Page 43 of 59 FirstFirst ... 3339404142434445464753 ... LastLast
Results 421 to 430 of 586

Thread: وطن کا سپاہی۔۔۔۔ پارٹ 2

  1. #421
    Akbar Basra is offline Aam log
    Join Date
    Aug 2017
    Location
    Multan
    Age
    22
    Posts
    25
    Thanks
    3
    Thanked 13 Times in 10 Posts
    Time Online
    6 Hours 14 Minutes 55 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Minute 6 Seconds
    Rep Power
    4

    Default

    Quote Originally Posted by fiz.kamran View Post

    ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔ پھر فیصلہ کریں کہانی زیادہ اچھی ہے یا گانڈ پر ہاتھ پھیرتی لڑکی کی ڈی پی۔
    میرا خیال ہے گانڈ پہ ہاتھ پھیرتی لڑکی کا تصور زیادہ مزہ دیتا ہے. 😜

  2. The Following User Says Thank You to Akbar Basra For This Useful Post:

    anjumshahzad (29-12-2017)

  3. #422
    farhan403's Avatar
    farhan403 is offline sex ka dewan
    Join Date
    Oct 2015
    Location
    attock
    Posts
    401
    Thanks
    333
    Thanked 569 Times in 265 Posts
    Time Online
    5 Days 6 Hours 49 Minutes 5 Seconds
    Avg. Time Online
    7 Minutes 25 Seconds
    Rep Power
    46

    Default

    Plz fiza ab ap is new year night ko update day do plz



    Fiza for you



  4. The Following 2 Users Say Thank You to farhan403 For This Useful Post:

    anjumshahzad (29-12-2017), Irfan1397 (25-12-2017)

  5. #423
    fiz.kamran's Avatar
    fiz.kamran is offline UrduFunda Writer
    Join Date
    Jun 2014
    Location
    Multan
    Age
    26
    Posts
    549
    Thanks
    387
    Thanked 5,003 Times in 528 Posts
    Time Online
    3 Days 1 Hour 7 Minutes 1 Second
    Avg. Time Online
    2 Minutes 57 Seconds
    Rep Power
    1956

    Default

    Zarrooooor.... 85% update complete ho chuki

  6. The Following 8 Users Say Thank You to fiz.kamran For This Useful Post:

    abkhan_70 (27-12-2017), ambitiousguy (27-12-2017), anjumshahzad (29-12-2017), evilgenius85 (27-12-2017), Irfan1397 (26-12-2017), panjabikhan (26-01-2018), piraro (28-12-2017), simran1155 (28-12-2017)

  7. #424
    piraro is offline Aam log
    Join Date
    Nov 2016
    Location
    Karachi
    Age
    33
    Posts
    36
    Thanks
    105
    Thanked 31 Times in 20 Posts
    Time Online
    2 Days 7 Hours 15 Minutes 57 Seconds
    Avg. Time Online
    5 Minutes 20 Seconds
    Rep Power
    6

    Default

    فز جی آپ بہت اچھی لکہاری ہیں۔ بہت خوشنصیب ہے وہ شخص جس کی آپ جیسی سیکسی لڑکی سے شادی ہوۂی ہے۔ ہر اپڈیٹ کے بعد مٹھ مارتا ہو اور خیالات میں کہانی کے کرداروں کے بجاۂے آپ ہوتی ہیں۔خیالات میں آپ کو چود رہا ہوتا ہوں۔

  8. #425
    fiz.kamran's Avatar
    fiz.kamran is offline UrduFunda Writer
    Join Date
    Jun 2014
    Location
    Multan
    Age
    26
    Posts
    549
    Thanks
    387
    Thanked 5,003 Times in 528 Posts
    Time Online
    3 Days 1 Hour 7 Minutes 1 Second
    Avg. Time Online
    2 Minutes 57 Seconds
    Rep Power
    1956

    Default


    اس فورم کے تمام لوڑوں سے گزارش ہے کہ فوری طور پر کھڑے ہوجائیں اور سرسوں کے تیل سے اپنی خوب مالش کروا لیں، جنکے پاس تیل نہ ہو، وہ اپنی کسی ہمسائی کے منہ میں جا کر گرما گرم مساج کروا لیں، آج رات ایک گرما گرم اپڈیٹ آرہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

    اپڈیٹ آ نہیں رہی۔۔۔۔ اپڈیٹ آگئی ہے۔۔۔۔۔۔

  9. The Following 3 Users Say Thank You to fiz.kamran For This Useful Post:

    abkhan_70 (28-12-2017), panjabikhan (26-01-2018), suhail502 (29-12-2017)

  10. #426
    rana arshad is offline Premium Member
    Join Date
    Mar 2016
    Age
    24
    Posts
    91
    Thanks
    1
    Thanked 101 Times in 57 Posts
    Time Online
    3 Days 21 Hours 5 Minutes 31 Seconds
    Avg. Time Online
    6 Minutes 31 Seconds
    Rep Power
    13

    Default

    Quote Originally Posted by fiz.kamran View Post

    اس فورم کے تمام لوڑوں سے گزارش ہے کہ فوری طور پر کھڑے ہوجائیں اور سرسوں کے تیل سے اپنی خوب مالش کروا لیں، جنکے پاس تیل نہ ہو، وہ اپنی کسی ہمسائی کے منہ میں جا کر گرما گرم مساج کروا لیں، آج رات ایک گرما گرم اپڈیٹ آرہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

    اپڈیٹ آ نہیں رہی۔۔۔۔ اپڈیٹ آگئی ہے۔۔۔۔۔۔
    omg..i am waiting

  11. The Following 2 Users Say Thank You to rana arshad For This Useful Post:

    abkhan_70 (28-12-2017), suhail502 (29-12-2017)

  12. #427
    fiz.kamran's Avatar
    fiz.kamran is offline UrduFunda Writer
    Join Date
    Jun 2014
    Location
    Multan
    Age
    26
    Posts
    549
    Thanks
    387
    Thanked 5,003 Times in 528 Posts
    Time Online
    3 Days 1 Hour 7 Minutes 1 Second
    Avg. Time Online
    2 Minutes 57 Seconds
    Rep Power
    1956

    Default


    ٹینا کو شائستہ کی کال موصول ہوئی تو وہ ساری صورتحال سن کر تھوڑی پریشان ہوئی مگر پھر شائستہ کی بروقت لاہور پہنچ کر صورتحال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کو سراہتے ہوئے اسے شاباش دی اور کہا کہ لاہور مزید2 دن رکنے کے بعد وہ پشاور چلی جائے جہاں ایک آفس میں جاب کے لیے انٹرویو کے لیے جانا ہوگا جبکہ فروہ کے بارے میں شائستہ نے کہا کے وہ فوری طور پر کراچی واپس آجائے۔
    ٹینا سے ہدایات لینے کے بعد شائستہ نے شام کی فلائٹ سے فروہ کو واپس کراچی بھیج دیا جبکہ خود 2 دن رکنے کے بعد پشاور چلی گئی۔ پشاور پہنچ کر وہ ایک آفس میں جاب کے انٹرویو کے لیے پہنچ گئی جسکا انتظام ٹینا پہلے ہی کر چکی تھی، شائستہ کے تمام ڈاکومنٹس پہلے سے تیار تھے اور وہ اس آفس میں پرسنل سیکرٹری کی جاب کے لیے گئی تھی۔ سرخ رنگ کی شلوار قمیص زیب تن کیے شائستہ انٹرویو کے لیے آنے والی باقی خواتین کے ساتھ انتظار کر رہی تھی۔ انٹرویو دینے کے لیے آنے والوں میں زیادہ تعداد نوجوان لڑکیوں کی تھی جنکی عمریں 20 سال سے 26 سال کے لگ بھگ تھی۔ ان میں 30 سالہ شائستہ عمر کے حساب سے کافی بڑی لگ رہی تھی ۔
    کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد شائستہ کی باری آئی تو وہ آفس میں داخل ہوئی جہاں ایک موٹی توند والا شخص انٹرویو لینے کے لیے بیٹھا تھا۔ شائستہ درمیانی چال سے چلتے ہوئے آفس میں موجود ٹیبل تک پہنچی اور پہنچ کر سلام کیا۔ موٹی توند والے نے سر اٹھا کر شائستہ کو دیکھا تو ایک بار تو وہ اسکو دیکھتا ہی رہ گیا۔ لمبا قد، پتلی کمر، سینے پر تنے ہوئے 38 سائز کے ممے جو باریک دوپٹے کے نیچے سے اپنا ابھار واضح کر رہے تھے۔ موٹی توند والے شخص نے شائستہ کو بیٹھنے کے لیے کہا تو شائستہ تھوڑا نیچے جھک کر کرسی پر بیٹھ گئی جس سے اسکے سینے پر موجود دوپٹہ تھوڑا سائیڈ پر سرک گیا اور اب سرخ رنگ کی ٹائٹ فٹنگ والی قمیص سے شائستہ کی خوبصورت کلیویج کا کچھ نظارہ دیکھنے کو مل رہا تھا۔
    شائستہ نے اپناتعارف کرواتے ہوئے اپنے ڈاکومنٹس اس شخص کو دیے تو اس نے سرسری نظر ڈالتے ہوئے ڈاکومنٹس ایک سائیڈ پر رکھ دیے جہاں پہلے سے کافی ڈاکومنٹس موجود تھے۔ اس شخص نے شائستہ سے اسکے تجربے کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ اس سے پہلے 2 مختلف کمپنیوں میں پرسنل سیکرٹری کے طور پر اپنی خدمات انجام دے چکی ہے اور اسکا ریکارڈ بہت اچھا رہا ہے۔ یہ دونوں کمپنیاں کراچی میں تھیں۔ پورے انٹرویو کے دوران اس موٹی توند والے کی نظریں شائستہ کی قمیص کے گلے سے نظر آنے والے مموں کے ابھار پر تھیں۔ اس شخص نے ذو معنی انداز میں پوچھا کہ آپکو معلوم تو ہے نا کہ پرسنل سیکرٹری کی بہت ساری ذمہ داریاں ہوتی ہیں؟
    اسکی بات پر شائستہ نے مسکراتے ہوئے کہا سر آپ فکر نہ کریں میرے پہلے دونوں باسز میرے سے بہت خوش تھے۔ اور جب میں نے پہلی جاب چھوڑی تو میرے پہلے باس نے مجھے ڈبل نتخواہ کی آفر کی تھی، مگر دوسری کمپنی سے آفر اتنی اچھی تھی کہ مجھے پہلی جاب چھوڑنی ہی پڑی۔ اس شخص نے پوچھا کہ دوسری جاب چھوڑنے کی وجہ؟ تو شائستہ نے بتایا کہ اسکے میاں ایک سرکاری ملازم ہیں، انکی ٹرانسفر کراچی سے پشاور ہوگئی تو اسے بھی پشاور آنا پڑا۔ اس لیے پہلی جاب جاری رکھنا ممکن نہیں تھا۔ اس شخص نے ایک لمبی ہونہہ کی اور کہا تو آپکے شوہر اعتراض تو نہیں کریں گے اگر آپکو مختلف دوروں پر ہمارے ساتھ شہر سے باہر جانا پڑے؟؟
    اس پر شائستہ نے کہا سر آپ بالکل فکر نہ کریں میں اپنے باس کے ساتھ دبئی اور آسٹریلیا تک ہو کر آئی ہوں اور میرے شوہر اس بارے میں بالکل فکر مند نہیں ہونگے ۔ وہ جانتے ہیں کہ جاب کے لیے آفیشل کاموں کے سلسلے میں شہر سے یا ملک سے باہر ناجا پڑ سکتا ہے۔ اس شخص نے کہا ٹھیک ہے آپ کافی سمجھدار لگتی ہیں اور آپکا تجربہ بھی یہاں آنے والی نوجوان لڑکیوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ میں آپکو آگے ریفر کر دوں گا۔ ہمارے باس امجد آپکا فائنل انٹرویو کریں گے۔
    شائستہ نے حیران ہوتے ہوئے کہا تو کیا آپ باس نہیں ہونگے میرے؟ اس شخص نے مسکراتے ہوئے کہا نہیں میں اس کمپنی میں مینیجر ہوں، آپ سے پہلے صرف ایک خاتون کو آگے ریفر کیا گیا ہے ، آپ دوسری خاتون ہیں۔ اگر آپکے بعد آنے والی لڑکیوں میں سے کوئی اس قابل ہوئی تو اسکو بھی آگے ریفر کیا جائے گا اور آپ سب میں فائنل انٹرویو ہمارے باس ہی کریں گے جسکے بارے میں آپکو بہت جلد آگاہ کر دیا جائے گا۔ شائستہ نے یہ ساری تفصیلات سنتے ہوئے اسکا شکریہ ادا کیا اور وہاں سے واپس چلدی۔ موٹی توند والے کی نظریں شائستہ کی ہچکولے کھاتی گانڈ پر تھی جو شائستہ کی قمیص شلوار کے باوجود دعوت نظارہ دے رہی تھی۔
    شائستہ پشاور کے ایک پوش علاقے میں ایک سرکاری بلڈنگ میں موجود تھی جو سرکار کی طرف سے اسلم کو ملی تھی۔ اسلم کی ہال ہی میں کراچی سے پشاور ٹرانسفر کی گئی تھی اور اسے بتایا گیا تھا کہ ایک خاتون جنکا نام شائستہ ہے وہ آپکی بیوی کی حیثیت سے آپکے گھر میں رہیں گی ۔ وہ پاکستان کی حساس ادارے کی ایک اہم رکن ہیں اور دہشت گردوں کے خلاف ایک خاص مشن پر کراچی سے پشاور آئی ہیں۔ اس کے بدلے اسلم کو اپنا منہ بند رکھنے کا کہا گیا تھا کہ کوئی بھی پوچھے تو وہ شائستہ کا تعار ف اپنی بیوی کی حیثیت سے ہی کروائے گا۔ اور اسلم کے اکاونٹ میں ایک بھاری رقم ٹرانسفر ہوچکی تھی جب کے اس سے کہیں زیادہ رقم دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔
    اسلم کو بھلا کیا اعتراض ہوسکتا تھا جب اپنی سرکاری نوکری سے ملنے والی تنخواہ سے 10 گناہ زیادہ رقم اسے ایک ہی مہینے میں دے دی گئی اور مزید رقم اگلے کچھ ہفتوں میں دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ شائستہ کا کمرہ علیحدہ تھا اور اسلم کو خاص ہدایت تھی کو وہ شائستہ کے کمرے میں ہرگز نہیں جائے گا اور اسکے کاموں میں کسی طور بھی مخل نہیں ہوگا۔
    شائستہ کچھ دن ہی اس گھر میں رہی تھی کے اسے زمان کنسٹرکشن کی طرف سے انٹرویو کی کال آگئی۔ زمان کنسٹرکشن پشاور کی ایک بڑی کمپنی تھی جو پورے ملک میں کنسٹرکشن کے بڑے بڑے پراجیکٹس کرتی تھی۔ اسکے باس امجد صاحب تھے جنہوں نے شائستہ کی سی وی دیکھنے کے بعد اسکو انٹرویو کی کال کی تھی۔ شائستہ دوبارہ سے اسی آفس میں موجود تھی مگر اس بار پہلے والے کمرے کی بجائے وہ فرسٹ فلور پر موجود ایک بڑے کمرے کے باہر موجود تھی۔ اسے بتایا گیا تھا کہ امجد صاحب ایک میٹنگ میں مصروف ہیں میٹنگ سے فارغ ہوکر وہ آپکو بلائیں گے۔ نیچے والے آفس کی نسبت بلڈنگ کی فرسٹ فلور خاصی عالیشان ڈیزائن کی گئی تھی اور یہاں موجود آفس بھی کافی شاندار معلوم ہورہا تھا۔
    کچھ دیر انتظار کے بعد ایک کمرے سے کچھ لوگ باہر نکلے جنکے چہروں پر خوشی تھی۔ انہوں نے راہداری سے گزرتے ہوئے شائستہ پر سرسری نظر ڈالی مگر آپس میں باتیں کرتے ہوئے وہاں سے چلے گئے۔ یہ شاید کمپنی کے ملازم تھے جنکو کسی کامیاب پراجیکٹ کے بعد امجد صاحب نے اچھا بونس دیا تھا جس پر سب لوگ خوش تھے۔ اسی دورا سامنے موجود کمرے سے ایک شخص نکلا اور اس نے مودب انداز میں شائستہ کے قریب آکر کہا میڈیم سر امجد آپکا انتظار رکر رہے ہیں آپ میرے ساتھ آئیں۔
    یہ کہ کر وہ شخص اسی کمرے کی طرف جانے لگا جس کمرے سے وہ آیا تھا اور شائستہ بھی اسکے پیچھے پیچھے چلنے لگی۔ شائستہ آج بھی شلوار قمیص میں ہی ملبوس تھی۔ کمرے میں داخل ہوئی تو اسے سامنے کمرے میں ایک بڑا سا میٹنگ ٹیبل نظر آیا جس پر کچھ پانی کی بوتلیں اور کچھ پلیٹیں پڑی تھیں جن میں شاید کچھ دیر پہلے موجود لوگ کچھ کھانے میں مصروف رہے ہونگے۔ میٹنگ ٹیبل کی دوسری سائیڈ پر ایک شیشے کا دروازہ تھا جس پر بلائنڈر لگا ہوا تھا۔ وہ شخص اس دروازے کی طرف گیا اور دروازہ کھول کر ایک سائیڈ پر ہوکر شائستہ کو اندر آنے کا راستہ دیا۔ شائستہ با وقار انداز میں چلتی ہوئی اندر داخل ہوئی جہاں سامنے ایک بڑے سے ٹیبل کی دوسری جانب ایک شخص فون پر باتیں کر رہا تھا۔
    شائستہ کی رہنمائی کرنے والا شخص شائستہ کو کمرے میں پہنچا کر باہر چلا گیا جبکہ شائستہ ٹیبل کے نزدیک جا کر کھڑی ہوگئی اور اس شخص کی بات ختم ہونے کا انتظار کرنے لگی۔ اسکا منہ دوسری طرف تھا اور شائستہ محض اسکی پیٹھ ہی دیکھ سکتی تھی۔ وہ شاید اپنی بیوی سے بات کر رہا تھا اور اسے یقین دلا رہا تھا کہ اس بار وہ چھٹیوں میں فیملی کے ساتھ یورپ کا ٹور ضرور کرے گا۔


  13. The Following 8 Users Say Thank You to fiz.kamran For This Useful Post:

    abba (04-01-2018), abkhan_70 (29-12-2017), Lanmaarbutt (30-04-2018), Lovelymale (29-12-2017), panjabikhan (26-01-2018), piyaamoon (29-12-2017), salm_613 (16-01-2018), sexeymoon (29-12-2017)

  14. #428
    fiz.kamran's Avatar
    fiz.kamran is offline UrduFunda Writer
    Join Date
    Jun 2014
    Location
    Multan
    Age
    26
    Posts
    549
    Thanks
    387
    Thanked 5,003 Times in 528 Posts
    Time Online
    3 Days 1 Hour 7 Minutes 1 Second
    Avg. Time Online
    2 Minutes 57 Seconds
    Rep Power
    1956

    Default


    چند منٹ میں ہی اسکی کال ختم ہوئی اس نے کال بند کی اور واپس مڑا تو شائستہ نے اسے ہیلو گڈ نون سر کہ کر اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔ اس شخص نے سائستہ کا بغور جائزہ لیا اور اس سے ہاتھ ملاتے ہوئے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ یہی شخص امجد تھا۔ 45 سالہ امجد نہ تو بالکل سمارٹ تھا اور نہ ہی بہت موٹا۔ شکل و صورت کا بھی مناسب تھا مگر اپنی پرسنالٹی سے وہ ایک کامیاب بزنس مین لگ رہا تھا۔ شائستہ کو بیٹھنے کا کہ کر وہ خود بھی ٹیبل کی دوسری سائیڈ پر بیٹھ گیا اور شائستہ سے اسکی پچھلی جابز کی روٹین کے بارے میں پوچھنے کے ساتھ ساتھ آفس ورک کی تفصیلات بھی پوچھیں۔
    شائستہ روانی سے اسے اپنے بارے میں ہر چیز بتاتی رہی۔ اسی دوران کمرے میں وہی شخص واپس آیا جو پہلے آیا تھا اور اسنے شائستہ کے سامنے پانی کا گلاس رکھا اور ایک سائیڈ پر ادب سے کھڑا ہوگیا۔ امجد نے شائستہ سے چائے کافی کا پوچھا تو شائستہ نے کہا کہ وہ کافی پیے گی لیکن اگر آپکو اعتراض نہ ہو تو وہ کافی خود بنائے گی کیونکہ اسکو دوسروں کی بنائی کافی پسند نہیں آتی۔ یہ سن کر امجد نے کہا یہ تو بہت اچھی بات ہے، اسی بہانے آپکے ہاتھ کی کافی میں بھی پی لوں گا۔ یہ سن کر شائستہ مسکرائی اور بولی کیوں نہیں سر، یہ کہ کر اس نے اس شخص کی طرف دیکھا تو وہ اسے کمرے سے باہر ساتھ ہی کچن میں لے گیا اور کچھ ہی دیر میں شائستہ کافی بنا کر واپس امجد کے کمرے میں موجود تھی۔
    امجد نے کافی کا پہلا سِپ لیا تو اس نے شائستہ کی بنائی ہوئی کافی کی تعریف کی اور اسکے کانفیڈنس پر بھی اس سے خوش ہوا۔ کچھ دیر کی مزید بات چیت کے بعد امجد اپنی سیٹ سے کھڑا ہوکر ٹیبل کے پیچھے سے نکل کر شائستہ کے قریب آیا، باس کو اپنی طرف آتا دیکھا کر شائستہ بھی اپنی سیٹ سے کھڑی ہوگئی تھی، امجد نے شائستہ کے قریب آکر اس سے ہاتھ ملایا اور بولا آپکو مبارک ہو، آپکو میں نے اپنی پرسنل سیکرٹری کی جاب کے لیے سیلیکٹ کر لیا ہے۔ یہ سن کر شائستہ خوشی سے بولی بہت بہت شکریہ سر، آئی ایم ویری ویری تھینک فل ٹو یو۔ یو آر سو کائنڈ۔۔۔ امجد نے کہا، لیکن میری ایک شرط ہوگی۔ شائستہ نے کہا جی سر کہیں۔۔۔ امجد نے کہا اگر آپ وعدہ کریں کہ روز یہی کافی پینے کو ملے گی تو آپکی جاب پکی ہے۔ شائستہ مسکرائی اور بولی ضرور سر، لیکن میری بھی ایک شرط ہوگی۔ امجد نے سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھا تو وہ بولی کہ کافی آپ میرے ساتھ ہی پیا کریں گے۔۔۔ یہ سن کر امجد نے ایک قہقہ لگایا اور بولا اس سے زیادہ خوشی کی بات بھلا کیا ہوگی میرے لیے۔
    اسکے بعد کچھ ضروری کاروائی کے بعد شائستہ آفس سے واپس گھر آگئی اور امجد نے اسکو کل سے آفس جوائن کرنے کا کہ دیا تھا۔ گھر پہنچ کر شائستہ نے سب سے پہلے ٹینا کو کال کر کے اس بات سے آگاہ کیا جس پر ٹینا نے اسے مبارک بھی دی اور اسے آگے کی حکمت عملی سمجھا کر فون بند کر دیا۔


  15. The Following 8 Users Say Thank You to fiz.kamran For This Useful Post:

    abba (04-01-2018), abkhan_70 (29-12-2017), Lanmaarbutt (30-04-2018), Lovelymale (29-12-2017), panjabikhan (26-01-2018), piyaamoon (29-12-2017), salm_613 (16-01-2018), sexeymoon (29-12-2017)

  16. #429
    fiz.kamran's Avatar
    fiz.kamran is offline UrduFunda Writer
    Join Date
    Jun 2014
    Location
    Multan
    Age
    26
    Posts
    549
    Thanks
    387
    Thanked 5,003 Times in 528 Posts
    Time Online
    3 Days 1 Hour 7 Minutes 1 Second
    Avg. Time Online
    2 Minutes 57 Seconds
    Rep Power
    1956

    Default


    اگلے دن آئی جی مراد اور انکی ٹیم شہر بھر کے سی سی ٹی وی کیمروں کا ریکارڈ حاصل کر چکی تھی۔ رات کو نا معلوم شخص کی بات سن کر آئی جی صاحب کا دماغ ماوف ہوگیا تھا اور جب یہ بات زیبا کو معلوم ہوئی تو وہ بھی چکرا کر رہ گئی تھی۔ وہ سمجھ گئی تھی کہ وہ ایک بڑی مشکل میں پھنس چکی ہے۔ اب اس سے بچنے کا محض ایک ہی طریقہ تھا کہ موبائل چھیننے والے شخص کو جلد سے جلد پکڑا جائے۔
    اسی کام کے لیے آئی صاحب نے رات میں ہی فواد سے رابطہ کر لیا تھا اور اس سے اس جگہ کے بارے میں پوچھ لیا تھا جہاں واردات ہوئی۔ معلومات لینے کے بعد آئی جی سندھ نے اپنی آئی ٹی ٹیم کو حکم دیا تھا کہ اس علاقے کے سی سی ٹی وی کیمروں سے فوٹیج حاصل کرے اور جو جو پرائیویٹ کیمرے گھروں میں یا دکانوں اور بنکوں کے باہر نصب ہیں ان سے بھی جلد از جلد ریکارڈ حاصل کیا جائے اور معلوم کریں کہ یہ موٹر سائیکل سوار واردات کرنے کے بعد کہاں گیا ہے تاکہ اسکے ٹھکانے کا جلد سے جلد معلوم کیا جا سکے۔
    کچھ ہی دیر میں رات کے پچھلے پہر شہر کے سیکورٹی کیمروں سے ریکارڈ حاصل کر لیا گیا تھا جس میں موٹر سائیکل سوار کو دیکھا جا سکتا تھا مگر ہیلمیٹ میں ہونے کی وجہ سے اسکا چہرہ نہیں دیکھا جا سکا۔ البتہ موبائل چھین لینے کے بعد وہ جس طرف گیا وہاں سے بھی آگے کے راستوں میں جہاں جہاں کیمرے نصب تھے سب کا ریکارڈ جلد سے جلد حاصل کر لیا گیا تھا اور قریب 2 سے 3 کلومیٹر تک کے علاقے میں اس موٹر سائیکل سوار کی ویڈیو موجود تھی جو وہ موبائل ہتھیانے کے بعد وہاں سے نکلا تھا۔ مگر پھر اچانک ایک محض 500 میٹر کا علاقہ ایسا آیا جہاں پے کوئی بھی کیمرہ نصب نہیں تھا۔ آئی جی صاحب نے اس علاقے کے آس پاس موجود سب کیمرے دیکھ لیے جہاں سے اسکے مزید آگے جانے کا احتمال ہوسکتا تھا مگر کسی بھی کیمرے سے اسکی ویڈیو نہ مل سکی۔
    یہ ایک نجی یونیورسٹی کے اطراف کا علاقہ تھا جہاں روڈ بہت کھلے تھے اور آس پاس کوئی دکان یا بینک نہیں تھا جسکی وجہ سے اس علاقے میں کوئی کیمرہ بھی موجود نہیں تھا۔ اسکا مطلب تھا کہ وہ موٹر سائیکل سوار اسی 500 میٹر کے علاقے میں موجود ہے۔ مومن آباد تھانے کی پولیس سمیت پورے کراچی سے سپیشل پولیس جوان بلائے گئے تھے، 5 سے 6 گھنٹے کے سخت ترین آپریشن کے بعد بھی پورے علاقے سے نا تو وہ موٹر سائیکل ملا تھا اور نہ ہی کوئی مشکوک موٹر سائیکل سوار۔ یونیورسٹی تک کا ہر کمرہ، ہر کلاس روم، ساتھ موجود ہاسٹل تک کی مکمل تلاشی لی گئی تھی۔
    یہاں سے کچھ مشکوک افراد کو حراست میں تو لیا گیا مگر یہ سب کے سب پیشہ ور مجرم تھے اور اپنے ڈیل ڈول کے حساب سے کسی بھی طرح اس موٹر سائیکل سوار سے مشابہت نہیں رکھتے تھے جو ویڈیو کیمروں میں دیکھا جا سکتا تھا۔ موبائل کمپنی سے فواد کے موبائل اور حِنا کے موبائل کا ڈیٹا بھی منگوایا گیا جو لوکیشن ٹریکنگ کی مدد سے حاصل کیا گیا تھا کہ موبائل کب ، کب کہاں کہاں گیا۔ اس میں بھی موبائل اسی 500 میٹر کے علاقے میں پہنچ کر ایک دم سے اپنی لوکیشن کھو چکا تھا جیسےآف ہوگیا ہو۔ مگر پھر کچھ دیر بعد کی لوکیشن شہر کے دوسرے علاقے اور پھر چند ہی منٹ کے بعد کسی دوسرے علاقے میں لوکیشن دکھا رہا تھا۔
    اس سے بھی آئی جی صاحب پریشان تھے۔ کسی بھی طرح سے موٹرسائیکل سوار کا معلوم نہی ہورہا تھا، شام ہوچکی تھی اور تمام ٹیمیں آپریشن میں ناکامی کے بعد علاقے خالی کر کے واپس اپنے اپنے متعلقہ تھانوں میں پہنچ چکی تھیں۔ اس ناکامی کے بعد گھر پہنچ کر آئی جی صاحب نے میڈیم زیبا کو فون کر کے ساری صورتحال سے آگاہ کیا۔ زیبا نے ساری صورتحال سننے کے بعد خاموشی سے فون بند کر دیا کیونکہ اسے کوئی امید بھی نہیں تھی کہ آئی جی صاحب اس شخص کو پکڑنے میں ناکام ہونگے۔ وہ تو بس بے چینی سے کال کا انتظار کر رہی تھی کیونکہ اسے امید تھی کہ وہ بری طرح پھنس چکی ہے اور موبائل چھیننے والا شخص کوئی معمولی شخص نہیں وہ یقنیا ایک بڑی مشکل میں ڈالنا چاہتا ہے زیبا کو۔
    زیبا اسی سوچ میں گم تھی کہ اسکے موبائل پر بیل ہونا شروع ہوئی۔ اس نے فون کی طرف دیکھا تو یہ فواد کا ہی نمبر تھا جو کل رات چھینا گیا تھا۔ زیبا نے فوری کال اٹینڈ کی تو آگے سے پھر ایک گرجدار آواز سنائی دی اور اس نے مختصر سی بات میں زیبا کو سمجھا دیا کہ اسکے دوستوں سے چھینے گئے موبائلز سے وہ بہت سا ڈیٹا حاصل کر چکے ہیں جو اگر پبلک ہوگیا تو نہ صرف زیبا کی بدنامی ہوگی بلکہ اسکی والد کی سیاسی جماعت کو بھی سخت نقصان پہنچے گا۔ لہذا آج رات زیبا کو اکیلے میں ایک مخصوص جگہ پر پہنچنے کا کہا گیا۔ زیبا کو خاص ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اپنے ساتھ سیکورٹی لانا چاہتی ہے تو لائے مگر ایک مخصوص جگہ پر پہنچ کر اس سے آگے سیکورٹی نہیں جا سکتی۔
    کچھ ہی دیر کے بعد زیبا اس جگہ پہنچ چکی تھی جہاں کا اسے بتایا گیا تھا۔ یہ شہر کا ایک پوش علاقہ تھا۔ یہا ں پہنچ کر زیبا کو ایک بار پھر کال موصول ہوئی اور اسے یہاں سے 2 کلومیٹر دور ایک اور جگہ پر آنے کا کہا گیا، زیبا اپنے سیکورٹی دستے کے ساتھ نئی بتائی گئی جگہ پر پہنچ گئی۔ اب جس علاقے کا بتایا گیا تھا یہ زیبا کے ایک اور دوست کا گھر تھا جو آجکل ملک سے باہر تھا۔ زیبا اس علاقے میں پہنچی تو زیبا کو اسی گھر میں بلایا گیا جو زیبا کے ایک قریبی دوست کا تھا۔ سیکورٹی دستے کے ساتھ زیبا اس گھر تک پہنچ گئی جہاں گیٹ پر موجود گارڈ نے دروازہ بڑا گیٹ کھولا اور پورا کاروان گھر میں داخل ہوگیا۔
    یہاں پہنچ کر زیبا کو پھر سے کال موصول ہوئی اور اسے کہا گیا کہ اب اس سے آگے اسکی سیکورٹی ٹیم نہیں آئے گی اور زیبا اکیلے ہی گھر کے اندر داخل ہوجائے۔ زیبا سیکورٹی ٹیم کو یہیں رکنے کا کہ کر اکیلے ہی گھر کے اندر چلی گئی۔ گھر کے اندر مختلف جگہوں پر چھوٹے چھوٹے بورڈ موجود تھے جن پر زیبا کے لیے ہدایات لکھی ہوئی تھیں۔ زیبا ان ہدایات کو پڑھتے ہوئے اس عالیشان بنگلے کے عقبی حصے تک پہنچ چکی تھی۔
    اس بنگلے کے عقبی حصے میں مکمل سناٹا اور اندھیرا تھا۔ سامنے عقبی گیٹ موجود تھا جہاں ایک اور گارڈ موجود تھا۔ یہ گارڈ اس بنگلے کے گارڈ ہرگز نہیں تھے کیونکہ یہ بنگلہ پچھلے ایک سال سے بند پڑا تھا اور رہائشی ملک سے باہر تھے۔ یہ یقینااس موبائل والے گروہ کے آدمی تھے۔
    آئی جی سندھ اپنے گھر بیٹھے زیبا کے موبائل کو مسلسل ٹریک کر رہے تھے، انہیں زیبا نے خاص ہدایت کی تھی کہ وہ اپنی کوئی بھی ٹیم زیبا کے تعاقب میں نہ بھیجیں بس اسکے موبائل کے ذریعے اسکی ٹریکنگ کرتے رہیں۔ ساتھ ہی آئی جی صاحب نے ایک چھوٹا ٹرانسمیٹر زیبا کو دیا تھا جو اس نے اپنے برا کی اندرونی سائیڈ پر پِن سے لگا لیا تھا۔ آئی جی کو پوری امید تھی کہ زیبا سے اسکا موبائل لیکر آف کر دیا جائے گا لہذا اسکی لوکیشن کو ٹریک کرنے کے لیے ایکسٹرا ٹریکنگ ڈیوائس کا ہونا ضروری ہے۔
    بنگلے کے عقبی گیٹ سے زیبا باہر نکلی تو سنسان سڑک پر ایک موٹر سائیکل سوار موجود تھا، تبھی زیبا کے موبائل پر ایک اور کال ریسیو ہوئی اور اسے کہا گیا کہ چپ چاپ اس موٹر سائیکل سوار کےساتھ سوار ہوجائے اور جہاں جہاں وہ لیکر جائے زیبا چپ چاپ اسکے ساتھ جائے۔ یہ کال سننے کے بعد زیبا اس موٹر سائیکل کے نزدیک گئی اور خاموشی سے موٹر سائیکل پر بیٹھ گئی۔ موٹر سائیکل سوار نے موٹر سائیکل سٹارٹ کیا اور شہر کے ایک سنسان علاقے کی طرف روانہ ہوگیا۔
    اسکے ساتھ ہی آئی جی صاحب کے لیپ ٹاپ پر زیبا کے موبائل کی لوکیشن غائب ہوگئی۔ وہ سمجھ گئے کہ اسکا موبائل آف کر دیا گیا ہے۔ مگر زیبا کی برا میں چھپا ٹرانسمیٹر ابھی بھی آئی جی صاحب کو لیکشن دکھا رہا تھا۔ کچھ ہی دیر بعد زیبا کے موبائل کی لوکیشن دوبارہ سے آن ہوگئی مگر اس بار زیبا کا موبائل شہر کے ایک کونے میں جبکہ ٹرانسمیٹر کی لوکیشن بالکل دوسری طرف تھی۔ آئی جی صاحب نے اپنی ذہانت کی خود ہی داد دی اور ٹرانسمیٹر سے ملنے والی لوکیشن کو ٹریس کرنا جاری رکھا۔
    موٹر سائیکل سوار کچھ دور جا کر ایک چھوٹے سے گھر کے سامنے جا کر رکا اور ہارن بجایا۔ کچھ ہی دیر میں گیٹ کھولا گیا اور موٹر سائیکل سوار بائیک سمیت گھر کے اندر داخل ہوا، یہاں ایک چھوٹی سی راہدار ی تھی۔ راہداری کے اختتام پر موٹر سائیکل سوار رکا اور سامنے موجود ایک چھوٹی سی مشین جو میٹل ڈیکٹیٹر والی مشین سے ملتی جلتی تھی اسکے اندر سے گزرا اور زیبا کو بھی اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔
    زیبا جیسے ہی اس مشین سے گزری مشین نے ایک الارم بجایا اور کچھ ہی سیکنڈ کے بعد زیبا کے موبائل پر دوبارہ کال آئی اس بار اس گرجدار آواز والے نے کہا اپنا ٹرانسمیٹر نکال کر اس موٹر سائیکل سوار کو دو ۔ زیبا نے بغیر کچھ کہے منہ دوسری طرف کیا اور اپنے برا سے ٹرانسمیٹر نکال کر موٹر سائیکل سوار کی طرف بڑھا دیا جس نے وہ ٹرانسمیٹر پکڑا اور واپس موٹر سائیکل پر بیٹھ کر زیبا کو بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ زیبا موٹر سائیکل پر بیٹھی اب موٹر سائیکل سوار اس گھر سے دوبارہ باہر نکل آیا اور گیٹ پر موجود شخص کو وہ ٹرانسمیٹر پکڑا دیا۔
    گیٹ پر موجود شخص زیبا اور موٹر سائیکل سوار کے جانے کے بعد وہ ٹرانسمیٹر اپنی جیب میں ڈال کر گیٹ بند کر کے ساتھ موجود گاڑی میں بیٹھ کر شہر کی دوسری سائیڈ پر نکل گیا۔ آئی جی صاحب ابھی بھی ٹرانسمیٹر سے ملنے والی لوکیشن کو ٹریس کر رہے تھے
    موٹر سائیکل سوار کچھ ہی دیر میں زیبا کو لیکر ایک اور غیر آباد علاقے میں موجود ایک چھوٹے سے گھر کے سامنے موجود تھا۔ یہاں پہنچ کر موٹر سائیکل سوار نے رک کر زیبا کو اترنے کا اشارہ کیا۔ زیبا موٹر سائیکل سے اتری تو اسے سامنے موجود گھر میں جانے کا اشارہ کر کے موٹر سائیکل سوار خود وہاں سے روانہ ہوگیا اور زیبا اس چھوٹے سے گھر میں داخل ہوگئی۔ بہت کوشش کرنے کے بعد بھی زیبا کو اندازہ نہ ہوسکا کہ وہ شہر کے کس علاقے میں ہے۔۔ گو کہ اسکی آنکھوں پر کوئی پٹی نہیں باندھی گئی تھی مگر موٹر سائیکل سوار کبھی سنسان اور غیر آباد علاقوں سے گزرا تو کبھی گنجان آباد کچی آبادیوں کی گلیوں سے ہوتا ہوا نجانے شہر کے کس کونے میں پہنچ چکا تھا اور زیبا چاہتی بھی تو دوبارہ یہاں پر خود سے نہیں آسکتی تھی نہ آئی جی صاحب کو بتا سکتی تھی کو اسے شہر کے کس حصے میں لےجایا گیا تھا۔
    گھر کے اندر جا کر زیبا کو ایک کمرے کا دروازہ کھلا نظر آیا جہاں ایک چھوٹا سا زرد بلب جل رہا تھا اور اسی روشنی میں اسے ایک ٹیبل نظر آرہا تھا جسکے پیچھے گھومنے والی کرسی پر کوئی شخص موجود تھا، زیبا ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ کیا کرے کہ اسے کمرے سے وہی گرجدار آواز سنائی دی جو اسے فون پر سنائی دے رہی تھی۔ اندر سے آواز آئی تھی زیبا جی آجائیں اندر۔ یہ آواز سن کر زیبا جو بظاہر اندر سے کافی ڈری ہوئی تھی مگر باہر سے پر اعتماد انداز سے کمرے میں داخل ہوئی اور سامنے موجود کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولی ہاں بتاو کیوں بلایا ہے مجھے یہاں اور کیا چاہتے ہو تم مجھ سے؟؟


  17. The Following 9 Users Say Thank You to fiz.kamran For This Useful Post:

    abba (04-01-2018), abkhan_70 (29-12-2017), Lanmaarbutt (30-04-2018), Lovelymale (29-12-2017), panjabikhan (26-01-2018), piyaamoon (29-12-2017), salm_613 (16-01-2018), sexeymoon (29-12-2017), Story-Maker (01-01-2018)

  18. #430
    fiz.kamran's Avatar
    fiz.kamran is offline UrduFunda Writer
    Join Date
    Jun 2014
    Location
    Multan
    Age
    26
    Posts
    549
    Thanks
    387
    Thanked 5,003 Times in 528 Posts
    Time Online
    3 Days 1 Hour 7 Minutes 1 Second
    Avg. Time Online
    2 Minutes 57 Seconds
    Rep Power
    1956

    Default


    ٹینا سے فون پر بات کرنے کے بعد شائستہ نے فروہ کو صورتحا ل سے آگاہ کیا کہ وہ دو دن مزید یہیں رکے گی تاکہ اگر لیفٹیننٹ دانش پھر کسی کو بھیجے تحقیقات کے لیے تو وہ معاملے کو سنبھال سکے اور پھر 2 دن کے بعد وہ پشاور چلی جائے گی جبکہ فروہ کو آج ہی شام کی فلائٹ سے واپس کراچی جانا ہوگا۔
    رات کے قریب 9 بجے کا وقت تھا جب فروہ واپس میاں فراز کے گھر پہنچ چکی تھی۔ گھر پہنچ کر وہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔ فروہ کافی تھک چکی تھی پہلے کراچی سے لاہور کا سفر اور اسی دن واپس لاہور سے کراچی کا سفر کافی تھکا دینے والا تھا۔ گو کہ وہ فلائٹ کے ذریعے ہی سفر کر رہی تھی مگر معاملے کی نزاکت کی وجہ سے ذہنی طور پر وہ کافی پریشان تھی۔ کچھ ہی دیر میں میاں فراز بھی گھر آگیا اور اسے بتایا گیا کہ میڈیم فروہ لاہور سے واپس آگئی ہیں۔ وہ سیدھا فروہ کے کمرے میں گیا جہاں وہ بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی۔
    کمرے میں جا کر فراز نے فروہ کی خیریت معلوم کی تو اسنے بتایا کہ وہ کافی تھک چکی ہے اور یہ بھی بتایا کہ وہ اکیلی آئی ہے شائستہ وہیں رکی ہے۔ اس پر فراز نے کہا ہاں مجھے معلوم ہے مجھے اسکی کال آئی تھی اور کل صبح مجھے بھی لاہور جانا ہے۔ پھر فراز نے فروہ سے کھانے کا پوچھا تو اس نے کہا ہاں کچھ ہلکا پھلکا کھاوں گی۔ فراز نے ملازم سے جوس پھل اور کھانے میں کچھ لوازمات پہنچانے کا کہا اور خود اپنے کمرے میں چلا گیا۔
    کمرے میں جانے کے بعد فراز نے اپنے کپڑے اتارے اور انڈر وئیر پہنے واش روم میں نہانے چلا گیا۔ نہا کر نکلا تو اسے موبائل پر فروہ کی کال موصول ہوئی۔ اس نے کال اٹینڈ کی تو فروہ نے اسے اپنے کمرے میں آنے کا کہ کر فون بند کر دیا۔ فراز کمرے میں داخل ہوا تو فروہ کمرے میں موجود نہیں تھی البتہ سامنے بیڈ پر اسکے کپڑے پڑے ہوئے تھے ۔ یہ دیکھ کر فراز نے فروہ کو آواز دی تو سامنے واش روم سے فروہ کی آواز آئی جو اسے اندر آنے کا کہ رہی تھی۔ واش روم سے فروہ کی آواز سن کر فراز کا دل بلیوں اچھلنے لگا۔
    اسنے آگے بڑھ کر دروازہ ہلکا سا دھکیلا تو وہ کھلتا چلا گیا اور فراز اندر داخل ہوگیا۔ سامنے ہی موجود باتھ ٹب میں فروہ لیٹی ہوئی تھی۔ ٹب جھاگ سے بھرپور تھا جس میں فروہ کا جسم چھپا ہوا تھا محض اسکے کندھے ، بازو اور سینے کا اوپری حصہ پانی سے باہر تھے۔ فراز کو دیکھ کر فروہ نے ایک مسکراہٹ سے اسے دیکھا اور ٹب میں آنے کا اشارہ کیا۔ ویسے تو فراز ابھی ابھی نہا کر آیا تھا مگر فروہ کے ساتھ دوبارہ نہانے میں کوئی مضائقہ نہیں تھا۔
    فراز نے جھٹ سے اپنے کپڑے اتار اور انڈر وئیر اتارنے کے بعد فروہ کے ساتھ ٹب میں ہی دوسری جانب لیٹ گیا۔ ٹب کی ایک سائیڈ پر فروہ ٹیک لگائے ہوئے تھی تو دوسری سائیڈ پر میاں فراز۔ فراز نے اپنی ٹانگیں پھیلائیں تو فروہ بھی تھوڑی دراز ہوئی اور اپنا جسم مزید ٹب کے پانی میں کر دیا کہ اب اسکا جسم پانی سے باہر نظر نہیں آرہا تھا مگر اب اسکے پاوں میاں فراز کے ادھ کھڑے لن تک پہنچ رہے تھے۔ فروہ نے اپنے پاوں کے ساتھ فراز کے ادھ کھڑے لن کا مساج شروع کیا تو چند سیکنڈ میں ہی لن مکمل طور پر کھڑا ہوگیا ، فروہ نے پاوں سے اسکا مساج جاری رکھا۔
    فروہ اپنے دونوں پاوں آپس میں ملا کر لن کو انکے درمیان میں لیکر پاوں اوپر نیچے کر کے ہلا رہی تھی جس سے میاں فراز کے ٹوپے کو اچھی رگڑ مل رہی تھی اور فروہ کے ریشمی پاوں اسے بہت مزہ دے رہے تھے، وہ آنکھیں بند کیے اپنا سر پیچھے ٹب کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھا تھا۔ کچھ دیر تک اسی طرح مساج کرنے کے بعد فروہ اپنے ایک پاوں کی انگلیوں اور انگوٹھے سے فراز کے ٹٹوں کو رگڑنے لگی جبکہ اسکے لن کو اوپر کی طرف اٹھا کر اسکے پیٹَ کے ساتھ لگا دیا اور اپنے دوسرے پاوں کے انگوٹھے اور ساتھ والی انگلی سے لن کا مساج جاری رکھے ہوے تھی۔ اتنا مزہ تو میاں فراز کو کبھی کسی گشتی نے بھی نہیں دیا تھا جتنا مزہ فروہ کے پاوں کا مساج دے رہا تھا۔
    کچھ دیر بعد فروہ نے اپنے پاوں فراز کے لن اور ٹٹوں سے ہٹا لیے اور فراز سے تھوڑا پیچھے ہوکر اپنی کمر سیدھی کر لی جس سے اسکے ممے پانی سے باہر نکل آئے۔ فروہ کے مموں پر ٹب میں موجود جھاگ لگی ہوئی تھی جو اس نے ساتھ موجود ہینڈ شاور سے اپنے سینے پر پانی گرانا شروع کیا تو جھاگ بہ کر نیچے چلی گئی اور پانی سے چمکتے ہوئے فروہ کے 36 سائز کے تنے ہوئے ممے میاں فراز کو اپنی طرف کھینچنے لگے۔ فراز اب ٹب میں گھٹنوں کے بل بیٹھ کر فروہ کی طرف بڑھا جس سے اسکا تنا ہوا لوڑا بھی ٹب سے باہر نکل آیا۔ فراز فروہ کے پہلو میں آکر بیٹھ گیا اور اسکے اوپرہلکا سا جھک کر اسکے ایک ممے کو اپنے ہاتھ سے پکڑ لیا اور اسکے مموں کی گولائی اور تناو کو ہلکا ہلکا دبا کر اسکے نسوانی حسن کی داد دینے لگا، جبکہ فروہ کا ہاتھ رینگتا ہوا فراز کے لوڑے تک جا پہنچا تھا اور اس نے آہستہ آہستہ اسکے لوڑے کی مٹھ مارنی شروع کردی تھی۔
    فروہ کا سینہ زیادہ بڑا نہیں تھا وہ کافی سمارٹ لڑکی تھی، غیر شادی شدہ اور محض 22 سال کی عمر، مگر اس پر اسکے 36 انچ کے تنے ہوئے ممے ایسے لگ رہے تھے جیسے کسی نے چھوٹے سائز کے گول خربوزے اٹھا کر اسکے سینے پر رکھ دیے ہوں۔ فراز اب اسکے مموں پر جھک چکا تھا اور اسکے ہلکے براون نپلز کے گرد اپنی زبان کی نوک سے مساج کر رہا تھا جب کے فروہ کا ہاتھ لنڈ کی مٹھ مارنے میں مصروف تھا۔ کچھ دیر فروہ کے نپلز کے گرد زبان پھیرنے کے بعد اب فراز اسکے چھوٹے چھوٹے مگر تنے ہوئے سخت نپلز پر بھی زبان پھیر رہا تھا اور درمیان میں ہولے سے ان پر کاٹ بھی رہا تھا۔
    فراز جب فروہ کے نپلز کو دانتوں میں لیکر کاٹتا تو فروہ کی ایک سسکی نکلتی اور اسکے ہاتھ کی گرفت لنڈ پر اور بھی سخت ہوجاتی۔ کچھ دیر میں فراز فروہ کے اوپر آچکا تھا اور اسکےگلاب کی پنکھڑیوں جیسے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے چوسنے میں مصروف تھا، اس عمل کے دوران فراز کے لنڈ کی ٹوپی فروہ کی پھدی کے دروازے پر دستک بھی دے رہی تھی جس سے فروہ کو مزہ آنے لگا تھا۔
    فروہ نے اپنی دونوں ٹانگیں کھول لی تھیں اور انہیں اوپر اٹھا کر فراز کو آگے آنے کا راستہ دیکر اپنی ٹانگیں اسکی کمر کے گرد لپیٹ کر مظبوط گرفت بنا لی تھی۔ فراز کا لنڈ تنا ہوا جھٹکے مار رہا تھا کبھی وہ فروہ کی پھدی کے لبوں سے ٹکراتا تو کبھی اسکی تھائیز اور کبھی پیٹ سے ٹکراتا۔ جبکہ فراز کی زبان فروہ کے گرما گرم منہ کی سیر کر رہی تھی جہاں فروہ اور فراز کی زبانوں کی آپس میں لڑائی جاری تھی اور دونوں ایکدوسرے کو چوسنے کی سر توڑ کوشش کر رہی تھیں۔ لن کی بار بار دستک نے فروہ کی طلب میں اضافہ کر دیا تھا اس نے میاں فراز کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لیکر چوسنا شروع کیا اور نیچے سے ہاتھ آگے لیجا کر میاں فراز کا لنڈ اپنے ہاتھ میں پکڑ کر اسکا ٹوپا اپنی پھدی کے سوراخ پر فِٹ کیااور خود ہی اپنی گانڈ اوپر اٹھا کر ایک ہی جھٹکے میں آدھا لنڈ پھدی میں داخل کر لیا تھا۔
    فروہ کی پھدی پہلے ہی کافی گیلی تھی اندر سے اور پھر شیمپو سے بنی جھاگ نے اسکی پھدی کو اور بھی چکنا کر دیا تھا جسکی وجہ سے فراز کا لن آسانی سے اسکی پھدی میں داخل ہوگیا تھا۔ چوت کی دیواروں کو چیرتا ہوا لن اندر داخل ہوا تو فروہ کے جسم نے ایک ہلکا سا جھٹکا لیا اور اس نے اپنے دانتوں سے فراز کے ہونٹوں کو کاٹ لیا اور ایک ہلکی سی سسکی بھی لی۔ لن اندر جاتے ہی فراز نے بھی آہستہ سے لن تھوڑا باہر نکال کر ایک اور جھٹکا لگایا اور پورا لنڈ فروہ کی چوت کی گہرائیوں میں اتار دیا۔
    پورا لنڈ چوت میں گھسا کر فراز نے آہستہ آہستہ دھکے لگانا شروع کیے اور ساتھ ہی فروہ کے ہونٹوں کو چھوڑ کر اسکے خوبصورت گول اور کسے ہوئے مموں کو منہ میں لیکر چوسنا شروع کر دیا۔ فروہ کے ہاتھ فراز کی کمر پر اپنے ناخنوں سے نشان ڈال رہے تھے جبکہ اس نے اپنی چوت کو سکیڑ رکھا تھا جس سے فراز کو پھدی مارنے کا مزہ آرہا تھا، اس نے اپنی رفتار بڑھانے کی کوشش کی مگر جسم کا زیادہ حصہ پانی میں ہونے کی وجہ سے پانی میں زیادہ ہلچل پیدا ہوئی اور وہ اپنی رفتار نہ بڑھا سکا۔ فروہ کی پھدی بھی دھواں دھار چدائی کی طلبگار تھی اس لیے اس نے بھی اندازہ لگا لیا تھا کہ اس پوزیشن میں چوت میں لنڈ زیادہ رفتار سے دھکے نہیں لگا سکتا لہذا کچھ ہی دیر کی چدائی کے بعد اس نے فراز کو لنڈ نکالنے کو کہا۔
    فراز نے لنڈ پھدی سے نکالا تو فروہ ٹب میں ہی گھوڑی بن گئی، اسکے دونوں بازو باتھ ٹب کی چھوٹی دیوار سے سہارا لیے ہوئے تھے اور وہ گھوڑی بنی لنڈ کی منتظر تھی، میاں فراز پیچھے سے اسکی ٹانگوں کے درمیاں آیا اور اس نے فروہ کے گوشت سے بھرے چوتڑوں کے پہاڑوں کو پکڑ کر انکو کھول کر اپنے لنڈ کی ٹوپی پھدی کے سوراخ پر رکھی اور ایک ہی جھٹکے میں اپنا پورا لنڈ فروہ کی پھدی کی گہرائیوں میں اتار دیا۔ لنڈ پھدی میں اترا تو فروہ کی ایک چیخ نکلی کیونکہ اس پوزیشن میں پھدی تھوڑی ٹائٹ بھی تھی اور فراز نے بھی پورا لنڈ ایک ہی جھٹکے میں اندر گھسا دیا تھا۔
    پہلے جھٹکے کے بعد فراز نے لگاتار فروہ کی پھدی میں گھسے لگانا شروع کر دیے جس سے فروہ کو مزہ آنے لگا اور اسنے آہ ہ ہ ہ- - - - - - - آہ ہ ہ ہ ہ ہ - - - - آہ ہ ہ کی آوازیں نکالنا شروع کر دیں۔ فراز کو بھی پسند تھا لڑکیوں کو گھوڑی بنا کر چودنے کا اور فروہ جیسی جوان اور ٹائٹ پھدی نے تو اسکے لنڈ کو بہت ہی زیادہ مزہ دیا تھا جس کی وجہ سے وہ بھی لگاتار اسکی پھدی میں گھسے لگا رہا تھا ساتھ ساتھ اسکے چوتڑوں کو بھی دبا دبا کر اسکی گانڈ میں اپنی ایک انگلی سے دباو ڈال رہا تھا۔
    کچھ ہی دیر کی چودائی کے بعد فراز نے فروہ کے لٹکتے ہوئے مموں کو پکڑا اور اسے کھینچ کر اپنے قریب کر لیا جس سے فروہ اب گھوڑی بننے کی بجائے گھٹنوں کے بل بیٹھی تھی اور اسکی پتلی خم کھاتی کمر فراز کے قریب تھی جبکہ اسکی بھری ہوئی گانڈ اور چوتڑ میاں فراز کے جسم سے جڑے ہوئے تھے اور نیچے سے فراز کا لنڈ لگاتار فروہ کی ٹائٹ پھدی میں دھکے لگا رہا تھا۔ اس پوزیشن میں لا کر فراز نے فروہ کی گردن پر پیار کرنا شروع کر دیا اور اپنے دانتوں سے اسکو ہلکا ہلکا کاٹنے لگا۔ فراز نے ایک ہاتھ سے فروہ کا مما پکڑ رکھا تھا اور اپنے انگوٹھے اور انگلی سے اسکے نپل کر ہولے ہولے دبا رہا تھا جبکہ اپنا دوسرا ہاتھ وہ فروہ کی پھدی کے اوپر رکھ کر اسکو رگڑنے میں مصروف تھا ۔ پیچھے اسے اسکا لوڑا فروہ کی ٹائٹ پھدی میں کھدائی کر رہا تھا جبکہ اسکے دانت فروہ کی گردن پر اپنے پیار کے نشان چھوڑ رہے تھے۔
    اس ساری صورتحال نے فروہ کو بے پناہ مزہ دیا تھا اور واش روم اسکی سسکیوں سے گونج رہا تھا۔ آہ ہ ہ ۔۔۔ اف ف ف ۔۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔ زور سے چودو میری چوت فراز۔۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ہ ۔ ۔ ۔ ۔ اف ف ف ف ف ۔ اف ف ف ف۔ ۔ ۔ آہ ہ ہ ہ ۔ ۔ ۔ آہ ہ ہ ہ ۔۔۔ ام م م م م ۔۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔ ان سسکیوں کے ساتھ ساتھے فروہ کے چوتڑ جب فراز کے پیٹ کے نچلے حصے سے ٹکراتے تو واش روم دھپ دھپ کی آوازوں سے گونجنے لگتا۔
    کچھ ہی دیر میں فروہ کی گرما گرم پھدی نے پانی چھوڑنا شروع کر دیا اور چند ہی جھٹکوں نے اسکی پھدی کا سارا پانی نکال دیا۔ اس دوران فراز نے دھکے لگانا جاری رکھے اور آگے سے اپنے ہاتھ سے فروہ کی چوت کی رگڑائی بھی تیز کر دی تھی۔ جب فروہ کی پھدی اپنا سارا پانی چھوڑ چکی تو اس نے آگے ہوکر اپنی پھدی کو فراز کے لن سے آزاد کیا اور واپس مڑ کر فراز کے گلے لگ کر اسکو دیوانہ وار پیار کرنے لگی۔ فراز کا لنڈ ابھی بھی اپنے جوبن پر تھا اور اسے ابھی مزید پھدی کی ضرورت تھی۔ اس نے فروہ کو اپنی گود میں اٹھایا اور ٹب سے نکل کر شاور آن کر دیا اور اسکے نیچے لیجا کر فروہ کو کھڑا کیا ۔ 22 سالہ پتلی نازک فروہ کا وزن بہت ہی کم تھا اس لیے فراز کو اسے گود میں اٹھاتے ہوئے کوئی مشکل نا ہوئی۔ کچھ دیر تک دونوں کے جسم پر شاور سے پانی گرتا رہا جس نے انکے جسم سے صابن والے پانی کو صاف کر دیا۔ اس دوران فروہ مسلسل فراز کو چومنے چاٹنے میں مصروف تھی جبکہ نیچے سے وہ فراز کا لنڈ ہاتھ میں لیکر اسکی مٹھ مار رہی تھی۔
    کچھ دیر بعد میاں فراز نے فروہ کو کندھوں سے پکڑ کر اسکو نیچے بٹھا دیا جس پر فروہ فوران نیچے بیٹھی اور اسکے لنڈ کو اپنے منہ میں لیکر اسکے چوپے لگانا شروع کر دیے۔ فراز کا لنڈ اتنا زیادہ لمبا نہیں تھا اس لیے وہ آسانی سے فروہ کے منہ میں مزے کر رہا تھا۔ فروہ کی پھدی پانی تو چھوڑ چکی تھی مگر اسکی گرمی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی، وہ بہت بے تابی کے ساتھ فراز کے لنڈ کی ٹوپی کو منہ میں لیکر اپنے ہونٹوں کا ہلکا بنا کر اسکو چوسنے میں مصروف تھی جبکہ ایک ہاتھ سے وہ فراز کے ٹٹوں کو بھی مسل رہی تھی جس سے فراز کو مزہ آرہا تھا۔
    کچھ دیر اس طرح چوپے لگانے کے بعد فراز نے فروہ کے سر کے پیچھے سے بالوں کو اکٹھا کر کے اسکے سر کو پکڑ لیا اور اپنا لنڈ اسکے منہ میں آگے پیچھے کر کے اسکے منہ کو چودنا شروع کر دیا۔ فروہ نے اپنے دونوں ہاتھ فراز کی تھائیز پر رکھ لیے اور اپنا منہ پورا کھول دیا ۔ فراز اب اسکے سر کو بالوں سے پکڑ کر اپنا لنڈ تیزی سے اسکے منہ میں اندر باہر کررہا تھا۔ فراز کا لنڈ فروہ کی زبان سے رگڑ کھاتا ہوا اندر جاتا تو کبھی کبھار فروہ کے اوپر والے دانت بھی اسکے لنڈ سے ٹکراتے جس سے فراز کو تھوڑی تکلیف تو ہوتی مگر اس تکلیف میں بھی ایک مزہ تھا جسکو فراز انجوائے کر رہا تھا۔
    منہ کی چودائی کرواتے ہوئے فروہ کے منہ سے رال ٹپکنے لگی تھی اور فراز کا لنڈ کچھ ہی دیر میں فروہ کے تھوک سے بھر چکا تھا۔ کچھ دیر تک فروہ کا منہ چودنے کے بعد فراز رکا تو فروہ نے لنڈ کو ایک با پھر چوس کر اسکو بالکل صاف کر دیا۔ اب فراز نے شاور بند کیا اور فروہ کو ایک بار پھر اپنی گود میں اٹھا کر واش روم سے نکلا اور فروہ کے بیڈ پر لیجا کر اسے بہت پیار سے بیڈ پر لٹا دیا۔ بیڈ پر لیٹتے ہی فروہ نے اپنا ہاتھ اپنی زبان پر پھیر کر اس پر تھوک لگایا اور اسے اپنی پھدی پر پھیر کر اسے چکنا کرنے لگی۔ فراز بھی بیڈ پر فروہ کی ٹانگوں کے درمیان میں آیا اور اسکی ٹانگوں کو کھول کر اسے تھوڑا اوپر اٹھا کر فروہ کی چکنی پھدی تک اپنے لنڈ کے لیے راستہ بنا لیا۔
    فراز نے لنڈ کی ٹوپی فروہ کی چوت کے سوراخ پر رکھی اور ایک ہلکا سا جھٹکا مارا جس سے لنڈ کی ٹوپی چوت میں اتر گئی اور فروہ کی ہلکی سی سکی نکلی۔ اسکی آنکھوں میں ایک نشہ تھا۔ فروہ نے آنکھوں کے اشارے سے ہی فراز کو بتا دیا تھا کہ ایک ہی دھکے میں پورا لنڈ اندر اتار دے۔ فراز نے اگلا دھکا زور سے لگایا تو فروہ کی چیخ نکلی مگر فراز اس بار رکا نہیں اور اس نے فروہ کی دونوں ٹانگو ں کو اوپر اٹھا کر آپس میں ملا دیا اور انہیں اک سائیڈ پر کر کے اپنے ایک بازو سے سہارا دیا ، اس حالت میں دونوں ٹانگیں ملی ہونے کی وجہ سے فروہ کی چوت کی دیواریں آپس میں مل گئی تھیں اور فروہ کی پھدی جو شائستہ اور ماریہ کے مقابلے میں پہلے ہی بہت ٹائٹ تھی، مزید ٹائٹ ہوچکی تھی۔
    اس پوزیشن میں پھدی مارنے کا فراز کو بہت مزہ آرہا تھا۔ اسکی اپنی بیوی کی پھدی تو کافی کھلی تھی اور کل جو اس نے شائستہ کی پھدی ماری تھی وہ بھی کافی کھلی تھی، مگر آج فروہ جو محض 22 سال کی تھی اسکی ٹائٹ پھدی فراز کو بہت مزہ دے رہی تھی ۔ کچھ دیر اسی پوزیشن میں فروہ کی پھدی میں دھکے لگانے سے فراز کو لگا کہ وہ بہت جلد فارغ ہوجائے گا تو اس نے دھکے لگانا بند کیے اور ایک بار پھر فروہ کی دونوں ٹانگوں کو کھول دیا اور خود رمیان میں ہی رہا۔
    فراز کا لنڈ ابھی بھی فروہ کی پھدی میں تھا، فراز فروہ کے اوپر لیٹ گیا اور اسکے جسم پر پیار کرنے لگا۔ اس نے اپنے جھٹکے کچھ دیر کو روک دیے تھے ، فروہ بھی میاں فراز کو پیار کر رہی تھی، کچھ ہی دیر میں فروہ نے اپنی گانڈ ہلا کر فراز کو دوبارہ دھکے لگانے کا کہا تو فراز نے فروہ کے اوپر لیٹے لیٹے ہی اسکی پھدی میں دوبارہ لن سے چودائی شروع کر دی۔ مگر اب وہ فروہ کے ممے اور اسکے چھوٹے چھوٹے مگرسخت نپل منہ میں لیکر چوس رہا تھا۔ کچھ دیر اسی طرح چودائی کرنے کے بعد فروہ نے فراز کے لن کی سواری کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تو فراز نے لن پھدی سے نکالے بغیر ہی فروہ کو کمر سے پکڑا اور ایک ہی قلابازی میں فروہ کو اٹھا کر اپنے اوپر لے آیا اور خود گھوم کر فروہ کے نیچے آگیا۔
    اب فروہ اوپر تھی اور فراز نیچے، اور لنڈ پھدی کے اندر۔ فراز نے فروہ کو اپنے اوپر گرا لیا، اسکے 36 انچ کے ممے فراز کے سینے میں کھب گئے تھے اور فراز نے فروہ کو چوتڑوں سے پکڑ کر اسے تھوڑا سا اوپر اٹھایا اور نیچے سے فروہ کی پھدی میں لن سے پھر چودائی شروع کر دی۔ اس پوزیشن میں فروہ نے اپنی پھدی کی دیواروں کو دبا کرآپس میں ملانے کی کوشش کی تاکہ پھدی مزید ٹائٹ ہو اور اسکی دیواروں پر لن کی رگڑ لگے تو چدائی کا مزہ دوبالا ہوجائے۔
    فراز کے لوڑے نے بھی اندازہ لگا لیا تھا کہ پھدی پہلے سے زیادہ ٹائٹ ہے تو اس نے ایک بار پھر گھوڑے کی طرح سر پٹ دوڑنا شروع کر دیا۔ فراز کے لن کا ٹوپا مسلسل فروہ کی پھدی کو رگڑ لگا کر اسکو بھی مزہ دے رہا تھا اور فراز کو بھی اس جوان پھدی کو چودنے کا مزہ آرہا تھا۔ کچھ دیر مزید دھکے لگے تو فروہ کی پھدی نے ایک بار پھر پانی چھوڑ دیا۔ فروہ کی پھدی نے گرما گرم پانی چھوڑا تو فراز کے لنڈ میں بھی سوئیاں چبھنے لگیں اور اسکو اپنے لن کی رگیں پھولتی ہوئی محسوس ہوئیں۔
    اس سے پہلے کہ فروہ کی پھدی کا سارا پانی نکلتا، فراز نے بھی اپنے لنڈ سے منی کی دھاریں نکالنا شروع کیں جو فروہ کی پھدی کے اندر کہیں گہرائیوں میں جا کر جمع ہونے لگی۔ کچھ ہی دھکوں کے بعد فروہ کی پھدی اور فراز کا لنڈ پرسکون ہوچکے تھے اور فراز اب فروہ کو اپنے نیچے لٹائے اسکے سینے پر آہستہ آہستہ پیار کر رہا تھا۔ اسکا ابھی مزید ایک راونڈ لگانے کا پروگرام تھا اور فروہ کو بھی اس سے کوئی اعتراض نہیں تھا کیونکہ وہ ابھی مزید چدائی کے موڈ میں تھی۔
    مگر اتنے میں فروہ کے موبائل پر بیل ہوئی تو اسنے پاس بڑے موبائل کی طرف دیکھا جہاں انجان نمبر سے کال آرہی تھی۔ فروہ یہ نمبر پہچانتی تھی، اس نے فوری کال اٹینڈ کی۔ یہ ٹینا کی کال تھی جو اسے فورا کراچی کے ایک پوش علاقے میں پہنچے کے لیے کہ رہی تھی۔ ٹینا سے ضروری ہدایات لینے کے بعد وہ فوری طور پر فراز کے نیچے سے نکلی اور اپنے کپڑے پہننے کے بعد اس نے فراز کو بتایا کہ اسے فوری یہاں سے نکلنا ہے، صبح وہ لاہور چلا جائے کیونکہ آج رات فروہ کی واپسی نہیں ہوگی۔
    یہ کہ کر فروہ کمرے سے نکلی اور نیچے جا کر سٹور روم سے اس نے ایک بلیک جیکٹ نکال کر پہنی، ایک بلیک ہیلمیٹ اٹھا کر پہنا اور پھر ساتھ ہی موجود ایک کالے رنگ کے ہیوی بائیک کو سٹارٹ کیا اور فوری طور پر میاں فراز کے گھر سے نکل کر کراچی کے ایک پوش علاقے کی طرف روانہ ہوگئی۔


  19. The Following 9 Users Say Thank You to fiz.kamran For This Useful Post:

    abba (04-01-2018), abkhan_70 (30-12-2017), Irfan1397 (30-12-2017), Lanmaarbutt (30-04-2018), panjabikhan (26-01-2018), piyaamoon (29-12-2017), salm_613 (16-01-2018), sexeymoon (29-12-2017), teno ki? (15-05-2018)

Tags for this Thread

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •