Page 35 of 38 FirstFirst ... 253132333435363738 LastLast
Results 341 to 350 of 373

Thread: عالیہ شریف بدمعاش

  1. #341
    Join Date
    Nov 2017
    Location
    Home
    Posts
    195
    Thanks
    220
    Thanked 696 Times in 168 Posts
    Time Online
    2 Days 9 Hours 43 Minutes 25 Seconds
    Avg. Time Online
    13 Minutes 45 Seconds
    Rep Power
    61

    Default


    قسط نمبر 24
    فلائی اینڈ رائیڈ

    انیلا اور ڈیوڈ بائیک پر ڈورم واپس پہنچ چکے تھے۔ انھوں نے بائیک جا کر پارکنگ میں روکا۔ رات ہو چکی تھی۔ پارکنگ میں اس وقت کوئی نہیں تھا۔

    ڈیوڈ: انیلا میرا دل بھرا نہیں ہے۔ آئی وانٹ مور رائیڈ نائو
    انیلا: پاگل ہو کیا ڈیوڈ؟ یہ پارکنگ ہے کوئی بھی آ سکتا ہے۔
    ڈیوڈ: تو روڈ پر کوئی نہیں تھا کیا؟
    انیلا: ادھر مجھے کوئی نہیں جانتا تھا اور ادھر میں نے کلاسز لینی ہیں۔
    ڈیوڈ: تو پھر روم ميں کر لیتے ہیں۔
    انیلا: تا کہ پورے ہاسٹل کو پتا چل جائے۔
    ڈیوڈ: کسی کو پتا نہیں چلے گا۔

    انیلا نے کوئی جواب نہ دیا۔ ڈیوڈ کو کافی مایوسی ہوئی تھی۔ وہ دونوں بائیک سے اتر آئے اور ڈورم کی طرف بڑھنے لگے۔

    ڈیوڈ: پلیز انیلا
    انیلا: آر یو کریزی
    ڈیوڈ: یس آئی ایم کریزی اینڈ آئی وانا رائیڈ یو
    انیلا: شش شش چپ۔ بس اب،
    ڈیوڈ: پلیز
    انیلا: ڈیوڈ کوئی زبردستی ہے کیا؟
    ڈیوڈ: تم چاہتی ہو کہ زبردستی کروں کیا۔

    اتنے میں وہ ڈورم ریسپشن پر پہنچ گئے۔ انیلا نے کوئی جواب نہ دیا۔ ان دونوں کا ایک ہی ہال تھا۔ وہ دونوں ہال کی طرف بڑھنے لگے۔

    ڈیوڈ: انیلا-----------
    انیلا: چپ۔ اب کچھ نہیں بولنا اور میرے روم میں چلو۔

    ڈیوڈ کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔ وہ دونوں انیلا کے کمرے کی طرف چلنے لگے۔ انیلا نے اپنے کمرے کے دروازے کے پاس رک کر ادھر ادھر دیکھا۔ اسے کوئی بھی نظر نہ آیا۔ اس نے اپنے کمرے کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو گئی۔

    انیلا: کم ان ڈیوڈ--------------

    اور اس کے ساتھ ہی انیلا کی آواز رک گئی۔ انیلا کے روم میں دوسرے بیڈ پر ایک لڑکا بیٹھا تھا اور وہ دروازہ کھلنے پر اوپر دیکھ رہا تھا۔ تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ ڈیوڈ کمرے میں داخل ہو چکا تھا۔

    انیلا: ہ ہا ہائے۔ آئی ایم انیلا۔
    رچرڈٗ: آئی ایم رچرڈ
    انیلا: تم سے مل کر خوشی ہوئی رچرڈ۔ یہ میرا دوست ہے ڈیوڈ۔ ہم ابھی ہی ملے تھے۔ یہ میرا کلاس فیلو بھی ہوگا۔ ابھی میرا روم دیکھنے کے لیے ساتھ ہی آیا ہے۔
    رچرڈ: تم دونوں سے مل کر خوشی ہوئی۔ میں فورنزک کا سٹوڈنٹ ہوں۔ اور تم دونوں؟
    انیلا: ہم جرنلزم کے سٹوڈنٹ ہیں۔
    رچرڈ: او ویری گڈ۔
    انیلا: اچھا رچرڈ میں ذرا ڈیوڈ کا کمرہ دیکھ کر آتی ہوں۔
    رچرڈ: شیور شیور

    انیلا اور ڈیوڈ کمرے سے باہر نکل آئے۔ انیلا نے گھور کر ڈیوڈ کی طرف دیکھا۔ ڈیوڈ نے انیلا کو ایک شیطانی مسکراہٹ دی۔ وہ دونوں اب ڈیوڈ کے کمرے کی طرف جا رہے تھے۔ وہ کچھ نہ بولے تھے۔ انہے چدائی کے لیے جگہ کی تلاش تھی۔

    ڈیوڈ نے اپنے کمرے کا دروازہ کھولا اور کمرے میں داخل ہو گیا۔ انیلا بھی اس کے پیچھے اسکے کمرے میں داخل ہو گئی۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی دونوں حیران ہو کر رک گئے۔ کمرے میں ایک بیڈ پر ایک لڑکی پیٹ کے بل سورہی تھی۔ اس کے بال بیڈ پر بکھرے ہوئے تھے۔ اس کی کمر پر کمبل تھا۔ اسکی گانڈ اور ٹانگوں پر کمبل نہ تھا۔ وہ شلوار قمیض پہنے بے سدھ سو رہی تھی۔

    یہ ڈیوڈ کی روم میٹ علینہ تھی جو کہ آتے ہی تھکن کے مارے سو گئی تھی۔ اس نے اپنے کپڑے بھی تبدیل نہ کیے تھے۔ اس وقت اسکی گانڈ ہوا میں اونچی تھی اور بہت ہی مست لگ رہی تھی۔ ڈیوڈ کا منہ اسکی گانڈ کو دیکھ کر کھلے کا کھلا رہ گیا۔ علینہ کے پائوں سفید اور قدرے چھوٹے چھوٹے تھے۔ ڈیوڈ کا لن انگڑائی لے کر کھڑا ہو چکا تھا۔ انیلا ڈیوڈ کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اس نے ڈیوڈ کو علینہ کی گانڈ کے نظاروں میں گم دیکھ کر اسے کہنی ماری۔
    ڈیوڈ اپنے خیالوں سے باہر نکل آیا اور مڑ کر انیلا کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔

    انیلا: رائیڈ از ناٹ پاسی بل ٹو ڈے۔
    ڈیوڈ: کر لیتے ہیں نا۔ یہ تو سو رہی ہے۔
    انیلا: تم واقعی پاگل ہو۔ یہ نہیں ہو سکتا۔ پھر کبھی سہی۔
    ڈیوڈ کا منہ مایوسی سے لٹک گیا تھا۔ انیلا کمرے سے جانے لگی۔
    ڈیوڈ: پھر کب کریں گے۔
    انیلا: آئی ڈونٹ نو۔

    انیلا دروازہ کھول کر کمرے سے نکل گئی۔ ڈیوڈ نے ایک دفعہ پھر علینہ کی گانڈ کی طرف دیکھا اور دل میں سوچا کہ کیا مست بدن ہے اس لڑکی کا۔ پھر وہ اپنے بیڈ پر جا کر لیٹ گیا اور اپنی روم میٹ کو چودنے کے منصوبے سوچتے ہوئے گہری نیند میں گم ہو گیا۔

    صبح جب ڈیوڈ کی آنکھ کھلی تو اسکی روم میٹ یونیورسٹی کے لیے جا چکی تھی۔ ڈیوڈ تھوڑا سا لیٹ جاگا تھا۔ وہ بھی جلدی جلدی نہا کر تیار ہوا اور یونیورسٹی کی طرف جانے لگا۔
    جب وہ کلاس میں داخل ہوا تو کلاس تقریباً بھری ہوئی تھی۔ اس نے ادھر ادھر نظر دوڑائی۔ اسے ایک طرف انیلا بیٹھی ہوئی نظر آئی۔ انیلا کی ساتھ والی سیٹ خالی تھی۔ ڈیوڈ اس طرف بڑھنے لگا۔ انیلا اسے اپنی طرف آتے ہوئے دیکھ کر تھوڑا سا گھبرا گئی۔ وہ انیلا کے ساتھ جا کر بیٹھ گیا۔ ابھی اس نے انیلا کو ہائے بولا ہی تھا کہ انسٹرکٹر کلاس میں داخل ہو گیا۔ ڈیوڈ بھی مجبوراً خاموش ہو گیا تھا۔

    انسٹرکٹر نے کلاس کو اپنا انٹروڈکشن کروایا۔ پھر وہ جرنلزم کو متعارف کروانے لگا۔ پھر اس نے کہا کہ کلاسز شروع ہونے سے پہلے یونیورسٹی نے آپ لوگوں کے لیے ایک سرپرائز رکھا ہے۔ امید ہے کہ وہ سرپرائز آپ سب لوگوں کو پسند آئے گا۔ یہ سن کر چالیس لوگوں کی پوری کلاس نے تالیاں بجانا شروع کر دیں۔

    انسٹرکٹر نے انھیں بتایا کہ یونیورسٹی نے ان سب کے لیے روچسٹر میں ایک سرپرائز ٹرپ رکھا ہے جس میں سب لوگ پیراگلائیڈنگ بھی کریں گے۔ کلاس کے کافی لوگ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ ان میں سے کافی سارے لوگوں نے پیراگلائیڈنگ نہیں کی تھی۔ ایک سٹوڈنٹ نے کہا کہ سے پیرا گلائیڈنگ نہيں آتی تو وہ کیسے کرے گا۔ ٹیچرنے ان سب سے کہا کہ پیراگلائڈنگ وہ اکیلے نہیں کریں گے۔ ہر ایک سٹوڈنٹ کے ساتھ پیراگلائیڈنگ انسٹرکٹر ہو گا۔
    یہ سن کر سارے سٹوڈنٹس کے ہچکچاہٹ دور ہو گئی۔ ٹیچر نے ان سے کہا کہ وہ لوگ ابھی نکلیں گے اور چالیس منٹ میں اپنی مقررہ لوکیشن پر پہنچ جائیں گے اور وہاں پر پہاڑ، سمندر، ہوا اور پیراگلائیڈنگ بہت ہی زیادہ مزہ دے گی۔ اس کے بعد اس نے سب کو ایک ایک کر کے باہر نکل کر یونیورسٹی کی بس میں بیٹھنے کو کہا۔

    سارے لوگ ایک ایک کر کے باہر نکلنے لگے۔ ڈیوڈ انیلا کے پیچھے ہو گیا۔ وہ اس کے ساتھ بیٹھنا چاہتا تھا۔ انیلا نے اس کے ارادوں کو بھانپ لیا تھا۔ انیلا جونہی بس میں داخل ہوئی اسے ایک لڑکی کے ساتھ سیٹ خالی نظر آئی تو وہ جلدی سے اس کے ساتھ بیٹھ گئی۔ ڈیوڈ منہ بناتا ہوا دوسری سیٹ پر بیٹ گیا۔

    بس روچسٹر کی طرف چل چکی تھی۔ انیلا کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔ اسے ایسا لگا کہ جیسے اسے کوئی گھور کر دیکھ رہا ہو۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو ڈیوڈ اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔ انیلا کو مڑتے دیکھ کر اس نے اپنا نچلا ہونٹ دانتوں میں دبا لیا اور انیلا کو دیکھنے لگا۔ انیلا نے اسے اگنور کیا اور ایک دفعہ پھر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔

    بس ایک اونچے پہاڑ پر جا کر رک گئی۔ سب لوگ بس سے نیچے اتر آئے۔ دھوپ نکلی ہوئی تھی اور تیز ہوا چل رہی تھی۔ پہاڑ کی ایک سائیڈ سے سمندر کا پانی دھوپ میں چمکتا ہوا نظر آ رہا تھا۔ وہ سب اکھٹے ہو گئے تو انھیں پیراگلائیڈنگ کلب کا ایک بندہ لیکچر دینا شروع ہو گیا۔ اس نے ان سب کو بتایا کہ وہ سب لوگ پیراشوٹ پہن کر انسٹرکٹر کے ساتھ پہاڑ سے نیچے جمپ کریں گے اور ہوا میں اڑیں گے۔ اس نے انھیں بتایا کہ یہ انکا زندگی کا انھوکھا تجربہ ہو گا۔

    زیادہ تر سٹوڈنٹس ایکسائیٹڈ ہو رہے تھے اور کچھ ڈر بھی رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ باری باری سب جمپ کریں گے۔ کلب کی طرف سے کہا گیا کے نام کے لفظ کے لحاظ سے سب لوگ لائن بنا لیں۔ انیلا کا نام اے سے شروع ہوتا تھا وہ سب سے پہلے کھڑی تھی۔ انسڑکٹر لائن کے آخرمیں گیا اور بولا کہ ہم ادھر سے شروع کریں گے۔ اس لحاظ سے انیلا کا جمپ کرنے کا آخری نمبر تھا۔

    انیلا بہت زیادہ ایکسائیٹڈ تھی۔ وہ باری باری سب کو دیکھ رہی تھی۔ ہر اسٹرکٹر اپنے سٹوڈنٹ کو پیراشوٹ پہنا کر پہاڑ کی سائیڈ پر جمپ کر رہا تھا۔ بعض لوگ پہاڑ سے نیچے دیکھتے ہی چیخ رہے تھے اور بعض جمپ کرنے کے بعد چیخ رہے تھے۔ ماحول بہت ہی زیادہ ایکسائیٹ منٹ اور شغل والا ہو رہا تھا۔ باری باری انیلا کا نمبر قریب آ رہا تھا۔ انیلا کو ایڈونچرز کا ویسے ہی بہت شوق تھا۔ وہ بہت ہی خوش تھی۔

    اب انیلا کا نمبر تھا۔ سارے سٹوڈنٹ باری باری جمپ کر چکے تھے۔ کلب کا وہ بندہ جس نے سب سے پہلے ہدایات دی تھیں وہ انیلا کی طرف مڑا اور بولا

    ہائے۔ آئی ایم راج۔ اور میں تمہارے ساتھ جمپ کروں گا
    انیلا: آئی ایم انیلا
    راج: یو آر ایشین۔ واو آئی ایم ایشین ٹو
    انیلا: آپ سے مل کر خوشی ہوئی راج
    راج: چلو تمہيں تیار کروں جمپ کے لیے۔

    یہ کہہ کر وہ ایک طرف چل پڑا جہاں پر پیراشوٹ اور سارا سامان پڑا ہوا تھا۔ اس نے پیراشوٹ کو انیلا کے بدن کے ساتھ باندھنا شروع کر دیا تھا۔ اس نے سب سے پہلے انیلا کے کندھے والے سٹریپس کو ٹائیٹ کرنا شروع کیا۔ راج نے جان بوجھ کر انیلا کے مموں کو دبایا۔ اسے انیلا کے ممے کافی نرم لگے۔ راج کو انیلا کی شکل اور اونچی ناک بہت پسند آئی تھی۔ وہ انیلا کے ساتھ انجوائے کرنے کا پلان بنا چکا تھا۔ انیلا اس کے پلان سے بےخبر اسکا ساتھ دے رہی تھی۔

    اس نے انیلا کے کندھوں کے سٹرپس باندھنے اور اسکے بوبز کو دبانے کے بعد سے ٹانگیں کھولنے کا کہا۔ انیلا اپنی ٹانگیں کھول کر کھڑی ہو گئی۔ راج اپنا ایک بازو اسکی ٹانگوں کے درمیان سے نکال کر پیچھے لے گیا۔ اس نے جان بوجھ کر اپنا بازو انیلا کی پھدی سے ٹچ کرنا شروع کر دیا۔ انیلا کی پھدی سے بازی کو ٹچ کرتے کرتے اس نے سٹریپ کو پکڑ کر انیلا کی ٹانگوں کے درمیان سے نکالا اور اسے باندھنے لگا۔


    ایک سٹریپ باندھنے کے بعد اس نے دوبارہ ہاتھ انیلا کی ٹانگوں میں ڈالا اور دوسرا سٹریپ ڈھونڈنے لگا۔ اس دفعہ اس نے جان بوجھ کر زیادہ دیر لگائی اور انیلا کی پھدی سے اپنا بازی ٹچ کرتا رہا۔ انیلا کی پھدی کپڑوں کے باہر سے بھی گرم محسوس ہو رہی تھی۔

    سٹریپ باندھنے کے بعد راج سیدھا کھڑا ہو گیا اور انیلا کے مموں کے درمیان ہلکا سا مکا مار کر بولا کہ یوآر ریڈی ٹو فلائی انیلا۔ اب میں تیار ہوتا ہوں پھر ہم دونوں جمپ کریں گے۔ یہ کہہ کر راج اپنے بدن کے ساتھ پیراشوٹ وغیرہ باندھنے لگا۔ جب وہ بھی تیار ہو گیا تو وہ پہاڑ کے کنارے کی طرف چلنے لگے۔


    پہاڑ کے کنارے سے نیچے دیکھتے ہی انیلا کی ڈر کے مارے بنڈ پھٹ گئی۔ اس نے مڑ کر پیچھے جانے کی کوشش کی۔ راج اس کے پیچھے ہی کھڑا تھا۔ اس نے انیلا کا ارادہ بھانپ لیا تھا۔ اس نے انیلا کو پیچھے سے پکڑ لیا اور اپنا ایک بازو اسکے مموں پر رکھ دیا۔

    راج نے اپنی ٹانگیں موڑیں اور انیلا کو پکڑ کر زوردار جمپ لگا دیا۔ دونوں ہی پہاڑ سے نیچے کی طرف جانے لگے۔ انیلا کے منہ سے بے اختیار چیخ نکل گئی۔ اور وہ ڈر کے مارے چیخنے لگی۔ راج اپنا منہ اس کے کان کے قریب لے آیا۔

    راج: شائوٹ نہیں کرو بےبی
    انیلا: مجھے ڈر لگ رہا ہے۔
    راج: فکر نہیں کرو انیلا تمہیں مرنے نہیں دوں گا۔
    انیلا: پکا نا
    راج: ہاں۔ ابھی تو میں نے دیکھا ہی کیا ہے۔

    انیلا کی آنکھیں بند تھیں۔ راج نے اس کے ہاتھوں میں پیراشوٹ کا کنٹرول تھما دیا اور اسے ہاتھ بیلنس کرنے کو کہا۔ وہ اسکی مدد بھی کر رہا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد انیلا پیراشوٹ کو بیلنس کرنے میں کامیاب ہو گئی۔

    راج: انیلا اب تم نے پیراشوٹ کو سنبھالنا ہے۔ میں چھوڑ رہا ہوں۔
    انیلا: اوکے

    اب انیلا کے دونوں ہاتھ اوپر تھے اور اس نے پیراشوٹ کو تھاما ہوا تھا۔


    راج دونوں ہاتھ گھما کر انیلا کے مموں پر لے آیا۔ اس نے زور سے انیلا کے ممے دبائے اور کہا کہ وہ اپنی آنکھیں کھولے۔ انیلا نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں۔
    راج نے انیلا کو نیچے دیکھنے کو کہا۔ انیلا نے نیچے دیکھا تو اسے سمندر اور پہاڑ نظر آئے۔ تیز دھوپ اور ہوا میں سارا منظر بہت ہی پیارا لگ رہا تھا۔ اچانک راج نے اپنے ہونٹ انیلا کی ننگی گردن پر رکھ دیے۔

    راج: انیلا تمہیں ایڈونچر پسند ہے نا؟
    انیلا: ہاں پسند تو ہے۔
    راج: دیکھو انیلا میں سیدھی سیدھی بات کروں گا۔ مجھے پتا ہے کہ تم چدی چدائی لڑکی ہو۔ کنواری نہیں ہو تم۔ تمہارا چہرا بتاتا ہے۔ آج میں تمہیں ایک آفر دے رہا ہوں۔
    انیلا: کک کک کیا؟
    راج: میں تمہیں اسی طرح اڑتے اڑتے چودنا چاہتا ہوں۔
    انیلا: وہ کک کیسے؟
    راج: میں تمہیں اپنی گود میں بٹھائوں گا۔ سپیڈ کا کنٹرول تمہارے ہاتھ میں ہے۔ اسے کم زیادہ کر کے میرے لن کی رائیڈ کرنا۔
    انیلا: رائیڈنگ
    راج: ہاں۔ فلائنگ کے ساتھ ساتھ رائیڈنگ بھی۔
    انیلا: دن دیہاڑے؟ پورے شہر کو دیکھتے ہوئے؟
    راج:تم شہر کو دیکھ سکتی ہو۔ شہر تمہیں نہیں دیکھ سکتا۔
    انیلا: پکی بات ہے؟
    راج: ہاں
    انیلا: آئی ایم ریڈی ٹو ٹرائی۔

    راج نے پیراشوٹ کی سیٹنگ ميں کوئی چینجنگ کی اور انیلا اسکی گود میں اس کے لن کے اوپر آ لگی۔


    راج نے انیلا کے مموں پر ہاتھ رکھ دیا اور انھیں دبانے لگا۔ وہ اپنے ہونٹوں سے انیلا کی گردن پر کسنگ کر رہا تھا۔

    راج: انیلا ایک بات سچ بتا رہا ہوں؟
    انیلا: وہ کیا؟
    راج: مجھے تم صرف آج چودنے کے لیے چاہیے ہو، میں کوئی رشتہ نہیں بنانے والا۔
    انیلا: ٹھیک ہے راج اپنی اس بات پر قائم رہنا۔
    راج: اوکے میں قائم رہوں گا۔ چلو اپنی ٹانگیں کھولو اور ہوا میں چدائی کا خواب پورا کرتے ہیں۔


    انیلا نے اپنی ٹانگیں کھول لی تھیں۔ اسکی دونوں ٹانگیں راج کی ٹانگوں کی دونوں سائیڈ پر تھیں۔ راج نے اپنے دونوں ہاتھ انیلا کے مموں پر رکھ دیے تھے۔ اس نے اپنے دانتوں سے انیلا کی ننگی گردن کو ہولے ہولے کاٹنا شروع کر دیا تھا۔ وہ دونوں ہاتھوں سے اسکے مموں کو دبا رہا تھا۔

    راج کو انیلا کا مست بدن بہت ہی مزہ دے رہا تھا۔

    راج انیلا کے کان میں: مزہ آ رہا ہے انیلا
    انیلا: راج جب کسی لڑکی سے اسطرح پیار کریں تو اسے مزہ ہی آتا ہے۔
    راج: انیلا میں تم سے پیار نہیں کروں گا۔ میں تمہے ہوا میں چودوں گا۔ میں نے تمہیں پہلے بھی بتایا تھا۔

    انیلا نے کوئی جواب نہ دیا۔ راج نے پھر انیلا کی گردن پر کِس کرنا شروع کر دیا تھا۔ وہ دانت اسکی جلد میں بھی گھسا رہا تھا۔ انیلا کے منہ سے آہیں نکل رہی تھیں۔

    راج: انیلا چدو گی نا مجھ سے
    انیلا: ہہ ہہ ہاں
    راج: چلو پھر تھوڑا سا اوپر ہو کر لن اپنی پھدی ميں لو۔

    انیلا تھوڑی سی اوپر ہوئی۔ راج نے اپنا لن ہاتھ ميں پکڑ لیا۔ انیلا کے دونوں ہاتھ ابھی تک پیراشوٹ کنٹرول پر تھے۔ انیلا نے اپنی پھدی کے سوراخ کو راج کے لن پر رکھا اور آہستہ آہستہ وہ راج کے لن پر بیٹھنے لگی۔ راج کا لن آہستہ آہستہ انیلا کی پھدی کے اندر جانے لگا تھا۔ انیلا کی آنکھیں بند ہو گئیں اور مزے سے اسکا منہ کھل گیا تھا۔


    انیلا کو مزہ آ رہا تھا۔ راج بھی اسکی پھدی کا بھرپور مزہ لے رہا تھا۔ انیلا آہستہ آہستہ لن اندر لے رہی تھی۔ اچانک راج نے اپنے ہاتھ انیلا کے ہاتھوں کے اوپر رکھ دیے۔ اسکے ساتھ ہی پیراشوٹ کو ایک جٹھکا لگا اور راج کا پورا لن انیلا کی پھدی کے اندر گم ہوتا چلا گیا۔

    اب انیلا خود ہی اوپر نیچے ہو کر راج کا لن اپنی پھدی ميں لے رہی تھی۔ انیلا کی پھدی گھیلی ہو رہی تھی۔ وہ پورے روچسٹر کے سامنے چدائی کر رہی تھی مگر کوئی بھی انہیں دیکھ نہیں پا رہا تھا۔ اچانک انیلا کی آنکھیں ہلکی سی کھلیں اور اسے ہوا میں دو پائوں نظر آئے۔ وہ راج کے تھے۔ انیلا کے پائوں سائیڈ پر تھے۔ نظارہ اور مزہ دونوں ہی بہت دلکش تھے۔


    فلائینگ کے ساتھ ساتھ راج انیلا کی پھدی کی چدائی بھی کر رہا تھا۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ انیلا ہی راج کے لن کو اپنی پھدی میں لے رہی تھی۔ راج حرکت نہیں کر پا رہا تھا۔ وہ صرف انیلا کی پھدی کو اپنی لن کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے محسوس کر رہا تھا۔

    انیلا کا اپنے ملک سے باہر دوسرا دن تھا۔ اور دوسرے دن وہ دوسرے بندے کے لن کے اوپر چڑھی ہوئی تھی۔ راج ابھی اسکا بھرپور مزہ لینا چاہتا تھا۔ وہ انیلا کو لے کر ایسی جگہ پر لینڈ کرنے والا تھا جو کہ سب سے اوجھل تھی اور اسکا وہاں انیلا کی خوب چدائی کرنے کا منصوبہ تھا۔

    راج: انیلا اپنی ٹانگیں اسی طرح سیدھی کر لو۔ ہم لینڈ کرنے والے ہیں۔

    انیلا نے راج کا لن پھدی کے اندر ہی رہنے دیا اور اپنی دونوں ٹانگیں سیدھی کر لیں۔ وہ اس بات سے بے خبر تھی کہ لینڈنگ کے بعد اسکی پھدی پر راج دھاوا بولنے والی ہے۔


    راج پیراشوٹ کا کنٹرول سنھبال چکا تھا۔ وہ انیلا کو لے کر ایک ویران نیچ پر لینڈ کرنے والا تھا۔

    راج: انیلا ابھی میرا دل نہیں بھرا۔ آئی وانٹ مور آف یو
    انیلا: پاگل ہو کیا۔ یہاں پہ سب ہوں گے۔
    راج: اتنا پاگل نہیں ہوں۔ ویران بیچ پر لیںڈ کر رہے ہیں۔ اور ویسے سب بھی ہوتے تو میں نے تمہیں چھوڑنا تو نہیں تھا۔

    انیلا کچھ نہ بولی۔ راج نے لینڈنگ کے بعد پیراشوٹ اپنے بدن سے الگ کرنی شروع کر دی۔ اس نے اپنے جسم پر صرف انڈر وئیر رہنے دیا۔ اس نے انیلا کے جسم سے بھی برا اور پینٹی کے علاوہ سب کچھ اتار دیا۔

    انیلا: وائو۔ کتنا خوبصورت بیچ ہے۔

    یہ کہہ کر وہ پانی کے اندر چلی گئی۔ راج بھاگ کر اس کے آگے آیا اور اسے اپنے گلے لگا لیا۔ انیلا اپنی ٹانگیں کھول کر اس سے لپٹ گئی۔ دونوں کے ہونٹ ایک دوسرے کے قریب آئے اور وہ ایک دوسرے کے ہونٹ چوسنے لگے۔


    راج نے اسی طرح کس کرتے کرتے انیلا کو اٹھایا اور اسے اٹھا کر پانی سے باہر لے آیا۔

    راج: بہت موٹی اور بھاری ہو تم تو انیلا
    انیلا: نہیں میں پتلی ہوں۔

    راج نے اپنے دونوں ہاتھ انیلا کی کمرے کے پیچھے کر کے اسے جھکا لیا اور اسکی گردن کے نیچے کس اور بائیٹ کرنے لگا۔


    انیلا بے بسی سے راج کی باہوں میں جھکی ہوئی تھی۔ اسکے بال ہوا میں لٹکے ہوئے تھے۔ انیلا کے دونوں بازو راج کی گردن کے پیچھےتھے۔ راج بھی جھک کر اپنے ہونٹوں سے اسکے بدن کو چھو رہا تھا۔
    اسکے بعد راج نے انیلا کے جسم سے سب کچھ اتار دیا۔ تھوڑی دیر کے بعد دونوں ہی بیچ پر ننگے کھڑے تھے۔ راج نے انیلا کو دھکا دے کر ریت پر گرا دیا اور اپنا لن ہاتھ میں پکڑ کر اسکے سامنے کھڑا ہو گیا۔ انیلا کی نگاہیں راج پر جمی ہوئی تھیں۔

    راج: انیلا آج میں اس نرم نرم ریتے میں تمہاری گرم گرم پھدی لوں گا۔ بولو دو گی؟

    انیلا دونوں ہاتھ ریت پر رکھ کر اوپر ہوتے ہوئے۔

    انیلا: اسطرح مانگو گے تو دینی ہی پڑے گی۔ نہ تو نہیں کر سکتی نا۔ ںا کرنے کا آپشن ہے کیا۔
    راج: نہیں نا کرنے کا کوئی آپشن نہیں ہے۔
    انیلا: تو ٹھیک ہے پھر جو آپشن ہے وہی استعمال کرو۔


    راج: تم جیسی گرم لڑکی کے لیے آپشنز تو ہزار ہیں پر کیا کروں سب تو استعمال نہیں کر سکتا نا۔

    یہ کہہ کر راج انیلا کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔

    راج: میں سے سے آسان آپشن سے شروع کرتا ہوں۔ اپنا منہ کھولو۔

    انیلا اسی طرح ریت میں لیٹے لیٹے اپنا منہ کھول کر راج کی طرف دیکھنے لگی۔ انیلا کی زبان اسکے ہونٹوں کے درمیان تھی۔


    راج نے انیلا کو اپنا لن چوسنے کے لیے دیا۔ انیلا نے خاموشی سے راج کا لن اپنے منہ میں لے لیا۔ راج اپنی گانڈ کو آگے پیچھے کر کے لن اس کے منہ میں اندر باہر کرنے لگا۔ انیلا کی آنکھیں بند ہو رہی تھیں۔
    پھر راج خود ریت پر لیٹ گیا۔ اس نے انیلا کو اپنی ٹانگوں کے درمیان آ کر اپنا لن چوسنے کو کہا۔ انیلا راج کی ٹانگوں کے درمیان گھوڑی بن کر اسکا لن چوسنے لگی۔ اسکی آنکھیں بند تھیں۔

    راج: انیلا میری آنکھوں میں دیکھ کر سک کرو

    انیلا نے اپنی آنکھیں کھول لیں اور راج کی آنکھوں میں دیکھ کر اسکا لن سک کرنے لگی۔ اسکی پھدی پر ہوا کے ٹھنڈے جھونکے پڑ رہے تھے۔


    راج کو انیلا کی سکنگ کا بہت مزہ آ رہا تھا۔ وہ اسکے بال پکڑ کر اس سے اپنا لن سک کروا رہا تھا۔ پھر راج نے انیلا کو مزہ دینے کا فیصلہ کر لیا اور بولا۔

    راج: انیلا اٹھو اور ادھر جھک کر میری طرف کمر کر کے کھڑی ہو جائو۔

    انیلا چٹانوں پر ہاتھ رکھ کر جھک کر کھڑی ہو گئی۔ راج اسکے پیچھے آ کر بیٹھ گیا۔ اس نے اپنے ہاتھ انیلا کی گانڈ کے سائیڈ پر رکھے اور پھر اپنی زبان پیچھے سے انیلا کی پھدی پر رکھ دی۔ مزے کے مارے انیلا کے منہ سے سسکیاں نکلنی شروع ہو گئیں۔ وہ مزے سے انیلا کو جھکا کر اسکی پھدی چاٹنا شروع ہو گیا۔


    اب انیلا بہت ہی گرم ہو چکی تھی۔ اسکے منہ سے مزے سے آہیں اور سسکیاں نکل رہی تھیں۔

    راج: انیلا اب تم نے دوبارہ مجھے مزہ دینا ہے۔

    راج ایک پتھر پر بیٹھ گیا اور انیلا کو اپنا لن چوسنے کا اشارہ کیا۔ انیلا پتھر سے نیچے بیٹھ کر اسکا لن چوسنے لگی۔ انیلا نے ایک ہاتھ سے راج کو ایک ٹانگ اوپر کرنے کو کہا۔
    راج کے ٹانگ اوپر کرتے ہی انیلا نے نے اپنا ایک ہاتھ راج کے ٹٹون پر رکھ دیا۔ تھوڑی دیر تک اسکے ٹٹوں سے کھیلنے کی بعد وہ اپنی ایک انگلی سی اسکی گانڈ کے سوراخ کے ساتھ کھیلنے لگی۔


    اچانک راج کو اپنی گانڈ میں ایک درد کی لہر محسوس ہوئی۔راج کی گانڈ کے سوراخ کے ساتھ کھیلتے کھیلتے انیلا نے اپنی ایک انگلی اسکی گانڈ میں گھسا دی تھی۔

    راج: میری گانڈ سے کھیلتی ہو۔ ابھی بتاتا ہو تمہیں۔

    راج نے انیلا کو اٹھایا اور اسے گھوڑی بننے کو کہا۔ وہ جلدی سے اسکے پیچے آیا اور اپنا لن ایک جٹھکے سے اسکی پھدی میں گھسا دیا۔ پھر وہ اسے دھکے پہ دھکا مار کر چودنے لگا۔


    جب راج کا دل نہ بھرا تو اس نے اپنی ٹانگیں پوری کھول لیں۔ اس نے انیلا کی پھدی پر سوار ہونے کا ہی فیصلہ کر لیا تھا۔ اس نے انیلا کی گانڈ پر ہاتھ رکھا اور اسکی پھدی کو وحشیوں اور جنگلیوں کی طرح چودنے لگا۔

    دھوپ، ہوا، پانی کی آواز اور انیلا اور راج کی آہیں اور سسکیاں بیچ پر ایک عجیب ہی ماحول بنا رہی تھیں۔


    اب راج سے کنٹرول نہیں ہو رہا تھا۔ وہ پیچھے ہوا اور انیلا کو سیدھا لٹا کر اسکی ٹانگوں کی درمیان آ گیا۔ اس نے اپنا لن انیلا کی پھدی پر رکھا اور ایک جٹھکے سے اسکی پھدی میں داخل ہو گیا۔
    وہ دو منٹ انیلا کی پھدی کو اسی طرح چودتا رہا۔ پھر وہ مزے کی تاب نہ لا کر اسکی پھدی کے اندر ہی پانی چھوڑنے لگا۔


    اس زبردست چدائی کے بعد دونوں نے اپنے اپنے کپڑے پہنے اور پیراشوٹ کو فولڈ کر کے پیک کرنے کے بعد سامان لے کر باقی لوگوں کی طرف روانہ ہو گئے۔


    ---
    خان چاچا اور عامر کو کیا سزا ملی؟ کیا جنید کبھی دوبارہ شازی سے مل پائے گا؟
    انیلا اور علینہ کا ٹکرائو کب اور کہاں ہو گا؟
    کیا عالیہ اور جلال کی آپس میں بن پائے گی؟
    ان سب سوالوں کا جواب جاننے کے لیے کہانی پڑھتے رہیے-

  2. The Following 15 Users Say Thank You to hardwood For This Useful Post:

    abba (04-01-2018), abkhan_70 (31-12-2017), anjumshahzad (01-01-2018), farhan9090 (01-01-2018), God Father (01-01-2018), hananehsan (01-01-2018), Irfan1397 (01-01-2018), jerryplay100 (07-01-2018), Lovelymale (01-01-2018), MAMONAKHAN (31-12-2017), piyaamoon (01-01-2018), shubi (09-01-2018), sweetncute55 (31-12-2017), teno ki? (04-01-2018), zeem8187 (03-01-2018)

  3. #342
    Join Date
    Dec 2016
    Location
    آپکے دل میں
    Age
    36
    Posts
    416
    Thanks
    210
    Thanked 782 Times in 334 Posts
    Time Online
    1 Week 2 Days 12 Hours 25 Minutes 52 Seconds
    Avg. Time Online
    23 Minutes 55 Seconds
    Rep Power
    50

    Default

    [QUOTE=hardwood;566227]
    قسط نمبر 24
    فلائی اینڈ رائیڈ

    Hardwood G

    A fuck on the bike ride, a fuck on the para gliding and some fucks on the ground.I guess only Lake/sea is left. How about a fuck deep under the lake? I am keeping my comments reserved till I read some comments from other readers. You know I try to give my comments very honestly and without pampering. Let's see what kind of response you receive from others. Best of luck my lovely sexy hot boy *Smiles*

  4. The Following 5 Users Say Thank You to ShaziAlee For This Useful Post:

    abba (04-01-2018), abkhan_70 (31-12-2017), Fathr of Fun (05-01-2018), suhail502 (01-01-2018), tabassum707 (31-12-2017)

  5. #343
    Irfan1397's Avatar
    Irfan1397 is offline super moderator
    Join Date
    Sep 2011
    Location
    Sahiwal
    Posts
    7,568
    Thanks
    26,336
    Thanked 38,404 Times in 7,351 Posts
    Time Online
    1 Month 2 Weeks 1 Day 9 Hours 49 Minutes 9 Seconds
    Avg. Time Online
    27 Minutes 24 Seconds
    Rep Power
    3132

    Default


    Achi update hai . next update ka wait rahy ga .

  6. The Following 5 Users Say Thank You to Irfan1397 For This Useful Post:

    abba (04-01-2018), abkhan_70 (01-01-2018), anjumshahzad (01-01-2018), ShaziAlee (06-01-2018), suhail502 (01-01-2018)

  7. #344
    saleemc is offline Aam log
    Join Date
    Nov 2008
    Posts
    15
    Thanks
    4
    Thanked 19 Times in 9 Posts
    Time Online
    1 Day 15 Hours 57 Minutes 44 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Minute
    Rep Power
    12

    Default

    agree with you shazi....a fuck deeep down would b romantic

  8. The Following 2 Users Say Thank You to saleemc For This Useful Post:

    abkhan_70 (06-01-2018), ShaziAlee (06-01-2018)

  9. #345
    Fathr of Fun's Avatar
    Fathr of Fun is offline Aam log
    Join Date
    Dec 2017
    Location
    At Soft Places
    Posts
    15
    Thanks
    27
    Thanked 6 Times in 5 Posts
    Time Online
    19 Hours 21 Minutes 3 Seconds
    Avg. Time Online
    5 Minutes 22 Seconds
    Rep Power
    3

    Default

    Story achi ha.
    Adventurous ho gai ha story.
    And me b same yehi idea dena tha jo Shazi Sahiba ne dia , . I think ek yehi adventure reh gya.
    Waiting for more.

  10. The Following 2 Users Say Thank You to Fathr of Fun For This Useful Post:

    abkhan_70 (06-01-2018), ShaziAlee (06-01-2018)

  11. #346
    Join Date
    Dec 2016
    Location
    آپکے دل میں
    Age
    36
    Posts
    416
    Thanks
    210
    Thanked 782 Times in 334 Posts
    Time Online
    1 Week 2 Days 12 Hours 25 Minutes 52 Seconds
    Avg. Time Online
    23 Minutes 55 Seconds
    Rep Power
    50

    Default

    Quote Originally Posted by saleemc View Post
    agree with you shazi....a fuck deeep down would b romantic
    لگتا ہے ہارڈ ووڈ جی کی دلچسپی اس کہانی میں کچھ کم سی ہو گئی ہے . کیوں ہارڈ ووڈ جی ؟ کیا ایسی ہی کچھ بات ہے ؟ جناب کوئی اچھی سی اپ ڈیٹ پوسٹ کریں پلیز آپکی شازی

  12. The Following User Says Thank You to ShaziAlee For This Useful Post:

    abkhan_70 (06-01-2018)

  13. #347
    Join Date
    Dec 2016
    Location
    آپکے دل میں
    Age
    36
    Posts
    416
    Thanks
    210
    Thanked 782 Times in 334 Posts
    Time Online
    1 Week 2 Days 12 Hours 25 Minutes 52 Seconds
    Avg. Time Online
    23 Minutes 55 Seconds
    Rep Power
    50

    Default

    وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے
    جو عشق کو کام سمجھتے تھے
    یا کام سے عاشقی کرتے تھے

    ہم جیتے جی مصروف رہے
    کچھ عشق کیا ، کچھ کام کیا
    کام عشق کے آڑے آتا رہا
    اور عشق سے کام الجھتا رہا

    پھر آخر تنگ آ کر ہم نے
    دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا


    کچھ سمجھ ای جناب ہارڈ ووڈ صاحب؟

    کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

  14. The Following 2 Users Say Thank You to ShaziAlee For This Useful Post:

    farhan9090 (08-01-2018), suhail502 (07-01-2018)

  15. #348
    Irfan1397's Avatar
    Irfan1397 is offline super moderator
    Join Date
    Sep 2011
    Location
    Sahiwal
    Posts
    7,568
    Thanks
    26,336
    Thanked 38,404 Times in 7,351 Posts
    Time Online
    1 Month 2 Weeks 1 Day 9 Hours 49 Minutes 9 Seconds
    Avg. Time Online
    27 Minutes 24 Seconds
    Rep Power
    3132

    Default

    update ka wait hai

  16. The Following 3 Users Say Thank You to Irfan1397 For This Useful Post:

    abba (08-01-2018), ShaziAlee (07-01-2018), suhail502 (07-01-2018)

  17. #349
    jerryplay100's Avatar
    jerryplay100 is offline Premium Member
    Join Date
    Jan 2012
    Posts
    437
    Thanks
    3,095
    Thanked 1,268 Times in 373 Posts
    Time Online
    1 Week 23 Hours 24 Minutes 22 Seconds
    Avg. Time Online
    4 Minutes 50 Seconds
    Rep Power
    81

    Default

    update......

  18. The Following User Says Thank You to jerryplay100 For This Useful Post:

    abba (08-01-2018)

  19. #350
    Lovelymale's Avatar
    Lovelymale is offline Premium Member
    Join Date
    Aug 2008
    Location
    Islamabad, Pakistan, Pakistan
    Age
    55
    Posts
    2,064
    Thanks
    14,471
    Thanked 7,194 Times in 1,849 Posts
    Time Online
    2 Weeks 3 Days 20 Hours 55 Minutes 21 Seconds
    Avg. Time Online
    10 Minutes 47 Seconds
    Rep Power
    1053

    Default

    Waah, hot update. Khas taur pe fizai chudai boht achi lagi.

  20. The Following 2 Users Say Thank You to Lovelymale For This Useful Post:

    abba (08-01-2018), farhan403 (11-01-2018)

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •