظر آئے، اسکی آنکھیں جیسے انگارے برسا رہی تھیں اور وہاں سیکس کی شدید طلب واضح دیکھی جا سکتی تھی۔
    ارشد سمجھ گیا تھا کہ اسکا کام ہوچکا ہے، اس نے بغیر وقت ضائع کیے اپنی زبان پلوشہ کی نازک چوت کے لبوں پر رکھی اور انکو چٹنا شروع کر دیا۔ آہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔ چاٹو اسکو۔۔۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔ اف ۔ف ۔ف ۔ف ۔ف ۔۔۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔ تیز تیز چاٹو۔۔۔۔ اف ف ف ف ۔۔۔۔ ام م م م ۔۔۔ اہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ہ زبان اندر گھسا دو میری چوت کے۔۔۔ آہ ہ ہ ہ آہ ہ ہ ہ ہ آہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔۔ پلوشہ کی شہوت سے بھرپور سسکیاں ارشد کے لوڑے کو بھی سخت سے سخت تر کر رہی تھیں۔
    مگر اس نے اب پلوشہ کی چوت سے سر ہٹایا اور بولا میرے لنڈ میں بھی کافی گرمی محسوس ہورہی ہے، تم بھی اسکو ٹھنڈا کرو ذرا۔۔۔ یہ کہ کر ارشد بیڈ پر لیٹ گیا اور اسے اپنے اوپر آنے کو کہا۔۔۔۔ پلوشہ کچھ دیر تو اپنی چوت کے سوراخ میں ایک انگلی ڈالے آنکھیں بند کیے کھڑی رہی اور آہستہ آہستہ اسکے چہرے کی سرخ رنگت واپس سفید ہونے لگی اور اسکی آنکھوں میں برستے انگارے ختم ہوکر دوبارہ اسکی آنکھیں نشیلی ہونے لگیں۔ جیسے اسے سکون مل گیا ہو۔ اسنے آنکھیں کھولی اور مسکراتے ہوئے ارشد کو دیکھتے ہوئے کہا آپ نے تو بہت مزہ دیا ہے۔ مجھے بہت مزہ آیا۔۔۔
    یہ کہ کر وہ ارشد کے قریب آئی اور اسکے لنڈ کو ہاتھ میں پکڑ کر اسکو ہلاتے ہوئے بولی اسکی گرمی اب کیسے نکالوں میں؟؟؟ ارشد نے پلوشہ سے کہا جیسے میں نے تمہاری گانڈ کی گرمی نکالی، چاٹو اسکو۔۔۔ پلوشہ نے آنکھیں پھاڑتے ہوئے کہا مگر اتنا موٹا لنڈ میرے منہ میں آگے گا کیسے؟؟ ارشد نے کہا تم شروع تو کرو، سب کچھ ہوجائے گا۔ یہ سن کر پلوشہ ارشد کے سینے کے اوپر آئی اور اپنی دونوں ٹانگیں دائیں بائیں پھیلا کر وہ ارشد کے سینے پر بیٹھ کر آگے جھکی اور اسکے لنڈ کی کچھ دیر اپنے ہاتھ سے مٹھ مارنے کے بعد مکمل طور پر اسکے لنڈ کے اوپر جھک گئی اور اپنی زبان نکال کی ارشد کے 8 انچ لمبے اور 3 انچ موٹے لنڈ کے ٹوپے پر اپنی زبان پھیرنے لگی۔
    اس پوزیشن میں پلوشہ کی گانڈ اوپر اٹھ گئی تھی اور اب وہ ارشد کے منہ کے بالکل اوپر تھی۔ ارشد نے اپنے ہاتھوں سے پلوشہ کے گول اور بھرے ہوئے چوتڑوں کو پکڑا اور اپنی زبان نکال کر اسکی پھدی کو چاٹنا شروع کر دیا۔ ایک بار پھر پلوشہ کی سسکی نکلی اور اس نے اپنی پھدی کو ارشد کے منہ کے اوپر دبا دیا تاکہ اسکی زبان اسکی پھدی میں اندر تک اتر سکے۔ ساتھ ہی پلوشہ نے ارشد کے لنڈ کا ٹوپا منہ میں لیکر ہونٹوں کا ہلکا بنا کر اسکو چاٹنا جاری رکھا۔


  4. The Following 11 Users Say Thank You to fiz.kamran For This Useful Post:

    abba (04-01-2018), abkhan_70 (30-12-2017), Lanmaarbutt (30-04-2018), Lovelymale (29-12-2017), panjabikhan (26-01-2018), piraro (29-12-2017), piyaamoon (29-12-2017), salm_613 (16-01-2018), sexeymoon (29-12-2017), Story-Maker (01-01-2018), teno ki? (31-12-2017)

  5. #433
    fiz.kamran's Avatar
    fiz.kamran is offline UrduFunda Writer
    Join Date
    Jun 2014
    Location
    Multan
    Age
    26
    Posts
    549
    Thanks
    387
    Thanked 5,002 Times in 528 Posts
    Time Online
    3 Days 1 Hour 7 Minutes 1 Second
    Avg. Time Online
    2 Minutes 57 Seconds
    Rep Power
    1956

    Default


    وقار اسمارہ کی دونوں ٹانگو ں کو اٹھا کر انہیں آپس میں ملائے ہوئے تھا جبکہ نیچے سے وہ مسلسل اپنا 7 انچ لمبا لنڈ اسمارہ کی پھدی میں ڈالے اسے دے دھنا دھن چود رہا تھا۔ اسمارہ بیڈ پر لیٹی مسلسل اپنی چدائی کروا رہی تھی اور اسکے دونوں ہاتھ اپنے مموں کو مسلنے میں مصروف تھے جبکہ اسکی سسکیاں بتا رہی تھیں کہ وہ وقار کے لنڈ سے مکمل مطمئن ہے۔ وقار کا لنڈ اب تک اسمارہ کو دو بار فارغ کروا چکا تھا جبکہ ابھی تک اسکا خود کا فارغ ہونے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
    کچھ دیر اسمارہ کی پھدی مارنے کے بعد ایک بار پھر اسمارہ کی پھدی نے پانی چھوڑ دیا تو اسکی پھوار نے وقار کی ٹانگوں اور پیٹ کو گیلا کر دیا تھا۔ جب اسمارہ کی پھدی سارا پانی نکال چکی تو وقار نے اسمارہ کی پھدی سے لنڈ نکالا تو اسمارہ آگے بڑھ کر وقار کو دیوانہ وار چومنے چاٹنے لگی اور بولی میں تو تمہارے لنڈ کی دیوانی ہوگئی ہوں۔۔۔ یہ سن کر وقار فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ بولا پھر تو میری پلوشہ سے شادی کے بعد ایک ہی گھر میں مجھے 2، 2 پھدیاں میسر ہونگی؟؟؟ اسمارہ بولی کیوں نہیں میری جان۔۔۔ جب کہو گے میری پھدی تمہارے لنڈ کے لیے حاضر ہوجائے گی۔
    یہ سن کر وقار بولا اور گانڈ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ یہ سن کر اسمارہ کی آنکھوں میں خوف اور شہوت کے ملے جلے اثرات نظر آئے اور وہ مسکراتے ہوئے بولی وہ بھی تمہاری ہی ہے میری جان، بس ذرا دھیان سے مارنا۔ یہ سن ک وقار بولا پھر الٹی لیٹ جاو تاکہ میں اپنی جان کی گانڈ بھی مار سکوں۔ یہ سن کر اسمارہ بیڈ پر الٹی ہوکر لیٹنے کی بجائے گھوڑی بن گئی اور بولی پہلے گھوڑی بنا کر گانڈ کو چکنا کرو پھر لنڈ ڈالو، جب رواں ہوجائے تب ا لٹا کر بھی مار لینا۔ وقار کو اس بات پر کوئی اعتراض نہیں تھا اس نے گھوڑی بنی ہوئی اسمارہ کی گانڈ پر تھوک پھینک کر اس میں اپنی انگلی ڈالی اور اسکو اندر سے چکنا کرنے لگا۔
    اسمارہ کی گانڈ بتا رہی تھی کہ اس میں وقار کا لنڈ آسانی سے سما جائے گا کیونکہ یہ گانڈ پہلے ہی بہت سے لنڈ اپنی تنگ گلی میں لیکر انکا پانی نکلوا چکی تھی۔ کچھ ہی دیر بعد کمرہ اسمارہ کی چیخوں اور سسکیوں سے گونج رہا تھا۔ کمرے میں اسمارہ کے چوتڑوں اور وقار کے جسم کے ملاپ سے دھپ دھپ کی آوازیں بھی گونج رہی تھیں۔ وقار کا لنڈ مسلسل اسمارہ کی چکنی گانڈ میں سر پٹ دوڑ رہا تھا جبکہ اسکے دونوں ہاتھ اسمارہ کے مموں کو پکڑے انہیں دبائے ہوئے تھے اور اسمارہ کی سسکیاں کمریں میں گونج رہی تھیں۔۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔ اف ف ف ف ف میری گانڈ۔۔۔۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔ آہستہ ۔۔۔ آہہ۔۔۔۔ آہستہ وقار۔۔۔۔ اف میں مر گئی۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ہ میری گانڈ۔۔۔۔۔ اف ف ف ف ف ف ۔۔۔۔ اف ف ف ف ۔۔۔۔ ام م م م م ۔۔۔۔ ام م م م ۔۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔ وقار میری گانڈ گءِ۔۔۔۔۔ آہ ہ ہ ہ آ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔
    یہ تمام آوازیں وقار کے لنڈ کو نئی طاقت بخش رہی تھیں اور وہ مسلسل اسمارہ کی گانڈ بجانے میں مصروف تھا۔ اسمارہ کا ایک ہاتھ اپنی چوت کو بھی سہلا رہا تھا۔ کچھ ہی دیر بعد وقار نے اسمارہ کو بیڈ پر لٹا دیا اور اسکی گانڈ سے لنڈ نکالے بغیر اسکے اوپر لیٹ کر اسکی گانڈ مارنی جاری رکھی۔ اس پوزیشن میں گانڈ بہت زیادہ ٹائٹ ہوگئی تھی اور وقار کا لنڈ بمشکل اسمارہ کی گانڈ میں ہل رہا تھا، مگر اس وقت جو مزہ وقار کو آرہا تھا وہ بالکل ہی الگ تجربہ تھا۔ گانڈ مارتے مارتے کچھ دیر بعد وقار اسمارہ کے چوتڑوں پر بیٹھ چکا تھا، اسکا لنڈ ابھی تک اسمارہ کی گانڈ کو چیرنے میں مصروف تھا جبکہ اس نے اسمارہ کے دونوں بازو موڑ کر اسمارہ کی کمر پر باندھ رکھے تھے جس سے اسمارہ بالکل بھی ہلنے کی پوزیشن میں نہی تھی۔
    کچھ دیر مزید گانڈ کی چدائی کے بعد ایک بار پھر اسمارہ کی چوت نے پانی چھوڑ دیا تھا۔ جیسے ہی اسمارہ کی چوت نے پانی چھوڑا وقار نے اپنا لنڈ اسمارہ کی گانڈ سے نکال لیا اور اسے ہاتھ میں لیکر مٹھ مارنے لگا۔ اسمارہ بھی فورا اپنی جگہ سے اٹھی اب وقار کی طرف منہ کر کے لیٹ گئی اور اسکا لنڈ اپنے ہاتھ میں لیکر پہلے اپنے منہ میں ڈالا اور اسکے 2، 3 چوپے لگا کر منہ سے نکالا اور اسکی مٹھ مارنے لگی۔ وقار کے لنڈ کی رگیں آہستہ آہستہ پھولنے لگیں تو اسمارہ نے دونوں ہاتھوں سے وقار کا لنڈ پکڑ لیا اور مٹھ مارنے کی رفتار اور تیز کر دی۔ کچھ ہی دیر کے بعد ایک تیز دھار نکلی جو سیدھی اسمارہ کی آنکھوں ، ماتھے اور بالوں پر جا کر گری۔۔۔ اسکے بعد وقفے وقفے سے وقار کا لنڈ سفید مکھن کی دھاریں چھوڑتا رہا اور کچھ ہی دیر میں اسمارہ کا پورا چہرہ اس سفید اور گاڑھے مکھن سے بھر چکا تھا۔
    وقار کا لنڈ مکمل فارغ ہوگیا تو اسمارہ نے پہلے تو ساتھ پڑی شرٹ سے اپنا چہرہ صاف کیا اسکے بعد اسنے وقار کا لنڈ منہ میں لیکر اس پر لگے مکھن کو اپنی زبان چاٹ لیا اور پھر وقار کو بیڈ پر گرا کر اسکے اوپر گر گئی اور بولی، مزہ آگیا آج تو میری جان۔۔۔ جیسے تم نے میری پھدی ماری ہے، مجھے یقین ہے تم میری بہن کی پھدی بھی اسی طرح مارو گے اور اسکی جسمانی ضرورتوں کے ساتھ ساتھ اپنی اس سالی کا بھی خوب خیال رکھو گے۔ وقار جو اسمارہ کی گانڈ اور پھدی بجا کر تھک چکا تھا اس نے اسمارہ کے ہونٹوں پر ایک پیاری بھری کِس کی اور بولا تم فکر ہی نہ کرو جانِ من، یہ لنڈ تم دونوں بہنوں کے لیے کافی رہے گا۔


  6. The Following 9 Users Say Thank You to fiz.kamran For This Useful Post:

    abba (04-01-2018), abkhan_70 (30-12-2017), Lanmaarbutt (30-04-2018), Lovelymale (15-01-2018), panjabikhan (26-01-2018), piraro (29-12-2017), piyaamoon (29-12-2017), Story-Maker (01-01-2018), teno ki? (31-12-2017)

  7. #434
    fiz.kamran's Avatar
    fiz.kamran is offline UrduFunda Writer
    Join Date
    Jun 2014
    Location
    Multan
    Age
    26
    Posts
    549
    Thanks
    387
    Thanked 5,002 Times in 528 Posts
    Time Online
    3 Days 1 Hour 7 Minutes 1 Second
    Avg. Time Online
    2 Minutes 57 Seconds
    Rep Power
    1956

    Default


    ارشد نے پلوشہ کو اپنی گود میں اٹھا رکھا تھا جبکہ نیچے سے اسکا لنڈ پلوشہ کی چوت میں جا کر اسکو چودنے میں مصروف تھا۔ پلوشہ کے چہرے پر تکلیف کے واضح آثار دیکھے جا سکتے تھے مگر لنڈ کی چودائی اسے مزہ بھی دے رہی تھی۔ ارشد اسے اپنی گود میں اٹھائے کسی گڑیا کی طرح اوپر نیچے اچھال رہا تھا جس سے مسلسل ارشد کا 8 انچ لمبا لنڈ جڑ تک پلوشہ کی ٹائٹ پھدی کی گہرائیوں تک اتر رہا تھا۔ اس اچھل کود میں پلوشہ کے پتلے اور اسمارٹ جسم پر 38 سائز کے ممے کسی فٹبال کی طرح اچھل رہے تھے جنکو دیکھ دیکھ کر ارشد کے چودنے کی رفتار مسلسل بڑھتی جا رہی تھی۔
    کچھ ہی دیر بعد پلوشہ کی چوت نے پہلی بار پانی چھوڑ دیا تھا۔ اسکی چوت میں سوئیاں چبھتی محسوس ہورہی تھیں اور پانی چھوڑنے کے بعد پلوشہ کو اپنی چوت میں سکون ہی سکون محسوس ہورہا تھا۔ مگر ارشد کا لنڈ پلوشہ کی چوت کو سکون میں رہنے نہیں دے سکتا تھا۔ اس نے پلوشہ کو اب اپنی گود سے اتارا اور اسے دیوار کے ساتھ کھڑا کر کے اسکا منہ دیوار کی طرف کر دیا اور اسکی دونوں ٹانگیں کھول کر اسے اپنی گانڈ باہر نکالنے کو کہا۔
    پلوشہ نے دونوں ہاتھوں سے دیوار کا سہارا لیکر اپنی ٹانگیں کھولیں اپنی بنڈ باہر کی طرف نکال دی۔ اس پوزیشن میں اسکی کمر میں کافی خم آگیا تھا۔ ارشد نے پیچھے سے پلوشہ کے چوتڑوں پر زور سے 2 چماٹیں ماریں اور پھر اپنا لنڈ پیچھے سے پلوشہ کی گیلی مگر ٹائٹ پھدی پر رکھا اور ایک ہی جھٹکے میں اسے اندر گھسا دیا۔ پلوشہ کی ایک چیخ نکلی اور اس نے اپنا چہرہ پیچھے کر کے کہا اف ۔۔۔۔۔ ارشد بھائی، تسلی سے ڈالو نہ اندر کہیں بھاگ نہیں رہی میں۔۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔ اف ف ف ف ف ۔۔۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔ ارشد بھائی۔۔۔ بہت مزہہ۔۔۔۔۔ بہت ۔۔۔ بہت مزہ دے رہ رہا ہے اپکا لنڈ۔۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ۔۔۔ اف ف ف ف ف۔۔۔۔۔ اف میری چوت۔۔۔۔۔ ارشد بھائی۔۔۔۔۔ بہت بڑے بہن چود ہو آپ ۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ۔۔۔ آہ ہ ہ ۔۔ اپنی بہن کو۔۔۔۔ آہ ہ ہ آہ ہ ہ ہ چود رہے ہو۔۔۔۔ آہ ہ ہ ہ آ ہ ہ ہ ۔۔۔۔ ارشد بولا، جس بھائی کی تم جیسی جوان خوبصورت اور سیکسی بہن ہو، جسکے ممے اتنے ٹائٹ اور بڑے ہوں، جسکی گانڈ لوڑے اٹھانے میں ماہر ہو، اور جسکی پھدی کی مہک دور سے ہی لوڑوں کا پانی نکلوادے اس بھائی کو بہن چود بننا ہی پڑتا ہے۔۔۔
    ارشد مسلسل پلوشہ کی چوت میں لن کے دھکے لگا رہا تھا جبکہ اسکے ہاتھ اب آگے جا کر پلوشہ کے مموں کو پکڑ کر انکو دبا رہا تھا اور دوسرا ہاتھ اسکی گردن میں ڈال کر اسے اپنے قریب کر لیا تھا اور اسکی گردن پر اپنے دانتوں سے نشان ڈالنے میں مصروف تھا۔ پلوشہ کے لیے اس پوزیشن میں مزید چودائی کروانا مشکل تھا وہ تھک گئی تو اس نے ارشد سے کہا اب بیڈ پر لیجا کر اسکو چودے۔ ارشد نے پلوشہ کی چوت سے لنڈ نکالا اور اسے بیڈ پر جا کر لٹا دیا۔ بیڈ پر لٹا کر وہ خود بھی پلوشہ کے برابر میں لیٹ گیا اور اسکو اپنی طرف کروٹ دلوا کر اسکی ایک ٹانگ اوپر اٹھائی جسکو پلوشہ نے اپنے ہی ہاتھ سے پکڑ لیا اور ارشد کے لنڈ کے لیے جگہ بنائی۔
    ارشد نے پلوشہ کی چوت کے سوراخ پر اپنے لنڈ کی ٹوپی رکھی اور آہستہ سے دباو بڑھایا تو لنڈ خود ہی پلوشہ کی چکنی چوت میں اترتا چلا گیا۔ پھر ارشد نے مسلسل پلوشہ کی چوت میں اپنے لنڈ کو سرپٹ دوڑانا شروع کر دیا جبکہ پلوشہ نے اپنا چہرہ آگے بڑھا کر ارشد کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے ملا کر انہیں چوسنا شروع کر دیا۔ ارشد نے ایک بازو پلوشہ کی گردن کے نیچے سے گزار لیا جبکہ دوسرا بازو اسکے چوتڑوں پر رکھ کر انہیں اپنی طرف دبا لیا تاکہ دھکے لگاتے ہوئے اسکا لنڈ پھدی میں صحیح طور پر جا سکے ۔۔۔
    کچھ ہی دیر بعد پلوشہ نیچے تھی اور ارشد اسکے اوپر لیٹا اسکو چودنے میں مصروف تھا جبکہ پلوشہ کے 38 انچ کے بڑے گول سڈول اور کسے ہوئے ممے دیکھ کر ارشد سے رہا نہ گیا تو اس نے انہیں بھی منہ میں لیکر چوسنا شروع کر دیا۔ پلوشہ کی ٹانگیں ارشد کی کمر کے گرد لپٹی ہوئی تھیں اور اسکے دونوں ہاتھ ارشد کی کمر کا مساج کر رہے تھے۔ وہ مسلسل ارشد کو تیز تیز چودنے کا کہ رہی تھی، گو کہ شروع میں اسے کافی تکلیف دی تھی ارشد کے لنڈ نے مگر اب وہ بھرپور مزے لے رہی تھی۔
    ارشد بھائی ، اچھے سے چودو اپنی بہنا کو۔۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔ تیز تیز دھکے مارہ بھیا۔۔۔۔ اف ف ف ف ف ۔۔۔ کیا لنڈ ہے آپکا۔۔۔ پھاڑ دو میری چوت کو۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ارشد بھائی۔۔۔۔ اف ف ف ف ف ۔۔۔۔ تیز تیز چودو۔۔۔۔ آہ ہ ہ ہ اور زور سے۔۔۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔۔ کھا جاو بھائی۔۔۔ اپنی بہن کے ممے بھی کھا جاو۔۔۔۔ پلوشہ کی یہ باتیں ارشد کو بہت گرم کر رہی تھیں اور اسے ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے واقعی میں وہ اپنی بہن کو چود رہا ہے ۔ یہ سوچ سوچ کر اسکا لنڈ ہر دھکا پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ پلوشہ کی چوت کی گہرائیں میں جا کر ٹکر مارتا۔
    اس جاندار چودائی نے ایک بار پھر پلوشہ کی چوت کا پانی نکلوا دیا تھا۔ پلوشہ کی چوت سے جیسے ہی پانی کا فوار ہ نکلا ارشد نے فوری اپنا لنڈ اسکی چوت سے نکال کر اسکی مٹھ مارنا شروع کر دی۔۔۔ وہ بھی چھوٹنے کے قریب تھا۔۔۔ پلوشہ فورا نیچے کی طرف ہوئی اور ارشد کو کہا کہ اسکو مموں کوچودتے ہوئے اپنی منی چھوڑے۔۔۔
    یہ دیکھ کر ارشد نے اپنا لنڈ پلوشہ کے بڑے بڑے سنگتروں کے درمیان گھسا دیا تو پلوشہ نے اپنے مموں کو پکڑ کر آپ میں جوڑ دیا اور ارشد نے پلوشہ کے مموں کو چودنا شروع کر دیا۔ پلوشہ لیٹی ہوئی تھی اسکی نظریں اپنی کلیویج پر تھیں جہاں سے ارشد کے لنڈ کا ٹوپا ظاہر ہوتا اور پھر اسکے مموں کے درمیان میں غائب ہوجاتا۔
    پلوشہ کے روئی کے گولوں کی طرف نرم مموں میں ارشد کے لنڈ کو زیادہ وقت نہیں لگا اور کچھ ہی دیر میں اسکے لنڈ کی رگیں پھولیں اور اس نے تیز ترین دھاریں پلوشہ کے مموں کے درمیان میں ہی چھوڑ دیں۔ کچھ دیر جھٹکے مارنے کے بعد ارشد پلوشہ کے اوپر ڈھے گیا جبکہ پلوشہ ارشد کی کمر پر ہاتھ پھیر کر اسے ایسے پیار کر رہی تھی جیسے کوئی مالک اپنے گھوڑے کو لمبے سفر پر دوڑانے کے بعد اس پر ہاتھ پھیر کر اسے شاباش دے رہا ہوتا ہے۔


  8. The Following 10 Users Say Thank You to fiz.kamran For This Useful Post:

    abba (04-01-2018), abkhan_70 (30-12-2017), Lanmaarbutt (30-04-2018), Lovelymale (29-12-2017), panjabikhan (26-01-2018), piraro (29-12-2017), piyaamoon (29-12-2017), salm_613 (17-01-2018), Story-Maker (01-01-2018), teno ki? (15-05-2018)

  9. #435
    fiz.kamran's Avatar
    fiz.kamran is offline UrduFunda Writer
    Join Date
    Jun 2014
    Location
    Multan
    Age
    26
    Posts
    549
    Thanks
    387
    Thanked 5,002 Times in 528 Posts
    Time Online
    3 Days 1 Hour 7 Minutes 1 Second
    Avg. Time Online
    2 Minutes 57 Seconds
    Rep Power
    1956

    Default


    ماریہ اور نادیہ کو ایک ساتھ چودنے کے بعد دانش بہت پرسکون تھا، دانش کے ساتھ ساتھ نادیہ جو کافی دنوں سے دانش کے لن کی طلبگار تھی اور ایک اچھی جاندار چدائی کے لیے بے تاب تھی اسے بھی ایک بھرپور لنڈ مل گیا تھا جسکا وہ جب چاہے جیسے چاہے استعمال کر سکتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اس دن کے بعد سے روزانہ نادیہ یا ماریہ میں سے کسی کو بھی دانش اپن لنڈ پر سواری کرواتا تھا، البتہ دونوں کو ایک ساتھ چودنے کا پروگرام دوبارہ نہ بن سکا تھا۔
    آج بھی جب ماریہ دانش کو بتا کر ساتھ ہی ایک مارکیٹ میں گئی تھی ا ور عمیر بھی گھر پر نہیں تھا تو نادیہ فورا ہی دانش کے کمرے میں چلی گئی جہاں دانش واش روم میں نہا رہا تھا۔نادیہ نے فوری اپنے کپڑے اتارے اور وہ بھی واش روم کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگئی اور دانش کا لنڈ منہ میں لیکر اسکے چوپے لگانا شروع کر دیے۔ کچھ ہی دیر بعد نادیہ دانش کے بیڈ پر دانش کے لنڈ کی سواری کرنے میں مصروف تھی، اسکا تگڑا لنڈ اپنی پھدی میں لیے نادیہ پوری رفتار کے ساتھ اسکے اوپر بیٹھی اس پر اچھل رہی تھی جبکہ اس نے اپنی شہوت بھری سسکیوں سے پورا کمرہ سر پر اٹھا رکھا تھا اور وہ مسلسل دانش کے لنڈ کی تعریفیں کر کرکے اسکو مزید طاقت کے ساتھ چودنے کا کہ رہی تھی۔ دانش نے آج بھی آدھے گھنٹے سے زیادہ نادیہ کی پھدی ماری اور اسکا 2 بار پانی نکلوایا تھا جس سے نادیہ کو کافی سکون ملا تھا۔
    نادیہ اور دانش ایک ہی بستر میں بالکل ننگے ایک دوسرے کے جسم سے جسم ملائے لیٹے ہوئے تھے اور نادیہ دانش کے سر میں ہاتھ پھیر کر اسے اپنی چودائی پر شاباش دے رہی تھی کہ تبھی دانش کو اسکے مخصوص نمبر پر فون آیا اور اسے ایک پلازے کے بارے میں بتایا گیا جہاں ممکنہ طور پر ہندوستان سے آیا را کا جاسوس موجود تھا، وہ کون تھا اسکا نام کیا تھا یہ کسی کو معلوم نہیں تھا، محض سرسری سی معلومات تھیں کہ یہ ایک منظم گرو ہے جو اس وقت پاکستان کے مختلف علاقوں میں موجود ہے اور بہت خاموشی سے اپنی کاروائیاں سر انجام دے رہا ہے۔ دانش کو اس پلازے میں جانے کا کہا گیا تھا اور کسی بھی مخصوص شخص کو تلاش کر کے اس پر نظر رکھنے کا کہا گیا تھا۔
    دانش نادیہ کے سیکسی جسم سے الگ ہوکر فوری طور پر اپنے کپڑے پہن کر ایک قریبی پلازے میں پہنچ چکا تھا۔ وہ پچھلے 10 منٹ سے بلاوجہ ہی شاپنگ پلازے کی مختلف شاپس پر وقت گزاری کر رہا تھا، ایسے لگ رہا تھا کہ وہ کوئی چیز خریدنا چاہ رہا ہے مگر اس کچھ پسند نہیں آرہا۔ مگر اسکی نظریں ہر آنے جانے والے کو بغور دیکھ رہی تھیں کہ آخر کون ہے جو یہاں راء کا جاسوس ہوسکتا ہے۔ اتنے میں دانش کے کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھا، اس نے مڑ کر دیکھا تو یہ ماریہ تھی۔
    دانش کو اس پلازے میں دیکھ کر ماریہ اسکے پاس چلی آئی اور اس سے پوچھا کہ خیریت ہے ابھی تو میں آپکو بتا کر آئی ہوں اور پیچھے ہی آپ بھی ادھر آگئے۔ اس پر دانش نے کہا کچھ خاص نہیں، ایک دوست کی کال آئی تھی اس نے اس پلازے میں ملنے کو کہا تھا، مگر معلوم نہیں کافی دیر سے میں دیکھ رہا ہوں وہ مل ہی نہیں رہا۔۔۔ اور اسکا موبائل بھی آف ہے۔۔۔ ماریہ نے کہا چلیں پھر آپ میرے ساتھ شاپنگ کریں، مجھے کچھ کپڑے لینے تھے مگر سمجھ نہیں آرہی کونسے لوں، آپ پسند کروا دو کوئی۔۔۔۔
    اس سے پہلے کے دانش کوئی جواب دیتا، اسکو اپنا مطلوبہ ٹارگٹ مل چکا تھا۔ دانش کی نظریں ایک ایسے چہرے پر پڑی تھیں جس کو دیکھ کر وہ بری طرح چونک گیا تھا۔ ہو نہ ہو، یہی راء کا جاسوس ہوگا، مگر کیسے؟؟؟؟؟ آخیر یہ کیسے؟؟؟ سیکنڈ کے دسویں حصے میں دانش نے اپنے چہرے پر آنے والے حیرانگی کے تاثرات کو ختم کرتے ہوئے ماریہ کو کہا، وہ پھر کبھی سہی فی الحال میری نظر پڑ گئی ہے اپنے دوست پر وہ بھی مجھے ہی تلاش کر رہا ہے، تم شاپنگ کرو میں اس سے ملنے چلا۔
    ماریہ نے حیران ہوتے ہوئے دانش کو دیکھا مگر پھر اپنی شاپنگ میں مصروف ہوگئی۔ جبکہ دانش اس مشکوک چہرے کے پیچھے چل پڑا۔ یہ مشکوک چہرہ کوئی اور نہیں بلکہ ٹینا کا تھا۔۔۔ جی ہاں کرنل وشال کی بیٹی ٹینا جو کبھی دانش کو اپنا دل دے بیٹھی تھی، آج وہ پاکستان میں، کراچی میں ، دانش کے گھر کے قریب ہی موجود ایک شاپنگ پلازے میں موجود تھی۔ دانش نے قریب 2 سال سے زائد عرصے کے بعد ٹینا کو دیکھا تھا مگر پہلی نظر پڑتے ہی وہ اسے پہچان گیا تھا، وہ کسی انجان شخص سے باتیں کر رہی تھی جسکی پیٹھ دانش کی طرف تھی۔ دانش اس انجان شخص کو نہیں دیکھ سکا، مگر اسے یقین تھا کہ ہو نہ ہو جس لڑکی کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ کراچی آئے گی پرواز سے، اور دانش شائستہ اور فروہ کے پیچھے لگا رہا، وہ اصل میں شائستہ یا فروہ نہیں بلکہ ٹینا ہی رہی ہوگی جو شاید کسی نہ کسی طریقے سے ائیر پورٹ پر دانش کو چکما دے کر وہاں سے نکل گئی ہوگی۔
    دانش اب غیر محسوس طریقے سے ٹینا کو مانیٹر کر رہا تھا، ساتھ ہی ساتھ وہ اس چیز کا بھی دھیان رکھے ہوئے تھا کہ کہیں کوئی اسکا پیچھا تو نہیں کر رہا۔ مگر نہ تو کوئی دانش کا پیچھا کر رہا تھا اور نہ ہی دانش کے علاوہ کوئی اور ٹینا کا پیچھا کر رہا تھا۔ ٹینا کے ساتھ موجود انجان شخص کہیں غائب ہوگیا تھا مگر دانش کی توجہ مکمل طور پر ٹینا پر تھی۔ کالے رنگ کی جینز اور بلیو ٹاپ میں ٹینا کافی خوبصورت لگ رہی تھی اور چہرے پر کالے رنگ کا چشمہ اسکے حسن کو چار چاند لگا رہا تھا۔۔۔ ٹینا اب اس شاپنگ پلازے کی پچھلی طرف جا رہی تھی اور دانش بھی دبے قدموں سے مختلف دکانوں کے ساتھ ہوتا ہوا ٹینا کے پیچھے پیچھے جا رہا تھا۔
    کچھ ہی دیر کے بعد دانش نے دیکھا کہ ٹینا پلازے کے عقبی طرف سے باہر نکل رہی تھی اور دانش بھی اسکے پیچھے پیچھے جا رہا تھا، اس پلازے کے عقبی طرف ایک نیا پلازہ زیرِ تعمیر تھا اور ٹینا کا رخ اسی طرف تھا ۔ تبھی دانش نے فون نکالا اور اس نے میجر علینہ کا نمبر ڈائل کیا۔ کچھ ہی دیر میں علینہ نے کال اٹینڈ کر لی تو دانش نے اسے بتایا کہ اسے پلازے میں ٹینا دکھائی دی ہے۔ علینہ ٹینا کے بارے میں نہیں جانتی تھی، نہ ہی اسکی شکل سے واقف تھی، مگر دانش نے اسے کرنل وشال کا بتا کر فورا ہی سمجھا دیا کہ ٹینا کون ہے اور اس وقت اسکا اس پلازے میں موجود ہونا کسی بڑے خطرے کی علامت ہو سکتی ہے، کیونکہ آخر کار وہ ایک کرنل کی بیٹی ہے جو اپنی زندگی میں پاکستان کے خلاف انتہائی خطرناک سازش میں ملوث رہ چکا تھا، اور آج اسکی بیٹی کا یہاں موجود ہونا معنی خیز تھا۔
    میجر علینہ جو دانش کی پرانی دوست ہونے کے ساتھ ساتھ آرمی میں بھی دانش کے ساتھ تھی اور اس مشن پر بھی دانش جانتا تھا کہ میجر علینہ کو بھی ہندوستان سے آنے والی راء کی خاتون جاسوس کو تلاش کرنے کا مشن دیا گیا تھا مگر دانش کی طرح میجر علینہ بھی اس میں ناکام ہوئی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ دانش نے میجر علینہ سے بات کرنا مناسب سمجھا۔
    ٹینا اب زیرِ تعمیر پلازے میں داخل ہوچکی تھی اور اسکا رخ پلازے کی بیسمینٹ کی طرف تھا ، دانش بھی کافی فاصلہ رکھنے ٹینا کے پیچھے پیچھے تھا۔ میجر علینہ نے دانش کو کہا کہ وہ اسے ٹینا کی تصویر واٹس ایپ کرے تو دانش نے بتایا کہ اسکے پاس ٹینا کی کوئی تصویر نہیں، البتہ اگر اسے موقع ملا تو وہ اپنے موبائل سے ٹینا کی تصویر بنا کر اسے بھیج دے گا۔
    ٹینا اب زیرِ تعمیر پلازے کے کافی اندر تک جا چکی تھی، یہاں مکمل سناٹا تھا محض باہر کی ٹریفک کا تھوڑا سا شور اندر آرہا تھا ۔ قدموں کی آواز بھی پلازہ خالی ہونے کی وجہ سے کافی گونج رہی تھیں اس لیے دانش اب پہلے سے بھی زیادہ محتاط انداز میں ٹینا کا پیچھا کر رہا تھا۔
    اچانک دانش کی نے دیکھا کہ یہاں موجود ایک کمرے سے ایک شخص نکلا اور ٹینا نے اس سے ہاتھ ملایا اور اس سے ہلکی آواز میں کوئی بات کرنے لگی۔ دانش یہاں بھی اس شخص کی شکل نہ دیکھ سکا، ٹینا ان دانش اور اس شخص کے درمیان حائل تھی، کچھ ہی سیکنڈز کی بات کے بعد وہ شخص دوبارہ سے اسی کمرے میں داخل ہوگیا جبکہ ٹینا وہاں سے آگے چل نکلی اور دانش بھی اسکے پیچھے پیچھے تھا وہ ابھی بھی میجر علینہ کے ساتھ فون پر تھا مگر بیسمینٹ میں ہونے کی وجہ سے سگنل پرابلم ہورہی تھی اور اب بات کرنا ممکن نا رہا تو دانش نے فون کاٹ دیا اور اسے اپنی جیب میں رکھنے لگا کہ اچانک ٹینا نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور اسکی نظر دانش پر پڑ گئی۔
    دانش ٹینا کے اس طرح اچانک پیچھے مڑ کر دیکھنے سے ہڑ بڑا گیا تھا، اسکا دھیان شاید میجر علینہ اور فون پر تھا جس کی وجہ سے اس سے غلطی ہوگئی اور اسکے قدموں کی گونج ٹینا تک پہنچ گئی۔ اس سے پہلے کہ دانش اس صورتحال کو سنبھالتا، اچانک دانش کو احساس ہوا کہ اسکے پیچھے کوئی اور بھی موجود ہے، مگر اس سے پہلے کے وہ پیچھے مڑ کر دیکھتا، وہ بہت دیر کر چکا تھا۔ کوئی سخت اور بڑی چیز سنسناتی ہوئی آئی اور دانش کے پیچھے مڑنے سے پہلے اس کے سر پر ایسا وار ہوا کہ دانش کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا اور وہ وہیں ڈھے گیا۔ بے ہوش ہوتے وقت جو آخری چہرہ اسکی نظروں کے سامنے تھا وہ ٹینا کا ہی چہرہ تھا۔




    جاری ہے

  10. The Following 16 Users Say Thank You to fiz.kamran For This Useful Post:

    abba (04-01-2018), abkhan_70 (30-12-2017), God Father (01-01-2018), imranmeo (29-12-2017), Irfan1397 (30-12-2017), Lanmaarbutt (30-04-2018), Lost Soul (29-12-2017), Lovelymale (29-12-2017), nadeem4u (29-12-2017), panjabikhan (26-01-2018), piraro (29-12-2017), piyaamoon (29-12-2017), salm_613 (17-01-2018), shubi (29-12-2017), Story-Maker (01-01-2018), teno ki? (31-12-2017)

  11. #436
    Anokha ladla is offline Khaas log
    Join Date
    Feb 2016
    Posts
    51
    Thanks
    3
    Thanked 84 Times in 32 Posts
    Time Online
    1 Day 11 Hours 42 Minutes 23 Seconds
    Avg. Time Online
    2 Minutes 24 Seconds
    Rep Power
    9

    Default

    بہت دیر سے مگر بہت مزیدار اپ ڈیٹ

  12. The Following User Says Thank You to Anokha ladla For This Useful Post:

    Lanmaarbutt (30-04-2018)

  13. #437
    shubi's Avatar
    shubi is offline VVIP
    Join Date
    Jun 2017
    Location
    Multan, Punjab, Pakistan
    Age
    31
    Posts
    238
    Thanks
    1,054
    Thanked 142 Times in 96 Posts
    Time Online
    1 Day 11 Hours 35 Minutes 40 Seconds
    Avg. Time Online
    5 Minutes 26 Seconds
    Rep Power
    26

    Default

    ہمیشہ کی طرح شاندار

    کمال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  14. The Following User Says Thank You to shubi For This Useful Post:

    Lanmaarbutt (30-04-2018)

  15. #438
    DecentStar is offline Aam log
    Join Date
    Jan 2015
    Posts
    1
    Thanks
    2
    Thanked 1 Time in 1 Post
    Time Online
    11 Hours 34 Minutes 15 Seconds
    Avg. Time Online
    32 Seconds
    Rep Power
    0

    Default

    Nice update, now move forward with the story instead of only sex scenes. Thanks.

  16. The Following User Says Thank You to DecentStar For This Useful Post:

    Lanmaarbutt (30-04-2018)

  17. #439
    Lovelymale's Avatar
    Lovelymale is offline Premium Member
    Join Date
    Aug 2008
    Location
    Islamabad, Pakistan, Pakistan
    Age
    55
    Posts
    2,064
    Thanks
    14,471
    Thanked 7,194 Times in 1,849 Posts
    Time Online
    2 Weeks 3 Days 20 Hours 55 Minutes 21 Seconds
    Avg. Time Online
    10 Minutes 47 Seconds
    Rep Power
    1053

    Default

    Action aur thrill se bharpoor sexy update ka maza agaya, magar ainda itna late update na diya karain keh pichli story bhool hi jaye.

  18. The Following User Says Thank You to Lovelymale For This Useful Post:

    Lanmaarbutt (30-04-2018)

  19. #440
    Sticky rosho's Avatar
    Sticky rosho is offline Musketeer
    Join Date
    Dec 2012
    Location
    lahore
    Age
    31
    Posts
    25
    Thanks
    32
    Thanked 36 Times in 14 Posts
    Time Online
    1 Day 11 Hours 13 Minutes 40 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Minute 2 Seconds
    Rep Power
    9

    Thumbs up Bhtreeeeen bht bht bhtbhtbht awlaa zbrdst mind blowing ❤😘😘❤😘❤😘❤😘❤😘❤😘❤😘❤😘😘❤❤

    Quote Originally Posted by fiz.kamran View Post

    ماریہ اور نادیہ کو ایک ساتھ چودنے کے بعد دانش بہت پرسکون تھا، دانش کے ساتھ ساتھ نادیہ جو کافی دنوں سے دانش کے لن کی طلبگار تھی اور ایک اچھی جاندار چدائی کے لیے بے تاب تھی اسے بھی ایک بھرپور لنڈ مل گیا تھا جسکا وہ جب چاہے جیسے چاہے استعمال کر سکتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اس دن کے بعد سے روزانہ نادیہ یا ماریہ میں سے کسی کو بھی دانش اپن لنڈ پر سواری کرواتا تھا، البتہ دونوں کو ایک ساتھ چودنے کا پروگرام دوبارہ نہ بن سکا تھا۔
    آج بھی جب ماریہ دانش کو بتا کر ساتھ ہی ایک مارکیٹ میں گئی تھی ا ور عمیر بھی گھر پر نہیں تھا تو نادیہ فورا ہی دانش کے کمرے میں چلی گئی جہاں دانش واش روم میں نہا رہا تھا۔نادیہ نے فوری اپنے کپڑے اتارے اور وہ بھی واش روم کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگئی اور دانش کا لنڈ منہ میں لیکر اسکے چوپے لگانا شروع کر دیے۔ کچھ ہی دیر بعد نادیہ دانش کے بیڈ پر دانش کے لنڈ کی سواری کرنے میں مصروف تھی، اسکا تگڑا لنڈ اپنی پھدی میں لیے نادیہ پوری رفتار کے ساتھ اسکے اوپر بیٹھی اس پر اچھل رہی تھی جبکہ اس نے اپنی شہوت بھری سسکیوں سے پورا کمرہ سر پر اٹھا رکھا تھا اور وہ مسلسل دانش کے لنڈ کی تعریفیں کر کرکے اسکو مزید طاقت کے ساتھ چودنے کا کہ رہی تھی۔ دانش نے آج بھی آدھے گھنٹے سے زیادہ نادیہ کی پھدی ماری اور اسکا 2 بار پانی نکلوایا تھا جس سے نادیہ کو کافی سکون ملا تھا۔
    نادیہ اور دانش ایک ہی بستر میں بالکل ننگے ایک دوسرے کے جسم سے جسم ملائے لیٹے ہوئے تھے اور نادیہ دانش کے سر میں ہاتھ پھیر کر اسے اپنی چودائی پر شاباش دے رہی تھی کہ تبھی دانش کو اسکے مخصوص نمبر پر فون آیا اور اسے ایک پلازے کے بارے میں بتایا گیا جہاں ممکنہ طور پر ہندوستان سے آیا را کا جاسوس موجود تھا، وہ کون تھا اسکا نام کیا تھا یہ کسی کو معلوم نہیں تھا، محض سرسری سی معلومات تھیں کہ یہ ایک منظم گرو ہے جو اس وقت پاکستان کے مختلف علاقوں میں موجود ہے اور بہت خاموشی سے اپنی کاروائیاں سر انجام دے رہا ہے۔ دانش کو اس پلازے میں جانے کا کہا گیا تھا اور کسی بھی مخصوص شخص کو تلاش کر کے اس پر نظر رکھنے کا کہا گیا تھا۔
    دانش نادیہ کے سیکسی جسم سے الگ ہوکر فوری طور پر اپنے کپڑے پہن کر ایک قریبی پلازے میں پہنچ چکا تھا۔ وہ پچھلے 10 منٹ سے بلاوجہ ہی شاپنگ پلازے کی مختلف شاپس پر وقت گزاری کر رہا تھا، ایسے لگ رہا تھا کہ وہ کوئی چیز خریدنا چاہ رہا ہے مگر اس کچھ پسند نہیں آرہا۔ مگر اسکی نظریں ہر آنے جانے والے کو بغور دیکھ رہی تھیں کہ آخر کون ہے جو یہاں راء کا جاسوس ہوسکتا ہے۔ اتنے میں دانش کے کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھا، اس نے مڑ کر دیکھا تو یہ ماریہ تھی۔
    دانش کو اس پلازے میں دیکھ کر ماریہ اسکے پاس چلی آئی اور اس سے پوچھا کہ خیریت ہے ابھی تو میں آپکو بتا کر آئی ہوں اور پیچھے ہی آپ بھی ادھر آگئے۔ اس پر دانش نے کہا کچھ خاص نہیں، ایک دوست کی کال آئی تھی اس نے اس پلازے میں ملنے کو کہا تھا، مگر معلوم نہیں کافی دیر سے میں دیکھ رہا ہوں وہ مل ہی نہیں رہا۔۔۔ اور اسکا موبائل بھی آف ہے۔۔۔ ماریہ نے کہا چلیں پھر آپ میرے ساتھ شاپنگ کریں، مجھے کچھ کپڑے لینے تھے مگر سمجھ نہیں آرہی کونسے لوں، آپ پسند کروا دو کوئی۔۔۔۔
    اس سے پہلے کے دانش کوئی جواب دیتا، اسکو اپنا مطلوبہ ٹارگٹ مل چکا تھا۔ دانش کی نظریں ایک ایسے چہرے پر پڑی تھیں جس کو دیکھ کر وہ بری طرح چونک گیا تھا۔ ہو نہ ہو، یہی راء کا جاسوس ہوگا، مگر کیسے؟؟؟؟؟ آخیر یہ کیسے؟؟؟ سیکنڈ کے دسویں حصے میں دانش نے اپنے چہرے پر آنے والے حیرانگی کے تاثرات کو ختم کرتے ہوئے ماریہ کو کہا، وہ پھر کبھی سہی فی الحال میری نظر پڑ گئی ہے اپنے دوست پر وہ بھی مجھے ہی تلاش کر رہا ہے، تم شاپنگ کرو میں اس سے ملنے چلا۔
    ماریہ نے حیران ہوتے ہوئے دانش کو دیکھا مگر پھر اپنی شاپنگ میں مصروف ہوگئی۔ جبکہ دانش اس مشکوک چہرے کے پیچھے چل پڑا۔ یہ مشکوک چہرہ کوئی اور نہیں بلکہ ٹینا کا تھا۔۔۔ جی ہاں کرنل وشال کی بیٹی ٹینا جو کبھی دانش کو اپنا دل دے بیٹھی تھی، آج وہ پاکستان میں، کراچی میں ، دانش کے گھر کے قریب ہی موجود ایک شاپنگ پلازے میں موجود تھی۔ دانش نے قریب 2 سال سے زائد عرصے کے بعد ٹینا کو دیکھا تھا مگر پہلی نظر پڑتے ہی وہ اسے پہچان گیا تھا، وہ کسی انجان شخص سے باتیں کر رہی تھی جسکی پیٹھ دانش کی طرف تھی۔ دانش اس انجان شخص کو نہیں دیکھ سکا، مگر اسے یقین تھا کہ ہو نہ ہو جس لڑکی کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ کراچی آئے گی پرواز سے، اور دانش شائستہ اور فروہ کے پیچھے لگا رہا، وہ اصل میں شائستہ یا فروہ نہیں بلکہ ٹینا ہی رہی ہوگی جو شاید کسی نہ کسی طریقے سے ائیر پورٹ پر دانش کو چکما دے کر وہاں سے نکل گئی ہوگی۔
    دانش اب غیر محسوس طریقے سے ٹینا کو مانیٹر کر رہا تھا، ساتھ ہی ساتھ وہ اس چیز کا بھی دھیان رکھے ہوئے تھا کہ کہیں کوئی اسکا پیچھا تو نہیں کر رہا۔ مگر نہ تو کوئی دانش کا پیچھا کر رہا تھا اور نہ ہی دانش کے علاوہ کوئی اور ٹینا کا پیچھا کر رہا تھا۔ ٹینا کے ساتھ موجود انجان شخص کہیں غائب ہوگیا تھا مگر دانش کی توجہ مکمل طور پر ٹینا پر تھی۔ کالے رنگ کی جینز اور بلیو ٹاپ میں ٹینا کافی خوبصورت لگ رہی تھی اور چہرے پر کالے رنگ کا چشمہ اسکے حسن کو چار چاند لگا رہا تھا۔۔۔ ٹینا اب اس شاپنگ پلازے کی پچھلی طرف جا رہی تھی اور دانش بھی دبے قدموں سے مختلف دکانوں کے ساتھ ہوتا ہوا ٹینا کے پیچھے پیچھے جا رہا تھا۔
    کچھ ہی دیر کے بعد دانش نے دیکھا کہ ٹینا پلازے کے عقبی طرف سے باہر نکل رہی تھی اور دانش بھی اسکے پیچھے پیچھے جا رہا تھا، اس پلازے کے عقبی طرف ایک نیا پلازہ زیرِ تعمیر تھا اور ٹینا کا رخ اسی طرف تھا ۔ تبھی دانش نے فون نکالا اور اس نے میجر علینہ کا نمبر ڈائل کیا۔ کچھ ہی دیر میں علینہ نے کال اٹینڈ کر لی تو دانش نے اسے بتایا کہ اسے پلازے میں ٹینا دکھائی دی ہے۔ علینہ ٹینا کے بارے میں نہیں جانتی تھی، نہ ہی اسکی شکل سے واقف تھی، مگر دانش نے اسے کرنل وشال کا بتا کر فورا ہی سمجھا دیا کہ ٹینا کون ہے اور اس وقت اسکا اس پلازے میں موجود ہونا کسی بڑے خطرے کی علامت ہو سکتی ہے، کیونکہ آخر کار وہ ایک کرنل کی بیٹی ہے جو اپنی زندگی میں پاکستان کے خلاف انتہائی خطرناک سازش میں ملوث رہ چکا تھا، اور آج اسکی بیٹی کا یہاں موجود ہونا معنی خیز تھا۔
    میجر علینہ جو دانش کی پرانی دوست ہونے کے ساتھ ساتھ آرمی میں بھی دانش کے ساتھ تھی اور اس مشن پر بھی دانش جانتا تھا کہ میجر علینہ کو بھی ہندوستان سے آنے والی راء کی خاتون جاسوس کو تلاش کرنے کا مشن دیا گیا تھا مگر دانش کی طرح میجر علینہ بھی اس میں ناکام ہوئی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ دانش نے میجر علینہ سے بات کرنا مناسب سمجھا۔
    ٹینا اب زیرِ تعمیر پلازے میں داخل ہوچکی تھی اور اسکا رخ پلازے کی بیسمینٹ کی طرف تھا ، دانش بھی کافی فاصلہ رکھنے ٹینا کے پیچھے پیچھے تھا۔ میجر علینہ نے دانش کو کہا کہ وہ اسے ٹینا کی تصویر واٹس ایپ کرے تو دانش نے بتایا کہ اسکے پاس ٹینا کی کوئی تصویر نہیں، البتہ اگر اسے موقع ملا تو وہ اپنے موبائل سے ٹینا کی تصویر بنا کر اسے بھیج دے گا۔
    ٹینا اب زیرِ تعمیر پلازے کے کافی اندر تک جا چکی تھی، یہاں مکمل سناٹا تھا محض باہر کی ٹریفک کا تھوڑا سا شور اندر آرہا تھا ۔ قدموں کی آواز بھی پلازہ خالی ہونے کی وجہ سے کافی گونج رہی تھیں اس لیے دانش اب پہلے سے بھی زیادہ محتاط انداز میں ٹینا کا پیچھا کر رہا تھا۔
    اچانک دانش کی نے دیکھا کہ یہاں موجود ایک کمرے سے ایک شخص نکلا اور ٹینا نے اس سے ہاتھ ملایا اور اس سے ہلکی آواز میں کوئی بات کرنے لگی۔ دانش یہاں بھی اس شخص کی شکل نہ دیکھ سکا، ٹینا ان دانش اور اس شخص کے درمیان حائل تھی، کچھ ہی سیکنڈز کی بات کے بعد وہ شخص دوبارہ سے اسی کمرے میں داخل ہوگیا جبکہ ٹینا وہاں سے آگے چل نکلی اور دانش بھی اسکے پیچھے پیچھے تھا وہ ابھی بھی میجر علینہ کے ساتھ فون پر تھا مگر بیسمینٹ میں ہونے کی وجہ سے سگنل پرابلم ہورہی تھی اور اب بات کرنا ممکن نا رہا تو دانش نے فون کاٹ دیا اور اسے اپنی جیب میں رکھنے لگا کہ اچانک ٹینا نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور اسکی نظر دانش پر پڑ گئی۔
    دانش ٹینا کے اس طرح اچانک پیچھے مڑ کر دیکھنے سے ہڑ بڑا گیا تھا، اسکا دھیان شاید میجر علینہ اور فون پر تھا جس کی وجہ سے اس سے غلطی ہوگئی اور اسکے قدموں کی گونج ٹینا تک پہنچ گئی۔ اس سے پہلے کہ دانش اس صورتحال کو سنبھالتا، اچانک دانش کو احساس ہوا کہ اسکے پیچھے کوئی اور بھی موجود ہے، مگر اس سے پہلے کے وہ پیچھے مڑ کر دیکھتا، وہ بہت دیر کر چکا تھا۔ کوئی سخت اور بڑی چیز سنسناتی ہوئی آئی اور دانش کے پیچھے مڑنے سے پہلے اس کے سر پر ایسا وار ہوا کہ دانش کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا اور وہ وہیں ڈھے گیا۔ بے ہوش ہوتے وقت جو آخری چہرہ اسکی نظروں کے سامنے تھا وہ ٹینا کا ہی چہرہ تھا۔




    جاری ہے
    Bht bht bht bht bht bht bht bht bht bht bht bht bht bht bht zada wala zbrdst update maza aa gya 😘❤😘❤😘❤😘❤😘😘❤😘❤😘❤😘

  20. The Following 3 Users Say Thank You to Sticky rosho For This Useful Post:

    abba (04-01-2018), abkhan_70 (30-12-2017), fiz.kamran (29-12-2017)

Tags for this Thread

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •