Page 1 of 38 1234511 ... LastLast
Results 1 to 10 of 375

Thread: عالیہ شریف بدمعاش

  1. #1
    Join Date
    Nov 2017
    Location
    Home
    Posts
    195
    Thanks
    222
    Thanked 696 Times in 168 Posts
    Time Online
    2 Days 9 Hours 43 Minutes 25 Seconds
    Avg. Time Online
    15 Minutes 28 Seconds
    Rep Power
    61

    Thumbs up عالیہ شریف بدمعاش

    یہ میری اس فورم پے پھلی کھانی ھے۔ کافی عرصے سے اس فورم کا خاموش کاری ھوں۔ میری یے کھانی کافی لمبی ھو گی۔ کافی وقت تک اس کھانی میں کوئی سیسکس نھیں ھو گا۔ جو لوگ صرف سیسکس کی تلاش میں ھیں وہ اس کھانی سے دور رھیں۔ جو لوگ کھانی کا مزا لینا چاھتے ھیں مجھے یقین ھے کے ھمارا سفر خوشگوار رھے گا۔

    روز یونیورسٹی آتی ھو
    دوپٹے سے کیا چھپاتی ھو
    ارے ھم مر گے ھیں کیا
    جو کتابوں سے دباتی ھو
    Last edited by Story-Maker; 13-11-2017 at 09:37 PM.

  2. The Following 15 Users Say Thank You to hardwood For This Useful Post:

    abba (13-11-2017), abkhan_70 (13-11-2017), anjumshahzad (23-11-2017), asadjani4321 (15-12-2017), awais750 (14-11-2017), farhan9090 (15-01-2018), jerryplay100 (22-11-2017), MAMONAKHAN (16-12-2017), mayach (13-11-2017), omar69in (10-12-2017), salman gi (21-11-2017), salm_613 (17-01-2018), Sexeria (17-11-2017), Story-Maker (26-11-2017), suhail502 (14-11-2017)

  3. #2
    Irfan1397's Avatar
    Irfan1397 is offline super moderator
    Join Date
    Sep 2011
    Location
    Sahiwal
    Posts
    7,559
    Thanks
    26,283
    Thanked 38,380 Times in 7,344 Posts
    Time Online
    1 Month 2 Weeks 1 Day 5 Hours 50 Minutes 5 Seconds
    Avg. Time Online
    27 Minutes 38 Seconds
    Rep Power
    3131

    Default

    kahani k intizar rahy ga

  4. The Following 4 Users Say Thank You to Irfan1397 For This Useful Post:

    anjumshahzad (23-11-2017), hardwood (14-11-2017), Sexeria (17-11-2017), suhail502 (14-11-2017)

  5. #3
    farhan403's Avatar
    farhan403 is offline sex ka dewan
    Join Date
    Oct 2015
    Location
    attock
    Posts
    393
    Thanks
    333
    Thanked 568 Times in 264 Posts
    Time Online
    5 Days 5 Hours 4 Minutes 44 Seconds
    Avg. Time Online
    7 Minutes 32 Seconds
    Rep Power
    45

    Default

    Kahai likho yaaar kahi ka intizsr ha and welcome k ap apni phli story share kr rahy ho

  6. The Following 4 Users Say Thank You to farhan403 For This Useful Post:

    anjumshahzad (23-11-2017), hardwood (14-11-2017), Sexeria (17-11-2017), suhail502 (14-11-2017)

  7. #4
    Join Date
    Nov 2017
    Location
    Home
    Posts
    195
    Thanks
    222
    Thanked 696 Times in 168 Posts
    Time Online
    2 Days 9 Hours 43 Minutes 25 Seconds
    Avg. Time Online
    15 Minutes 28 Seconds
    Rep Power
    61

    Default

    1
    بونی ملکہ ء عالیہ
    ستمبر کا مہینہ چل رھا تھا۔ یونیورسٹی کا انٹری ٹیسٹ اپریل میں ھوا تھا۔ انٹری ٹیسٹ میں ھزاروں طلباء و طالبات نے سائيکالوجی کو اپنی پہلی آپشن چنا تھا۔ یونيورسٹی کے سائيکالوجی ڈپارٹمنٹ کا ڈنکا دور دور تک بجتا تھا۔ اسی وجہ سے سائيکالوجی ڈپارٹمنٹ کا میرٹ بہت ھی زیادہ تھا۔ صرف انتہائی ذہین سٹوڈنٹ ہی اس ڈپارٹمنٹ میں آتے تھے۔ یونيورسٹی کے پرانے سٹوڈنٹس جو کے اس یونیورسٹی سے پڑھ چکے تھے ،بڑی بڑی اور انتہائی اہم پوسٹوں پر خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ یونیورسٹی میں جو لوگ اچھی پرفارمنس نہیں دے پاتے تھے یونیورسٹی انھیں پہلے ہی سمسٹر کے بعد فارغ کر دیا کرتی تھی۔ یونیورسٹی کی فیس عام لوگوں کی پہنچ سے بہت دور تھی۔ انٹری ٹیسٹ میں ٹاپ کرنے والے کو یونیورسٹی فل سکالرشپ دیتی تھی۔

    عالیہ کا تعلق ایک متوسط طبقے سے تھا۔ وہ انتہائی ذہین سٹوڈنٹ تھی۔ حاضرجوابی میں کوئی اسکا ثانی نہیں تھا۔ وہ ایک بہت ہی اصول پسند لڑکی تھی۔ اپنے کام سے کام رکھتی تھی اس لیے اس کے زیادہ دوست نہیں تھے۔ اسکا قد چھوٹا تھا۔ کچن میں بھی وہ کیبینٹ تک مشکل تک ہی پہنچ پاتی تھی۔ اسکی کلاس فیلوز مذاق سے اسے بونی کہا کرتی تھیں۔ عالیہ کے بال بڑے اور گھنے تھے۔ وہ برقعہ اور نقاب کیا کرتی تھی اس لیے اس کے بالوں کی خوبصورتی کا کسی کو علم نہیں تھآ۔ عالیہ کے جسم کا سب سے خوبصورت حصہ جو کے عیاں تھا وہ تھیں اسکی نیلی بڑی بڑی آنکھیں۔ لڑکے تو لڑکے اسکی نیلی آنکھوں کی خوبصورتی میں اکثر لڑکیاں بھی کھو جایا کرتی تھیں۔

    لڑکے جب اکثر عالیہ کے بارے میں بات کیا کرتے تھے تو کہا کرتے تھے کہ اسکی آنکھیں اتنی خوبصورت ھیں تو پتا نہیں برقعے کے اندر کیا آئٹم ہوگی۔ عالیہ کسی لڑکے کو بھی خاطر میں نہیں لایا کرتی تھی۔ ایک دفعہ ایک لڑکے نے اس سے فری ہونے کی کوشش کی تھی۔ عالیہ کو اس پر بے حد غصہ آیا تھا اور عالیہ نے اتنی شدت سے اپنے غصے کا اظہار کیا تھا کہ اس کے بعد کسی لڑکے کو عالیہ سے بات کرنے کا حوصلہ نہ ہوا تھا۔ اس کے اسی غصے کی وجہ سے لڑکوں میں اسکا نام ملکہء عالیہ مشہور ہو گیا تھا۔

    عالیہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی۔ اسکے والد ایک پرائیویٹ فرم میں سیکیورٹی گارڈ تھے۔ ان کے گھر کا گزر بسر بڑی مشکل سے ہوتا تھا۔ عالیہ شروع ہی سے گورنمنٹ سکولوں میں پڑھتی آ رھی تھی۔ پورا سال کوئی مسْلہ نہيں ہوتا تھا۔ لیکن جب بھی فائنل پیپر ہوتے تھے تو عالیہ کو ٹینشن ہوتی تھی۔ عالیہ جب پہلی پوزیشن لے کر اگلی کلاس میں جایا کرتی تھی تو اس کے والد کو نئی کتابیں لینے کے لیے قرضہ لینا پڑتا تھا جو کہ اسے بلکل پسند نہ تھا۔

    عالیہ نے میٹرک میں بہت اچھے مارکس لیے تھے۔ اسکے مارکس کو دیکھ کر اسکے والد نے اسے کالج میں زبردستی ایڈمیشن دلوایا تھا۔ وہ آگے پڑھنا نہیں چاہتی تھی لیکن اسکے والد کے سامنے اسکی ایک نہ چلی۔ عالیہ اپنے والد کی کسی بات کو ٹالا نہیں کرتی تھی۔

    عالیہ جب سیکنڈ ائیر میں تھی تو اسکی کلاس میں ایک نئی لڑکی علینہ آئی۔ علینہ عالیہ کی ذہانت سے بے حد متاثر ہوئی۔ علینہ عالیہ سے بات کرنے کا کوئی موقعہ جانے نہ دیتی تھی۔ علینہ ایک بزنس مین کی بیٹی تھی اور خاصے کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ ایک دن علینہ نے عالیہ سے پوچھا کے وہ سیکنڈ ائیر کے بعد کیا کرے گی۔ عالیہ ویسے تو کسی سے کچھ شئیر نہیں کرتی تھی مگر پتہ نہیں کس موڈ میں تھی کے اس نے علینہ کو سچ بتا دیا کے وہ کچھ نہیں کرے گی کیونکہ اسکے والد اسکی ہائیر ایجوکیشن کو سپورٹ نہیں کر سکتے۔

    علینہ اسکی یہ بات سن کر تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہو گئی۔ اسکے بعد اس نے یہ کہا کے یہ بتائو کے تمہاری خواہش کیا ھے۔ عالیہ بولی کے خواہشوں سے کیا ہوتا ہے۔ علینہ بولی بتائو تو سہی یار۔ اس پر عالیہ نے کہا کے اسکی خواہش ہے کے وہ شہر کی بیسٹ یونیورسٹی سے سائیکالوجی میں ماسٹرز کرے لیکن یہ صرف اسکی خواہش ھے۔ علینہ نے عالیہ سے کہا کے اگر وہ چاہے تو وہ اسکی فا ئنینشل سپورٹ کر سکتی ہے۔ یہ سنتے ہی عالیہ کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ وہ غصے سے کانپتی ہوئی کھڑی ہوئی اور کسی کی پرواہ کیے بغیر زور سے بولی مجھے کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کا شوق نہیں ہے۔ آواز سن سب سٹوڈنٹس مڑ کر ان کی طرف دیکھنے لگے۔ علینہ کے لیے عالیہ کا یہ رویہ غیرمتوقع تھا۔ اس سے پہلے کے علینہ کچھ بولتی عالیہ غصے سے چلتے ہوئے کمرے سے نکل گئی۔

    اگلے دن جب عالیہ کالج آئی تو وہ اکیلی ہی کلاس کی طرف جا رہی تھی۔ اس سے پانچ دس قدم کے فاصلے پے علینہ باقی لڑکیوں کے ساتھ اسکے پیچھے آ رہی تھی۔ لڑکے سارے پہلے ہی کلاس میں موجود تھے۔ عالیہ نے جونہی دروازہ کھولا جمال دروازے کی طرف کمر کر کے اور کلاس کی طرف منہ کر کے کھڑا تھا اور اس کے منہ سے الفاظ نکل رہے تھے تم لوگوں نے سنا کہ ملکہء عالیہ کو کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کا شوق نہیں ہے بلکہ ملکہ ء عالیہ کو ٹانگیں پھیلانے کا شوق ہے جمال نے واہیات طریقے سے اپنی ٹانگیں پھیلاتے ہوئے کہا۔ ملکہ ء عالیہ کو ہاتھ پھیلانے سے زیادہ فائدہ ایسے ٹانگیں پھیلانے سے ہوتا ہو گا۔ جمال نے اپنی آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا،،،ویسے ملکہ ء عالیہ کی کالے برقعے کے نیچے کیا گوری چٹی ٹانگیں ہوں گی اور ۔۔۔ چٹاخ ۔۔۔ چٹاخ ۔۔۔ چٹاخ ۔۔۔ جمال کو اپنے گالوں پر تیز درد محسوس ہوا۔

    جمال نے آنکھیں کھولیں تو اسے اپنے سامنے نقاب کے اوپر سے عالیہ کی نیلی آنکھیں دکھائی دیں جن میں سرخی اور پانی اترا ہوا تھا۔ عالیہ قد چھوٹا ہونے کی وجہ سے سر تھوڑا سا اوپر کر کے جمال کی طرف دیکھ رہی تھی۔اس سے پہلے کے جمال کچھ کہتا یا عالیہ کچھ کرتی علینہ آگے بڑہی اور عالیہ کو کینچھتی ہوئی کلاس سے باہر لے گئی۔
    Last edited by Story-Maker; 26-11-2017 at 11:53 AM.

  8. The Following 19 Users Say Thank You to hardwood For This Useful Post:

    abba (14-11-2017), abkhan_70 (14-11-2017), anjumshahzad (23-11-2017), ayeshaali25 (14-01-2018), curves.lover (09-12-2017), farhan403 (14-11-2017), hananehsan (14-11-2017), imran imra (14-11-2017), Irfan1397 (15-11-2017), jerryplay100 (16-11-2017), Lovelymale (14-11-2017), loveshove (14-11-2017), omar69in (10-12-2017), piyaamoon (15-11-2017), Sexeria (17-11-2017), sexeymoon (15-11-2017), Story-Maker (26-11-2017), suhail502 (14-11-2017), teno ki? (14-11-2017)

  9. #5
    Lovelymale's Avatar
    Lovelymale is offline Premium Member
    Join Date
    Aug 2008
    Location
    Islamabad, Pakistan, Pakistan
    Age
    55
    Posts
    2,045
    Thanks
    14,375
    Thanked 7,176 Times in 1,838 Posts
    Time Online
    2 Weeks 3 Days 12 Hours 59 Minutes 58 Seconds
    Avg. Time Online
    10 Minutes 42 Seconds
    Rep Power
    1051

    Default

    Agar Admins iss story ka font bara kar dain to hamain parhnay main asani hogi.

  10. The Following 5 Users Say Thank You to Lovelymale For This Useful Post:

    abkhan_70 (14-11-2017), anjumshahzad (23-11-2017), hardwood (14-11-2017), Sexeria (17-11-2017), suhail502 (14-11-2017)

  11. #6
    teno ki? is offline Premium Member
    Join Date
    Feb 2012
    Posts
    343
    Thanks
    506
    Thanked 575 Times in 255 Posts
    Time Online
    1 Week 3 Days 13 Hours 27 Minutes 13 Seconds
    Avg. Time Online
    6 Minutes 32 Seconds
    Rep Power
    43

    Default

    اچھی سٹوری ہے
    اپڈیٹ جلدی دینا پیارے دوست

  12. The Following 6 Users Say Thank You to teno ki? For This Useful Post:

    abkhan_70 (14-11-2017), anjumshahzad (23-11-2017), farhan403 (14-11-2017), hardwood (14-11-2017), Sexeria (17-11-2017), suhail502 (14-11-2017)

  13. #7
    farhan403's Avatar
    farhan403 is offline sex ka dewan
    Join Date
    Oct 2015
    Location
    attock
    Posts
    393
    Thanks
    333
    Thanked 568 Times in 264 Posts
    Time Online
    5 Days 5 Hours 4 Minutes 44 Seconds
    Avg. Time Online
    7 Minutes 32 Seconds
    Rep Power
    45

    Default

    Good show start to classic lya h update jaldi dia kerna

  14. The Following 4 Users Say Thank You to farhan403 For This Useful Post:

    abkhan_70 (14-11-2017), anjumshahzad (23-11-2017), hardwood (14-11-2017), suhail502 (14-11-2017)

  15. #8
    Lovelymale's Avatar
    Lovelymale is offline Premium Member
    Join Date
    Aug 2008
    Location
    Islamabad, Pakistan, Pakistan
    Age
    55
    Posts
    2,045
    Thanks
    14,375
    Thanked 7,176 Times in 1,838 Posts
    Time Online
    2 Weeks 3 Days 12 Hours 59 Minutes 58 Seconds
    Avg. Time Online
    10 Minutes 42 Seconds
    Rep Power
    1051

    Default

    Kahani ka mozoo kafi acha lag raha hai. Pehli qist boht achi lagi. Updates waqt pe ati rahi to story boht achi chalay gi.

  16. The Following 3 Users Say Thank You to Lovelymale For This Useful Post:

    abba (14-11-2017), anjumshahzad (23-11-2017), suhail502 (14-11-2017)

  17. #9
    hananehsan's Avatar
    hananehsan is offline Premium Member
    Join Date
    Apr 2012
    Location
    Gujranwala
    Age
    28
    Posts
    99
    Thanks
    468
    Thanked 259 Times in 84 Posts
    Time Online
    6 Days 1 Hour 24 Minutes 32 Seconds
    Avg. Time Online
    3 Minutes 52 Seconds
    Rep Power
    17

    Default

    اعلی بہت خوب مزید کا انتظار رہے گا
    Hani

  18. The Following 3 Users Say Thank You to hananehsan For This Useful Post:

    anjumshahzad (23-11-2017), hardwood (14-11-2017), Sexeria (17-11-2017)

  19. #10
    Join Date
    Nov 2017
    Location
    Home
    Posts
    195
    Thanks
    222
    Thanked 696 Times in 168 Posts
    Time Online
    2 Days 9 Hours 43 Minutes 25 Seconds
    Avg. Time Online
    15 Minutes 28 Seconds
    Rep Power
    61

    Default

    قسط نمبر ۲
    کالا تل، پہلا پیار

    علینہ عالیہ کو زبردستی کینچھتے ہوئے باہر لے آئی۔ عالیہ کی نیلی آنکھیں سرخ تھیں اور ان میں پانی بھرا ہوا تھا۔ عالیہ نے غصے سے علینہ کی طرف دیکھا اور کہا کے مجھے چھوڑ دو۔ سارا قصور ہی تمھارا ہے۔ نہ تم وہ کل بات کرتیں اور نہ آج یہ سب دیکھنا پڑتا۔ علینہ اسکی یہ بات سن کر حیران ہوئی لیکن منہ سے کچھ نہیں بولی۔ اس نے عالیہ کا ہاتھ چھوڑا بھی نہیں تھا۔ عالیہ کا جسم ہولے ہولے کانپ رہا تھا۔
    علینہ نے اسے اس حالت میں اکیلے نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ علینہ بولی چلو میرے ساتھ کینٹین چلو کوئی ریفریشمنٹ کرتے ہیں۔ عالیہ نے غصے سے کانپتے ہوئے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی جسے علینہ نے مضبوتی سے پکڑا ہوا تھا۔ علینہ کا اسکا ہاتھ چھوڑنے کا کوئی موڈ نہیں تھا۔ عالیہ غصے سے بولی یہ جو ریفریشمنٹ ہوتی ہے نا یہ امیر لوگوں کے چونچلے ہوتے ہیں۔ میں ناشتہ کر کے آئی ہوں اور ویسے بھی میں کینٹین جانا افورڈ نہیں کر سکتی۔ اب پلیز مجھے اور شرمندہ نہ کرو اور مجھے اکیلا چھوڑ دو۔
    علینہ کو یہ سن کر بہت افسوس ہوا لیکن عالیہ کا کل والے ری ایکشن کی وجہ سے کوئی آفر نہیں کی اور بولی دیکھو عالیہ میں ابھی تمہے اکیلا نہیں چھوڑنے والی۔ کینٹین نہیں جانا تو نا جائو۔ میرے ساتھ لائبریری چلو۔ عالیہ بولی یہ کیا عجیب زبردستی ہے چھوڑو مجھے۔ علینہ بولی ہاں اسے زبردستی ہی سمجھ لو۔ یہ کہہ کر وہ اسے زبردستی لائبریری کی طرف لے کر جانے لگی۔
    جاتے جاتے عالیہ بولنے لگی کے امیر باپ کی بیٹی ہو نا ضدی تو ہو ہی گی۔ تم امیر لوگ بڑے خراب ہوتے ہو۔ سوچتے ہو جو چاہو کر سکتے ہو۔ جمال بھی امیر باپ کا بیٹا ہے پتا نہیں کیا سجھتا ہے اپنے آپ کو۔ تمھے بھی کتنا ناز ہے نا اپنی دولت پے اسی لیے کل مجھے اتنا ذلیل کیا تھا۔ علینہ حیران ضرور ہوئی مگر رکی نہیں اور عالیہ کو لائبریری میں لے آئی۔ اس وقت ساری لائبریری خالی تھی۔ وہ دونوں ٹیبل کے سامنے بغیربازئوں والی کرسیوں پر بیٹھ گئیں۔ عالیہ کا جسم ابھی بھی واضح طورپر کانپ رہا تھا جسے علینہ نے نوٹ کر لیا۔
    علینہ نے عالیہ کے طرف دیکھا اور کہا آئی ایم سوری عالیہ۔ مجھے کل تمھے ہیلپ کرنے کا نہیں کہنا چاہیے تھا۔ عالیہ بولی کیا سوری کرنے سے سب کچھ ختم ہو جائے گا۔ تم امیر لوگوں کے پاس بھی غلطی کر کے آسان حل ہوتا ہے ۔۔۔ سوری ۔۔۔ سوری ہر غلطی کا ازالہ نہیں ہوتی۔ عالیہ کی یہ بات سن کر علینہ کے چہرے پرسنجیدگی چھا گئی۔ علینہ بولی عالیہ تم ایک سمجھدار، عقلمند اورذہین لڑکی ہو۔ اب میں جو باتیں کروں گی انہیں غور سے اور ٹھنڈے دل و دماغ سے سننا۔
    عالیہ غریب ہونا کوئی بری بات نہیں اور کسی کے لیے یہ شرمندگی کا باعث بھی نہیں۔ کسی کی مدد کرنا اسے ذلیل کرنے کے برابر نہیں ہوتا۔ ہر انسان برابر نہیں ہوتا۔ تم ذہین لڑکی ہو۔ اگر تم کسی نالائق سٹوڈنٹ کے ہیلپ کرو تو کیا وہ اسے ذلیل کرنے کے برابر ٰہے؟ انسان کو ہر قسم کے حالات میں ٹھنڈے دماغ سے کام لینا چاہیے۔ اگر کل تمہے میری بات بری لگی تھی تو تم اگر آہستہ سے مجھے بتا دیتی تو بات ہم دونوں تک ہی رہتی اور آج یہ سب کچھ نہ ہوتا۔ سوری میں نے اس لیے کیا کے میں تم سے بات کرنا چاہتی تھی۔ اس طرح سوری کرنا بھی بڑی بات ہوتی ہے۔ اگر تم کسی نالائق دوست کو ہیلپ کی آفر کرو اور وہ اس طرح اوور ری ایکٹ کرے تو کیا تم اس سے سوری کرو گی؟
    عالیہ کے پاس علینہ کی باتوں کا کوئی جواب نہ تھا۔ اسکی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ عالیہ ہچکی لے کر بولی علینہ آئی ایم سوری۔ علینہ نے یہ بات سن کر مذاق سے کہا نہ بابا نہ ۔۔۔ ملکہءعالیہ اور سوری۔ اب شرمندہ تو نہ کرو مجھے۔ مگر عالیہ کے آنسو تھے کے وہ رکنے کا نام ہی نہ لے رہے تھے۔ کسی نے زندگی میں پہلی بار اسے اس انداز میں سمجھایا تھا۔
    علینہ اٹھ کر گئی اور عالیہ کے لیے پانی ڈال کر لائی۔ عالیہ نے ابھی تک نقاب پہنا ہوا تھا۔ عالیہ نے آج تک کبھی کالج میں نقاب نہیں اتارا تھا۔ پانی دیکھ کر عالیہ بولی میں پانی نہیں پیوں گی کیونکہ میں نے آج تک نقاب نہیں اتارا کالج میں۔ علینہ نے اسکی یہ بات سنی اور ہنس کر کہا شکر ہے ملکہ ء عالیہ نے یہ بات آہستہ کہی اور مجھے پانی لانے پے ڈانٹ نہیں دیا۔ اسکی یہ بات سن کر عالیہ کی نہ چاہتے ہوئے بھی ہنسی نکل گئی اور کہا اب میں اتنی بھی بری نہیں ہوں۔
    علینہ نے کہا کے یہ تو ابھی پتا چل جائے گا۔ یہ کہہ کر علینہ نے عالیہ کا منہ اپنی طرف موڑا اور اپنے ہاتھ سےاسکے نقاب کی دائیں سائیڈ والی پن نکال دی۔ پن نکال کر اس نے ٹیبل پر رکھی اور اسکا نقاب ہٹا کر اسکے بائیں کندھے پر رکھ دیا۔ علینہ نے بغیر اسکے چہرے کی طرف دیکھے گلاس اٹھایا اور اسکی طرف بڑھا دیا۔ عالیہ چاہ کر بھی انکار نہ کر سکی۔
    عالیہ نے گلاس علینہ کے ہاتھ سے پکڑا اور جلدی سے پانی پینا شروع کر دیا۔ جلدی سے پینے کی وجہ سے تھوڑا سا پانی عالیہ کے ہونٹوں کی دونوں سائیڈوں سے نکلا اور اسکی ٹھوڑی کے نچھلے حصے کی جانب سفرشروع کر دیا۔ گلاس خالی ہوتے ہی عالیہ نے گلاس کو ٹیبل پر رکھ دیا۔ جونہی گلاس عالیہ کے چہرے کے سامنے سے ہٹا علینہ کی نظر عالیہ کے چہرے پر پڑی۔ علینہ وہ واحد شخص تھی جو کالج میں عالیہ کا چہرا دیکھ رہی تھی۔
    عالیہ کا چہرہ علینہ پر قیامت ڈھا رہا تھا۔ بڑی بڑی نیلی آنکھیں جن میں ابھی بھی ہلکی ہلکی سرخی کے آثار موجود تھے۔ اسکی آنکھوں کے رنگ وہی منظر پیش کر رہے تھے جو موسلا دھار بارش کے بعد ہلکی سی نظرآنے والی قوس ء قزح کے ہوتے ہیں۔ عالیہ کے گال ہلکے سرخ تھے۔ اسکی ناک پتلی، لمبی اور اونچی تھی اور بلکل ایسے لگ رہا تھا جیسے کسی ریتیلے میدان کے بلکل درمیان میں ہوا کی وجہ سے ریت کی لمبی، پتلی اور اونچی سی ڈھیری لگ گئی ہو۔ عالیہ کے گلابی ہونٹ پتلے اور چھوٹے تھے۔ اسکے چہرے پہ آنکھوں کے بعد سب سے نمایاں چیز کالا تل تھا جو کے اسکے اوپر والے ہونٹ کے پاس دائیں گال پہ تھا۔
    ہونٹوں کے قریب یہ کالا تل۔۔۔ اف
    دربارِ حسن کا محافظ ہو جیسے
    ایسا لگ رہا تھا کے عالیہ کا چہرہ حسن کی موسلا دھار بارش برسا رہا ہے اور علینہ کا جسم اس پیاسی زمین کی مانند ہے جو برستی ہوئی ہر بوند کو اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔ بارش کی سپیڈ اتنی تیز تھی کہ زمین پیاسی ہونے کے باوجود سارا پانی جذب نہیں کر پا رہی تھی۔ عالیہ کے حسن کی بارش کا بچا ہوا پانی علینہ کے جسم کی زمین پر ادھرادھر بہہ کر اس کو جل تھل کر رہا تھا۔ علینہ کا پیاسا جسم عالیہ کے حسن کی زوردار بارش سے پیاس بجھا کر سرشار ہو رہا تھا۔ علینہ جسے آج تک کوئی خوبصورت سے خوبصورت لڑکا بھی اٹریکٹ نہ کر سکا تھا عالیہ کے چہرے کی ایک جھلک نے ہی اس کے اندرسونامی برپا کر دیا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کے اسے عالیہ کے ساتھ لو ایٹ فرسٹ سائیٹ ہو چکا ہے۔
    دوسری طرف عالیہ اس بات سے بے خبر تھی کے وہ علینہ کی دنیا میں طوفان برپا کر چکی ہے۔ اس نے علینہ کو اپنی طرف دیکھتے ہوئے دیکھا تو نظریں جھکا کر کہا علینہ تم بہت اچھی ہو۔ وونس اگین آئی ایم سوری۔۔۔ وہ آگے کچھ اور کہنا چاہ ہی رہی تھی کہ علینہ نے بے اختیار ہو کر اسے اپنے گلے سے لگا لیا۔ عالیہ اس کی اس بے اختیاری سے گبھرا گئی مگر کوئی ری ایکشن نہیں دیا۔
    علینہ نے آہستہ سے اپنے دائیں گال کو عالیہ کے دائیں گال کے ساتھ رگڑا۔ علینہ کو ایسا لگا جیسے بجلی کڑکی ہو اور ایک کرنٹ جو اسکے گال سے ہوتا ہوا اسکے پورے جسم سے گزرتا ہوا اسکے پائوں کے انگوٹھے تک پہنچ گیا ہو۔ علینہ کے جسم کو ایک زبردست شاک لگا تھا اور وہ دھیرے دھیرے کانپ رہی تھی۔ اس نے بے اختیار ہو کر اپنے ہونٹ عالیہ کے گال سے رگڑے۔ اپنے ہونٹ اسکے گال سے رگڑتے رگڑتے اسکے ہونٹوں کے قریب لے آئی۔ علینہ یہ سب کچھ بے اختیاری اور نیم بےہوشی کی حالت میں کر رہی تھی۔
    عالیہ کو کبھی کسی نے اس طرح سے نہیں چھوا تھا۔ اس کے لیے اس لمس کا احساس نیا تھا۔ علینہ کے ہونٹ اسکے ہونٹوں سے پہنچنے سے پہلے ہی اسکی آدہی آنکھیں بند ہو چکی تھیں۔ علینہ نے آہستہ آہستہ عالیہ کے ہونٹوں کو کس کرنا شروع کر دیا تھا۔ بے اختیار ہو کر علینہ نے عالیہ کے اوپر والے ہونٹ کو تل کے پاس سے کاٹ لیا۔ درد کا احساس ہوتے ہی عالیہ کی آنکھیں کھل گئیں۔ اس نے دیکھا کہ علینہ کی آنکھیں بند تھیں۔ عالیہ نے دونوں ہاتھ اووپر کر کے علینہ کو پیچھے دھکیلا۔ علینہ نے ایسے عالیہ کو چھوڑا جیسے کوئی کسی بچے سے من پسند کھلونا چھین رہا ہو اور وہ چھوڑنا نہ چاہ رہا ہو۔
    عالیہ نے ہاتھ بڑہا کر اپنی پن اٹھائی اور نقاب کو دائیں سائیڈ کر کے نقاب کر لیا۔ عالیہ نے نیم مدہوش علینہ کی طرف دیکھ کر کہا کے دیکھو مس علینہ میں شور نہیں کر رہی۔ اگر تم یہ چاہتی ہو کے ابھی جو حرکت کی ہے وہ کسی کو پتا نہ چلے تو آئندہ کالج میں مجھ سے بات نہ کرنا۔ میں تمھیں اچھی طرح سے سمجھ گئی ہوں۔ یہ کہہ کر عالیہ لائبریری سے باہر جانے لگی۔ علینہ اسے بے بسی سے جاتا ہوا دیکھ رہی تھی۔
    قابل دید وہ آنکھیں ہیں کہ ان آنکھوں سے
    ہم خود ہی پامال ہوئے اور خود ہی تماشا دیکھا

  20. The Following 16 Users Say Thank You to hardwood For This Useful Post:

    abba (15-11-2017), abkhan_70 (21-11-2017), anjumshahzad (23-11-2017), ayeshaali25 (14-01-2018), hananehsan (15-11-2017), Irfan1397 (15-11-2017), jerryplay100 (16-11-2017), Lovelymale (15-11-2017), MAMONAKHAN (22-12-2017), mayach (15-11-2017), mian007 (06-01-2018), omar69in (10-12-2017), piyaamoon (15-11-2017), rajausman (26-11-2017), Sexeria (17-11-2017), suhail502 (15-11-2017)

Page 1 of 38 1234511 ... LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •