Page 3 of 16 FirstFirst 123456713 ... LastLast
Results 21 to 30 of 158

Thread: شباب حیات

  1. #21
    rana arshad is offline Premium Member
    Join Date
    Mar 2016
    Age
    24
    Posts
    87
    Thanks
    1
    Thanked 96 Times in 56 Posts
    Time Online
    3 Days 17 Hours 49 Minutes 46 Seconds
    Avg. Time Online
    7 Minutes 1 Second
    Rep Power
    12

    Default

    great update..next update ka intezar hy

  2. #22
    pakdragon's Avatar
    pakdragon is online now Aam log
    Join Date
    Aug 2015
    Age
    22
    Posts
    28
    Thanks
    0
    Thanked 42 Times in 25 Posts
    Time Online
    1 Hour 47 Seconds
    Avg. Time Online
    3 Seconds
    Rep Power
    115

    Default


    تو ریحانہ بولی علی یہ چدائی مجھے ہمیشہ یاد رہے گی دوبارہ کب او گے اس کے ساتھ ہی ریحانہ نے انکھ ماری علی بولا جب بلاو گی اا جاوں گا اور اپنا نمر دے کر رخصت ہو گیا
    اگلے دن کالج ۔یں ریحانہ کہیں نظر نہیں ائی پتہ چلا اج ان کو بخار ہے اس لئےوہ نہیں آ سکتیں علی نے معمول کے مطابق کلاس لی اور گھر آ کر اپنی نئی طاقت کے بارے میں سوچنے لگا دوسری طرف جہاں علی نے شباب حیات تھوڑی عمر میں حاصل کر لیا وہی اک ایسا انسان بھی تھا جو چار سو سال سے شباب حیات حاصل کرنے کے لیے دن رات اک کیے ہویے ہے جیسے ہی اس کو پتہ چلا کے اک معمولی سے بندے نے شباب حیات حاصل کر لیا ہے تو وہ غصے سے بھڑک اٹھا اور ملکہ حسن سے بدلہ لینے کا سوچا اس کا نام شیوا تھا اور شیوا کالے علم کا بہت بڑا ماہر مانا جاتا تھا اسے پتہ تھا ملکہ حسن سے جنگ مطلب سارے دیوتاؤں سے جنگ ہو گی مگر شیوا اپنی دھن کا پکا تھا اس نے اپنی کالی طاقتوں سے اخری بار ملکہ حسن کو بلانے کی سوچی اسنے اپنے رمل کو تیز کر دیا اچانک ہی ملکہ حسن ائی اور بہت غصے سے شیوا کو اٹھایا
    ملکہ: کیوں بلایا مجھے شیوا تو جانتا ہے جو تو چاہتا ہے وہ کبھی نہیں ہو سکتا اور ویسے بھی شباب حیات جس تک پہنچنا تھا پہنچ گیا ہے
    شیوا: ملکہ تونے یہ اچھا نہیں کیا اس وردان کے پیچھے میں نے اپنی کیا 27 لوگوں کی زندگیاں بھی قربان کر دی مگر آخر میں تو نے مجھے مایوس کر دیا میں یہ کبھی برداشت نہیں کروں گا میں تم سے اس کا بدلہ لوں گا تجھے اپنے نیچے لٹا کر تیری پھدی مار کر تجھے اپنے بچے کی ماں بناوں گا یہ سن کر ملکہ غصے میں کانپنے لگی اس کے چہرے کی لالی اس کی انکھوں میں آ گئی اس نے دایاں ہاتھ شیوا کی ترف کیا تو شوا کے جسم کو آگ لگ گئی اور اس کی چیخیں اس کے درد کا اندازہ کروانے لگیں ملکہ نے بھڑک کر کہا توں مجھ سے مقابلہ کرے گا تیری اتنی مجال توں مجھے چودے گا ہاہاہاہا اس کے ساتھ ہی ملکہ کے دماغ میں اک عجیب سی سوچ ائی اور ملکہ نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا شیوا کا بدن کافی ہد تک جل چکا تھا اور وہ کسی خارشی کتے کی طرح تڑپ رہا تھا ملکہ نے شیوا کو مخاطب کیا اور کہا شیوا کیا تم مجھے چودنا چاہتے ہو
    شیوا ۔ ہاں ملکہ میں اپنی ضد کا پکا ہوں میں وردان حاصل نہیں کر سکا تو کیا ہوا میں تجھ سے کسی بھی حال میں بدلہ لوں گا
    ملکہ۔ مسکرا کر اچھا تو توں مجھ سے ضد لگاے گا ملکہ حسن سے ہاہاہاہاہا اگر تو مجھے چودنا چاہتا ہے تو ابھی اجا میں تیری یہ خواہش ابھی پوری کر دیتی ہوں میں بھی دیکھو شیوا میں کتنا دم ہے
    شیوا ۔ ملکہ یاد رکھ میں کالیا کا داس ہوں اور کالیا نے تجھے زیر کیا تھا یاد ہے یا بھول گئی
    ملکہ غصے سے غضبناک ہو گئی اور اسے پطھلے وقت کی یاد آ گئی
    مگر ملکہ نے غصے کو برداشت کرتے ہوے کہا ہاں یاد ہے کیسے اس نے میرے وشنو کا روپ دھارن کر کے مجھے دھوکا دینے کی کوشش کی تھی مگر وشنو نے مجھے اس سے بچا لیا تھا خیر اس قصے کو چھوڑ اور آجا اپنا اور اپنے گرو کا بدلہ پورا کر لے
    یہ سن کر شیوا نے کچھ پڑھ کر خود پر پھونکا اس کے ساتھ ہی شوا کے سارے زخم ٹھیک ہو گئے اور اگلے لمحے ہی شوا کا لن بڑھنے لگا شیوا کا لن کالا ناگ بن رہا تھا اس کا لن پورا تن کر 8 انچ موٹا اور 2 انچ موٹا ہو گیا ملکہ جانتی تھی یہ اس کے جادو کا کمال ہے جو اس کو اک خاص علم سے حاصل ہوئی تھی
    ملکہ نے شیوا کو بلایا اور پاس انے کی اجازت دی شیوا غرور کے ساتھ اپنے لن کو مسلتا ہوا ملکہ کی جانب بڑھ رہا تھا ملکہ پر سکون کھڑی تھی ملکہ کی نوکرانیا ں بھی اس تماشے کا۔لطف لینے کے لیے بیقرار تھیں شیوا ملکہ کے پاس ایا اور جیسے ہی ملکہ کے جسم کی خوشبو اس کے ناک میں پڑھی شیوا کے دماغ میں گرمی چڑھ گئی اور شیوا کو اک دم سے جھٹکا لگا اور اس کے لن نے اچانک ہی پانی چھوڑ دیا شیوا کو اس کی امید نہیں تھی ملکہ نے مسکرا کر دیکھا اور زور کا قہقہہ لگایا اور بولی
    ملکہ ۔ کیا ہوا شیوا توں تو مجھے چودنا چاہتا تھا اب کیا ہوا نکل گئی گرمی تم تو نامرد نکلے ملکہ کے الفاظ شیوا کی روح پر تیر کی طرح برس رہے تھے ملکہ نے کہا میں تو سمجھی بہت بڑے سورما ہو تم مگر تم تو نکھٹو نکلے تم مجھے چود کر ماں بنانے والے تھے مگر یاد رکھنا جو مرد نہیں ہوتا وہ باپ نہیں بنتا تمیں کیا لگا شباب حیات کوئی طاقت ہے مورکھ انسان یاد رکھنا شباب حیات اک وردان ہے اور وردان نبھانا پڑتا ہے اور ویسے بھی جس نے وہ وردان نبھانا ہوتا ہے اس کو چن لیا جاتا ہے
    شیوا یہ سب خاموشی سے سن رہا تھا ملکہ نے شیوا کو بولا تمیں آخری موقع دے رہی ہو سدھر جا ورنہ انجام بہت برا ہو گا اس کے ساتھ ہی روشنی غائب ہو گئی شیوا نے انکھ اٹھا کر دیکھا تو ملکہ جا چکی تھی شیوا کو اج خود سے نفرت ہو رہی تھی اس کی اتنی بعزتی کبھی نہیں ہوئی اس نے خنجر نکالا اور اپنی کلائی کاٹ کر اپنا خون نکالنا شروع کر دیا
    Last edited by Story-Maker; 24-07-2017 at 11:53 PM.

  3. The Following 2 Users Say Thank You to pakdragon For This Useful Post:

    curves.lover (09-04-2018), Fathr of Fun (05-01-2018)

  4. #23
    Imoimo is offline Aam log
    Join Date
    Nov 2015
    Age
    32
    Posts
    4
    Thanks
    2
    Thanked 0 Times in 0 Posts
    Time Online
    11 Hours 12 Minutes 5 Seconds
    Avg. Time Online
    45 Seconds
    Rep Power
    0

    Default

    zabardust
    maza aa geya

  5. #24
    Imoimo is offline Aam log
    Join Date
    Nov 2015
    Age
    32
    Posts
    4
    Thanks
    2
    Thanked 0 Times in 0 Posts
    Time Online
    11 Hours 12 Minutes 5 Seconds
    Avg. Time Online
    45 Seconds
    Rep Power
    0

    Default

    nice story shandaar

  6. #25
    muzaffar7633 is offline Premium Member
    Join Date
    Jun 2009
    Posts
    95
    Thanks
    3
    Thanked 95 Times in 60 Posts
    Time Online
    1 Week 2 Days 21 Hours 29 Minutes 28 Seconds
    Avg. Time Online
    6 Minutes 11 Seconds
    Rep Power
    19

    Default

    ¨pdate update

  7. #26
    teno ki? is offline Premium Member
    Join Date
    Feb 2012
    Posts
    331
    Thanks
    491
    Thanked 559 Times in 243 Posts
    Time Online
    1 Week 3 Days 7 Hours 35 Minutes 41 Seconds
    Avg. Time Online
    6 Minutes 33 Seconds
    Rep Power
    42

    Default

    بھت زبردست یار
    مزہ آ گیا
    دل تو چاھتا ھے کہ آپ سے ریکوسٹ کروں کہ اپڈیٹ لمبی ھو
    مگر پھر سوچتا ھوں کہ لکھنا بھی تو آسان نھی ھے نا

    بھت شکریہ جناب

  8. #27
    muzaffar7633 is offline Premium Member
    Join Date
    Jun 2009
    Posts
    95
    Thanks
    3
    Thanked 95 Times in 60 Posts
    Time Online
    1 Week 2 Days 21 Hours 29 Minutes 28 Seconds
    Avg. Time Online
    6 Minutes 11 Seconds
    Rep Power
    19

    Default

    45 superub update lambi do taake parhne main maza aaye

  9. #28
    pakdragon's Avatar
    pakdragon is online now Aam log
    Join Date
    Aug 2015
    Age
    22
    Posts
    28
    Thanks
    0
    Thanked 42 Times in 25 Posts
    Time Online
    1 Hour 47 Seconds
    Avg. Time Online
    3 Seconds
    Rep Power
    115

    Default


    اس نے اک ایسا فیصلہ کیا تھا جس سے کا انجام بہت برا ہونے والا تھا اس نے کالی دنیا کے بادشاہ شاہکال کو اپنی جان دینے کا فیصلہ کر لیا تھا اسنے اپنا خون اگ میں ڈالنا شروع کیا اور ساتھ ہی اس نے اونچی آواز میں شاہکال کو بلانا شروع کر دیا اور ساتھ کہا اے کالی طاقتوں کے بادشاہ میں اپنی زندگی تجھ پر قربان کرتا ہوں میری قربانی قبول کر اس کے ساتھ ہی اس کے خون کو آگ نے پکڑ لیا اور اہستہ اہستہ شیوا زمین پر گر گیا اور اس کے ساتھ ہی اس کی انکھیں بند ہو گئی اور وہ دنیا سے بیگانہ ہو گیا
    خون اگ میں جلتا رہا اور اس میں سے کالا دھواں اٹھنے لگا اس دھویں نے اک ہیبت ناک شیطان کی شکل اختیار کرلی اس نے جب دیکھا کے اسے اپنی زندگی دینے والا خود کو موت کے حوالے کر چکا ہے تو اس نے مسکرا کر اس کی کٹی بازو کی طرف اشارہ کیا تو اس کا زخم خودبخود بھر گیا اس نے شیوا خو اواز دی اور شیوا کو ہوش انے لگا شیوا نے جب اپنے سامنے اپنے مالک کو دیکھا تو اس کے سامنے جھکتا گیا اور کہنے لگا دیوا میری زندگی کا مقصد پورا ہو گیا شہکال نے اس سے پوچھا کیا مصیبت ان پڑی جو تجھے اپنی زندگی داو پر لگانا پڑی
    شیوا ۔ دیوا تیرے اس داس کا دنیا میں رہنے کا کوئی مقصد نہیں رہا دیوا اج ملکہ حسن نے میری حیوانی روح کو مجروح کیا ہے اس نے مجھے میری ہی نظروں میں گرا دیا اس نے مجھے نامرد بنا دیا اس لیے مجھے یہ سب کرنا پڑا
    شہکال۔ تو جانتا ہے میں حسن لوک کا دشمن ہوں وشنو نے مجھے وہاں سے زلیل کر کے نکالا تھا
    شیوا ۔ دیوا اسی لیے میں نے تجھے اپنی مدد کے لیے بلایا ہے میں تیرا سچا بھگت ہوں مجھے ملکہ حسن کو زیر کر کے اپنا اپنے گرو کا اور اپکا بدلا لینا ہے
    شہکال۔ یہ سب اتنا آسان نہیں ہے اس کے لیے تجھے اک جان لیوا عمل کرنا ہوگا تجھے عورت کا درد محسوس کرنا ہوگا تھے اپنی گانڈ کے رستے اک بچہ پیدا کرنا ہو گا پھر اس بچے کا دل نکال کر کھانا ہوگا پھر تجھ میں اک ایسی طاقت آ جائے گی جس کے سامنے ملکہ حسن تو کیا وشنو بھی نہیں ٹک سکتا
    شیوا ۔ مگر دیوا یہ کیسے ہو سکتا ہے اک مرد بچہ کیسے جن سکتا ہے
    شہکال۔ اک خاص جادو کے ذریعے یہ ہو سکتا ہے اس کے لیے تجھے میرا شیطانی نطفہ اپنے پیٹ میں داخل کروانا ہو گا وہ بھی گانڈ کے ذریعے سوچ لے اس کام میں تیری جان بھی جا سکتی ہے
    شیوا نے کچھ سوچا اور آخر میں بدلہ لینے کے لیے ہر مشکل سے گزرنے کا فیصلہ کیا
    شیوا ۔ دیوا مجھے تیری ہر شرط منظور ہے
    شہکال۔ ٹھیک ہے شیوا کتے کی طرح ہو جاو مگر یاد رکھنا تیرا سر اس عمل میں زمین سے نہیں ٹکرانا چاھئے اگر ایسا ہوا تو تیری جان چلی جائے گی شیوا نے گھوڑی بن کر اپنی گانڈ پیچھے کو نکالی شہکال نے اک منتر پڑھ کر ہوا میں پھونک ماری تو اک کالے رنگ کا لن نمودار ہو گیا اس کی موٹائی 4 انچ اور لمبائی 12 انچ ہو گی کالے رنگ کا یہ لن کسی گھوڑے کے لن سے ملتا جلتا تھا شہکال نے شیوا کو بولا شیوا تو تیار ہے اس قربانی کے لیے
    شیوا بولا ہاں میں تیار ہوں
    شہکال نے اشارہ کیا اور لن تیزی سے اڑتا ہوا شیوا کی طرف بڑھ گیا اور عین اس کی گانڈ کے سوراخ پر سیٹ ہو گیا اس کے ساتھ ہی غائبی ہاتھوں نے شیوا کو مظبوطی سے تھاما اور اک زوردار جھٹکے سے وہ لن شیوا کی گانڈ پھاڑ کر ادھا اندر داخل ہو گیا شیوا کی آنکھوں میں تارے آ گئے اور شیوا کے منہ سے بھیانک چیخوں کا سلسلہ شروع ہو گیا شیوا نے خود کو چھڑوانے کی کوشش کی مگر ہل بھی نا سکا اس کے ساتھ ہی اک اور زو کا جھٹکا لگا اور پورا لن شیوا کی گانڈ میں داخل ہو گیا شیوا کی گانڈ سے خون کے فوارے نکلنے لگے اور شیوا بیہوش ہونے لگا اس کا سر زمین سے ٹکرانے ہی والا تھا کے شیوا نے خود کو سنبھالا اور سیدھا ہو گیا شیوا کو یوں لگا اس کی گانڈ میں کسی نے مرچی بھر دی ہے وہ زور زور سے چلا رہا تھا یہاں تک کہ اس کی اواز بھی حلق میں اٹک گئی اور شیوا بے اواز رونے لگا پل بھر کو شی5نے سوچا سب چھوڑ کر بھاگ جاے مگر فوران ہی شیوا نے اس سوچ کو نکال دیا شیوا کو ہر دھکا پچھلے دھکے سے زیادہ تکلیف دے رہا تھا اس تکلیف کو شیوا نے پورے تین گھنٹے برداشت کیا اور آخر شہکال کے فارغ ہونے کا وقت آ گیا اس نے اپنی پوری منی شیوا کی گانڈ میں ڈالنا شروع کر دی شیوا کو یوں لگا اس کی گانڈ میں تیزاب ڈالا جارہا ہے اس درد کو وہ زندگی بھر یاد رکھے گا
    اس کے ساتھ ہی وہ جادوئی لن باہر نکلا اور خون اور منی کا ملا جلا فوارا چل پڑا کچھ دیر میں شیوا نے خود کو سنبھالا اور اٹھ کر کھڑا ہو گیا شہکال نے بتایا 21 دن بعد اماواوئس کی رات کو تو اک بچہ پیدا کرے گا تجھے اس کا دل نکال کر کھانا ہوگا اس کے بعد تجھ میں میری تمام شکتیاں آ جائیں گی مگر یاد رکھنا ہر اماواوئس کی رات تو کمزور ہوگا اس رات تو کسی بھی عورت کے نزدیک نہیں جائے گا اگر توں نے ایسا کیا تو ساری شکتی کھو دے گا اورہک
    Last edited by Story-Maker; 24-07-2017 at 11:58 PM.

  10. The Following 2 Users Say Thank You to pakdragon For This Useful Post:

    curves.lover (09-04-2018), Fathr of Fun (05-01-2018)

  11. #29
    teno ki? is offline Premium Member
    Join Date
    Feb 2012
    Posts
    331
    Thanks
    491
    Thanked 559 Times in 243 Posts
    Time Online
    1 Week 3 Days 7 Hours 35 Minutes 41 Seconds
    Avg. Time Online
    6 Minutes 33 Seconds
    Rep Power
    42

    Default

    ھاھاھاھا
    واہ کیا بات ھے
    کیا گانڈ پھاڑ اپڈیٹ دی ھے
    مزہ آ گیا

  12. #30
    Imoimo is offline Aam log
    Join Date
    Nov 2015
    Age
    32
    Posts
    4
    Thanks
    2
    Thanked 0 Times in 0 Posts
    Time Online
    11 Hours 12 Minutes 5 Seconds
    Avg. Time Online
    45 Seconds
    Rep Power
    0

    Default

    nice story

Page 3 of 16 FirstFirst 123456713 ... LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •