Page 1 of 24 1234511 ... LastLast
Results 1 to 10 of 236

Thread: چھوٹو استاد

  1. #1
    dry_flower is offline Aam log
    Join Date
    Mar 2009
    Posts
    24
    Thanks
    2
    Thanked 424 Times in 23 Posts
    Time Online
    10 Hours 37 Minutes 35 Seconds
    Avg. Time Online
    15 Seconds
    Rep Power
    581

    Lightbulb چھوٹو استاد



    یہ میری انٹرنیٹ پر کسی بھی فورم پہ پہلی تحریر ہے اور اردو میں بھی پہلا تجربہ ہے اسلئے کسی بھی لغوی غلطی کی پیشگی معذرت چاہتا ہوں -  ایک بات کی گارنٹی دیتا ہوں کہ یہ خالصتا میری اپنی تحریر ہے میں نے کہیں سے کاپی نہیں کی-


    گرمیوں کی حسین رات اپنے پورے جوبن پر تھی- مدہم مدہم سی  ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا موسم کو بہت رومانوی بنا رہی تھی-لیکن اس سب کا انکو ہوش کہاں تھا انکی نظریں ٹی وی پہ جڑی ہوئی تھی جہاں پاکستان انڈیا کا میچ چل رھا تھا-
    یہ چوھدری اسلم کی حویلی تھی جہاں تقریباً پورا گاؤں ہی موجود تھا اور موجود بھی کیوں نہ ہوتا آج پاکستان انڈیا  کا میچ جو تھا- چوہدری اسلم کے ڈیرے پر آج میچ دیکھنے کا خصوصی انتظام تھا-اسلیے  تقریبا  سب وہی موجود تھے- چوہدری اسلم خود بھی کرکٹ کا دلدادہ تھا اسلیے جب بھی میچ ھوتا وہ اپنی حویلی میں  گاؤں    والوں کیلئے خصوصی انتظام کرتا-  حویلی کے وسیع صحن میں گاؤں کے سب مرد بی بیٹھے ہوے تھے اور گاؤں کی عورتیں حویلی کی دوسری منزل سے میچ دیکھ رہی تھیں  تمام مرد حضرات کی انکی طرف پشت تھی-

    میں یعنی چوہدری شہزاد احمد سب آگے  بیٹھ کر میچ دیکھ رہا تھا - میرے علاوہ پورے گاؤں میں کسی کی ہمت نہیں تھی کہ یوں میری طرح آگے بیٹھ کر میچ دیکھے- اسکی وجہ یہ نہیں کہ میں کوئی بہت بااثر شخصیت ہوں بلکہ اسکی وجہ میرا چھوٹا قد تھا- سترہ سال کا ہونے کے باوجود میرا قد صرف ساڑھے چار فٹ ہے- چھوٹے  قد کی وجہ سے میں کسی کے دیکھنے  میں خلل نہیں پیدا ہورہاتھا اسلیے میرے آگے بیٹھنے پہ کسی کو اعتراض نہیں تھا-
    پاکستان میچ جیت گیا تھا اسلئے سب کا موڈ خوشگوار تھا اور سب خوشگوار موڈ کے ساتھ اپنے اپنے گھروں کو لوٹنے لگے - میں حسب سابق والد صاحب کے حکم کے مطابق کرسیاں اندر رکھنے لگا-تمام کرسیاں اور چارپائیوں کو اندر رکھ کر میں بھی گھر کی طرف چل دیا -
    یہاں میں اپنا تعارف کرا دوں میں چوہدری شہزاد احمد عمر سولہ سال گوجر خان کے ایک نواحی پنڈ کا رہنے والا ہوں- ہمارے گھر میں پانچ افراد ہیں میں امی ابو دو بھائی اور ایک بھابی- میرے بڑے بھائی، اشتیاق کی شادی چاچے کے گھر اس کی پسند سے ہوئی ہے- دوسرا نمبرفدا کا ہے اس کی عمر باہیس سال ہے اس کا کام صرف گاؤں میں سیاست کرنا، کرکٹ کھیلنا اور مجھ سے بے تحاشا پیار کرنا ہے- میرے والد محترم یعنی چوہدری فضل داد صاحب زمینداری کرتے ہیں- ہماری آمدن کا ذریعہ فصل اور مویشی ہیں- اشتیاق بھائی کار مکینک ہیں جو بمشکل سے اپنا اور اپنی بیگم کا خرچ ہی اٹھا پاتے ہیں- ہمارے جیسے گھرانے کو عام الفاظ میں  معاشرے میں سفید پوش گھرانے کا نام دیا جاتا ہے جن کے لئے عزت ہی سب کچھ ہوتی ہے روکھا سوکھا کھا لیتے ہیں لیکن اپنی مالی حالت کسی پہ ظاہر نہیں ہونے دیتے اور نہ ہی کسی کی مدد کو قبول کرتے ہیں اسی وجہ سے ہمارے ابا کی پورے گاؤں میں غزت تھی - اب واپس آتے ہیں کہانی کی طرف -
    میں اپنے خیالوں میں مگن اور دل ہی دل میں پاکستانی ٹیم کو داد دیتا ہوا گھر کی طرف جا رہا تھا جب اچانک اپنی گلی کا موڑ مڑتے ہی مجھے کسی نے سرگوشی سے پکارا... شادے ..... او شادے... ایک لمحے کیلئے تو میں ڈر گیا... او میں واں فیدو(  فدا بھائی ).. بھائی کی آواز سن کر میری جان میں جان آئی.. بھائی بولا فوراً میرے پیچھ آؤ - میں بنا سوال کیے اندھیرے  میں ان کے پیچھے چل پڑا - یہ میری عادت میں بہت کم بولتا اور سوال کرتا تھا- بھائی مجھے لیکر گاؤں کے شروع میں  شیرو چاچا کے واحد مکان کے پاس آہ گیا- مجھے سرگوشی سے بولا میں شیرو چاچا کے مکان کے پیچھے جا رہا ہوں اگر کوئی آیا تو مجھے مطلع کرنا-
    مجھے پتہ تھا بھائی مکان کے پیچھے چاچے شیرو کی بیٹی عفت سے ملنے گیا ہے- پاہ فیدو انتہائی شوقین مزاج بندہ ہے اور لڑکیوں کے معاملے میں تو وہ گاؤں پورے میں مشہور تھا جو بچی کسی کے ساتھ نہ سیٹ ہو رہی ہو پاہ فیدو چیلنج کر کے پھنساتا تھا- گرمیوں کی راتیں گاؤں میں چوری کی دو تین وارداتوں کے بعد گاؤں میں پہرہ لگا دیا گیا تھا اسلئے بھاہ کا خیال تھا کہیں کوئی پہرے والا نہ آجائے اسلئے مجھے اپنے پہرے کیلئے کھڑا کر لیا- میرا ایک دو بار دل کیا جا کر دیکھوں کہ وہ دونوں کر کیا رہے ہیں لیکن ہمت نہ پڑی- پاہ فیدو تقریباً آدھے گھنٹے بعد واپس آیا اور میں خاموشی سے اس کے پیچھے چل پڑا- میں اور پاہ فیدو چھت پر اپنی اپنی چارپائی پر لیٹ گئے -  سونے سے پہلے باہ نے مجھے ایک بار شکریہ چھوٹو استاد کہا اور پھر ساتھ ہی چند منٹ بعد اس کے خراٹے گونجنے لگے جبکہ میری آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی- سیکس کے معاملے میں میں بالکل نا آشنا تھا اور تو اور مجھے اس کا کبھی خیال بھی نہ آیا شاید اس کی وجہ مجھے چھوٹا سمجھنا تھا جس وجہ میں ذہنی طور پر بھی بچہ ہی تھا-اسکی ایک اور وجہ میرے دوست بھی تھے-میں کلاس میں سب سے لاہق تھا اور میرے دوست بھی لاہق سٹوڈنٹ تھےجو اس موضوع پر بات نہیں کرتے تھے اور میری طرح ناآشنا تھے-لیکن آج میرے ذہن میں میں عفت کا سراپا گھوم رہا تھا جو مجھے بےچین کر رہا تھا- میرے ذہن میں عفت کا گورا چٹا سراپا گھوم رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ بھائی نے  چھاتیاں ننگی کیسی دکھتی ہوگی- میں سوچ رہا تھا بھائی کی جگہ میں ہوتا تو کتنا مزہ آتا - میں اس طرح کی باتیں ذہہن میں سوچتا جا رہا تھا اور چادر کے اندر لن کو  مسل رہا تھا- لن کو مسلنا غیر شعوری عمل تھا مجھے اس وقت احساس ہوا جب مجھے جھٹکے لگنا  شروع ہوئے اور منی خارج ہوہئ - یہ میری زندگی کی پہلی مٹھ تھی جس نے مجھے نئی لذت سے روشناس کرایا -
    ( جاری ہے)
    Last edited by faisal141; 20-04-2016 at 02:47 PM.

  2. The Following 32 Users Say Thank You to dry_flower For This Useful Post:

    2bluebirds (21-04-2016), abba (27-04-2016), abkhan_70 (20-04-2016), Admin (07-07-2016), aloneboy86 (21-04-2016), asiminf (20-04-2016), darkhorse (21-04-2016), ehaq14 (20-04-2016), faisal141 (20-04-2016), farhan9090 (08-08-2016), hotjani (27-07-2016), imran imra (20-04-2016), Irfan1397 (20-04-2016), janamjee (22-04-2016), kamran2015 (23-04-2016), Khushi25 (22-04-2016), ksbutt (22-04-2016), Lovelymale (20-04-2016), maani_286 (21-04-2016), mbilal_1 (21-04-2016), mm.khan (20-04-2016), munda_lahori (20-04-2016), musarat (20-04-2016), nadeem4u (20-04-2016), omar69in (08-07-2016), piyaamoon (21-04-2016), ruldguld123 (22-04-2016), shinchan (12-05-2016), Story Teller (27-05-2016), sumt_71 (20-04-2016), youngheart (24-04-2016), ZEESHAN001 (22-06-2016)

  3. #2
    Irfan1397's Avatar
    Irfan1397 is offline super moderator
    Join Date
    Sep 2011
    Location
    Sahiwal
    Posts
    7,573
    Thanks
    26,356
    Thanked 38,412 Times in 7,356 Posts
    Time Online
    1 Month 2 Weeks 1 Day 16 Hours 11 Minutes 51 Seconds
    Avg. Time Online
    27 Minutes 16 Seconds
    Rep Power
    3133

    Default

    very good start . Update ka wait rahy ga.

  4. The Following 3 Users Say Thank You to Irfan1397 For This Useful Post:

    abba (27-04-2016), hot_irfan (22-04-2016), ruldguld123 (22-04-2016)

  5. #3
    munda_lahori's Avatar
    munda_lahori is offline Premium Member
    Join Date
    Jan 2014
    Posts
    199
    Thanks
    614
    Thanked 679 Times in 194 Posts
    Time Online
    3 Days 2 Hours 8 Minutes 19 Seconds
    Avg. Time Online
    2 Minutes 39 Seconds
    Rep Power
    76

    Default

    Aap k likhnay ka andaz buhat achha hai agay ja kar maza aaiy ga kahani main kuchh hisa missing hai

  6. The Following 3 Users Say Thank You to munda_lahori For This Useful Post:

    abba (27-04-2016), hot_irfan (22-04-2016), ruldguld123 (22-04-2016)

  7. #4
    Lovelymale's Avatar
    Lovelymale is offline Premium Member
    Join Date
    Aug 2008
    Location
    Islamabad, Pakistan, Pakistan
    Age
    55
    Posts
    2,072
    Thanks
    14,516
    Thanked 7,200 Times in 1,852 Posts
    Time Online
    2 Weeks 4 Days 1 Hour 47 Minutes 12 Seconds
    Avg. Time Online
    10 Minutes 47 Seconds
    Rep Power
    1054

    Default

    Aghaaz boht acha laga hai. Lagta hai kahani mazaydar hogi agar updates time pe aati rahi.

  8. The Following 3 Users Say Thank You to Lovelymale For This Useful Post:

    abba (27-04-2016), hot_irfan (22-04-2016), ruldguld123 (22-04-2016)

  9. #5
    asiminf is offline Ambarsariya
    Join Date
    May 2009
    Location
    LAHORE
    Posts
    5,423
    Thanks
    44,538
    Thanked 16,705 Times in 4,583 Posts
    Time Online
    3 Weeks 3 Days 18 Hours 56 Minutes 15 Seconds
    Avg. Time Online
    14 Minutes 48 Seconds
    Rep Power
    0

    Default

    واہ چھوٹو استاد کہانی تو کمال کی لگ رہی ہے ابتداء اچھی ہے بس جلدی سے اپڈیٹ کر دینا دوست

  10. The Following 2 Users Say Thank You to asiminf For This Useful Post:

    abba (27-04-2016), ruldguld123 (22-04-2016)

  11. #6
    ehaq14 is offline Premium Member
    Join Date
    Apr 2016
    Age
    20
    Posts
    71
    Thanks
    65
    Thanked 92 Times in 52 Posts
    Time Online
    2 Days 58 Minutes 20 Seconds
    Avg. Time Online
    3 Minutes 23 Seconds
    Rep Power
    22

    Default

    Start to boht acha hai . Update jldee krty rehna

  12. The Following 2 Users Say Thank You to ehaq14 For This Useful Post:

    abba (27-04-2016), ruldguld123 (22-04-2016)

  13. #7
    mazhar111 is offline Premium Member
    Join Date
    Jul 2009
    Posts
    147
    Thanks
    77
    Thanked 295 Times in 115 Posts
    Time Online
    1 Day 23 Hours 45 Minutes 45 Seconds
    Avg. Time Online
    1 Minute 11 Seconds
    Rep Power
    25

    Default

    Nice start and sexy sexy kahani likna janab

  14. The Following 3 Users Say Thank You to mazhar111 For This Useful Post:

    abba (27-04-2016), hot_irfan (22-04-2016), ruldguld123 (22-04-2016)

  15. #8
    dry_flower is offline Aam log
    Join Date
    Mar 2009
    Posts
    24
    Thanks
    2
    Thanked 424 Times in 23 Posts
    Time Online
    10 Hours 37 Minutes 35 Seconds
    Avg. Time Online
    15 Seconds
    Rep Power
    581

    Default

    صبح سورج کی کرنوں نے جب آنکھ کھولی تو میں نے چور چور نظروں سے بھا فیدوں کی چارپائی کی طرف دیکھا تو وہ حسب سابق اوندھے منہ سویا ہوا تھا یہ بھائی کی عادت تھی کہ وہ اوندھے منہ سوتا تھا تا کہ صبح سورج کی کرنیں نیند میں خلل پیدا نہ کریں - میرے دل میں چور تھا اور رات کو جو کچھ میں نے کیا اس پر خود کو مجرم تصور کر رہا تھا لیکن یہ تصور بھی چند لمحوں کا ثابت ہوا جیسے ہی واش روم میں تنہائی میسر آئی میں نے زندگی میں پہلی بار ایک الگ زاویے سے اپنے لن کا مشاہدہ کرنا شروع کر دیا- اس کو ٹٹولتے ٹٹولتے ایک بار پھر اس نے جان پکڑنا شروع کر دی اور میرے خیالات میں ایک بار پھر عفت کا سراپا گھومنے لگا اور میں اپنے ذہہن میں اس کا ننگا سراپا بنانے لگا- میری آنکھیں بند تھی اور پشت دیوار کے ساتھ تھی اور تصور میں عفت کا ہوش ربا سراپا تھا- یہ عجیب بات تھی کہ میرے تصورات صرف عفت کے چہرے اور چھاتی تک ہی محدود تھے- جانے کتنی ہی دیر میں مختلف چھاتیوں کے خاکے ذہہن میں بنا کر ان کو عفت کی چھاتیاں تصور کرتا رہا مجھے احساس تب ہوا جب میرے لن نے رات کی طرح جھٹکے کھانے شروع کر دیے اور منی خارج کر دی فرق صرف اتنا تھا کہ اس بار تجربے کی بنیاد پر میں بے ساری منی ہاتھ میں موصول کی اور سنک میں بہا دی- جب دماغ سے منی اتری تو چوری والی فیلنگ واپس آہ گئی - میں ڈھیلے قدموں کے ساتھ اندر گیا اور سکول کی تیاری کر کے چولہے کے پاس بیٹھ گیا جہاں اماں ناشتہ بنا رہی تھی- میں جیسے ہی بیٹھا اماں نے مجھے عجیب نظروں سے دیکھا - میرا رنگ فق ہو گیا اور مجھے لگا کہ میری چوری پکڑی گئی ہے اتنے میں اماں کی آواز میری سماعت سے ٹکرائی... شہزاد پتر تیری طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟ ( ایک اماں ہی تو تھی جو مجھے اصلی نام سے پکارتی تھیں باقی یا تو مجھے چھوٹو استاد یا پھر شادہ کہتے تھے- جبکہ ابا مجھے شہزادہ یا شیر پتر کہتے تھے- میرے ابا کی مجھ سے بہت امیدیں تھیں انہیں لگتا میں پڑھ لکھ کر ان کا نام روشن کروں گا-) میں نے دھیمے سے کہا ٹھیک ہوں اماں... مینوں دس ناں میرے لال کی ہویا کسے نے کج کیاں میرے چن نوں؟... ناں اماں میں ٹھیک آں میں نے پھر کہا؟ تے فیر پتر آج مینوں سلام کیوں نہیں کیتا نا ہی ابے نو جا کے دودھ دا گلاس دتا.... اماں کی بات سن کر مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا... میری شروع سے ہی روٹین تھی میں صبح اٹھ کر اماں کو سلام کرتا اور پھر فریج میں سے ٹھنڈے دودھ کا گلاس بھر کر ابا جی کو پیش کرتا-
    اماں یاد نہیں رہا میں شرمندگی سے بولا اب میں ان کو کیا بتاتا کہ عفت کے سراپے نے سب کچھ بھلا دیا ہے- چل پتر کوئی غل نیں راتی لیٹ جے کھر آیا آیں- میں اماں کے پیار پہ بااختیار مسکرا دیا جو خود ہی میرے حق میں اپنے آپ کو دلیل دے رہی تھی-
    گھر سے بستہ اٹھا کر میں اجمل کے گھر کی طرف چل پڑا- یہ میری روز کی روٹین تھی میں اور اجمل اکٹھے سکول جاتے تھے- ہمارے گاؤں میں سکول صرف پرائمری تک تھا اسلئے ہمیں دوسرے گاؤں جانا پڑتا تھا- حسب سابق آج بھی اجو( اجمل) آج سکول میں ہونے والے ٹیسٹ کو ڈسکس کر رہا تھا لیکن میری سوچ تو کہیں اور ہی تھی- جیسے ہی ہم عفت کے گھر کے قریب پہنچے تو وہ مجھے دور سے کھڑی نظر آئی- وہ اپنی ویگن کا انتظار کر رہی تھی وہ شہر میں ایک معروف سکول میں استانی تھی- میں قریب پہنچا تو اس نے بنا کچھ کہے حسب سابق مسکرا کر مجھے دیکھا لیکن آج جواب میں اس کو میں مسکرانا بھول گیا- میں اس کے سراپے کا جاہزہ لینے لگا- سرخ قمیض اور کالی شلوار میں وہ انتہائی حسین لگ رہے تھے- میں اس کے ابھاروں کا جاہزہ لینے لگا جو دوپٹے میں ڈھانپے ہونے کے باوجود واضح نظر آہ رہے تھے اور کسی شوقین کو لبھانے کے لئے کافی تھے- میں ابھی چند قدم دور ہی تھا جب اس کی ویگن آہ گئی- وہ تیزی سے چلتی ہوئی اپنی ویگن کی طرف بڑھی اسی لمحے میری نظر اس کے کولہوں پہ پر گئی جو کافی ابھرے ہوئے تھے اور جب وہ چل رہی تھی تو وہ انتہائی دلکش انداز میں ہل رہے تھے- جب وہ چلی گئی ویگن میں بیٹھ کر تو مجھے محسوس میرا لن اکڑ رہا ہے پہلے تو مجھے لگا کہ شاید چھوٹا پیشاب آیا ہے لیکن بعد میں احساس ہو گیا کہ یہ عفت کو دیکھنے کے بعد اکڑا ہے- یہ میری زندگی کا پہلا موقع تھا کہ میرا لن کسی لڑکی کو دیکھ کر اکڑا تھا- انسان کی زندگی میں جو واقعات پہلی بار رونما ہوتے ہیں ان کو وہ کبھی نہیں بھولتا- میری آنکھوں میں بھی وہ منظر آج بھی تازہ ہے-
    زندگی معمول کے مطابق گزرتی رہی البتہ میری مٹھ مارنے کی عادت پختہ ہوگئی - شروع مجھے پیشیمانی ہوئی اور میں نے ترک کرنے کی کوشش کی لیکن آہستہ آہستہ یہ احساس بھی ختم ہو گیا- اب تو جس دن بھا فیدو تاخیر سے آتا اس رات دو بار مٹھ مارتا یہ سوچ سوچ کر کہ بھا فیدو عفت کی لے رہا ہو گا- مزے کے بات یہ ہے کہ مٹھ مارنے کے دوران تصور ہمیشہ عفت کا ہی کیا ا

    میں نے نویں کے امتخانات میں شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے پورے ضلع میں ٹاپ کیا- ہمارے گھر میں خوشی کا سماں تھا - جب ابے نے میری تصویر اخبار میں دیکھی تو بااختیار مجھ سے لپٹ کر رو پڑا.. میں نے کہا ابا رو تو مت تو ابا مجھے بھینچ کے بولے.... اوہ کملیا ایں خوشی دے اتھرو نے تو اج میری پگ دی شان ودا دتی ایں-بھا فیدو شہر جا کر ڈھیر ساری مٹھائی لے آیا.. ہمارے گھر لوگ مبارک باد دینے کے لیے جو لوگ آتے تو ہم انکی مٹھائی کے ساتھ تواضع کرتے - میری اماں نے بھی آج نیا سوٹ پہنا ہوا تھا - ہماری والدہ محترمہ انتہائی کفایت شعار تھیں وہ عید جیسے موقع پر بھی ہمارے کپڑے پورے کرتے کرتے اپنے بھول جاتی تھیں- جو بھی آج مبارک دینے آہ رہا ہوتا اماں اسکی خوب تواضع کرتی اور میرے قصیدے انھیں سناتی - اس سے پہلے میں نے اپنی والدہ کو اتنا خوش کبھی نہیں دیکھا تھا-
    شام کو عفت اور اس کی ماں ہمارے گھر آہیں- ان کو گھر میں داخل ہوتے ہوئے دیکھتے ساتھ ہی میرا سر فخر سے بلند ہو گیا کہ یہ آج میری وجہ سے ہمارے گھر آئی ہے یہ ایک عجیب احساس تھا جس کو نہ ہی کوئی نام دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی بیان کیا جا سکتا ہے- عفت نے آتے ساتھ ہی مجھے انتہائی محبت سے گلے لگا لیا- آج مجھے مبارک دیتے ہوئے کافی عورتوں نے گلے لگایا تھا لیکن جو فیلنگ مجھے عفت کے گلے لگانے سے آئی وہ باقیوں سے نہیں آئی - جس کے نام کی میں پچھلے چند ماہ سے مٹھ ما رہا تھا وہ آج میری بانہوں میں تھی- میرے دائیں طرف تھوڑے ہی دور ابا بیٹھا حقے کے کش لگا رہا تھا دوسری طرف اماں اور عفت کی ماں کھڑی تھی- عفت کی ماں عفت کی ہاں میں ہاں ملا رہی تھی اور اماں کا چہرہ عفت کی بات سن کر خوشی سے گلنار ہو رہا تھا- عفت کہہ رہی تھی... چھوٹو آج تم نے پورے گاؤں کا نام روشن کر دیا ہے سب گاؤں والو کو تم پہ فخر ہے.... لیکن میں یہ سب کب سن رہا تھا مجھے تو اس کے بدن سے نکلنے والی مہک مدہوش کر رہی تھی... میرا قد چھوٹا ہونے کی وجہ سے وہ ذرا جھک کے مجھے گلے ملی تھی اس کے باوجود میرا سر اس کے کندھے سے ذرا نیچے تھا جس کی وجہ سے میرا چہرہ کوئی نہیں دیکھ سکتا تھا- میں نے محسوس کیا کہ میرا لن اکڑنا شروع ہو گیا ہے یہ پہلا موقع تھا جب میرا لن کسی کے لمس پاہ کر اکڑنا شروع ہو گیا تھا- میرا دل کیا کہ اپنے سر کو تھوڑا سا نیچھے کر کے اس کے ممے کو محسوس کروں لیکن میرا خوف مجھ پر حاوی ہو گیا اور میں نے ایسا نہیں کیا... میرا سر میرے کنٹرول میں تھا اسلئے میں نے اسے گستاخی سے روک لیا لیکن میرا لن پہ کوئی کنٹرول نہیں تھا جو کہ اکڑتا ہی جا رہا تھا- وہ کہہ رہی تھی... چھوٹو تم میٹر ک میں بھی ایسے ہی نمبر لیکر ٹاپ کرنا... اسی لمحے میرا لن پہلی بار اس کی نرم ران سے ٹچ ہوا تو مجھے یکدم کرنٹ سا لگا اور میں بے اختیار تھوڑا پیچھے ہو گیا... اس نے بھی شاہد محسوس کیا اور مجھے تھوڑا اور قریب کر لیا جس کی وجہ سے میرے لن کی ٹوپی باقاعدہ اس سے ٹچ ہونے لگی- میں ارگرد کے ماحول سے بے نیاز ہو کر اس نئی لذت کا مزہ لینے لگا- اچانک اس نے مجھے اپنے سے الگ کیا اور ایک دلفریب مسکراہٹ دیکر اپنی والدہ کی طرف مڑ گئی - یہ سب کچھ صرف ایک منٹ میں ہوا تھا-میں بھی سر نیچھے کر کے کچن کی طرف چل دیا بھابھی کو ان کیلئے چائے وغیرہ کا بولنے کیلئے- کچن تک پوچھنے سے پہلے ہی مجھے احساس ہو گیا کہ میری شلوار میں ابھار بنا ہوا ہے جو فوراً ہی بھابھی کو نظر آہ جائے گا اسلئے میں واش روم میں چلا گیا- واش روم میں گھس کر تسلی کے ساتھ گزرے ہوئے چند پل یاد کر کے مٹھ مارنے لگا- پہلی بار میں ایک حقیقی منظر کو یاد کر کے مٹھ ماری- فارغ ہو کر میں جیسے ہی باہر نکلا تو سامنے عفت کو دیکھ کر گھبرا گیا... اس نے ایک گہری نظر مجھ پر ڈالی اور بولی اف کتنی دیر لگاتے ہو میں کب سے انتظار کر رہی تھی... یہ کہہ کر وہ وَاش روم میں چلی گئی - میں نے کچن میں جا کر تین گلاس ٹھنڈے پانی کے پیے تو بھابھی گھبرا کر پوچھنے لگی پتر شادے توں ٹھیک تے ایں ناں.. میں نے انھیں گرمی کا کہہ کر ٹال دیا -
    جب میں مہمانوں کو چائے وغیرہ رکھ رہا تھا تو اسی وقت بھا فیدو گھر میں داخل ہوا - عفت کو گھر میں دیکھ کر اس کی آنکھوں میں عجیب سی چمک آہ گئی - تھوڑی دیر بعد بھا نے آنکھوں ہی آنکھوں میں عفت کو کوئی اشارہ کیا جس پر عفت نے سر جھکا لیا- میں وہاں سے اٹھنے لگا تو عفت بولی کدھر جا رہے ہو تو میں نے بتایا مال مویشی کے آنے کا ٹائم ہو گیا ہے ان کو پانی پلانا ہے اور باندھنا ہے- عفت اٹھ کر کھڑی ہو گئی اور کہا میں بھی ساتھ چلوں گی-
    ہمارا مال مویشی والا کمرہ گھر کے پیچھے تھا جس کی طرف کوئی نہیں آتا تھا- ہم جیسے ہی وہاں پہنچے بھا فیقے بھی کہیں سے آہ دھمکا- اس نے مجھے کہا

    . شادے باہر نظر رکھیں ہم ابھی آتے ہیں- عفت نے یہ سن کر ناں ناں کہا جیسے وہ مجھے اپنے اس راز میں شریک نہ کرنا چاہتی ہو... بھائی بھی یہ بات بھانپ کر فوراً بولا اوہ کوئی نہیں ایں کسے نوں نہیں دسدا...میں دل ہی دل مسکرا دیا کہ عفت جس کو راز سمجھ رہی ہے اس سے تو میں کئی ماہ سے آگاہ تھا- بھا اُس کےجواب کا انتظار کیے بغیر ہی اُسے بازو سے پکڑ کر اندر لے گیا- میں باہر کھڑا کسی مستند پہرےدار کی طرح آگے پیچھے دیکھنے لگا حالانکہ مجھے اور بھائی دونوں کو پتا تھا کہ اس طرف کوئی نہیں آنے والا-
    چند منٹوں بعد ہی میرا دل مچلنے لگا کہ دیکھو اندر کیا چل رہا ہے- ایسے سوچتے ساتھ ہی بھا فیدو کی مار اور غصہ آنکھوں میں گھومنے لگا لیکن جلد ہی شہوت اس پر حاوی آہ گئی- کافی دیر ڈھونڈنے کے بعد مجھے کچی اینٹوں کی بنی دیوار میں ایک سوراخ مل ہی گیا جو کہ سب سے زیادہ محفوظ تھا- اندر دیکھنے کہ اور بھی طریقے تھے لیکن یہ مکھے سب سے زیادہ محفوظ لگا جس کی دو وجوہات تھی ایک تو یہ کہ اگر تو کوئی اس طرف آتا بھی تو مجھے نہیں دیکھ سکتا تھا اور دوسرا اگر وہ دونوں باہر نکلتے اچانک تو وہ بھی مجھے نہیں دیکھ سکتے تھے- اردگرد کی تسلی کر کے میں نے کانپتے ہوئے سوراخ سے آنکھ لگا دی۔۔۔
    ( جاری ہے)..

    Last edited by asiminf; 21-04-2016 at 04:40 PM.

  16. The Following 27 Users Say Thank You to dry_flower For This Useful Post:

    abba (27-04-2016), abkhan_70 (22-04-2016), aloneboy86 (23-04-2016), arshedansari (21-04-2016), Boxer bhai (10-05-2016), ehaq14 (20-05-2016), farhan9090 (08-08-2016), hotjani (27-07-2016), hot_irfan (22-04-2016), imran imra (23-04-2016), Irfan1397 (23-04-2016), janamjee (22-04-2016), Kesariya (21-04-2016), Khushi25 (06-05-2016), ksbutt (22-04-2016), Lovelymale (26-04-2016), mbilal_1 (21-04-2016), musarat (21-04-2016), omar69in (08-07-2016), piyaamoon (22-04-2016), ruldguld123 (22-04-2016), shinchan (12-05-2016), Star193 (25-04-2016), Story Teller (27-05-2016), sumt_71 (22-04-2016), youngheart (24-04-2016), ZEESHAN001 (22-06-2016)

  17. #9
    baarish's Avatar
    baarish is offline Aam log
    Join Date
    Apr 2016
    Age
    38
    Posts
    4
    Thanks
    0
    Thanked 11 Times in 4 Posts
    Time Online
    10 Hours 45 Minutes 21 Seconds
    Avg. Time Online
    45 Seconds
    Rep Power
    0

    Default

    گاوں کے موضوع پر کچھ بھی لکھو تو بڑی انی پڑتی یے ۔چھوٹو نے لگدا اے بڑی انی پانی اے۔
    یار آپڈیٹ جلدی کرنا
    Last edited by asiminf; 21-04-2016 at 04:41 PM.

  18. The Following 4 Users Say Thank You to baarish For This Useful Post:

    abba (27-04-2016), asiminf (21-04-2016), hot_irfan (22-04-2016), ruldguld123 (22-04-2016)

  19. #10
    anwarulh is offline Premium Member
    Join Date
    Aug 2012
    Posts
    82
    Thanks
    1
    Thanked 152 Times in 56 Posts
    Time Online
    4 Days 2 Hours 29 Minutes 52 Seconds
    Avg. Time Online
    2 Minutes 42 Seconds
    Rep Power
    15

    Default

    Zabardast sexy story ha. Update ka antazar

  20. The Following 3 Users Say Thank You to anwarulh For This Useful Post:

    abba (27-04-2016), hot_irfan (22-04-2016), ruldguld123 (22-04-2016)

Page 1 of 24 1234511 ... LastLast

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •