Page 2 of 21 FirstFirst 12345612 ... LastLast
Results 11 to 20 of 210

Thread: محبت جب ہوئی۔۔best story of the month of feb 2015

  1. #11
    Pia_gee's Avatar
    Pia_gee is offline UrduFunda
    Join Date
    Nov 2011
    Location
    Lahore
    Posts
    1,355
    Thanks
    5,260
    Thanked 6,395 Times in 1,313 Posts
    Time Online
    1 Week 1 Day 26 Minutes 10 Seconds
    Avg. Time Online
    4 Minutes 50 Seconds
    Rep Power
    1565

    Default

    میں نے گولڈ کا بریسلٹ مناہل کی مخملی کلائی کی زینت بنایا اور ہولے سے چوم لیا۔۔مناہل مزید سمٹ گئی۔۔میں نے ایک ہاتھ سے اُسکے چہرے کا رُخ اپنی طرف موڑا۔اُسکی آنکھیں ہنوز بند تھیں۔۔مناہل۔۔میری طرف دیکھیں۔میں نے خمار آلودہ لہجے میں کہا۔۔۔تو اُس نے آئستگی سے پلکوں کی لرزتی جھالروں کو اُٹھایا اور اور اپنی ترچھی قاتلانہ نگاہیں چند لحظوں کے لئے مجھ پہ گاڑھ دیں۔۔وقت نا جانے تھم سا گیا۔۔ساغر و غالب کے دیوان کی صداقت پہ یقیں آ گیا۔۔ان چند لمحوں پہ صدیوں کا گماں گزرا۔۔بخدا ان حسیں آنکھوں کی مقناطیسیت ناقابلِ بیاں تھی۔اپنی عمر سے خاصی بڑی آنکھیں دکھتی تھیں۔۔اُن میں ایک زمانہ بسا ہوا تھا ۔۔ ایک ابرو کا اشارہ پانی میں آگ لگا سکتا تھا۔۔۔۔اُس نے ایک سسکاری لی تو میں ہوش کی دنیا میں لوٹا۔۔اُن آنکھوں میں کھو کر بے اختیار میں نے اُسکی کلائی پہ اپنی گرفت سخت کر دی تھی۔جس سے اُسے تکلیف کا احساس ہوا تھا۔۔۔اُسکی کلائی میری گرفت کی پکڑ سے لال ہو گئی تھی۔۔میں نے اپنے ہونٹ اُسکی تپتی کلائی پہ رکھ دیئے اور اپنی گساخی کا ازالہ کیا۔۔مناہل کی سانسیں اتھل پتھل ہو گیئں۔۔میرے لن نے بھی ہلکا سا جھٹکا کھا کر نیند سے بیدار ہونے کا خفیف اشارہ کیا۔۔اب وقت رکنے کا نہیں تھا۔۔میں جلدی سے واش روم میں گھس گیا اور سلیپنگ سوٹ پہن کہ آ گیا۔اور کمرے کی ٹیوب لائٹ آف کر کے زیرو بلب آں کر دیا ۔اس دوران مناہل نے اپنا زیور اُتار دیا تھا۔اور اب وہ بیڈ کی پشت سے ٹیک لگا کے ریلیکس بیٹھی تھی۔۔میں اُسکے قریب پہلو میں بیٹھ گیا۔۔
    مناہل آپ ٹھیک تو ہیں نا۔۔میں نے اُس کی جھجھک رفع کرنے کے لئے ہلکی پھلکی گفتگو کا آغاز کیا۔۔
    جی میں ٹھیک ہوں۔وہ آئستہ سے گویا ہوئی۔۔۔یاقوتی لبوں سے پہلی بار بامعنی جملہ ادا ہوا۔۔
    دیٹس لائک آ گڈ گرل۔۔میں نے اُسے سراہتے ہوئے کہا اور اپنا بازو اُسکے کندھے پہ جما کر اُسے کھینچ کر اپنے ساتھ لپٹا لیا۔۔اب پوزیشن اس طرح تھی کہ میرا دایاں ہاتھ اُسکے دائیں ممے سے ہلکا سا مس ہو رہا تھا۔
    مناہل میں جانتا ہوں آپ نے بہت مشکل وقت دیکھا ہے۔۔مشکل وقت سب پہ آتا ہے کہ زوال بھی عروج پہ ہوتا ہے۔۔کاتبِ تقدیر کی من مانیوں کے آگے کسی کی نہیں چلتی۔۔جو ہونا ہوتا ہے وہ ہو کے رہتا ہے۔۔دکھ کا بیج بوکر ہی انسان سکھ کا پھل کھاتا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ یہ بیج انسان خود اُگاتا ہے۔۔لیکن نامساعد حالات اُسے ایسا کرنے پہ مجبور کر دیتے ہیں
    ۔۔میں نے ایک گہری سانس لی اور چُپ ہو گیا۔۔
    ۔اس دوران مناہل ہمہ تن گوش رہی۔۔۔
    میں پھر گویا ہوا۔۔۔۔میں کوئی لمبی چوڑی تقریر نہیں کرنا چاہتا مناہل ۔۔بس آپکو اتنا جتا دینا چاہتا ہوں۔۔اوپر والا گواہ ہے۔۔ زندگی بھر آپکو کبھی شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔۔وفا اور خلوص کے بلند و بانگ دعوے سے ہٹ کر میں محبت کی ترجمانی کرنے والے ان الفاظ کا عملی پیکر بنوں گا۔۔ یہ میرا وعدہ ہے آپ سے۔۔ میں نے جزباتی لہجے میں کہا۔مناہل کا چہرہ شدتِ جزبات سے سرخ ہوتا گیا۔۔
    یکدم اُس نے سیدھا ہو کر میرے گلے میں اپنی بانہیں حمائل کر کے اپنا مر مریں وجود مجھے سونپ دیا جو سوکھے پتے کی طرح کانپ رہا تھا۔۔
    بس کریں۔۔وہ سسکتے ہوئے بولی۔۔۔آپ کو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔بخد اآپکے خلوص اور سچائی کی معترف میں پہلے دن سے ہی ہو گئی تھی۔۔آپ نے جو مان رتبہ اور عزت مجھے دی ہے یہ آپکی عظمت کی دلیل ہے۔۔میں اِس احسان کا بدلہ ساری زندگی نہیں چُکا سکتی۔۔وہ اب باقعدہ پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی۔۔
    یہ جزباتی اُفتاد اب اچانک ہی وارد ہو گئی تھی۔۔شش شش۔۔میں نے اُس کے سر پہ ہاتھ پھیر کر اُسے چپ کروانے کی سعی کی۔۔
    مناہل مناہل پلیز چپ ہو جاؤ۔۔میں نے اُسے خود سے الگ کرتے ہوئے کہا۔۔
    مناہل۔۔مممم۔۔وہ منمنائی۔۔
    میں نے اُسکا چہرہ اوپر اُٹھایا جو آنسوؤں سے تر تھا۔میں نے نرم نرم روئی جیسے گالوں سے آنسو صاف کئے اور کہا۔۔
    اس رات بھی کوئی روتا ہے یار۔۔کیا پتا نہیں کے یہ رات محبت کی سرگوشیوں اور سسکاریوں کا منبع ہے۔۔اور تم رو دھو کے تمام روایتیں توڑ کر جرم کا ارتکاب کر رہی ہو۔اسکی تمہں سزا دی جائیگی۔۔۔میں نے شوخی سے کہا تو وہ بے اختیار مسکُرا دی۔۔
    بندی حاضر ہے حضور۔۔وہ سر خم کر کے بولی۔۔جو چاہے سزا دیں۔۔
    اُسکی طرف سے گرین سگنل ملتے ہی میں نے جھٹ سے اُسے نیچے لٹا دیا اور اُسکے لبوں پہ اپنے لبوں کا قفل لگا کر چوسنے لگا۔ مناہل نے بھی اپنے بازو کھول کر مجھے خؤد سے لپٹا کر گرم جوشی سے میرا استقبال کیا اور میرے ہونٹوں میں اپنے ہونٹ پیوست کر چوسنے لگی۔۔ ۔مخملی لبوں کی نرماہٹ میرے تن بدن میں آگ لگانے لگی۔ ۔۔۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے میں نے شہد کے چھتے میں اپنا منہ ڈال دیا ہو۔جس کا رس نچڑ کر میرے جسم میں توانائیاں بکھیر رہا تھا۔۔ مناہل کی خوشبو دار گرم گرم سانسیں میرے چہرے سے ٹکرا کے مجھے دیوانہ بنا رہی تھیں۔میں کبھی اُسکا نچلا ہونٹ چوستا تو کبھی اوپر والا۔۔مناہل بھی اپنے ہونٹوں کا دباؤ برابر بڑھا رہی تھی۔اُسکے تیزی سے میری کمر پہ چلتے ہاتھ میری شوقِ آتش کو بھڑکا کر مجھے جنون کی انتہا پہ پہنچا رہے تھے۔ ۔ جس سے اُسکی خود سُپردہ وارفتگی کا بھی اندازہ ہو رہا تھا۔ ۔میں نے اپنی زبان اُس کے منہ میں ڈال دی اور اُسکی زبان سے ٹکرانے لگا۔۔اس ٹکراؤ سے جیسے چنگاریں سی پھوٹنے لگیں۔۔ نرم زبان کا لطیف لمس میرے وجود کی رگ رگ میں چنگاریاں بھرنے لگی۔ ۔دفعتا اُسکی زباں میرے ہونٹوں کی گرفت میں آ گیئ۔۔میں نے نرمی سے اُسکی زباں کو اپنے ہونٹوں میں لے کر شد مد سے چوسنا شروع کر دیا۔۔نرم زبان کے لمس نے میرے جسم میں لگی چنگاریوں کو شعلوں میں بھر دیا تھا۔میں مدہوش سا ہونے لگا۔۔میں لگاتار چوستا ہی جا رہا تھا۔۔ایک شہد کا دریا پھوٹ پڑا تھا جس کی مٹھاس میرے رگ و پے میں اُتر کے فرحت بخش رہی تھی۔ ۔پھر یکبارگی اُس نے آیئستگی سے اپنی زبان میرے لبوں کی قید سے آزاد کروا لی اور گہرے گہرے سانس لینے لگی۔میں نے سوالیہ نظروں سے اُسے دیکھا۔۔اُسنے اپنی آنکھیں میری آنکھوں میں جما دیں۔۔ پھر اچانک بجلی کی تیزی سے میری گردن کو جھکاتے ہوئے اپنی زبان پھر سے میرے منہ میں ڈال دی ۔میں نے پھر سوگت کرتے ہوئے اپنے منہ میں اُسکی زبان بھر لی اور، پہلے سے زیادہ شدت سے چوسنا شروع کر دی۔۔اِسکے ساتھ ساتھ میں اُس کے پورے منہ میں زبان بھی گھماتا گیا۔میرے روم روم میں وہ شیریں لزت لہو بن کے دوڑ رہی تھی۔۔ مناہل بھی مزے کی شدت سے دہری ہو رہی تھی۔وہ بھی برابر میرے منہ میں زبان گھما رہی تھی۔۔اب میں نے اگلا حملہ کرنے کے لئے پر تول لئے۔۔۔ میں اپنا ہاتھ آئیستہ آئیستہ اُسکی چھاتیوں کی طرف لے گیا اور بالاخر دائیں چھاتی میری پکڑ میں آ گئی۔۔خاصی موٹائی والی گول مٹول اور کسی ہوئی چھاتی تھی۔۔جس سے انکی خوب دیکھ بھال کا اندازہ ہوتا تھا۔پہلے میں آئیستہ آئیستہ دباتا رہا۔۔پھر یکبارگی زور سے دبا دیا۔۔مناہل کی بڑی بڑی آنکھیں ایک لحظے کے لئے پھیل گیئں۔۔اور میرے ہونٹوں کی قفل کی وجہ سے اسکی سسکاری میرے منہ میں ہی دم توڑ گئی۔۔اس اثنا میں ، میں نے اپنے منہ کا بند قفل کھول دیا۔۔مناہل نے پھر سے دو گہرے سانس لئے اور پُر سکون ہو کر اپنی آنکھیں موند لیں۔۔اب کھلی چُھٹی مجھے مل گئی۔۔ میں نے دونوں گھٹنے اُسکی ایک ایک سائڈ پہ رکھے اور دونوں ہاتھوں سے اُسکی چھاتیاں پکڑ لیں اور زور زور سے دبانا شروع کر دیا۔۔مممم۔۔آآآآہہہہہ۔۔مناہل نے اپنے موتیوں جیسے دانتوں سے اپنے آتشیں لبوں کو کاٹتے ہوئے لزت سے سسکنا شروع کر دیا
    بلاشبہ یہ قیامت خیز نظارہ تھا۔جو قدرت کے کتنے نظاروں پہ بھاری تھا۔۔۔میں اُس کے اوپر اس طرح براجمان تھا کی میرا لن اُسکی پھدی سے زور سے رگڑ کھا کر اُچھل کود مچا رہا تھا۔مناہل کی پُھدی گرم ہو کے پانی چھوڑ چکی تھی جس کے چپچپاہٹ میرا لن پتلے سے سلیپنگ سوٹ سے پھن پھناتے ہوئے محسوس کر رہا تھا۔ ۔۔میں نے اپنے ہاتھوں میں تیزی لاتے ہوئے زور زور سے مناہل کی چھاتیوں کو مسلنا شروع کر دیا۔اور ساتھ ساتھ اپنی گانڈ کو آگے پیچھے کر کے زیادہ سے زیادہ اُسکی پھدی سے اپنا لن رگڑتا۔۔۔مممم آ آآآآآہہہ۔مناہل کی سسکاریاں رفتہ رفتہ تیز ہو رہی تھیں۔۔۔۔۔پھر مں نے یکدم اپنے ہاتھ روک کر زور سے دونوں چھاتیوں کو دبانا شروع کر دیا۔۔۔جوں جوں میں گرفت سخت کرتا گیا مناہل کے چہرے کے تاثرات بدلتے گئے۔۔آآآآآآآآآآآآآہ ہ ہ ہ ۔۔آخر ایک بڑی سی لزت بھری آواز سسکاری اُسکے منہ سے برآمد ہوئی جسے وہ روکنے کی جدو جہد کر رہی تھی۔اُس نے اپنی آنکھیں کھول دیں اور نظر بھر کے مجھے دیکھا۔۔میں اُن آنکھوں میں چھپی تحریر کا مفہوم خوب سمجھ رہا تھا۔۔پھر اُس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔۔گویا صرف مجھے اُن طوفانی جزبوں کی حرارت کا پتا دینا مقصود تھا۔۔اب ضبط کا پیمانہ چھلک چکا تھا۔میرا لن اکڑ کے لوہا بن چکا تھا۔جتنا آگ میں لگا سکتا تھا لگا دی تھی۔۔اب لن سینکنے کی باری تھی۔۔میں اُس سے اُتر کر اُسکے پہلو میں بیٹھ گیا اور ہاتھ بڑھا کر اُسکی قمیص کو اُسکی گردن تک اُلٹ دیا۔۔
    اُوہ خدایا۔۔مکھن کی طرح لشکارے مارتا سپید دودھیا بدن میری آنکھوں کے سامنے تھا۔جس کی چکاچوند روشنی میری آنکھوں کو خیزہ کر رہی تھی۔۔مناہل نے گلابی رنگ کا برا پہن رکھا تھا جس میں دو انگارے دہک رہے تھے جن کی تپش مجھے اپنی آنکھوں پہ محسوس ہو رہی تھی۔۔
    مناہل۔۔میں نے اُسے پکارا۔۔اُس نے اپنی آنکھیں کھول کے ایک نظر مجھے دیکھا پھر خود ہی
    اُٹھ کر اپنی قمیض جلدی سے اتار کے ایک سائڈ پہ رکھ دی۔ یہ کام اُس نے اِتنے معصومانہ انداز میں کیا کہ میں ان لمحات میں بھی مسکُرائے بغیر نا رہ سکا۔۔اب اُسکے جسم کے بالائی حصے پہ صرف ایک برا تھا۔۔میں نے مناہل کو کھینچ کر اپنی ٹانگوں کے درمیان اپنے لن کے قریب لے آیا اور اپی گود میں بٹھا لیا۔۔اب پوزیشن کچھ اِس طرح تھی کے اُسکی پشت میری طرف تھی۔۔اُس کے بال کافی لمبے اور گھنے تھے مگر اُس نے ایک بڑے ہئیر کلپ میں ایک جتھا بنا دیا تھا۔۔جس سے میرے راہ میں حائل ایک رکاوٹ دور ہو گئی تھی۔۔۔ میرا لن اُسکے نرم اور بھرھرے چوتڑوں سے ٹکرا کے پھڑپھڑا رہا تھا۔ ۔میں نے آئیستگی سے اُسکے برا کا ہک کھول کر اُسکی پھڑپھڑاتی چھاتیوں کو آزاد کیر دیا۔ مناہل کا بالائی جسم اب مکمل ننگا تھا جو زیرو بلب کی روشنی میں آگ کی طرح دھکتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔ میں نے مزید اُس کو کھینچ کر اپنے کھڑے لن پہ بٹھایا۔۔۔۔جو اُسکے نرم چوتڑوں کی گہراؤں میں دب گیا۔۔مجھے چپچپاہٹ سی اپنے لن پہ بھی محسوس ہو رہی تھی ۔جو مناہل کی پھدی کا لیس دار جام چھلکنے کی وجہ سے تھی۔۔اب میرا لن اُس چھلکتے جام میں ڈبکیاں کھا رہا تھا۔۔میں نے اپنے ہاتھ اُس کی ننگی چھاتیوں پہ جمائے اور اُنھیں مسلنے لگا۔۔مناہل کی چھاتیوں کی گرمی میرے انگ انگ میں شرارے بھر رہی تھی۔۔اُسکے نپل تن کے سخت ہو چکے تھے جو میں اپنی اُنگلیوں میں محسوس کر رہا تھا۔مناہل ہولے ہولے سسکار رہی تھی۔ میں اپنا منہ اُسکی گردن کے پاس لے گیا اور اُس پہ زبان پھیری اور ہولے سے بائٹ کر دیا۔۔ ۔۔آآآآآآہہہہہ۔۔ وہ تڑپ کے رہ گئی۔۔اس دوران میں نے مناہل کی سڈول چھاتیوں کو مسلسل تختہ مشق بنائے رکھا۔اُس کی چھاتیوں کے نپل کو میں اپنی اُنگلیوں سے مروڑتا تو سی سی کر کے رہ جاتی۔۔پھر اچانک میں نے اپنا ایک ہاتھ اُسکی دائیں چھاتی سے ہٹایا اور یکدم اُسکی پھدی میں گھُسا دیا۔۔الاسٹک والی شلوار سے پھسلتا میرا ہاتھ سیدھا پھدی کے اُبھرے لبوں سے جا ٹکرایا۔آآآآآآآآآہہہہہہ۔۔مناہل کو جیسے کرنٹ لگا اور اُسنے اچھلنا چاہا مگر میں نے مضبوطی سے اُسے تھام کے نیچے بٹھائے رکھا۔۔اُسے شاید قطعی اُمید نا تھی کے اچانک سے میں اس طرح کی کوئی جسارت کروں گا۔مناہل نے بوکھلا کے اپنی دونوں ٹانگیں بھینچ لیں تھیں مگر اسکے باوجود بھی میں نے اپنا ہاتھ پھدی سے باہر نہیں نکالا تھا۔، اور پھر اُس نے بھی مزاحمت ترک کر دی اور خود کو ڈھیلا چھوڑ دیا ۔میں نرم اور چکنی پھدی پہ آئیستہ آئیستہ ہاتھ پھیرتا گیا۔مناہل آں آں آں کا دلربا راگ چھیڑ چکی تھی۔۔۔۔پھر
    میں نے پھدی کے دانے کو آئیستگی سے مسلنا شروع کر دیا۔۔کالج کے زمانے میں بہت ساری پھدیوں کے دانے میری اُنگلیوں کا لمس سے گزر چکے تھے۔۔مگر آج جو مزے اور سرور کی کیفیت تھی وہ پہلے کبھی، کسی بھی پھدی سے نہیں ملی۔۔میرا لن اُسکے چوتڑوں کے درمیاں اور میرا ہاتھ اُسکی پھدی کا مکمل احاطہ کئے مجھے مدہوش کر رہا تھا۔اب کمرہ مناہل کی سسکیوں کی گونج سے دھمک رہا تھا۔۔۔۔یکبارگی میں نے اپنی ایک اُنگلی مناہل کی پھدی میں گھُسیڑ دی۔۔۔آہ آہ آہ،،۔۔مناہل مزے کی شدت سے بلبلائی۔۔اور یوں دُہری ہوتی گئی جیسے اُس میں جان ختم ہو رہی ہو۔۔۔پھدی کی گرم گرم دیواروں سے جب میری اُنگلی ٹکرائی تو مجھے ایسا لگا جیسے میں نے دہکتے چولہے میں اپنی اُنگی گھُسیڑ دی ہو۔جسکی حرارت میرے سارے وجود میں سرایت کرنے لگی۔۔۔میں نے زور زور سے اُنگلی اندر باہر کرنی شروع کر دی۔مناہل کی مزے سے نکلتی سسکاریوں سے میرے اندر وحشت بھر دی۔۔میں نے ایک اُنگلی کا اضافہ کرتے ہوئے زورزور سے اندر باہر کرنے لگا۔۔آآآآآآآآآآآآآآآآآِہہہہہہہہہہہہہہ۔۔۔مناہل نے آخری سسکاری لی اور اُسکی کی پھدی سے بھل بھل نکلتا پانی میرے ہاتھوں کو بھِگونے لگا۔۔وہ میرے بازو میں جھول کے ایک طرف گرگئی۔۔اُسکی ٹانگیں کپکپا رہی تھیں جیسے میلوں بھاگ کر آئی ہو۔میں نے اپنا ہاتھ اُسکے پاجامے سے باہر نکالا جو اُسکی منی سے لتھڑا ہوا تھا۔۔میں نے اُسکی شلوار سے ہاتھ کو صاف کیا اور اُسے چت لٹا کر اُسکی ٹانگیں کھول کر اُن کے درمیان بیٹھ گیا اور غور سے اُس کی چھاتیاں دیکھ رہا تھا جن پہ گلابی نپل اکڑے مجھے دعوتِ چُسائی دے رہے تھے۔۔۔مناہل کی آنکھیں بند تھیں۔۔اپنیی پھدی سے سنہری آبشار برسانے کے بعد وہ گہرے گہرے سانس لے کر خود کو پُر سکون کرنے کی کوشش کر رہی تھی جسے میں نے ناکام کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔میں نےاکڑے اُبھاروں کی اکڑ نکال پھینکنے کی سعی کرتے ہوئے جھُک کر دائیں چھاتی کے نپل کو اپنے منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا۔ مناہل کا بالائی جسم پسینے سے تر تھا۔۔جس کی وجہ سے چھاتی نمکین لگ رہی تھی۔۔ جسے میں پوری مہارت سے چوس چوس کر اپنے معدے میں اُتارے بھرپور انصاف کر رہا تھا۔۔۔پھر میں نے دوسری چھاتی کے نپل پہ منہ صاف کرنے لگا۔مناہل کی لزتی آہیں پھر سے اُبھرنے لگیں تھیں۔میں ساتویں آسمان پہ پہنچا ہوا تھا۔۔مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے میں نے مکھن کے پیڑے کو اپنے منہ میں سمایا ہوا ہے۔۔میں باری باری دونوں چھاتیوں کو منہ میں بھر کے چوس رہا تھا۔۔چھاتیاں چوستے چوستے میں نےمناہل کی طرف دیکھا ۔وہ میٹھی نظروں سے مجھے گھور رہی تھی ۔جس میں پیار بھی تھا اور شکوہ بھی کہ میں اتنا ظالم بھی ہو سکتا ہوں اس معاملے میں۔۔غصہ اور شہوت دو متضاد کیفیات ہیں مگر اِنسان کی زندگی پہ گہرا اثرو رسوخ رکھتی ہیں۔۔جب انسان کسی بھی ستمگر سے چوٹ کھاتا ہے تو غصے میں انسان سے جانور بن جاتا ہے جو مدِمقابل کو چیر پھاڑ دیتا ہے۔۔ٹھیک اُسی طرح شہوت میں انسان انسان نہیں رہ جاتا۔۔ایک پاؤ اکڑا ہوا لن بن جاتا ہے ۔۔پھر اُس کی ترغیبات اُسی سمت پرواز کرتی ہیں جہاں لن کی تسکین ہوتی ہے۔شہ زور وہی ہوتا ہے جو لن کو اُسکی اوقات میں رکھے۔۔میں نے اتنے لمبے فور پلے میں اپنے لن کو بالکل فراموش کر دیا تھا۔۔مناہل کے نرم رسیلے ہونٹ چوسنے سے لیکر اُس کی گلابی چھاتیوں کی چُسائی تک میں نے اس کی ٹوٹتی انگڑائیوں اور پھنکاروں پہ کان نہیں دھرے۔۔اب اُس کی تسکین کا وقت ہو چلا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔میں نے مناہل کی شلوار اُتاری کے ایک طرف رکھ دی اور اُسکی ٹانگیں پھیلا دیں۔۔مناہل کی پھدی پہ نظر پڑتے ہی میری سانس رُک گئی۔۔پنکھڑی ایک گلاب کی سی ہے۔۔غالب کا مشہور شعر میرے زہن میں گونجنے لگا۔۔ بڑی نزاکت سے غیر ضروری بالوں کی صفائی کی گئی تھی۔۔پھدی کے لب ایک دوسرے سے اُلجھے ہویے باہم پیار کا خوب جلوہ بکھیرے ہوئے تھے۔اس پر گوشت کی خاصی فراوانی تھی اور اُسکی سطح اُبھری ہوئی تھی جو منی نکلنے کی وجہ سے چمچما رہی تھی۔پُھدی چاٹنا مجھے دشوار لگتا تھا۔آج تک میں نے سیکس کے دوران کسی بھی لڑکی کی پُھدی نہیں چاٹی تھی ۔۔لیکن اب میں تصیح کرتا چلوں کے مجھے آج تک ایسی پھدی ملی ہی نہیں جسے میں چاٹ سکوں۔۔میں اپنا منہ اُس چمکتی دمکتی پھدی کے پاس لے گیا اور ہولے سے اُس کے لبوں پہ زبان پھیر دی۔۔آآآآآآ۔۔مناہل نے گہری سسکاری لی اور غیر ارادی اپنی پھدی کو اوپر اُٹھا کے رہ گئی۔۔مجھے اپنی زبان پہ نمکین سا زائقہ محسوس ہوا۔میں تھوڑا منہ نیچے لے گیا اور سوراخ سے لیکر اُس کے ختم ہوتے دانے تک زبان پھیر دی۔۔۔آہ آہ آہ آہ۔۔مناہل بند آنکھوں سے اپنے ہونٹ کچلتی میرے کانوں میں ترنم گھولنے لگی۔ ۔۔۔میں نے اپنا منہ اُسکی پُھدی سے ہٹایا اور سلیپنگ سوٹ اتار دیا تو میرا شِکرا پھڑپھڑاتا اُڑان بھرنے کے لئے نکل آیا۔۔بند گھُٹن سے نجات پاتے ہی اُس کو پَر لگ گئے۔۔
    میں نے پاس ٹیبل پہ پڑا ہوا آئل اُٹھایا اور خوب اپنے لن پہ مَلنے کے بعد مناہل کی پھدی بھی تر کر ی۔۔مناہل کی ٹانگیں اس طرح پھیلا دیں کے پھُدی کے لب ہلکے سے کُھل گئے تھے اور وہ تھوڑی سی اُوپر کو اُٹھ گئی تھی۔۔میں گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور اپنا لن اُسکی پُھدی کے قریب لا کر اُس کے دانے پہ پھیرنے لگا۔۔مجھے ایسا لگا جیسے کسی ریشمی اور ملائم کپڑے سے لن ٹکرا رہا ہو۔۔مناہل گہرے گہرے سانس لے رہی تھی۔۔میں سرخ ہوتی اپنے لن کی ٹوپی اُسکی پھدی کے سوراخ میں گھساتا اور یکدم نکال لیتا۔۔مناہل تڑپ کے رہ جاتی۔۔کئی لحضے لن پھدی کی اسی بحث و تکرار میں گز گئے۔۔مناہل کا تڑپ تڑپ کے برا حال ہو گیا تھا۔۔میں نے اب کی بار اُس پہ رحم کھاتے ہوئے اُس پہ جھک کر اپنے ہاتھ دائیں بائیں رکھتے ہوئے ایک زور کا جھٹکا مارا تو پچک کی آواز کے ساتھ ہی اُسکی پھدی کے در و دیوار ہِلاتا جڑ تک اُتر گیا۔۔مناہل کی زوردار چیخ نکل گئی۔۔ اُس نے جھکائی دے کر بچ نکلنا چاہا مگر میں نے اُسکی کوشش ناکام بناتے ہوئے اُسکے بازوؤں کو مضبوطی سے تھام لیا اور لگاتار جھٹکے مارتا گیا۔۔مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے میں نے لن کسی آگ کی بھٹی میں داخل کر دیا ہو۔۔جس کی تپش سے میرا لن جھلسنے لگا۔۔مناہل کی پھدی کی نرم دیواروں سے پھوٹتی لزت کی نشاط انگیز آگ میرے جسم و جان کو رفتہ رفتہ جلا نے لگی۔۔مناہل بھی اب سنبھل چکی تھی۔۔اور جم کے چدائی کروانے لگی۔۔میں جھٹکوں پہ جھٹکے مارتا اُس آگ کے دریا کو پار کرتا منزل کی طرف گامزن تھا۔۔
    مزے کی شدت سے میرے منہ سے اہیں نکل رہی تھیں۔۔پچک پچک کی آوازیں پیدا کرتا لن اس رسیلی پھدی کے بخیے اُدھیڑنے میں مصروف تھا۔۔میری نظریں مناہل کے چہرے پہ تھیں مگر اُسکی نگاہ میرے لن پہ تھی جو گھپ گھپ اُسکی پھدی میں اندر باہر ہو رہا تھا۔۔۔
    اچانک مناہل نے کھینچ کر میرا لن پھدی سے باہر نکال دیا اور لمبے لمبے سانس لینے لگی۔۔۔
    میں سمجھ گیا کے وہ جھڑنے لگی ہے۔تو میں ایک سائڈ پہ ہو کر اُس کی چھاتیوں سے کھیلنے لگا۔۔۔وہ لمبے لمبے سانس لینے لگی اور بے جان ہو کر ڈھے گئی۔۔میں نے اُسکی پھدی پہ نگاہ دوڑائی جس سے منی نچڑ رہی تھی ۔۔میں نے ٹشو کا ڈبہ اٹھایا اور ٹشو نکال کر اُسکی پھدی صاف کرنے لگا۔۔۔میرے لن کی اکڑ کم ہو گئی تھی۔۔جسکو مناہل نے اب ہاتھ سے گرم کرنا شروع کر دیا۔۔میں نے اُسکی چھاتی کے اُبھار کی ایک چسکی لی اور ایک تکیہ اُسکے نیچے رکھ کر اُلٹا لٹا دیا۔۔جب میں نے اُسکی ٹانگیں کھول کر اُسکی گانڈ کے بھورے سوراخ پہ ایک بھرپور نگاہ دوڑائی تو میں مبہوت ہو گیا۔۔بہت بھلا لگ رہا تھا۔۔ پمپ ہو کر مستی کر رہا تھا۔خیر میں نے اُس کو نظر انداز کیا اور پھدی کی طرف متوجہ ہوا کو پیچھے سے کھل کر ضبط کا امتحان لے رہی تھی۔۔۔ میں نے تھوڑا سا تھوک پھدی پہ پھر سے لگایا اور ایک زور کا جھٹکا مار کر لن اندر داخل کر دیا۔۔اب کی بار لن آسانی سے گرم جزیرے کی سیر کو چلا گیا۔۔جسا خوب سواگت کیا گیا۔۔
    جھٹکوں کے دوراں میں مناہل کے نرم نرم چوتڑوں سے ٹکرا کے ایک الگ سی لزت مل رہی تھی۔۔ بھربھرے نازک چوتڑ سے میں زور سے ٹکرا کر اُنکی نرماہٹ سے فیض یاب ہوتا۔۔
    جھٹکوں کیی رفتا میں، میں نے کوئی کمی نہیں آنے دی اور نہ ہی مجھے تھکاوٹ محسوس ہو رہی تھی۔مناہل جیسی قیامت پیرے پاس تھی۔۔جس کو میں ساری زندگی بھی چودتا رہوں تب بھی میرا من نہ بھرے اور نا تھکاوٹ کا احساس ہو۔۔۔ میرا لن شڑپ شڑپ کے ہو شربا ساز اور مناہل کی شیریں پھدی کی رومانوی تال پہ رقصاں جھوم جھوم کے اند باہر ہو رہا تھا۔۔مناہل تھک چکی تھی مگر میں ابھی تک نہ چھوٹا تھا اور نہ ہی کوئی ارادہ تھا۔۔میں نے پوزیشن تبدیل کی اور مناہل کی ٹانگیں اُٹھا کر پھر سے چدائی شروع کر دی۔۔میں زور زور سے دھکے مارتا رہا۔۔مناہل کی پھُدی نے اس دوران 3 بار پانی چھوڑا تھا۔۔مگر اب وہ ہمت ہا گئی تھی۔۔پے در پے جھٹکوں سے آخر کار میرے لن بھی ہمت ہار دی اور مناہل کی پھدی میں ہی پچکاریاں مارنے لگا۔بے اختیار مزے سے میرے لبوں سے سسکاریاں نکلنے لگیں۔۔۔۔جب آخری پچکاری نکلی تو مناہل پہ ہی ڈھے پڑا۔۔ مناہل نے محبت سے مجھے خود سے چمٹا لیا اور پیار سے میرے سر پہ ہاتھ پھیرنے لگی۔۔میں لمبے سانس لے کر ہانپ رہا تھا۔رفتہ رفتہ میں پُرسکون ہوتا گیا۔۔۔میں نے اُس میڈیسن والے کا شکر ادا کیا جس نے برانڈٓڈ ٹیبلٹ دیا مجھے اپنی سہاگ رات یاد گار بنانے کے لئے۔۔
    رات بہت ہو چکی تھی۔۔مناہل تھک کے سو چکی تھی۔۔
    پھر نہ جانے کب نیند نے مجھے آ لیا اور میں بھی نیند کی وادیوں میں گم ہو گیا۔۔۔ایک نئی صبح کے لئے۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔



    Last edited by God Father; 03-01-2015 at 08:02 AM.

  2. The Following 38 Users Say Thank You to Pia_gee For This Useful Post:

    85sexy85 (02-01-2015), abba (06-01-2015), abkhan_70 (03-01-2015), Admin (12-01-2015), anjumshahzad (07-06-2017), asiminf (04-01-2015), bilamos78 (11-01-2015), Danish ch (12-12-2015), evilgenius85 (02-01-2015), faisal.butt (30-03-2015), faisal141 (03-01-2015), farhan9090 (09-01-2018), gafzali (03-01-2015), hot_irfan (19-02-2015), Irfan1397 (02-01-2015), jaan kapoor (30-01-2015), jerryplay100 (07-01-2018), khoobsooratdil (03-01-2015), Lovelymale (12-01-2015), MAMONAKHAN (17-02-2015), mbilal_1 (13-02-2015), munda_lahori (03-01-2015), omar69in (03-06-2016), piyaamoon (09-02-2015), Poorking (22-11-2017), princesmaham (13-03-2015), Rare Lovely (23-04-2015), sexeymoon (05-01-2015), shaikhuu (24-02-2015), Silentstranger (10-05-2015), sirf_hum_pk (23-03-2015), Star193 (08-12-2015), Story Teller (12-03-2016), suhail502 (03-01-2015), sumt_71 (02-01-2015), Sweet Maheen (03-01-2015), yashwim (04-01-2015), ZEESHAN001 (08-04-2015)

  3. #12
    Irfan1397's Avatar
    Irfan1397 is offline super moderator
    Join Date
    Sep 2011
    Location
    Sahiwal
    Posts
    7,568
    Thanks
    26,336
    Thanked 38,404 Times in 7,351 Posts
    Time Online
    1 Month 2 Weeks 1 Day 9 Hours 50 Minutes 4 Seconds
    Avg. Time Online
    27 Minutes 23 Seconds
    Rep Power
    3132

    Default

    bhai bohat he lun tor kism ki update di hai . isy kehty hain aik dum hot aur sexy update .

  4. The Following 10 Users Say Thank You to Irfan1397 For This Useful Post:

    85sexy85 (02-01-2015), Admin (12-01-2015), hot_irfan (19-02-2015), jaan kapoor (30-01-2015), khoobsooratdil (03-01-2015), munda_lahori (03-01-2015), Pia_gee (03-01-2015), saudi (24-02-2015), shaikhuu (24-02-2015), suhail502 (03-01-2015)

  5. #13
    khoobsooratdil's Avatar
    khoobsooratdil is offline Premium Member
    Join Date
    Dec 2009
    Location
    Pakistan
    Posts
    6,507
    Thanks
    26,366
    Thanked 26,235 Times in 6,370 Posts
    Time Online
    4 Days 21 Hours 11 Minutes 16 Seconds
    Avg. Time Online
    2 Minutes 56 Seconds
    Rep Power
    2747

    Default

    زبردست سٹارٹ ہے پیا جی اور امید ہے کہ اک اچھا اضافہ ہو گی یہ کہانی فورم پر بھی اور آپ کی کلیکشن میں بھی
    I don't have time to hate people who hate me,
    because I am too busy loving people who love me.

  6. The Following 10 Users Say Thank You to khoobsooratdil For This Useful Post:

    85sexy85 (02-01-2015), abba (06-01-2015), abkhan_70 (03-01-2015), hot_irfan (19-02-2015), jaan kapoor (30-01-2015), munda_lahori (03-01-2015), Pia_gee (03-01-2015), shaikhuu (24-02-2015), suhail502 (03-01-2015), Sweet Maheen (04-01-2015)

  7. #14
    85sexy85's Avatar
    85sexy85 is offline Crazy Man Utd Fan
    Join Date
    May 2012
    Posts
    616
    Thanks
    3,381
    Thanked 1,928 Times in 565 Posts
    Time Online
    6 Days 7 Hours 30 Minutes
    Avg. Time Online
    4 Minutes 2 Seconds
    Rep Power
    176

    Default

    پنکھڑی اک گلاب کی سی ھے
    غالب کا نہی میر کا شعر ہے
    کہانی زبردست. لکھی ہے آپ نے لاجواب کوشش

  8. The Following 9 Users Say Thank You to 85sexy85 For This Useful Post:

    abba (06-01-2015), abkhan_70 (03-01-2015), hot_irfan (19-02-2015), Irfan1397 (03-01-2015), khoobsooratdil (03-01-2015), munda_lahori (03-01-2015), Pia_gee (03-01-2015), shaikhuu (24-02-2015), suhail502 (03-01-2015)

  9. #15
    hananehsan's Avatar
    hananehsan is offline Premium Member
    Join Date
    Apr 2012
    Location
    Gujranwala
    Age
    29
    Posts
    100
    Thanks
    484
    Thanked 263 Times in 86 Posts
    Time Online
    6 Days 5 Hours 42 Minutes 36 Seconds
    Avg. Time Online
    3 Minutes 56 Seconds
    Rep Power
    18

    Default

    admin r modeters sa guzarish ha ka is update ko read kara r aik jaga ******** likhi hoi ha usa delete kara plz jaldi
    Last edited by God Father; 03-01-2015 at 06:24 PM.
    Hani

  10. The Following 8 Users Say Thank You to hananehsan For This Useful Post:

    abba (06-01-2015), anjumshahzad (01-06-2017), hot_irfan (19-02-2015), khoobsooratdil (03-01-2015), munda_lahori (03-01-2015), Pia_gee (03-01-2015), shaikhuu (24-02-2015), suhail502 (03-01-2015)

  11. #16
    suhail502's Avatar
    suhail502 is offline Premium Member
    Join Date
    Nov 2008
    Location
    Mainchannu
    Age
    31
    Posts
    2,456
    Thanks
    17,877
    Thanked 9,636 Times in 2,289 Posts
    Time Online
    1 Week 4 Days 13 Hours 21 Minutes 21 Seconds
    Avg. Time Online
    6 Minutes 58 Seconds
    Rep Power
    1107

    Default

    nice story....
    keep it up....

  12. The Following 8 Users Say Thank You to suhail502 For This Useful Post:

    abba (06-01-2015), anjumshahzad (01-06-2017), hot_irfan (19-02-2015), Irfan1397 (03-01-2015), khoobsooratdil (03-01-2015), munda_lahori (03-01-2015), Pia_gee (03-01-2015), shaikhuu (24-02-2015)

  13. #17
    God Father's Avatar
    God Father is offline Ŧђз ₤σяđ Ŏf άяк σμℓş
    Join Date
    Oct 2009
    Location
    In άяк σμℓş
    Posts
    15,640
    Thanks
    38,238
    Thanked 19,922 Times in 7,133 Posts
    Time Online
    3 Weeks 13 Hours 31 Seconds
    Avg. Time Online
    12 Minutes 59 Seconds
    Rep Power
    4476

    Default

    Thread Starter se Guzarish ha k Update dane se pahle aik dafa zror Parh liya karen

    Muqaddas Alfaz ki Behurmati zaib nahi dati



  14. The Following 10 Users Say Thank You to God Father For This Useful Post:

    abba (06-01-2015), anjumshahzad (01-06-2017), hot_irfan (19-02-2015), Irfan1397 (03-01-2015), jaan kapoor (30-01-2015), khoobsooratdil (03-01-2015), munda_lahori (03-01-2015), Pia_gee (03-01-2015), shaikhuu (24-02-2015), suhail502 (15-01-2015)

  15. #18
    Join Date
    May 2009
    Location
    PUNJAB
    Posts
    3,979
    Thanks
    9,291
    Thanked 18,878 Times in 2,606 Posts
    Time Online
    2 Weeks 5 Days 14 Hours 15 Minutes 46 Seconds
    Avg. Time Online
    11 Minutes 49 Seconds
    Rep Power
    2752

    Default


    بہت زبردست جناب۔ ابتدا تو بہت ہی زبردست اور لاجواب ہے۔


  16. The Following 10 Users Say Thank You to faisal141 For This Useful Post:

    abba (06-01-2015), abkhan_70 (03-01-2015), anjumshahzad (01-06-2017), hot_irfan (19-02-2015), jaan kapoor (30-01-2015), khoobsooratdil (03-01-2015), Pia_gee (03-01-2015), shaikhuu (24-02-2015), suhail502 (15-01-2015), Sweet Maheen (04-01-2015)

  17. #19
    Pia_gee's Avatar
    Pia_gee is offline UrduFunda
    Join Date
    Nov 2011
    Location
    Lahore
    Posts
    1,355
    Thanks
    5,260
    Thanked 6,395 Times in 1,313 Posts
    Time Online
    1 Week 1 Day 26 Minutes 10 Seconds
    Avg. Time Online
    4 Minutes 50 Seconds
    Rep Power
    1565

    Default

    Quote Originally Posted by 85sexy85 View Post
    پنکھڑی اک گلاب کی سی ھے
    غالب کا نہی میر کا شعر ہے
    کہانی زبردست. لکھی ہے آپ نے لاجواب کوشش
    boht shukria correction krwaany ka... msgs or fb main shayirun k naam gid mid kr diye jaty hai jis sy ghalti ho jany ka imkaan ho jata hai..is k lye mazrat khaw hun ap sy....

  18. The Following 9 Users Say Thank You to Pia_gee For This Useful Post:

    abba (06-01-2015), abkhan_70 (03-01-2015), anjumshahzad (01-06-2017), hot_irfan (19-02-2015), Irfan1397 (03-01-2015), jaan kapoor (30-01-2015), khoobsooratdil (03-01-2015), shaikhuu (24-02-2015), suhail502 (15-01-2015)

  19. #20
    Pia_gee's Avatar
    Pia_gee is offline UrduFunda
    Join Date
    Nov 2011
    Location
    Lahore
    Posts
    1,355
    Thanks
    5,260
    Thanked 6,395 Times in 1,313 Posts
    Time Online
    1 Week 1 Day 26 Minutes 10 Seconds
    Avg. Time Online
    4 Minutes 50 Seconds
    Rep Power
    1565

    Default

    God father samiat ap sub sy mazrat khaw hun k aik lafzi ghalti ki waja sy mujh samiat ap sub ki dil araazi hoi..

  20. The Following 8 Users Say Thank You to Pia_gee For This Useful Post:

    abba (06-01-2015), abkhan_70 (03-01-2015), hot_irfan (19-02-2015), jaan kapoor (30-01-2015), khoobsooratdil (03-01-2015), omar69in (03-06-2016), shaikhuu (24-02-2015), suhail502 (15-01-2015)

Page 2 of 21 FirstFirst 12345612 ... LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •