Page 5 of 7 FirstFirst 1234567 LastLast
Results 41 to 50 of 62

Thread: حنا کی ٹیوشن

  1. #41
    farhan403's Avatar
    farhan403 is offline sex ka dewan
    Join Date
    Oct 2015
    Location
    attock
    Posts
    429
    Thanks
    331
    Thanked 587 Times in 281 Posts
    Time Online
    5 Days 13 Hours 6 Minutes 19 Seconds
    Avg. Time Online
    7 Minutes 21 Seconds
    Rep Power
    48

    Default

    Bohat he alla story ha hina ki tuition r wo b incomplete bohat afsoos howa k itne fantastic story incomplete reh gaye ha plz writer g is ko jaldi say complete krn plzplz plz plz plz waites for ur reply

  2. The Following 2 Users Say Thank You to farhan403 For This Useful Post:

    shubi (12-04-2018), zainee (29-05-2018)

  3. #42
    Story-Maker's Avatar
    Story-Maker is offline Super Moderators
    Join Date
    Mar 2016
    Location
    Pakistan
    Age
    24
    Posts
    4,134
    Thanks
    1,869
    Thanked 5,173 Times in 2,567 Posts
    Time Online
    2 Weeks 1 Day 6 Hours 30 Minutes 14 Seconds
    Avg. Time Online
    24 Minutes 4 Seconds
    Rep Power
    876

    Default

    fantastic story thi dost

  4. The Following 2 Users Say Thank You to Story-Maker For This Useful Post:

    shubi (20-04-2018), zainee (29-05-2018)

  5. #43
    zainee's Avatar
    zainee is offline Premium Member
    Join Date
    Jun 2011
    Location
    Lahore
    Age
    26
    Posts
    390
    Thanks
    2,890
    Thanked 1,732 Times in 333 Posts
    Time Online
    3 Days 9 Hours 54 Minutes 48 Seconds
    Avg. Time Online
    2 Minutes
    Rep Power
    682

    Default

    ہیلو دوستو، معذرت کہ ایک عرصہ بعد اس کہانی کا اپ ڈیٹ پیش کر رہا ہوں مگر اب اس کے بعد زیادہ دیر نہیں ہو گی۔ لیجیے اپ ڈیٹ حاضر ہے۔

    اُس دن کے بعد والے دنوں میں ہماری ایک دوسرے کے حوالے سے جھجک اور زیادہ ختم ہوتی چلی گئی۔ اب حنا رضائی میں بیٹھتی اور میرے بدن کو ہاتھ لگاتی تو میں بھی اُس کے بدن کو چھو لیا کرتا۔ ایک دن اُس نے مجھے گدگدی شروع کر دی۔ میں خود کو اُس سے چھڑاتا رہا۔ اسی بہانے اس کے جسم کو ہاتھ لگتے رہتے اور مزا ملتا رہتا۔ اگلے دن بھی اُس نے مجھے گدگدی شروع کی۔ میں آج کے لیے کچھ سوچ چکا تھا۔ اسی لیے جب اُس نے مجھے گدگدی شروع کی تو میں اپنی کمر اور پیٹ پر پڑنے والے اُس کے ہاتھوں کو ہٹاتے ہوئے نیچے کی جانب جھٹک دیتا۔ اس طرح اُس کے ہاتھ میری رانوں کو جا لگتے۔ یوں ہی ایک دو بار کرنے میں میرا عضو مکمل تن گیا۔ جسے میں نے غیر محسوس طریقے سے اپنی اُس ران کی طرف کر لیا جس پر اُس کا ہاتھ لگتا تھا۔ اُس نے ایک بار پھر گدگدی کی تو میں نے اُس کے ہاتھ کو پکڑ کر نیچے کرتے ہوئے عضو پر رکھ دیا اور وہیں روک لیا۔ اُسے بھی محسوس ہو گیا۔ اس لیے اُس نے شرما کے مسکراتے ہوئے نظریں نیچی کر لیں اور سر جھکا لیا۔ میں نے ذرا ٹھیک سے اُس کا ہاتھ عضو پر رکھا اور اُس نے اچھے طریقے سے اُسے پکڑ لیا اور ہولے ہولے دبانے لگی۔ مجھے بہت مزا آ رہا تھا۔ میں نے دوسرے ہاتھ سے شلوار کا ازاربند کھولنے کے لیے جب ہاتھ ادھر کیا تو اُس نے مجھے ہلکے سے اشارے سے ایسا کرنے سے منع کیا۔ میں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اُسے کہا کہ کچھ نہیں ہوتا۔ اُس نے ہلکی آواز میں کہا کہ کوئی آ جائے گا۔ میں پھر بھی نہ مانا اور ازاربند کھول ہی دیا۔ پھر آہستگی سے شلوار نیچے کرتے ہوئے عضو اُس کے ہاتھ سے چھڑوا کر باہر نکال لیا۔ اُس نے ہاتھ ذرا سا پیچھے کر لیا تھا اور نیچی نظروں ہی میں مسکراتے ہوئے شرما رہی تھی۔ میں نے پیار سے اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُس کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے عضو پر رکھا۔ اُس نے نرمی سے پکڑ لیا۔ اُف! میرے بدن میں ایک لذت بھری لہر دوڑ گئی۔ وہ اُسے سہلانے لگی۔ مجھے نرم انداز میں سہلانے سے مزا نہیں آ رہا تھا اس لیے اُس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر اُس کی مٹھی کو ذرا زور سے دبایا۔ اُسے سمجھ آ گئی اور مسکراتے ہوئے زور سے دبانے لگی۔ آہستہ آہستہ وہ اور زیادہ زور لگانے لگی۔ پھر اُس نے میرا عضو پکڑ کر اُسے اوپر نیچے کرنا شروع کیا۔ اور مشت زنی کے انداز میں آگے پیچھے کرنے لگی۔ مگر میری بیرونی جلد پر عضو کی جڑ کی طرف دباؤ ڈالتے ہوئے وہ بہت زیادہ زور لگانے لگ پڑی۔ اتنا کہ عضو کی بیرونی جلد کھنچ جانے سے مجھے سخت درد ہوتا ہر بار۔ میں نے دو تین بار تو برداشت کیا مگر پھر میری اگلی دو تین بار میں آہ نکل گئی۔ میں نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا کہ آہستہ۔ مگر وہ شاید شرارت کے موڈ میں آ چکی تھی۔ اس لیے اُس نے اور تین چار بار انتہائی زور زور سے بھینچ ڈالا۔ نتیجتاً مزے کے بجائے مجھے درد ہونے لگا۔ اور اسی وجہ سے عضو دھیرے دھیرے ڈھیلا پڑنے لگا۔ اُسے بھی محسوس ہو گیا کہ عضو ڈھیلا پڑ گیا ہے۔ چناں چہ مجھے دیکھ کر اُسے اپنے ہاتھ میں پکڑ کر ہلاتے ہوئے شرارت بھرے انداز میں بولی۔بس اتنی سی جان تھی اس میں۔ بیچارہ ٹھنڈا بھی ہو گیا۔ اور میں کھسیانی ہنسی ہنسنے لگا۔ دل ہی دل میں مجھے حنا پر غصہ بھی آ رہا تھا کہ مزے کے لمحوں کو اس قدر زور لگانے کی وجہ سے اُس نے خراب کر دیا تھا۔ اچانک دروازے پر آہٹ ہوئی۔ میں نے جلدی سے رضائی اوپر کر لی اور کتاب پکڑ لی۔ حنا بھی، جو میری طرف جھکی ہوئی تھی، فوراً سیدھی ہو کر بیٹھ گئی اور اپنے رجسٹر پر کچھ لکھنے لگی۔ اُس کی امی کمرے میں داخل ہوئی تھیں۔ میں نے اُن کے آنے کے بعد ذرا سے توقف سے حنا کی پڑھائی سے متعلق ہی کوئی بات چھیڑ لی حنا سے۔ اور جب اُس کی امی باہر چلی گئیں تو میں نے شرارت اور ڈرآمیز انداز میں منہ بنا کر اُس کی طرف دیکھا اور مسکرانے لگا۔ وہ بھی مجھے دیکھتے ہوئے بولی۔ میں نے کہا تھا نا کہ کوئی آ جائے گا۔ آپ مانتے کب ہیں۔ اور بہت ہلکا سا مسکرا دی۔ میں نے جلدی سے رضائی ہٹا کر ازار بند باندھنا شروع کیا۔ اور پھر سے پڑھائی شروع ہو گئی۔ آتے ہوئے اُس نے بھرپور انداز میں مجھے گلے لگایا۔ میں نے بھی زور سے بھینچ لیا اُسے۔ اور پھر گھر آ گیا۔
    حنا کا چوں کہ ہمارے گھر میں کافی آنا جانا بن گیا تھا اس لیے میری چھوٹی بہن سے بھی اُس کی خوب دوستی ہو گئی تھی۔ اُس کے ساتھ بازار بھی چلی جایا کرتی اور گھر کی صفائی میں بھی حنا اُس کا ہاتھ بٹا دیا کرتی تھی۔ ہر دوسرے تیسرے روز وہ ہمارے گھر کسی نہ کسی کام کے سلسلے میں یا یوں ہی میری بہن سے ملنے آ جایا کرتی تھی۔ پھر کچھ دنوں کے لیے حنا اپنی باجی کے ہاں چلی گئی۔ اُن کا ہاتھ بٹانے کے لیے۔ پانچ چھے دن تک ہماری فون ہی پر باتیں ہوتی رہیں یا پھر میسجز پر۔ فون پر بھی ہلکا پھلکا سیکس اور رومانس کرتے رہے ہم۔ جب واپس آئی تو اُس نے بتایا کہ اُس کی باجی نے اُسے اپنی نائٹی دے دی ہے۔ اُن کو چھوٹی تھی اس لیے انھوں نے کہا کہ حنا پہن لے گی۔ میں نے حسرت بھرے انداز میں کہا کہ مجھے کب پہن کر دکھائو گی۔ تو ہنس پڑی اور کہنے لگی کہ اُس کا بھی سوچ لیں گے۔ جون کا مہینا چل رہا تھا۔ جب ایک دن میں گھر پر اکیلا تھا۔ گھر والے بازار گئے ہوئے تھے۔ میرا دل چاہا کہ آج حنا سے ملاقات کی جائے۔ اُسے میسج کیا تو فوراً اُس کا جواب آ گیا۔ میں نے اُس سے پوچھا کہ کوئی کام تو نہیں کر رہی؟ اُس نے کہا کہ نہیں کچھ خاص نہیں۔ میںنے کہا کہ اچھا پھر گھر چکر لگا سکتی ہو؟ اُس نے کہا کہ ہاں آ سکتی ہوں۔ میں نے بتایا کہ گھر کوئی نہیں ہے۔ یہ میسج لکھتے ہوئے میرا دل غیر محسوس طریقے سے ذرا زور سے دھڑکنے لگا تھا۔ اُس نے پوچھا کہ کہاں گئے ہیں سب؟ تو میں نے بتایا کہ بازار گئے ہیں اور دو گھنٹے سے پہلے نہیں آئیں گے۔ اُس نے اوکے آتی ہوں، کہا اور میں بے چینی سے اُس کا انتظار کرنے لگا۔ ایک ایک منٹ صدیوں کی طرح گزر رہا تھا۔ آج تو میں اُس کے ساتھ سیکس کر کے ہی چھوڑوں گا، یہ سوچتے ہوئے میں بے چین ہوا جا رہا تھا۔ آٹھ دس منٹ کے بعد دروازے پر دستک ہوئی اور میں نے بڑھ کر دروازہ کھولا تو حنا کھڑی تھی۔ اُسے اندر آنے کو راستہ دیا اور جب وہ اندر آ گئی تو میں نے آہستگی سے دروازہ کی چٹخنی چڑھا دی۔
    اُس نے گھر کا صحن دیکھا جو ذرا گندا ہو رہا تھا۔ فوراً بولی کہ اوہو! صفائی ہونے والی ہے۔ جا کر جھاڑو لے آگئی اور پائپ کھول کر صحن دھونے لگی۔ اُس وقت اُس کا یہ احساس کرنا مجھے سخت ناگوار گزر رہا تھا۔ میں بھی خاموش رہا اور بیٹھک میں پڑی اکلوتی بڑی ساری چارپائی پر سرھانا ٹھیک کیا۔ پھر کچھ دیر وہیں بیٹھا رہا۔تھوڑی دیر بعد باہر نکلا تو وہ تقریباً دھو چکی تھی صحن۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ بس بھی کرو اب!وہ بھی مسکرا دی اور پائپ سمیٹ دیا۔ جھاڑو بھی ایک طرف رکھ دیا۔ پھر میں اُسے اندر لے آیا اور سینے سے لگاتے ہوئے بھینچ لیا۔ میری دھڑکنیں اُس وقت ریل کی رفتار سے چل رہی تھیں۔ تھوڑی دیر بعد خود سے الگ کر کے میں نے مسکراتے ہوئے اُس کی آنکھوں میں دیکھا اور پھر اُس کے گالوں کو آہستہ آہستہ چوما۔ پھر اُس کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیے۔ اُف! نرم نرم ہونٹوں کو چومتا ہی چلا گیا۔ پھر اچانک اُس نے مجھے خود سے الگ کرنے کے لیے ہلکا سا ہاتھ سے دباؤ ڈالا۔ میں الگ ہوا اور اُس کی آنکھوں میں سوالیہ انداز سے دیکھا۔ وہ مدھم آواز میں بولی۔ میں نائٹی بھی لائی ہوں۔ میں نے خوشی سے کہا۔ اوہ اچھا۔ تو وہ بولی۔ ہمم۔ مگر آپ باہر جائیں اور تھوڑی دیر بعد اندر آئیے گا۔ میں مسکراتے ہوئے اُس کا ایک بوسہ لے کر باہر آ گیا۔ میری بے چینیاں بڑھتی ہی جا رہی تھیں۔ دو سے تین منٹ بمشکل باہر گزار کر میں دروازے کو ہلکا سا کھٹکھٹاتے ہوئے اندر ہوا۔ اُس نے منع نہیں کیا۔ اور جب میں نے اُسے دیکھا تو میرے ہوش ہی اڑ گئے۔
    اُففف! کیا غضب لگ رہی تھی وہ نائٹی میں! گہرے نیلے رنگ کی نائٹی تھی جو جالی دار تھی۔ اُس کے سٹرِپس کاندھوں پر تھے اور ابھاروں کے قریب جا کر نائٹی کا حصہ شروع ہوتا تھا۔ اس طرح اُس کے ابھاروں کا درمیانی حصہ بہت کھلے ڈُلے انداز میں دکھائی دے رہا تھا۔ کلیویج بھرپور انداز میں اپنی نمائش کر رہا تھا۔ سانولا سلونا رنگ اور بھرپور جوان بدن۔۔۔ آہ! میری نظریں سفر کرتی نیچے پہنچی تو لذت اور بڑھ گئی۔ نائٹی کی لمبائی اتنی سی تھی کہ اُس کی مکمل رانیں نظر آ رہی تھیں۔ یعنی تقریباً ساری کی ساری ٹانگیں برہنہ تھیں۔ بمشکل تمام اندامِ نہانی کو ڈھانپا تھا نائٹی نے۔ میں سحر زدہ سا آگے بڑھتا چلا گیا اور اُسے بازوئوں سے پکڑتے ہوئے داہنے کاندھے پر ہونٹ رکھ دیے۔ پھر اُس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا۔ بہت خوبصورت لگ رہی ہو جان! وہ شرما ہی تو گئی۔ اور میرے سینے میں چھپنے لگی۔ میں نے اُسے بہت پیار سے بازوئوں میں اٹھا لیا اور آہستگی سے چلتا ہوا چارپائی تک آیا۔ پھر نرمی سے چارپائی پر لٹا دیا۔ اُس پر کچھ بچھانا مجھے یاد نہیں رہا تھا۔ بس ایک سرھانا ہی دھرا ہوا تھا اور پائنتی پر ایک کھیس۔ پھر اُس پر جھکتے ہوئے اُسے چومنے لگا۔ میں شلوار اور بنیان میں ملبوس تھا۔ کچھ ہی دیر میں مَیں بھی چار پائی پر ہی آ گیا۔ وہ میرے بوسوں کی تاب نہ لاتے ہوئے مدہوش ہو چکی تھی۔ ادھ کھلی آنکھیں اور دُور خلا میں دیکھتی ہوئی نظریں۔ لذت سے بھرے ہوئے تاثرات لیے اُس کا سنجیدہ سا چہرہ۔ میں نے اوپر آتے ہی غیر محسوس طریقے سے ازار بند کھول لیا تھا اور پھر سے اُسے چومنے لگا۔ چہرے سے ہوتا ہوا گردن تک آیا۔ گردن کی جلد ہونٹوں میں بھر بھر کے چوستا رہا اور چوستے چوستے چہرے تک چلا گیا۔ اُس کے گال چوسے۔ پھر ماتھا۔ پھر کان۔ اور کان کی لویں۔ اُف وہ ذائقہ۔عضوِ تناسل مکمل اٹھان پر آ چکا تھا۔ میں نے نچلے وجود کو ذرا جھکا دیا اور اُس کی ٹانگوں کے درمیان عضوِ تناسل کو محسوس کروانے لگا۔ اُسے ایک اور جھٹکا لگا اور وہ مدہوشی کی کیفیت میں سسکار اٹھی۔ میں گردن سے کاندھوں تک گیا اور پھر چومتا اور چوستا ہوا اُس کے ابھاروں کے درمیان آ گیا۔ ہونٹ درمیانی لکیر کو چومنے لگے۔ ساتھ ہی زبان لکیر میں شرارتیں کرنے لگی۔ وہ جذب کے عالم میں تھوڑے تھوڑے سے وقفے سے اپنا سر اِدھر سے اُدھر مارنے لگی تھی۔ پھر میں نے آہستگی سے نائٹی اُس کے داہنے ابھار سے نیچے کھینچی۔ وہ انتہائی لچک دار تھی۔ فوراً ہی اُس کا مکمل ابھار اکڑےہوئے نپل کے ساتھ میری آنکھوں کے سامنے آ گیا۔
    ہائے! وہ درمیانے گول براؤن دائرے اور اُن کے درمیان کھڑا ہوا نپل۔ میں نے اُسے آہستگی سے چوما اور پھر فوراً ہونٹوں میں بھر لیا۔ وہ پھر سے کانپ سی گئی۔ اور میرے سر پر ہاتھ رکھا۔ میں سرمستی کے عالم میں آنکھیں بند کیے اُسے چوسنے لگا۔ نپل کو ہونٹوں میں پکڑ کر کھینچا۔ اُس نے آہ بھری۔ پھر بائیں ابھار کو لباس سے آزاد کرتے ہوئے ہونٹوں کو اُس کنوارے دودھ سے سیراب کرنے لگا۔ اٹھارہ سال کی عمر میں اُس کے ابھار جوانی کے بھرپور ایام میں ہونے کی وجہ سے پورے جوبن پر تھے۔ بانکے۔ تنے ہوئے۔ان چھوئے ہونے کی وجہ سے کچھ کچھ سخت۔ ذرا بھی ڈھیلا پن نہیں تھا۔ سیدھے کھڑے ہوئے مجھے کہہ رہے تھے کہ ہمیں کھا جائو۔ جی بھر کے چوس لو۔ اور میں اُن چند لمحوں میں ان کنوارے تنے ہوئے ابھاروں سے اپنے ہونٹوں کی جتنی پیاس بجھا سکتا تھا، بجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ میرا دل چاہا کہ وہ میرے عضو کو اپنے ہونٹوں میں لے کر چوسے۔ میں نے ابھار چوستے ہوئے سر اٹھایا۔ اور اُس کے ہونٹوں کو چوما۔ وہ مسرور انداز میں مجھے دیکھنے لگی۔ میں مسکرا رہا تھا۔ اُسے محسوس ہو گیا کہ میں کچھ کہنا چاہ رہا ہوں۔ پھر میں نے بات کرنے کو منہ کھولا۔ جان! اگر تم۔۔! اور پھر مسکرانے لگا۔ مجھے یہ کہتے ہوئے شرم محسوس ہو رہی تھی کہ کس طرح اُسے کہوں! اُس نے کچھ اور سمجھتے ہوئے مجھ سے کہا۔ کیا میں اوپر آ جاؤں؟ میں نے مایوس ہوتے ہوئے اور شاید دل میں یہ سوچتے ہوئے کہ شاید اوپر آ کر مجھے چومتے ہوئے نیچے تک بھی جائے، مسکرا کر ہاں میں سرہلا دیا۔ چناں چہ وہ میرے اوپر آ گئی اور مجھے چومنا شروع کیا۔ کچھ دیر بعد میں نے پھر ہمت کی اور کہنے کی کوشش کی۔ جانو! اُسے۔۔۔ میرا اشارہ اپنے عضو کی طرف تھا۔ مگر بات مکمل نہیں کر پایا۔ پھر حجاب آ گیا۔ اُس نے پھر سے کچھ اور سمجھتے ہوئے بات مکمل کرنے کی کوشش کی۔کیا؟ اندر ڈالوں؟ میں پھر سے مایوس ہوا مگر یہ زیادہ اچھا آئیڈیا تھا۔ میں نے مسکراتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا۔
    وہ مجھ پر جھکی ہوئی تھی۔ پیچھے ہو کر میری ٹانگوں پر بیٹھ گئی۔ پھر شرماتے ہوئے مجھے اپنی آنکھیں بند کرنے کو بولا۔ میں نے اوکے کہتے ہوئے مسکرا کر اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ مگر بہت ہلکی سی آنکھیں کھول کر دیکھنے لگا۔ اُس نے میرا عضو اپنے ہاتھ میں پکڑا اور پھر اُسے اندامِ نہانی کے سوراخ پر کچھ دیر پھیر کر اندر سیٹ کیا۔ تھوڑی دیر بعد مجھے نیم گرم احساس محسوس ہوا عضو کے سِرے پر۔حشفہ اندر جا رہا تھا۔ اُف! میرا عضو مزید اکڑ گیا۔مکمل سخت ہو گیا۔ اُس نے تھوڑی دیر بعد آہ اور پھر اُف کیا۔ اور پھر مجھے اوپر نیچے ہوتی ہوئی نظر آنے لگی۔ مجھے بھی حشفہ ایک تنگ سے سوراخ میں نیم گرم احساس لیتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ میں تو لذت کی شدت سے پاگل ہونے لگا۔ مکمل آنکھیں کھول دیں۔ وہ سائیڈ کی طرف دیکھتے ہوئے درد بھرے چہرے کے ساتھ اوپر نیچے ہو رہی تھی۔ عضو کا صرف سُپارا ہی اندر داخل کیا تھا اُس نے۔ اُس سے زیادہ اندر نہیں لے رہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد اُس نے میری طرف دیکھا تو درد بھری آواز میں بولی۔ بس! بہت درد ہو رہا ہے۔
    میں نے اُسے نیچے اتارا اور اپنے نیچے لٹا کر چومنے لگا۔ اُس کے ہونٹ چوستا رہا۔ پھر اُس کی چھاتیاں دبانے لگا اور نائٹی اوپر اٹھا کر اس کے پیٹ پر ہونٹ رکھے۔ چومتا ہوا ابھار بھی دباتا رہا۔ وہ مزے سے چُور ہونے لگی۔ پھر نائٹی اُس کی چھاتیوں سے بھی اوپر اٹھا کر میں اُس کے پکی ہوئی مسمیوں جیسے ابھار چوسنے لگا۔ تنے ہوئے نپل کچھ اور باہر نکل آئے تھے کھڑے ہو کر۔ اس لیے اُنھیں چوسنے کا بھی بہت مزا آ رہا تھا۔ہونٹوں میں لے لے کر اور دانتوں میں پکڑ پکڑ کر کھینچنے کی لذت بہت سکون آور تھی۔ میں شہوت کے عروج پر پہنچنے لگا۔ چناں چہ پھر سے اُس کے کان میں سرگوشی کی۔ جان! ایک بار پھر کریں؟ میرا اشارہ اندامِ نہانی میں عضو کے دخول کی طرف تھا۔اُس نے ہاں میں سر ہلایا۔ اور خود اپنا ہاتھ نیچے لے جا کر اندامِ نہانی کے سوراخ میں حشفہ ٹِکا دیا۔ میں نے ذرا سا دباؤ ڈالا تو چکنی رطوبت کی وجہ سے گیلی ہوجانے والی اندامِ نہانی میں فوراً حشفہ داخل ہو گیا۔ اُس نے آہ کیا اور درد بھرے تاثرات اُس کے چہرے پر در آئے۔منہ ابھی بھی آدھا کھلا ہوا تھا اُس کا اور وہ نیم وا آنکھوں سے مجھے ہی دیکھ رہی تھی۔ میں بھی اُسے دیکھتے ہوئے عضو آگے پیچھے کرنے لگا۔ بڑی احتیاط کے ساتھ۔ تاکہ باہر نہ نکل جائے۔چوں کہ میرا سیکس کرنے کا بالکل پہلا تجربہ تھا اس لیے مجھے یہ خیال ہی نہیں رہا کہ اٹھ کر عضو پر اچھی طرح لعابِ دہن لگا لوں تاکہ حنا کو درد زیادہ نہ ہو۔ اور بس اِسی کو غنیمت جانا کہ اُس نے خود پکڑ کر اپنے اندر رکھا تھا۔جسے میں خود اٹھ کر نکالنا نہیں چاہ رہا تھا اور دل میں یہ خوف بھی تھا کہ اٹھنے میں نکل گیا تو شاید وہ دوبارہ ڈالنے سے منع ہی نہ کردے درد کی وجہ سے۔ اس لیے میں اُسی تھوڑے سے داخل ہوئے عضو کو اندر باہر کر کے لذت لینے لگا۔ مگر جب اندر جاتا ہے تو پھر تھوڑے ہی سے مزا کب آتا ہے؟ چناں چہ بڑھتی ہوئی لذت کے زیرِ اثر میں نےتھوڑا اور دباؤ بڑھایا تو خشک عضو اندامِ نہانی کی دیواریں کھولتا ہوا تھوڑا اور اندر داخل ہو گیا۔ جس پر اُس نے ذرا اونچی آواز میں آہ بھری۔ اور سسکارتی ہوئی سر اِدھر اُدھر مارنے لگی۔ ساتھ ہی اُوہ ۔۔۔ کی آواز بھی نکلنے لگی اُس کے منہ سے۔ مجھ پر مستی سوار تھی۔ پھر یہ کہ پہلی پہلی دفعہ کسی لڑکی کے ساتھ جنسی ملاپ کا موقع آیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ میں خود پر قابو نہ رکھ سکا اور چھوٹنے پر آ گیا تھا۔اِس کی ایک اور وجہ شاید یہ بھی تھی کہ حنا کی اندامِ نہانی بہت ٹائٹ تھی۔ ہم دونوں کا پہلا پہلا جنسی ملاپ تھا زندگی میں۔ اور اُس کی تنگ اندامِ خاص میں پھنس کر عضوِ تناسل بار بار اندر باہر کرتے رہنے کی وجہ سے بھی میرا انزال قریب آ گیا تھا۔ چناں چہ میں نے ذرا تیز رفتاری سی اندر باہر کرنا شروع کیا اور ایسا کرتے ہوئے تھوڑا سا دباؤ اور ڈال دیا۔
    حِنا چیختے چیختے رہ گئی۔ درد کی شدت کی وجہ سے میری کمر کو بھینچ لیا تھا اُس نے اور کراہے جا رہی تھی۔ میں تقریباً آدھا عضو داخل کر چکا تھا جو پھنس پھنس کر اُس کے کنوارے سوراخ میں اپنے آنے جانے کا احساس دے رہا تھا۔ حشفہ سے پیچھے میرا عضو موٹا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اُس کا درد سے بے حال ہونا اس وجہ سے بھی فطری تھا۔ وہ انتہائی قیامت خیز لمحے تھے۔ مزے کا وہ احساس مجھے آج تک نہیں بھولا۔ کیا تنگی تھی اُس کے سوراخ کی! اُففف! اور میرے عضو پر اُس کی کنواری اندامِ خاص کی وہ جکڑن۔ آہ! مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ بس میں منزل ہونے والا ہوں۔ چناں چہ تیز تیز اندر باہر کرنے لگا۔ وہ بھی اب باقاعدہ آواز سے آ۔۔ آ۔۔ اُوہ۔۔ اُوہ کرنے لگی اور اچانک میرے عضو سے مادۂ منویہ کا فوارہ بہ نکلا۔ اُس کی ایک سے دو پچکاریاں تو اندر ہی گریں۔ ایسی حالت میں مَیں اُس کے سوراخ میں سے ہرگز باہر نہیں نکالنا چاہ رہا تھا مگر یاد آتے ہی فوراً میں نے عضو باہر کھینچ لیا جو چارپائی پر آیا۔ وہاں قریب ہی بڑا سا سوراخ تھا جس میں سے میرا عضو چارپائی سے نیچے کو نکل گیا۔ پچکاریاں نیچے فرش پر میرا شہوت بھرا لاوا انڈیلتی رہیں۔ تھوڑی دیر بعد مجھے ہوش آیا تو پتا چلا حنا سسکیاں لے رہی تھی۔
    میں نے جلدی سے اٹھ کر اُسے دیکھا۔ اُس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے اور چہرے پر درد کے آثار تھے۔ میں نے جلدی سے اُسے اٹھا کر بٹھایا اور چارپائی پر دیکھنے لگا کہ وہاں تو نہیں گرا مواد۔ مگر وہاں کچھ نہیں تھا۔ میں نے نیچے دیکھا۔ اُس نے بھی میرے ساتھ ہی دیکھا۔ وہاں مادۂ منویہ کافی مقدار میں پڑا ہوا تھا۔ وہ کہنے لگی کہ میں صاف کر دیتی ہوں۔ میں نے کہا کہ نہیں میں خود ہی صاف کر لوں گا۔ تم واش روم سے ہو آؤ۔ اُس نے اچھا کہتے ہوئے اُسی روہانسے منہ سے اٹھ کر نائٹی درست کی اور شلوار قمیص اٹھا کر باہر چلی گئی۔ میں وہیں بیٹھ گیا۔ ندامت سے سوچنے لگا کہ اتنا اندر نہیں ڈالنا چاہیے تھا۔ پتا نہیں کیا بنا ہے۔ پردہ ہی نہ پھٹ گیا ہو۔ پھر جب وہ آئی تو منہ اُسی طرح روہانسا بنا ہوا تھا۔ میں نے متفکرانہ انداز سے پوچھا کہ کیا ہوا؟ تو وہ میرے گلے لگ کر رونے لگی۔ میں نے اُسے پچکارتے ہوئے چپ کرانے کی کوشش کی۔ اُس نے بتایا کہ خون نکلا ہے اور بہت شدید درد ہو رہا ہے۔ میں نے اوہ کہتے ہوئے اپنی پریشانی کا اظہار کیا۔ وہ کہنے لگی کہ میں اب گھر چلتی ہوں۔
    مجھے ایک دم خیال آیا کہ میں کتنا بد اخلاق ہوں کہ جب وہ آئی تھی تو اُسے پانی بھی نہیں پوچھا۔ پھر مجھے پشیمانی ہوئی کہ مجھے تو اُس کے آنے سے پہلے ہی اِس کا بندوبست کرنا چاہیے تھا۔ کوئی بوتل لے آتا یا ملک شیک بنا کے رکھتا۔ مگر سیکس کرنے کے نشے میں مَیں یہ بھول ہی گیا۔ اُسے اُسی وقت کہا کہ کچھ پی تو جاؤ۔ میں پانی لے کر آتا ہوں۔ وہ بولی کہ نہیں مجھے ابھی پیاس نہیں ہے۔ میں گھر چلتی ہوں بس۔ چناں چہ میں نے اُسے رخصت کیا۔ اور پھر واپس آ کر بیٹھا تو شرمندہ ہونے لگا کہ اُس نے گھر کی صفائی بھی کی اور پھر میرے ساتھ سیکس بھی کیا اور میں نے اُسے پانی تک نہیں پلایا۔ کتنا بدتہذیب شخص ہوں میں بھی۔ اپنے آپ کو کوسا۔ اور پھر یہ بھی سوچتا رہا کہ میرا مادہ اُس کے رحم میں نہ داخل ہو جائے۔ کیوں کہ نکالنے سے پہلے ایک دو جھٹکے مجھے لگ چکے تھے۔ خیر تھکن کافی ہو گئی تھی اس لیے میں اُسی چارپائی پر ڈھیر ہو کر سو گیا۔

  6. The Following 11 Users Say Thank You to zainee For This Useful Post:

    abkhan_70 (02-06-2018), Admin (08-06-2018), curves.lover (19-08-2018), Irfan1397 (03-06-2018), jerryplay100 (18-08-2018), Lovelymale (03-06-2018), orange10 (02-06-2018), shubi (08-06-2018), Story-Maker (01-06-2018), V-Eater (22-08-2018), zeem8187 (02-06-2018)

  7. #44
    Story-Maker's Avatar
    Story-Maker is offline Super Moderators
    Join Date
    Mar 2016
    Location
    Pakistan
    Age
    24
    Posts
    4,134
    Thanks
    1,869
    Thanked 5,173 Times in 2,567 Posts
    Time Online
    2 Weeks 1 Day 6 Hours 30 Minutes 14 Seconds
    Avg. Time Online
    24 Minutes 4 Seconds
    Rep Power
    876

    Default

    بہترین کم بیک ہے دوست
    بہترین قسط بہترین الفاظ
    بہترین سین

  8. The Following 2 Users Say Thank You to Story-Maker For This Useful Post:

    abkhan_70 (02-06-2018), zainee (07-06-2018)

  9. #45
    zeem8187's Avatar
    zeem8187 is offline Premium Member
    Join Date
    Jan 2010
    Location
    London
    Posts
    557
    Thanks
    80
    Thanked 1,347 Times in 465 Posts
    Time Online
    1 Week 1 Day 4 Hours 27 Minutes 49 Seconds
    Avg. Time Online
    4 Minutes 48 Seconds
    Rep Power
    66

    Default

    بہت عرصہ بعد کہانی اپڈیٹ ہوئی اچھی جا رہی ہے
    8187

  10. The Following User Says Thank You to zeem8187 For This Useful Post:

    zainee (07-06-2018)

  11. #46
    orange10's Avatar
    orange10 is offline Premium Member
    Join Date
    Jan 2011
    Location
    Lahore
    Age
    30
    Posts
    121
    Thanks
    432
    Thanked 483 Times in 120 Posts
    Time Online
    1 Day 11 Hours 59 Minutes 22 Seconds
    Avg. Time Online
    52 Seconds
    Rep Power
    21

    Default

    Akhir kar. 4 saal bad uski seal tor he di. Kafi mzay ki kahani hai. Isko jaree rakhain. Guzarish hai ye. Or zainee ji thori si urdu asan likhain hum ghareebon ko samjh nahi ati

  12. The Following User Says Thank You to orange10 For This Useful Post:

    zainee (07-06-2018)

  13. #47
    ms tari is offline Premium Member
    Join Date
    Jun 2012
    Age
    34
    Posts
    303
    Thanks
    245
    Thanked 1,041 Times in 270 Posts
    Time Online
    1 Week 2 Days 23 Hours 9 Minutes 23 Seconds
    Avg. Time Online
    6 Minutes 18 Seconds
    Rep Power
    38

    Default

    Nice yar zabardast

  14. The Following User Says Thank You to ms tari For This Useful Post:

    zainee (18-08-2018)

  15. #48
    Lovelymale's Avatar
    Lovelymale is offline Premium Member
    Join Date
    Aug 2008
    Location
    Islamabad, Pakistan, Pakistan
    Age
    55
    Posts
    2,082
    Thanks
    14,550
    Thanked 7,227 Times in 1,858 Posts
    Time Online
    2 Weeks 4 Days 9 Hours 1 Minute 8 Seconds
    Avg. Time Online
    10 Minutes 48 Seconds
    Rep Power
    1056

    Default

    Boht shukriya janaab apni story ko lawaris se dobara zinda karnay ka. Abb iss ko time pe update kartay rehna. Waise update kafi achi lagi.

  16. The Following 2 Users Say Thank You to Lovelymale For This Useful Post:

    orange10 (05-06-2018), zainee (07-06-2018)

  17. #49
    Join Date
    Jan 2008
    Location
    In Your Heart
    Posts
    3,563
    Thanks
    2,521
    Thanked 10,504 Times in 1,844 Posts
    Time Online
    1 Week 4 Days 21 Hours 8 Minutes 34 Seconds
    Avg. Time Online
    6 Minutes 59 Seconds
    Rep Power
    3201

    Default

    بہت زبردست کہانی ہے آخر کار اس نے اندر کر ہی دیا

  18. The Following User Says Thank You to Admin For This Useful Post:

    zainee (18-08-2018)

  19. #50
    shubi's Avatar
    shubi is offline MPA
    Join Date
    Jun 2017
    Location
    Multan, Punjab, Pakistan
    Age
    32
    Posts
    309
    Thanks
    1,275
    Thanked 162 Times in 109 Posts
    Time Online
    2 Days 2 Hours 38 Minutes 7 Seconds
    Avg. Time Online
    6 Minutes 40 Seconds
    Rep Power
    33

    Default

    This was a very nice Update,

    And sort of like real,

    In normal the situation is same,



    Once again

    Very HOT update dear.


    Keep working
    Smile is the cheapest remedy for every disease.

  20. The Following User Says Thank You to shubi For This Useful Post:

    zainee (18-08-2018)

Page 5 of 7 FirstFirst 1234567 LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •