Page 3 of 21 FirstFirst 123456713 ... LastLast
Results 21 to 30 of 209

Thread: محبت جب ہوئی۔۔best story of the month of feb 2015

  1. #21
    khan sab's Avatar
    khan sab is offline Premium Member
    Join Date
    Oct 2011
    Posts
    501
    Thanks
    105
    Thanked 1,408 Times in 434 Posts
    Time Online
    1 Week 1 Day 20 Hours 39 Minutes 16 Seconds
    Avg. Time Online
    5 Minutes 47 Seconds
    Rep Power
    123

    Default

    zabrdast store ha.................shandar opening hoi ha.........

  2. The Following 7 Users Say Thank You to khan sab For This Useful Post:

    abba (06-01-2015), anjumshahzad (01-06-2017), hot_irfan (19-02-2015), khoobsooratdil (04-01-2015), Pia_gee (03-01-2015), shaikhuu (05-01-2015), suhail502 (15-01-2015)

  3. #22
    Lovelymale's Avatar
    Lovelymale is offline Premium Member
    Join Date
    Aug 2008
    Location
    Islamabad, Pakistan, Pakistan
    Age
    54
    Posts
    1,988
    Thanks
    14,214
    Thanked 6,991 Times in 1,793 Posts
    Time Online
    2 Weeks 2 Days 19 Hours 43 Minutes 41 Seconds
    Avg. Time Online
    10 Minutes 58 Seconds
    Rep Power
    1045

    Default

    Story boht achi lag rahi hai, dekhain agay kis karwat beth'ti hai. Pehli qist se to andaza hota hai keh kafi pehlti hui kahani hogi.

  4. The Following 7 Users Say Thank You to Lovelymale For This Useful Post:

    abba (06-01-2015), anjumshahzad (01-06-2017), hot_irfan (19-02-2015), khoobsooratdil (04-01-2015), Pia_gee (03-01-2015), shaikhuu (05-01-2015), suhail502 (15-01-2015)

  5. #23
    gafzali is offline Premium Member
    Join Date
    May 2008
    Posts
    34
    Thanks
    54
    Thanked 115 Times in 30 Posts
    Time Online
    4 Days 13 Hours 15 Minutes 25 Seconds
    Avg. Time Online
    2 Minutes 58 Seconds
    Rep Power
    14

    Default

    Bhout Hi Achi Kahani Hai. Meri Writer Say Ya Darkhawast Hai Kay Is kahani Ko Mukammal Kary Adhora Na Choray. Mazza Aagaya

  6. The Following 8 Users Say Thank You to gafzali For This Useful Post:

    abba (06-01-2015), anjumshahzad (01-06-2017), hot_irfan (19-02-2015), khoobsooratdil (04-01-2015), Lovelymale (04-01-2015), Pia_gee (03-01-2015), shaikhuu (05-01-2015), suhail502 (15-01-2015)

  7. #24
    khoobsooratdil's Avatar
    khoobsooratdil is offline Premium Member
    Join Date
    Dec 2009
    Location
    Pakistan
    Posts
    6,507
    Thanks
    26,366
    Thanked 26,232 Times in 6,370 Posts
    Time Online
    4 Days 21 Hours 9 Minutes 7 Seconds
    Avg. Time Online
    3 Minutes 11 Seconds
    Rep Power
    2747

    Default

    سہاگ رات کا کیا شاندار سیکس سین دکھایا ہے جناب مزہ آ گیا گریٹ اپڈیٹ جناب
    I don't have time to hate people who hate me,
    because I am too busy loving people who love me.

  8. The Following 6 Users Say Thank You to khoobsooratdil For This Useful Post:

    abba (06-01-2015), anjumshahzad (01-06-2017), hot_irfan (19-02-2015), Pia_gee (04-01-2015), shaikhuu (05-01-2015), suhail502 (15-01-2015)

  9. #25
    Pia_gee's Avatar
    Pia_gee is offline UrduFunda
    Join Date
    Nov 2011
    Location
    Lahore
    Posts
    1,348
    Thanks
    5,256
    Thanked 6,351 Times in 1,305 Posts
    Time Online
    1 Week 21 Hours 53 Minutes 37 Seconds
    Avg. Time Online
    5 Minutes 9 Seconds
    Rep Power
    1564

    Default

    boht shukrai KD bhai.irfan bhai.LM..SM ,,DR.FAISLA awr baki hazraat ka..ap sub ki hosla afzzai mjh ma mazeed likhny ki tehreek paida kar rahi hai..
    ..
    kahani ki 3rd update hazir hai..



  10. The Following 5 Users Say Thank You to Pia_gee For This Useful Post:

    abba (06-01-2015), hot_irfan (19-02-2015), khoobsooratdil (04-01-2015), shaikhuu (05-01-2015), suhail502 (15-01-2015)

  11. #26
    Pia_gee's Avatar
    Pia_gee is offline UrduFunda
    Join Date
    Nov 2011
    Location
    Lahore
    Posts
    1,348
    Thanks
    5,256
    Thanked 6,351 Times in 1,305 Posts
    Time Online
    1 Week 21 Hours 53 Minutes 37 Seconds
    Avg. Time Online
    5 Minutes 9 Seconds
    Rep Power
    1564

    Default

    عارف جمال کے بہیمانہ قتل پہ پورا میڈیا چیخ اُٹھا۔۔عارف جمال کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں تھا۔۔مشہور اِنڈسٹریلیسٹ تھے۔۔پاکستان میں انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم کے سفیر اور بہت ساری پرائیویٹ این جی اوز کے چیف ٹرسٹی تھے۔۔ خاصے خدا ترس انسان تھے۔۔مگر اچھے لوگ دنیا کی صحبت کا زادِ راہ اِتنا ہی لیکر سفرِ فانی شروع کرتے ہیں جتنی کم مدتی سانسیں کاتبِ تقدیر سے لکھوا لاتے ہیں۔۔ کل رات اُنکا توشہِ سفر اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔۔تقدیر اپنی چال چل گئ اور اُنکا کسی نے بڑی بے رحمی سے قتل کر دیا۔۔پولیس نے اُنکی بیوہ سلطانہ عارف کی مدعیت میں مقدمہ درج کرنے کی ضروری کاروائی کرتے ہوئے پوری تندہی سے قاتل کی تلاش شروع کر دی تھی۔۔۔ابتدائی رپورٹ کو مدِ نظر رکھ کر پولیس ماہرین کا خیال تھا کے قاتل جو بھی تھا بلا کا پھرتیلا اور چست تھا۔۔عارف جمال کی طرف سے مزاحمت بھی ہوئی مگر وہ جم کر اس کا مقابلہ نہ کر سکے ۔۔قاتل نے کسی تیز دھار آلہ سے اُنکے سینے پہ پے در پے وار کئے۔۔جس سے انکی انتڑیاں تک باہر نکل آئیں۔۔قاتل نے عارف جمال کے اعضاء مخصوصہ کو کاٹ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر دئے تھے۔۔ جس سے قاتل کے زہنی دیوالیہ ہونے کا ثبوت ملتا تھا۔۔عارف جمال کے ملازم کو پولیس نے اپنی تحویل میں لیکر تفشیش شروع کر دی ہے جس سے سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔اس کیس کے انچارج ایس ایچ او خوش بخت گِل تھے۔۔جن کو پولیس کی دنیا میں عقاب کہا جاتا تھا۔سینکڑوں انکاونٹرز کا اندراج اُن کے کھاتے میں تھا۔جس جگہ اُنکی پوسٹنگ ہو جاتی تھی مجرم اپنا بوریا بستر باندھ لیتے تھے۔اُنھوں نے جلد سے جلد قاتل کو گرفتار کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔۔۔سیاسی قیادت نے اسے بین الاقوامی سانحہ قرار دیتے ہوئے ایک روزا سوگ کا اعلان کر دیا۔۔کچھ ناعاقبت اندیش اسے ملک کو بدنام کرنے کی عالمی سازش قرار دے رہے تھے۔۔بین الاقوامی سفیر ہونے کی وجہ سے باہر سے بھی کافی دباؤ تھا۔۔تو پولیس کے لئے یہ کیس دردِسر تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اب آپ کیسا محسوس کر رہی ہیں۔۔؟؟میں نے اُس حسین نووارد سے پوچھا۔۔اُس کے لب کپکپایے مگر کچھ منہ سے برآمد نہ ہوا۔۔آ آں کچھ نہ بولیں۔۔آپ آرام کریں میں آپ کے لئے چائے بنا کے لاتا ہوں۔۔میں نے کمبل سے اُس کے مرمریں وجود کو ڈھانپ دیا اور خود کچن میں چلا گیا۔۔چائے بناتے ہوئے میں مسلسل اُس حسینہ کے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔میرا قیاس تھا کے یہ کوئی ڈاکو حسینہ تھی جو بعد میں غلط ثابت ہوا۔۔یہ مظلوم حسینہ جسکی خستہ حالت اُسکی مظلومیت کو عیاں کر رہی تھی کسی گہرے صدمے کا شکار تھی۔۔چائے بن چکی تھی۔۔میں نے دو کپ بھرے اور لیکر اپنے کمرے کی طرف ہو لیا جہاں وہ ماہ رُخ تجلی ریز تھی۔۔میں نے کمبل اُس کے چہرے سے ہٹا دیا۔۔اُسکی آنکھیں بند تھیں۔۔جن پہ لامبی پلکوں کی جھالریں بہت دلکش منظر نگاری کر رہی تھیں۔۔میں چند لمحے یونہی اُس کے معصوم چہرے کو دیکھتا رہا پھر اُس کے کندھے سے پکڑ کر ہلایا۔۔وہ اوں آں کرتی اُٹھ بیٹھی۔۔میں نے چائے اُسے تھمائی تو اُس نے خاموشی سے کپ تھام لیا اور چسکیاں لینے لگی۔۔چائے کی چسکیاں لیتے وقت وہ خلا میں گھور رہی تھی۔۔میں بغور اُسکی حرکاتُ سکنات کا جائزہ لے رہا تھا۔۔اُس نے چائے ختم کی اور ایک گیری سانس لے کر مجھے دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اُسکا نام مناہل آفتاب تھا۔۔اور وہ لاہور کے ایک دور افتادہ علاقے سے تعلق رکھتی تھی۔مناہل اپنے والدین کی اِکلوتی اولاد تھی جس کو وہ بہت پیار کرتے تھے۔مناہل جب آٹھویں کلاس میں تھی تو اُسکا باپ آفتاب چل بسا۔۔ باپ کے مرنے کے بعد اُسکی ماں شاہین نے دوسری شادی کر لی۔۔شروع شروع جب تک اُسکی ماں زندہ رہی تو اُسکے سوتیلے باپ اظہر کا رویہ نہایت خوش کن تھا۔۔وہ اُسکی تمام ضروتیں پوری کرتا اور اُسکو بے انتہا پیار کرتا۔۔مناہل کو پڑھنے کا شوق تھا جسکے لئے میٹرک کے بعد اُسے ایک اچھے کالج میں اڈمیشن دلایا گیا۔۔مناہل جب تھرڈ ائیر میں تھی تو اُسکی ماں کا سایہ بھی
    اُس کے سر سے اُٹھ گیا۔۔ماں کے مرنے کے بعد صرف اظہر سے اُسکی توقعات وابستہ تھیں جس کو وہ اپنے سگے باپ سے بھی زیادہ پیار کرتی تھی۔۔مگر شاہین کے مرنے کے بعد اظہر بھی بدل گیا۔۔ آئے دن اظہر اپنے ساتھ گھر میں آوارہ دوست لے آتا جو ساری رات شراب پیتے اور غل غپاڑہ کرتے۔۔اگر مناہل اظہر سے کوئی شکایت کرتی تو وہ اُلٹا اُسے زلیل کر دیتا۔۔ایک دن تو حد ہی ہو گئی۔۔ اظہر کے ایک دوست زلفی نے شراب کے نشے میں مناہل کے بازو سے پکڑ لیا اور اُسکے جسم کے نشیب و فراز کو ٹٹولنے کی کوشش کی۔۔مناہل نے بمشکل اُسے دھکا دے کر گرایا اور بھاگ کے کمرے میں داخل ہو کر اپنی جان بچائی۔۔اگلے دن وہ کالج سے واپس آئی تو اظہر آتش فشاں بنا ہوا تھا۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی زلفی صاحب سے بدتمیزی کرنے کی۔۔وہ چھوٹتے ہی گرج کے بولا۔۔
    نہیں پپا۔۔میں نے کوئی بدتمیزی نہیں کی۔۔بلکہ۔۔۔۔۔۔اُس نے رو رو کر خود پہ بیتنے والی بپتا سنائی۔۔
    مگر اظہر نے طنزیہ انداز میں اُسکی بات کو ہوا میں اُڑا دیا۔چٹاخ،،ایک زور دار تھپڑ اُسکے گال پہ ثبت ہوتا نشان بنا گیا۔۔۔جھوٹ مت بول کمینی۔۔وہ دھاڑا۔۔اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا۔۔مناہل کا چہرہ آنسوؤں سے بھر گیا۔۔وہ تیزی سے اپنے کمرے کی جانب بھاگی اور بستر میں اوندھے منہ گر کر دھاڑیں مار مار کر رونے لگی۔۔ کافی دیر آنسو بہانے کے بعد نہ جانے کب اُسکی آنکھ لگ گئی اور وہ سو گئی۔۔ رات کا ناجانے کون سا پہر تھا کے اُسکی آنکھ ایک کھٹکے سے کھُلی ۔۔وہ ہڑبڑا کے اُٹھ گئی۔۔ دروازے پہ زلفی خباثت بھری مسکُراہٹ کے ساتھ براجمان تھا۔اُسکی آنکھیں نشے کی شدت سے لال تھیں۔اُس کو اس حالت میں دیکھ کر مناہل کی چیخ نکل گئی۔۔ کک کیا بات ہے زلفی انکل۔۔۔ مناہل نے کپکپاتے لبوں سے پوچھا۔۔
    اظہر نے تجھ سے کچھ بولا نہیں آج ؟ وہ لڑکھڑاتے ہو بولا۔۔
    مناہل کو چپ سی لگ گئی۔۔
    بول ۔۔اُس نے کچھ کہا کہ نہیں؟؟ وہ دھاڑ کر بولا تو مناہل نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔اُس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔۔۔
    کیا بولا وہ۔۔اب کی بار زلفی کی آواز سانپ کی پھنکار سے مشابہ تھی۔۔
    جج جی آپ سے معافی مانگنے کو کہا۔۔مناہل نے سہمتے ہوئے جواب دیا۔۔
    تو کیا خیال ہے پھر ؟؟ زلفی نے استہزایہ لہجے میں کہا۔۔
    مناہل نے سر جُھکا لیا اور بولی۔۔ایم سوری۔۔
    کیا بکواس ہے یہ۔۔وہ طنزیہ لہجے میں بولا۔۔ یہ انگریجی کا قاعدہ اپنی اُستانی کو سنانا۔۔ مجھے یہ سمجھ میں نہیں آتی۔۔جو بھی بکنا ہے سیدھی طرح بکو۔۔
    مناہل کا رنگ فق ہو گیا۔۔ پھولوں کی آن بان والی مناہل کی آج تک کسی نے اِتنی توہین نہیں کی تھی جتنی زلفی کی وجہ سے ہو رہی تھی۔۔
    بے اختیار وہ سسک پڑی۔۔
    مجھے معاف کر دیں زلفی انکل۔۔وہ زاروقطار روتے ہوئے ہاتھ جوڑ کر بولی۔۔ میں اپنے گزشتہ روئیے پہ بہت شرمندہ ہوں۔۔آنسو متواتر اُسکی
    آنکھوں سے برس رہے تھے۔
    زلفی چند لحضے اُسکی صورت تکتا رہا پھر اچانک دروازے کی کُنڈی لگا دی۔۔
    چلو معاف کیا تم کو۔۔
    زلفی اپنی بڑٰی بڑی آنکھیں اُس کے وجود میں گاڑھ کر بولا۔۔
    خوف کی ایک سرد لہر مناہل کے جسم میں سریت کر گئی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نسیم بیگم کی وفات کے غم نے ستارہ کو نڈھال کر دیا تھا۔۔ رو رو کر ستارہ کا بُرا حال تھا کہ آنکھیں پھول کر کپا ہو گئیں تھیں۔۔ کچھ ہی دنوں میں ستارہ برسوں کی بیمار نظر آنے لگی تھی۔سارا گھر رشتہ داروں سے بھرا پڑا تھا جو اُسکو تسلیاں دے کر صبر کی تلقین کر رہے تھے مگر ستارہ کی تشفی نہ ہو رہی تھی۔۔وہ فردوسی چھاوؤں جس کے میٹھے سائے میں ستارہ کی بچپن کی قلقاریوں سے لیکر جوانی تک کے قہقہے اور شرارتیں گونجتی رہیں وہ سایہ فگاں درخت ہمیشہ کے لئے سوکھ گیا تھا۔۔ستارہ کا رہ رہ کے دل بھر جاتا اور وہ خود کو نہ سنبھالتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کے رو پڑتی۔۔۔جیسے جیسے دن گزرتے گئے سب رشتہ دار ایک ایک کر کے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔۔اب گھر میں صرف سکندر اور ستارہ رہ گئے تھے۔۔ ماں کے بغیر ستارہ کو گھر کے در و دیوار کاٹ کھانے کو دوڑ رہے تھے۔۔رات کو جب سونے لگی تو ماں کے سُونے بستر پہ اُسکی نگاہ پڑی۔۔ شدت غم سے ستارہ کا دل بھر گیا۔۔اور دو موتی اُس کے رخساروں پہ بکھر گئے۔۔ بمشکل خود پہ ضبط کرتی وہ بیڈ پہ لیٹ گئی اور نسیم بیگم کا روشن چہرہ اپنی آنکھوں میں سماتے ہوئے گزرے دنوں کو یاد کرنے لگی۔۔ لوگ کہتے ہیں کہ وقت کا مرحم دل پہ لگے سارے زخم بھر دیتا ہے۔۔ مگر کچھ گھاؤ ایسے گہرے ہوتے ہیں جنکا علاج وقت کے پاس بھی نہیں ہوتا۔۔ ساری زندگی اُن زخموں سے ٹھیسیں اٹھتی ہیں۔۔ ایسا ہی زخم ستارہ کے دل پہ لگ گیا تھا۔۔
    ستارہ نسیم بیگم کی ہادوں میں ساری رات کھوئی رہی۔۔نیند اُسکی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔ فجر کی آذان ہوئی تو وہ اُٹھ بیٹھی۔۔وضو کیا اور نماز نیت لی۔۔صلام پھیرنے کے بعد دفعتا اُسکی نگاہ اپنے جہازی سائز کمرے کے ایک کونے پہ پڑی۔۔
    حیرت کا ایک تیز جھٹکا اُسے لگا۔۔اُسے اپنی آنکھوں پہ یقین نہیں آیا اور بصارت پہ شبہ ہونے لگا۔۔مگر یہ سچ تھا۔۔نظر کا دھوکہ نہیں۔۔وہ سکندر ہی تھا۔۔جو سجدے میں پڑا تھا۔۔ستارہ حیرت سے گنگ یہ منظر دیکھ رہی تھی۔۔
    سکندر صلام پھیرنے کے بعد ہاتھ اُٹھا کر دعا مانگ رہا تھا۔۔دعا ختم ہونے کے بعد اُسکی نگاہ ستارہ پہ پڑی۔۔ وہ اُٹھا اور اُسکے پاس آ کر بیٹھ گیا۔۔بیٹا میں تمہارا اور نسیم کا گنہگار ہوں۔میری کوتاہیاں اتنی بڑی ہیں کے جتنا بھی پچھتایا جائے کم ہے۔۔۔ مجھ سے بہت بڑی غلطیاں ہوئی ہیں۔جن کی معافی کی گنجائیش بھی نہیں نکل سکتی۔تم ایک عظیم ماں کی بیٹی ہو۔۔۔۔اپنا دل بڑا کرتے ہوئے مجھے تھوڑی سی اُس میں جگہ دے دو تاکہ میں اپنے تئیں اپنے کبیرہ گناہوں کا مداوا کر سکوں۔۔یہ کہتے ہی سکندر کی آواز بھر آئی۔۔وہ بے اختیار سسک کے رو پڑے۔۔
    ستارہ کی آنکھیں غمناک ہو گئیں۔۔وہ اپنے بابا کے جڑے ہاتھوں پہ سر رکھ کے پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی۔۔
    جس لمحے کو دیکھنے کیلئے نسیم بیگم کی آنکھیں ترس گئیں تھیں وہ آیا بھی تب جب اُنھوں نے مٹی اوڑھ لی تھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔
    وقت آئیستہ آئیستہ گزرتا گیا۔۔سکندر سہی معنوں میں بدل گیا تھا۔۔ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر سارا وقت ستارہ کی دلجوئی میں گزارتا۔۔ستارہ باپ کی بدلی حالت کو خدا کا احسان اور اپنی ماں کی کسی وقت قبول ہو جانے والی دعا پہ خدا کا شکر ادا کرتی۔۔
    آفس اب اُس نے باقعدگی سے جانا شروع کر دیا تھا۔۔
    آفس میں سب ہی اُس سے محبت اور احترام سے پیش آتے اور اُسک ہر ممکن دلجوئی کرتے۔۔ستارہ نے بھی خدا کے اِس فیصلے کو قبول کر لیا تھا اور پوری زمہ داری سے اپنا کام نپٹاتی۔۔
    لیکن اس کے باوجود ایک لحضے کے لئے بھی نسیم بیگم کا خیال اُسکی زہن سے نہ جاتا تھا۔۔
    ایک دن ستارہ کام کی زیادتی کے سبب آفس سے لیٹ ہو گئی۔وہ آفس میں اپنے کیبن کو لاک کر کے جلدی آفس کی عمارت سے باہر نکلی۔۔کار پارکنگ ایریا آفس کے سامنے سڑک کراس کرتے ہوئے دوسری طرف تھا۔۔یہ علاقہ زیادہ تر کاروباری دفاتر اور عمارات کا تھا۔۔شام کی سیاہی نے دم توڑچکی تھی تو گھپ اندھیرے نے اُسکی جگہ سنبھالی ہوئی تھی۔۔
    ستارہ جلدی سے روڑ کراس کرتے ہوئے اپنی گاڑی کی طرف بڑھنے لگی۔۔ابھی وہ آدھی سڑک ہی عبور کر پائی تھی کہ ایک سفید رنگ کی کیب تیز رفتاری سے اچانک نمودار ہوئی اور چرچراتے ہوئے بالکل اُس کے ساتھ بریک لگائی کے وہ اُس سے ٹکراتے ٹکراتے بچی۔۔کیب کا گیٹ تیزی سے کُھلا اور اُس میں سے تین نقاب پوش اُترے ۔۔اس سے پہلے ستارہ کچھ سمجھتی ان میں سے ایک نقاب پوش پُھرتی سے آگے بڑھا اور ستارہ کی ناک پہ رومال رکھ دیا۔۔ ستارہ نے چلانا چاہا مگر اُس نقاب پوش کی مضبوط گرفت سے اُسکی آواز منہ میں ہی گُھٹ کر رہ گئی۔۔رومال سے ایک عجیب سی بو نکل کر ستارہ کی ناک میں گھُس رہی تھی جس سے اُسے اپنا دماغ سُن ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔۔ستارہ نے ہاتھ پاؤں ہلانے چاہے تو ایک زرا سی جنبش بھی نہ ہو سکی۔۔اُسکی آنکھیں بند ہوتی گئیں اور وہ اجنبی کے بازو میں جھول گئی۔۔ یہ واردات انتہائی دیدہ دلیری اور خاموشی سے ہو گئی کے کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔۔
    نقاب پوش نے اطمینان سے ستارہ کو کیب میں ڈالا اور نامعلوم منزل کی جانب گامزن ہو گئے۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جاری ہے۔۔


    Last edited by asiminf; 04-01-2015 at 04:34 AM. Reason: Font Adjustment

  12. The Following 26 Users Say Thank You to Pia_gee For This Useful Post:

    abba (06-01-2015), abkhan_70 (04-01-2015), asiminf (04-01-2015), bilamos78 (11-01-2015), faisal141 (05-01-2015), farhan9090 (09-01-2018), hot_irfan (19-02-2015), Irfan1397 (04-01-2015), jaan kapoor (30-01-2015), jerryplay100 (07-01-2018), khoobsooratdil (04-01-2015), Lovelymale (04-01-2015), MAMONAKHAN (17-02-2015), mbilal_1 (13-02-2015), omar69in (03-06-2016), piyaamoon (09-02-2015), princesmaham (13-03-2015), Rare Lovely (23-04-2015), Silentstranger (10-05-2015), Star193 (09-12-2015), Story Teller (13-03-2016), suhail502 (15-01-2015), sumt_71 (04-01-2015), Sweet Maheen (04-01-2015), yashwim (05-01-2015), ZEESHAN001 (08-04-2015)

  13. #27
    Irfan1397's Avatar
    Irfan1397 is offline super moderator
    Join Date
    Sep 2011
    Location
    Sahiwal
    Posts
    7,501
    Thanks
    26,080
    Thanked 38,243 Times in 7,300 Posts
    Time Online
    1 Month 2 Weeks 3 Hours 56 Minutes 6 Seconds
    Avg. Time Online
    28 Minutes 49 Seconds
    Rep Power
    3126

    Default

    pia gee , kahani k khado khal ahesta ahesta wazah ho rahay hain .
    jaldi jaldi update pe ap ka bohat shukria .
    lovely update & waiting next.

  14. The Following 8 Users Say Thank You to Irfan1397 For This Useful Post:

    abba (06-01-2015), abkhan_70 (04-01-2015), hot_irfan (19-02-2015), jaan kapoor (30-01-2015), khoobsooratdil (04-01-2015), Pia_gee (04-01-2015), princesmaham (03-02-2015), suhail502 (15-01-2015)

  15. #28
    khoobsooratdil's Avatar
    khoobsooratdil is offline Premium Member
    Join Date
    Dec 2009
    Location
    Pakistan
    Posts
    6,507
    Thanks
    26,366
    Thanked 26,232 Times in 6,370 Posts
    Time Online
    4 Days 21 Hours 9 Minutes 7 Seconds
    Avg. Time Online
    3 Minutes 11 Seconds
    Rep Power
    2747

    Default

    اچھی اپڈیٹ ہے جناب
    I don't have time to hate people who hate me,
    because I am too busy loving people who love me.

  16. The Following 6 Users Say Thank You to khoobsooratdil For This Useful Post:

    abba (06-01-2015), abkhan_70 (04-01-2015), hot_irfan (19-02-2015), Irfan1397 (04-01-2015), Pia_gee (04-01-2015), suhail502 (15-01-2015)

  17. #29
    yashwim is offline Premium Member
    Join Date
    Sep 2012
    Location
    Rawalpindi
    Posts
    147
    Thanks
    724
    Thanked 302 Times in 112 Posts
    Time Online
    3 Days 3 Hours 50 Seconds
    Avg. Time Online
    2 Minutes 17 Seconds
    Rep Power
    63

    Default

    WOW..... Maza agia yarr... very nice. Keep it up dear

  18. The Following 6 Users Say Thank You to yashwim For This Useful Post:

    abba (06-01-2015), abkhan_70 (04-01-2015), hot_irfan (19-02-2015), khoobsooratdil (04-01-2015), Pia_gee (04-01-2015), suhail502 (15-01-2015)

  19. #30
    Sweet Maheen's Avatar
    Sweet Maheen is offline Premium Member
    Join Date
    Jan 2013
    Posts
    602
    Thanks
    2,016
    Thanked 2,226 Times in 565 Posts
    Time Online
    20 Hours 32 Minutes 29 Seconds
    Avg. Time Online
    40 Seconds
    Rep Power
    650

    Default

    boht khubsurti se ilfaz ka chunao kia hy ap ne ar manzer kashi bhi lajawab hy
    2nd update mein manahil ki khubsurti ko bht gehrai se byan kia hy

  20. The Following 9 Users Say Thank You to Sweet Maheen For This Useful Post:

    abba (06-01-2015), abkhan_70 (04-01-2015), hot_irfan (19-02-2015), khoobsooratdil (04-01-2015), omar69in (03-06-2016), Pia_gee (04-01-2015), princesmaham (03-02-2015), shaikhuu (05-01-2015), suhail502 (15-01-2015)

Page 3 of 21 FirstFirst 123456713 ... LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •