Page 2 of 4 FirstFirst 1234 LastLast
Results 11 to 20 of 34

Thread: ...بھابھی کی مشکل آسان کی مفت میں

  1. #11
    Join Date
    Jun 2009
    Posts
    24
    Rep Power
    12

    Default

    Nice story best of luck but اس کہانی کو اتنی جلدی ختم نہ کرنا پلیز

  2. #12
    Join Date
    Jun 2009
    Posts
    24
    Rep Power
    12

    Default

    Well done jnab
    مزہ آگیا جاری رکھنا شارٹ کر کے مزہ خراب نہیں کرنا پلیز

  3. #13
    Join Date
    May 2009
    Location
    PUNJAB
    Posts
    3,984
    Rep Power
    2752

    Default


    کہانی کا پلاٹ اور موضوع واقعی نیا اور منفرد ہے۔
    ایک اچھے موضوع پر بہت اچھی کہانی تحریر کی ہے جناب۔
    کہانی پوسٹ کرنے سے پہلے املا کی غلطیوں کو ضرور دیکھ لیا کیجیے۔

  4. #14
    Join Date
    Oct 2016
    Location
    Lahore
    Age
    25
    Posts
    519
    Rep Power
    950

    Default

    Quote Originally Posted by faisal141 View Post

    کہانی کا پلاٹ اور موضوع واقعی نیا اور منفرد ہے۔
    ایک اچھے موضوع پر بہت اچھی کہانی تحریر کی ہے جناب۔
    کہانی پوسٹ کرنے سے پہلے املا کی غلطیوں کو ضرور دیکھ لیا کیجیے۔

    جناب وقت کی کمی کی وجہ سے کبھی کبھی املا کی غلطیھو جاتی ہے. معذرت کرتا ہوں. تعریف کرنے کا بوہت شکریہ

  5. #15
    Join Date
    Oct 2016
    Location
    Lahore
    Age
    25
    Posts
    519
    Rep Power
    950

    Arrow تیسرا حصّہ

    لیں جناب آپ لوگوں کی فرمائش پی اس کہانی کو کچھ لمبا کر دیا ہے خوش رھیں.



    میں جب صوفہ پے گرا تو بھابھی دم سادھے ابھی کچھ سانحے پہلے والے واقعیہ کو یاد کر رہی تھی اور حیران ہو کے کبھی مجھے تو کبھی اپنی منی سے گیلی قمیض کو دیکھتی اور کبھی گود میں جمع شدہ منی کو جیسے یقین نہ ہو رہا ہو کے یہ ہوا کیا ہے؟ میں بھی گر کے لمبی لمبی سانسیں لے رہا تھا اور دماغ ابھی بھی قابو میں نہ آ رہا تھا اور پھر بھابھی نے اپنی گردن پے ہاتھ پھیرا اور وہاں لگی منی کو اپنے پورے ہاتھ سے صاف کیا اور چپچپے ہاتھوں کی انگلیاں کبھی بند کرتی تو کبھی کھولتی کیوں کے اس طرح کرنے سے ایک لیس سی بن رہی تھی اور پھر وہ میرے سے مخاطب ہوتے ہوۓ بولی یہ کیا تھا زین اور اشارہ اسکا اپنے سینے اور کپڑوں کی طرف تھا اور چہرہ کافی سیریس تھا یک دم کمرے میں اتنی خاموشی چھا گئی کے مجھے ہم دونوں کے زندہ ہونے پے شک ہوا میں کچھ بول نہ پا رہ تھا کیوں کے سمجھ نہیں آ رہا تھا کے سب کچھ تو ٹھیک ہی چل رہا تھا یہ اچانک کیا ہو گیا ارم کو؟؟ وہ پھر بولی کے زین میں کچھ پوچھ رہی ہوں میں نے اپنی آنکھیں تھوڑی سی سکیڑ کے اسکی طرف دیکھا لیکن اپنے چہرے پے میں ایسا کوئی بھی انداز نہیں لایا تھا کے جس سے پتا چلتا کے میں اندر سے ڈر گیا ہوں بل کے بلکل سپاٹ سا چہرہ بنایا ہوا تھا میں نے اور دیکھ اسکی طرف ایسے رہا تھا جیسے کجد اس سے پوچھ رہا ہوں کے کیا ہوا؟؟ وہ بولی کے یار اگر دوست سمجھ کے میں نے تم سے کھل کے اپنی مشکل بتا دی یا اوپن ہو کے ساری باتیں کر لی تو تم نے مجھے گشتی سمجھ لیا اور ووہی کیا جو ہر مرد کرتا ہے؟ دکھا دی نہ اپنی اوقات؟ میں تو تمہیں جج کر رہی تھی دیکھ رہی تھی کے موقع ملتے تم کہاں تک جاتے ہو کہاں تک تمہاری حد ہے کیا ضبط ہیں تمھارے اور کیا اوقات. لیکن تم نے تو اتنا بھی لحاظ نہ کیا کے میرے بھائی کی بیوی میری امانت ہے اور تم نے اسے ہی اپنی گندی ذہنیت کا نشانہ بنا لیا؟؟ کیا یہ ہے تمہاری دوستی؟ مجھے سمجھ نہیں آ رہا کے میں کیا کروں تمھارے ساتھ میں تو کہتی ہوں کے دفع ہو جاؤ.

    میں یہ سب بڑے نارمل انداز میں سن رہا تھا اور جب وہ بات کاحتم کر چکی تو میں نے آرام سے جمائی لی اور ارم کی پھدی پے ہلکا سا تھپڑ مار کے بولا ویسے ایکٹنگ تباہی کی کر لیتی ہو تم کیوں نہ تم کوئی فلم بناؤ مزہ آ جائے گا اتنی سیکسی اور نرم گرم ایکٹریس کو دیکھ کے اوگ لوڑا ہاتھوں میں لے کے پھیریں گے ہر وقت. ارم بھی ہنس پڑی اور بولی بھائی بہت چول قسم کے آدمی ہو یار میں نے سوچا تمہاری جان بوجھ کے کلاس لیتی ہوں اور تمھارےاعصاب چیک کرتی ہوں لیکن تم نے تو میری بات تمباکو سمجھ کے اڑا دی ایسا کیوں؟ میں ہنس کے بولا محترمہ ارم صاحب میں نے ساری زندگی انہی کتابوں میں کالی کی ہے اور انسانی دماغ اور حرکات پے بہت سے ریسرچ کی ہے ہان اگر تم مجھے کس نہ کرتی یا میرا لوڑا پیٹ کے ساتھ لگا کے نہ گھساتی یا ایسا ہوتا کے تم میری مٹھ نہ لگاتی تو شاید میں یہ سب کچھ نہ کرتا . ارم بولی اگر میں یہ سب نہ کرتی تو باقی رہ بابے کا لوڑا جاتا ہے؟؟؟ اور مجھے کہنی مار کے بولی کے اب میں ان کپڑوں کا کیا کروں اور ان بوبز کا کیا کروں ظالم آدمی اپنی بھتیجی کے حق پے ڈاکہ ڈال دیاہے اور اسکے رزق پے چھڑوا دیا ہے اب تیرا کیا ہو ہو گا کالیا؟؟ میں نے پیچھے سے اسکی بالوں کی لٹ کو پکڑ کے پیچھے کی طرف کھینچا اور جب اسکا موں سارا پیچھے کی طرف ہو گیا تو میں نے اپنے ہاتھ سے اسکا جبڑا پکڑ لیا اور اس طرح اندر کی طرف دبایا کے اسکا موں کھل گیا اور پھر بڑے آرام سے میں نے اپنی موں کی تھوک آہستہ آہستہ اسکے موں میں انڈیل دی اور پھر بالوں کو پیچھے ہی کھینچتا رہا اور اسکے ھونٹوں پی ہلکی ہلکی کاٹی کرتا رہا اور پھر ایک ہاتھ کی انگلی اسکی برا میں ڈال دی اور اسکے تنے ہوۓ نپل کو بہت زور سے مسل دیا اسکی سسکاری نکلی اور سر کو آگے لانا چاہا لیکن مینے بڑی مضبوطی سے اسکے بالوں کا جوڑا پکڑا ہوا تھا کے اسکا چھڑوانا بہت مشکل تھا وہ رحم خیز نگاہوں سے میری طرف دیکھ رہی تھی لیکن میرے اندر کے سوئے ہوئے جانور کو جگانا تو آسان ہوتا ہے لیکن اسکو سلانا بہت مشکل کام ہے. میں بولا بہت شوق ہے نہ تمہیں نازک کلی، کے کوئی ظالم باغبان تمہاری نازکی کو مسل کے رکھ دے اور تمھارے وجود کے کانٹے بھی برداشت کر لے تو آج وہ مالی آ گیا ہے جو تمہیں اس طرح مسلے گا کے خوشبو تو باقی رہے گی لیکن اکڑ نہیں نہ ہی وہ پہلے سی چال . اب یہ مالی تمہیں اپنے ہاتھ کی زنجیریں بنا کے ہی چھوڑے گا بس پھول نما جسم سے آخری بار پوچھ رہا ہوں کے کیا وہ اس ظالم باغباں کی راکھی قبول کرتا ہے ؟؟

    ارم کچھ ہپناٹائز سی ہو رہی تھی کیوں کے میں بہت دھیمے سے انداز میں ایک ہی ٹون میں ساری بات کر رہا تھا وہ بولی زین میں تیار ہوں. میں اسکے بال اور کھینچتا ہوا بولا کے کیا کہا؟ وہ بولی آئی آئی زین چھوڑ دو پاگل ہو درد ہو رہا ہے لیکن میں اسی طرح سانپ نما آنکھوں سے دیکھتے ہوۓ بولا مجھے پتا ہے جو میں کر رہا ہوں اور کیا کر رہا ہوں تمہیں بتانے کی ضرورت نہیں ہے سمجھی کیا؟ وہ حیران ہوتے ہوۓ بولی اچھا ٹھیک ہے لیکن چھوڑ تو دو. میں نے غصّے سے تھوک اسکے آنکھوں پی پھینک دی اور بولا ارم مجھ سے تمیز سے بات کرو جو کہ رہا ہوں بس ہاں یا نا میں جواب دو کوئی فضول بات نہیں کوئی اور رولا نہیں سمجھی کیا ؟ وہ بولی ہاں. میں جان کے بولا سنائی نہیں دیا ذرا اونچا بولو تو وہ بولی کے ہان زین میں سمجھ چکی ہوں. میں جان کے بولی کے کیا سمجھ چکی ہو؟؟ وہ بولی کے جو ابھی تم نے کھا اور جواب میں مینے اسکو اپنی آنکھیں باہر نکال کے دکھائیں تو وہ بولی کے یہی کے میرے ساتھ برا ہونے والا ہو لیکن جیسے آپ چاہو کر سکتے ہو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے. میں پھر بولا کے تمہیں اندازہ ہے نہ کے تمہیں کافی شدید درد بھی ہو گی؟ وہ بولا ہاں مجھے اندازہ ہے. میں پھر بولا اور تمہیں یہ بھی پتا ہے کے نا ایک بار اگر تم اس کھیل میں شامل ہو گئی تو کوئی واپسی نہیں ہے؟ وہ بولی ہاں مجھے پتا ہے فکر نہ کرو. میں بولا یہ ہوئی نہ اچھی بچی والی بات. اور تمہیں یہ بھی پتا ہونا چاہیے کے تم میری ملکیت بن جاؤ گی اور میں جب چاہوں جہاں چاہوں جیسے چاہوں جدھر چاہوں جیسے بھی چاہوں تمہیں استمعال کر سکتا ہوں؟ یہ سن کے ارم تھوڑی دیر کے لیے چپ ہوئی اور میں اسے سوچنے کا کوئی موقع نہیں دینا چاہتا تھا کیوں کے جتنا زیادہ سوچنے کا ٹائم دو اتنا ہی عذاب بن جاتا ہے اور میں تقریباً دھاڑتے ہوۓ بولا کے جواب دو. وہ کچھ بولنے ہی لگی تھی کے میں جان بوجھ کے پھر اسکی آنکھوں کے قریب اپنی انتہائی غصّے والی آنکھیں لے کے ایا اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بولا کے جواب دو (اصل میں میں یہ سب کچھ نفسیاتی برتری حاصل کرنے کے لیے کر رہا تھا کیوں کے جب آپکو اپنے پارٹنر پی نفسیاتی برتری مل جائے تو آپکا پارٹنر آپ کو دیوتا سمجھنے لگ جاتا ہے آپ کے سیکس کو بطور تحفہ لیتا ہے نہ کے ضرورت اور میں یہی کر رہا تھا کے ہر بات میں ارم کی ہاں لے لوں اسکو سوچنے کا کوئی بھی موقع دے بغیر تا کے کل کلاں کو بھی سیکس کر سکوں اور سیکس اس طرح کروں کے ارم ساری زندگی یاد کرے اور کبھی بھول نہ سکے مجھے کیوں کے منفرد چیز ہمیشہ یاد رہتی ہے سب کو روز مرا کے چیزیں سب بھول جاتے ہیں. اور مجھے ارم خود ہی باتوں باتوں میں بتا چکی تھی کے حسن نے کبھی بھی اسکے ساتھ اس طرح کا سیکس نہیں کیا تھا ).

    یہاں آپ لوگ سوچ رہے ہوں گے کے میں کیا چول مار رہا تھا بھابھی کے ساتھ کے کچھ پل پہلے تو میں انکو نصیحتیں کر رہ تھا لیکن اب انکی گانڈ مرنے پے تلا ہوا ہوں ؟؟؟ نہیں میرے جگر ایسی بات نہیں ہے اصل میں مسلہ کچھ یوں تھا کے اگر میں اسکو نہ چودتا تو اسکی حسرت دل میں ہی رہ جانی تھی کیوں کے حسن نے تو کبھی بھی ایسا سیکس نہیں کرنا تھا سو ارم بیچاری سیکس لائف سے مطمئن نہیں تھی . دوسرا یہ کے اگر وہ میرے سیکس سے مطمئن ہو جاتی تو وہ ہنسی خوشی حسن کے ساتھ گزارا کر لیتی کیوں کے بیچ بیچ میں میں ایک سیکس کا پھیرا لگا دیا کرنا تھا اور تیسرا یہ کے جناب میرے ساتھ لگا ہوا ہے ایک عدد لوڑا جو کے میری بھی نہیں سنتا اگر جب آپ کا من پسند مال سامنے ہو اور ماحول بھی بن رہا ہو تو مجھے کونسا کسی نے پھر دھنیا کھا کے جنا تھا ؟؟؟ میں تو بھائی ٹکا کے چودنے کا پلان بنا رہا تھا.

    میں پھر اسکو تھپکی دے کے بولی شاباش میری غلام اب ایک اچھی بچی کی طرح بتاؤ کے میں کیا کرنے والا ہوں؟ وہ بولی سر آپ میرے ساتھ سیکس کرنے والے ہیں پھر خود ہی یاد آنے پے بولی معاف کرنا آپ میری دوری میں اپنا ڈنڈا پھیرنا والے ہیں تا کے میری چوت کی گرمی کو آپ کی منی کا گرم مسالا لگ سکے اور میرے انگ انگ میں آپ کے سیکس کی خوشبو کا احساس تڑکا لگا سکے. میں ہلکا سا ہنس پر اور بولا شاباش میری میری گشتی بھابھی مجھے پورا یقین ہے کے اگر تم گشتی ہوتی تو انتہائی بہن چود ٹائپ کی ہونی تھی لیکن تم فکر نہ کرو میں ہوں نہ تمہیں گشتی بنا کے ہی چھوڑوں گا. پھر میں دوبارہ اٹھ کے اسکے پاس گیا اور اپنا لوڑا اسکے موں کے آگے کر کے بولا ان سے ملو یہ ہیں تمھارے آج کے ٹھوکو ایک مشورہ ہے کے اسکو دوست بنا لو نہیں تو یہ پھاڑ دیا کرتا ہے اور ہاں فائدے کے لیے بتا رہا ہوں کے گیلا اور چکنا مال آسانی سے قابو نہیں آتا لیکن فائدہ ضرور دے دیتا ہے. پھر میں نے اسکو ایک بھی لمحہ ضایع کیا بغیر لوڑے کے اوپر دھکیل دیا اور اسکا موں چودنے لگ گیا اور میں نے پیچھے سے اسکی بالوں کی چوٹی کو مٹھی میں قید کیا ہوا تھا اور اسکو پیچھے سے دبا کے میں جان بوجھ کے لوڑا کوشش کرتا کے جہاں تک ممکن ہو اسکے حلق میں پوھنچا دوں جب بھی میرا لوڑا اسکے حلق کے کوے سے ٹکراتا تو اخ اخ کی اوازیں نکلتی اسکے موں سے اور جیسے ہی لوڑے موں سے باہر نکالتا تو اسکے موں سے لے کے زمین تک ایک لیسلی رال نکل جاتی میں پھر دوبارہ اسی طرح کیا اور اب میں نے اسکا سر ایک ہی جگہ پے فکس کر دیا اور لوڑا اتنی آگے تک کر دیا کے میری جھویں اور اسکے ھونٹوں کے اوپر اگی ہلکی ہلکی لوئیں آپس میں مل گئی اسکا سانس بند ہو رہا تھا اور ننتھوں میں سے زور زور سے آواز آ رہی تھی اور موں بلکل لال ہوا پڑا تھا اور آنکھیں ابل کے باہر کو آ گئی تھیں وہ میری ران پے دھکا مار کے مجھے پیچھے دھکیل رہی تھی کے لوڑا باہر آ جائے لیکن میں نے وہیں کے رکھا بلکے اور آگے کیا جسکا نتیجہ یہ ہوا کے مجھے چکن جلفریزی نظر آ گئی بھلا کیسے؟ بھائی اس ماں کی لوڑی نے مرے لوڑے پے الٹی کر دی تھی اور اندر کا سارا مواد باہر آگیا تھا اور کچھ موں سے ابل کے ھونٹوں پے جما ہوا تھا وہ نڈھال سی ہو گئی تھی بولی کہا بھی تھا کے بس کرو برداشت نہیں ہو رہا اب چکھ لوسواد اسکا.

    میں نے اسکی بات پے دہہان نہ دیا اور اسکی گردن سے مموں کے اندر ہاتھ ڈالا اور ایک زور دار جھٹکے سے ایسا جھٹکا اپنی طرف مارا کے اسکی قمیض لیرو لیر ہو گئی بالکل پاٹی پھدی کی طرح اور پھر مینے جھٹکے سے اسکی برا کو بھی کھینچا لیکن شاید برا کا ہک کافی ٹائٹ تھا سو برا فت نہ سکی مجھے غصّہ ایا تو مینے گانڈ کا زور لگا کے جھٹکا مارا تو برا کی ہک تو نہ ٹوٹی لیکن برا سامنے سے دو سہانے مموں کی آرامگاہ کی بیچ سے پھٹ گیا اور پھٹ کے دونوں حصّے سائیڈ پے اس طرح ہو گئے جس طرح بادشاہ کی آمد پے قلعہ کا دروازہ اور پھٹتے ساتھ ہی بھابھی کے خربوزے کے سائز کے ممے اچھل کے منظر پے آ گئے جیسے کسی کو اپنی موجودگی کا احساس دلا رہے ہوں . ارم کے ممے دیکھ کے ایک مٹ تو میں دہل گیا یار کیا بتاؤں سائز اچھا خاصا تھا مموں کا مصلاً میرے ہاتھ میں پورے نہ آتے تھے وہ کافی ہرے بھرے لذت دار ممے تھے لیکن کمال کی بات یہ تھی کے وہ دشمن جان ممے بلکل بھی ڈھلکے ہوۓ نہیں تھے بلکے فخر سے سر اٹھا کے کھڑے ہوۓ تھے پورے آب تاب سے. میں یہ دیکھ کے پاگل سا ہو گیا اور اسکو بیڈ پے دھکا دیا اور اپنی بیلٹ اتار کے اسکے دونپوں ہاتھ پیچھے کے اور پیچھے سے لے جا کے اسکے ہاتھ باندھ دے اور پھر بیڈ پے لٹا کے ایک ہاتھ اسکی گردن پے رکھ دیا تا کے وہ اٹھ نہ سکے اور میں مموں پے فدا ہو گیا مبھ میں ایک نپل موں میں لیتا تو کبھی دوسرا لیکن مجبوری تھی کے میں چوس نہیں سکتا تھا کیوں کے ان میں دودھ آتا تھا اور میں دودھ پی کے مادر چود نہیں بننا چاہتا تھا سو میں صرف ہلکی ہلکی زبان پھیرنے پی ہی اکتفا کر رہا تھا اور اسکے دونوں ممے بھر بھر کے اپنے دونوں ہاتھوں میں قید کر رہا تھا میرا بس نہیں چل رہا تھا کے ان مموں کو کاٹ کے جیب میں ڈال کے گھر لے جاؤں اور جب بھی دل کرے ان حسین مموں کو چود دوں لیکن مجھے خیال ایا درد کا تو میں نے اس طرح کیا کے اسکے نپل کو اپنی انگلیوں میں بھینچ لیا اور اسکے ہونٹ چوسنے لگا جب بھی مجھے زیادہ مزہ آنے لگتا تو میں ظالمانہ انداز سے اسکے نپل کھینچتا جس سے اسکے موں سے دبی دبی چیخیں نکلتی جنکو میں بڑے سوچے سمجھے انداز میں اپنے ھونٹوں میں ہی قید کر لیتا تھا وہ کسمسانے کے علاوہ کچھ نہ کر سکتی تھی پھر میںنے اسکے دونوں ممے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ملائے اور ان میں اپنا لوڑا پھنسا کے اس کے پیٹ پے بیٹھ گیا میرا وژن کافی تھا تو اسکا پیٹ زمین کے ساتھ لگ رہا تھ اور سانس بھی مشکل سے آ رہا تھا لکین مجھے مزہ آ راہ تھا اور میں اسکے حسین مموں کو جوڑ کے دے گھسے پے گھسا مار رہا تھا یار کیا بتاؤں کے وہ کیا کیفیت تھی دل کر رہا تھا کے ابھی ان مموں کے بیچ ہی خود کو چھڑوا لوں لیکن مجبوری تھی کے دماغ توڑ سیکس کی بھبکی جو مار بیٹھا تھا سو اس پے عمل کرنا بنتا ہی تھا.

    پھر میںنے قریب ہی پڑی کپڑے تار پے کپڑے باندھنے والی چٹکیاں پکڑی اور دونوں کے کلپ کو کھول کے ارم کے ممے ان مے جکڑ لیے اور اسکو بند کر دیا ارم درد سے بلبلا اٹھی اور منتیں کرنے لگ گئی کے بہت درد ہو رہا ہے لیکن جتنا وہ کہتی اتنا ہی مین ان کلپس کو اپنی طرف کھینچتا جس سے درد تباہی قسم کی ہوتی اور میں بولا کے جتنا چپ رہو گی اتنا فائدہ ہو گا اب تمہاری آواز آئی تو چوت کے دانے کے اوپر بھی ایسا کلپ لگا دوں گا سمجھی؟ ارم سہم کے خاموش ہو گئی اور میں وہاں سے اٹھا اور اسکو سر تھوڑا بیڈ سے نیچے کیا باقی دھڑ سارا اسکا بیڈ پے ہی تھا اور خود بیڈ سے اتر کے زمین پے کھڑا ہو گیا اور وہاں سے لوڑا نکال کوے اسکے موں مے دے دیا کیوں کے اسکا موں نیچے کی طرف تھا تو خود بخود ہی لوڑا حلق تک دوبارہ جا رہا تھا اور میں ایک ہاتھ سے پیٹ کی دھنی کے قریب اپنی انگلیاں گدگدی والے انداز میں گوال دائرہ میں گھما رہا تھا اور دوسرے ہاتھ سے پھدی کے دانے کو سہلا رہا تھا. مزہ، تکلیف، اور حساسیت وہ ان تینوں جذبوں پے فیصلہ نہ کر پا رہی تھی کے کس پی زیادہ فوکس کرے کبھی میں گدگدی تیز کر دیتا تو کبھی انگلیاں اسکی ابھی تک کافی ٹائٹ چھوٹ میں ڈال دیتا اور انگلی سے چودنے لگ جاتا پھر مین نے لوڑا باہر نکالا اور اپنے ٹٹے اسکے موں میں دے دئیے اور وہ انکو بھی آرام آرام سے چوستی رہی کبھی ایک ٹٹا موں مے لیتی اور زبان اور ھونٹوں سے پیار کرتی تو کبھی دوسرا ٹٹا میں مزے میں تھا پھر مجھے شیطانی کام یاد ایا اور چوں کے ہاتھ اسکے پہلے ہی باندھ چکا تھا میں تو میں اٹھ کے اسکے مو کو بیڈ پے کیا اور خود اسکے موں پے بیٹھ گیا اور گانڈ اسکے ھونٹوں کے بلکل اوپر رکھ دی اور کہا کے میری گانڈ چاٹو میں لکھ کے دے سکتا تھا کے وہ یہ کام کبھی نہ کرتی لیکن میں بھی زین تھا اور اس طرح کے جنگلی گھوڑے لوڑے کے دم پزے ٹھیک کرنا آتا تھا مجھے اور جیسے ہی اسنے ناں کی میںنے اسکی پھدی کے اندر انگلی ڈال کے اسکو سائیڈ پی اس طرح کھینچا کے سوراخ ڈھائی انچ تک کھل گیا اور میں بولا پیار سے چوس لو ورنہ میں تم پے کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالنا چاہتا اور ایک دفا دوبارہ اسکی چوت کا سوراخ کھولا تو فٹا فٹ سے وہ زبان نکال کے میری گانڈ چاٹنے لگی میں مزے سے اچھل پڑا کیوں کے اتنے حساس ایریا پے نرم گرم سی زبان کا لگنا بہت مزہ دے رہا تھا اور مین نے بھی بدلے مین اپنی پوری ہتھیلی پے تھوک لگائی اور اسکی چوت کے اوپر ملنے لگ گیا بلکل اسی طرح جس طرح بھونڈ کے کاٹنے کے بعد ہم لوگ زخم پے کرتے ہیں اور تیز تیز دباؤ دانے پی ڈال کے اسکی پھدی کی مٹھ مرنے لگ گیا اور پھر جب مجھے مزہ بہت زیادہ آنے لگ گیا تو میں اسکی پھدی پی تھپڑ مرنے لگ گیا تیز تیز لیکن ہلکے ہلکے سے. مین نے غور کیا کے میرے تھپڑ اسے بہت بھا رہے تھے کیوں کے جب بھی تھپڑ پڑتا تو اسکی سپیڈ تیز ہو جاتی تھی اور اب وہ باقاعدہ اپنی زبان میری گانڈ میں گھسنے کی کوشش کر رہی تھی اور میں بھی گند کو نرم کر رہا تھا کے زبان گانڈ میں چلی جائے تا کے انت کا مزہ آئے مجھے بھی اور جب میں زور سے تھپڑ مرنے لگا تو اسکی پھدی منی کے بلبلے بنانے لگ گئی اور میں اور تیز ہو گیا اور ایک انگلی پھدی کے اندر گھسا دی اور دوسرے ہاتھ سے اسکی پھدی پی تھپڑ مارتا رہا اب اسنے میری گانڈ چاٹنا بند کر دیا تھا اور اپنا سر ادھر ادھر جھٹک رہی تھی .

    مجھے پتا چل رہا تھا کے اب وہ فارغ ہونے والی ہے کیوں کے ہر تھپڑ پڑتے ہوسکا جسم بھی اوپر کو اٹھتا اور وہ بھی ایک ردھم میں اپنی چوت چدائی کا ساتھ دے رہی تھی اور تیار ہوو رہی تھی کے کچھ ہو جائے پھر میں نے اپنی انگلی اسکی پھدی کے اندر ساری دے دی اور پھدی کے اندر انگلی کو پاس بلانے والے اشارے کی طرح حرکت کرنا شروع کر دیا تا کے ارم کا جی-سپاٹ ہٹ ہو سکے اور منی زیادہ نکلے ارم بیڈ پے تڑپ رہی تھی اور اپنا سر جھٹک رہی تھی اور ساتھ ہی ساتھ اپنا نچلا ہونٹ اتنی شدت کے ساتھ دانتوں میں دبا رہی تھی کے مجھے اندیشہ ہوا کے کہیں کھا ہی نہ جائے پھر میں نے ایک ہاتھ اسکی دھنی کے اوپر رکھا اور سارا وزن اسی ہاتھ پے ڈال دیا تا کے ارم اٹھ نہ سکے اور دوسرا دباؤ کی وجہ سے اسکا جی-سپاٹ بھی تھوڑا نیچے چلا جائے تا کے میری انگلی اسے گدگدا سکے اور ووہی ہوا اسکی پھدی پانی کے بلبلے بنائی جا رہی تھی اور بھل بھل کے گاڑھا سفید مادہ نکل رہا تھا اور میں نے سپیڈ بہت ہی تیز کر دی اور کچھ سانہوں بعد ہی اسکا جسم اکڑا اور موں سے گھون گھون کی اوازیں نکلنا لگ گئی اور ساتھ ہی اسکی پھدی سے پانی بہنا لگ گیا لیکن میں نے بس نہ کی اور پھدی انگلی سے چودتا رہا جب ارم چھوٹ رہی تھی تو تب میری انگلیاں اسکی جان نکال رہی تھی اور وہ اچھل کے بے قابو جن بن گی تھی اور اسکی پھدی واضح طور پے خود ہی کھل رہی تھی اور بند ہو رہی تھی کافی زیادہ پانی نکلا اسکا اور وہ نڈھال ہو کے پانی مانگنے لگ گئی لیکن میں بھلا پانی کہاں دینے والا تھا یہ تو ووہی بات ہو گئی نہ " ستی نو جگا کے آپ لگا سون" میں بولا جانو ابھی نہیں اور اکو الٹا کر کے لٹا دیا اور گانڈ چھت کی طرف تھی اور ممے بیڈ کے ساتھ چپکے ہوۓ تھے ہاتھ اسکے پیچھے بندھے ہوۓ تھے تو میں نے اسی طرح اسکی چوتڑوں پے بیٹھ گیا اور ایک ہاتھ سے اسکے بال کی پونی اپنے ہاتھوں میں لے کے پیچھے کی طرف کھینچی کے اسکا موں اٹھ گیا اور چوتڑوں پے دباؤ ڈال کے اپنا لوڑا پیچھے سے اسکی پھدی کے اوپر رکھ دیا اور ٹانگوں کو اسکی اسکے دوپٹے کے ساتھ اس طرح بندھ کے ٹخنے ساتھ جڑے ہوۓ تھے تا کے ٹانگیں بھی جڑ جایئں اور لوڑا پھنس پھنس کے پھدی میں جائے پھر میںنے لوڑے کی ٹوپی پی تھوڑی تھوک لگائی اور پھدی کے اپر رکھ کے ایک جھٹکا مارا اور لوڑا تھوڑا سا اندر چلا گیا کیوں کے ایک تو پوزیشن اس طرح کی تھی کے لوڑا پیچھے سے مشکل سے جا رہا تھا دوسرا اسکی ٹانگیں آپس میں ملی ہوئی تھی سو لوڑا گھس گھس کے جا رہا تھا اور تیسرا اسکا سارا جسم بیڈ کے ساتھ تھا صرف دھنی کے اوپر والا حصہ ھوا میں تھا کیوں کے بالوں کی پونی میرے ہاتھ میں تھی سو اس وجہ سے بھی لوڑا پھنسا ہوا تھا لیکن بادشاہو مزہ اخیر آ رہا تھا ایک تو نوجوان دوشیزہ اپر سے کومل جسم اور سرخ و سفید رنگ اور سونے پے سہاگہ اسکی انتہائی ٹائٹ پھدی مجھے دیوانہ بنا رہی تھی اور میں پیچھے سے زور زور سے گھسے مار رہا تھا اور اسے کہ رہا تھا کے اونچی اونچی بول کے مرے راجہ میری گانڈ بجا جا پہلے تو وہ نہ بولی لیکن جب میںنے اپنی گانڈ کا زور لگا کے جھٹکے مارے جو اسکی پھدی کے دیواروں کو چیرتے ہوۓ اسکی پھدی کی گہرائیوں کو ماپ رہے تھے تو تکلیف اور مزے کے ملے جلے احساس سے وہ بولنے لگ گئی کے ہاں میرے راجا دکھاؤ اپنا زور اور سکھاؤ اس کمینی پھدی کو ایک سبق کے اسکی نسلیں یاد رکھیں کرو اسکا حشر و نشر ، پھاڑ کے رکھ دو اس دہکتی اور بہکتی پھدی کو. مارو اپنی بھابھی کی پھدی، پھاڑ دو اس بہن کے چوت اپنے لوڑے سے رام کر لو مجھے ، دکھاؤ اس بھابھی کو اپنے لوڑے کا جلوہ دکھاؤ اس باجی کو اپنی طاقت اور جذبات کی شدت پھاڑ دو آج میری پھدی پھاڑ دو جانو جو مرضی کرو آج کے دن میں تمہاری ہوں ثابت کر دو کے تم بہن چود آدمی ہو اور اپنی اس معصوم بہن نما بھابھی کو شیطان بنا دو ، اس پھدی کی سہیلی گانڈ بھی تمہاری یاد میں پاگل ہو رہی ہے اسکو نہ بھولنا اور آج گانڈ کو پھدی کے ساتھ ملا دو، چودو مجھے آہ آہ ہمممم آہ ہائے ہائے وہ وہ موہ موہ سی سی اور زور سے چودو اور زور سے مارو جھٹکے اس پھدی کو مسل کے رکھ دو ارے سرتاج چودو مجھے. بھابھی کی اتنی گرم باتیں سن کے میں جوش میں آ گیا تھا اور ٹھکا ٹھک چودنے لگ گیا.

    باقی کی داستان اگلے حصّے کے لیے وقف کرتے ہیں کیوں کے ٹائم کی بہت کمی ہے آجکل اور دوسرا نیند سے آنکھیں بوجھل ہیں دوستوں اگلے حصّہ میں بتاؤں گا کے بند پھاڑ چدائی کیسے کی اور بند پھاڑ سے مراد بند پھاڑ ہی ہے جناب سو انتظار کریں ملتے ہیں تب تک کے لیے اپنا خیال رکھیں. شکریہ

  6. #16
    Join Date
    Jun 2009
    Posts
    24
    Rep Power
    12

    Default

    Nice story

    Bhai update lambi Keya karo

  7. #17
    Join Date
    May 2016
    Posts
    26
    Rep Power
    5

    Default

    good g

  8. #18
    Join Date
    May 2016
    Posts
    26
    Rep Power
    5

    Default

    good yar

  9. #19
    Join Date
    May 2016
    Posts
    26
    Rep Power
    5

    Default

    uff kiya bat hy yarmaza aaa gya

  10. #20
    Join Date
    Oct 2016
    Location
    Lahore
    Age
    25
    Posts
    519
    Rep Power
    950

    Default

    فرحان اور محسن سراہنے کا بوہت شکریہ دوستو!!! محسن بھائی یقین کرو بوہت ہی کم ٹائم ہوتا ہے آج کل لیکن آپ لوگوں کے پیار میں کیسے ٹائم نکالتا ہوں یہ مجھے ہی پتا ہے جناب تھوڑا سا گزارا کر لیں نیکسٹ اپ ڈیٹ اتنی لمبی ہو گی کے آپ کا سودا جھاڑ جائے گا خوش رھیں بس تھوڑا سا انتظار

Page 2 of 4 FirstFirst 1234 LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •