Page 13 of 36 FirstFirst ... 39101112131415161723 ... LastLast
Results 121 to 130 of 358

Thread: ...............محبت کے بعد

  1. #121
    Join Date
    Jul 2009
    Posts
    78
    Rep Power
    17

    Default

    awesome story kiya baat hy chah gye hyn

  2. #122
    Join Date
    Sep 2015
    Posts
    175
    Rep Power
    20

    Default

    Shah G. Mere pas alfaz nhen aap k tareef k lye. Bs aap, aap han. Sada khush rahen or forum m aap k stories jagmagate rahen. So nice of you.

  3. #123
    Join Date
    May 2012
    Posts
    610
    Rep Power
    175

    Default

    Salaam Shah Ji Umeed Hai Aap Khairyat Se Ho Gy Kahin Khuda Na Khawasta Aap Ki Tabiyat To Kharab Nahi Ho Gayi Hai Kyon Ke Update Aaye Huy Kafi Time Ho Gayi Hai Toh Socha Aap Ki Khairyat Pooch Loon. Umeed Hai Aap Khair Khariyat Se Hongy. Apna Khyal Rakhiye Ga Shah Ji
    If U Stand For A Reason,Be Prepared To Stand Alone Like A Tree.
    If U Fall On The Ground,Fall As A Seed That Grows Back To Fight Again.

  4. #124
    Join Date
    Mar 2010
    Posts
    124
    Rep Power
    115

    Default

    one of the best writers of urdufunda shahg top quality story

  5. #125
    Join Date
    Dec 2008
    Location
    Rawalpindi, Pakistan, Pakistan
    Posts
    5,387
    Rep Power
    2469

    Default

    [FONT=Jameel noori nastaliq]محبت کے بعد....................

    (چھٹا حصہ)
    ۔۔۔۔۔ وہ پولیس والا اپنی مخصوص کرخت اور بھدی آواز میں کہہ رہا تھا کہ آخری بار کہہ رہا ہوں کہ دروازہ کھولو۔۔۔ پولیس والے کا دھمکی آمیز لہجہ سن کر بیک وقت انکل نے آنٹی کی طرف ۔۔۔۔۔۔اور آنٹی نے انکل کی طرف دیکھا ۔۔پھر انہوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں کچھ طے کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر انکل نے وہیں سے آواز لگائی ۔۔۔ ایک منٹ رکو۔۔۔۔ میں آ رہا ہوں ۔۔۔۔ اس کے بعد وہ میری طرف متوجہ ہو کر بولے ۔۔۔۔ کہ میں گھر کی ساری خواتین کو لے کر چھت پر چلا جاؤں۔۔۔ اور اگر کوئی ایسی ویسی بات ہو گئی۔۔۔ تو ہم لوگ ساتھ والے گھر کی چھت کو ٹاپ کر دوسری طرف نکل جائیں ۔۔۔۔۔ اور پھر خاص طور پر مجھے تاکید کرتے ہوئے کہنے لگے۔۔۔ کہ اگر کوئی خطرہ محسوس کروں تو میں چھت کے راستے فرار ہو جاؤں -- ساری باتیں سمجھانے کے بعد انکل تیزی کے ساتھ باہر نکل گئے۔۔۔۔ان کے جانے کے بعد ۔۔میں نے سب خواتین کو اپنے ساتھ لیا ۔۔۔۔اور ان کو ساتھ لے کر بنا کوئی آواز کئے چھت پر چڑھ گیا۔۔۔ اور ان سب کو چھت کے ایک کونے پر کھڑا ہونے کو کہا ۔۔۔۔اور خود ۔ ۔۔۔ ایک محفوظ جگہ دیکھ کر ۔۔۔۔ چھت کی چار دیواری سے لگ کر کھڑ ا ہو گیا ۔ اور پھر بڑی احتیاط کے ساتھ نیچے گلی میں جھانک کر دیکھا تو مجھے وہاں پر پولیس کی دردی پہنے صرف ایک ہی سپاہی کھڑا نظر آیا۔۔ ۔۔۔۔ جبکہ اس کے ساتھ آیا ہوا دوسرا پولیس والا ۔۔ پولیس وین کی ڈرائیونگ سیٹ پر بڑے ہی پرُ سکون انداز میں بیٹھا ہوا تھا۔۔۔ پولیس کی وین کے ساتھ اکیلے سپاہی ۔۔۔۔اور ڈرائیور کو اطمینان کے ساتھ بیٹھا دیکھ کر میں نے سکھ کا سانس لیا اور پھر بڑے غور سے نیچے کا منظر دیکھنے لگا۔۔۔ ۔۔۔۔ میں نے دیکھا کہ آنے والا سپاہی انکل کے ساتھ بڑے اچھے موڈ میں باتیں کر رہا تھا ۔جبکہ اس کی باتوں کا جواب دیتے ہوئے انکل کچھ پریشان سے نظر آ رہے تھے لیکن اس کے باوجود بھی مجموعی طور پر مجھے اس کی طرف سے خیریت ہی نظر آئی اور ۔۔ اس کے بات کرنے کا انداز ۔۔۔ دیکھ کر میں نے انکل کی طرف دیکھا تو پریشانی کے باوجود ان کی بدن بولی (باڈی لینگوئیج ) بھی حالات نارمل ہونے کا اشارہ دی رہی تھی یہ سب دیکھ کر میرے منہ سے اطمینان کی ایک طویل سانس نکل گئی اور ۔۔ اسی دوران مجھے اپنے پاس کچھ سرسراہٹ کی آواز سنائی دی ۔۔۔ میں نے چونک کر ادھر دیکھا تو اپنے ساتھ آنٹی کو کھڑا پایا ۔۔۔۔ میری طرح وہ بھی نیچے گلی میں جھانک رہی تھی ۔۔۔ پھر ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے اس سپاہی نے اپنی پتلون کی جیب سے تہہ کیا ہوا ایک کاغذ نکالا اور انکل کے ہاتھ میں پکڑا دیا۔۔۔ ۔۔۔ جسے انکل نے اس کے ہاتھ سے پکڑ لیا اور پھر اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر پرس نکالا اور آنے والے سپاہی کو کچھ پیسے دیئے ۔۔۔ پیسے لیتے ہی اس سپاہی ۔۔نے انکل سے ہاتھ ملایا ۔۔۔اور پھر پولیس کی گاڑی میں بیٹھ کر واپس چلا گیا ۔۔۔ اس کے جاتے ہی انکل نے اپنی جیب سے وہ کاغذ نکالا اور اسے پڑھتے ہوئے گھر میں داخل ہو گئے ۔۔۔۔ یہ منظر دیکھ کر آنٹی نے مجھے کہنی مار ی ۔۔۔۔۔۔اور پھر دور چھت کے کونے میں کھڑی اپنی بیٹیوں کو بھی اشارے سے نیچے آنے کا بول کر خود تیزی کے ساتھ سیڑھیوں سے نیچے اترنے لگی۔۔۔۔

    جب تک ہم نیچے اترے اس وقت تک انکل اس کاغذ پر لکھی تحریر کو پڑھ چکے تھے۔۔۔ میں نے محسوس کیا کہ اس کاغذ پر لکھی تحریر کو پڑھ کر انکل خاصے پریشان اور گھبرائے ہوئے نظر آ رہے تھے۔۔۔ ہمیں سیڑھیوں سے اترتا دیکھ کر وہ کہنے لگے۔۔۔۔ کہ سب لوگ ڈرائینگ روم میں آجاؤ۔۔۔ ۔۔ ڈرائینگ روم میں داخل ہوتے ہی آنٹی نے انکل کی طرف دیکھا اور ۔۔۔۔۔ بڑی فکر مندی سے بولی ۔۔۔۔۔ کیا بات ہے امجد کے ابا ۔۔۔ آپ بہت پریشان لگ رہے ہو؟۔۔۔۔ آنٹی کی بات سن کر انکل نے آنٹی کی طرف دیکھا اور کہنے لگے ۔۔ ۔۔۔۔ بات ہی کچھ ایسی ہے صائقہ بیگم ۔۔۔۔ پھر آنٹی کے پوچھنے پر انہوں نے بتانا شروع کر دیا کہ۔۔۔۔ جیسا کہ آپ لوگ جانتے ہی ہو کہ جب یہ (میری طرف اشارہ کرتے ہوئے ) تھانے میں بند تھا تو میں نے اس کے لیئے ایس پی صاحب سے سفارش کروائی تھی ۔۔۔اور چونکہ اتفاق سے وہ ایس پی صاحب میرے باس کے بیچ میٹ اور ذاتی دوست بھی تھے اس لیئے باس کے کہنے پر وہ خود چل کر تھانے آئے تھے ۔۔ جس کی وجہ سے میری تھانے میں دھاک بیٹھ گئی تھی۔۔ اور پھر جاتے جاتے ایس پی صاحب نے ایس ایچ او کو بلا کر اسے میرے بارے میں بڑی سختی کے ساتھ تاکید کی تھی کہ مجھے ناجائز تنگ نہ کیا جائے۔۔۔ پھر کہنے لگے یہ ایس پی صاحب کی سفارش اور کچھ ۔۔۔۔ ان پیسوں کا کمال تھا کہ جو میں نے زبردستی ایس ایچ او کی جیب میں ڈالے تھے کہ دباؤ کے باوجود بھی ۔۔۔ پولیس آج تک ہمارے گھر نہیں آئی۔۔۔ اس پر آنٹی کہنے لگیں اچھا یہ بتاؤ کہ پھر آج پولیس کیوں آئی تھی۔۔۔ ؟؟؟؟؟؟؟ آنٹی کی بات سن کر انکل کے چہرے پر تفکرات کے سائے امنڈ آئے اور وہ ماتھے پر ہاتھ مار کر کہنے لگے۔۔۔۔ آج جو سپاہی ہمارے گھر آیا تھا وہ دراصل ایس ایچ او صاحب کی طرف سے یہ پیغام لے کر آیا تھا کہ اس سے جتنا ہو سکا اس نے ہمارے لیئے کیا ۔۔۔۔لیکن اب معاملہ اس کے بس سے باہر ہو گیا ہے کیونکہ آج شام تھانے میں ان لوگوں کے ساتھ خود چل کر ایم این اے صاحب آئے تھے۔۔ اس سے پہلے کہ آنٹی کچھ کہتی ۔۔۔۔۔ انکل بڑے ڈرامائی انداز میں کہنے لگے۔۔۔۔۔ اور وہ سپاہی یہ بھی بتانے آیا تھا کہ انہوں نے ( شیدے لوگوں نے) ہمارے خلاف ایف آئی آر بھی درج کروا دی ہے۔۔۔۔ ایف آئی آر کا نام سنتے ہی ایک دم آنٹی کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا اور ان کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا ۔۔۔پھر انہوں نے ایک گہرا سانس لیا ۔۔۔اور انکل کی طرف دیکھ کر ہکلاتے ہوئے بولیں۔۔۔ ۔۔۔ وہ وہ۔۔۔ کاغذ کیسا تھا؟؟ ۔۔۔ اس پر انکل نے جیب سے تہہ کیا ہوا وہ کاغذ نکالا اور اسے آنٹی کے سامنے لہرا کر بولے ۔۔۔۔ یہ اس ایف آئی آر کی نقل ہے جو ان لوگوں نے ہمارے خلاف کٹوا ئی ہے۔۔۔۔اور پھر انہوں نے آنٹی کے پوچھنے پر ان کو ایف آئی آر کا خلاصہ سناتے ہوئے کہا کہ اس ایف آئی آر کے مطابق ( جو کہ شیدے کے والد کی طرف دی گئی تھی) اس کی بیٹی مسماۃ نبیلہ گزشتہ چار پانچ دنوں سے گھر سے غائب پائی گئی ہے جو کہ تلاش و بسیار کے باوجود بھی نہ مل سکی ہے اور نہ ہی اس نے ابھی تک اپنے گھر والوں کے ساتھ کوئی رابطہ کیا ہے ۔۔۔ جس سے ان کو اس بات کا اندیشہ پیدا ہوا ہے کہ ان کی بیٹی کو اغوا کیا گیا ہے۔ اور یقینِ واثق ہے کہ اس کی بیٹی کے اغواء میں مسماۃ صائقہ بیگم ( آنٹی) اور اس کی بیٹی مہرالنساء کہ جن کا ان کے گھر میں کافی آنا جانا تھا اور جو بار ہا اپنے نالائق اور بد چلن بیٹے امجد کے لیئے میری بیٹی کا رشتہ مانگ چکی تھی اور ہمارے انکار پر انہوں نے ہماری معصوم بیٹی کو ورغلا کر اپنے بد چلن بیٹے امجد اور محلے کے ایک اوباش اور لوفر لڑکے شاہ کی مدد سے اغوا کر کے اسے کسی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے درخواست ہے کہ میری بیٹی کو ان درندوں کے چُنگل سے بازیاب کرو ا کے ان لوگوں کو قرار واقعی سزا دی جاوے۔۔۔
    ایف آئی آر کا خلاصہ سنتے ہی آنٹی کے منہ سے کوسنے نکلنے شروع ہو گئے اور وہ کہنے لگی ۔۔۔۔ ہائے ہائے ۔۔یہ کیا ظلم کر دیا انہوں نے ۔۔۔۔۔ ایک تو اس چڑیل نے ہم سے ہمارا بیٹا بھی چھین لیا اور اوپر سے اس کے والد نے ہمارے خلاف اغوا کا پرچہ بھی کٹوا دیا ہے جس میں ان حرامزادوں نے سرا سر جھوٹ لکھا ہے ۔۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مجھے تو نبیلہ ڈائن کے گھر کا بھی پتہ نہیں کہ کس گلی میں واقع ہے اس پر انکل ان کو چپ کراتے ہوئے کہنے لگے کہ ۔۔۔۔ ایف آئی آر کی نقل دینے کے ساتھ ساتھ وہ سپاہی ایس ایچ او صاحب کا ایک اور پیغام بھی لایا تھا کہ جتنی جلدی ہو سکے آپ کے گھر والے یہ علاقہ چھوڑ دیں کہ اس پر مزکورہ ایم این اے صاحب کا بڑا سخت دباؤ ہے کہ ایف آئی آر میں نامزد افراد کو فی الوفور گرفتار کیا جائے۔۔۔۔ ۔۔ اس لیئے آپ لوگ خاص کر وہ لیڈیز کہ جن کے نام ایف آئی آر میں درج ہیں ۔۔۔۔جتنی جلدی ہو سکے یہاں سے نکل جائیں ۔۔۔۔۔ ورنہ کسی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔۔۔ اتنی بات کرنے کے بعد انکل مزید کہنے لگے۔۔۔ ۔۔۔۔ اور میرا خیال ہے کہ ایس ایچ او ٹھکئ کہہ رہا ہے ۔۔۔ کیونکہ نبیلہ کے گھر والے بڑے فضول اور چھچھورے قسم کے لوگ ہیں اس لیئے ۔۔۔۔ تم لوگ فوراً یہاں سے نکلنے کی تیاری کرو ۔۔اتنی بات کرنے کے بعد وہ مجھ سے مخاطب ہو کر کہنے لگے ۔۔ بیٹا پہلے تو میرا پروگرام یہ تھا کہ میں ان لوگوں کو یہیں رکھتا ۔۔۔۔ لیکن اب جبکہ ان کے خلاف ایف آئی آر بھی درج ہو چکی ہے ۔۔۔۔ تو اس وقت میرے خیال میں ان خواتین کا یہاں رہنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔۔ ۔۔۔پھر کہنے لگے ۔۔چونکہ ان خواتین کو اتنی دور ( ان کے گاؤں میں ) اکیلا بھیجنا مناسب نہیں ۔۔۔۔۔۔اس لیئے میرا مشورہ ہے کہ تم بھی ان کے ساتھ ہی چلے جاؤ پھر اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے مزید کہنے لگے اور ویسے بھی پرچے میں چونکہ تمہارا نام بھی شامل ہے اس لیئے میرے خیال میں تمہارا بھی یہاں پر رہنا مناسب نہیں ہے ۔۔ اس لیئے تم بھی ان کے ساتھ ہی چلے جاؤ تو بہت بہتر ہو گا ۔۔۔ ۔۔۔۔ کہ تمہارا ساتھ ہونے کی وجہ سے مجھے بھی اطمینان رہے گا اور کوئی پریشانی نہیں ہو گی ۔۔۔ ۔۔ پھر انہوں نے اپنا رُخ آنٹی کی طرف کیا اور کہنے لگے۔۔۔ صائقہ تم لوگ جلدی سے تیار ہو جاؤ ۔۔ اور مجھ سے بولے ۔۔تمہارے گھر کی چابی صائقہ (آنٹی ) کے پاس ہے ۔۔۔۔اس لیئے تم اپنے گھر جا کر اپنے کپڑے وغیرہ لے آؤ۔۔۔ ۔۔۔انکل کی بات سن کر آنٹی کہنے لگیں ۔۔۔اس کی ضرورت نہیں ہے میں پہلے ہی اس کے گھر سے کپڑے وغیرہ لے ا ٓئی تھی۔۔ پھر کچھ سوچتے ہوئے کہنے لگیں۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ہاں اگر تم اپنے گھر والوں کو بتا کر آنا چاہو تو چلے جاؤ۔۔۔لیکن جلدی آنا ۔۔۔۔ اتنی دیر میں ہم لوگ تیاری کرتیں ہیں۔۔۔
    [/FONT Jameel noori jastaiq]

  6. #126
    Join Date
    Dec 2008
    Location
    Rawalpindi, Pakistan, Pakistan
    Posts
    5,387
    Rep Power
    2469

    Default


    میں نے آنٹی کی بات سنی اور اپنے گھر والوں کو بتانے کے لیئے خاموشی سے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے خلاف ایف آئی آر کا متن سن کر میری حالت کچھ عجیب سی ہو رہی تھی۔۔۔۔ڈر بھی لگ رہا تھا اور پریشانی بھی بہت تھی کہ بیٹھے بٹھائے کہ اتنی بڑی مصیبت جو آن پڑی تھی ۔۔ دوسری طرف انکل بھی ٹھیک ہی کہہ رہے تھے کہ اس وقت ہمارا وہاں سے نکلنا ہی بہتر تھا کہ ایک تو ایس ایچ او صاحب کا بھی یہی مشورہ تھا۔ اور دوسرا مجھے اس بات کا اچھی طرح سے اندازہ تھا کہ پرچہ کٹنے کے بعد اگر ہم لوگ وہیں رہتے یا اگر بالفرض ضمانت قبل از گرفتاری بھی کروا لیتے تو بھی تفتیش کے نام پر شیدے نے خاص کر مجھے روز تھانے بلوا کر بڑا ذلیل کروا نا تھا ۔۔۔ یہی باتیں سوچتے ہوئے میں ۔۔۔اپنے گھر سے نکلنے کا سوچ کر میں ایک دم سے اداس ہو گیا اور مجھے فیض احمد فیض صاحب کی ، مشہور نظم کا ایک ٹکڑا یاد آ گیا جو کچھ یوں تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔ مرے دل میرے مسافر ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوا پھر سے حکم صادر ۔۔۔۔۔۔۔ کہ وطن بدر ہوں ہم تم ۔۔۔۔۔دیں گلی گلی صدائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ کریں رُخ نگر نگر کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ سوراخ کوئی پائیں ۔۔۔۔۔۔۔کسی یار نامہ بر کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر ایک اجنبی سے پوچھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو پتہ تھا اپنے گھر کا۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔ ۔۔۔۔ انہی سوچوں میں غرق۔۔۔۔کچھ ہی دیر بعد ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ میں اپنے اس عزیز کے گھر کے باہر کھڑا تھا کہ جہاں پر میرے گھر والوں نے پناہ لے رکھی تھی۔۔۔۔ پھر جیسے ہی میں ان کے گھر میں داخل ہوا۔۔۔۔۔۔ مجھے اپنے سامنے دیکھتے ہی میرے گھر والے مجھ پر بُری طرح سے برس پڑے اور بتلانے لگے ۔۔۔۔کہ میری وجہ سے ان کو کس قدر تکلیف اور اذیت سے گزرنا پڑ رہا ہے اس کے علاوہ بھی میری وجہ سے جو ان کی گلی محلے اور خاص اپنے رشتے داروں میں جو ان لوگوں کی بے عزتی اور جگ ہنسائی ہوئی ہے اس کے لیئے وہ مجھے کبھی بھی معاف نہیں کریں گے ۔۔۔ ۔۔۔۔ میں نے ان کو اپنے بارے میں بہت صفائیاں دیں ۔۔۔ لیکن بے سود۔۔۔انہوں نے میری ایک نہ سنی ۔۔ پھر میں سمجھ گیا ہے کہ اس وقت ان کو صفائیاں دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔۔۔۔اس لیئے میں نے ان سے مزید کوئی بات نہیں کی ۔۔۔۔۔۔اور پھر جاتے جاتے میں نے امی کو بتایا کہ میں امجد کے گھر والوں کے ساتھ ان کے گاؤں جا رہا ہوں۔۔۔ میری بات سن کر وہ آگ بگولہ ہو کر بولیں ۔۔۔۔۔۔ میری طرف سے تم جہنم میں جاؤ۔۔۔ پھر مجھے کوسنا دیتے ہوئے کہنے لگیں ۔۔۔ ۔۔۔ کاش میں تم جیسا ذلیل بچہ پیدا کرنے سے پہلے مر جاتی۔۔۔۔ اس وقت وہ بہت غصے میں لگ رہیں تھیں ۔۔ اپنے گھر والوں ۔۔۔۔۔اور خاص کر اپنی امی کی بات سن کر میں بڑا مایوس ہوا۔۔۔۔ اور پھر اسی مایوسی کے عالم میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ جن قدموں سے اپنے عزیز کے گھر گیا تھا انہی قدموں سے واپس ہو لیا۔۔۔۔۔

    میں بڑی افسردگی کے عالم اپنے عزیزوں کے ہاں سے واپس آ رہا تھا ۔۔۔۔ کہ راستے میں ۔۔۔۔اچانک مجھے عذرا کی یاد آ گئی۔۔۔۔اس کی یاد آتے ہی میں بے چین سا ہو گیا ۔۔۔۔ اور سوچنے لگا کہ پتہ نہیں میرے بعد اس کے ساتھ کیا بیتی ہو گی؟؟ پھر خیال آیا کہ پتہ نہیں اس وقت میرا اس سے ملنا مناسب بھی ہے کہ نہیں۔؟؟ ۔۔۔ کبھی خیال آتا کہ پتہ نہیں وہ مجھ سے ملتی بھی ہے کہ نہیں؟؟۔۔۔۔ پتہ نہیں ۔۔۔ وہ مجھ سے بات بھی کرے گے کہ نہیں ۔۔ اسی کشمکش میں ۔۔۔۔۔ اس کی یاد کا غلبہ مجھ پر اتنا شدید ہو گیا ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ کہ نہ چاہتے ہوئے بھی میں ۔۔۔۔۔۔۔ سڑک کے کنارے بنے ایک پبلک کال آفس میں گھس گیا۔۔۔۔۔

    اتفاق سے اس وقت پبلک کال آفس خالی تھا اس لیئے میں نے وہاں بیٹھے شخص سے فون کے لیئے کہا تو اس نے پاس پڑے فون کو میری طرف سرکا دیا۔۔ ۔۔۔۔۔ اور میں نے ۔۔۔۔کچھ ہچکچاہٹ کے بعد عذرا کے گھر کا نمبر ڈائل کر دیا۔۔۔۔۔۔ تیسری چوتھی گھنٹی پر کسی نے فون اُٹھایا۔۔۔۔۔ اور ایک نسوانی آواز نے ہیلو کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ادھر جیسے ہی نسوانی آواز نے ہیلو کہا تو میں نے ڈرتے ڈرتے ۔۔۔۔ اپنا کوڈ ورڈ دھرا دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے کوڈ ورڈ دھرانے کی دیر تھی کہ ادھر سے جزبات سے کانپتی ہوئی آواز سنائی دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم کہاں سے بول رہے ہو شاہ۔۔۔۔۔؟ تم ۔۔۔تم ۔۔ٹھیک تو ہو ناں؟ یہ جزبات اور محبت میں گُندھی ہوئی آواز بھابھی کی تھی ۔۔۔ جو بڑی بے قراری سے میرا حال دریافت کر رہی تھی اور کہہ رہی تھی کہ میں نے سنا ہے کہ شیدے حرامی نے تم کو پولیس سے بڑی مار پڑوائی ہے وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ ادھر میں اپنے سامنے بیٹھے کال آفس والے بندے کی وجہ سے بھابھی کے سوالوں کا واضع جواب دینے سے قاصر تھا ۔۔۔۔اس لیئے میں ان کے ہر سوال کا بس " ہُوں" " ہاں" میں ہی جواب دے رہا تھا۔۔۔ کہ اتنے میں کال آفس والے نے دراز میں پڑی ایک سگریٹ نکالی ۔۔۔۔۔اور میری طرف دیکھتے ہوئے ماچس کا اشارہ کیا ۔۔۔ تو میں نے انکار میں سر ہلا دیا۔۔۔اس پر وہ اپنی سیٹ سے اُٹھا ۔۔۔۔اور یہ کہتے ہوئے دکان سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔۔کہ میں پاس کی دکان سے سگریٹ سُلگا کر ابھی آتا ہوں ۔۔ ۔۔ اس کے باہر نکلتے ہی میں نے بھابھی کے سوالوں کے تفصیل سے جواب دینے شروع کر دیئے۔۔۔پھر کچھ دیر بعد۔۔۔ میں نے ان سے پوچھا ۔۔عذرا کیسی ہے؟ تو وہ روہانسی آواز میں کہنے لگی۔۔۔۔۔۔ نبیلہ کے جانے کے بعد تمہارے ساتھ ساتھ اس پر بھی بڑی قیامت ٹوٹی ہے۔۔۔ اور اب تو اس پر بھی بہت سختیاں ہو گئیں ہیں ۔۔۔ عذرا پر سختیوں کا سن کر میں نے بڑی بے قراری سے پوچھا۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔عذرا کے ساتھ کیا کیا ہے انہوں نے ؟؟؟؟؟؟ تو وہ ایک سرد آہ بھر کر کہنے لگی۔۔۔۔اس کا گھر سے باہر جانا بند ہو گیا ہے ۔۔۔ پھر اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔ باقی باتیں تو چھوڑو ۔۔ اس کے بھائی ( بھابھی کے خاوند) نے بھی اسے بہت مارا پیٹا ہے ۔۔۔۔ عذرا کو مار نے کا سن کر میرا دل دھک رہ گیا ۔۔۔۔اور میں نے بھابھی سے کہا کہ۔۔۔ کیا بھابھی عذرا سے بات ہو سکتی ہے؟ ۔۔ میری بات سن کر وہ کہنے لگی۔۔۔۔۔۔ تم اس وقت کہاں سے بول رہے ہو ؟ تو اس پر میں نے ان کو اپنی لوکیشن بتائی تو وہ کہنے لگی ۔۔۔۔۔ تم خود آ کر اس سے مل کیوں نہیں جاتے ؟ کہ اس طرح اس بے چاری کا جی بھی بہل جائے گا۔۔۔۔ جی تو میرا بھی عذرا سے ملنے کو چاہ رہا تھا لیکن میں وہاں جانے سے ڈرتا تھا ۔۔۔۔۔ اس لیئے میں نے بھابھی سے کہا میں آ تو جاؤں مگر۔۔۔۔۔۔۔آنے میں کوئی خطرہ تو نہیں ہے ناں؟؟ ۔۔۔۔ تو وہ بڑے پیار سے کہنے لگی ۔۔۔ میرے ہوتے ہوئے تم کو کوئی خطرہ نہیں ہو گا میری جان ۔۔۔تب میں نے ان سے کہا کہ میں آ رہا ہوں آپ پلیزززز عذرا کو بتا سکتی ہیں؟۔۔۔تو وہ کہنے لگی تم بے فکر ہو کر آ جاؤ ۔۔۔۔۔۔ اس کیس کے بعد ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ کافی حد تک کھل گئیں ہیں اور اس نے خاص طور پر مجھے تم سے اپنے تعلق بارے سب بتا یا ہوا ہے۔۔۔۔۔اتنی دیر میں وہ کال آفس والا بھی منہ میں سگریٹ دبائے واپس آ گیا تھا چنانچہ اس کے آتے ہی میں نے بھابھی کو بائے بائے کہا اور ۔۔۔۔کال کے پیسے دے کر باہر آ گیا۔۔۔

    عذرا کے گھر کی دیوار ٹاپ کے جیسے ہی میں اندر کوُدا ۔۔۔تو دیکھا کہ سامنے بھابھی کھڑی تھی۔۔۔ میرے نیچے کودتے ہی وہ میرے ساتھ لپٹ گئی۔۔۔۔اور بڑی بے قرار ی سے میرے جسم پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھنے لگی ۔۔کہ پولیس والوں نے زیادہ تو نہیں مارا۔۔۔؟ پھر وہ میرے گلے سے لگ گئیں ۔۔۔۔اور میری پشت پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ پولیس والوں کو بے تحاشہ گالیاں دیتی رہی ۔۔۔ پھر تھوڑی دیر بعد بھابھی نے اپنا منہ اوپر کیا ۔۔۔۔اور میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لیکر چوسنے لگی۔۔۔ ۔۔۔ میرے ہونٹوں کو اچھی طرح چوسنے کے بعد۔۔۔۔ وہ مجھ سے الگ ہوئیں اور کہنے لگی۔۔۔ٹائم شارٹ ہے اس لیئے پہلے تم عذرا سے مل لو ۔۔ تو میں نے ان سے سوال کیا کہ ۔۔۔ وہ لوگ کب آئیں گے؟ تو وہ کہنے لگی ۔۔۔ ویسے تو وہ لوگ تو آج کل لیٹ ہی آتے ہیں ۔۔ پھر بھی کچھ پتہ نہیں چلتا۔۔۔ اس کے ساتھ ہی وہ میرا ہاتھ پکڑ کر عذرا کے کمرے کی طرف لے گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ راستے میں ۔۔۔ میں نے ان سے پوچھا ۔۔۔۔ کہ کیا عذرا کو ہمارے تعلق بارے کچھ پتہ ہے؟ تو وہ چلتے چلتے اچانک رک گئیں ۔۔۔۔اور پھر میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہر گز نہیں۔۔۔۔پھر بولیں ۔۔۔ یہ تمہارا اور میرا ٹاپ سیکرٹ ہے اس لیئے اس کو سیکرٹ ہی رہنے دینا ۔۔۔ پھر عذرا کے کمرے سے کچھ پہلے رک کر بولی ۔۔ ہاں اس نے جیسا کہ میں نے تم سے پہلے بھی بات کی تھی۔۔۔۔تمہارے ساتھ اپنے تعلق کے بارے میں مجھے سب بتا دیا ہے۔۔۔۔ ۔۔۔ اس کے ساتھ ہی اس نے عذرا کے کمرے پر ہلکی سی دستک دی۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر دروازے کی ناب گھماتے ہوئے اندر داخل ہو گئی۔۔۔۔اور کمر ے میں داخل ہوتے وقت آہستہ سے مجھے کہنے لگی ۔۔۔۔جاتی دفعہ مجھ سے مل کر جانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور میں نے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔۔

    اتنی دیر میں ہم کمرے کے اندر داخل ہو چکے تھے ۔۔۔ بھابھی نے عذرا کی طرف دیکھا اور کہنے لگی ۔۔۔ ۔۔دیکھو تو عذرا۔۔۔ہمارے گھر کون آیا ہے؟؟؟؟؟؟۔۔۔۔۔ ادھر جیسے ہی عذرا کی نظر مجھ پر پڑی وہ دوڑ کر میرے پاس آئی۔۔اور۔۔۔۔پھر بھابھی کو دیکھ کر رک گئی۔۔۔۔۔ یہ دیکھ کر بھابھی نے ایک نظر مجھے اور پھر عذرا کی طرف دیکھا ۔۔۔۔اور پھر۔۔۔۔سوری کہتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی اور جاتے ہوئے کمرے کا دروازہ بھی بند کر گئی۔۔۔۔۔۔۔۔جیسے ہی بھابھی نے دروازہ بند کیا ۔۔۔عذرا بڑی بے تابی سے آگے بڑھی۔۔۔ اور میری طرف دیکھنے لگی۔۔۔۔اس وقت میں نے دیکھا کہ عذرا کے ہونٹ کپکپا رہے تھے اور اس کا چہرہ دھواں دھواں ہو رہا تھا۔۔ اور ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے وہ مجھ سے بہت کچھ کہنا چاہ رہی ہو۔۔۔ لیکن جزبات کی شدت کی وجہ سے کچھ کہہ نہ پا رہی ہو ۔ اس وقت وہ راحتِ جاں سخت کرب و بلا میں مبتلا نظر آ رہی تھی ۔۔۔ گزرے ہوئے گزشتہ دنوں کے ظلم و جبر کا عکس اس کی بڑی بڑی آنکھوں میں صاف پڑھا جا سکتا تھا۔۔۔۔۔۔ میں نے کبھی سپنے میں بھی نہیں سوچا تھا کہ میں اس حسین دوشیزہ کو کبھی اس حال میں بھی دیکھوں گا ۔۔۔۔ دفعتاً عذرا کے ساتھ اس ملاقات پر مجھے حبیب جالب کی غزل کا ایک شعر یاد آ گیا جو کہ اس وقت ہُو بہُو ہمارے اوپر صادق آ رہا تھا ۔۔۔جو یوں تھا کہ ۔۔۔۔۔۔۔جو ہو نہ سکی بات وہ چہروں سے عیاں تھی۔۔۔۔ حالات کا ماتم تھا ملاقات کہاں تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کافی دیر تک وہ خاموش کھڑی ۔۔۔ پتھرائی ہوئی آنکھوں سے ۔۔۔۔ مجھے اور میں اس کی طرف دیکھتا رہا ۔۔۔ پھر آہستہ آہستہ اس کے ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے ۔۔۔۔اور ۔۔۔وہ آگے بڑھی اور ایک دم مجھ سے لپٹ گئی۔۔۔ اور پھر زار و قطار رونے لگی۔۔۔ وہ روتی جاتی اور ساتھ ساتھ کہتی جاتی ۔۔۔ یہ کیا ہو گیا شاہ ؟؟؟؟ ۔۔یہ کیسے ہو گیا ؟؟؟ ۔۔۔اس واقعہ نے تو میری زندگی کو برباد کر کے رکھ دیا ہے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔پھر روتے روتے کہنے گی۔۔۔ نبیلہ کے جانے کے بعد ان لوگوں نے مجھ پر بڑے ظلم ڈھائے ہیں مجھے کمرے میں بند رکھا ہے اور سارا سارا دن کھانے پینے کو کچھ نہیں دیا۔۔۔۔۔میرے کہیں آنے جانے پر بھی پابندی لگا دی ہے۔۔۔اور مجھ پر بہت زیادہ ذہنی و جسمانی ٹارچر کیا گیا ہے اور تو اور مجھ پر جان چھڑکنے والے میرے بھائی نے بھی مجھے بہت مارا ہے ۔۔ ۔۔۔۔ عذرا کو روتے دیکھ کر میں جو پہلے ہی کافی پریشان تھا ۔۔۔۔۔اور بھی پریشان ہو گیا۔۔۔۔

    اپنے بارے مارنے کی بات کرتے کرتے اچانک ہی عذرا نے سر اُٹھایا اور میری کمر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جان کیا یہ سچ ہے کہ تم کو پولیس نے بہت مارا تھا؟ تو میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔۔ میری بات سنتے ہی اس نے بڑے ہی جزباتی انداز میں میری کمر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہاں کہاں مارا ہے ؟ اس کی بات سن کر میں نے مسکرا تے ہوئے اس کی طرف دیکھا اور بولا۔۔۔۔۔۔۔ تم مجھ سے تھوڑا ہٹو گی تو تب ہی میں کچھ بتاؤں گا ناں؟ میری بات سن کر وہ میرے ساتھ مزید چپکتے ہوئے بڑے لاڈ سے کہنے لگی ۔۔ اتنے دنوں بعد ملے ہو۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔اس لیئے جان۔۔۔ میں نے تم سے کوئی الگ نہیں ہونا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر کہنے لگی۔۔۔۔اور ابھی تو میری اداسی بھی ختم نہیں ہوئی ۔ ۔۔ اس لیئے تم مجھے ایسے ہی بتاؤ۔۔۔ تب میں نے اس کو مختصراً ساری تفصیل بتا دی ۔۔۔ جسے سن کر وہ بڑی جزباتی ہو گئی اور پھر سے رونے لگی ۔۔۔ یہ دیکھ کر میں آگے بڑھا۔۔۔۔اور اس کے آنسو پونجھتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔اب تم بتاؤ ۔۔۔ کہ تمہارے ساتھ کیا بیتی ؟؟ تو اس نے مختصراً بتایا کہ نبیلہ کے گھر سے بھاگنے کے بعد ۔۔۔۔۔ اس کے بڑے بھائی اور ابو اس کے ساتھ بڑی سختی کے ساتھ پیش آئے ۔۔۔ اور بار بار مجھ سے ایک ہی سوال کرتے رہے کہ بتاؤ نبیلہ کہاں گئی ہے ؟؟ ۔۔۔۔ اور اس کے باوجود بھی کہ وہ لاکھ کہتی رہی کہ اسے کچھ نہیں معلوم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اس کا بھائی ا ور والد اس کی یہ بات ماننے کے لیئے ہر گز تیار نہیں تھے۔کہ گھر سے بھاگتے ہوئے نبیلہ نے اس کو کچھ نہیں بتایا ۔۔ ۔۔۔ وہ ہر بار اس سے ایک ہی سوال پوچھتے کہ بتاؤ ۔۔ نبیلہ کہاں گئی ہے؟؟؟؟۔۔۔ اور نبیلہ کے بارے میں پوچھنے کے لیئے اس پر تشدد سے بھی گریز نہیں کیا۔۔۔ ۔۔۔اور اس کا کالج جانا بھی بند کر دیا ہے۔۔۔۔ پھر کہنے لگی۔۔۔اب اگلے ہفتے میری رُخصتی ہے۔۔۔ اس کی رُخصتی کا سن کر میں ہکا بکا رہ گیا اور بڑی حیرانی کے ساتھ اس سے پوچھا کہ ۔۔تمہاری رُخصتی ؟؟؟؟ ۔۔اتنی جلدی ؟؟؟ لیکن ۔۔۔ابھی تو تم پڑھ رہی ہو۔۔۔۔۔۔ تو وہ میری طرف دیکھ کر بڑی افسردگی سے کہنے لگی۔۔ ۔۔۔۔۔۔ کہاں کی پڑھائی؟؟ ۔۔۔۔ تمہیں بتایا تو ہے کہ انہوں نے میرا کالج جانا بند کر دیا ہے۔۔۔۔ اور مجھ سے کہا گیا ہے کہ اگر تم لوگ یہی کچھ کالج میں پڑھتے ہو تو ہمیں ایسی پڑھائی کو کوئی ضرورت نہیں۔۔۔اس پر میں نے اس سے کہا کہ تم نے ان کے اس فیصلے پر کوئی احتجاج نہیں کیا۔۔ ؟ تو وہ میرے ساتھ مزید چپکتے ہوئے بڑی افسردگی سے کہنے لگی۔۔۔۔۔۔ احتجاج کیا کروں جان۔۔۔۔ حالات ہی کچھ ایسے بن گئے ہیں کہ میں چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتی ۔۔۔ پھر اس نے سر اُٹھا کر میری طرف دیکھا اور کہنے لگی۔۔۔ایک بات تو بتاؤ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ مجھے معلوم ہے کہ امجد بھائی تمہارے بہت قریب تھا ۔۔۔اس کے باوجود بھی اس نے تم سے ۔۔گھر سے بھاگنے کے بارے میں کوئی ذکر نہیں کیا؟ اس کی بات سن کر میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔ ۔۔۔ نہیں یار ۔۔۔ اس ظالم نے ذکر تو دور کی بات ۔۔۔اس بارے کوئی اشارہ تک نہیں کیا۔۔۔۔ میری بات سن کر وہ سر ہلاتے ہوئے کہنے لگی ۔۔ یہی حال میرے ساتھ بھی ہوا ہے۔۔۔ دیکھو نا نبیلہ میری کتنی فاسٹ فرینڈ تھی۔۔۔۔اور بچپن سے لیکر آج تک ہم دونوں اکھٹی رہیں ہیں۔۔۔۔ لیکن گھر سے بھاگتے ہوئے اس کمینی نے مجھے بھی ہوا تک نہیں لگنے دی۔۔۔۔۔۔۔

  7. #127
    Join Date
    Dec 2008
    Location
    Rawalpindi, Pakistan, Pakistan
    Posts
    5,387
    Rep Power
    2469

    Default


    ایک دوسرے کے ساتھ بُری طرح چپکے ہوئے ۔۔۔۔ ہم کافی دیر تک آپس میں باتیں کرتے رہے۔۔۔۔۔۔عذرا کا میرے ساتھ چپکنا ۔۔۔۔اس کے بدن کی نرمی ۔۔۔۔ اس کے گداز جسم کی گرمی۔۔۔۔اور خاص طور پر اس کا کچھ اس طرح سے مجھ سے چپکنا کہ جس کی وجہ سے اس کا نرم و گداز جسم ۔۔۔۔۔ میرے جسم کے ایک ایک حصے کو چُھو رہا ہو ۔۔۔۔۔۔ کی وجہ سے بڑے دنوں کے بعد میرے اند ر حرارت پیدا ہونا شروع ہو گئی۔۔۔۔ جس کی وجہ سے ۔۔۔۔ دھیرے دھیرے ۔۔۔۔۔۔ ہی سہی میرا ۔۔۔پپو نیند سے بیدار ہو کر ۔۔۔۔ نرمی سے سختی کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔۔۔۔

    ادھر جیسے ہی اسے اپنی رانوں پر میرے ۔۔۔۔۔ پپو کی سختی محسوس ہوئی۔۔۔۔۔ اس نے ایک نظر میری طرف دیکھا ۔۔۔اور پھر۔۔۔۔میری پینٹ میں بننے والے ابھار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بڑی شوخی سے کہنے لگی۔۔۔۔اسے کیا ہوا ہے؟ تو میں نے اپنے نیم کھڑے لن کو اس کی مکھن جیسی نرم ران پر رگڑتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہارے بدن کی گرمی نے اسے بھی نیند سے بیدار کر دیا ہے۔۔۔ ۔۔۔۔ ورنہ تم تو جانتی ہی ہو کہ ان حالات میں ۔۔۔ پیشاب کرنے کے علاوہ اسے اور کوئی کام نہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ تو وہ میری پینٹ پر بنے ابھار پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بڑے لاڈ سے کہنے لگی۔۔۔ اسے کہو بیٹھ جائے کہ۔۔۔۔تمہارے اس پپو کو کھڑا دیکھ کر مجھے بھی کچھ کچھ ہونے لگا ہے۔۔۔ اس کے ساتھ ہی عذرا نے میری طرف دیکھتے ہوئے جیسے ہی اپنے منہ کو اوپر کی طرف کیا تو میں نے جلدی سے اس کے گالوں پر ایک چمی دے دی ۔۔تو وہ میرے ساتھ مزید لپٹتے ہوئے خمار آلود لہجے میں بولی ۔۔۔ میری جان!۔۔۔یقین کرو جان ۔۔۔ گرمی تمہارے پپو کو ہی نہیں۔۔۔ بلکہ اسے دیکھ کر مجھ پر بھی چڑھ رہی ہے۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اس نے اپنی رانوں کو کو تھوڑا ایڈجسٹ کیا ۔۔۔۔ جس کی وجہ سے ۔۔۔۔۔ میرا لن جو کہ اس وقت اس کی سلکی ران کو ٹچ کر رہا تھا ۔۔۔ نئی ایڈجسمنٹ کی وجہ سے اس کی ران کو چھوڑ کر اب ۔۔۔۔۔ دونوں رانوں کے اندر ۔۔۔ڈائیریکٹ اس کی پھدی کے ابھار کو چوم رہا تھا ۔۔۔ جیسے ہی میرے لن نے اس کی پھدی کے نرم ابھار کو ( اس کی پھدی کافی ابھری ہوئی تھی ) ۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر اس نرم ابھار کے نرم لبوں کو اپنے ٹوپے کے سامنے محسوس کیا ۔۔۔تو وہ ایک دم سے جوش میں آ گیا اور۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے ساتھ ہی میں نے اپنے ۔۔۔۔۔۔ ٹوپے کو اس کی گرم چوت کے نرم لبوں پر رگڑنا شروع کر دیا۔۔۔۔۔۔۔ اور عذرا کی بھاری چھاتیوں پر اپنا ایک ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔۔اور دھیرے دھیرے اسے دبانے لگا۔۔۔۔۔ یہ دیکھ کر عذرا نے اپنا منہ چھت کی طرف کر کے اپنی آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اور میری مستی بھری چھیڑ چھاڑ کا بھر پور مزہ لے لینے لگی۔۔۔۔۔اس طرح کی چھیڑ چھاڑ سے ۔۔۔۔۔ آہستہ آہستہ ہم دونوں پر شہوت کا نشہ چڑھنے لگا تھا ۔۔۔

    کچھ دیر تک میری جنسی چھیڑ چھاڑ کا مزہ لینے کے بعد جانے اس کے من میں کیا آئی۔۔۔ کہ اچانک اس نے اپنی آنکھیں کھولیں ۔۔۔۔اور مجھ سے پوچھنے لگی۔۔۔۔ جان یہ تو بتاؤ کہ پولیس والوں نے تم کو کہاں کہاں مارا تھا؟؟؟۔۔۔۔ اس پر میں نے اپنی کمر کی طرف اشارہ کر دیا۔۔۔تو وہ تڑپ کر میرے پیچھے آ گئی ۔۔اور میری کمر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہنے لگی ۔۔۔۔۔ شرٹ اتار کر مجھے دکھاؤ۔۔۔ اس کے کہنے پر میں نے اپنی شرٹ اتار دی۔۔۔اور اس کے سامنے اپنی ننگی کمر کر دی ۔ یہ دیکھ کر وہ آگے بڑھی ۔۔۔۔اور میری کمر کا جائزہ لیتے ہوئے کہنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اوہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جان۔۔ تمہاری کمر پر تو جگہ جگہ نشان پڑے ہوئے ہیں اور اس کے ساتھ ہی اس نے جزباتی ہو کر میری ننگی کمر کو چومنا شروع کر دیا۔۔۔۔۔۔

    وہ میری کمر پر بنے ایک ایک نشان کو چومتی جاتی اور ساتھ کہتی جاتی ۔۔ظالمو ۔۔تم نے میری جان کو کتنی بے دردی سے مارا ہے۔۔۔۔۔ اس کی جگہ تم مجھے مار لیتے ۔۔۔۔ لیکن میرے محبوب کو کچھ نہ کہتے ۔۔۔ پھر جیسے جیسے عذرا میری ننگی کمر پر اپنے ہونٹوں کے نشان ثبت کرتی جاتی تو ۔۔۔۔ تو ویسے ویسے میرے تن بدن میں ٹھنڈک سی پڑتی جاتی ۔۔۔۔ اس کے یوں پیار بھرے انداز میں میرے بدن کو چومنے سے " روح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی" ۔۔۔۔۔اور مجھے ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے اس کی مسیحائی سے میرے سارے زخم مندل ہو گئے ہیں ۔۔۔۔ اس طرح میری رہی سہی درد بھی اس کے اس محبت بھرے علاج سے ختم ہوتی جا رہی تھی۔۔۔۔ ادھر میری کمر پر اس کے لگا تار بوسوں نے ۔۔ میرے لن کی حالت کو مزید خراب کر دیا تھا۔۔۔اور وہ اتنی سختی کے ساتھ کھڑا ہو گیا تھا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سختی کی وجہ سے مجھے اپنے لن میں درد سا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر اچانک میرے زہن میں ایک آئیڈیا آیا ۔اور میں نے جلدی سے پینٹ کی زپ کھولی ۔۔۔۔۔۔اور اپنے لن کو پینٹ سے باہر نکال لیا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔پھر میں نے اپنا ایک ہاتھ پیچھے کیا اور بڑے پیار سے اس کے سر پر پھیرے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔عذرا میری جان۔۔۔۔۔۔ مجھے یہاں بھی بہت درد محسوس ہو رہی ہے۔۔میری بات سن کر اس نے میری کمر پہ چپکے ہوئے اپنے ہونٹ ہٹائے اور تڑپ کر کہنے لگی۔۔۔۔ کیا ظالموں نے ادھر بھی مارا ہے ؟؟؟؟؟ تو میں نے پکا سا منہ بنا کر اس سے کہا ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ آ کر خود دیکھ لو ۔۔ ۔۔۔۔ میری بات سنتے ہی وہ میرے پیچھے سے بھاگتی ہوئی آگے کی طرف آئی اور ۔۔۔۔۔ ایک دم سے میرے سامنے آ کھڑی ہو گئی۔۔۔۔اور تشویش بھرے لہجے میں بولی ۔۔۔۔ کہاں مارا ہے دکھاؤ مجھے؟ تو میں نے نیچے کی طرف اشارہ کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔جیسے ہی اس کی نظر میرے اکڑے ہوئے لن پر پڑی۔۔ تو اسے دیکھ کر اس کی آنکھوں میں ایک حیوانی سی چمک آ گئی ۔۔۔اور پھر میری طرف دیکھتے ہوئے اس نے میرے لن کو اپنے نازک ہاتھ میں پکڑا اور اسے ہلاتے ہوئے کہنے لگی ۔۔۔ ۔۔۔۔۔ اس کا درد تو میں خوب سمجھتی ہوں۔۔۔۔ اور پھر وہ میرے لن ہاتھ میں پکڑ کر ہلکی ہلکی مُٹھ مارنے لگی۔۔۔۔ مُٹھ مارتے مارے اچانک ہی اس نے اپنے منہ کو میری طرف بڑھایا ۔۔۔اور پھر اپنی زبان کو باہر نکال کر اسے میرے سامنے لہرانے لگی ۔۔۔۔۔ جیسے ہی عذرا کی لمبی زبان اسکے منہ سے باہر نکل کر لہرائی ۔۔۔۔تو اس کا یہ سیکسی پوز دیکھ کر میں نے بھی جلدی سے اپنا منہ آگے کی طرف بڑھا۔۔۔۔اور پورا منہ کھول کر اس کی لہراتی ہوئی زبان کو اپنے منہ میں لے لیا۔۔۔۔اور اسے چوسنے لگا ۔۔۔۔ اس کے منہ سے آنے والی مہک ۔۔۔اور اس کی زبان کے ذائقے نے مجھے مست کر دیا تھا ۔۔اور میں بڑے ہی پیار کے ساتھ اس کی زبان کو چوس رہا تھا ۔۔۔۔اور پھر اپنے منہ کو میرے منہ سے ملائے کبھی وہ میری زبان کو اپنے منہ میں لے لیتی تھی اور کبھی میں اس کی زبان کو اپنی زبان کے ساتھ ملا کر اس کے ساتھ اپنی محبت کا بھر پور اظہار کر تا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اس ٹنگ کسنگ کے دوران وہ بڑے جوش و خروش کے ساتھ اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے میرے لن کو آگے پیچھے بھی کر رہی تھی جبکہ اوپر میں اس سے بھی ڈبل جوش کے ساتھ اس کی ٹیسٹی زبان کو چوس رہا تھا۔۔۔۔۔

    عذرا کی زبان چوستے چوستے اچانک میں نے اپنا ایک ہاتھ بڑھا کر اس کے بھاری چھاتی پر رکھ دیا ۔۔۔۔اور اسے ہلکا ہلکا دبانے لگا۔۔۔ یہ دیکھ کر عذرا نے میرے لن پر رکھا ہوا ۔۔۔اپنا ہاتھ ہٹایا اور ۔۔۔۔۔۔ اپنی قمیض کو اوپر کر تے ہوئے نشیلی سی آواز میں بولی ۔۔۔ جیسے ابھی تم نے میری زبان چوسی ہے نا ایسے ہی میرے نپلز کو بھی چوسو۔۔۔۔ اور اسی دوران اس نے اپنی دونوں چھاتیوں کو ننگا کر دیا ۔۔۔ اور ان کو میرے سامنے کرتے ہوئے پھر سے میرے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا۔۔۔اور مستی بھرے انداز میں اسے دبانے لگی۔۔۔ لن کو دباتے دباتے اس نے اپنی مست نظروں سے میری طرف دیکھا ۔۔ پھر اپنی بڑی سی چھاتیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔ جان !۔۔۔۔ آج میری ان چھاتیوں کو اتنا چوسو کہ ان میں سے دودھ نکل آئے۔۔۔ اس کی بات سن کر میں نے ایک نظر اس کی بھاری چھاتیوں پر ڈالی ۔۔تو دیکھا کہ اس کی ان بھاری چھاتیوں پر اس کے ہلکے براؤن رنگ کے نپلز اکڑے کھڑے تھے ۔۔۔ مجھے اپنے نپلز کی طرف بڑے غور سے دیکھتے ہوئے وہ کہنے لگی۔۔۔ کیا دیکھتے ہو جان ! ۔۔ پھر میری طر ف آنکھ مار کر بولی ۔۔۔۔۔ جس طرح نیچے تمہاری دونوں ٹانگوں کے بیچ تمہار ا شیر اکڑا کھڑا ہے نا ۔۔۔ ویسے ہی میری چھاتیوں کی طرف دیکھو ۔۔۔۔۔ یہاں تم کو ایک کی بجائے دو دو نپلز اکڑے ہوئے ملیں گے۔۔۔۔۔ اس کی بات سن کر میں نے ایک نظر عذرا کی طرف دیکھا ۔۔۔۔اور پھر شرارت بھرے لہجے میں بولا۔۔۔۔۔۔۔۔ چلو ایسا کرتے ہیں کہ میں تمہارے ان دو دو اکڑے ہوئے نپلز کو اپنے منہ میں لے کر چوستا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور بدلے میں تم میرے ایک شیر کو اپنے منہ میں لے لو۔۔۔۔۔۔ میری بات سن کر اس کے چہرے کا رنگ سرخ ہو گیا۔۔۔ اور پھر وہ اپنے ہونٹوں پہ زبان پھیرتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔۔۔۔۔ اچھا تو دوسرے لفظوں میں تم مجھے سکنگ کرنے کا کہہ رہے ہو؟ تو میں نے اس سے کہا کہ دیکھو ناں میں تمہارے اکڑاہٹ سے بھر پور دو نپلز کو اپنے منہ میں لے کر چوسوں گا تو کیا ۔۔۔۔تم میرے ایک۔۔۔ اکڑے ۔۔۔۔۔ہوئے کو نہیں چوس سکتی ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ میری بات سن کر وہ شہوت بھرے لہجے میں بولی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے پہلے تم میرے نپلز کو اپنے منہ میں لو ۔۔۔ پھر ٹھوڑی دیر کے لیئے میں بھی تمہارے اکڑاہٹ سے بھرے ۔۔۔۔۔۔۔ بھی کو اپنے منہ میں لے لوں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عذرا کے منہ سے لن چوسنے کی بات سن کر میں حقا بقا رہ گیا۔۔۔ اور بڑی حیرانی سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تت ۔۔۔تم ۔۔۔ میرے لن کو چوسو گی؟ تم تو لن چوسنے کے سخت خلاف تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ تو میری بات سن کر وہ بڑی افسردگی سے بولی ۔۔۔۔ جیسا کہ تم نے خود ہی کہا ہے میں واقعہ ہی سک کرنے کے خلاف تھی۔۔۔۔۔۔۔ عذرا کو اس موڈ میں دیکھ کر میں اس کے قریب ہو گیا اور پھر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا۔۔۔۔۔پھر ایسی کیا بات ہو گئی کہ تم ؟؟ ۔۔۔۔ تو وہ میری بات کو کاٹ کر بولی ۔۔۔ یو نو شاہ نیکسٹ ویک کو میری رُخصتی ہے اور تم تو جانتے ہی ہو کہ میرا ہونے والا شوہر بھی تمہاری طرح سکنگ کا بڑا شوقین ہے پھر کہنے لگی اگر پہلے والی بات ہوتی تو میں نے کبھی بھی اس کے ڈک (لن) کو سک نہیں کرنا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    لیکن اب یو نو۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی وہ اپنے پنجوں کے بل نیچے بیٹھ گئی۔۔۔۔اور میرے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر میری طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔۔۔۔جان میں نے سوچ لیا ہے کہ جب لن چوسنا ہی ہے تو پھر کیوں نا پہلی سکنگ اپنی پسند کے لن سے شروع کی جائے۔۔۔۔اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے منہ سے زبان باہر نکالی اور اسے میرے پھولے ہوئے ٹوپے پر پھیرتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہاری ٹوپی کتنی شاندار ہے ۔۔اور پھر اس طرح اس نے میرے سارے لن پر اپنی زبان پھیر کر اسے گیلا کر ڈالا۔۔۔۔۔ جب اس کی زبان پر لگے تھوک سے میرا سارا لن گیلا ہو گیا ۔۔۔۔۔ تو پھر وہ میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔۔۔۔ میں نے تمہارے لن کو گیلا کر دیا ۔۔۔۔۔اب میں اسے اپنے منہ میں لے کر چوسنے لگی ہوں ۔۔۔۔اور پھر اس کے ساتھ ہی اس نے اپنا پورا منہ کھولا اور ۔۔۔۔ اور پھر سلو موشن میں اسے میرے لن کی طرف بڑھانے لگی۔۔۔۔ پھر ۔۔۔۔ بڑی آہستگی کے ساتھ اس نے اپنے کھلے ہوئے منہ میں میرے آدھے لن کو اندر کر لیا۔۔۔۔۔اور پھر میرے لن کو اپنے دونوں ہونٹوں میں دبا کر اسے چوسنے لگی۔۔۔جیسے ہی اس کے نرم ہونٹوں نے میرے سخت لن کو چھوا۔۔۔۔۔ مزے کی ایک تیز لہر۔۔۔۔ میرے لن کے اندر سے ہوتی ہوئی۔۔۔۔ سارے بدن میں پھیل گئی۔۔۔اور اسی مزے کی شدت سے میرے منہ سے ایک سسکی نکل گئی اُف ف ف ف ف۔۔۔۔ اس کے بعد اس نے مزید ایک دو دفعہ اور میرے لن کو اپنے منہ کے اندر باہر کیا ۔۔ ۔۔۔۔ اور پھر جلدی سے اس کو اپنے منہ سے باہر نکال کر ۔۔۔ ۔۔قالین پر ہی تھوک دیا ۔۔۔۔۔ اس پر میں نے اس سے پوچھا کیوں کیا ہوا میری جان ؟ تو وہ کہنے لگی۔۔۔۔ عجیب سا ذائقہ ہے تمہارے لن کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو میں نے اس سے کہا۔۔ ذائقہ چھوڑو ۔۔۔ یہ بتاؤ مزہ آیا کہ نہیں ؟؟۔۔۔۔تو وہ میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی ۔۔۔سچی پوچھا تو ۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ لیکن۔ ۔۔۔پھر بھی یقین کرو کہ تمہارے لن کو اپنے منہ میں لے کر مجھے بڑا اچھا لگا۔۔۔۔ یہ کہہ کر اس نے پھر سے میرے لن کو اپنے منہ میں لیا ۔۔ اور اسے چوسنے لگی۔۔۔۔۔

  8. #128
    Join Date
    Dec 2008
    Location
    Rawalpindi, Pakistan, Pakistan
    Posts
    5,387
    Rep Power
    2469

    Default


    پھر ایک دو بار مزید میرے لن کو اپنے منہ میں اِن آؤٹ کرنے کے بعد وہ اوپر اُٹھی اور مجھ سے کہنے لگی۔۔۔ ۔۔۔اب خوش ہو ۔۔۔ یا اور چوسوں ۔۔؟؟؟؟ تو میں نے اسے اپنی بانہوں میں بھرتے ہوئے کہا ۔۔۔ میری جان۔۔۔اگر تم میرے لن کو نہ بھی چوستی تو بھی میں تم سے بہت خوش تھا ۔۔۔ میری بات سن کر اس نے میرے گالوں پر ایک پپی دی اور پھر اپنی ننگی چھاتیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔۔۔ لُک۔۔۔تمہارا انتظار ہو رہا ہے۔۔۔۔ اس کی بات سن کر میں نیچے کو جھکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اس کے اکڑے ہوئے نپلز کو اپنے منہ میں لے کر انہیں ۔۔۔ باری باری چوسنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اپنی چھاتیوں کو میرے منہ میں دیکھ کر وہ شہوت بھرے مزے سے کراہنے لگی۔۔اوہ۔۔۔۔اوہ۔۔۔۔۔۔۔اس کی چھاتیوں کو چوستے ہوئے اچانک میں نے اپنا ایک ہاتھ اس کی شلوار کے اندر ڈال کر اس کی پھدی کو چیک کیا تو۔۔۔ ۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔اوہ۔۔۔۔۔اوہ۔۔ اس کی پھدی بری طرح پانی سے بھیگی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ میں کچھ دیر تک اس کی چوت کی لکیر میں اپنی انگلیوں کو پھیرتا رہا۔۔۔اور وہ میرے ساتھ چپکتے ہوئے کہنے لگی ۔۔ ڈارلنگ میری چوت کی لکیر میں ۔۔۔۔ اس طرح تمہاری انگلیاں پھیرنے سے مجھے بہت اچھا لگ رہا ہے اور گرمی بھی چڑھ رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر کچھ دیر بعد میں نے اس کی پھدی کی لکیر سے اپنی انگلیوں کو ہٹایا۔۔۔۔ ۔۔۔۔ اور اپنے ہاتھ کو اس کی پھدی کے اوپری حصے کی طرف لے گیا۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔تو اس کی پھدی کی نرم سکن پر کافی سارے بالوں کو موجود پایا۔۔ ایسا لگ رہا تھا کہ کافی دنوں سے اس نے اپنی چوت کی شیو نہیں کی تھی چنانچہ اب میں نے اس کے نپلز کو چوستے ہوئے اس کی چوت کے بڑھے ہوئے بالوں میں بھی انگلیاں پھیر نا شروع کر دیں ۔۔۔ جس کی وجہ سے وہ مست سے مست ۔۔۔تر ہو تی چلی گئی۔۔۔۔اور۔۔ سیکسی آہیں بھرتے ہوئے ۔۔۔ بار بار ۔۔۔۔اپنی پھدی والے حصے کو میرے ساتھ ٹچ کرنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔ یہ دیکھ کر میں بھی جوش میں آ گیا ۔۔اور پھر میں نے اس کے ایک نپل پر دانت کاٹتے ہوئے اس سے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عذرا اندر میرا لو گی؟ میری بات سن کر اس نے بڑی گرسنہ نظروں سے میری طرف دیکھا اور ۔۔۔ کہنے لگی۔۔۔ چوت میں اتنے سارے پانی کی موجودگی میں بھی تم مجھ سے پوچھ رہے ہو کہ میں تمہارے اس لن کو اپنی چوت کے اندر لوُں گی ۔۔۔۔۔ ؟

    پھر ایک دم سنجیدہ ہو کر کہنے لگی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ جی تو میرا بھی بہت چاہ رہا ہے کہ تمہارے اس جمبو سائز کو اپنے اندر لے لوں ۔۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا کروں جان۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ درمیان میں پھر وہی مسلہ آ جاتا ہے۔۔۔۔ ورنہ میں نے ابھی اس موٹے تازے لن کو اپنے اندر لے کر کے اپنی چوت کی ساری گرمی کو ختم کر دینا تھا ۔۔۔ لیکن افسوس کہ موجودہ صورتِ حال میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں یہ رسک ہر گز ہر گز نہیں لے سکتی ۔۔۔۔ تو میں نے اس سے کہا ۔۔۔ کہ میری جان ۔۔ میں خود بھی یہ نہیں چاہتا کہ موجودہ صورتِحال میں تم کو چود کر ۔۔۔تمہیں کسی مصیبت میں ڈال دوں۔۔۔پھر میں نے اس کی طرف دیکھ کر کہا کہ۔۔۔ کیا ہوا جو میں تمہاری پھدی نہیں مار سکتا ۔۔۔ لیکن میری جان میں بنا لن ڈالے بھی ۔۔۔۔ تمہاری اس کنواری چوت سے مزہ تو اُٹھا سکتا ہوں ناں؟؟؟؟؟؟ ۔۔ میری بات سن کر اس کو ایک نشہ سا چڑھ گیا ۔۔۔اور وہ اسی نشیلی آواز میں کہنے لگی۔۔۔۔ تو جلدی کر نا ظالما۔۔۔۔۔۔ کہ میں پہلے ہی بہت تڑپ رہی ہوں۔۔۔۔اور پھر اس سے مزید کوئی بات سنے بغیر میں نے اس کی شلوار کو نیچے کیا اور ۔۔۔۔۔۔ پھر اسے اتار کر اس کی دونوں ٹانگوں کے بیچ میں بیٹھ گیا۔۔۔اور پھر اس کی چوت پر اپنے منہ کو ایڈجسٹ کر کے اس پر اپنی زبان رکھ دی۔

    ۔ واؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤو۔۔۔۔اس کی چوت سے شہوت ۔۔۔اور رس بھری جوانی کی بڑی ہی اشتہا انگیز مہک آ رہی تھی۔۔جس کی مہک کو سونگھ کر میں تو پاگل ہو گیا۔۔۔۔۔اور پھر اس کی چوت کو چاٹنا بھول کر ۔۔۔۔ اس سے آنے والی مہک کو سو نگنے لگا۔۔۔۔ مجھے اپنی چوت کو سونگھتے دیکھ کر کچھ دیر تو وہ چُپ رہی۔۔۔۔۔لیکن جب میرا سونگھنے کا کام کچھ لمبا ہو گیا تو۔۔۔۔تو وہ بے قراری سے بولی۔۔۔۔سونگھنا چھوڑ۔۔۔۔ میری پھدی کو چاٹ ۔۔۔ اس کی بات سن کر میں نے اپنے منہ سے زبان نکالی ۔۔۔اور عین اس کی شہوت کی آگ میں جلتی ہوئی چوت کی لکیر پر رکھ دی۔۔۔۔۔ جیسے ہی میری زبان اس کی چوت سے ٹچ ہوئی ۔۔۔۔ تو اسی وقت عذرا کے منہ سی ایک چیخ نکلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آہ۔ ہ ۔ ہ۔۔۔ جان! مجھے چاٹ کے ٹھنڈا کر دو۔۔۔ اور پھر میں نے اس کی پھدی کے دونوں لب کھولے اور اپنی زبان کی مدد سے اس کو چاٹنے لگا۔۔۔۔

    ابتدائی طور پر میں نے اس کی چوت کے اندر پڑے سارے پانی کو چاٹ کر صاف کر دیا۔۔۔ ۔۔۔ لیکن میں جتنا بھی اس کی چوت کے اندر پڑے پانی کو چاٹ کر صاف کرتا ۔۔اتنا ہی مزید پانی اس کی چوت کی دیواروں سے رس کر باہر نکل آتا تھا۔۔۔۔۔۔۔کچھ دیر تک تو میں اسے چاٹ چاٹ کر صاف کرتا رہا۔اور وہ میرے اس عمل سے لزت آمیز سسکیاں بھرتی رہی ۔۔پھر میں نے اپنی زبان کو وہاں سے ہٹایا ۔۔۔۔۔۔اور اس کی ابھری ہوئی چوت کے پھولے ہوئے دانے کو اپنے منہ میں لے لیا اور اسے چوسنے لگا۔۔ ابھی مجھے اس کے دانے کو چوستے ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ اچانک عذرا نے مجھے سر کے بالوں سے پکڑا ۔۔۔۔اور میرے منہ کو اپنی طرف کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔۔ جان مجھے تمہارے (لن) کی بڑی شدید طلب ہو رہی ہے۔۔ ابھی اپنے لن کو میری چوت میں ڈال دو ۔۔ بعد میں جو ہو گا ۔۔۔دیکھا جائے گا ۔۔۔ ۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اس نے مجھے بالوں سے کھینچتے ہوئے کھڑا کر دیا۔۔۔۔۔۔اور جیسے ہی میں کھڑا ہوا۔۔۔۔۔ اس نے میرے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا ۔۔۔اور اسے اپنی پھدی پر رگڑنے لگی۔۔۔۔ ۔۔ پھدی پر لن کو رگڑتے رگڑتے اچانک ہی اس کی سانسیں اکھڑنے لگیں۔۔۔ اور وہ تیز تیز سانس لیتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے ۔۔۔۔۔۔ اسے میرے اندر ڈالو ناں۔ں ں ۔ں ۔۔۔میں۔۔۔ میں۔۔ مر رہی ہوں ۔۔۔ مجھے چودو۔۔۔۔ناں۔۔پلیزززززززززززز۔ اور پھر اچانک ہی اس کی چوت پر رکھے ہوئے میرے لن نے اپنے اوپر گرم پانی کا سیلاب محسوس کیا۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ اور میں نے چونک کر دیکھا تو۔۔۔۔عذرا۔۔۔ جھٹکے لے لے کر چھوٹ رہی تھی۔۔۔۔۔۔وہ بنا چدُے ہی فارغ ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔

    ادھر جیسے ہی اس کی پھدی سے پانی نکلنا بند ہوا ۔۔۔۔۔۔ اور تیز تیز سانس لیتی ہوئی عذرا کچھ شانت ہوئی ۔۔۔۔۔تو وہ آگے بڑھی اور اس نے مجھے کس کر اپنے گلے سے لگا لیا۔۔۔۔۔اور مجھے بڑے ہی ذور سے دباتے ہوئے میرے منہ میں اپنا منہ ڈال دیا۔ پھر۔۔۔ میرے ساتھ چپکتے ہوئے اچانک ہی جب اسے اپنی رانوں پر میرے کھڑے ہوئے لن کی چھبن محسوس ہوئی ۔۔تو وہ ایک دم سے چونک گئی اور میرا لن پکڑ کر بولی ۔۔اوہ۔۔۔۔ میں تو ٹھنڈی ہو گئی ہوں۔۔۔لیکن۔۔۔۔ تمہارا تو ابھی تک ویسے کا ویسا ہی اکڑا کھڑا ہے ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے ساتھ ہی وہ نیچے قالین پر پنجوں کے بل بیٹھ گئی۔۔۔اور میرے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر بڑے ہی خوشگوار مُوڈ میں بولی۔۔۔۔۔۔۔ کیا یاد کرو گے جان۔۔۔۔ آج۔۔میں تمہارے اس بڑے سے لن کو اپنے منہ میں ڈال کر فارغ کروں گی۔۔۔۔۔اور پھر یہ کہتے ہوئے اس نے میرے لن کو اپنے منہ میں لیا اور پھر بڑے مزے سے چوسنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی۔۔اس نے تھوڑا سا ہی چوپا لگایا ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ اچانک باہر دروازے پر ہلکی سی آواز میں دستک کی آواز سنائی دی۔۔۔ جسے سن کر ہم دونوں چونک اُٹھے۔۔۔۔ دستک کے فوراً بعد ۔۔۔۔۔ بھابھی کی سرگوشی نما آواز سنائی دی۔۔۔۔۔ وہ کہہ رہی تھی ۔۔۔ عذرا ۔۔۔ کافی دیر ہو گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ لوگ کسی بھی وقت آ سکتے ہیں ۔۔۔۔ بھابھی کی بات سنتے ہی عذرا ۔۔۔۔ جوش کی دنیا سے ہوش میں آ گئی۔۔۔ اور پھر بڑی ہی خوف ذدہ نظروں سے دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے اس نے قالین پر پڑی اپنی شلوار اُٹھائی اور اسے پہنتے ہوئے اس نے ایک نظر دیوار پر لگے گھڑیال کی طرف ۔۔۔۔ دیکھا ۔۔۔ اتنی دیر میں صورتِ حال کا ادراک کرتے ہوئے میں نے بھی اپنا لباس درست کر لیا تھا۔۔۔اور چلنے کے لیئے ریڈی ہو گیا تھا۔۔۔۔ ۔۔۔ ادھر عذرا اپنی شلوار پہن کر دوڑتے ہوئے میری طرف آئی۔۔۔۔اور میرے گلے لگ کر کہنے لگی ۔۔۔۔ پتہ نہیں جان!۔۔ پھر ہم ملیں نہ ملیں ۔۔۔۔ لیکن آج کا دن میرے لیئے یاد گار رہے گا۔۔۔۔۔۔ پھر بڑے جزباتی انداز میں کہنے لگی۔۔۔۔ یقین کرو جان!!!۔۔۔ تمہارے ساتھ بیتا ہوا وقت۔۔۔ ۔ میں کبھی بھی بھلا نہ پاؤں گی۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد میں نے اس کا ایک طویل الوداعی بوسہ لیا ۔۔۔اور کمرے سے باہر آ گیا۔۔۔


    گیلری میں نکل کر چلتے ہوئے جب میں بھابھی کے دروازے پر پہنچا تو میں نے ۔۔۔۔۔ ایک نظر مُڑ کر عذار کے کمرے کی طرف دیکھا ۔۔۔۔ اور وہاں پر کسی کو نہ پا کر میں نے ہولے سے بھابھی کا دروازہ ناک کیا۔۔۔ ۔۔۔ دستک کی آواز سنتے ہی اندر سے بھابھی کی سرگوشی سنائی دی ۔۔۔۔۔ اوہ کہہ رہی تھی۔۔۔آ جاؤ ڈارلنگ۔۔ دروازہ کھلا ہے۔۔ بھابھی کی بات سن کر میں نے اس کے دروازے کی ناب گھمائی اور کمرے کے اندر داخل ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دیکھا تو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے دونوں ہاتھ اپنے سینے پر رکھے بھابھی کھڑی تھی۔۔۔۔۔۔ مجھے اندر داخل ہوتے دیکھ کر کہنے لگی ۔۔۔دروازے کو لاک کر دو۔۔۔ اور میں دروازہ لاک کر کے اس کی طرف بڑھا ۔۔تو وہ بدستور دونوں ہاتھ اپنے سینے پر ہاتھ باندھے کھڑی میری طرف ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔ میں اس کے قریب گیا تو وہ طنزیہ لہجے میں بولی ۔۔۔مل آئے اپنی معشوقہ سے؟؟ ۔۔۔تو میں کھسیانی سی ہنسی ہنس کر بولا۔۔۔۔ لیکن آپ نے اتنی جلدی کیوں بلا لیا؟؟۔۔۔۔تو وہ میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔ ۔۔۔۔۔۔ وہ اس لیئے میری جان۔۔ کہ مجھے ایک عجیب سی جلن ہو رہی تھی ۔۔۔۔اور مجھ سے تمہارے انتظار کی گھڑیاں کاٹنا مشکل ہو رہا تھا۔۔۔۔۔پھر وہ آگے بڑھی اور اپنی بانہوں کو میری گردن میں حمائل کرتے ہوئے بولی۔۔۔ اسی لیئے میں نے ان لوگوں کے آنے کا شوشہ چھوڑا تھا۔۔۔۔تو میں نے اس سے پوچھا ۔۔۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ لوگ ابھی نہیں آ رہے؟ تو وہ ہنس کر بولی۔۔۔۔ نہیں ۔۔تھوڑی دیر پہلے ہی میں نے فون کر کے پتہ کیا تھا۔۔۔وہ لوگ نبیلہ کے گھر سے ہو تے ہوئے ۔۔۔۔ لیٹ ہی آئیں گے۔۔۔ اور پھر اس نے میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیا۔۔۔۔ اور میرے ساتھ شہوت سے بھر پور کسنگ کرنے لگی۔۔۔۔بھابھی کے انگ انگ میں ۔۔۔شہوت اور ایک انجانی سی تڑپ بھری ہوئی تھی۔۔۔ جبکہ اس کے برعکس عذرا کی کسنگ میں میرے لیئے بے پناہ محبت ۔۔۔۔جزبات کی گرمی اور سپردگی شامل ہوتی تھی۔۔۔۔دونوں کی محبت میں فرق یہ تھا کہ عذرا کے من میں میرے لیئے محبت بھرے جزبات اور ایک خاص طرح کی سپردگی پائی جاتی تھی ۔۔۔جبکہ محبت تو بھابھی بھی مجھ سے کرتی تھی لیکن اس کی محبت پر شہوت کا غلبہ ۔۔۔۔اور مجھ سے چُدوانے کی بہت زیادہ تڑپ پائی جاتی تھی۔۔۔۔۔

    کچھ دیر کسنگ کے بعد میں نے بھابھی کو اُٹھا کر ڈریسنگ ٹیبل پر بٹھا دیا ۔۔۔ڈریسنگ ٹیبل پر بیٹھتے ہی بھابھی نے جلدی سے اپنی قمیض اور پھر برا بھی اتار دی تھی ۔۔۔ ان کو ننگا ہوتے دیکھ کر میں کچھ سیکنڈز کے لیئے رک گیا ۔۔۔ اور بڑی دل چسپی کے ساتھ ان کو اپنی قمیض اتارتے ہوئے دیکھتا رہا۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔پھر جب انہوں نے اپنا اوپری بدن سارا ننگا کر لیا ۔۔۔۔۔تو میں بھی ڈریسنگ کے پاس پڑے سٹول کو کھسکا کر ان کے سامنے بیٹھ گیا۔۔۔ ۔۔۔۔۔اور پھر ان کی خوبصورت چھاتیوں کو اپنے ہاتھوں میں پکڑ کر انہیں دبانے لگا۔۔۔۔ تو وہ مست سی آہ بھرتے ہوئے بولی۔۔۔۔ ایسا کرو ڈارلنگ ۔۔۔کہ ایک چھاتی کو دباؤ۔۔۔۔۔جبکہ دوسری کو اپنے منہ میں لے کر چوسو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چنانچہ اس کے کہنے پر ۔۔۔میں ان کی ایک چھاتی کو چوس ۔۔۔اور دوسری کو دباتا رہا ۔۔۔اسی دوران میرے کانوں میں بھابھی کی شہوت بھری آواز سنائی دی وہ کہہ رہی تھی تمہیں پتہ ہے کہ میں تمہارے لیئے کتنا تڑپی ہوں؟ تو میں نے بھی ان کی چھاتی کو دباتے ہوئے کہا۔۔۔۔ فکر نہ کر و میری جان میں ابھی تمہارے سارے گلے شکوے دور کر دیتا ہوں ۔۔۔تو وہ کہنے لگی۔۔۔۔۔ سوچ لو۔۔ میرے تم سے گلے شکوے تبھی دور ہوں گے کہ جب تم مجھے چود چود کے۔۔۔اور۔۔۔۔میری چوت میں دھکے مار مار کے مجھے تھکا دو گے۔ پھر میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی۔۔۔۔ کیا تم میرے ساتھ ایسا کر لو گے؟ تو میں نے بھی ان کے ایک ممے کو دبا تے ہوئے کہا۔۔۔۔ فکر نہ کریں بھابھی ۔۔۔۔اب آیا ہوں تو آپ کو شانت کر کے ہی جاؤں گا۔تو میری بات سن کر وہ ہلکا سا مسکرائی ۔۔۔۔اور کہنے لگی یہ ہوئی ناں مردوں والی بات۔۔۔ اور پھر ۔۔۔۔۔ بات کرتے کرتے اچانک انہوں نے میرا ایک ہاتھ پکڑ کر شلوار کے اوپر پھدی والی جگہ رکھ کر بولی۔۔۔۔ دیکھو نا جان۔۔۔ میں کتنی گرم ہو رہی ہوں۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔ اور میری یہ (پھدی) تمہارے اور تمہارے پپو کے ہجر میں کس قدر تڑپ رہی ہے ۔۔۔۔۔۔اب میں نے جو بھابھی کی شلوار کے اوپر سے ان کی پھدی پر ہاتھ پھیرا ۔۔۔تو ان کی شلوار اس قدر گیلی تھی کہ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گویا کہ انہوں نے پیشاب کیا ہو۔۔۔۔ اور میں نے ان کی گیلی شلوار پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ۔۔ بھابھی آپ کی شلوار تو واقعی بہت گیلی ۔۔۔۔۔ ہو رہی ہے تو وہ کہنے لگی۔۔۔ ارے بدھو شلوار نہیں۔۔۔۔۔۔ بلکہ غور سے دیکھ ۔۔۔۔۔ میری پھدی بہت گیلی ہو رہی ہے اور اس گیلے پن کی وجہ سے میری شلوار ایسے بھیگی ہوئی ہے کہ جیسے میں بارش میں نہا کر آئی ہوں۔۔۔ تب میں نے ان کی شلوار کھولی ۔۔۔اور اپنے ہاتھ کو ان کی گرم اور ننگی چوت پر رکھ دیا۔۔۔ پھر ایک انگلی کو ان کی چوت کے پانی میں ڈبوتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔۔ توبہ بھابھی۔۔۔۔۔۔۔بادلوں نے بھی کبھی اتنا پانی نہیں برسایا ہو گا جتنا آج تمہاری چوت چھوڑ رہی ہے ۔۔۔۔۔ پھر میں نے بڑا معصوم سا منہ بنا کر ان سے پوچھا۔۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔سوال یہ ہے بھابھی جان۔۔کہ آخر آپ کی چوت ایسا کیوں کر رہی ہے؟ تو وہ بھی مست لہجے میں کہنے لگی۔۔۔ کہ میری چوت اس لیئے پانی چھوڑ رہی ہے ۔۔۔کہ ابھی تھوڑی دیر بعد اس میں اس کے من پسند مہمان نے یہاں کا وزٹ کرنا ہے۔۔۔۔ پھر میری طرف دیکھتے ہوئے شہوت بھرے لہجے میں بولی ۔۔۔۔۔یقین کرو شاہ۔۔۔۔ میری چوت نے اسی وقت لیک ہونا شروع کر دیا تھا کہ جب میری ہیلو کے جواب میں تم نے اپنا کوڈ ورڈ دھرایا تھا۔۔۔۔ بھابھی کی بات سن کر میں خوش ہو کر نیچے جھکا ۔۔۔۔اور اس کی لِیکڈ ۔۔۔۔ پھدی پر ایک زبردست سی چومی دے دی ۔۔۔۔ ۔۔۔۔اور پھر اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔۔ جب آپ اتنی گرم ۔۔۔اور میرے لن کے لیئے اُتاؤلی ہو رہی تھیں ۔۔۔۔۔ تو مجھے آتے ہی کہہ دیتیں ۔۔۔۔ میں پہلے آپ کے ساتھ سیکس کر لیتا ۔۔تو وہ کہنے لگی۔۔۔۔ سچ پوچھو تو ۔۔۔ پہلے میرا بھی یہی جی چاہا تھا۔۔۔ لیکن یار شاید تم یقین نہ کرو ۔۔۔۔۔ تمہاری معشوقہ بے چاری کے ساتھ واقعہ ہی بڑی زیادتی ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔پھر افسوس بھرے لہجے میں مزید کہنے لگی۔۔۔۔۔ دیکھو ناں ۔۔۔ ۔۔۔ گھر سے بھاگی وہ سالی نبیلہ ہے۔۔۔اور بھگتنا اس بے چاری کو پڑ گیا۔۔۔ اسی لیئے میں نے تم کو پہلے اس کے پاس بھیجا تھا ۔۔۔۔ کہ اس کے غموں کا کچھ تو مداوا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔

    بھابھی کی باتوں کے دوران میں مسلسل اپنی دو انگلیوں کو اس کی چوت کے اندر باہر کر تا رہا تھا۔۔۔۔ جس کی وجہ سے وہ بے چین ہو کر کہنے لگی۔۔۔۔۔ ڈارلنگ مجھے تمہاری انگلیاں نہیں۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ بلکہ ۔۔۔۔تمہارا لن چاہیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر کہنے لگی ۔۔ لیکن اس سے پہلے میں تمہارے لن کو تھوڑا چوسنا چاہوں گی۔۔۔اس لیئے اب تم اپنی پینٹ وغیرہ اتار کر میری والی جگہ پر آ جاؤ جبکہ میں تمہاری جگہ بیٹھ کر اسے چوستی ہوں ۔۔۔

    بھابھی کی بات سن کر میں جلدی سے اُٹھا اور سٹول کو ہٹا کر اپنی پینٹ اتاری۔۔۔۔اور پھر بھابھی والی جگہ ۔۔یعنی کہ ڈریسنگ ٹیبل پر بیٹھ گیا۔۔۔۔ جیسے ہی میں ڈریگ ٹیبل پر پاؤں لٹکا کر بیٹھا ۔۔۔ بھابھی فوراً ہی قالین پر اکڑوں بیٹھ گئی ۔۔۔۔اور ۔۔۔ میرے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر مجھ سے کہنے لگی۔۔۔۔ تمہیں معلوم ہے ۔۔۔کہ مجھے تمہارے لن کا نشہ ہے۔۔۔ اس لیئے اس نشے کو پورا کرنے کے لیئے میں تمہارے لن کو چوسنے لگی ہوں ۔۔۔ورنہ تو تمہیں پتہ ہی ہے کہ اس وقت ۔۔۔ تمہارے لن کے لیئے میری پھدی چلیوں چلیوں کر رہی ہے ( تڑپ رہی ہے۔۔۔کھل بند ہو رہی ہے ) یہ کہتے ہوئے وہ میرے لن پر جھکی اور اسے اپنے منہ میں لے لیا۔۔۔۔ ابھی اس نے ایک ہی چوپا لگایا تھا کہ اس نے میرے لن کو اپنے منہ سے باہر نکالا اور میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کو عذرا نے بھی چوسا تھا ۔۔۔؟ تو میں نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے اس سے کہا ۔۔۔ آپ کو کیسے پتہ چلا؟ تو وہ میری طرف دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔ بتایا تو ہے کہ مجھے تمہارے لن کا نشہ ہے ۔۔۔ اور اسے چوسنے کا چسکہ ہے ۔۔۔۔۔ پھر مجھے آنکھ مار کر بولی ۔۔۔۔ تمہارے لن پر عذرا کا تھوک لگا ہوا ہے ۔۔۔ اس لیئے ۔۔۔۔ تو میں نے ان سے کہا ۔۔۔۔۔ سیکسی لیڈی۔۔۔ عذرا کا تھوک لگا ہے تو کیا ہوا۔۔۔ آپ اسے بھی چاٹ جاؤ۔۔۔ تو وہ کہنے لگی۔۔۔ عذرا کا تھوک اگر تمہارے لن پر نہ لگا ہوتا تو میں نے ہر گز ایسا نہیں کرنا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اب جبکہ یہ تمہاری اس موٹی شافٹ پر لگا ہوا ہے تو ۔۔۔۔۔۔ تمہارے لن کے لیئے مجھے یہ بھی منظور ہے ۔۔۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے میرے لن کو اپنے منہ میں لیا اور ۔۔۔ بڑی مہارت سے اسے چوسنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔

  9. #129
    Join Date
    Dec 2008
    Location
    Rawalpindi, Pakistan, Pakistan
    Posts
    5,387
    Rep Power
    2469

    Default


    لیکن ایسا اس نے کچھ ہی دیر کیا ۔۔۔اور پھر اُٹھ کر کھڑی ہو گئی۔۔۔اور مجھے ڈریسنگ سے اترنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولی ۔۔۔۔ اب تم مجھے چودو۔۔۔۔ ان کی بات سن کر میرے ڈریسنگ ٹیبل سے نیچے اترنے کی دیر تھی ۔۔۔۔ کہ بھابھی جلدی سے اپنی شلوار اتا ر کر آگے بڑھی۔۔۔او ر اپنے دونوں بازو ڈریسنگ پر رکھ دیئے۔۔۔اور اپنی گانڈ پیچھے کی طرف کر کے اپنی ٹانگیں کھلی کر لیں ۔۔۔اور بڑی مست آواز میں کہنے لگی۔۔۔۔۔ مجھے جم کر چودنا ۔۔۔

    چنانچہ بھابھی کی بات سن کر میں ان کے پیچھے آگیا ۔۔۔اور اپنے لن کو اس کی چوت پر سیٹ کر کے جیسے ہی اندر ڈالنے لگا ۔۔۔تو اچانک انہوں نے پیچھے مڑ کر میری طرف دیکھا اور کہنے لگی۔۔۔۔ایک چیز کو تم مِس کر رہے ہو؟ تو میں نے حیرانی سے کہا ۔۔۔ وہ کیا ہے؟ تو وہ اسی شہوت بھرے لہجے میں اپنی گانڈ کو مٹکا کر بولی۔۔۔۔ میری گانڈ پر آئیل لگانا۔۔۔۔ اس کی بات سن کر مجھے یاد آ گیا کہ بھابھی چودائی کے دوران ۔۔۔ اپنے دونوں سوراخوں میں لن لینے کی عادی ہے اس لیئے میں نے اس سے کہا۔۔۔ سوری بھابھی میں بھول گیا تھا۔۔۔تو وہ کہنے لگی کوئی بات نہیں ۔۔۔۔ پھر بولی ۔۔۔۔ بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر آئیل کی بوتل پڑی ہے اسے وہاں سے اُٹھا لو۔۔۔۔۔ تو میں نے ان سے کہا کہ آپ نے اسے وہاں کس لیئے رکھا ؟؟؟؟۔۔۔تو وہ کہنے لگی۔۔۔۔اسے وہاں اس لیئے رکھا کہ پہلے میرا خیال تھا کہ تم مجھے بیڈ پر چودو گے ۔۔۔ لیکن پھر میں نے دیکھا کہ تم مجھے ڈریسنگ ٹیبل پر ہی چودنا چاہتے ہو تو میں چُپ رہی ۔۔۔ بھابھی کی بات سن کر میں نے پلنگ کی سائیڈ ٹیبل پر رکھی۔۔۔ سرسوں کے تیل کی بوتل اُٹھائی اور گھوڑی بنی بھابھی کی گانڈ پر اچھی طرح مل دی۔۔۔ جب ان کی گانڈ کے اندر تک آئیل لگ گیا ۔۔۔۔تو تب بھابھی نے اپنا منہ ایک بار پھر پیچھے کی طرف کیا اور کہنے لگی۔۔۔۔۔۔ اب شروع ہو جاؤ۔۔۔۔۔۔۔ بھابھی کی بات سن کر میں نے اپنے لن کو ان کی چوت پر رکھا۔۔۔۔اور پھر ٹوپے کو ہلکا سا پُش کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو میرا ٹوپا۔۔۔ پھسلتا ہوا بھابھی کی سلپری چوت میں اندر تک چلا گیا۔۔

    ادھر جیسے ہی میرا لن بھابھی کی گرم چوت میں داخل ہوا ۔۔۔۔ تو بھابھی کے منہ سے ایک شہوت بھری چیخ نکلی۔آہ ہ ہ ۔۔۔۔۔۔۔اور وہ کہنے لگی۔۔۔۔ پہلے ہی گھسے میں تمہارا پورا لن میری چوت میں چلا گیا ہے ۔۔ ۔۔۔۔ اس لیئے۔۔۔ اب شروع ہو جاؤ۔۔۔اور گھسے مار مار کر مجھے تھکا دو۔۔۔ اور اس کے بعد میں شروع ہو گیا۔۔۔ اور بھابھی کی چوت میں زبردست گھسے مارنے لگا۔۔۔۔ اور بھابھی میرے ہر گھسے پر لزت آمیز سسکیاں لیتی رہی۔۔۔ پھر انہی سسکیوں کے درمیان ہی وہ مجھ سے کہنے لگی ۔۔۔۔اب لن کو پھدی سے ریمو کرو ( ہٹاؤ) اور میری گانڈ میں ڈال دو تو میں نے اس سے کہا کہ وہ تو آخر میں نہیں ڈالنا ہوتا ۔۔۔۔تو بھابھی میری طرف دیکھے بغیر ہی بولی ۔۔۔ آخر واخر کو چھوڑو۔۔۔۔اور ابھی میری گانڈ میں اپنے لن کو ڈال دو ۔۔۔ کہ پھدی کی طرح میری گانڈ بھی تمہارے لن کے لیئے چلیوں چلیوں کر رہی ہے چنانچہ بھابھی کی بات سن کر میں نے اپنے لن کو اس کی چوت سے باہر کھینچا ۔۔۔۔اور پھر اس کی گانڈ میں ڈال دیا ۔۔۔اور پھر سے دھکے مارنے لگا ۔۔۔ میرے ہر دھکے کے جواب میں بھابھی کی دل کش سسکی ابھرتی اور وہ مسلسل یہی کہتی جاتی ۔۔۔۔۔ ماررر۔۔۔دو۔۔۔اس کو پھاڑ دو ڈارلنگ۔۔۔۔۔ اور میں اس کی جوش بھری بات کو سن کر بھابھی کی گانڈ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔یا اگر اس وقت لن اس کی پھدی میں ہوتا ۔۔۔۔۔تو چوت کو پھاڑنے کے لیئے اور طاقت سے دھکے مارتا ۔۔۔ لیکن میرے ان طاقت ور دھکوں سے بھابھی کی گانڈ اور چوت نہ ۔۔۔۔پھٹنی تھی نہ پھٹی ۔۔۔۔ ہاں یہ ضرور ہوا کہ میرے ان دھکوں کی وجہ سے اس کو وہ مزہ ضرور مل گیا ۔ کہ جس کا وہ مجھ سے توقع کر رہی تھی ۔۔ایسا مزہ ۔۔۔جو بقول اس کے صرف میرے لن سے ہی نکلا کرتا تھا۔۔۔۔۔

    میرے مسلسل دھکوں کے درمیان وہ تقریباً تین چار دفعہ چھوٹ چکی تھی۔۔۔ اور اس کے کافی دفعہ چھوٹنے کی وجہ سے اس کی چوت میں زبددست پھلسن ہو گئی تھی جو میرے لن کو بہت سوٹ کر رہی تھی۔۔۔۔۔دھکے مارتے مارتے آخر میرا بھی اینڈ پوائینٹ آ گیا۔۔۔۔۔جب میرا اینڈ لگنے لگا۔۔۔ ۔۔۔۔اس وقت میں بھابھی کی چوت میں لن دیئے دھکے مار رہا تھا۔۔۔ کہ مجھے اپنے لن نے چھوٹنے کے سگنل دینے شروع کر دئیے ۔۔۔ان سگنلز کے موصول ہو تے ہی میں نے جلدی سے اپنے لن کو بھابھی کی پانی بھری چوت سے باہر نکلا ۔۔۔۔۔۔۔اور ان کی گانڈ میں گھسیڑ دیا ۔۔اور پھر تیزی کے ساتھ آگے پیچھے ہونا شروع کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ دیکھتے ہوئے بھابھی نے بھی ڈریسنگ کے شیشے سے مجھے دیکھتے ہوئے کہا۔۔ ۔۔ڈارلنگ ۔۔۔ چھوٹنے والے ہو؟ تو میں نے دھکے مارتے ہوئے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔۔ یہ سن کر وہ خاصی پرجوش سی ہو گئی ۔۔۔۔اور کہنے لگی۔۔۔۔ آخری دھکے ہیں۔۔۔ ذرا۔۔زور سے مارنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور میں نے فُل طاقت سے ان کی گانڈ کو چودنا شروع کر دیا۔۔۔اور پھر دھکے مارتے مارتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے لن سے منی کا ایک ریلا سا نکلا۔۔۔۔۔۔۔اور بھابھی کی گانڈ میں بہنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔ جس سے ان کی گانڈ لبا لب بھر گئی۔۔۔جس کی وجہ سے میرے لن سے نکلنے والا پانی۔۔۔ بھابھی کی گانڈ کے اندر سے ہو کر باہر کی سمت بہنے لگا۔۔۔۔ جب میرا لن منی سے خالی ہو گیا تو میں نے اسے کھینچ کر باہر نکالا اور پاس پڑے پلنگ پر بیٹھ کر اپنا سانس درست کرنے لگا۔۔۔۔۔۔

    یہ دیکھ کر بھابھی بھی واپس مُڑی اور پھر پلنگ کے سائیڈ ٹیبل سے ایک صاف سا کپڑا نکلا اور میرے لن پر لگی منی کو صاف کرتے ہوئے بولی۔۔۔ آج تو تم نے واقعہ ہی مجھے چود چود کر۔۔۔۔۔۔ اور دھکے مار مار کر تھکا دیا ہے ۔۔اُف اتنے گھسے مارے کہ۔۔ میری تو بس ہو گئی تھی۔۔۔۔ پھر میرے ہونٹوں پہ کس کر کے کہنے لگی ۔۔۔۔ڈارلنگ آج تم نے مجھے چودا ہے کہ کمال کیا ہے۔۔۔۔ پھر میرے لن کو صاف کرنے کے بعد وہ اپنی پھدی کو صاف کرنے کے لیئے واش روم میں گھس گئی۔۔۔ ان کے واش روم میں گھستے ہی میں جلدی سے پلنگ سے اُٹھا ۔۔۔۔۔۔۔اور کپڑے پہن لیئے۔۔۔۔ کچھ دیر بعد بھابھی بھی واش روم سے با ہر نکل آئی اور نکلتے ہی سیدھی میری طرف بڑھی اور مجھے پیار کرتے ہوئے بولی۔۔۔ گاؤں میں کتنے دن رہو گے؟ تو میں نے کہا ۔۔۔ کوئی پتہ نہیں۔۔تو وہ کہنے لگی اگر وہاں ۔۔۔ نزدیک کوئی پی سی او ہوا تو مجھ سے رابطہ رکھنا میں تمہیں حالات سے باخبر رکھوں گی اور میں نے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔۔۔۔۔ اور پھر میں پلنگ سے اُٹھا اور ان سے جانے کی اجازت طلب کی تو وہ مجھے ایک منٹ کہہ کر ۔۔۔۔۔۔۔۔ پلنگ کی دوسری طرف بنے ایک سائیڈ ٹیبل کی طرف چلی گئی۔۔۔۔پھر انہوں نے اس کی سائیڈ ٹیبل کا دراز کھولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور وہاں سے ایک لفافہ نکال کر میرے پاس آئی اور اسے میری پینٹ کی جیب میں ڈالتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔۔۔ یہ میری طرف سے ۔۔۔ تمہارے کام آئے گا۔۔۔تو میں نے بڑی حیرانی سے پوچھا اس میں کیا ہے تو وہ کہنے لگی۔۔۔اس میں تھوڑے سے پیسے ہیں ۔۔ جو سفر میں تمہارے کام آئیں گے ۔ تو میں نے ان کو لینے سے انکار کر دیا ۔۔ تو وہ بڑے پیار سے مجھے چوم کر بولی دیکھو دوست۔۔۔ اس کیس کے بعد مجھے تمہارے گھر کے سارے حالات کا علم ہو گیا ہے اس لیئے پلیزززززززز ۔۔ انکار نہ کرو ۔۔۔۔۔ اس کی بات سن کر جیسے ہی میں نے ان کو کچھ کہنے کے لیئے منہ کھولا ۔۔۔۔تو وہ میرے ہونٹوں پر اپنی انگلی رکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نو آرگیومنٹ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔صرف۔۔۔ میرے لیئے ۔۔۔پلیززززززززززززززز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ ان سے پیسے لیتے ہوئے مجھے بڑی شرم محسوس ہوئی تھی۔۔۔

    بھابھی سے واپسی پر جب میں سڑک پر پہنچا تو میں نے لفافہ کھول کر دیکھا تو اس میں اچھی خاصی رقم موجود تھی ۔۔۔پھر میں وہاں سے چلتا ہوا ۔۔۔ امجد کے گھر پہنچ گیا تو وہ سب لوگ میرا ہی انتظار کر رہے تھے۔۔۔ جیسے ہی میں وہاں پہنچا ۔ مجھے دیکھتے ہی انکل کہنے لگے بہت لیٹ ہو گئے ہو بیٹا۔۔تو میں نے ۔۔ان سے لیٹ آنے کی معذرت کر لی۔۔۔ جسے انہوں نے بے دلی سے قبول کیا اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر آنٹی نے رسمی طور پر مجھے روٹی کا پوچھا ۔۔۔۔۔اور میرے ا نکار پر انکل ٹیکسی لینے کے لیئے باہر نکل گئے۔۔۔ ٹیکسی میں بیٹھ کر ہم پیر ودھائی اڈہ راولپنڈی پہنچے تو اس وقت متعلقہ بس سواریوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی ۔۔۔۔اور جانے کے لیئے بلکل تیار تھی ۔۔۔۔ ۔۔لیکن کنڈکٹر "توڑ" کی سواری کا سن کر لالچ میں آ گیا ۔۔۔اور پھر میرے ساتھ زنانہ سواریوں کو دیکھتے ہوئے اس نے بڑی مشکل سے ہمارے لیئے بس کی چار سیٹیں خالی کروائیں لیکن وہ ایک ساتھ نہیں ملیں بلکہ۔۔۔۔دو آگے یعنی کہ ڈرائیور سے پچھلی سیٹ جہاں پر آنٹی اور ان کی چھوٹی بیٹی مینا بیٹھ گئیں ۔۔ جبکہ مجھے اور مہرالنساء باجی کو بس کی آخری سیٹ یعنی کہ صوفے سے پہلے والی ملی جہاں پر کھڑکی کی طرف مہرالنساء باجی بیٹھ گئیں جبکہ ان کے ساتھ والی سیٹ پر میں برا جمان ہو گیا۔۔ بس جب پنڈی کی حدود سے باہر نکل کر جی ٹی روڈ پر پہنچی تو مہرالنساء باجی نے مجھے مخاطب کیا اور پھر میری طرف جھکتے ہوئے میرے کان میں ایک ایسی بات کہی کہ جسے سن کر میں ششدر رہ گیا۔۔۔۔اور میں اپنی سیٹ سے کم از کم ایک فٹ اوپر اچھلا ۔۔۔۔ انہوں نے بات ہی ایسی کر دی تھی کہ جسے سن کر حیرت سے میرا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔۔۔۔۔۔۔اور ۔۔۔ آنکھیں پھٹنے کے قریب ہو گئیں تھیں۔۔۔۔ وہ اپنے ہونٹوں کو میرے کان کے قریب لا کر کہہ رہی تھیں کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ........................ جاری ہے .........................

  10. #130
    Join Date
    Dec 2008
    Location
    Rawalpindi, Pakistan, Pakistan
    Posts
    5,387
    Rep Power
    2469

    Default

    Quote Originally Posted by Khushi25 View Post

    آپ ایسا نہ کہیں سر جی
    میرے تو بہت بڑی پسندیدہ رائٹر ہیں
    آپ کی کہانیاں مجھے بہت پسند ہیں
    اس کہانی میں بھی سب کچھ بہت اچھے سے جا رہا ہے
    مگر مجھے بہت دکھ ہوا تھا
    پولیس کا تشدد اور آپ کا منہ سے آواز نہ نکلنے دینا
    مجھے بہت رونا آتا ہے
    اتنے تشدد اور مارنے پیٹنے کی باتوں پر
    اس لیے کوئی کمنٹس نہیں کر پا رہی تھی
    پلیز۔۔۔۔ تھوڑا سا ہپی موڈ لے آئیں
    تاکہ اور مزا آئے
    امید ہے آپ نے برا نہیں مانا ہوگا
    .....
    کہانی پسند کرنے کا بہت شکریہ جی

    یقیناً یہ آپ کی اعلیٰ ظرفی ہے
    کہ جوآپ کو مجھ جیسے پھٹیچر قسم کے بندے کی سٹوری
    پنسد آ رہی ہے
    جہاں تک اچھے موڈ کا تعلق ہے تو وہ غالب نے کہا ہے نا کہ
    گیا ہو جب اپنا ہی جیوڑا نکل
    کہاں کی رباعی کہاں کی غزل

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •